5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsبیان القرآن

Ayahs 5:1–2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ١ؕ۬ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 5:1 in the Quran reader

اے ایمان والو عہدوں کو پورا کرو (ف 4) تمہارے لیے تمام چوپائے جو مشابہ انعام (یعنی اونٹ، بکری، گائے) کے ہوں حلال کیے گئے ہیں (ف 5) مگر جن کا ذکر آگے آتا ہے لیکن شکار کو حلال مت سمجھنا جس حالت میں کہ تم احرام میں ہو بیشک اللہ تعالیٰ جو چاہیں حکم کریں۔ (1)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآئِدَ وَ لَاۤ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا١ؕ وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا١ؕ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا١ۘ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١۪ وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 5:2 in the Quran reader

اے ایمان والو بےحرمتی نہ کرو خدا تعالیٰ کی نشانیوں کی اور نہ حرمت والے مہینے کی۔ اور نہ حرم میں قربانی ہونے والے جانور کی اور نہ ان جانوروں کی جن کے گلے میں پٹے پڑے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو کہ بیت الحرام کے قصد سے جارہے ہوں اپنے رب کے فضل اور رضامندی کے طالب ہوں۔ اور جس وقت تم احرام سے باہر آجاؤ تو شکار کیا کرو۔ اور ایسا نہ ہو کہ تم کو کسی قوم سے (جو اس سبب سے) بغض ہے کہ انہوں نے تم کو مسجد حرام سے روک دیا تھا وہ تمہارے لیے اس کا باعث ہوجاوے کہ تم حد سے نکل جاؤ اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں۔ (2)

ف 4۔ اوپر کی سورت کے ختم پر فرمایا تھا کہ ہم شرائع کو تم سے بیان کرتے ہیں اس سورت کے شروع پر اس کا امر ہے کہ تم ہمارے ان بیان کیے ہوئے شرائع کی پوری پوری بجاآوری کرو یہ مناسبت تو دونوں سورتوں کے اختتام اور آغاز میں بھی دونوں کے اشتمال علی الشرائع سے ظاہر ہے اور خود اس سورت کے اجزاء میں ایک ارتباط بدیع ہے کہ اس کے اول کی آیت بمنزلہ متن کے ہے اور تمام سورت بمنزلہ اس کی شرح کے کیونکہ لفظ عقود بقول ابن عباس ؓ تمام شرائع کو عام اور شامل ہے اور سورت میں انہی شرائع کی تفصیل ہے پس اولا اجمالی اور کلی عنوان سے امتثال شرائع کا حکم فرماتے ہیں۔ 5۔ جیسے ہرن، نیل گائے وغیرہ بجز ان بہائم کے جو کہ دوسرے دلائل شرعیہ حدیث وغیرہ سے مخصوص ومستثنی ہوچکے ہیں جیسے گدھا خچر وغیرہ ان مستثنیات کے سوا اور سب بہائم اہلی ووحشی حلال ہیں بجز ان کے جن کا ذکر آگے آنا ہے۔
Ayahs 5:3–4

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:3 in the Quran reader

تم پر حرام کیے گئے ہیں مردار (ف 6) اور خون اور خنزیر کا گوشت (ف 1) اور جو جانور کہ غیر اللہ کے نام زد کردیا گیا ہو اور جو گلا گھٹنے سے مرجاوے اور جو کسی ضرب سے مرجاوے اور جو اونچے سے گر کر مرجاوے اور جو کسی ٹکر سے مرجاوے اور جس کو کوئی درندہ کھانے لگے لیکن جس کو ذبح کر ڈالو (ف 2) اور جو جانور پرستش گاہوں پر ذبح کیا جاوے (ف 3) اور یہ کہ تقسیم کرو بذریعہ قرعہ کے تیروں کے یہ سب گناہ ہیں آج کے دن ناامید ہوگئے (ف 4) کافر لوگ تمہارے دین سے (ف 5) سو ان سے مت ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا (ف 6) آج کے دن تمہارے لیے تمہارے دین کو میں نے کامل کردیا (ف 7) اور میں نے تم پر اپنا انعام تام کردیا اور میں نے اسلام کو تمہارا دین بننے کے لیے پسند کرلیا۔ (ف 8) پس جو لوگ شدت کی بھوک میں بیتاب ہوجاوے بشرطیکہ کسی گناہ کی طرف اس کا میلان نہ (ف 9) ہو تو یقینا اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے ہیں رحمت والے ہیں۔ (ف 10) (3)

