4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsبیان القرآن

Ayah 4:81

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں (کہ ہمارا کام) اطاعت کرنا ہے پھر جب آپ کے پاس سے باہر جاتے ہیں تو شب کے وقت مشورہ کرتی ہے ان میں کی ایک جماعت بر خلاف اس کے جو کچھ کہ زبان سے کہہ چکے تھے اور اللہ تعالیٰ لکھتے جاتے ہیں جو کچھ وہ راتوں کو مشورے کیا کرتے ہیں سو آپ ان کی طرف التفات نہ کیجئیے اور اللہ تعالیٰ کے حوالے کیجئیے اور اللہ تعالیٰ کافی کارساز ہیں۔ (ف 5) (81)

ف 5۔ چناچہ کبھی ان کی شرارت سے کوئی ضرر نہیں پہنچا۔
Ayahs 4:82–83

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

تو کیا پھر قرآن میں غور نہیں کرتے (ف 6) اور اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بکثرت تفاوت پاتے۔ (7) (82)

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں کو کسی امر کی خبر پہنچتی ہے خواہ امن ہو یا خوف تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر یہ لوگ اس کو رسول کے اور جو ان میں سے ایسے امور کو سمجھتے ہیں ان کے حوالے پر رکھتے تو اس کو وہ حضرات تو پہچان ہی لیتے جو ان میں اس کی تحقیق کرلیا کرتے اور اگر تم لوگوں پر خدا کا فضل اور رحمت نہ ہوتی تو تم سب کے سب شیطان کے پیرو ہوجاتے بجز تھوڑے سے آدمیوں کے۔ (83)

ف 6۔ تاکہ اس کا کلام الہی ہوناواضح ہوجائے۔ 7۔ پس لامحالہ یہ غیرا للہ کا کلام نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ کلام اللہ کے وجوہ اعجاز میں سے اس کی فصاحت و بلاغت کا بےمثل ہونا اور اس کے اخبارات کا جن پر مطلع ہونے کا رسول اللہ کے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا بالکل صحیح و مطابق واقع کے ہونا ہے پس معلوم ہوا کہ یہ کلام خالق تعالیٰ کا ہے۔
Ayah 4:84

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

پس آپ اللہ کی راہ میں قتال کیجئیے آپ کو بجز آپ کے ذاتی فعل کے کوئی حکم نہیں اور مسلمانوں کو ترغیب دیدیجئیے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ کافروں کے زور جنگ کو روک دیں گے اور اللہ تعالیٰ زور جنگ میں زیادہ شدید ہیں اور سخت سزا دیتے ہیں۔ (ف 1) (84)

ف 1۔ اس پیشن گوئی کا وقوع ظاہر ہے اگر خاص کفار قریش مراد ہوں جب بھی اور اگر ساری دنیا کے کفار مراد ہوں جب بھی کیونکہ چند ہی روز میں تمام سلطنتیں مسلمانوں نے فتح کرلیں۔
Ayah 4:85

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو شخص اچھی سفارش کرے (ف 2) اس کو اس کی وجہ سے حصہ ملے گا اور جو شخص بری شفارش کرے (ف 3) اس کو اس کی وجہ سے حصہ ملے گا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والے ہیں۔ (85)

ف 2۔ یعنی جس کا طریق و مقصود دونوں مشروع ہوں۔ 3۔ یعنی جس کا طریق یاغرض غیر مشروع ہوں۔
Ayahs 4:86–87

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب تم کو کوئی (مشروع طور پر) سلام کرے تو تم اس (سلام) سے اچھے الفاظ میں سلام کرو یا ویسے ہی الفاظ کہہ دو بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر حساب لیں گے۔ (ف 4) (86)

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

اللہ ایسے ہیں کہ ان کے سوا کوئی معبود ہونے کے قابل نہیں وہ ضرور تم سب کو جمع کریں گے قیامت کے دن میں اس میں کوئی شبہ نہیں اور خدا تعالیٰ سے زیادہ کس کی بات سچ ہوگی۔ (87)

