4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsبیان القرآن

Ayahs 4:41–45

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ Open ayah 4:41 in the Quran reader

سو اس وقت بھی کیا حال ہوگا جبکہ ہم ہر ہر امت میں سے ایک ایک گواہ کو حاضر کرینگے اور آپ کو بھی ان لوگوں پر گواہی دینے کے لیے حاضر کرینگے۔ (ف 1) (41)

یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:42 in the Quran reader

اس روز جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا اور رسول کا کہنا نہ مانا ہوگا وہ اس بات کی آرزو کریں گے کہ کاش ہم زمین کے پیوند ہوجائے اور اللہ تعالیٰ سے کسی بات کا اخفا نہ کرسکیں گے۔ (42)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:43 in the Quran reader

اے ایمان والو تم نماز کے پاس بھی ایسی حالت میں مت جاؤ (ف 2) کہ تم نشہ میں ہو یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو کہ منہ سے کیا کہتے ہو (ف 3) اور حالت جنابت میں بھی باستثناء تمہارے مسافر ہونے کی حالت کے یہاں تک کہ غسل کرلو (ف 4) اور اگر تم بیمار ہو (ف 5) یا حالت سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص استنجے سے آیا ہو یا تم نے بی بیوں سے قربت کی ہو پھر تم کو پانی نہ ملے تو تم پاک زمین سے تیمم کرلیا کرو یعنی (اس زمین پر دوبارہ ہاتھ مار کر) اپنے چہروں اور ہاتھوں پر (ہاتھ) پھیرلیا کرو (ف 6) بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے معاف کرنے والے بڑے بخشنے والے ہیں۔ (43)

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 4:44 in the Quran reader

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب کا ایک (بڑا) حصہ ملا ہے وہ لوگ گمراہی کو اختیار کر رہے ہیں اور یوں چاہتے ہیں کہ تم راہ سے بےراہ ہوجاؤ۔ (44)

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کافی رفیق ہے اور اللہ تعالیٰ کافی حامی ہے۔ (45)

ف 1۔ یعنی جن لوگوں نے خدائی احکام دنیا میں نہ مانے ہوں گے ان کے مقدمہ کی پیشی کے وقت بطور سرکاری گواہ کے انبیاء علہیم السلام کے اظہارات سنے جائیں گے جو جو معاملات انبیاء انبیاء کی موجودگی میں پیش آئے تھے سب ظاہر کردیں گے اس شہادت کے بعد ان مخالفین پر جرم ثابت ہو کر سزادی جائے گی۔
Ayahs 4:46–47

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

یہ لوگ جو یہودیوں میں سے ہیں کلام کو اس کے مواقع سے دوسری طرف پھیر دیتے ہیں اور یہ کلمات کہتے ہیں سمعْناو عصیْنا اور اسْمعْ غیْرمسْمعٍ اور راعنا اس طور پر کہ اپنی زبانوں کو پھیر کر اور دین میں طعنہ زنی کی نیت سے (ف 7) اور اگر یہ لوگ یہ کلمات کہتے سمعْناو اطعْنا (ف 8) اور اسْمعْ اور انْظرْنا (ف 9) تو یہ بات ان کے لیے بہتر ہوتی اور موقع کی بات تھی مگر ان کو خدا تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اب وہ ایمان نہ لاویں گے ہاں مگر تھوڑے سے آدمی۔ (ف 10) (46)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اے وہ لوگو جو کتاب دیئے گئے ہو تم اس کتاب پر ایمان لاؤ جس کو ہم نے نازل فرمایا ہے ایسی حالت پر کہ وہ سچ بتلاتی ہیں اس کتاب کو جو تمہارے پاس ہے اس سے پہلے پہلے کہ ہم چہروں کو بالکل مٹاڈالیں اور ان کو ان کی الٹی جانب کی طرح بنادیں یا ان پر ہم ایسی لعنت کریں جیسی لعنت ان ہفتہ والوں پر کی تھی اور اللہ تعالیٰ کا حکم پورا ہو کر ہی رہتا ہے۔ (47)

