4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsبیان القرآن

Ayah 4:159

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور کوئی شخص اہل کتاب سے نہیں رہتا مگر وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی اپنی مرنے سے پہلے ضرور تصدیق کرلیتا ہے اور قیامت کے روز وہ ان پر گوہی دینگے۔ (ف 3) (159)

ف 3۔ اوپر یہود کی بعض شرارتیں اور کچھ سزائیں لعن وغیرہ جو کہ ازقسم امور تکوینیہ اور واقع فی الدنیا ہیں بیان فرمائی ہیں آگے بھی ان کی بعض شرارتوں کا مع ذکر بعض عقوبات واقعہ فی الدنیا از قبیل امور تشریعیہ کہ تحریم طیبات ہے اور مع ذکر عقوبت اخرویہ کہ عذاب الیم ہے۔ بیان ہے اور چونکہ اصل سزایہی ہے اس لیے ذکر یہود کے شروع پر بھی عذاب مہین کے عنوان سے اس کو فرمایا تھا پس طرفین میں ہونے سے زیادہ تاکید ہوگئی۔
Ayahs 4:160–161

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

سو یہود کے ان ہی بڑے بڑے جرائم کے سبب ہم نے بہت سی پاکیزہ چیزیں جو ان کے لیے حلال تھیں ان پر حرام کردیں (ف 4) اور بسبب اس کے کہ وہ بہت سے آدمیوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی راہ سے مانع بن جاتے تھے۔ (160)

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور بہ سبب اس کے کہ وہ سود لیا کرتے تھے حالانکہ ان کو اس سے ممانعت کی گئی تھی اور بسبب اس کے کہ وہ لوگون کے مال ناحق طریقہ سے کھاجاتے تھے اور ہم نے ان لوگوں کے لیے جو ان میں سے کافر ہیں دردناک سزا کا سامان کر رکھا ہے۔ (161)

ف 4۔ جرائم سے جو تحریم ہوئی وہ تحریم عام تھی گوجرائم سے بعض صلحاء محفوظ بھی تھے کیونکہ بہت سی حکمتوں کے اقتضاء سے عادة اللہ یونہی جاری ہے جیسا قرآن میں اس کی طرف اشارہ بھی ہے۔ حدیث میں بھی آیا ہے کہ بڑا مجرم وہ ہے جس کے بےضرورت سوال کرنے سے کوئی شے سب کے لیے حرام ہوجائے یعنی زمانہ وحی میں۔ اور شریعت محمدیہ میں جو چیزیں حرام ہیں وہ کسی مضرت جسمانی یاروحانی کی وجہ سے حرام ہیں کہ اس حثییت سے غیر طیب ہیں۔ پس تحریم طیبات نافعہ عقوبت وسیاست ہے اور تحریم طیبات ضارہ رحمت و حفاظت ہے۔
Ayahs 4:162–164

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

لیکن ان (یہود) میں جو لوگ علم (دین) میں پختہ ہیں اور جو (ان میں) ایمان لے آنے والے ہیں کہ اس (کتاب) پر (بھی) ایمان لاتے ہیں جو آپ کے پاس بھیجی گئی اور اس پر بھی (ایمان رکھتے ہیں) جو آپ سے پہلے بھیجی گئی اور جو (ان میں) نماز کی پابندی کرنے والے ہیں اور جو ان میں زکوة دینے والے ہیں اور جو (ان میں) اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر اعتقاد رکھنے والے ہیں سو ایسے لوگوں کو ہم ضرور (آخرت میں) ثواب عظیم عطا فرمادینگے۔ (ف 1) (162)

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

ہم نے آپ کے پاس وحی بھیجی ہے جیسے نوح کے پاس بھیجی تھی۔ اور ان کے بعد اور پیغمبروں کے پاس اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور اولاد (یعقوب) اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کے پاس وحی بھیجی تھی اور ہم نے داؤد کو زبور دی تھی۔ (163)

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور ایسے پیغمبروں کو (صاحب وحی بنایا) جن کا حال اس کے قبل ہم آپ سے بیان کرچکے ہیں اور ایسے پیغمبروں کو جن کا حال ہم نے آپ سے بیان نہیں کیا اور موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر کلام فرمایا۔ (164)

