3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsبیان القرآن

Ayahs 3:160–161

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

اگر حق تعالیٰ تمہارا ساتھ دیں تب تو تم سے کوئی نہیں جیت سکتا اور اگر تمہارا ساتھ نہ دیں تو اس کے بعد ایسا کون ہے جو تمہارا ساتھ دے ( اور غالب کردے) اور صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان والوں کو اعتماد کرنا چاہیے۔ (160)

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ خیانت کرے۔ حالانکہ جو شخص خیانت کرے گا وہ شخص اپنی خیانت کی ہوئی چیز کو قیامت کے دن حاضر کرے گا پھر ہر شخص کو اس کے کیے کا پورا عوض ملے گا اور ان پر بالکل ظلم نہ ہوگا۔ (ف 4) (161)

ف 4۔ انبیاء علیم السلام کا امین ہونا یہاں دلیل سے ثابت کیا گیا ہے۔
Ayahs 3:162–164

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

سو ایسا شخص جو کہ رضائے حق کا تابع ہو کیا وہ اس شخص کے مثل ہوجائے گا جو کہ غضب الہیٰ کا مستحق ہو اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہو۔ اور وہ جانے کی بری جگہ ہے۔ (162)

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

یہ (مزکورین) درجات میں مختلف ہونگے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور اللہ تعالیٰ خوب دیکھتے ہیں ان کے اعمال کو۔ (163)

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر احسان کیا جب کہ ان میں ان ہی کی جنس سے ایک ایسے پیغمبر کو بھیجا کہ وہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اور ان لوگوں کی صفائی کرتے رہتے ہیں اور ان کو کتاب اور فہم کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں۔ اور بالیقین یہ لوگ قبل سے صریح غلطی میں تھے۔ (ف 1) (164)

ف 1۔ یہ جو فرمایا کہ ان ہی کی جنس سے تو اس میں مفسرین کے کئی قول ہیں بعض نے کہا کہ ان کے نسب سے یعنی قریش ہے بعض نے کہا کہ عرب سے بعض کہا کہ بنی آدم سے اور یہی زیادہ مناسب ہے کیونکہ لفظ مومنین اس جگہ عام ہے اور انفسھم کی ضمیر اسی طرف عائد ہے پس صفت عام کے ساتھ تفسیر کرنا اوفق ہے۔
Ayahs 3:165–168

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

اور جب تمہاری ایسی ہار ہوئی جس سے دو حصے تم جیت چکے تھے تو کیا ایسے وقت میں تم یوں کہتے ہو کہ یہ کدہر سے ہوئی۔ آپ فرمادیجئیے کہ یہ ہار خاص تمہاری طرف سے ہوئی بیشک اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے۔ (165)

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جو مصیبت تم پر پڑی جس روز کے وہ دونوں گروہ باہم مقابل ہوئے سو خدا تعالیٰ کی مشیت سے ہوئی اور تاکہ اللہ تعالیٰ مومنین کو بھی دیکھ لیں۔ (166)

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو بھی دیکھ لیں جنہوں نے نفاق کا برتاؤ کیا۔ اور ان سے یوں کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں لڑنا یا دشمنوں کا دفعیہ بن جانا۔ وہ بولے کہ اگر ہم کوئی ڈھنگ کی لڑائی دیکھتے تو ضرور تمہارے ساتھ ہولیتے۔ یہ (منافقین) اس روز کفر سے نزدیک تر ہوگئے بہ نسبت اس حالت کے کہ وہ ایمان سے نزدیک تھے یہ لوگ اپنے منہ سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ اپنے دل میں رکھتے ہیں۔ (167)

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

یہ ایسے لوگ ہیں کہ اپنے بھائیوں کی نسبت بیٹھے ہوئے باتیں بناتیں ہیں کہ اگر ہمارا کہنا مانتے تو قتل نہ کیے جاتے۔ آپ فرمادیجئیے کہ اچھا تو اپنے اوپر سے موت کو ہٹاؤ اگر تم سچے ہو۔ (ف 2) (168)

ف 2۔ اس واقعہ ہزیمت میں جو صحابہ کی عتاب کے بعد جابجا تسکین کی گئی تو اس سے نافرمانی کرنے والے دھوکہ نہ کھادیں کہ ہم سے جو گناہ ہوتے ہیں اس میں بھی مشیت و حکمت الہییہ ہوتی ہے پھر غم کی کوئی بات نہیں بات یہ ہے کہ اول تو صحابہ سے خطا ایسا ہوا قصدا مخالفت نہ تھا دوسرے ان پر ندامت اور غم کا بےانتہا غلبہ تھا جو اعلی درجہ ہے توبہ کا اس لیے ان کی تسلی کی گئی اور جو قصدا گناہ کرے پھر اس پر کرے جرات، وہ مستحق تسلی نہیں بلکہ مستحق تخویف وعید ہے۔
Ayahs 3:169–171