ف 4۔ امر کے صیغہ ہے اور حسیب سے اس کا حکم ظاہر وجوب معلوم ہوتا ہے اور یہی مذہب ہے فقہاء کا۔ یہ وجوب جواب سلام کا علی الکفایہ ہے اگر جماعت میں سے ایک نے بھی جواب دے دیا تو سب کے ذمہ سے اترجائے گا نفس جواب واجب ہے باقی ویسے ہی الفاظ یا ان سے احسن یا لغوی صورتوں میں ان سے کم یہ سب اختیار میں ہے۔
Ayah 4:88

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

پھر تم کو کیا ہوا کہ ان منافقوں کے باب میں تم دو گروہ ہوگئے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو الٹا پھیر دیا انکے (بد) عمل کے سبب (ف 5) کیا تم لوگ اس کا ارادہ رکھتے ہو کہ ایسے لوگوں کو ہدایت کرو جن کو اللہ تعالیٰ نے گمراہی میں ڈال رکھا ہے (ف 6) اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ گمراہی میں ڈال دیں اس کے لیے کوئی سبیل نہ پاؤگے۔ (ف 7) (88)

ف 5۔ وہ بدعمل ارتداد دائر الاسلام کو باوجود قدرت کے چھوڑ دینا ہے جو کہ مثل ترک اقرار بالاسلام کے علامت کفر کی تھی اور واقع میں وہ پہلے بھی مسلمان نہ ہوئے تھے اور اسی وجہ سے ان کو منافق کہا۔ 6۔ مطلب یہ کہ تم گمراہ کو مومن کہتے ہو حالانکہ وہ مومن ہے جس میں ایمان ہو اور ان میں وقت تک ایمان ہے نہیں تو کیا اب ایمان پیدا کرو گے جو ان کو مومن کہہ سکو، اور یہ محال ہے۔ پس ان کا مومن و مہتدی ہونا معلق لاملا ہے، اس لئے ان کو مومن کہنا مثل حکم بالمحال کے ہے۔ 7۔ پس ان لوگوں کو مومن نہ کہنا چاہئے۔
Ayah 4:89

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

وہ اس تمنا میں ہیں کہ جیسے وہ کافر ہیں تم بھی کافر بنجاؤ جس میں تم ( اور وہ) ایک طرح کے ہوجاؤ سو ان میں سے کسی کو دوست مت بنانا جب تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں (ف 8) اور اگر وہ اعراض کریں تو ان کو پکڑو اور قتل کرو جس جگہ ان کو پاؤ اور نہ ان میں کسی کو دوست بناؤ اور نہ مددگار بناؤ۔ (ف 9) (89)

ف 8۔ اس وقت ہجرت کا وہ حکم تھا جواب اقرار بالشہادتین کا ہے۔ 9۔ مطلب یہ کہ کسی حالت میں ان سے کوئی تعلق نہ رکھو نہ امن میں دوستی نہ خوف میں استعانت بلکہ بالکل الگ تھلگ رہو۔
Ayahs 4:90–91

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

مگر جو لوگ (ایسے ہیں جو کہ) ایسے لوگوں سے جاملتے ہیں (ف 10) کہ تمہارے اور ان کے درمیان عہد ہے یا خود تمہارے پاس اس حالت سے آویں کہ ان کا دل تمہارے ساتھ اور نیز اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے متقبض ہو (ف 11) اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردیتا پھر وہ تم سے لڑنے لگتے پھر اگر وہ تم سے کنارہ کش رہیں یعنی تم سے نہ لڑیں اور تم سے سلامت روی رکھیں (ف 12) تو اللہ تعالیٰ نے تم کو ان پر کوئی راہ نہیں دی۔ (13) (90)