ف 7۔ نبی کے ساتھ طعن وستہزاء عین دین کے ساتھ طعن و استہزاء ہے۔ 8۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا۔ 9۔ اسمع کے معنی یہ ہیں کہ آپ سن لیجیے اور انظرنا کے معنی یہ ہیں کہ ہماری مصلحت پر نظر فرمائیے۔ 10۔ یہ لایومنون ان ہی کی نسبت فرمایا جو علم الہی میں کفر پر مرنے والے تھے پس نومسلموں کے ایمان لانے سے کوئی شبہ نہیں ہوسکتا اور جو ایمان لے آتا ہے اگر وہ کسی وقت میں بےادبی و نافرمانی بھی کرچکا ہو لیکن جب اس سے باز آگیا تو وہ کالعدم ہوگیا۔
Ayahs 4:48–50

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے اور اس کے سوائے اور جتنے گناہ ہیں جس کے لیے منظور ہوگا وہ گناہ بخش دیں گے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے وہ بڑے جرم کا مرتکب ہؤ ا۔ (ف 1) (48)

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے کو مقدس بتلاتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں مقدس بنادیں اور ان پر تاگے برابر بھی ظلم نہ ہوگا۔ (49)

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

دیکھ تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر کیسی جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور یہی بات صریح مجرم ہونے کے لیے کافی ہے۔ (50)

ف 1۔ قرآن و حدیث واجماع سے یہ مسئلہ ضروریات شرع سے ہے کہ شرک اور کفردونوں غیر مغفور ہیں۔
Ayahs 4:51–53

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا Open ayah 4:51 in the Quran reader

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب کا ایک حصہ ملا ہے (پھر باوجود اس کے) وہ بت اور شیطان کو مانتے ہیں (ف 2) اور وہ لوگ کفار کی نسبت کہتے ہیں کہ یہ لوگ بہ نسبت مسلمانوں کے زیادہ راہ راست پر ہیں۔ (51)

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:52 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ملعون بنادیا ہے اور خدا تعالیٰ جس کو ملعون بنادے اس کا کوئی حامی نہ پاؤ گے۔ (52)

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ Open ayah 4:53 in the Quran reader

ہاں کیا ان کے پاس کوئی حصہ ہے سلطنت کا سو ایسی حالت میں تو اور لوگوں کو ذرا سی چیز بھی نہ دیتے۔ (53)

ف 2۔ کیونکہ مشرکین کا دین بت پرستی اور شیطان کی پیروی تھا جب ایسے دین کو اچھا بتلایاتو بت اور شیطان کی تصدیق صاف لازم آئی۔
Ayah 4:54

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا Open ayah 4:54 in the Quran reader

یا دوسرے آدمیوں سے ان چیزوں پر جلتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمائی ہیں سو ہم نے (حضرت) ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان کو کتاب بھی دی ہے اور علم بھی دیا ہے اور ہم نے ان کو بڑی بھاری سلطنت بھی دی ہے۔ (ف 3) (54)

ف 3۔ چناچہ بنی اسرائیل میں بہت سے انبیاء گزرے بعض انبیاء سلاطین بھی ہوئے جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) و حضرت داود (علیہ السلام) و حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا کثیر الازواج ہونامعلوم و مشہور ہے اور یہ سب اولاد ابراہیم میں ہیں سو جبکہ رسول اللہ ﷺ بھی اولاد ابراہیم سے ہیں تو آپ کو اگر یہ نعمتیں و عطیات مل گئیں تو تعجب کی کیا بات ہے۔
Ayah 4:55

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا Open ayah 4:55 in the Quran reader

سو ان میں سے بعضے تو اس پر ایمان لائے اور بعضے تو ایسے تھے کہ اس سے روگرداں ہی رہے اور دوزخ آتش سوزاں ہی کافی ہے۔ (ف 4) (55)

ف 4۔ پس اگر آپ کی رسالت و قرآن پر بھی آپ کے زمانہ کے بعض لوگ ایمان نہ لاویں تورنج کی بات نہیں۔
Ayah 4:56

