3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsبیان القرآن

Ayahs 3:40–42

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

زکریا نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میرے لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ مجھکو بڑھاپا آپہنچا اور میری بی بی بھی بچہ جننے کے قابل نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اسی حالت میں (لڑکا) ہوجاوے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ جو کچھ ارادہ کریں کردیتے ہیں۔ (40)

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میرے واسطے کوئی نشانی مقرر کردیجئیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہاری نشانی یہی ہے کہ تم لوگوں سے تین روز تک باتیں نہ کرسکو گے۔ بجز اشارہ کے اور اپنے رب کو (دل سے) بکثرت یاد کیجیو اور (زبان سے بھی) تسبیح (و تقدیس) کیجیو دن ڈھلے بھی اور صبح کو بھی (کہ اس کی قدرت رہیگی) ۔ (41)

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اور (وہ وقت قابل ذکر ہے) جب کہ فرشتوں نے کہا (ف 1) کہ اے مریم بلاشک اللہ تعالیٰ نے تم کو منتخب (یعنی مقبول) فرمایا ہے اور پاک بنایا ہے اور تمام جہان بھر کی بیبیوں کے مقابلے میں منتخب فرمایا ہے۔ (ف 2) (42)

ف 1۔ فرشتوں کا کلام کرنا خواص نبوت سے نہیں۔ 2۔ لفظ نساء سے جو کہ خاص ہے بالغہ کے ساتھ ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کہنا فرشتوں کا حضرت مریم (علیہا السلام) کے جوان ہونے کے بعد تھا اور اس بنا پر اصطفاء کے مکرر لانے کی یہ توجیہہ ہوسکتی ہے کہ پہلا اصطفاء بچپن کا ہو، اور اصطفاء ثانی جوانی کا ہو۔
Ayahs 3:43–44

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

اے مریم اطاعت کرتی رہو اپنے پروردگار کی اور سجدہ کیا کرو اور اور رکوع کیا کرو ان لوگوں کے ساتھ جو رکوع کرنے والے ہیں۔ (43)

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

یہ قصے منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں ہم ان کی وحی بھیجتے ہیں آپ کے پاس اور آپ ان لوگوں کے پاس نہ تو اس وقت موجود تھے جبکہ وہ (قرعہ کے طور پر) اپنے اپنے قلموں کو (پانی میں) ڈالتے تھے کہ ان سب میں کون شخص حضرت مریم ( علیہ السلام) کی کفالت کرے اور نہ آپ ان کے پاس اس وقت موجود تھے جب کہ باہم اختلاف کررہے تھے۔ (ف 3) (44)

ف 3۔ شریعت محمدیہ میں حنفیہ کے مسلک پر قرعہ کا یہ حکم ہے کہ جن حقوق کے اسباب شرع میں معلوم و متعین ہیں ان میں قرعہ ناجائز و داخل قمار ہے۔
Ayahs 3:45–47

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

(اس وقت کو یاد کرو) جب کہ فرشتوں نے (یہ بھی) کہا کہ اے مریم بیشک اللہ تعالیٰ تم کو بشارت دیتے ہیں ایک کلمہ کی جو منجانب اللہ ہوگا۔ اس کا نام (ولقب) مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا باآبرو ہونگے دنیا میں اور آخرت میں اور منجملہ مقرربین کے ہونگے۔ (45)

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

اور آدمیوں سے کلام کریں گے گہوارہ میں (یعنی بالکل بچپن میں بھی) اور بڑی عمر میں بھی اور شائستہ لوگوں میں سے ہونگے۔ (46)

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

(حضرت مریم (علیہ السلام) بولیں اے میرے پروردگار کس طرح ہوگا میرے بچہ حالانکہ مجھکو کسی بشر نے ہاتھ نہیں لگایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ویسے ہی (بلا مرد کے) ہوگا (کیونکہ) اللہ تعالیٰ جو چاہیں پیدا کردیتے ہیں۔ جب کسی چیز کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا بس وہ چیز ہوجاتی ہے۔ (ف 4) (47)

ف 4۔ یعنی کسی چیز کے پیدا ہونے کے لئے صرف ان کا چاہنا کافی ہے کسی واسطہ و سبب خاص کی ان کو حاجت نہیں۔
Ayahs 3:48–49

