4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsبیان القرآن

Ayahs 4:1–2

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا Open ayah 4:1 in the Quran reader

اے لوگوں اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک جاندار سے پیدا کیا اور اس جاندار سے اس کا جوڑ پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں (ف 1) اور تم خدا تعالیٰ سے ڈرو جس کے نام سے ایک دوسرے سے سوال کیا کرتے ہو اور قرابت سے بھی ڈرو بالیقین اللہ تعالیٰ تم سب کی اطلاع رکھتے ہیں۔ (ف 2) (1)

وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا Open ayah 4:2 in the Quran reader

اور جن بچوں کا باپ مرجائے ان کے مال ان ہی کو پہنچاتے رہو اور تم اچھی چیز سے بری چیز کو مت بدلو اور ان کا مال مت کھاؤ اپنے مالوں (کے رہنے) تک بیشک یہ (ایسی کاروائی کرنا) بڑا گناہ ہے۔ (2)

ف 1۔ اس آیت میں پیدائش کی تین صورتوں کا بیان ہے ایک تو جاندار کا بےجان سے پیدا کرنا جیسے آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا ہوئے دوسرے جاندار سے بلاطریقہ توالد متعارف پیدا ہونا جس طرح حضرت حوا حضرت آدم کی پسلی سے پیدا ہوئی ہیں اور تیسرے جاندار کا جاندار سے بطریق توالد متعارف پیدا ہونا جیسا اور آدمی آدم وحوا سے اس وقت تک پیدا ہوتے آرہے ہیں اور فی نفسہ عجیب نہ ہونے میں اور قدرت کے سامنے عجیب نہ ہونے میں تینوں صورتیں برابر ہیں۔ 2۔ اوپر تقوی کا حکم تھا اور اس کے ضمن میں مراعات حقوق انسانیہ ورحمیہ کا ارشاد تھا آگے اس تقوی کے مواقع کا حقوق مذکورہ میں ہیں مفصلا ذکر فرماتے ہیں۔
Ayahs 4:3–4

وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ Open ayah 4:3 in the Quran reader

اور اگر تم کو اس بات کا احتمال ہو کہ تم یتیم (لڑکیوں) کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے تو اور عورتوں سے جو تم کو پسند ہوں نکاح کرلو دو دو (عورتوں سے) اور (تین تین عورتوں سے) اور چار چار (عورتوں سے) (ف 3) پس اگر تم کو احتمال اس کا ہو کہ عدل نہ رکھو گے تو پھر ایک ہی (بی بی پر بس کرو) یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو (وہی سہی) اس (امرمذکور) میں زیادتی نہ ہونے کی توقع قریب تر ہے۔ (ف 4) (3)

وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader

اور تم لوگ بی بیوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دیدیا کرو ہاں اگر وہ (بی بیاں) خوش دلی سے چھوڈ دے تم کو اس (مہر میں) کوئی جزو تو تم اس کو کھاؤ مزہ دار خوشگوار سمجھ کر۔ (4)

ف 3۔ مثنی وثلث وربع ترکیب نحوی میں حال ہیں طاب سے اور حال قید ہوتا ہے کلام میں اور مفہوم میں بوجہ تکرار معنی کے موضوع ہیں انقسام کے لیے پس مجموعہ دونوں امروں کا مقید ہوا تقلید الحکم بہذہ الاقسام کو۔ نہ کہ اطلاق کو اور حکم فانکحوا جو عامل ہے حال میں اباحت کے لیے ہے پس اباحت مقید ہوگئی ان اقسام کے ساتھ جب یہ قید نہ ہوگی مثلا چار سے زائد تواباحت بھی نہ ہوگی کیونکہ جہاں قید کا کوئی فائدہ نہ ہوا احترازی ہونی ہے۔ 4۔ اگر عدل نہ ہوسکنے کا غالب احتمال ہو تو کئی بیبیوں سے نکاح کرنا بایں معنی ممنوع ہے کہ یہ شخص گناہ گار ہوگا نہ بایں معنی کہ نکاح صحیح نہ ہوگا نکاح یقینا ہوجائے گا۔
Ayah 4:5

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور تم کم عقلوں کو اپنے وہ مال مت دو جن کو خدا تعالیٰ نے تمہارے لیے مایہٴ زندگانی بنایا ہے اور ان مالوں میں سے ان کو کھلاتے رہو پہناتے رہو اور ان سے معقول بات کہتے رہو۔ (ف 5) (5)

ف 5۔ یعنی ان کی تسلی کرتے ہو کہ مال تمہارا ہے تمہاری خیرخواہی کی وجہ سے ابھی تمہارے ہاتھ میں نہیں دیا ذرا سمجھ جاو گے تو تم ہی کو دے دیا جائے گا۔
Ayah 4:6