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

بعضے ایسے بھی تم کو ضرور ملیں گے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی بےخطر ہو کر رہیں اور اپنی قوم سے بھی بیخطر ہو کر رہیں جب کبھی ان کو شرارت کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے تو وہ اس میں جاگرتے ہیں سو یہ لوگ اگر تم سے کنارہ کش نہ ہوں اور نہ تم سے سلامت روی رکھیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو تم ان کو پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں ان کو پاؤ اور ہم نے تم کو ان پر صاف حجت دی ہے۔ (91)

ف 10۔ یعنی ہم عہد ہوجاتے ہیں۔ 11۔ نہ تو اپنی قوم کے ساتھ ہوکرتم سے لڑیں اور نہ تمہارے ساتھ ہو کہ اپنی قوم سے لڑیں بلکہ ان سے بھی صلح رکھیں اور تم سے بھی۔ 12۔ ان سب الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ صلح سے رہیں۔ 13۔ یعنی اجازت نہیں دی۔
Ayah 4:92

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

اور کسی مومن کی شان نہیں کہ وہ کسی مومن کو (ابتداء) قتل کرے لیکن غلطی سے اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کردے تو اس پر ایک مسلمان غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا ہے اور خون بہا ہے جو اس کے خاندان والوں کو حوالہ کردیا جائے مگر یہ کہ وہ لوگ معاف کردیں (ف 1) اور اگر وہ ایسی قوم سے ہو تمہارے مخالف ہیں اور وہ شخص خود مومن ہے تو ایک غلام یا لونڈی مسلمان کا آزاد کرنا اور اگر وہ ایسی قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں معاہدہ ہو تو خونبہا ہے جو اس کے خاندان والوں کو حوالہ کردیجائے اور ایک غلام یا لونڈی مسلمان کا آزاد کرنا پھر جس شخص کو نہ ملے تو متواتر دو ماہ کے روزے ہیں بطریق توبہ کے جو اللہ کی طرف سے (مقرر ہوئی) ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں۔ (92)

ف 1۔ اس آیت میں خطاء سے مراد غیر عمد ہے۔
Ayah 4:93

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو شخص کسی مسلمان کو قصدا قتل کرڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ کو اس میں رہنا ہے (ف 2) اور اس پر اللہ تعالیٰ غضبناک ہونگے اس کو اپنی رحمت سے دور کردینگے اور اس کے لیے بڑی سزا کا سامان کریں گے۔ (ف 3) (93)

ف 2۔ لیکن اللہ کا فضل ہے کہ یہ اصلی سزا جاری نہ ہوگی بلکہ ایمان کی برکت سے آخر کو نجات ہوجائے گی تمام اہل حق متفق ہیں کہ بجز کفر و شرک کے کوئی امروجب خلود فی النار نہیں۔ 3۔ اور قتل مومن پر سخت وعید فرمائی ہے آگے یہ فرماتے ہیں کہ احکام شرعیہ کے جاری ہونے میں مومن کے مومن ہونے کے لیے صرف ظاہری اسلام کافی ہے جو شخص اسلام کا اظہار کرے اس کے قتل سے دستکش ہوجانا واجب ہے قرائن سے باطن کی تفتیش کرنا اور احکام اسلامیہ کے جاری کرنے میں اس کے ثبوت کا منتظر رہنا جائز نہیں۔
Ayah 4:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

اے ایمان والو جب تم اللہ کی راہ میں سفر کیا کرو تو ہر کام کو تحقیق کرکے کیا کرو اور ایسے شخص کو جو کہ تمہارے سامنے اطاعت ظاہر کرے (ف 4) دنیوی زندگی کے سامان کی خواہش میں یوں مت کہہ دیا کرو کہ تو مسلمان نہیں کیونکہ خدا کے پاس بہت غنیمت کے مال ہیں پہلے تم بھی ایسے ہی تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا سو غور کرو بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی پوری خبر رکھتے ہیں۔ (ف 5) (94)

ف 4۔ جیسے کلمہ پڑھنا یا مسلمانوں کے طرز پر سلام کرنا۔ 5۔ یہ حکم سفر کے ساتھ خاص نہیں۔
Ayah 4:95