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

بلاشک جو لوگ ہماری آیات کے منکر ہوئے ہم ان کو عنقریب ایک سخت آگ میں داخل کردیں گے جب ایک دفعہ ان کی کھال جل چکے گی تو ہم (اس پہلی کھال کی جگہ فورا) دوسری کھال پیدا کردیں گے تاکہ عذاب ہی بھگتتے رہیں (ف 1) بلاشک اللہ تعالیٰ زبردست ہیں حکمت والے ہیں۔ (56)

ف 1۔ کیونکہ پہلی کھال میں جلنے کے بعد شبہ ہوسکتا تھا کہ شاید اس میں ادراک نہ رہے اس لیے شبہ قطع کرنے کے لیے یہ سنا دیا۔
Ayah 4:57

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے ہم ان کو عنقریب ایسے باغ میں داخل کریں گے کہ ان کے نیچے نہریں جاری ہونگی اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان کے واسطے ان میں پاک صاف بی بیاں ہونگی اور ہم ان کو نہایت گنجان سایہ میں داخل کردینگے۔ (ف 2) (57)

ف 2۔ یعنی دنیا کا سایہ نہ ہوگا کہ خود سایہ کے اندر بھی دھوپ چھنتی ہے وہ بالکل متصل ہوگا۔
Ayahs 4:58–62

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

بیشک تم کو اللہ تعالیٰ اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ اہل حقوق کو ان کے حقوق پہنچادیا کرو (ف 3) اور یہ کہ جب لوگوں کا تصفیہ کیا کرو تو عدل سے تصفیہ کیا کرو بیشک اللہ تعالیٰ جس بات کی تم کو نصیحت کرتے ہیں وہ بات بہت اچھی ہے (ف 4) بلاشک اللہ تعالیٰ خوب سنتے ہیں خوب دیکھتے ہیں۔ (58)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

اے ایمان والو تم اللہ کا کہنا مانو اور رسول کا کہنا مانو اور تم میں جو لوگ اہل حکومت ہیں ان کا بھی پھر اگر کسی امر میں تم باہم اختلاف کرنے لگو تو تم اس امر کو اللہ تعالیٰ اور رسول کے حوالہ کردیا کرو اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور یوم قیامت پر ایمان رکھتے ہو یہ امور سب بہتر ہیں اور ان کا انجام خوشتر ہے۔ (59)

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:60 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی اور اس کتاب پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کی گئی اپنے مقدمے شیطان کے پاس لے جانا چاہتے ہیں حالانکہ ان کو یہ حکم ہوا ہے کہ اس کو نہ مانیں اور شیطان ان کو بہکا کر بہت دور لیجانا چاہتا ہے۔ (60)

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ Open ayah 4:61 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس (حکم) کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے اور رسول کی طرف تو آپ منافقعن کی یہ حالت دیکھیں گے کہ آپ سے پہلوتہی کرتے ہیں۔ (61)

فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا Open ayah 4:62 in the Quran reader

پھر کیسی (جان کو بنتی) ہے جب ان پر کوئی مصیبت پڑتی ہے ان کی ( اس حرکت کی) بدولت جو کچھ وہ پہلے کرچکے تھے پھر آپ کے پاس آتے ہیں خدا کی قسمیں کھاتے ہوئے کہ ہمارا اور کچھ مقصود نہ تھا سوائے اس کے کہ کوئی بھلائی نکل آوے اور باہم موافقت ہوجاوے۔ (62)

ف 3۔ یہ اہل حکومت کو خطاب ہے۔ 4۔ وہ بات بہت اچھی ہے دنیا کے اعتبار سے بھی کہ اس میں بقاء حکومت ہے اور آخرت کے اعتبار سے بھی کہ موجب قرب وثواب ہے۔
Ayah 4:63

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا Open ayah 4:63 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے تو آپ ان سے تغافل کرجایا کیجئیے اور ان کو نصیحت فرماتے رہئیے اور ان سے خاص ان کی ذات کے متعلق کافی مضمون کہہ دیجئیے۔ (ف 1) (63)