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور تم یتیموں کو آزمالیا کرو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کو پہنچ جاویں (ف 6) پھر اگر ان میں ایک گونہ تمیز دیکھو (7) تو ان کے اموال ان کے حوالے کردو۔ اور ان اموال کو ضرورت سے زائد اٹھا کر۔ اور اس خیال سے کہ یہ بالغ ہوجاوینگے جلدی جلدی اڑا کر مت کھا ڈالو اور جو شخص مستغنی ہو سو وہ تو اپنے کو بالکل بچائے۔ اور جو شخص حاجتمند ہو تو وہ مناسب مقدار سے کھالے پھر جب ان کے اموال ان کے حوالے کرنے لگو تو ان پر گواہ بھی کرلیا کرو اور اللہ تعالیٰ ہی حساب لینے والے کافی ہیں۔ (8) (6)

ف 6۔ یعنی بالغ ہوجاویں کیونکہ نکاح کی پوری قابلیت بلوغ ہوتی ہے۔ 7۔ یعنی حفاظت و رعایت صالح مال کا سلیقہ اور انتظام ان میں پاو اور تمیز نہ ہونے کا سفہ کہتے ہیں جو مانع تفویض مال ہے خواہ سلیقہ نہ ہو خواہ سلیقہ ہو مگر اس سلیقہ سے کام نہ لینا ہو یعنی انتظام نہ کرتا ہو بلکہ مال کو اڑاتا ہو دونوں صورتوں میں مال بھی نہ دیا جائے گا۔8۔ یتیم کے حاجت مندوں کارکن کو بقدر حوائج ضرورت یہ صرف کرنا بوجہ اپنے حق الخدمت کے جائز ہے۔
Ayah 4:7

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

مردوں کے لیے بھی حصہ ہے اس چیز میں سے جس کو ماں باپ اور بہت نزدیک کے قرابت دار چھوڈ جاویں۔ اور عورتوں کے لیے بھی حصہ ہے اس چیز میں سے جس کو ماں باپ اور بہت نزدیک کے قرابت دار چھوڈ جاویں خواہ وہ چیز قلیل ہو یا کثیر ہو۔ حصہٴ قطعی۔ (ف 1) (7)

ف 1۔ یہاں صرف استحقاق حصہ میراث کو اجمالا بتلایا ہے تھوڑی دور آگے حصص ورثہ کی تفصیل آتی ہے اور نزدیک کے رشتہ سے مطلب یہ ہے کہ شرع میں جو ترتیب وارثوں مقرر اور ثابت ہے اس ترتیب میں نزدیک ہو اور ظاہر ہے کہ نزدیکی دونوں جانب سے ہوتی ہے پس اس سے لازم آگیا جو کہ رشتہ دار اقرب ہوگا وہ میراث پائے گا۔
Ayahs 4:8–9

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور جب (وارثوں میں ترکہ کے) تقسیم ہونے کے وقت آموجود ہوں رشتہ دار (دور کے) اور یتیم اور غریب لوگ تو ان کو بھی اس (ترکہ) میں (جس قدر بالغوں کا ہے اس میں) سے کچھ دے دو اور ان کے ساتھ خوبی سے بات کرو۔ (ف 2) (8)

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چایئے کہ اگر اپنے بعد چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ جاویں تو ان کی ان کو فکر ہو سو ان لوگوں کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ سے ڈریں۔ اور موقع کی بات کہیں۔ (9)

ف 2۔ یہ حکم واجب نہیں مستحب ہے اور اگر ابتداء میں واجب ہواہو تو وجوب منسوخ ہے۔
Ayah 4:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ یتیموں کا مال بلا استحقاق کھاتے (برتتے) ہیں اور کچھ نہیں اپنے شکم میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب جلتی آگ میں داخل ہونگے۔ (ف 3) (10)

ف 3۔ جس طرح مال یتیم کا خود کھانا حرام ہے اسی طرح کسی کو کھلانا یا دینا گوبطور خیر خیرات ہی کے کیوں نہ ہو نیز حرام ہے اور ہر نابالغ کا حکم یہی ہے گویتیم نہ ہو۔
Ayah 4:11

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے باب میں لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصہ کے برابر اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں گو دو سے زیادہ ہوں تو ان (لڑکیوں) کو دوتہائی (ملیگا اس مال کا) جو کہ (مورث) چھوڑ مرا ہے اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کو نصف ملیگا (ف 4) اور ماں باپ کے لیے یعنی دونوں میں سے ہر ایک کے لیے (میت کے) تر کہ میں سے چھٹا چھٹا حصہ ہے اگر میت کی کچھ اولاد ہو۔ اور اگر اس میت کی کچھ اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کا ایک تہائی ہے اور اگر میت کے ایک سے زیادہ بھائی یا بہن ہوں تو اس کی ماں کو چھٹا حصہ ملیگا ( اور باقی باپ کو ملیگا) وصیت نکال لینے کے بعد کہ میت اس کی وصیت کر جاوے یا دین کے بعد (ف 5) تمہارے اصول و فروع جو ہیں تم پورے طور پر یہ نہیں جان سکتے ہو کہ ان میں کونسا شخص تم کو نفع پہنچانے میں نزدیک تر ہے۔ یہ حکم منجانب اللہ مقرر کردیا گیا بالیقین اللہ تعالیٰ بڑے علم اور حکمت والے ہیں۔ (6) (11)