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ان کو تعلیم فرمادیں گے (آسمانی) کتابیں اور سمجھ کی باتیں اور (بالخصوص) توریت اور انجیل۔ (48)

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور ان کو (تمام) بنی اسرائیل کی طرف بھیجیں گے (پیغمبر بناکر) کہ میں تم لوگوں کے پاس (اپنی نبوت پر) کافی دلیل لے کر آیا ہوں تمہارے رب کی طرف سے وہ یہ ہے کہ میں تم لوگوں کے لیے گارے سے ایسی شکل بناتا ہوں جیسے پرندے کی شکل ہوتی ہے پھر اس کے اندر پھونک مار دیتا ہوں جس سے وہ (جاندار) پرندہ بن جاتا ہے خدا کے حکم سے اور میں اچھا کردیتا ہوں مادرزاد اندھے کو اور برص (جذام) کے بیمار کو اور زندہ کردیتا ہوں مردوں کو خدا کے حکم سے (ف 5) ۔ اور میں تم کو بتلا دیتا ہوں جو کچھ اپنے گھروں میں کھا (کر) آتے ہو اور جو رکھ آتے ہو بلاشبہ ان میں (میری نبوت کی) کافی دلیل ہے تم لوگوں کے لیے اگر تم ایمان لانا چاہو۔ (49)

ف 5۔ پرندہ کی شکل بنانا تصویر تھا جو اس شریعت میں جائز تھا، ہماری شریعت میں اس کا جواز منسوخ ہوگیا، اور ابرء اکمہ و ابرص کا امکان اگر اسباب طبعیہ سے ثابت ہوجاوے تو وجہ اعجاز یہ تھی کہ بلا اسباب طبعیہ ابراء واقع ہوجاتا تھا۔
Ayahs 3:50–54

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور ( میں اس طور پر آیا ہوں کہ) تصدیق کرتا ہوں اس کتاب کی جو مجھ سے پہلے تھی یعنی توراة کی اور اس لیے آیا ہوں کہ تم لوگوں کے واسطے بعضی ایسی چیزیں حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی تھیں اور میں تمہارے پاس دلیل (نبوت) لے کر آیا ہوں تمہارے رب کے پاس سے سو تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔ (50)

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ میرے بھی رب ہیں سو تم لوگ اس کی عبادت کرو بس یہ ہے راہ راست۔ (51)

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

سو جب حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے ان سے انکار دیکھا تو آپ نے فرمایا کوئی ایسے آدمی بھی ہیں جو میرے مددگار ہوجاویں اللہ کے واسطے حواریین بولے کہ ہم ہیں مددگار اللہ (کے دین) کے ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور آپ اس کے گواہ رہئیے کہ ہم فرمابردار ہیں۔ (52)

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے ان چیزوں (یعنی احکام) پر جو آپ نے نازل فرمائیں اور پیروی اختیار کی ہم نے (ان) رسول کی سو ہم کو ان لوگوں کے ساتھ لکھ دیجئیے جو تصدیق کرتے ہیں۔ (53)

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے خفیہ تدبیر کی (ف 1) اور اللہ تعالیٰ نے خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ تعالیٰ سب تدبیریں کرنیوالوں سے اچھے ہیں۔ (ف 2) (54)

ف 1۔ چناچہ مکر و حیلہ سے آپ کو گرفتار کر کے سولی دینے پر آمادہ ہوگئے۔ 2۔ ایک اور شخص کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکل بنادیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا، جس سے وہ محفوظ رہے، اور وہ ہم شکل سولی دیا گیا۔
Ayah 3:55

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 3:55 in the Quran reader

جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ (کچھ غم نہ کرو) بیشک میں تم کو (ف 3) وفات دینے والا ہوں اور (فی الحال) میں تم کو اپنی طرف اٹھائے لیتا ہوں (ف 4) اور تم کو ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں جو منکر ہیں۔ (ف 5) اور جو لوگ تمہارا کہنا ماننے والے ہیں ان کو غالب رکھنے والا ہوں ان لوگوں پر جو کہ (تمھارے) منکر ہیں روز قیامت تک۔ (ف 6) پھر میری طرف ہوگی سب کی واپسی سو میں تمہارے درمیان (عملی) فیصلہ کردوں گا ان امور میں جن میں تم باہم اختلاف کرتے تھے۔ (55)

