6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsبیان القرآن

Ayahs 6:41–43

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

بلکہ اسی کو پکارنے لگو پھر جس کے لیے تم پکارو اگر وہ چاہے تو اس کو ہٹا بھی دے اور جن جن کو تم شریک ٹھیراتے ہو ان سب کو بھول جاؤ۔ (ف 2) (41)

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور ہم نے اور امتوں کی طرف بھی جو کہ آپ سے پہلے ہوچکی ہیں پیغمبر بھیجے تھے سو ہم نے ان کو تنگدستی اور بیماری سے پکڑا تاکہ وہ ڈھیلے پڑجاویں۔ (42)

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

سو جب ان کو ہماری سزا پہنچی تھی وہ ڈھیلے کیوں نہ پڑے لیکن ان کے قلوب تو سخت رہے اور شیطان ان کے اعمال کو (ان کے خیال میں) آراستہ کرکے دکھلاتا رہا۔ (43)

ف 2۔ پس اسی سے سمجھ لو کہ خدا کے سواجب کوئی قادر نہیں تو مستحق عبادت بھی اس کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔
Ayah 6:44

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جب وہ لوگ ان چیزوں کو بھولے رہے جن کی ان کو نصیحت کی جاتی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کشادہ کردئیے (ف 3) یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو انکو ملی تھیں وہ خوب اترا گئے ہم نے ان کو دفعتہ پکڑ لیا پھر وہ بالکل حیرت زدہ رہ گئے۔ (44)

ف 3۔ یعنی خوب نعمت و ثروت دی۔
Ayahs 6:45–46

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

پھر ظالم لوگوں کی جڑکٹ گئی اور اللہ کا شکر ہے (ف 4) جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔ (45)

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

آپ کہئیے کہ یہ بتلاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری شنوائی اور بینائی بالکل لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے تو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور معبود ہے کہ یہ تم کو (پھر) دیدے آپ دیکھئے تو ہم کس طرح دلائل کو مختلف پہلوؤں سے پیش کررہے ہیں پھر بھی یہ اعراض کرتے ہیں۔ (46)

ف 4۔ اس لیے کہ ایسے ظالموں کا پاپ کٹا جن کے ہونے سے نحوست ہی پھیلتی۔
Ayahs 6:47–48

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

آپ کہئیے کہ یہ بتلاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب آپڑے خواہ بیخبر ی میں یا خبرداری میں ہو کیا بجز ظالم لوگوں کے اور بھی کوئی ہلاک کیا جاوے گا۔ (ف 5) (47)

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم پیغمبروں کو صرف اس واسطے بھیجا کرتے ہیں کہ وہ بشارت دیں اور ڈراویں پھر جو شخص ایمان لے آوے اور درستی کرلے سو ان لوگوں پر کوئی اندیشہ نہیں اور نہ وہ مغموم ہونگے۔ (48)

ف 5۔ یعنی وہ عذاب ہوگا بوجہ ظلم کے جیسا امم سابقہ پر بھی اسی وجہ سے ہوا سولامحالہ ظالموں ہی کے ساتھ خاص ہوگا اور ظالم تم ہو پس خاص تم پر ہی پڑے گا اور مومنین بچے رہیں گے سو تم کو متنبہ کیا جاتا ہے اور مراگ نبوہ جشنے دارد کا سہارا بھی چھوڑ دینا چاہیے۔
Ayah 6:49

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھوٹا بتلادیں ان کو عذاب لگنا ہے بوجہ اس کے کہ وہ دائرہ سے نکلتے ہیں۔ (ف 1) (49)

ف 1۔ یعنی اصل کام پیغمبروں کا اور اس کام کا نتیجہ یہ ہے نہ کہ تمام فرمائشوں کو پورا کرنا اس اسی قاعدے کے موافق یہ رسول بھی ہیں۔
Ayah 6:50

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئیے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس (ف 2) خدا کے خزانے ہیں اور نہ میں تمام غیبوں کو جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف جو کچھ میرے پاس وحی آتی ہے اس کا اتباع کرلیتا ہوں۔ آپ کہئیے کہ اندھا اور بینا کہیں برابر ہوسکتا ہے سو کیا تم غور نہیں کرتے۔ (50)