ف 1۔ مراد ان سے یہ حضرات اور ان کے امثال ہیں جیسے عبداللہ بن سلام واسید وثعلبہ ؓ اور آیت کا یہی شان نزول ہے اور آیت میں اجرکامل کی تعلیق ان امور مذکورہ پر مقصود ہے اور نفس اجرومطلق نجات صرف عقائد ضروریہ کی تصیح سے وابستہ ہے۔
Ayahs 4:165–168

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

(ان سب کو) خوشخبری دینے والے اور خوف سنانے والے پیغمبر بنا کر (اس لیے بھیجا) تاکہ لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے سامنے ان پیغمبروں کے بعد کوئی عذر باقی نہ رہے اور اللہ تعالیٰ پورے زور والے ہیں بڑی حکمت والے ہیں۔ (ف 2) (165)

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

لیکن اللہ تعالیٰ بذریعہ اس (کتاب) کے جس کو آپ کے پاس بھیجا ہے اور بھیجا بھی اپنے علمی کمال کے ساتھ شہادت دے رہے ہیں اور فرشتے تصدیق کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی کی شہادت کافی ہے۔ (166)

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

جو لوگ منکر ہیں اور خدائی دین سے مانع ہوتے ہیں بڑی دور کی گمراہی میں جاپڑے ہیں۔ (167)

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ منکر ہیں اور دوسروں کا بھی نقصان کررہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو کبھی نہ بخشیں گے اور نہ ان کو سوائے جہنم کی راہ کے اور کوئی راہ دکھلاوینگے۔ (168)

ف 2۔ اللہ تعالیٰ پورے زور اور اختیار والے ہیں کہ بلا ارسال رسل بھی سزادیتے تو بوجہ اس کے کہ مالک حقیقی ہونے میں منفرد ہیں ظلم نہ ہوتا اور حقیقت میں عز کا حق کسی کو نہ تھا لیکن چونکہ بڑی حکمت والے بھی ہیں اس لیے حکمت اسی ارسال کو مقتضی ہوئی تاکہ ظاہری عذر بھی نہ رہے۔
Ayah 4:169

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

اس طرح پر کہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہا کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سزا معمولی بات ہے۔ (ف 3) (169)

ف 3۔ اوپر یہود کے شبہ کا جو کہ نبوت محمدیہ کے متعلق تھا جواب اور نبوت کا اثبات مع وعید منکرین نہایت بلاغت اور وضوح سے مذکور ہوچکا آگے عام خطاب سے نبوت کا وجوب فرماتے ہیں۔
Ayah 4:170

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

اے تمام لوگوتمھارے پاس یہ رسول سچی بات لے کر تمہارے پروردگار کی طرف سے تشریف لائے ہیں سو تم یقین رکھو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا اور اگر تم منکر رہے تو خدا تعالیٰ کی ملک ہے یہ سب جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ پوری اطلاع رکھتے ہیں کامل حکمت والے ہیں۔ (ف 1) (170)

ف 1۔ اوپر یہود کو خطاب تھا آگے نصاری کو ہے۔
Ayahs 4:171–172

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

اے اہل کتاب (ف 2) تم اپنے دین میں حد سے مت نکلو اور خدا تعالیٰ کی شان میں غلط بات مت کہو (ف 3) مسیح عیسیٰ بن مریم تو اور کچھ بھی نہیں البتہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ایک کلمہ ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے مریم تک پہنچایا تھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک جان ہیں سوا لله پر اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لاؤ اور یوں مت کہو کہ تین ہیں۔ باز آجاؤ تمہارے لیے بہتر ہوگا۔ معبود حقیقی تو ایک ہی معبود ہے وہ صاحب اولاد ہونے سے منزہ ہے۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں موجودات ہیں سب اس کی ملک ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کارساز ہونے میں کافی ہیں۔ (171)

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا Open ayah 4:172 in the Quran reader

مسیح ہرگز خدا کے بندے بننے سے عار نہیں کریں گے اور نہ مقرب فرشتے اور جو شخص خدا تعالیٰ کی بندگی سے عار کرے گا اور تکبر کرے گا تو خدا تعالیٰ ضرور سب لوگوں کو اپنے پاس جمع کریں گے۔ (172)