ف 3۔ یعنی اپنے وقت موعود پر طبعی موت سے وفات دینے والا ہوں، اس سے مقصود بشارت دینا تھا حفاظت من الاعداء کی، یہ وقت موعود اس وقت آوے گا جب قرب قیامت کے زمانہ میں عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے زمین پر تشریف لاویں گے، جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے۔ 4۔ یہ وعدہ عالم بالا کی طرف فی الحال اٹھالینے کا ہے۔ چناچہ یہ وعدہ ساتھ کے ساتھ پورا کیا گیا جس کے ایفاء کی خبر سورة نساء میں دی گئی ہے رفعہ اللہ الیہ اب زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ اگرچہ پہلا وعدہ پیچھے پورا ہوگا، لیکن مذکور پہلے ہے، کیونکہ یہ مثل دلیل کے ہے وعدہ روم کے لئے اور دلیل رتبة مقدم ہوتی ہے اور داود چونکہ ترتیب کے لئے موضوع نہیں، لہذا اس تقدیم و تاخیر میں کوئی اشکال نہیں۔ 5۔ اس وعدہ کا ایفاء اس طرح ہوا کہ جناب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور یہود کے سب بےجا الزامات اور افتراوں کو جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذمہ لگاتے تھے صاف کردیا۔ 6۔ یہاں اتباع سے مراد خاص اتباع ہے، یعنی اعتقاد نبوت، پس مصداق متبعین کے وہ لوگ ہیں جو آپ کی نبوت کے معتقد ہیں، سو اس میں نصاری اور اہل اسلام دونوں شامل ہیں۔ اور منکرین سے مراد یہود ہیں جو منکرنبوت عیسویہ تھے، پس حاصل یہ ہوا کہ امت محمدیہ اور نصاری ہمیشہ یہود پر غالب رہیں گے۔
Ayahs 3:56–61

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:56 in the Quran reader

تفصیل (فیصلہ کی) یہ ہے کہ جو لوگ (ان اختلاف کرنے والوں میں) کافر تھے سو ان کو سخت سزادوں گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور ان لوگوں کا کوئی حامی (وطرفد ار) نہ ہوگا۔ (56)

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:57 in the Quran reader

اور جو لوگ مومن تھے اور انہوں نے نیک کام کیے تھے سو ان کو اللہ تعالیٰ (ان کے ایمان اور نیک کام کا) ثواب دینگے اور اللہ تعالیٰ محبت نہیں رکھتے ظلم کرنے والوں سے۔ (57)

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ Open ayah 3:58 in the Quran reader

یہ ہم تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں جو منجملہ (آپ کے) دلائل (نبوت) کے ہیں اور منجملہ حکمت آمیز مضامین کے ہے۔ (58)

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:59 in the Quran reader

بیشک حالت عجیبہ (حضرت) عیسیٰ کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشابہ حالت عجیبہ (حضرت) آدم کے ہے کہ ان (کے قالب) کو مٹی سے بنایا پھر ان کو حکم دیا کہ (جاندار) ہوجا، بس وہ (جاندار) ہوگئے۔ (59)

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 3:60 in the Quran reader

یہ امر واقعی آپ کے پروردگار کی طرف سے (بتلایا گیا) ہے سو آپ شبہ کرنے والوں میں سے نہ ہوجئیے۔ (60)

فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 3:61 in the Quran reader

پس جو شخص آپ سے اس (عیسیٰ (علیہ السلام) کے باب) میں (اب بھی) حجت کرے آپ کے پاس علم (قطعی) آئے پیچھے تو آپ فرمادیجئیے کہ آجاؤ ہم ( اور تم) بلالیں اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور خود اپنے تنوں کو اور تمہارے تنوں کو پھر ہم ( سب مل کر) خوب دل سے دعا کریں اس طور سے کہ اللہ کی لعنت بھیجیں ان پر جو (اس بحث میں) ناحق پر ہوں۔ (ف 1) (61)