ف 1۔ ان آیتوں میں ایک قصہ کی طرف اشارہ ہے کہ ایک شخص تھا منافق بشر اس کا نام تھا اس کا کسی یہودی سے جھگڑا ہوا یہودی نے کہا چل محمد ﷺ کے پاس ان سے فیصلہ کرالیں منافق نے کہا کعب بن اشرف کے پاس چل یہود کا ایک سردار تھا ظاہر یہ معلوم ہوتا تھا کہ اس معاملہ میں حق یہودی ہوگا اس نے جانا کہ رسول اللہ ﷺ کسی کی رعایت نہ فرمائیں گے وہاں حق فیصلہ ہوگا گو میں آپ سے مذہبی مخالفت رکھتا ہوں منافق چونکہ باطل پر تھا اس نے سمجھا کہ رسول اللہ کے یہاں تو میری بات نہ چلے گی گو میں ظاہر مسلمان ہوں مگر کعب بن اشرف خود کوئی حق پرست نہیں وہاں میرا مقدمہ سرسبز ہوجائے گا پھر آخر وہ دونوں رسول اللہ ہی کے پاس مقدمہ لے کر گئے آپ نے یہودی کو غالب کیا وہ منافق راضی نہ ہوا اس یہودی سے کہا کہ چلو حضرت عمر کے پاس۔ غالبا وہ یہ سمجھا ہوگا کہ حضرت عمر کفار پر خوب سخت ہیں اس یہودی پر سختی فرمادیں گے یہود کو اطمینان تھا کہ گوسخت ہیں مگر وہ سختی حق پرستی ہی کی وجہ سے ہے۔ تو جب میں حق پر ہوں تو مجھ ہی کو غالب رکھیں گے اس لیے اس نے انکار نہیں کیا جب وہاں پہنچے تو یہودی نے ساراقصہ بیان کردیا کہ یہ مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے اجلاس سے فیصل ہوچکا ہے مگر یہ شخص یعنی منافق اس پر راضی نہی ہے آپ نے اس منافق سے پوچھا کیا یہی بات ہے اس نے کہا ہاں حضرت نے کہا اچھاٹھہرو آتا ہوں اور گھر سے ایک تلوار لے کر آئے اور منافق کا کام تمام کیا اور کہا جو شخص رسول اللہ کے فیصلے پر راضی نہ ہو اس کا فیصلہ یہی ہے اور عامہ مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ پھر اس منافق مقتول کے ورثاء نے حضرت عمر پر دعوی کیا اور اس منافق کے کفر قولی وفعلی کی تاویل کی اللہ نے ان آیات میں اصل حقیقت ظاہر فرمادی۔
Ayah 4:64

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:64 in the Quran reader

اور ہم نے تمام پیغمبروں کو خاص اسی واسطے معبوث فرمایا ہے کہ بحکم خداوندی ان کی اطاعت کیجاوے اور اگر جس وقت اپنانقصان کر بیٹھتے تھے اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے پھر اللہ تعالیٰ سے معافی چاہتے اور رسول بھی ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی چاہتے اور ضرور اللہ تعالیٰ کو تو بہ قبول کرنے والا اور رحمت کرنے والا پاتے۔ (ف 2) (64)

ف 2۔ خلاصہ یہ ہوا کہ نفاق چھوڑ کر ایمان لے آئیں چونکہ استغفار موقوف تھا ایمان پر اس لیے ذکر اس کو مستلزم ہوگیا اس کی تصریح کی حاجت نہیں پس ایک شرط تو اس قبول توبہ کی یہ ہے اور دو شرطیں اور بھی آیت میں مذکور ہیں ایک تو حاضری خدمت نبوی دوسرے آپ کا بھی استغفار کرنا۔
Ayah 4:65

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 4:65 in the Quran reader

پھر قسم ہے آپ کے رب کی یہ لوگ ایمان دار نہ ہونگے جبتک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جو جھگڑا واقع ہو اس میں یہ لوگ آپ سے تصفیہ کروایں (ف 3) پھر اس آپ کے تصفیہ سے اپنے دلوں میں تنگی نہ پاویں اور پورا پورا تسلیم کرلیں۔ (ف 4) (65)