ف 4۔ حدیث اور اجماع اہل حق سے اس آیت کا حکم انبیاء علہیم السلام کے لیے نہیں اسی واسطے حضرت صدیق اکبر نے فدک وغیرہ کو میراث میں تقسیم نہیں فرمایا۔ 5۔ دونوں (یعنی وصیت اور دین) سے پہلے تجہیز وتکفین ضروری ہے اور وصیت سے مراد وہ ہے جو شرع کے موافق ہو مثلا وارث کو وصیت میں کچھ نہ دے اور بعد تجہیز وتکفین وادائے دیون کے جو مال بچے اس کے ایک ثلث سے زائد کی وصیت نہ کرے ورنہ وہ وصیت میراث سے مقدم نہ ہوگی اور جاننا چاہیے کہ دین اور وصیت میں دین مقدم ہے۔ 6۔ میراث کا مسئلہ میت کی رائے پر نہیں رکھا گیا بلکہ خود حق تعالیٰ نے سب قواعد مقرر فرمادیے۔
Ayahs 4:12–13

وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ Open ayah 4:12 in the Quran reader

اور تم کو آدھا ملیگا اس ترکہ کا جو تمہاری بیبیاں چھوڑ جاویں اگر ان کے کچھ اولاد نہ ہو اور اگر ان بی بیوں کے کچھ اولاد ہو تو تم کو ان کے تر کہ سے چوتھائی ملیگا وصیت نکالنے کے بعد کہ وہ اس کی وصیت کر جائیں یا دین کے بعد اور ان بیبیوں کو چوتھائی ملے گا اس ترکہ کا جس کو تم چھوڑ جاؤ۔ اگر تمہارے کچھ اولاد نہ ہو۔ اور اگر تمہارے کچھ اولاد ہو تو ان کو تمہارے تر کہ سے آٹھواں حصہ ملے گا وصیت نکالنے کے بعد کہ تم اس کی وصیت کر جاؤ یا دین کے بعد۔ اور اگر کوئی میت جس کی میراث دوسروں کو ملے گی خوا وہ (میت) مرد ہو یا عورت ایسا ہو جس کے نہ اصول ہوں نہ فروع ہو اور اس کے ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملیگا پھر اگر یہ لوگ اس سے زیادہ ہوں تو وہ سب تہائی میں شریک ہونگے وصیت نکالنے کے بعد جس کی وصیت کی جاوے یا دین کے بعد بشرطیکہ کسی کو ضرر نہ پہنچاوے یہ حکم کیا گیا ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والے ہیں حلیم ہیں۔ (ف 1) (12)

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 4:13 in the Quran reader

یہ سب احکام مذکورہ خداوندی ضابطے ہیں۔ اور جو شخص اللہ اور رسول کی پوری اطاعت کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو ایسی بہشتوں میں داخل کردیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔ (13)

ف 1۔ احکام کو بیان کرکے آگے ان کے اعتقاد و عملا ماننے کی تاکید اور نہ ماننے پر وعید ارشاد فرماتے ہیں۔
Ayah 4:14

وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 4:14 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ اور رسول کا کہنا نہ مانے گا اور بالکل ہی اس کے ضابطوں سے نکل جاوے گا اس کو آگ میں داخل کریں گے اس طور سے کہ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور اس کو ایسی سزا ہوگی جس میں ذلت بھی ہے۔ (ف 2) (14)

ف 2۔ جاہلیت میں جیسا یتامی اور مواریث کے معاملہ میں بہت سی بےاعتدالیاں تھیں جن کی اصلاح اوپر کی آیات میں مذکور ہوئی اسی طرح عورتوں کے معاملہ میں بھی طرح طرح کے رسوم قبیحہ اور بےعنوانیاں شائع تھیں آگے الرجال قوامون تک ان معاملات کی اصلاح فرماتے ہیں اور جو خطا و قصور شرعا معتبر ہو اس پر تادیب کی اجازت دیتے ہیں۔
Ayah 4:15

وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا Open ayah 4:15 in the Quran reader