ف 2۔ یعنی میری قدرت میں۔
Ayahs 6:51–54

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

اور ایسے لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات سے اندیشہ رکھتے ہیں (ف 3) کہ اپنے رب کے پاس (ایسی حالت سے) جمع کیے جائیں گے کہ جتنے غیر اللہ ہیں نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی شفیع ہوگا (ف 4) اس امید پر کہ وہ ڈر جاویں۔ (ف 5) (51)

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو نہ نکالیے جو صبح اور شام اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں جس سے خاص اس کی رضامندی کا قصد رکھتے ہیں ان کے حساب ذرا بھی آپ کے متعلق نہیں اور آپ کا حساب ذرا بھی ان کے متعلق نہیں کہ آپ ان کو نکال دیں ورنہ آپ نامناسب کام کرنے والوں میں ہوجاوینگے۔ (52)

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور اسی طور پر ہم نے ایک کو دوسرے کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈال رکھا ہے تاکہ یہ لوگ کہا کریں کیا یہ لوگ ہیں کہ ہم سب میں سے اللہ تعالیٰ نے ان پر زیادہ فضل کیا ہے کیا یہ بات نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ حق شناسوں کو خوب جانتا ہے۔ (53)

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب آپ کے پاس آویں جو کہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو یوں کہہ دیجئیے کہ تم پر سلامتی ہے تمہارے رب نے مہربانی فرمانا اپنے ذمہ مقرر کرلیا ہے کہ جو شخص تم میں سے کوئی برا کام کر بیٹھے جہالت سے پھر وہ اس کے بعد توبہ کرلے اور اصلاح رکھے تو (الله تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ) وہ بڑے مغفرت کرنے والے ہیں بڑی رحمت والے ہیں۔ (54)

ف 3۔ حشر کے متعلق کل تین طرح کے آدمی ہیں ایک وہ جو جزا اس کے ثبوت کے معتقد ہیں دوسرے وہ جو متردد ہیں آیت میں ان ہی دونوں جماعتوں کا ذکر ہے تیسرے وہ جو جزما اس کے منکر ہیں اور انذار گوان کو بھی عام ہے جیسا اور آیات میں مصرح ہے لیکن یہاں مطلق انذار مراد نہیں بلکہ وہ انذار جس میں خاص اہتمام ہو سو یہ وہاں ہی ہوگا جہاں نفع متیقن یا متوقع ہو جیسا قسم اول دوم کا حال ہے بخلاف اس قسم سوم کے کہ بوجہ عدم توقع نفع ان کو انذار محض اتمام حجت کے لیے ہوگا توجہ کی بوجہ عنادان میں قابلیت ہی نہیں اس لیے یہاں قسمین اولین کی تخصیص کی گئی ہے جیسا بعض آیات میں بنابریقین نفع کے صرف قسم اول ہی کی تخصیص بھی ہے۔ 4۔ غیر اللہ کی ولایت اور غیر مومنین کے لیے شفاعت کی مطلقا منفی ہے اور اللہ کی ولایت اور مقبولین کی شفاعت مومنین کے لیے ثابت ہے۔ 5۔ آیت میں تین امور کی نفی کی گئی ہے قدرت علی الخزائن علم غیب اور ملکیت۔ مقصود اس سے دفع استبعاد کفار کا ہوسکتا ہے یعنی تم جو اقتراح آیات سے میری رسالت کی تکذیب کرتے ہو تو وہ محض بےمعنی ہے اس لیے کہ رسالت جس کا میں مع دلیل مدعی ہوں کوئی مستبعد امر نہیں ہے کسی امر عجب و غریب مثل قدرت وعلم و ملکیت مذکورہ کا تو میں مدعی نہیں جو اسکو مستبعد سمجھ کر انکار کرتے ہو۔
Ayah 6:55

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم آیات کی تفصیل کرتے رہتے ہیں تاکہ مجرمین کا طریقہ ظاہر ہوجاوے۔ (ف 6) (55)