ف 3۔ اور آپ نہ ہوں تو آپ کی شریعت سے۔ 4۔ تحکیم اور عدم حرج اور تسلیم کے مراتب تین ہیں اراعتقاد سے اور زبان سے اور عمل سے۔ اعتقاد سے یہ کہ قانون شریعت کو حق اور موضوع التحکیم جانتا ہے اور اس میں مرتبہ عقل میں ضیق نہیں اور اسی مرتبہ میں اس کو تسلیم کرتا ہوں اور زبان سے یہ کہ ان امور کا اقرار کرتا ہوں کہ حق اسی طرح ہے اور عمل سے یہ کہ مقدمہ لے بھی جاتا ہے اور طبعی ضیق بھی نہیں اور اس فیصلہ کے موافق کاروائی بھی کرلی سواول مرتبہ تصدیق و ایمان کا ہے اس کانہ ہونا عنداللہ کفر ہے اور منافقین میں خود اسی کی کمی تھی چناچہ تنگی کے ساتھ لفظ انکار اسی کی توضیح کے لیے ظاہر کردیا ہے اور دوسرا مرتبہ اقرار کا ہے اس کا نہ ہونا عندالناس کفر ہے تیسرامرتبہ تقوی وصلاح کا ہے اس کانہ ہونافسق ہے اور طبعی تنگی معاف ہے۔ پس آیت میں بقرینہ ذکر منافقین مرتبہ اول مراد ہے۔
Ayahs 4:66–67

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ Open ayah 4:66 in the Quran reader

اور ہم اگر لوگوں پر یہ بات فرض کردیتے کہ تم خودکشی کیا کرو یا اپنے وطن سے بےوطن ہوجایا کرو تو بجز معدودے چند لوگوں کے اس حکم کو کوئی بھی نہ بجالاتا (ف 5) اور اگر یہ لوگ جو کچھ ان کو نصیحت کی جاتی ہے اس پر عمل کیا کرتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا اور ایمان کو زیادہ پختہ کرنے والا ہوتا۔ (66)

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:67 in the Quran reader

اور اس حالت میں ہم ان کو خاص اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتے۔ (67)

ف 5۔ اس معدودے چند میں تمام صحابہ مومنین کاملین داخل ہیں۔
Ayahs 4:68–69

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا Open ayah 4:68 in the Quran reader

اور ہم ان کو سیدھا رستہ بتلادیتے۔ (ف 6) (68)

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ Open ayah 4:69 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ اور رسول کا کہنامان لے گا تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہونگے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صلحاء اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں۔ (69)

ف 6۔ اوپر اللہ و رسول کی اطاعت پر خاص مخاطبین سے وعدہ تھا آگے بطور قاعدہ کلیہ کے اللہ و رسول کی اطاعت پر عام وعدہ ہے۔
Ayah 4:70

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠ Open ayah 4:70 in the Quran reader

یہ فضل ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اور اللہ تعالیٰ کافی جاننے والے ہیں۔ (ف 7) (70)

ف 7۔ اب احکام جہاد کا ذکر شروع ہوتا ہے یہاں سے چھ رکوع تک اسی مضمون کے متعلقات چلے گئے ہیں۔
Ayahs 4:71–72

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا Open ayah 4:71 in the Quran reader

اے ایمان والو اپنی تو احتیاط (ف 8) رکھو پھر متفرق طور پر یا مجمتع طور پر نکلو۔ (71)

وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا Open ayah 4:72 in the Quran reader

اور تمہارے مجمع میں بعضا بعضا شخص ایسا ہے جو ہٹتا ہے پھر اگر تم کوئی حادثہ پہنچ گیا تو کہتا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں لوگوں کے ساتھ (لڑائی میں) حاضر نہیں ہؤ ا۔ (72)

ف 8۔ یعنی ان کے داو گھات سے بھی ہوشیار رہو اور مقاتلہ کے وقت سامان ہتھیار ڈھال تلوار سے بھی درست ہو۔
Ayah 4:73

وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 4:73 in the Quran reader

اور اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوجاتا ہے اور ایسے طور پر کہ گویا تم میں اور اس میں کچھ تعلق ہی نہیں کہتا ہے کہ ہائے کیا خوب ہوتا ہے کہ میں بھی ان لوگوں کا شریک حال ہوتا (ف 1) تو مجھ کو بھی بڑی کامیابی ہوتی۔ (73)

ف 1۔ یعنی جہاد میں جانا۔
Ayah 4:74

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:74 in the Quran reader

تو ہاں اس شخص کو چاہئیے کہ اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے بڑے جو آخرت کے بدلے دنیوی زندگی کو اختیار کیے ہوئے ہیں (ف 2) اور جو شخص اللہ کی راہ میں لڑے گا پھر خواہ جان سے مارا جائے یا غالب آجاوے تو ہم اس کو اجر عظیم دینگے۔ (74)

ف 2۔ یعنی اس شخص کو اگر فوزعظیم کا شوق ہے تو اول درست کرے ہاتھ پاوں ہلاوے مشقت جھیلے تیغ وسنان کے سامنے سینہ سپر بنے دیکھو فوز عظیم ہاتھ آتا ہے کہ نہیں۔
Ayah 4:75

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:75 in the Quran reader

اور تمہارے پاس کیا عذر ہے کہ تم جہاد نہ کرو اللہ کی راہ میں اور کمزوروں کی خاطر سے جن میں کچھ مرد ہیں اور کچھ عورتیں ہیں اور کچھ بچے ہیں جو دعا کررہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو اس بستی سے باہر نکال جس کے رہنے والے سخت ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے (غیب سے) کسی دوست کو کھڑا کیجئیے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے (غیب سے) کسی حامی کو بھیجئے۔ (ف 3) (75)

ف 3۔ مکہ میں ایسے کمزور مسلمان رہ گئے تھے کہ اپنے ضعف وکم سامانی کی وجہ سے ہجرت نہ کرسکے پھر کافروں نے بھی نہ جانے دیا اور طرح طرح سے ان کو ستاتے تھے چناچہ احادیث وتفاسیر میں بعضون کے نام بھی آئے ہیں آخر اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور بعضوں کی رہائی کا تو پہلے ہی سامان ہوگیا اور پھر مکہ معظمہ فتح ہوگیا جس سے سب کو امن اور اعزاز حاصل ہوگیا اور حضور ﷺ نے ان پر حضرت عتاب بن اسید کو عامل وحاکم مقرر فرمایا پس ولی ونصیر کا مصداق خواہ رسول اللہ کو کہا جائے اور یہی اچھا معلوم ہوتا ہے اور یا حضرت عتاب کو کہا جائے کہ انہوں نے اپنے زمانہ حکومت میں سب کو خوب آرام پہنچایا۔
Ayah 4:76

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ Open ayah 4:76 in the Quran reader

جو لوگ پکے ایمان دار ہیں وہ تو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور جو لوگ کافر ہیں شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں تو تم شیطان کے ساتھیوں سے جہاد کرو واقع میں شیطانی تدبیر لچر ہوتی سے۔ (ف 4) (76)

ف 4۔ اوپر جہاد کا وجوب اور اس کے فضائل بیان کرکے اس کی ترغیب تھی آگے دوسرے طور پر اس کی ترغیب ہے یعنی جہاد میں بعض مسلمانوں کے مستعد نہ ہونے پر ان کی ایک لطف آمیز شکایت بھی ہے جس کی بنایہ ہوئی کہ مکہ میں کفار بہت ستاتے تھے اس وقت بعض اصحاب نے جہاد کی اجازت اصرار چاہی مگر اس وقت حکم تھا عفو وصلح کا بعد ہجرت کے جب جہاد کا حکم نازل ہوا تو طبعا بعض کو دشوار ہوا اس پر شکایت فرمائی گئی اور چونکہ بطور انکار یا اعتراض علی الحکم کے نہ تھا بلکہ محض تمنا تھی اور چندے اس حکم کے نہ آنے کی اس لیے توبیخ نہیں محض لطف آمیز شکایت ہے۔
Ayah 4:77