اور جو عورتیں بیحیائی کا کام کریں تمہاری بیبیوں میں سے سو تم لوگ ان عورتوں پر چار آدمی اپنوں میں سے گواہ کرلو۔ سو اگر وہ گواہی دیدیں تو تم ان کو گھروں کے اندر مقید رکھو یہاں تک کہ موت ان کا خاتمہ کردے یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی اور راہ تجویز فرمادیں۔ (ف 3) (15)

ف 3۔ وہ حکم ثانی جو بعدنازل ہوا جس کو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس طرح ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے وہ سبیل ارشاد فرمادی ہے تم لوگ سمجھ لو اور یاد کہ ناکہ خدا کے لیے سوڈرے اور کہ خدا کے لیے سنگساری کمال فی الصحاح پس اس آیت کا حکم منسوخ ہے۔
Ayah 4:16

وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader

اور جونسے دو شخص بھی بےحیائی کا کام کریں تم میں سے تو ان دونوں کو اذیت پہنچاؤ پھر اگر وہ دونوں توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں تو ان دونوں سے کچھ تعرض نہ کرو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والے ہیں رحمت والے ہیں۔ (ف 4) (16)

ف 4۔ جونسے دو شخص بھی اس میں غیر منکوحہ ومنکوحہ عورت اور نکاح اور بےنکاح والا مرد سب آگئے پس چاروں کا حکم مذکور ہوگیا۔
Ayah 4:17

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader

توبہ جس کا قبول کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے وہ تو ان ہی کی ہے جو حماقت سے کوئی گناہ کر بیٹھتے ہیں (ف 5) پھر قریب ہی وقت میں توبہ کرلیتے ہیں سو ایسوں پر تو خدا تعالیٰ توجہ فرماتے ہیں۔ اور اللہ خوب جانتے ہیں حکمت والے ہیں۔ (17)

ف 5۔ حماقت کی قید واقعی احترازی اور شرطی نہیں کیونکہ ہمیشہ گناہ حماقت ہی سے ہوتا ہے۔
Ayah 4:18

وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader

اور ایسے لوگوں کی توبہ نہیں جو گناہ کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سامنے موت ہی آ کھڑی ہوئی (ف 1) تو کہنے لگا کہ میں اب توبہ کرتا ہوں اور نہ ان لوگوں کی جن کو حالت کفر پر موت آجاتی ہے۔ ان لوگوں کے لیے ہم نے ایک دردناک سزا تیار کر رکھی ہے۔ (18)

ف 1۔ حضور موت کا مطلب یہ ہے اس سرور عالم کی چیزیں نظر آنے لگیں۔
Ayah 4:19

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

اے ایمان والوتم کو یہ بات حلال نہیں کہ عورتوں کے (مال یا جان کے) جبرا مالک ہوجاؤ (ف 2) اور ان عورتوں کو اس غرض سے مقید مت کرو کہ جو کچھ تم لوگوں نے ان کو دیا ہے اس میں کا کوئی حصہ وصول کرلو مگر یہ کہ وہ عورتیں کوئی صریح ناشائستہ حرکت کریں۔ اور ان عورتوں کے ساتھ خوبی کے ساتھ گزران کیا کرو اور اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ممکن ہے کہ تم ایک شے کو ناپسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس کے اندر کوئی بڑی منفعت رکھ دے۔ (19)

ف 2۔ مال کا مالک ہونا تین طرح ہے ایک یہ کہ اس عورت کا جو حق شرعی میراث میں ہے اس کو خود لے لیا جائے اس کو نہ دیا جائے اور دورے یہ کہ اس کو نکاح نہ کرنے دیا جائے یہاں تک کہ وہ یہاں ہی مرجائے پھر اس کا مال لے لیں یا وہ اپنے ہاتھ سے کچھ دے تیسری یہ کہ خاوند اس کو بےوجہ مجبور کرے کہ وہ اس کو کچھ مال دے تب یہ اس کو چھوڑے اور جان کا مالک ہونا یہ تھا کہ مردہ کی عورت کی مثل مال مردہ کے اپنی میراث سمجھتے تھے اس صورت میں جبر کی قید واقعی ہے کہ وہ ایسا کرتے تھے یہ نہیں کہ اگر عورت اگر راضی ہو تو وہ سچ مچ میراث اور ملک ہوجائے گی۔
Ayahs 4:20–21

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور تم بجائے ایک بی بی کے دوسری بی بی کرنا چاہو اور تم اس ایک کو انبار کا انبار مال دے چکے ہو تو تم اس میں سے کچھ بھی مت لو (ف 3) کیا تم اس کو لیتے ہو بہتان رکھ کر اور صریح گناہ کے مرتکب ہوکر۔ (20)

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور تم اس کو کیسے لیتے ہو حالانکہ تم باہم ایک دوسرے سے بےحجابانہ مل چکے ہو اور وہ عورتیں تم سے ایک گاڑہ اقرار لے چکی ہیں۔ (21)