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 5:4 in the Quran reader

لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا کیا جانور ان کے لیے حلال کیے گئے ہیں۔ آپ فرمادیجئیے کہ تمہارے لیے کل حلال جانور حلال کیے گئے ہیں اور جن شکاری جانوروں کو تم تعلیم دو اور تم ان کو چھوڑو بھی اور ان کو اس طریقہ سے تعلیم دو جو تم کو اللہ تعالیٰ نے تعلیم دیا ہے تو (ایسے شکاری جانور) جس شکار کو تمہارے لیے پکڑیں اس کو کھاؤ اور اس پر اللہ کا نام بھی لیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ جلدی حساب لینے والے ہیں۔ (4)

ف 6۔ یعنی جو جانور باوجود واجب الذبح ہونے کے بلاذبح شرعی کے مرجائے۔ 1۔ اسی طرح اس کے سب اجزائ۔ 2۔ یعنی منخنقہ سے ما اکل السبع تک جن کا ذکر ہے ان میں سے جس کو دم نکلنے سے پہلے قاعدہ کلیہ شرعیہ کے مطابق ذبح کر ڈالو وہ اس حرمت سے مستثنی ہے۔ 3۔ گوزبان سے غیر اللہ کے نامز نہ کرے کیونکہ مدار حرمت کا نیت خبیثہ پر ہے اس کا ظہور کبھی قول سے ہوتا ہے کہ نامز کرے کبھی فعل سے ہوتا ہے کہ ایسے مقامات پر ذبح کرائے۔ 4۔ آج کے دن سے مراد خاص دن نہیں بلکہ وہ زمانہ مع زمانہ متصل ماقبل ومابعد کے مراد ہے پس اگر اس کے بعد بھی کسی حکم کا نازل ہونا ثابت ہو تو اکمال بمعنی تکمیل احکام پر اعتراض لازم نہیں آتا۔ 5۔ کیونکہ ماشاء اللہ اسلام کا خوب شیوع ہوگیا۔ 6۔ یعنی میرے احکام کی مخالفت مت کرنا۔ 7۔ قوت میں بھی جس سے کفار کو مایوسی ہوئی اور احکام وقواعد میں بھی۔ 8۔ یعنی قیامت تک تمہارا یہی دین رہے گا اس کو منسوخ کرکے دوسرا دین تجویز نہ کیا جائے گا۔ 9۔ یعنی قدر ضرورت سے زیادہ کھائے اور نہ لذت مقصود ہو۔ 10۔ یہ آیت جیسا کہ شیخین نے حضرت عمر سے روایت کیا عصر کے وقت جمعہ کے روز ذی الحجہ کی نویں تاریخ حجة الوداع میں جو 01 ہجری میں ہوا تھا نازل ہوئی اور اس کے نزول کے بعد قریب تین ماہ کے حضور ﷺ زندہ رہے۔
Ayah 5:5

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

آج تمہارے لیے حلال چیزیں حلال کی گئیں اور جو لوگ کتاب دئیے گئے ہیں ان کا ذبیحہ تم کو حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کو حلال ہے اور پارسا عورتیں بھی جو مسلمان ہوں اور پارسا عورتیں ان لوگوں میں سے بھی جو تم سے پہلے کتاب دیے گئے ہیں جب کہ تم ان کو ان کا معاوضہ دیدو (ف 11) اس طرح سے کہ تم بیوی بناؤ نہ تو علانیہ بدکاری کرو اور نہ خفیہ آشنائی کرو (ف 12) اور جو شخص ایمان کے ساتھ کفر کرے گا (ف 13) تو اس شخص کا عمل غارت جاوے گا اور وہ شخص آخرت میں بالکل زیاں کار ہوگا۔ (ف 14) (5)

ف 11۔ یعنی مہردینا گوشرط نہیں مگر واجب ہے۔ 12۔ یہ سب احکام شرعیہ ہیں جن پر ایمان لانا فرض ہے۔ 13۔ مثلا حلال قطعی کی حلت کا یا حرام قطعی کی حرمت کا انکار کے گا۔ 14۔ لہذا حلال کو حلال سمجھو حرام کو حرام سمجھو۔
Ayah 5:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