ف 6۔ اور حق و باطل کے واضح ہونے سے طالب حق کو معرفت حق سہل ہوجائے۔
Ayah 6:56

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئیے کہ مجھ کو اس سے ممانعت کی گئی ہے کہ ان کی عبادت کروں جن کی تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو۔ آپ کہہ دیجئیے کہ میں تمہارے خیالات کا اتباع نہ کروں گا کیونکہ اس حالت میں تو میں بےراہ ہوجاوں گا اور راہ پرچلنے والوں میں نہ رہوں گا۔ (ف 1) (56)

ف 1۔ اس مضمون کا توزیادہ تعلق توحید سے تھا آگے کا مضمون زیادہ متعلق رسالت ہے۔
Ayah 6:57

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئیے کہ میرے پاس تو ایک دلیل ہے میرے رب کی طرف سے (ف 2) اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو جس چیز کا تم تقاضا کررہے ہو وہ میرے پاس نہیں حکم کسی کا نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے۔ اللہ تعالیٰ واقعی بات کو بتلا دیتا ہے اور سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا وہی ہے۔ (57)

ف 2۔ یعنی قرآن مجید جو کہ میرا معجزہ ہے جس سے میری تصدیق ہوتی ہے۔
Ayah 6:58

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئیے کہ اگر میرے وہ چیز ہوتی جس کا تم تقاضا کررہے ہو تو میرا اور تمہارا باہمی قصہ فیصل ہوچکا ہوتا اور ظالموں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ (ف 3) (58)

ف 3۔ ان کے علم میں جب مناسب ہوگا نزول عذاب ہوجائے گا خواہ دنیا میں بھی جیسے بدر وغیرہ میں ہلاک کیے گئے اور خواہ آخرت میں کہ دوزخ میں جائیں گے غرض نہ مجھ کو اس کی قدرت ہے نہ اس کے مناسب ہونے کا وقت مجھ کو معلوم ہے اور نہ اس کی حاجت ہے۔
Ayah 6:59

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے پاس ہیں کنجیاں (خزانے) تمام مخفی اشیاء کی ان کو کوئی نہیں جانتا ہے بجز اللہ تعالیٰ کے۔ (ف 4) اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہیں اور جو کچھ دریاؤں میں ہیں اور کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے اور دانہ زمین کے تاریک حصوں میں نہیں (پڑتا) اور نہ کوئی تر اور خشک چیز (گرتی ہے) مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں۔ (ف 5) (59)

ف 4۔ ان میں سے جس چیز کو جس وقت چاہیں ظہور میں لے آتے ہیں ان اشیاء میں عذاب بھی آگیا مطلب یہ کہ اور کسی کو ان پر قدرت نہیں اور جس طرح قدرت تامہ ان کے ساتھ خاص ہے اسی طرح علم تام بھی۔ 5۔ کتاب مبین یعنی لوح محفوظ یعنی اس میں ہر چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے لکھی ہے اور ظاہر ہے کہ بدون علم کے لکھنا ممکن نہیں ہے پس حاصل یہ ہوا کہ سب چیزیں اللہ کے احاطہ علمی میں ہیں اور یہ نہ سمجھو کہ اللہ کے تمام معلومات لوح محفوظ ہی میں منحصر ہیں بلکہ اس کی تو کہیں انتہا ہی نہیں۔
Ayah 6:60

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے کہ رات میں تمہاری روح کو (ایک گونہ) قبض کردیتا ہے (ف 6) اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس کو جانتا ہے پھر تمکو (جگا) اٹھاتا ہے اس میں تاکہ میعاد معین تمام کردی جائے پھر اسی کی طرف تم کو جانا ہے پھر تم کو بتلادیگا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ (60)

ف 6۔ روح انسانی من جملہ تین ارواح طیبہ کے ہے ابن عباس نے اللہ یتوفی الانفس میں اس کو نفس تمیز فرمایا ہے اور روح حیوانی کو جس کے نکلنے سے موت آجاتی ہے نفس حیوة فرمایا ہے قرآن میں لفظ نفس دونوں کو شامل ہے مناسب ہر مقام کے تفسیر کی جائے گی۔
Ayah 6:61