ف 3۔ اگر کسی کو شبہ ہو کہ حدیث میں تاکید آئی ہے کہ مہر کم مقرر کرنے کی اور اس آیت سے زیادہ کا جواز معلوم ہوتا ہے تو اس کا دفع یہ ہے کہ یہ جواز مفہوم من القرآن بمعنی صحت ونفاذ ہے۔ اور حدیث میں جواز بمعنی اباحت مطلقہ وعدم کراہت کی نفی ہے پس کچھ تعارض نہیں رہا اور حضرت عمر کا ایک واقعہ میں زیادہ مہر کے جواب کو مان لینا اس لیے تھا کہ سامعین اس کو حرام نہ سمجھنے لگیں پس اس سے کراہت کا عدم ثابت نہیں ہوتا نہ حضرت عمر پر کوئی اعتراض لازم آتا ہے۔
Ayah 4:22

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور تم ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمہارے باپ (دادا یا نانا) نے نکاح کیا ہو مگر جو بات گزرگئی (گزرگئی) بیشک یہ (عقلا بھی) بڑی بےحیائی ہے اور نہایت نفرت کی بات ہے۔ اور (شرعا بھی) بہت برا طریقہ ہے۔ (ف 4) (22)

ف 4۔ جس عورت سے باپ نے زنا کیا ہو اس سے بیٹا نکاح نہیں کرسکتا اسی طرح جہاں جہاں نکاح سے تحریم شدید ہوجاتی ہے زنا سے بھی ہوجاتی ہے۔
Ayah 4:23

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں (ف 5) اور تمہاری بہنیں (ف 6) اور تمہاری پھوپھیاں (ف 7) اور تمہاری خالائیں (ف 8) اور بھتیجیاں اور بھانجیاں (ف 9) اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے (یعنی انا) اور تمہاری وہ بہنیں جو دودھ پینے کی وجہ سے ہیں (10) اور تمہاری بیبیوں کی مائیں (11) اور تمہاری بیٹیوں کی بیٹیاں (12) جو کہ تمہاری پرورش میں رہتی ہیں ان بیبیوں سے کہ جن کے ساتھ تم نے صحبت کی ہو (13) اور اگر تم نے ان بیبیوں سے صحبت نہ کی ہو تو تم کو کوئی گناہ نہیں اور تمہارے ان بیٹوں کی بی بیاں جو کہ تمہاری نسل سے ہوں (ف 1) اور یہ کہ تم دو بہنوں کو (رضاعی ہوں یا نسبی) ایک ساتھ رکھو لیکن جو پہلے ہوچکا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑے بخشنے والے بڑے رحمت والے ہیں۔ (23)

ف 5۔ ان میں سب اصول و فروع بواسطہ وبلاواسطہ سب ہیں۔ 6۔ خوہ عنی ہوں یا علاتی یا اخیافی۔ 7۔ اس میں باپ کی اور سب مذکر اصول کی تینوں قسم کی بہنیں آگئیں۔ 8۔ اس میں ماں کی اور سب مونث اصول کی تینوں قسم کی بہنیں آگئیں۔ 9۔ اس میں تینوں قسم کی بہنوں کی اولاد بواسطہ وبلاواسطہ سب آگئیں۔ 01۔ یعنی تم سے ان کی حقیقی یارضاعی ماں کا دودھ پیا ہے یا انہوں نے تمہاری حقیقی یا رضاعی ماں کا دودھ پیا ہے گومختلف وقت میں پیا ہو۔ 11۔ اس میں زوجہ کے مونث اصول آگئے۔ 21۔ اس میں زوجہ کے سب مونث فروع آگئے۔ 31۔ یعنی کسی عورت کے ساتھ صرف نکاح کرنے سے اس کی لڑکی حرام نہیں ہوتی بلکہ جب اس عورت سے صحبت ہوجاوے تب لڑکی حرام ہوجاتی ہے۔ 1۔ اس میں سب مذکر فروع کی بیبیاں آگئیں اور نسل کی قید کا مطلب یہ ہے کہ منہ بولے لے پالک جس کو متبنی کہتے ہیں اس کی بی بی حرام نہیں۔
Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

اور وہ عورتیں جو کہ شوہر والیاں ہیں مگر جو کہ تمہاری مملوک ہوجاویں اللہ تعالیٰ نے ان احکام کو تم پر فرض کردیا ہے (ف 2) اور ان (عورتوں) کے سوا ( اور عورتیں) تمہارے لئے حلال کی گئیں ہیں (یعنی یہ) کہ تم ان کو اپنے مالوں کے ذریعہ سے چاہو (ف 3) اس طرح سے کہ تم بیوی بناؤ صرف مستی ہی نکالنا نہ ہو (ف 4) پھر جس طریق سے تم ان عورتوں سے منتفع ہوئے ہو سو ان کو ان کے مہر دو جو کچھ مقرر ہوچکے ہیں اور مقرر ہوئے بعد بھی جس پر تم باہم رضامند ہوجاو ٴاس میں تم پر کوئی گناہ نہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے جاننے والے ہیں بڑے حکمت والے ہیں۔ (24)