اے ایمان والو جب تم نماز کو اٹھنے لگو تو اپنے چہروں کو دھوؤ اور اپنے ہاتھوں کو بھی کہنیوں سمیت اور اپنے سروں پر ہاتھ پھیرو اور (دھوؤ) اپنے پیروں کو بھی ٹخنوں سمیت۔ (ف 1) اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو سارابدن پاک کرو اور اگر تم بیمار ہو یا حالت سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص استنجے سے آیاہو یا تم نے بیبیوں سے قربت کی ہو پھر تم کو پانی نہ ملے تو تم پاک زمین سے تیمم کرلیا کرو یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں پر ہاتھ پھیرلیا کرو اس (زمین پر) سے اللہ (ف 2) تعالیٰ کو یہ منظور نہیں کہ تم پر کوئی تنگی ڈالیں (ف 3) لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ تم کو پاک صاف رکھے (ف 4) اور یہ کہ تم پر اپنا انعام تام فرمادے تاکہ تم شکر ادا کرو۔ (6)

ف 1۔ یہ چار چیزیں فرض ہیں وضو میں باقی امور مسنون ومستحب ہیں۔ 2۔ اوپر احکام طہارت کے مذکور ہیں جن میں رعایت سہولت و مصلحت عباد کی ملحوظ ہے آگے اس طہارت اور رعایت پر منت ظاہر فرماتے ہیں اور تحریک شکر کی دیتے ہیں۔ 3۔ یعنی یہ منظور ہے کہ تم پر کوئی تنگی نہ رہے چناچہ احکام مذکور میں خصوصا اور جمیع احکام شرعیہ میں عموما رعایت سہولت و مصلحت کی ظاہر ہے۔ 4۔ اس لیے طہارت کے قواعد اور طرق مشروع کیے اور کسی ایک طریق پر بس نہیں کیا کہ اگر وہ نہ ہو تو طہارت ممکن ہی نہ ہو۔
Ayah 5:7

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کے انعام کو جو تم پر ہوا ہے یاد کرو اور اس کے اس عہد کو بھی جس کا تم سے معاہدہ کیا ہے۔ جب کہ تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور مان لیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ دلوں تک کی باتوں کی پوری خبر رکھتے ہیں۔ (ف 5) (7)

ف 5۔ اس لیے جو کام کرو اس میں اخلاص و اعتقاد بھی ہونا چاہیے صرف منافقانہ امتثال کافی نہیں۔
Ayahs 5:8–10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ تعالیٰ کے لیے پوری پابندی کرنے والے انصاف کے ساتھ شہادت ادا کرنے والے رہو۔ اور خاص لوگوں کی عداوت تمہارے لیے اس کو باعث نہ ہوجاوے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کیا کرو کہ وہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب اعمال کی پوری اطلاع ہے۔ (ف 6) (8)

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں سے جو ایمان لے آئے اور انہوں نے اچھے کام کیے وعدہ کیا ہے کہ ان کے لیے مغفرت اور ثواب عظیم ہے۔ (9)

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

اور جن لوگون نے کفر کیا اور ہمارے احکام کو جھوٹا بتلایا ایسے لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں۔ (10)

ف 6۔ ایسی آیت ختم پارہ والمحصنت کے قریب بھی آچکی ہے اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ بےانصافی کی وجہ سے دوچیزیں ہوتی ہیں یا تو ایک فریق کی رعایت اور یا کسی فریق کی عداوت۔ وہاں اول سبب مذکور ہے یہاں دوسرا سبب مذکور ہے چناچہ وہاں یہ الفاظ ولو علی انفسکم اوالوالدین الخ۔ اور یہاں لفظ شناٰن اس کی صاف دلیل ہے پس اس فرق کے بعد تکرار نہ رہا۔
Ayah 5:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ تعالیٰ کے انعام کو یاد کرو جو تم پر ہوا ہے جب کہ ایک قوم اس فکر میں تھی (ف 7) کہ تم پر دست درازی کریں سو اللہ تعالیٰ نے ان کا قابوتم پر نہ چلنے دیا۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو (ف 8) اور اہل ایمان کو حق تعالیٰ ہی پر اعتماد رکھنا چاہئیے۔ (11)