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہی اپنے بندوں کے اوپر غالب ہیں برتر ہیں اور تم پر نگہداشت رکھنے والے بھیجتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب تم میں کسی کو موت آپہنچتی ہے اس کی روح ہمارے بھیجے ہوئے قبض کرلیتے ہیں اور وہ ذرا کوتاہی نہیں کرتے۔ (ف 7) (61)

ف 7۔ غرض مدت نہیں لگتی۔
Ayahs 6:62–63

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر سب اپنے مالک حقیقی کے پاس لائے جائیں گے خوب سن لو کہ فیصلہ اللہ ہی کا ہوگا اور وہ بہت جلد حساب لے لے گا۔ (ف 8) (62)

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

آپ کہئیے کہ وہ کون ہے جو تم کو خشکی اور دریا کی ظلمات سے اس حالت میں نجات دیتا ہے کہ تم اس کو پکارتے ہو تذلل ظاہر کرکے اور چپکے چپکے کہ اگر آپ ہم کو ان سے نجات دیدیں تو ہم ضرور حق شناسی (پر قائم رہنے) والوں سے ہوجاویں۔ (63)

ف 8۔ ظاہر آیت سے اس مقام پر تین قسم کے فرشتوں کا ذکر ہے ایک اعمال لکھنے والے جن کا ذکر اس آیت میں ہے وان علیکم لحافظین کراما کاتبین دوسرے جان کی حفاظت کرنے والے جن کو مضرتوں سے حفاظت کرنے کا حکم ہو اور جب تک حکم ہو جن کا ذکر اس آیت میں ہے لہ معقبات من بین۔ تیسرے جان نکالنے والے اور ظاہرا دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام ملک الموت کا ہے اس لیے علماء نے بنا بربعض روایات مذکورہ روح المعانی کے کہا ہے کہ یہ اعوان ملک الموت کے ہیں ملابستہ کی وجہ سے ان کی طرف اسناد کردی گئی واللہ اعلم۔
Ayah 6:64

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ ہی تم کو ان سے نجات دیتا ہے اور ہر غم سے تم پھر بھی شرک کرنے لگتے ہو۔ (ف 9) (64)

ف 9۔ غرض یہ کہ شدائد میں تمہارے اقرار سے توحید کا حق ہوناثابت ہوجاتا ہے پھر انکار کب قابلہ التفات ہے۔
Ayahs 6:65–66

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئیے کہ اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیجیدے (10) یا تمہارے پاؤں تلے سے (11) یا تو تم کو گروہ گروہ کرکے سب کو بھڑادے اور تمہارے ایک کو دوسرے کی لڑائی چکھادے۔ آپ دیکھیے تو سہی ہم کس طرح دلائل مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں شاید وہ سمجھ جاویں۔ (65)

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور آپ کی قوم اس کی تکذیب کرتی ہے حالانکہ وہ یقینی ہے آپ کہہ دیجئیے کہ میں تم پر تعینات نہیں کیا گیا ہوں۔ (66)

ف 10۔ جیسے پتھر، یا ہوا، یا بارش طوفانی۔ 11۔ جیسے زلزلہ یا غرق ہوجانا۔
Ayah 6:67

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر خبر کے وقوع کا ایک وقت ہے اور جلدی ہی تم کو معلوم ہوجاوے گا۔ (ف 1) (67)

ف 1۔ عذاب شامل ہے اخروی اور دنیوی کو جس میں جہاد بھی داخل ہے۔
Ayah 6:68

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیات میں عیب جوئی کررہے ہیں تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہوجایہاں تک کہ وہ کوئی اور بات میں لگ جائیں اور اگر تجھ کو شیطان بھلادے (ف 2) تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس مت بیٹھ۔ (68)

ف 2۔ یعنی ایسی مجلس میں بیٹھنے کی ممانعت یاد نہ رہے۔
Ayah 6:69

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور جو لوگ احتیاط رکھتے ہیں ان پر ان کی بازپرس کا کوئی اثر نہ پہنچے گا (ف 3) و لیکن (ان کے زمہ) نصیحت کردینا ہے شاید وہ بھی احتیاط کرنے لگیں۔ (69)