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

برابر نہیں وہ مسلمان جو بلاکسی عذر کے گھر میں بیٹھے رہیں (ف 6) اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کریں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا درجہ بہت زیادہ بنایا ہے جو اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں بہ نسبت (گھر میں) بیٹھنے والوں کے اور سب سے اللہ تعالیٰ نے اچھے (گھر) کا وعدہ کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو بمقابلہ (گھر میں) بیٹھنے والوں کے بڑا اجر عظیم دیا ہے۔ (95)

ف 6۔ یعنی جو جہاد میں نہ جاویں۔
Ayahs 4:96–98

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

یعنی بہت سے درجے جو خدا کی طرف سے ملیں گے اور مغفرت اور رحمت (ف 1) اور اللہ تعالیٰ بڑے مغفرت والے بڑی رحمت والے ہیں۔ (ف 2) (96)

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

بیشک جب ایسے لوگوں کی جان فرشتے قبض کرتے ہیں جنہوں نے اپنے کو گنہگار کر رکھا تھا تو وہ ان سے کہتے ہیں کہ تم کس کام میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم سرزمین میں محض مغلوب تھے وہ کہتے ہیں کہ کیا خدا تعالیٰ کی سرزمین وسیع نہ تھی تم کو ترک وطن کرکے اس میں چلا جانا چاہئیے تھا سو ان لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور جانے کے لیے وہ بری جگہ ہے۔ (97)

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

لیکن جو مغلوبین مرد اور عورتیں اور بچے قادر نہ ہوں کہ نہ کوئی تدبیر کرسکتے ہیں اور نہ راستہ سے واقف ہیں۔ (98)

ف 1۔ یعنی بوجہ اعمال متعددہ کے جو مجاہد سے صادر ہوتے ہیں ثواب کے بہت سے درجے خدا تعالیٰ کی طرف سے ملیں گے اور گناہوں کی مغفرت اور رحمت بھی۔ یہ سب اجرعظیم کی تفصیل ہوئی وہ اعمال متعددہ سورة برات کے آخر میں مذکور ہیں۔ 2۔ اوپر وجوب جہاد کا ذکر تھا آگے وجوب ہجرت کا ذکر ہے۔
Ayah 4:99

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

سو ان کے لیے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف کردیں اور اللہ تعالیٰ بڑے معاف کرنے والے اور بڑے مغفرت کرنے والے ہیں۔ (ف 3) (99)

ف 3۔ اوپر ترک ہجرت پر وعید تھی آگے ہجرت کی ترغیب اور اس پر سعادت دارین کا وعدہ ہے۔
Ayah 4:100

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرے گا (ف 4) تو اس کو روئے زمین پر جانے کی بہت جگہ ملے گی اور بہت گنجائش اور جو شخص اپنے گھر سے (اس نیت سے) نکل کھڑا ہوا کہ اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کروں گا پھر اس کو موت آپکڑے تب بھی اس کا ثواب ثابت ہوگیا اللہ تعالیٰ کے ذمہ اور اللہ تعالیٰ بڑے مغفرت کرنے والے ہیں اور بڑے رحمت والے ہیں۔ (100)

ف 4۔ ہجرت ابتدائے اسلام میں فرض تھی اور فرضیت کے ساتھ وہ ظاہر شعار لازم و موقوف علیہ ثبوت اسلام کی بھی تھی لیکن حالت عذر میں اس کی فرضیت اور شعاریت ساقط ہوجاتی تھی اور اس شعار ہونے کی وجہ سے اس کو بلاعذر ترک کرنا علامت ارتداد کی تھی۔
Ayah 4:101

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

اور جب تم زمین میں سفر کرو (ف 5) سو تم کو اس میں کوئی گناہ نہ ہوگا (بلکہ ضروری ہے) کہ تم نماز کو کم کردو (ف 6) اگر تم کو یہ اندیشہ ہو کہ تم کو کافر لوگ پریشان کریں گے بلاشبہ کافر لوگ تمہارے صریح دشمن ہیں۔ (ف 1) (101)