ف 1۔ آیت میں اپنے تن سے مراد تو خود اہل مباحثہ ہیں اور نساء سے خاص زوجہ مراد نہیں، بلکہ اپنے گھر کی تمام عورتیں مراد ہیں، جس میں دختر بھی شامل ہے۔ چناچہ آپ بوجہ اس کے کہ حضرت فاطمہ سب اولاد میں زیادہ عزیز تھیں ان کو لائے۔ اسی طرح بنائنا سے خاص صلبی اولاد مراد نہیں بلکہ عام ہے، اولاد کی اولاد کو بھی اور ان کو بھی جو مجازا اولاد کہلاتے ہوں، یعنی عرفا مثل اولاد کے سمجھے جاتے ہوں، اس مفہوم میں نواسے اور داماد بھی داخل ہیں، چناچہ آپ حضرات حسنین اور حضرت علی ؓ کو لائے۔ مباہلہ اب بھی حاجت کے وقت جائز اور مشروع ہے۔ مباہلہ کا انجام کہیں تصریحا تو نظر سے نہیں گزرا، مگر حدیث میں قصہ مذکور کے متعلق اتنا مذکور ہے کہ اگر وہ لوگ مباہلہ کرلیتے تو ان کے اہل اور اموال سب ہلاک ہوجاتے۔
Ayahs 3:62–71

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:62 in the Quran reader

بیشک یہ (جو کچھ مذکور ہوا) وہی ہے سچی بات اور کوئی معبود (ہونے کے لائق) نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے اور بلاشک اللہ تعالیٰ ہی غلبہ والے حکمت والے ہیں۔ (62)

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 3:63 in the Quran reader

پھر (بھی) اگر سرتابی کریں تو بیشک اللہ تعالیٰ خوب جاننے والے ہیں فساد والوں کو۔ (63)

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:64 in the Quran reader

آپ فرمادیجئیے کہ اے اہل کتاب آو ٴ ایک ایسی بات کی طرف جو کہ ہمارے اور تمہارے درمیان (مسلم ہونے میں) برابر ہے وہ یہ کہ بجز اللہ تعالیٰ کے ہم کسی اور کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں اور ہم میں سے کوئی کسی دوسرے کو رب نہ قرار دے خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر پھر اگر وہ لوگ (حق سے) اعراض کریں تو تم لوگ کہہ دو کہ تم (ہمارے) اس (اقرار) کے گواہ رہو کہ ہم تو ماننے والے ہیں۔ (64)

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:65 in the Quran reader

اے اہل کتاب کیوں حجت کرتے ہو (حضرت) ابراہیم کے بارے میں حالانکہ نہیں نازل کی گئی تورات اور انجیل مگر ان کے (زمانہ کے بہت) بعد۔ کیا پھر سمجھتے نہیں ہو۔ (65)

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:66 in the Quran reader

ہاں تم ایسے ہو کہ ایسی بات میں تو حجت کر ہی چکے تھے جس سے تم کو کسی قدر تو واقفیت تھی سو ایسی بات میں کیوں حجت کرتے ہو جس سے تم کو اصلا واقفیت نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور تم نہیں جانتے۔ (66)

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:67 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) نہ تو یہودی تھے اور نہ نصرانی تھے و لیکن (البتہ) طریق مستقیم والے (یعنی) صاحب اسلام تھے۔ اور مشرکین میں سے (بھی) نہ تھے۔ (67)

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:68 in the Quran reader

بلاشبہ سب آدمیوں میں زیادہ خصوصیات رکھنے والے (حضرت) ابراہیم کے ساتھ البتہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ان کا اتباع کیا تھا اور یہ نبی ﷺ ہیں اور یہ ایمان والے اور اللہ تعالیٰ حامی ہیں ایمان والوں کے۔ (68)

وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 3:69 in the Quran reader

دل سے چاہتے ہیں بعضے لوگ اہل کتاب میں سے اس امر کو کہ تم کو (دین حق سے) گمراہ کردیں۔ اور وہ کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے مگر خود اپنے آپ کو اور اس کی اطلاع نہیں رکھتے۔ (69)

