3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsبیان القرآن

Ayahs 3:1–2

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ایسے ہیں کہ ان کے سوا کوئی (قابل) معبود (بنانے کے) نہیں وہ زندہ جاوید ہیں سب چیزوں کے سنبھالنے والے ہیں۔ (ف 2) (2)

ف 2۔ حی وقیوم کے صفات لانے میں اشارہ ہے معبودان باطلہ کے معبود نہ ہونے کی دلیل عقلی پر کیونکہ ان میں یہ صفتیں نہیں۔
Ayahs 3:3–7

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اس (الله تعالیٰ ) نے آپ کے پاس قرآن بھیجا ہے واقعیت کے ساتھ اس کیفیت سے کہ وہ تصدیق کرتا ہے ان (آسمانی) کتابوں کی جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں اور (اسی طرح بھیجا تھا) توریت اور انجیل کو۔ (3)

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

اس کے قبل لوگوں کی ہدایت کے واسطے اور اللہ تعالیٰ نے بھیجے معجزات بیشک جو لوگ منکر ہیں اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ان کے لیے سزائے سخت ہے اور اللہ تعالیٰ غلبہ ( اور قدرت) والے ہیں بدلہ لینے والے ہیں۔ (4)

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ سے کوئی شے چھپی ہوئی نہیں ہے (نہ کوئی چیز) زمین میں اور نہ کوئی چیز (آسمان) میں۔ (5)

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہ ایسی ذات (پاک) ہے کہ تمہاری صورت (شکل) بناتا ہے ارحام میں جس طرح چاہتا ہے۔ کوئی عبادت کے لائق نہیں بجز اس کے وہ غلبہ والے ہیں حکمت والے ہیں۔ (6)

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

وہ ایسا ہے جس نے نازل کیا تم پر کتاب کو جس میں کا ایک حصہ وہ آیتیں ہیں جو کہ اشتباہ مراد سے محفوظ ہیں (ف 3) اور یہی آیتیں اصلی مدار ہیں (اس) کتاب کا (ف 4) اور دوسری آیتیں ایسی ہیں جو کہ مشتبہ المراد ہیں۔ (ف 5) سو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ اس کے اسی حصہ کے پیچھے ہولیتے ہیں جو مشتبہ المراد ہے (دین میں) شورش ڈھونڈنے کی غرض سے اور اس کا (غلط) مطلب ڈھونڈنے کی غرض سے حالانکہ ان کا (صحیح) مطلب بجز حق تعالیٰ کے کوئی اور نہیں جانتا جو لوگ علم (دین) میں پختہ کار ( اور فہیم) ہیں وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم اس پر (اجمالا) یقین رکھتے ہیں (یہ) سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو کہ اہل عقل ہیں۔ (ف 6) (7)

ف 3۔ یعنی ان کا مطلب ظاہر ہے۔ 4۔ یعنی غیر ظاہر المعنی کو بھی ان یہ ظاہر المعانی کے موافق بنایا جاتا ہے۔ 5۔ یعنی ان کا مطلب خفی ہے خواہ بوجہ مجمل ہونے کے خواہ کسی نص ظاہر المراد کے ساتھ معارج ہونے کے۔ 6۔ بعض منکرین توحید کا بعض کلمات موہمہ خلاف توحید سے استدلال ہوسکتا تھا چناچہ بعض نصاری نے لفظ روح اللہ اور کلمة اللہ سے جو کہ قرآن میں واقع ہوا ہے اپنے مدعا پر الزامی طور پر استدلال کیا تھا اس آیت میں اس شبہ کا جواب ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایسے کلمات خفی المراد سے احتجاج درست نہیں بلکہ مدار عقائد کا نصوص واضحہ ہیں، اور خفی المراد پر جبکہ ان کی تفسیر معلوم نہ ہو اجمالا ایمان لے آنا واجب ہے، زیادہ تفتیش کی اجازت نہیں۔
Ayah 3:8

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہمارے دلوں کو کج نہ کیجیے بعد اس کے کہ آپ ہم کو ہدایت کرچکے ہیں اور ہم کو اپنے پاس سے رحمت (خاصہ) عطا فرمائیے۔ بلاشبہ آپ بڑے عطا فرمانے والے ہیں۔ (ف 7) (8)

ف 7۔ حق پرستوں کا دسرا کامل مذکور ہے کہ باوجود وصول الی الحق کے اس پر نازل نہیں، بلکہ حق تعالیٰ سے استقامت علی الحق کی دعا کرتے ہیں۔
Ayah 3:9