ف 7۔ یعنی کفار قریش ابتدائے اسلام میں جبکہ مسلمان ضعیف تھے۔ 8۔ شروع سورت سے یہاں تک اکثر آیتوں میں اللہ نے ڈرنے کا حکم فرمایا ہے ایک جگہ لفظ خشیت سے باقی جگہ لفظ تقوی سے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو امتثال میں بہت دخل ہے چناچہ ظاہر بھی ہے۔
Ayah 5:12

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۚ وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا١ؕ وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْ١ؕ لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 5:12 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا اور ہم نے ان میں سے بارہ سردار مقرر کیے اور اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر تم نماز کی پابندی رکھو گے اور زکوة ادا کرتے رہو گے اور میرے سب رسولوں پر ایمان لاتے رہوگے اور ان کی مدد کرتے رہوگے اور اللہ تعالیٰ کو اچھے طور پر قرض دیتے رہوگے (ف 1) تو میں ضرور تمہارے گناہ تم سے دور کردوں گا اور ضرور تم کو ایسے باغوں میں داخل کردوں گا جن کے نیچے کو نہریں جاری ہونگی اور تم میں سے جو شخص اس کے بعد بھی کفر کریگا تو وہ بیشک راہ راست سے دور جاپڑا۔ (ف 2) (12)

ف 1۔ خٰر میں صرف کرنے کو مجازا قرض اس لیے فرمایا کہ جس طرح قرض لازم الادا ہوتا ہے اسی طرح اللہ اس کا بدلہ ضرور دیں گے۔ 2۔ یہاں اس شخص کا حال بیان نہیں فرمایا جو کفر نہ کرے لیکن اعمال کی پوری پابندی بھی نہ کرے اور اکثر جگہ قرآن میں یہی عادت ہے کہ اطاعت میں جو کامل ہوا وہ مخالفت میں جو کامل ہو زیادہ ذکر انہیں کا ہوتا ہے وجہ یہ ہے کہ طرفین کے حلال سے بین بین کا حال عقلاء کو خود مقائسہ سے معلوم ہوجاتا ہے نہ ان کی ایسی جزاء ہوگی نہ ایسی سزا ہوگی پھر حدیثوں میں تفصیل معلوم ہوگئی۔
Ayah 5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

تو صرف ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا اور ہم نے ان کے قلوب کو سخت کردیا وہ لوگ کلام کو اس کے مواقع سے بدلتے ہیں (ف 3) اور وہ لوگ جو کچھ ان کو نصیحت کی گئی تھی اس میں سے اپنا ایک بڑا حصہ فوت کر بیٹھے اور آپ کو آئے دن کسی نہ کسی (نئی) خیانت کی اطلاع ہوتی رہتی ہے جو ان سے صادر ہوتی ہے (ف 4) بجز ان میں کے معدودے چند شخصوں کے سو آپ ان کو معاف کردیجئیے اور ان سے درگزر کیجئیے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوش معاملہ لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ (ف 5) (13)

ف 3۔ یعنی تحریف لفظی یاتحریف معنوی کرتے ہیں۔ 4۔ نئی خیانت یہ کہ ایک بار مثلا رجم کے حکم کو چھپالیا ایک بار نبی ﷺ کے دریافت فرمانے پر تورات کا ایک مضموں غلط بیان کردیا جس پر آیت لاتحسبن الذین نازل ہوئی تھی اور جیسے تحریم طیبات کے قدیم ہونے کا ایک بار غلط دعوی کیا تھا جس پر شروع پارہ لن تنالوا میں آیت قل فاتو بالتوراة نازل ہوئی۔ اور تمام تر وہ غلط بیانیاں جن کی حکایت مع ان کے ابطال کے قرآن مجید میں جابجا مذکور ہے اس میں داخل ہیں جیسے لن تمسناالنار اور لن یدخل الجنةالخ اور نحن ابناء اللہ واحباوہ و مثال ذالک۔ 5۔ اوپر یہود کا ذکر تھا آگے کچھ نصاری کا حال بیان فرما رہے ہیں۔
Ayahs 5:14–15

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نصارٰے ہیں ہم نے ان سے بھی ان کا عہد لیا تھا سو وہ بھی جو کچھ ان کو نصیحت کی گئی تھی اس میں سے اپنا ایک بڑا حصہ فوت کر بیٹھے تو ہم نے ان میں باہم قیامت تک کے لیے بغض و عداوت ڈال دی اور ان کو اللہ تعالیٰ ان کا کیا ہوا جتلا دینگے۔ (ف 6) (14)