ف 5۔ جس کی مقدار تین منزل ہو۔ 6۔ ظہر وعصر و عشاء کے فرض کی رکعات چار کی جگہ دو پڑھا کرو۔ 1۔ جو سفر تین منزل سے کم ہو اس میں نماز پوری پڑھی جاتی ہے۔
Ayah 4:102

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور جب آپ ان میں تشریف رکھتے ہوں پھر آپ ان کو نماز پڑھانا چاہیں تو یوں چاہیے کہ ان میں سے ایک گروہ تو آپ کے ساتھ کھڑے ہوجاویں اور وہ لوگ ہتھیار لے لیں پھر جب یہ لوگ سجدہ کرچکیں تو یہ لوگ تمہارے پیچھے ہوجاویں اور دوسرا گروہ جنہوں نے ابھی نماز نہیں پڑھی، آجاوے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھ لیں اور یہ لوگ بھی اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار لے لیں کافر لوگ یوں چاہتے ہیں کہ اگر تم اپنے ہتھیاروں اور سامانوں سے غافل ہوجاؤ تو تم پر ایکبارگی حملہ کر بیٹھیں اور اگر تم کو بارش کیوجہ سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو تو تم کو اس میں کچھ گناہ نہیں کہ ہتھیار اتار رکھو اور اپنا بچاؤ لے لو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کیلئے سزا اہانت آمیز مہیا کر رکھی ہے۔ (ف 2) (102)

ف 2۔ صلوة الخوف اجماعا بعد رسول اللہ ﷺ کے بھی مشروع ہے جیسے آدمی سے خوف کے وقت یہ نماز مشروع ہے ایسے ہی اگر کسی شیر یا اژدہا وغیرہ کا خوف ہو اور نماز کا وقت تنگ ہو تو اس وقت بھی جائز ہے۔ عین قتال کے وقت نماز کو قضا کردیا جائے گا۔
Ayahs 4:103–104

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

پھر جب تم اس نماز (خوف) کو ادا کرچکو تو اللہ تعالیٰ کی یاد میں لگ جاؤ کھڑے بھی اور بیٹھے بھی اور لیٹے بھی (ف 3) پھر جب تم مطمئن ہوجاؤ تو نماز کو قائدے کے موافق پڑھنے لگو یقینا نماز مسلمانوں پر فرض ہے اور وقت کے ساتھ محدود ہے۔ (103)

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اور ہمت مت ہارو اس (مخالف) قوم کے تعاقب کرنے میں اگر تم الم رسیدہ ہو تو وہ بھی تو الم رسیدہ ہیں جیسے تم الم رسیدہ ہو اور تم اللہ تعالیٰ سے ایسی ایسی چیزوں کی امید رکھتے ہو کہ وہ لوگ امید نہیں رکھتے اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے ہیں بڑے حکمت والے ہیں۔ (104)

ف 3۔ یعنی ہر حالت میں حتی کہ عین قتال کے وقت بھی دل سے بھی اور احکام کے اتباع سے بھی کہ وہ بھی ذکر ہے چناچہ قتال میں خلاف شرع کوئی کاروائی کرنا ناجائز ہے۔ غرض نماز تو ختم ہوئی ذکر ختم نہیں ہوتا نماز میں تو تخفیف ہوگئی تھی لیکن یہ بحالہ ہے۔
Ayahs 4:105–111

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ Open ayah 4:105 in the Quran reader

بیشک ہم نے آپ کے پاس یہ نوشتہ بھیجا ہے واقع کے موافق تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس کے موافق فیصلہ کریں جو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتلادیا ہے اور آپ ان خائنوں کی طرفداری کی بات نہ کیجئیے۔ (ف 4) (105)

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 4:106 in the Quran reader

اور آپ استغفار فرمائیے بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے مغفرت کرنے والے بڑے رحمت کرنے والے ہیں۔ (106)

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ Open ayah 4:107 in the Quran reader