ف 2۔ یہاں تک محرمات کا بیان تھا اس کے بعد ان کے ماسوا کی حلت نکاح کا مع بعض شرائط حلت کے بیان ہے۔ 3۔ یعنی مہر ہونا نکاح میں ضروری ہے۔ 4۔ اس کے عموم میں زنا اور متعہ سب داخل ہوگیا۔
Ayahs 4:25–26

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور جو شخص تم میں پوری مقدرت ( اور گنجائش) نہ رکھتا ہوآزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی تو وہ اپنے آپس کی مسلمان لونڈیوں سے جو کہ تم لوگوں کی مملوکہ ہیں (نکاح کرے) اور تمہارے ایمان کی پوری حالت اللہ ہی کو معلوم ہے تم سب آپس میں ایک دوسرے کے برابر ہو۔ سو ان سے نکاح کرلیا کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے اور ان کو ان کے مہرقاعدہ کے موافق دے دیا کرو اس طور پر کہ وہ منکوحہ بنائی جائیں نہ تو علانیہ بدکاری کرنے والی ہوں اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والی ہوں (ف 5) پھر جب وہ لونڈیاں منکوحہ بنائی جائیں پھر اگر وہ بڑی بےحیائی کا کام (زنا) کریں تو ان پر اس سزا سے نصف سزا ہوگی کہ آزاد عورتوں پر ہوتی ہے (ف 6) یہ اس شخص کے لیے ہے جو تم میں زنا کا اندیشہ رکھتا ہو۔ (ف 7) اور تمہارا ضبط کرنا زیادہ بہتر ہے (بہ نسبت نکاح کنیز کے) اور اللہ تعالیٰ بڑے بخشنے والے ہیں بڑے رحمت والے ہیں۔ (25)

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ تم سے بیان کردے اور تم سے پہلے لوگوں کے احوال تم کو بتادے اور تم پر توجہ فرمادے اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے ہیں بڑے حکمت والے ہیں۔ (26)

ف 5۔ لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے میں دو شرطیں لگائیں ایک یہ کہ وہ ایسی عورت سے نکاح نہ کرسکے جس میں دو صفتیں ہوں ایک حریت دوسرے ایمان۔ دوسری قید یہ کہ وہ مسلمان لونڈی ہو۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک ان قیود کی رعایت اولی ہے اور اگر بلارعایت ان قیود کے لونڈی سے نکاح کیا تو نکاح ہوجائے گا لیکن کراہت ہوگی۔ 6۔ وہ سزایہ کہ ان کے پچاس درے لگائے جائیں گے۔ 7۔ اور جس کو یہ اندیشہ نہ ہو اس کے لیے مناسب نہیں۔
Ayahs 4:27–29

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کو تو تمہارے حال پر توجہ فرمانا منظور ہے اور جو لوگ کہ شہوت پرست ہیں (ف 1) وہ یوں چاہتے ہیں کہ تم بڑی بھاری کجی میں پڑجاؤ۔ (ف 2) (27)

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کو تمہارے ساتھ تخفیف منظور ہے اور آدمی کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ (28)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طور پر مت کھاؤ لیکن کوئی تجارت ہو جو باہمی رضامندی سے ہو تو مضائقہ نہیں اور تم ایک دوسرے کو قتل بھی مت کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر بڑے مہربان ہیں۔ (29)

ف 1۔ شہوت پرست لوگوں سے بقول ابن زید مراد فساق ہیں اور بقول ابن عباس مراد زانی ہیں یہاں شہوت پرستی کی مذمت میں شہوت مباحہ سے منقطع ہونا داخل نہیں ہے۔ 2۔ بڑی بھاری کجی کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ بےباکانہ حرام کا مرتکب ہونا دوسرے یہ کہ حرام کو حلال سمجھ جانا۔ اور اس کے مقابلہ میں ہلکی کجی یہ ہے کہ گناہ کو گناہ سمجھے اور اتفاقا اس کا صدور ہوجائے اس آیت میں اس میل غیرعظیم کی اجازت نہیں ہے بلکہ بیان کرنا ہے ان بدخواہوں کے حال کا وہ میل عظیم کی سعی میں ہیں۔
Ayah 4:30

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

اور جو شخص ایسا فعل کرے گا اس طور پر کہ حد سے گزر جاوے اور اس طور پر کہ ظلم کرے (ف 3) تو ہم عنقریب (ف 4) اس کو آگ میں داخل کریں گے اور یہ (امر) خدا تعالیٰ کو آسان ہے۔ (30)