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار آپ بلاشبہ تمام آدمیوں کو (میدان محشر میں) جمع کرنے والے ہیں اس دن میں جس میں ذرا شک نہیں ( اور) بلاشبہ اللہ تعالیٰ خلاف کرتے نہیں وعدے کو۔ (ف 1) (9)

ف 1۔ یہاں تک محاجہ باللسان کا بیان تھا آگے محاجہ بالسنان کا بیان اور لقمہ شمشیر و زیر نگیں ہونے کی وعید ہے، جو صراحة اس آیت میں مذکور ہے۔ قل للذین کفروا اور اس سے پہلے کی آیت بطور تمہید کے ہے۔
Ayah 3:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

بالیقین جو لوگ کفر کرتے ہیں ہرگز ان کے کام نہیں آسکتے ان کے مال (دولت) اور نہ ان کی اولاد اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں ذرہ برابر بھی (ف 2) اور ایسے لوگ جہنم کا سوختہ ہونگے۔ (10)

ف 2۔ مقابلہ میں کام آنے کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کی ضرورت نہ ہو، اس کے عوض صرف مال و اولاد نافع اور کافی ہوجاوے، دوسرے یہ کہ مال و اولاد اللہ تعالیٰ کے مقابل ہو کر ان کے عذاب سے بچا لے گی، مقابلہ کا لفظ دونوں جگہ بولا جاتا ہے، سو آیت میں دونوں کی نفی کردی گئی۔
Ayahs 3:11–12

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

جیسا معاملہ تھا فرعون والوں کا اور ان سے پہلے والے (کافر) لوگوں کا کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھوٹابتلایا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر داروگیر فرمائی ان کے گناہوں کے سبب۔ اور اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں۔ (11)

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

آپ ان کفر کرنے والوں سے فرمادیجئیے کہ عنقریب تم (مسلمانوں کے ہاتھ سے) مغلوب کیے جاؤ گے اور (آخرت میں) جہنم کی طرف جمع کرکے لیجائے جاؤ گے اور وہ (جہنم) ہے برا ٹھکانا۔ (ف 3) (12)

ف 3۔ اوپر کفار کے مغلوب ہونے کی خبر دی گئی ہے آگے اس کی ایک کافی نظیر بطور دلیل کے ارشاد فرماتے ہیں۔
Ayah 3:13

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

بیشک تمہارے لیے بڑا نمونہ ہیں دوگروہوں (کے واقعہ) میں جو کہ باہم ایک دوسرے سے مقابل ہوئے تھے (ف 4) ایک گروہ تو اللہ کی راہ میں لڑتے تھے (یعنی مسلمان) اور دوسرا گروہ کافر لوگ تھے یہ کافر اپنے کو دیکھ رہے تھے کہ ان مسلمان سے کئی حصہ (زیادہ) ہیں کھلی آنکھوں دیکھنا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی امداد سے جس کو چاہتے ہیں قوت دیدیتے ہیں۔ (سو) بلاشک اس میں بڑی عبرت ہے (دانش) بینش (ف 5) والے لوگوں کو۔ (13)

ف 4۔ بدر کی لڑائی میں۔ 5۔ وایتوں میں آیا ہے کہ اس روز مسلمان تین سو تیرہ تھے اور کفار ایک ہزار تھے، گو یا کفار مسلمانوں سے تین حصے تھے، اس آیت میں اسی کثرت کو بیان فرمایا ہے، کہ کفار آنکھوں سے مشاہدہ کرتے تھے کہ ہمارا گروہ زیادہ ہے مگر پھر بھی انجام دیکھ لیا کہ مسلمان ہی غالب رہے۔
Ayah 3:14

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ Open ayah 3:14 in the Quran reader

خوشنما معلوم ہوتی ہے (اکثر) لوگوں کو محبت مرغوب چیزوں کی (مثلا) عورتیں ہوئیں بیٹے ہوئے لگے ہوئے ڈھیر ہوئے سونے اور چاندی کے۔ نمبر (یعنی نشان) لگے ہوئے گھوڑے ہوئے (یا دوسرے) مواشی ہوئے اور زراعت ہوئی (لیکن) یہ سب استعمالی چیزیں ہیں دنیوی زندگانی کی اور انجام کار کی خوبی تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ (ف 6) (14)