اور آپ ان لوگوں کی طرف سے کوئی جو ابدہی کی بات نہ کیجئیے جو کہ اپناہی نقصان کررہے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو نہیں چاہتے جو بڑا خیانت کرنے والا بڑا گناہ کرنے والا ہو۔ (107)

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا Open ayah 4:108 in the Quran reader

جن لوگوں کی یہ کیفیت ہے کہ آمیوں سے تو چھپاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے نہیں شرماتے حالانکہ وہ (اس وقت) ان کے پاس ہے جبکہ وہ خلاف مرضی الہیٰ گفتگو کے متعلق تدبیریں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے سب اعمال کو اپنے احاطہ میں لیے ہوئے ہیں۔ (108)

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 4:109 in the Quran reader

ہاں تم ایسے ہو کہ تم نے دنیوی زندگی میں تو ان کی طرف سے جواب دہی کی باتیں کرلیں سو خدا تعالیٰ کے روبرو قیامت کے روز ان کی طرف سے کون جواب دہی کرے گا یا وہ کون شخص ہوگا جو ان کا کام بنانے والا ہوگا۔ (109)

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:110 in the Quran reader

اور جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان کا ضرر کرے پھر اللہ تعالیٰ سے معافی چاہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو بڑی مغفرت کرنے والا بڑی رحمت والا پائے گا۔ (110)

وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:111 in the Quran reader

اور جو شخص کچھ گناہ کا کام کرتا ہے تو وہ فقط اپنی ذات پر اس کا اثر پہنچاتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے ہیں بڑے حکمت والے ہیں۔ (111)

ف 4۔ بنوابیرق ایک خاندان تھا اس میں ایک شخص بشیر نام منافق تھا اس نے حضرت رفاعہ کی بخاری میں نقب دے کر کچھ آٹا اور کچھ ہتھیار جو اس میں رکھے تھے چرا لیے صبح کو پاس پڑوس میں تلاش کیا پتہ نہ چلا بعض قرائن قویہ سے بشیر پر شبہ ہوا بنوابیرق نے جو کہ بشیر کے شریک حال تھے اپنی برات کے لیے حضرت لبید کا نام لے دیا غرض حضرت رفاعہ نے اپنے برادر زادہ حضرت قتادہ کو جناب رسول اللہ کی خدمت میں بھیج کر اس واقعہ کی اطلاع دی آپ نے وعدہ تحقیق فرمایا بنوابیرق کو جو خبر ہوئی ایک شخص جو اسی خاندان کا تھا اسیر نام سب اس کے پاس آئے سب نے مشورہ کرکے جمع ہو کر مع بعض اہل محلہ کے جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جمع ہوئے اور حضرت قتادہ اور حضرت رفاعہ کی شکایت کی کہ بدون گواہوں کے ایک مسلمان اور دین دار گھرانے پر چوری کی تہمت لگاتے ہیں اور مقصود ان کا یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ اس مقدمہ میں ان کی طرف داری کریں آپ نے یہ تو نہیں خیا لیکن اتنا ہوا کہ حضرت قتادہ جو آپ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم ایسے لوگوں پر بےسند کیوں الزام لگاتے ہو۔ انہوں نے اپنے چچا رفاعہ سے کہا۔ وہ اللہ پر بھروسہ کرکے خاموش ہوگئے اس پر اگلی آیتیں دو رکوع کے قریب تک نازل ہوئیں غرض چوری ثابت ہوئی اور مال برآمد ہوا اور مالک کو دے دیا گیا تو بشیر ناخوش ہو کر مرتد ہوگیا اور مکہ جاکر مشرکوں میں جاملا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ومن یشاقق الرسول الخ۔
Ayah 4:112

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:112 in the Quran reader

اور جو شخص کوئی چھوٹا گناہ کرے یا بڑا گناہ پھر اس کی تہمت کسی بےگناہ پر لگائے سو اس نے تو بڑا بھاری بہتان اور صریح گناہ اپنے اوپر لاوا۔ (ف 1) (112)