ف 3۔ عدوان کا حاصل یہ ہے کہ وہ شخص مقتول واقع میں مستحق قتل نہ ہو اور اس کو قتل کیا جاوے اور ظلم کا حاصل یہ ہے کہ غیر مستحق للقتل کا قتل ہونا تین طور پر سکتا ہے ایک یہ فعلا خطاہوئی یعنی مثلا گولی شکار پرچلائی اور وہ کسی آدمی کو لگ گئی۔ دوسرے یہ کہ قاضی وحاکم سے اجتہادا خطاہوئی تیسرے یہ کہ حقیقت حال یعنی اس کا غیر مستحق للقتل ہونا معلوم ہے پھر بھی عمدا اس کو قتل کرڈالا پس ظلم کہنے سے پہلی دو صورتیں خارج ہوگئیں کہ ان میں یہ وعید نہیں۔ 4۔ یعنی بعدالموت۔
Ayah 4:31

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

جن کاموں سے تم کو منع کیا جاتا ہے ان میں جو بھاری بھاری کام ہیں اگر تم ان سے بچتے رہو تو ہم تمہاری خفیف برائیاں تم سے دور فرمادیں گے اور ہم تم کو ایک معزز جگہ میں داخل کردیں گے۔ (ف 5) (31)

ف 5۔ گناہ کبیرہ کی تعریف میں بہت اقوال ہیں جامعہ تر قول وہ ہے جس کو روح المعانی میں شیخ الاسلام بارزی سے نقل کیا ہے کہ جس گناہ پر کوئی وعید ہو یا حد ہو یا اس پر لعنت آئی ہو یا اس میں مفسدہ کسی ایسے گناہ کے برابر یا زیادہ ہو جس پر وعید یا حد یا لعنت آئی ہو یا وہ براہ تہاون فی الدین صادر ہو وہ کبیرہ ہے اور اس کا مقابل صغیرہ ہے اور حدیثوں میں جو عددوارد ہے اس سے مقصود حصر نہیں بلکہ مقتضائے وقت ان ہی کا ذکر ہوگا۔
Ayah 4:32

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور تم ایسے کسی امر کی تمنا مت کیا کرو جس میں اللہ تعالیٰ نے بعضوں کو بعضوں پر فوقیت بخشی ہے (ف 6) مردوں کے لیے ان کے اعمال کا حصہ ( ثابت) ہے اور عورتوں کے لیے ان کے اعمال کا حصہ (ثابت) ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کی درخواست کیا کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں۔ (32)

ف 6۔ جیسے مرد ہونا۔ یا مردوں کا دونا حصہ ہونا یا ان کی شہادت کا کامل ہونا وغیرہ ذالک۔
Ayahs 4:33–35

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

اور ہر ایسے مال کے لیے جس کو والدین اور رشتہ دار لوگ چھوڑ جاویں ہم نے وارث مقرر کردیے ہیں اور جن لوگوں سے تمہارے عہد بندھے ہوئے ہیں ان کو ان کا حصہ (یعنی ایک ششم دے دو ) (ف 7) بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر مطلع ہیں۔ (33)

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا Open ayah 4:34 in the Quran reader

مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے بعضوں کو بعضوں پر فضیلت دی ہے اور اس سبب سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں سو جو عورتیں نیک ہیں اطاعت کرتی ہیں مرد کی عدم موجودگی میں بحفاظت الہی ٰنگہداشت کرتی ہیں اور جو عورتیں ایسی ہوں کہ تم کو ان کی بد دماغی کا احتمال ہو تو ان کو زبانی نصیحت کرو اور ان کو ان کے لیٹنے کی جگہوں میں تنہا چھوڑ دو اور ان کو مارو پھر وہ تمہاری اطاعت کرنا شروع کردیں تو ان پر بہانا مت ڈھونڈو بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے رفعت اور عظمت والے ہیں۔ (34)

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا Open ayah 4:35 in the Quran reader

اور اگر تم (اوپر والوں) کو ان دونوں (میاں بیوی) میں کشاکش کا اندیشہ ہو تو تم لوگ ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو مرد کے خاندان سے اور ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو عورت کے خاندان سے بھیجو اگر ان دونوں آدمیوں کو اصلاح منظور ہوگی تو اللہ تعالیٰ ان (میاں بی بی) میں اتفاق فرماویں گے بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے علم اور بڑے خبر والے ہیں۔ (35)