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 3:70 in the Quran reader

اے اہل کتاب کیوں کفر کرتے ہو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ حالانکہ تم اقرار کرتے ہو۔ (70)

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 3:71 in the Quran reader

اے اہل کتاب کیوں مخلوط کرتے ہو واقعی (مضمون یعنی نبوت محمدیہ) کو غیر واقعی سے اور چھپاتے ہو واقعی بات کو حالانکہ تم جانتے ہو۔ (ف 1) (71)

ف 1۔ دونوں جو تشہدون اور تعلمون فرمایا، تو اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ عدم اقرار یا عدم علم کی حالت میں کفر جائز ہے، قبیح ذاتی تو کسی حال میں جائز ہو ہی نہیں سکتا، بلکہ وجہ یہ ہے کہ اقرار اور علم کے وقت کفر اور زیادہ قابل ملامت ہے۔ اوپر مذکور تھا کہ بعض اہل کتاب مسلمانوں کے اضلال کی فکر میں رہتے ہیں۔ آگے ان کی ایک تدبیر کا بیان فرماتے ہیں جس کو اضلال مومنین کے لئے انہوں نے تجویز کیا تھا۔
Ayah 3:72

وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ Open ayah 3:72 in the Quran reader

اور بعضے لوگوں نے اہل کتاب میں سے کہا کہ ایمان لے آؤ اس پر جو نازل کیا گیا ہے مسلمانوں پر (یعنی قرآن پر) شروع دن میں اور (پھر) انکار کر بیٹھو آخر دن میں (یعنی شام کو) عجب کیا وہ پھر جاویں۔ (ف 2) (72)

ف 2۔ یعنی مسلمان یہ خیال کریں کہ یہ لوگ علم والے ہیں اور بےتعصب بھی ہیں کہ اسلام قبول کرلیا، اس پر بھی جو یہ پھرگئے، تو ضرور اسلام کا غیر حق ہونا ان کو دلائل علمیہ سے ثابت ہوگیا ہوگا، اور ضرور انہوں نے اسلام میں کوئی خرابی دیکھی ہوگی جب تو اس سے پھرگئے۔
Ayah 3:73

وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ Open ayah 3:73 in the Quran reader

اور (صدق دل سے کسی کے روبرو) اقرار مت کرنا مگر ایسے شخص کے روبرو جو تمہارے دین کا پیرو ہو (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ یقینا ہدایت، اللہ کی ہدایت ہے (ایسی باتیں اس لیے کرتے ہو) کہ کسی اور کو بھی ایسی چیز مل رہی ہے جیسی تم کو ملی تھی یا اور لوگ تم پر غالب آجاویں تمہارے رب کے نزدیک (ف 3) (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئیے کہ بیشک فضل تو خدا کے قبضے میں ہے۔ وہ اس کو جسے چاہیں عطا فرمائیں۔ اور اللہ بڑی وسعت والے ہیں خوب جاننے والے ہیں۔ (73)

ف 3۔ حاصل آیت یہ ہوا کہ تم کو مسلمانوں سے حسد ہے کہ ان کو آسمانی کتاب کیوں مل گئی یا یہ لوگ ہم پر مذہبی مناظرہ میں کیوں غالب آتے ہیں، اس حسد کی وجہ سے اسلام اور اہل اسلام کے تنزل کی کوشش کر رہے ہیں۔
Ayahs 3:74–75

یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 3:74 in the Quran reader

خاص کردیتے ہیں اپنی رحمت (وفضل) کے ساتھ جس کو چاہیں۔ اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں۔ (74)

وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:75 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے بعض شخص ایسا ہے کہ (اے مخاطب) اگر تم اس کے پاس انبار کا انبار مال بھی امانت رکھ دو تو وہ (مانگنے کے ساتھ ہی) اسکو تمہارے پاس لارکھے۔ اور ان ہی میں سے بعض وہ شخص ہے کہ اگر تم اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھ دو تو وہ بھی تم کو ادا نہ کرے مگر جب تک کہ تم اس کے سر پر کھٹے نہ رہو۔ یہ (امانت کا ادا نہ کرنا) اس سبب سے ہے کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر غیر اہل کتاب کے ( مال کے) بارے میں کسی طرح کا الزام نہیں (ف 4) اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ لگاتے ہیں اور (دل میں) وہ بھی جانتے ہیں۔ (ف 5) (75)