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارے یہ رسول آئے ہیں، کتاب میں سے جن امورکا تم اخفاء کرتے ہو ان میں سے بہت سی باتوں کو تمہارے سامنے صاف صاف کھول دیتے ہیں اور بہت سے امور کو واگذاشت کردیتے ہیں تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشن چیز آئی ہیں اور ایک کتاب واضح (یعنی قرآن مجید) ۔ (15)

ف 6۔ اوپر یہود و نصاری کا الگ الگ ذکر تھا آگے دونوں کو جمع کرکے نصیحت کا خطاب فرماتے ہیں۔
Ayah 5:16

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

کہ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ایسے شخصوں کو جو رضائے حق کے طالب ہوں سلامتی کی راہیں بتلاتے ہیں اور ان کو اپنی توفیق سے تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آتے ہیں (ف 1) اور ان کو راہ راست پر قائم رکھتے ہیں۔ (ف 2) (16)

ف 1۔ سلامتی کی راہیں بتلانا قرآن کے ذریعے سے عام ہے لیکن یہاں تخصیص طالبان رضائے حق کی اس وجہ سے کی گئی کہ اس سے منقطع وہی لوگ ہوتے ہیں۔ 2۔ اوپر آیت ومن الذین قالوا انا نصاری میں نصاری کے نقض میثاق کا اجمالا بیان تھا آگے ان کے بعض عقائد کی تعیین ہے کہ وہ اخلال بالتوحید ہے۔
Ayah 5:17

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

بلاشبہ وہ لوگ کافر ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عین مسیح ابن مریم ہے۔ آپ یوں پوچھئیے کہ اگر ایسا ہے تو یہ بتلاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے زمین میں ہیں ان سب کو ہلاک کرنا چاہے تو کوئی ایسا ہے جو خدا تعالیٰ سے ان کو ذرا بھی بچا سکے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خاص ہے حکومت آسمانوں پر اور زمین پر اور جتنی چیزیں ان دونوں کے درمیان ہیں ان پر اور وہ جس چیز کو چاہیں پیدا کردیں اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے۔ (ف 3) (17)

ف 3۔ اوپر یہود و نصاری کے بعض بعض قبائح مذکور تھے آگے ان میں سے ایک امر مشترک کا مع اس کے ابطال کے بیان ہے یعنی دونوں فریق باوجود کفر و معصیت کے اپنے مقرب اور مقبول عنداللہ ہونے کے مدعی تھے۔
Ayah 5:18

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور یہود اور نصارٰی دعوٰی کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں (ف 4) آپ یہ پوچھیے کہ اچھا تو پھر تم کو تمہارے گناہوں کے عوض عذاب کیوں دینگے۔ بلکہ تم بھی منجملہ اور مخلوقات کے ایک (مععمولی) آدمی ہو اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گے بخشیں گے اور جس کو چاہیں گے سزا دینگے۔ اور اللہ ہی کی ہے سب حکومت آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے ان میں بھی اور اللہ ہی کی طرف سب کو لوٹ کرجانا ہے۔ (18)

ف 4۔ مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم کو بوجہ اس کے کہ انبیاء کی اولاد واشیاع ہیں بہ نسبت دوسرے لوگوں کے گواہ ہمارے ہی مذہب کے کیوں نہ ہوں اللہ کے ساتھ یہ خصوصیت ہے کہ ہم سے باوجود عصیان کے بھی اوروں کے برابر ناخوش نہیں ہوتے جیسے باپ کے ساتھ اولاد کو خصوصیت ہوتی ہے کہ اگر وہ نافرمانی بھی کرے تب بھی اس کے قلب پر وہ اثر نہیں ہوتا جیسا کہ کسی غیر آدمی کے اس کی نافرمانی کرنے سے ہوتا ہے اللہ اس کا رد فرماتے ہیں۔
Ayahs 5:19–20

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارے یہ رسول آپہنچے جو کہ تم کو صاف صاف بتلاتے ہیں ایسے وقت میں کہ رسولوں کا سلسلہ موقوف تھا (ف 5) تاکہ تم یوں نہ کہنے لگو کہ ہمارے پاس کوئی بشیر اور نذیر نہیں آیا سو تمہارے پاس بشیر اور نذیر آچکے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔ (19)