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا کہ ان کو یہ کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو تھامے رہو اور نمازوں کی پابندی رکھو اور زکوة دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد کرنا فرض کردیا گیا تو قصہ کیا ہوا کہ ان میں سے بعض بعض آدمی لوگوں سے ایسا ڈرنے لگے جیسا کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ ڈرنا اور یوں کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار آپ نے ہم پر جہاد کیوں فرض فرمادیا ہم کو اور تھوڑی مدت مہلت دیدی ہوتی (ف 5) آپ فرمادیجئیے کے دنیا کا تمتع محض چند روز ہے اور آخرت ہر طرح سے بہتر ہے اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی مخالفت سے بچے اور تم پر تاگے برابر بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔ (77)

ف 5۔ ان صاحبوں کا یہ تمنائی قول اگر زبان سے تھا تب تو اس کی توجیہ معصیت نہ ہونے کی معلوم ہوگئی اور اگر دل میں بطور حدیث النفس اور وسوسے کے تھا تو وسوسہ کا معصیت نہ ہونا قرآن و حدیث میں وارد ہے کوئی تردد ہی نہ رہا۔
Ayah 4:78

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

تم چاہے کہیں بھی ہو وہاں ہی تم کو موت آدباوے گی اگرچہ تم قلعی چونہ کے قلعوں ہی میں رہو اور اگر ان کو کوئی اچھی حالت پیش آتی ہے (ف 1) تو کہتے ہیں کہ یہ منجانب اللہ (اتفاقا) ہوگی (ف 2) اور اگر ان کو کوئی بری حالت پیش آتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ آپ کے سبب سے ہے آپ فرمادیجئیے کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے تو ان لوگوں کو کیا ہوا کہ بات سمجھنے کے پاس کو بھی نہیں نکلتے۔ (78)

ف 1۔ اور ترغیب جہاد میں یہ مذکور ہوا ہے کہ وقت پر موت نہیں ٹلتی خواہ جہاد میں جاو یا نہ جاو چونکہ بعض منافقین جہاد میں جانے کو موت میں موثرا اور نہ جانے کو حیات میں موثر سمجھتے تھے اور کہتے تھے پس جب کبھی جہاد میں قتل وموت واقع ہوتا تو رسول اللہ پر الزام لگاتے کہ آپ ہی کے کہنے سے جہاد میں گئے اور شکار موت ہوئے دیکھو جہاد کا موثر فی الموت ہوناثابت ہوگیا اور اگر کبھی باوجود اسباب ظاہری کی کمی کے کفار پر فتح ہوتی اور اس سے استدلال کرتے کہ دیکھو جہاد اگر موثر فی الموت ہے تو اب وہ اثر کہا گیا تو کہتے کہ یہ محض اتفاقی بات من جانب اللہ ہے غرض کام بگڑتا تو حضرت ﷺ پر الزام اور سنورتا تواتفاقی بات آگے اسی طرف اشارہ ہے۔ 2۔ جیسے فتح وظفر۔
Ayah 4:79

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

(اے انسان) تجھ کو جو کوئی خوشحالی پیش آتی ہے وہ محض اللہ کی جانب سے ہے اور جو کوئی بدحالی پیش آوے وہ تیرے ہی سبب سے ہے اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ گواہ کافی ہیں۔ (ف 3) (79)

ف 3۔ تمام لوگوں میں جن اور انسان دونوں آگئے پس اس میں بیان ہے حضور ﷺ کی بعثت عامہ کا جو قرآن و حدیث میں اور جگہ بی مذکور ومنصوص اور عقیدہ قطعی ہے۔
Ayah 4:80

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جس شخص نے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا تعالیٰ کی اطاعت کی (ف 4) اور جو شخص روگردانی کرے سو ہم نے آپ کو ان کا نگراں کرکے نہیں بھیجا۔ (80)

ف 4۔ اور جس نے آپ کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