ف 3۔ یعنی بضرورت وہاں جانے والے گناہ گار نہ ہوں گے۔
Ayah 6:70

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور ایسے لوگوں سے بالکل کنارہ کش رہ جنہوں نے اپنے دین کو لہولعب بنا رکھا ہے اور دنیوی زندگی نے ان کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے اور اس (قرآن) کے ذریعہ سے نصیحت بھی کرتا رہ تاکہ کوئی شخص اپنے قردار کے سبب اس طرح نہ پھنس جاوے کہ کوئی غیر اللہ اس کا نہ مددگار ہو اور نہ سفارشی ہو اور (یہ کیفیت ہو کہ) اگر دنیا بھر کا معاوضہ بھی دے ڈالے تب بھی اس سے نہ لیا جاوے یہ ایسے ہی ہیں کہ اپنے کردار کے سبب پھنس گئے ان کے لیے نہایت تیز گرم پانی پینے کے لیے ہوگا اور دردناک سزا ہوگی اپنے کفر کے سبب۔ (ف 4) (70)

ف 4۔ بعض روایات میں آیا کہ مشرکین نے مسلمانوں سے ترک اسلام کی درخواست بھی کی تھی اگلی آیت میں اس کا جواب ہے اوپر ذکری اور ذکر میں حکم تھا کہ مشرکین کو اسلام کی طرف بلادیں یہاں ان کے ترک اسلام کی طرف بلانے کا جواب ہے۔
Ayahs 6:71–72

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئیے کہ کیا ہم اللہ کے سوا ایسی چیز کی عبادت کریں کہ نہ وہ ہم کو نفع پہنچاوے اور نہ وہ ہم کو نقصان پہنچاوے اور کیا ہم الٹے پھر جاویں بعد اس کے کہ ہم کو خدا تعالیٰ نے ہدایت کردی ہے جیسے کوئی شخص ہو کہ اس کو شیطان نے کہیں جنگل میں بےراہ کردیا ہو اور وہ بھٹکتا پھرتا ہو (ف 5) اس کے کچھ ساتھی بھی تھے کہ وہ اس کو ٹھیک راستہ کی طرف بلا رہے ہیں کہ ہمارے پاس آ۔ آپ کہہ دیجئیے کہ یقینی بات ہے کہ راہ راست وہ خاص اللہ کی راہ ہے۔ اور ہم کو یہ حکم ہوا ہے کہ ہم پورے مطیع ہوجاویں پروردگار عالم کے۔ (71)

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

اور یہ کہ نماز کی پابندی کرو اور اس سے ڈرو اور وہی ہے جس کے پاس تم سب جمع کیے جاؤ گے۔ (72)

ف 5۔ تمثیل میں جو شیطانوں کا راہ بھلادینا مذکور ہے اس سے معلوم ہوا کہ شیاطین اور خبیث جن سے بعض اوقات اس قسم کے تصرفات و افعال سرزد ہوسکتے ہیں۔
Ayah 6:73

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے آسمانون اور زمین کو باقاعدہ پیدا کیا۔ اور جس وقت اللہ تعالیٰ اتنا کہہ دے گا کہ (حشر) تو ہوجا بس وہ ہو پڑے گا۔ اس کو کہنا بااثر ہے۔ اور (جبکہ) جس دن صور میں پھونک ماری جاوے گی ساری حکومت خاص اسی کی ہوگی۔ وہ جاننے والا ہے پوشیدہ چیزوں کا اور ظاہر چیزوں کا اور وہی ہے بڑی حکمت والاپوری خبر رکھنے والا۔ (ف 1) (73)

ف 1۔ اوپر شرک کا ابطال اور توحید کا اثبات مذکور تھا آگے اسی مضمون کی تائید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ دعوت الی التوحید بیان فرماتے ہیں اور بجہ اس کے کہ اہل عرب ابراہیم (علیہ السلام) کو مانتے تھے مضمون مذکور کی تائید میں زیادہ قوت ہوگئی نیز اس قصہ میں مسئلہ رسالت کی بھی تائید ہے کہ نبوت کوئی امرمستغرب نہیں ہے پہلے سے بھی انبیاء ہوتے آئے ہیں۔
Ayahs 6:74–75