ف 6۔ یہ جو فرمایا کہ ان چیزوں کی محبت خوشنما معلوم ہوتی ہے اس کا حاصل میرے ذوق میں یہ ہے کہ محبت و میلان غالب حالات میں موجب فتنہ ہوجانے کی وجہ سے ڈر کی چیز تھی، مگر اکثر لوگ اس کو سبب ضرر نہیں جانتے، بلکہ اس میلا کو علی الاطلاق اچھا سمجھتے ہیں۔
Ayahs 3:15–16

قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ Open ayah 3:15 in the Quran reader

آپ فرمادیجئیے کیا میں تم کو ایسی چیز بتلا دوں جو (بدر جہا) بہتر ہو ان چیزوں سے (سوسنو) ایسے لوگوں کے لیے جو (الله سے) ڈرتے ہیں ان کے مالک (حقیقی) کے پاس ایسے ایسے باغ ہیں جن کے پائین میں نہریں جارہی ہیں ان میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے اور (ان کے لیے) ایسی بیبیاں ہیں جو صاف ستھری کی ہوئی ہیں اور (ان کے لیے) خوشنودی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ خوب دیکھتے ہیں (بھالتے) ہیں بندوں کو۔ (15)

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ Open ayah 3:16 in the Quran reader

(یہ) ایسے لوگ (ہیں) جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو آپ ہمارے گناہوں کو معاف کردیجیے اور ہم کو عذاب دوزخ سے بچالیجئیے۔ (ف 7) (16)

ف 7۔ یہ جو کہا کہ ہم ایمان لے آئے سو آپ ہمارے گناہوں کو معاف کردیجئے، یہ اس وجہ سے ہے کہ بدون ایمان کے مغفرت نہیں ہوتی، پس حاصل یہ ہوا کہ فکر جو مانع ابدی مغفرت کا ہے اس کو ہم مرتفع کرچکے، اب معاف کردیجئے۔
Ayah 3:17

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ Open ayah 3:17 in the Quran reader

( اور وہ لوگ) صبر کرنے والے ہیں اور راست باز ہیں اور (الله کے سامنے) فروتنی کرنے والے ہیں اور (مال) خرچ کرنے والے ہیں اور اخیر شب میں (اٹھ اٹھ کر) گناہوں کی معافی چاہنے والے ہیں۔ (ف 1) (17)

ف 1۔ اخیر شب کی تخصیص اس لئے ہے کہ اس وقت اٹھنے میں مشقت بھی ہے اور وہ وقت قبولیت کا بھی ہے۔
Ayah 3:18

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ Open ayah 3:18 in the Quran reader

گواہی دی ہے اللہ نے اس کی کہ بجز اس کے کوئی معبود (ہونے کے لائق) نہیں اور فرشتوں نے بھی اور اہل علم نے بھی ( اور معبود بھی وہ اس شان کے ہیں کہ) اعتدال کے ساتھ انتظام رکھنے والے ہیں (ف 2) ان کے سوا کوئی معبود (ہونے کے لائق) نہیں وہ زبردست حکمت والے ہیں۔ (18)

ف 2۔ قائما بالقسط کی صفت غالبا اس لئے بڑھادی کہ وہ ایسے نہیں کہ صرف اپنی تعظیم و عبادت ہی کراتے ہوں، بلکہ وہ سب کے کام بھی بناتے ہیں۔
Ayah 3:19

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader

بلاشبہ دین (حق اور مقبول) اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہے۔ اور اہل کتاب نے جو اختلاف کیا (کہ اسلام کو باطل کہا) تو ایسی حالت کے بعد کہ ان کو دلیل پہنچ چکی تھی محض ایک دوسرے سے بڑھنے کے سبب سے (ف 3) اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار کرے گا تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ بہت جلد اس کا حساب لینے والے ہیں۔ (19)

ف 3۔ یعنی اسلام کے حق ہونے میں کوئی وجہ شبہ کی نہیں بلکہ علمائے یہود میں مادہ دوسروں سے بڑا بننے کا ہے، اور اسلام لانے میں یہ سرداری جو ان کو اب عوام پر حاصل ہے فوت ہوتی تھی اس لئے اسلام کو قبول نہیں کیا بلکہ الٹا اس کو باطل بتلانے لگے۔
Ayahs 3:20–22