ف 2۔ یعنی اے انجیل والو۔ 3۔ کہ نعوذ باللہ وہ صاحب اولاد ہے جیسا بعض کہتے ہیں المسیح ابن اللہ یا وہ مجموعہ آلہہ کا ایک جزو ہے جیسا کہتے تھے ان اللہ ثالث ثلثہ اور بقیہ دو جزو ایک حضرت عیسیٰ کو کہتے تھے اور ایک حضرت جبرائیل کو جیسا کہ آیت آئندہ میں ولا الملئکة المقربون کے بڑھانے سے معلوم ہوتا ہے اور بعض حضرت مریم (علیہا السلام) کو جیسا انخذونی وامی سے معلوم ہوتا ہے یا وہ عین مسیح ہے جیسا بعض کہتے تھے ان اللہ ھو المسیح ابن مریم غرض یہ سب عقیدے باطل ہیں۔
Ayah 4:173

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:173 in the Quran reader

پھر جو لوگ ایمان لائے ہونگے اور انہوں نے اچھے کام کیے ہونگے تو ان کو ان کا پورا ثوب دینگے اور ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ دینگے اور جن لوگوں نے عار کیا ہوگا اور تکبر کیا ہوگا تو ان کو سخت دردناک سزا دینگے اور وہ لوگ کسی غیر اللہ کو اپنا یار اور مددگار نہ پاوینگے۔ (ف 4) (173)

ف 4۔ اوپر عقائد نصاری کا بطلان مع جزاء وسزاء مقرین و منکرین مذکور ہوچکا آگے خطاب عام سے ان مضامین کا اور ان مضامین کے تعلیم فرمانے والے رسول اور قرآن کا صدق اور مصدقین کی فضیلت بیان فرماتے ہیں جس طرح محاجہ یہود کے ختم پر اسی طور پر خطاب عام فرمایا تھا۔
Ayah 4:174

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

اے لوگو یقینا تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک دلیل آچکی ہے (ف 5) اور ہم نے تمہارے پاس ایک صاف نور بھیجا ہے۔ (ف 6) (174)

ف 5۔ وہ ذات مبارک ہے رسول اللہ ﷺ کی۔ 6۔ وہ قرآن مجید ہے۔
Ayah 4:175

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ Open ayah 4:175 in the Quran reader

سو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے اللہ کو مضبوط پکڑا (ف 7) سو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں داخل کریں گے اور اپنے فضل میں اور اپنے تک ان کو سیدھا رستہ بتلادینگے۔ (ف 8) (175)

ف 7۔ یعنی اسلام کو۔ 8۔ حاصل یہ ہے کہ اطاعت کی برکت سے ثبات علی الاطلاعات کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔
Ayah 4:176

یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 4:176 in the Quran reader

لوگ آپ سے حکم دریافت کرتے ہیں (ف 1) آپ فرمادیجئے کہ اللہ تعالیٰ تم کو کلالہ کے باب میں حکم دیتا ہے (ف 2) کہ اگر کوئی شخص مرجاوے جس کے اولاد نہ ہو ( اور نہ ماں باپ) اور اس کے ایک (عینی یا علاتی) بہن ہو تو اس کو اس کے تمام ترکہ کا نصف ملے گا اور وہ شخص اس (اپنی بہن) کا وارث ہوگا اگر (وہ بہن مرجاوے اور) اس کے اولاد نہ ہو ( اور والدین بھی نہ ہوں) اور اگر بہنیں دو ہوں (یازیادہ) تو ان کو اس کے کل ترکہ میں سے دوتہائی ملیں گے۔ اور اگر وارث چند بھائی بہن ہوں مرد اور عورت تو ایک مرد کو دوعورتوں کے حصہ کے برابر (ف 3) اللہ تعالیٰ تم سے (دین کی باتین) اس لیے بیان کرتے ہیں کہ تم گمراہی میں نہ پڑو۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں۔ (176)

ف 1۔ سبب اس آیت کے نزول کا استفتاء حضرت جابر ؓ کا ہے کہ اس وقت صرف ان کی بہنیں وراث تھیں رواہ النسائی۔ اور لباب میں ابن مردویہ سے حضرت عمر ؓ کا سوال کرنا بھی نقل ہے۔ 2۔ کلالہ یعنی جس کے نہ اولاد ہو نہ ماں باپ ہوں۔ 3۔ چونکہ سورت ہذا میں یہاں تک اصول و فروع کثیرہ کی تفصیل ہے اس لیے آخر میں ایک مجمل عنوان سے متام تر تفصیل کو مکرر یاد دلاکر اپنی منت اور احسان بیان شرائع میں رعایت حکمت ان شرائع میں ذکر فرما کر سورت کو ختم فرماتے ہیں۔