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی ذکر کے قابل ہے) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کے انعام کو جو تم پر ہوا ہے یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں بہت سے پیغمبر بنائے اور تم کو صاحب ملک بنایا اور تم کو وہ چیزیں دیں جو دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیں۔ (20)

ف 5۔ عیسیٰ کے اور حضور ﷺ کے درمیان جو زمانہ ہے وہ زمانہ فترت کا کہلاتا ہے امام بخاری نے حضرت سلمان فارسی سے روایت کیا کہ یہ زمانہ چھ سو سال کا ہے اور اس درمیان میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوئے۔
Ayahs 5:21–25

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

اے میری قوم اس متبرک ملک میں داخل ہو کہ اسکو اللہ تعالیٰ نے تمہارے حصہ میں لکھ دیا ہے اور پیچھے واپس مت چلو کہ پھر بالکل خسارے میں پڑجاؤ گے۔ (ف 6) (21)

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

کہنے لگے اے موسیٰ وہاں تو بڑے بڑے زبردست آدمی ہیں اور ہم تو وہاں ہرگز قدم نہ رکھیں گے جب تک کہ وہ وہاں سے نکل نہ جاویں ہاں اگر وہ وہاں سے کہیں اور چلے جائیں تو ہم بیشک جانے کو تیار ہیں۔ (22)

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

ان دو شخصوں نے جو کہ ڈرنے والوں میں سے تھے جن پر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا تھا کہا کہ تم ان پر دروازہ تک تو چلوسو جس وقت تم دروازہ میں قدم رکھوگے اسی وقت غالب آجاؤ گے اور اللہ پر نظر رکھو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ (23)

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اے موسیٰ ہم تو ہرگز کبھی بھی وہاں قدم نہ رکھیں گے جب تک وہ لوگ وہاں موجود ہیں تو آپ اور آپ کے اللہ میاں چلے جائیے اور دونوں لڑبھڑ لیجئیے ہم تو یہاں سے سرکتے نہیں۔ (24)

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

(موسیٰ ) دعا کرنے لگے کہ اے میرے پروردگار میں اپنی جان اور اپنے بھائی پر البتہ اختیار رکھتا ہوں سو آپ ہم دونوں کے اور اس بےحکم قوم کے درمیان فیصلہ فرمادیجئیے۔ (25)

ف 6۔ دنیا میں بھی کہ توسیع ملک سے محروم رہو گے اور آخرت میں کہ ترک فریضہ جہاد سے گناہ گار ہو گے۔
Ayahs 5:26–30

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

ارشاد ہوا تو یہ ملک ان کے ہاتھ چالیس برس تک نہ لگے گا یوں ہی زمین میں سر مارتے پھرتے رہیں گے (ف 1) سو آپ اس بےحکم قوم پر غم نہ کیجئیے۔ (ف 2) (26)

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور آپ ان اہل کتاب کو آدم کے دو بیٹوں کا قصہ صحیح طور پر پڑھ کر سنائیے جب کہ دونوں نے ایک ایک نیاز پیش کی اور ان میں سے ایک کی تو مقبول ہوگئی اور دوسرے کی مقبول نہ ہوئی۔ وہ دوسرا کہنے لگا میں تجھ کو ضرور قتل کردوں گا اس ایک نے جواب دیا کہ خدا تعالیٰ متقیوں ہی کا عمل قبول کرتے ہیں۔ (27)

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

اگر تو مجھ پر میرے قتل کرنے کے لیے دست درازی کرے گا تب بھی میں تجھ پر تیرے قتل کرنے کے لیے ہرگز دست درازی کرنے والا نہیں۔ میں تو خدائے پروردگار عالم سے ڈرتا ہوں۔ (28)

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

میں یوں چایتا ہوں کہ تو میرے گناہ اور اپنے گناہ سب اپنے سر رکھ لے پھر تو دوزخیوں میں شامل ہوجائے۔ اور یہی سزا ہوتی ہے ظلم کرنے والوں کی۔ (29)

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 5:30 in the Quran reader

سو اس کے جی نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا پھر اس کو قتل ہی کرڈالا جس سے بڑے نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہوگیا۔ (30)