ف 1۔ جیسا بشیر نے کیا کہ خود تو چوری کی اور ایک نیک بخت بزرگ آدمی لبید کے ذمہ رکھ دی۔
Ayah 4:113

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا Open ayah 4:113 in the Quran reader

اور اگر آپ پر اللہ کو فضل اور رحمت نہ ہو تو ان لوگوں میں سے ایک گروہ نے تو آپ کو غلطی ہی میں ڈال دینے کا ارادہ کرلیا تھا (ف 2) اور غلطی میں نہیں ڈال سکتے لیکن اپنی جانوں کو اور آپ کو ذرہ برابر ضرر نہیں پہنچاسکتے اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور علم کی باتیں نازل فرمائیں اور آپ کو وہ باتیں بتلائیں ہیں جو آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔ (113)

ف 2۔ لیکن خدا کے فضل سے ان کی رنگ آمیز باتوں کا آپ پر کوئی اثر نہیں ہوا اور آئندہ بھی نہ ہوگا۔
Ayahs 4:114–115

لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:114 in the Quran reader

عام لوگوں کی اکثر سرگوشیوں میں خیر نہیں ہوتی ہاں مگر جو لوگ ایسے ہیں کہ خیرات کی یا کسی اور نیک کام کی (ف 3) یا لوگوں میں باہم اصلاح کردینے کی ترغیب دیتے ہیں اور جو شخص یہ کام کرے گا حق تعالیٰ کی رضاجوئی کے واسطے سو ہم اس کو عنقریب اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔ (114)

وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠ Open ayah 4:115 in the Quran reader

اور جو شخص رسول کی مخالفت کرے گا بعد اس کے کہ اس کو امر حق ظاہر ہوچکا تھا اور مسلمانوں کا رستہ چھوڑ کر دوسرے رستہ ہولیگا۔ تو ہم اس کو جو کچھ وہ کرتا ہے کرنے دینگے اور اس کو جہنم میں داخل کرینگے اور وہ بری جگہ ہے جانے کی۔ (115)

ف 3۔ نیک کام میں جو کہ معروف کا ترجمہ ہے وہ تمام امور آگئے جو نافع ہوں خواہ دینی ہو یا دنیوی مگر مشروع ہوں اور گو اس میں صدقہ بھی داخل تھا لیکن نفس پر شاق ہونے کی وجہ سے اس کا زیادہ اہتمام فرمایا۔
Ayah 4:116

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:116 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ (اس بات کو) نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے اور اس کے سوا اور جتنے گناہ ہیں جس کے لیے منظور ہوگا وہ گناہ بخشدینگے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے وہ بڑی دور کی گمراہی میں جاپڑا۔ (ف 1) (116)

ف 1۔ مشرک نے حضرت صانع کی اہانت کی اس لیے ایسی ہی سزاکامستحق ہوگا بخلاف دوسرے گناہوں کے کچھ توضلال ہے مگر توحید کے خلاف اور اس سے بعید نہیں اس لیے قابل مغفرت قرار دیا گیا۔
Ayahs 4:117–118

اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا١ۚ وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًاۙ Open ayah 4:117 in the Quran reader

یہ لوگ خدا تعالیٰ کو چھوڈ کر صرف چند زنانی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں (ف 2) اور صرف شیطان کی عبادت کرتے ہیں جو کہ حکم سے باہر ہے۔ (117)

لَّعَنَهُ اللّٰهُ١ۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاۙ Open ayah 4:118 in the Quran reader

جس کو خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت سے دور ڈال رکھا ہے اور جس نے یوں کہا تھا کہ میں ضرور تیرے بندوں سے اپنا مقرر حصہ (اطاعت کا) لوں گا۔ (118)

ف 2۔ زنانی چیزوں سے مراد بعض بت ہیں جن کے نام اور صورتیں عورتوں کی سی تھیں اور ان کو زیور وغیرہ بھی پہناتے تھے۔