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

پھر بھی اگر یہ لوگ آپ سے حجتیں نکالیں تو آپ فرمادیجئیے کہ (تم مانو یا نہ مانو) میں تو اپنا رخ خاص اللہ کی طرف کرچکا اور جو میرے پیرو تھے وہ بھی۔ اور کہئیے اہل کتاب سے اور (مشرکین) عرب سے کہ کیا تم بھی اسلام لاتے ہو ؟ سو اگر وہ لوگ اسلام لے آئیں تو وہ لوگ بھی راہ پر آجاوینگے اور اگر وہ لوگ روگردانی رکھیں سو آپ کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ تعالیٰ خود دیکھ ( اور سمجھ) لینگے بندوں کو۔ (20)

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی آیت کے ساتھ اور قتل کرتے ہیں پیغمبروں کو ناحق اور قتل کرتے ہیں ایسے شخصوں کو جو (افعال و اخلاق) کے اعتدال کی تعلیم دیتے ہیں سو ایسے لوگوں کو خبر سنادیجیے ایک سزائے دردناک کی۔ (21)

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

( اور) یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے سب اعمال (صالحہ) غارت ہوگئے دنیا میں اور آخرت میں (ف 4) اور (سزا کے وقت) ان کا کوئی حامی مددگار نہ ہوگا۔ (22)

ف 4۔ دنیا میں غارت ہونا یہ کہ ان کے ساتھ معاملہ اہل اسلام کا سا نہ ہوگا، اور آخرت میں یہ کہ ان کی مغفرت نہ ہوگی۔
Ayah 3:23

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

(اے محمد) کیا آپ نے ایسے لوگ نہیں دیکھے جن کو کتاب (توراة) کا ایک (کافی) حصہ دیا گیا (ف 5) اور اسی کتاب اللہ کی طرف اس غرض سے ان کو بلایا بھی جاتا ہے کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کردے پھر (بھی) ان میں سے بعض لوگ انحراف کرتے ہیں بےرخی کرتے ہوئے۔ (23)

ف 5۔ اگر ہدایت کے طالب ہوتے تو وہ حصہ اس غرض کی تکمیل کے لئے کافی تھا۔
Ayahs 3:24–25

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

( اور) یہ اس سبب سے ہے کہ وہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ہم کو صرف گنتی کے تھوڑے دنوں تک دوزخ کی آگ لگے گی (پھرمغفرت ہوجاویگی) اور ان کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ان کی تراشی ہوئی باتوں نے۔ (24)

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

سو ان کا کیا (برا) حال ہوگا جب کہ ہم ان کو اس تاریخ میں جمع کرلیں گے جس (کے آنے) میں ذرا شبہ نہیں اور (اس تاریخ میں) پورا پورا بدلہ مل جاوے گا ہر شخص کو جو کچھ اس نے (دنیا میں) کیا تھا اور ان شخصوں پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ (ف 6) (25)

ف 6۔ اگلی آیت میں امت محمدیہ کے کفار پر غالب آنے کی پیشنگوئی کی طرف تعلیم مناجات کے عنوان میں اشارہ ہے، جیسا شان نزول سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے روم وفارس کے فتح ہوجانے کا وعدہ فرمایا تو منافقین و یہود نے استبعاد اور استہزاء کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 3:26–27

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ آپ (الله تعالیٰ سے) یوں کہئے کہ اے اللہ مالک تمام ملک کے آپ ملک جس کو چاہیں دیدیتے ہیں اور جس سے چاہے ملک لے لیتے ہیں اور جس کو آپ چاہیں غالب کردیتے ہیں اور جس کو آپ چاہیں پست کردیتے ہیں آپ ہی کے اختیار میں ہے سب بھلائی۔ بلاشبہ آپ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔ (26)

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

آپ رات (کے اجزا) کو دن میں داخل کردیتے ہیں اور (بعض فصلوں میں) دن ( کے اجزا) کو رات میں داخل کردیتے ہیں۔ اور آپ جاندار چیز کو بےجان سے نکال لیتے ہیں (جیسے بضیہ سے بچہ) اور بےجان چیز کو جاندار سے نکال لیتے ہیں (جیسے پرندے سے بیضہ) اور آپ جس کو چاہتے ہیں بیشمار رزق عطا فرماتے ہیں۔ (ف 1) (27)