ف 4۔ یعنی غیر اہل کتاب مثلا قریش کا مال چرا لینا یا چھین لینا سب جائز ہے۔ 5۔ اس آیت میں جن بعض کی امانت کی مدح کی گئی ہے اگر ان بعض سے وہ لوگ مراد ہیں جو اہل کتاب میں سے ایمان لے آئے تھے، تب تو مدح میں کوئی اشکال نہیں اور اگر خاص مومن مراد نہ ہوں، بلکہ مطلقا اہل کتاب میں سے امین اور خائن دونوں کا ذکر کرنا مقصود ہے تو مدح باعتبار عنداللہ کے نہیں کیونکہ بدون ایمان کے کوئی عمل صالح مقبول نہیں ہوتا، بلکہ مدح اس اعتبار سے ہے کہا چھی ابت گو کفر کی ہو کسی درجہ میں اچھی ہے۔
Ayahs 3:76–78

بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:76 in the Quran reader

(کہ خائن پر) الزام کیوں نہ ہوگا جو شخص اپنے عہد کو پورا کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرے تو بیشک اللہ تعالیٰ محبوب رکھتے ہیں (ایسے) متقیوں کو۔ (76)

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:77 in the Quran reader

یقینا جو لوگ معاوضہٴ حقیر لے لیتے ہیں بمقابلہ اس عہد کے جو اللہ تعالیٰ سے (انہوں نے) کیا ہے اور (بمقابلہ) اپنی قسموں کے ان لوگوں کو کچھ حصہ آخرت میں (وہاں کی نعمت کا) نہ ملے گا اور نہ خدا تعالیٰ ان سے (لطف کا) کلام فرماویں گے اور نہ ان کی طرف (نظر محبت سے) دیکھیں گے قیامت کے روز اور نہ ان کو پاک کریں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ (77)

وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:78 in the Quran reader

اور بیشک ان میں سے بعضے ایسے ہیں کہ کج کرتے ہیں اپنی زبانوں کو کتاب (پڑھنے) میں۔ تاکہ تم لوگ اس (ملائی ہوئی چیز) کو (بھی) کتاب کا جزو سمجھو حالانکہ وہ کتاب کا جزو نہیں اور کہتے ہیں کہ یہ (لفظ یہ مطلب) خدا کے پاس سے ہے حالانکہ وہ (کسی طرح) خدا تعالیٰ کے پاس سے نہیں اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں اور وہ جانتے ہیں۔ (ف 1) (78)

ف 1۔ ممکن ہے کہ تحریف لفظی کرتے ہوں اور ممکن ہے کہ تفسیر غلط بیان کرتے ہوں تحریف لفظی میں تو دعوی ہوتا ہے کہ یہ لفظ منزّل من اللہ ہے اور غلط تفسیر میں یہ تو نہیں ہوتا لیکن یہ دعوی ہوتا ہے کہ یہ تفسیر قواعد شرعیہ سے ثابت ہے اور قواعد شرعیہ کا من جانب اللہ ہونا ظاہر ہے ایک صورت میں جزو ہونے کا دعوی ہوگا ایک صورت میں معنی جزو کتاب ہونے کا دعوی ہوگا بایں معنی کہ جزو ثابت بالشرع ہے اور ہر ثابت بالشرع حقیقتا ثابت بالکتاب ہے۔
Ayah 3:79

مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 3:79 in the Quran reader

کسی بشر سے یہ بات نہیں ہوسکتی کہ اللہ تعالیٰ اس کو کتاب اور فہم اور نبوت عطا فرماویں پھر وہ لوگوں سے کہنے لگے کہ میرے بندے بن جاؤ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کرو لیکن کہے گا کہ تم لوگ اللہ والے بن جاؤ بوجہ اس کے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور بوجہ اس کے کہ پڑھتے ہو۔ (ف 2) (79)

ف 2۔ بنی سے امر بعبادت غیر اللہ شرعا منفی ومحال ہے۔