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے فرمایا کہ کیا تو بتوں کو معبود قرار دیتا ہے ؟ (ف 2) بیشک میں تجھ کو اور تیری ساری قوم کو صریح غلطی میں دیکھتا ہوں۔ (74)

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور ہم نے ایسے ہی طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں (تاکہ وہ عارف ہوجائیں) اور تاکہ کامل یقین کرنے والوں سے ہوجاویں۔ (75)

ف 2۔ ان آیات کی تفسیر سے پہلے چند امور ضروریہ کا لحاظ رکھنا تفسیر میں معین فہم ہوگا۔ اول ابراہیم کی قوم کے احوال مذکورہ فی القرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بت پرستی بھی کرتی تھی اور ستاروں کو بھی عالم میں متصرفات جانتی تھی پس وہ دو دو طور پر مشرک تھی اعتقاد الوہیت اصنام و ربوبیت کواکب اسی واسطے ابراہیم (علیہ السلام) کے مناظرات میں دونوں پر کلام ہے دوم ابراہیم (علیہ السلام) ہوش سنبھالتے ہی کے وقت سے توحید کے عارف ومحقق تھے۔ سوم آپ کی قوم خدا کی بھی قائل تھی یا نہیں دونوں احتمال ہیں۔
Ayahs 6:76–77

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

پھر جب رات کی تاریکی ان پر چھاگئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا آپ نے فرمایا کہ یہ میرا رب ہے (ف 3) سو جب وہ غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ میں غروب ہوجانے والے لوگوں سے محبت نہیں رکھتا۔ (76)

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب چاند کو دیکھا چمکتا ہوا تو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے سو جب وہ غرب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر مجھ کو میرا رب ہدایت نہ کرتا رہے تو بیشک میں گمراہ لوگوں میں شامل ہوجاؤں۔ (77)

ف 3۔ یعنی آپ نے اپنی قوم سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تمہارے زعم کے موافق یہ میرا اور تمہارا رب ہے۔
Ayahs 6:78–79

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب آفتاب کو دیکھا چمکتا ہوا (ف 4) تو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے یہ تو سب سے بڑا ہے۔ سو جب وہ غروب ہوگیا آپ نے فرمایا اے قوم بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔ (ف 5) (78)

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

میں اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا سب سے یکسو ہو کر اور میں شرک کرنے والوں سے نہیں ہوں۔ (79)

ف 4۔ چونکہ اس معمورہ میں جس میں بابل وحلب بھی داخل ہے جو کہ بقول مورخین موقع تھا اس گفتگو کا ایک شب میں بروئے رفتار معتاد کواکب کے ایسا نہیں ہوسکتا کہ ماہتاب کا طلوع اپنے افق سے سیارہ کے غروب کے بعد ہو اور پھر طلوع شمس سے پہلے غروب ہوجائے۔ اس لیے یہ تینوں واقعے ایک شب کے نہیں ہوسکتے یا تو دو شب کے ہیں یا تین شب کے پس دونوں جگہ فلما رای میں جو فاء ہے وہ تعقیب واقتران عرفی کے لیے نہ کہ حقیقی کے لیے۔ 5۔ یعنی برات ظاہر کرتا ہوں یوں اعتقاد تو ہمیشہ سے بیزاری تھے۔
Ayah 6:80

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور ان سے ان کی قوم نے حجت کرنا شروع کی آپ نے فرمایا کہ کیا تم اللہ کے معاملہ میں مجھ سے حجت کرتے ہو حالانکہ اس نے مجھ کو طریقہ بتلادیا ہے اور میں ان چیزوں سے جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہو نہیں ڈرتا۔ ہاں لیکن اگر میرا پروردگار ہی کوئی امر چاہے۔ میرا پروردگار ہر چیز کو اپنے علم میں گھیرے ہوئے ہے۔ (ف 6) کیا تم پھر خیال نہیں کرتے۔ (80)

ف 6۔ غرض قدرت وعلم دونوں اسی کے ساتھ مختص ہیں اور تمہارے الہہ کو نہ قدرت ہے نہ علم ہے۔