ف 1۔ یعنی ہر طرح کی قدرت حاصل ہے، سو ضعفاء کو قوت و سلطنت دے دنیا کیا مشکل ہے، اس دعا میں ایک قسم کا استدلال ہے اس کے امکان پر اور دفع ہے استبعاد کفار کا، اور خیر کی تخصیص اس لئے مناسب ہوئی کہ یہاں مقصود خیر کا مانگنا ہے، جیسے کوئی کہے کہ نوکر رکھنا آپ کے اختیار میں ہوتا ہے، اگرچہ نوکر کا موقوف کردینا بھی اختیار میں ہوتا ہے۔
Ayah 3:28

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

مسلمانوں کو چاہیئے کہ کفار کو (ظاہرا یا باطنا) دوست نہ بناویں (ف 2) مسلمانوں (کی دوستی) سے تجاوز کرکے (ف 3) اور جو شخص ایسا (کام) کرے گا سو وہ شخص اللہ کے ساتھ (دوستی رکھنے کے) کسی شمار میں نہیں مگر ایسی صورت میں کہ تم ان سے کسی قسم کا (قوی) اندیشہ رکھتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ (ف 4) (28)

ف 2۔ اوپر کفار کی مذمت مذکور تھی اس آیت میں ان کے ساتھ دوستی کرنے کی ممانعت فرماتے ہیں۔ 3۔ تجاوز دو صورت سے وہتا ہے، ایک یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ بالکل دوستی نہ رکھیں، دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ کفار سے بھی دوستی رکھیں، دونوں صورتیں ممانعت میں داخل ہیں۔ 4۔ کفار کے ساتھ تین قسم کے معاملے ہوتے ہیں۔ موالات یعنی دوستی۔ مدارات یعنی ظاہری خوش خلقی۔ مواساة یعنی احسان و نفع رسانی، موالات تو کسی حال میں جائز نہیں، اور مدرات تین حالتوں میں درست ہے۔ ایک دفع ضرر کے واسطے دوسرے اس کافر کی مصلحت دینی یعنی توقع ہدایت کے واسطے، تیسرے اکرام ضیف کے لئے، اور اپنی مصلحت و منفعت مال و جان کے لئے درست نہیں، اور مواسات کا حکم یہ ہے کہ اہل حرب کے ساتھ ناجائز ہے اور غیر اہل حرب کے ساتھ جائز۔
Ayahs 3:29–33

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

آپ فرمادیجیئے کہ اگر تم پوشیدہ رکھو گے اپنا مافی الضمیر یا اس کو ظاہر کروگے اللہ تعالیٰ اس کو (ہر حال میں) جانتے ہیں اور وہ تو سب کچھ جانتے ہیں جو کچھ کہ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت بھی کامل رکھتے ہیں۔ (29)

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

جس روز (ایسا ہوگا) کہ ہر شخص اپنے اچھے کیے ہوئے کاموں کو سامنے لایا ہوا پائے گا۔ اور اپنے برے کیے ہوئے کاموں کو بھی ( اور) اس بات کی تمنا کرے گا کہ کیا خوب ہوتا کہ اس شخص کے اور اس روز کے درمیان میں دور دراز کی مسافت (حائل) ہوتی۔ اور خدا تعالیٰ تم کو اپنی ذات (عظیم الشان) سے ڈراتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نہایت مہربان ہیں بندوں پر۔ (30)

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

آپ فرمادیجئیے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میرا اتباع کرو خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے اور تمہارے سب گناہوں کو معاف کردیں گے اور اللہ تعالیٰ بڑے معاف کرنے والے بڑے عنایت فرمانے والے ہیں۔ (31)

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

( اور) آپ (یہ بھی) فرمادیجیئے کہ تم اطاعت کیا کرو اللہ کی اور اسکے رسول کی۔ پھر (اس پر بھی) اگر وہ لوگ اعراض کریں سو (سن رکھیں کہ) اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتے۔ (32)

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ نے (نبوت کے لیے) منتخب فرمایا ہے (حضرت) آدم کو اور (حضرت) نوح کو اور (حضرت) ابراہیم کی اولاد ( میں سے بعضوں) کو اور عمران کی اولاد ( میں سے بعضوں) کو تمام جہان پر۔ (ف 1) (33)

ف 1۔ اگر یہ عمران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد ہیں تو اولاد سے مراد حضرت ومسی (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) ہیں اور اگر یہ عمران حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد ہیں تو اولاد سے مراد حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ہیں۔
Ayah 3:34