ف 7۔ جن دو شخصوں میں باہم اس طرح قول وقرار ہوجائے کہ ہم ایک دوسرے کے اس طرح یارومددگار رہیں گے کہ اگر ایک شخص کے ذمہ کوئی دیت لازم آئی تو دوسرا بھی اس کا متحمل ہو اور جب وہ مرا جائے تو دوسرا اس کی میراث لے تو یہ عہد عقد موالات ہے اور ان میں سے ہر شخص مولی المولات کہلاتا ہے یہ رسم عرب میں اسلام سے پہلے بھی تھی ابتداء اسلام میں جب تک کہ اکثر مسلمان نہ ہوئے تھے اور اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے باہم انصار و مہاجرین میں عقد اخوت جس کا اثر اسی مولات کا سا تھا منعقد فرمادیا تھا اس وقت اسی رسم قدیم کے موافق حکم رہا کہ انصار و مہاجرین میں باہم میراث جاری ہوتی تھی پھر جب لوگ بکثرت مسلمان ہوگئے تو اس میں اول ترمیم وہ ہوئی جو اس آیت میں مذکور ہے یعنی چھٹا حصہ اس مولی الموالات کو اور باقی دوسرے ورثہ کو دلایا جاتا تھا پھر بعد چندے سورة احزاب کی آیت والوالارحام سے بالکل ہی اس مولی الموالات کا حصہ منسوخ ہوگیا۔
Ayah 4:36

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ Open ayah 4:36 in the Quran reader

اور تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اختیار کرو اور اسکے ساتھ کسی چیز کو شریک مت کرو اور والدین کے ساتھ اچھا معاملہ کرو اور اہل قرابت کے ساتھ بھی اور یتیموں کے ساتھ بھی اور غریب غربا کے ساتھ بھی اور پاس والے پڑوسی کے ساتھ بھی اور دور والے پڑوسی کے ساتھ بھی اور ہم مجلس کے ساتھ بھی (ف 1) اور راہ گیر کے ساتھ بھی اور ان کے ساتھ بھی جو تمہارے مالکانہ قبضے میں ہیں (ف 2) بیشک اللہ تعالیٰ ایسے شخصوں سے محبت نہیں رکھتے جو اپنے کو بڑا سمجھتے ہوں شیخی کی باتیں کرتے ہوں۔ (36)

ف 1۔ خوہ وہ مجلس دائمی ہو جیسے طویل سفر کی رفاقت اور کسی مباح کام میں شرکت یا عارضی ہو جیسے سفر قصیر یا اتفاقی جلسہ میں شرکت۔ 2۔ یہ اہل حقوق اگر کافر بھی ہوں تب بھی ان کے ساتھ احسان کرے البتہ مسلمان کا حق اسلام کی وجہ سے ان سے زائد ہوگا۔
Ayah 4:37

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

جو کہ بخل کرتے ہوں اور دوسرے لوگوں کو بھی بخل کی تعلیم کرتے ہوں اور وہ اس چیز کو پوشیدہ رکھتے ہوں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے دی ہیں (ف 3) اور ہم نے ایسے ناسپاسوں کے لئے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے۔ (37)

ف 3۔ اس سے مراد یا تو مال و دولت ہے جبکہ بلامصلحت حفاظت کے محض بخل کی وجہ سے کہ اہل حقوق توقع نہ کریں چھپادے اور یا مراد علم دین ہے کہ یہوداخبار رسالت کو چھپایا کرتے تھے پس بخل بھی عام ہوجائے گا پس اس میں بخلاء ومنکرین رسالت دونوں آگئے۔
Ayah 4:38

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا Open ayah 4:38 in the Quran reader

اور جو لوگ کہ اپنے مالوں کو لوگوں کے دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر اور آخری دن پر اعتقاد نہیں رکھتے اور شیطان جس کا مصاحب ہو اس کا وہ برا مصاحب ہے۔ (ف 4) (38)

ف 4۔ اوپر کفر باللہ وبالرسول وبالقیامہ اور بخل اور ریا اور کبر کی مذمت فرمائی ہے آگے ان کے اضداد کی ترغیب دیتے ہیں پس وہ تتمہ ہے ماقبل کا۔
Ayah 4:39

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا Open ayah 4:39 in the Quran reader

اور ان پر کیا (مصیبت نازل) ہوجاوے گی اگر وہ لوگ اللہ تعالیٰ پر اور آخری دن پر ایمان لے آویں اور اللہ نے جو ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ خرچ کرتے رہا کرے (ف 5) اور اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتے ہیں۔ (39)

ف 5۔ یعنی کچھ بھی ضرر نہیں ہر طرح نفع ہی ہے۔
Ayah 4:40

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:40 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایک ذرہ برابر بھی ظلم نہ کریں گے ا اور اگر ایک نیکی ہوگی تو اس کو کئی گناہ کردیں گے اور اپنے پاس سے اور اجرعظیم دیں گے۔ (ف 6) (40)

ف 6۔ اوپر جن امور کی ترغیب تھی آگے ان کے نہ کرنے پر ترہیب ہے۔