ف 1۔ چناچہ چالیس برس تک ایک محدود حصہ زمین میں حیران و پریشان پھر اکیے حتی کہ سب وہاں ہی ختم ہوچکے اس مدت میں جو ان کے اولاد پیدا ہوئی ان کو رہائی حاصل ہوئی حضرت موسیٰ اور ان سے ذرا مدت پہلے حضرت ہارون (علیہ السلام) اور ان سے ذرا مدت پہلے حضرت ہارون بھی اسی وادی میں جسے وادی تیہ کہتے ہیں انتقال فرماگئے اور حضرت یوشع پیغمبر ہوئے۔ اور پھر ان کی معرفت اس نئی نسل بنی اسرائیل کو اس ملک کی فتح کا حکم ہوا چناچہ سب نے ان کے ہمراہ ہوکرجہاد کیا اور فتح نصیب ہوئی۔ 2۔ اوپر من جملہ شنائع اہل کتاب کے ان کا یہ قول نقل فرمایا تھا کہ نحن ابناء اللہ جس کا منشاء انبیاء کی اولاد میں ہونے پر فخر تھا اللہ اس گھمنڈ کے توڑنے کے لیے آگے ہابیل وقابیل کا قصہ بیان فرماتے ہیں کہ آدم کے صلبی بیٹے ہونے میں ان مدعیوں سے بڑھ کر اور باہم دونوں برابر تھے مگر ان میں بھی مقبول وہی ہوا جو مطیع حکم رہا یعنی ہابیل اور دوسرے نے عدول حکمی کی تو وہ مردود ہوگیا اور آدم کا بیٹا ہونا کچھ کام نہ آیا۔
Ayah 5:31

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ Open ayah 5:31 in the Quran reader

پھر اللہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا کہ وہ زمین کھودتا تھا تاکہ وہ اس کو تعلیم کردے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طریقہ سے چھپادے، کہنے لگا افسوس میری حالت پر کیا میں اس سے بھی گیا گزرا کہ اس کوے ہی کے برابر ہوتا اور اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دیتا سو بڑا شرمندہ ہوا۔ (ف 1) (31)

ف 1۔ آخر آیت میں جو اس کی ندامت مذکور ہے یہ ندامت بقول مفسرین قتل پر نہیں تاکہ توبہ کا شبہ ہو بلکہ قتل پر جو مضرتیں مرتب نظرآئیں ان پر ہوئی جیسے نعش کے دفن میں حیران ہونا اور بداحواس ہونا یا بعض مفسرین نے لکھا ہے بدن کا سیاہ ہوجانا اور آدم (علیہ السلام) کا ناراض ہوجانا۔
Ayah 5:32

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ Open ayah 5:32 in the Quran reader

اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی شخص کو بلامعاوضہ دوسرے شخص کے یا بدون کسی فساد کے (جو) زمین میں (اس سے پھیلا ہو) قتل کرڈالے تو گویا اس نے تمام آدمیوں کو قتل کرڈالا اور جو شخص کسی شخص کو بچالیوے تو گویا اس نے تمام آدمیوں کو بچالیا اور ان (بنی اسرائیل) کے پاس ہمارے بہت سے پیغمبر (بھی) دلائل واضحہ لے کر آئے پھر اس کے بعد بھی بہتیرے ان میں سے دنیا میں زیادتی کرنے والے ہی رہے۔ (ف 2) (32)

ف 2۔ بہتر اس لیے فرمایا کہ بعض مطیع و فرمانبردار بھی تھے
Ayah 5:33

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 5:33 in the Quran reader

جو لوگ اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں (ف 3) اور ملک میں فساد پھیلاتے پھرتے ہیں (ف 4) ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کیے جائیں یاسولی دیے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کاٹ دئیے جائیں یا زمین پر سے نکال دئیے جائیں یہ ان کے لیے دنیا میں (سخت) رسوائی ہے اور ان کو آخرت میں عذاب عظیم ہوگا۔ (33)

ف 3۔ اور قتل ناحق کو جو بلا معاوضہ کسی شخص کے قتل کے یا فساد فی الارض کے لیے ہو شناعت و قباحت بیان فرمائی تھی آگے قتل اور اس کے توابع مثل قطع اطراف اور تعزیر کا جو کہ بالحق ہے یعنی بسبب فساد فی الارض وجنایت کے ہو مشروع اور مطلوب فی الشرع ہونا بیان فرماتے ہیں اس لیے اول قطاع الطریق کا حکم پھر سارق کا حکم مذکور ہوتا ہے اور اس کے درمیان اور مضمون بوجہ خاص مناسبت کے لایا گیا ہے۔ 4۔ مراد اس سے ہر زنی اور ڈکیتی ہے۔
Ayah 5:34