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

بعضے ان میں بعضوں کی اولاد ہیں (ف 2) اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والے ہیں اور خوب جاننے والے ہیں۔ (34)

ف 2۔ یہ جو فرمایا کہ ایک دوسرے کی اولاد ہے شاید مقصود اس سے ان سب حضرات کا اتحاد یا شرف ذاتی کے ساتھ شرف نسبت کا بیان فرمانا ہو، اور اس امر کا جتلانا ہو کہ رسول اللہ ﷺ کے آباء و اجداد میں بھی نبوت رہی ہے، اگر آپ کو نبوت مل گئی تو بعید کیا ہے۔ واللہ اعلم
Ayahs 3:35–37

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

جبکہ عمران (پدر مریم (علیہ السلام) کی بی بی نے (حالت حمل میں) عرض کیا کہ اے پروردگار میں نے نذرمانی ہے آپ کے لیے اس بچہ کی جو میرے شکم میں ہے کہ وہ آزاد رکھا جاوے گا سو آپ مجھ سے (بعد ولادت) قبول کرلیجئیے بیشک آپ خوب سننے والے خوب جاننے والے ہیں۔ (35)

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

پھر جب لڑکی جنی (حسرت سے) کہنے لگیں کہ اے میرے پروردگار میں نے تو وہ (حمل) لڑکی جنی حالانکہ خدا تعالیٰ زیادہ جانتے ہیں اس کو جو انہوں نے جنی اور (وہ) لڑکا (جو انہوں نے چاہا تھا) اس لڑکی کے برابر نہیں۔ اور میں نے اس لڑکی کا نام مریم رکھا اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو (اگر کبھی اولاد ہو) آپ کی پناہ میں دیتی ہوں شیطان مردود سے۔ (36)

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

پس ان (مریم (علیہ السلام) کو ان کے رب نے بوجہ احسن قبول فرمالیا اور عمدہ طور پر ان کو نشونما دیا اور (حضرت) زکریا کو ان کا سرپرست بنایا۔ (ف 3) (سو) جب کبھی زکریا ( علیہ السلام) ان کے پاس عبادت خانہ میں تشریف لاتے تو ان کے پاس کچھ کھانے پینے کی چیزیں پاتے ( اور) یوں فرماتے کہ اے مریم یہ چیزیں تمہارے واسطے کہاں سے آئیں وہ کہتیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے آئیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں بےحساب رزق عطا فرماتے ہیں۔ (37)

ف 3۔ یہ جو فرمایا کہ عمدہ طور پر ان کو نشوونما دیا تو اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ ابتداء سے عبادت وطاعت میں مشغول رکھا، دوسرے یہ کہ اور بچوں کی معمولی نشوونما سے ان کا ظاہری نشوونما زائد تھا۔
Ayahs 3:38–39

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

اس موقع پر دعا کی (حضرت) زکریا ( علیہ السلام) نے اپنے رب سے۔ عرض کیا کہ اے میرے رب عنایت کیجئیے مجھکو خاص اپنے پاس سے کوئی اچھی اولاد۔ بیشک آپ بہت سننے والے ہیں دعا کے۔ (38)

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

پس پکار کے کہا ان سے فرشتوں نے اور وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے محراب میں (ف 4) کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بشارت دیتے ہیں یحییٰ (علیہ السلام) کی جن کے احوال یہ ہونگے کہ وہ کلمتہ اللہ کی تصدیق کرنے والے ہونگے (ف 5) اور مقتداء ہونگے اور اپنے نفس کو (لذات سے) بہت روکنے والے ہونگے (ف 6) اور نبی بھی ہونگے اور اعلیٰ درجہ کے شائستہ ہونگے۔ (39)

ف 4۔ محراب سے مراد یا تو مسجد بیت المقدس کی محراب ہے یا مراد اس سے وہ مکان ہے جس میں حضرت مریم (علیہا السلام) کو رکھا کرتے تھے کیونکہ اس جگہ محراب کے معنی عمدہ مکان کے ہیں۔ 5۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی تصدیق کرنے والے ہوں گے، کلمة اللہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس لئے کہتے ہیں کہ وہ محض خدا تعالیٰ کے حکم سے خلاف عادت بلا واسطہ باپ کے پیدا کئے گئے۔ 6۔ لذات سے روکنے میں سب مباح خواہشوں سے بچنا داخل ہوگیا، اچھا کھانا، اچھا پہننا، نکاح کرنا وغیرہ وغیرہ۔