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 5:34 in the Quran reader

ہاں مگر جو لوگ قبل اس کے کہ تم ان کو گرفتار کرو توبہ کرلیں تو جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ بخش دینگے مہربانی فرمادینگے۔ (ف 5) (34)

ف 5۔ مطلب یہ ہے کہ اوپر جو سزامذکور ہوئی ہے وہ حد اور حق اللہ کے طور پر ہے جو کہ بندہ کے معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتی قصاص وحق العبد کے طور پر نہیں جو کہ بندہ کے معاف کرنے سے معاف ہوجاتا ہے پس جب قبل گرفتاری کے ان لوگوں کا تائب ہوناثابت ہوجائے تو حد ساقط ہوجائے گی جو کہ اللہ تعالیٰ کا حق تھا البتہ حق العبد باقی رہے گا پس اگر مال لیا ہوگا تو اس کا ضمان دیناپڑے گا اور قتل کیا ہوگا تو اس کا قصاص لیا جائے گا لیکن اس ضمان وقصاص کے معاف کرنے کا حق صاحب مال اور ولی مقتول کو حاصل ہوگا۔
Ayahs 5:35–37

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:35 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اللہ تعالیٰ کا قرب ڈھونڈو اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا کرو امید ہے کہ تم کامیاب ہوجاؤ گے۔ (ف 6) (35)

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:36 in the Quran reader

یقینا جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس تمام دنیا بھر کی چیزیں ہوں اور ان چیزوں کے ساتھ اتنی چیزیں اور بھی ہوں تاکہ وہ اس کو دے کر روز قیامت کے عذاب سے چھوٹ جائیں (تب بھی وہ چیزیں ہرگز) ان سے قبول نہ کی جائیں گی اور ان کو دردناک عذاب ہوگا۔ (36)

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 5:37 in the Quran reader

اس بات کی خواہش کریں گے کہ دوزخ سے نکل آویں اور وہ اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور ان کو عذاب دائمی ہوگا۔ (37)

ف 6۔ وہ کامیابی اللہ کی رضامندی کا حاصل ہونا اور دوزخ سے نجات ہے۔
Ayahs 5:38–39

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 5:38 in the Quran reader

اور جو مرد چوری کرے اور جو عورت چوری کرے سو ان دونوں کے (داہنے) ہاتھ (گٹے پر سے) کاٹ ڈالوان کے کردار کے عوض میں بطور سزا کے اللہ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ بڑے قدرت والے ہیں (جو سزا چاہیں مقرر فرمائیں) بڑے حکومت والے ہیں (کہ مناسب ہی سزا مقرر فرماتے ہیں) ۔ (ف 1) (38)

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

پھر جو شخص توبہ کرلے اپنی اس زیادتی کے بعد اور اعمال کی درستی رکھے تو بیشک اللہ تعالیٰ اس پر توجہ فرماوینگے بیشک خدا تعالیٰ بڑے مغفرت والے ہیں بڑی رحمت والے ہیں۔ (39)

ف 1۔ اقل مقدار مال کی جس میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے دس درم ہے۔
Ayah 5:40

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہی کے لیے ثابت ہے حکومت سب آسمانوں کی اور زمین کی وہ جس کو چاہیں سزادیں اور جس کو چاہیں معاف کردیں اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے۔ (ف 2) (40)

ف 2۔ سورت کے تیسرے رکوع سے اہل کتاب کا ذکر چلاآرہا تھا درمیان میں قدرے قلیل بعض اور مضامین خاص خاص مناسبات سے آگئے تھے اب آگے پھر اسی کا ذکر اہل کتاب کی طرف عود ہوتا ہے جن میں یہود اور ان یہود میں جو منافق تھے اور نصاری سب داخل ہیں اہل کتاب کے ان ہی تینوں فرقوں کا ذکر مختلط طور پر یہاں سے دور تک یعنی ختم پارہ تک چلا گیا ہے پھر ختم سورت کے قریب خاص نصاری کے متعلق کچھ بیان آئے گا۔