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

اور (اے مخاطب) جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ان کو مردہ مت خیال کر بلکہ وہ لوگ زندہ ہیں اپنے پروردگار کے مقرب ہیں ان کو رزق بھی ملتا ہے۔ (169)

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

وہ خوش ہیں اس چیز سے جو ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے عطا فرمائی اور جو لوگ ان کے پاس نہیں پہنچے ان سے پیچھے رہ گئے ہیں ان کی بھی اس حالت پر وہ خوش ہوتے ہیں کہ ان پر بھی کسی طرح کا خوف واقع ہونے والا نہیں اور نہ وہ مغموم ہونگے۔ (170)

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

وہ خوش ہوتے ہیں بوجہ نعمت وفضل خداوندی کے اور بوجہ اس کے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا اجر ضائع نہیں فرماتے۔ (ف 3) (171)

ف 3۔ اوپر غزوہ احدکاقصہ مذکور ہوچکا آگے اس سے متعلق ایک دوسرے غزوہ کا ذکر ہے جو غزوہ حمراء الاسد کے نام سے مشہور ہے وہ یہ کہ جب کفار قریش میدان احد سے مکہ واپس ہوئے تو رستہ میں جا کر اس پر افسوس کیا کہ باوجود غالب آجانے کے لوٹ آئے سو اب چل کر سب کا استیصال کردیں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور پھر وہ مکہ ہی کی طرف ہولیے لیکن بعض راہ گیروں سے کہہ گئے کہ کسی تدبیر سے مسلمانوں کے دل میں ہمارا رعب جمادیا جائے آپ کو وحی سے یہ امر معلوم ہوگیا اور آپ ان کے تعاقب میں مقام حمراء الاسد تک پہنچے حمراء الاسد مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلہ پر ہے وہاں آپ نے تین روز قیام فرمایا اس مقام پر ایک قافلہ تجار کا گزر رسول اللہ نے ان سے مال تجارت خرید فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس میں نفع دیا حضور ﷺ نے وہ نفع ہمراہی مسلمانوں کو تقسیم فرمایا آیات آئندہ میں اسی قصہ کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 3:172–175

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ و رسول کے کہنے کو قبول کرلیا بعد اس کے کہ ان کو زخم لگا تھا ان لوگوں میں جو نیک اور متقی ہیں ان کے لیے ثواب عظیم ہے۔ (172)

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

یہ ایسے لوگ ہیں کہ لوگوں نے ان سے کہا کہ ان لوگوں نے تمہارے لیے (سامان) جمع کیا ہے سو تم کو ان سے اندیشے کرنا چاہئیے تو اس نے ان کے ایمان کو اور زیادہ کردیا۔ اور کہہ دیا کہ ہم کو حق تعالیٰ کافی ہے اور وہی سب کام سپرد کرنے کے لیے اچھا ہے۔ (173)

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

پس یہ لوگ خدا کی نعمت اور فضل سے بھرے ہوئے واپس آئے کہ ان کو کوئی ناگواری ذرا پیش نہیں آئی اور وہ لوگ رضائے حق کے تابع رہے اور اللہ تعالیٰ بڑا فضل والا ہے۔ (174)

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

اس سے زیادہ کوئی بات نہیں کہ یہ شیطان ہے کہ اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے سو تم ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرنا اگر تم ایمان والے ہو۔ (ف 1) (175)

ف 1۔ اوپر منافقین کی بےوفائی اور بدخواہی کا ذکر تھا جناب رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک پر ان کی ان حرکات کا رنج ہوا ہوگا حق تعالیٰ آیت آئندہ میں آپ کو تسلی دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ضمنا وتبعا جمیع کفار کے معاملہ کے متعلق خواہ کوئی ہو آپ کی تسلی فرماتے ہیں تاکہ آپ کے قلب پر اب یا آئندہ ان کی اور دوسروں کی طرف سے کبھی ضد غالب نہ ہو۔
Ayahs 3:176–178

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور آپ کے لئے وہ موجب غم نہ ہونے چاہئیں جو جلدی سے کفر میں جاپڑتے ہیں۔ یقینا وہ لوگ اللہ کو ذرہ برابر بھی ضرر نہیں پہنچاسکتے اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ آخرت میں ان کو اصلا بہرہ نہ دے اور ان لوگوں کو سزائے عظیم ہوگی۔ (176)

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

یقینا جن لوگوں نے ایمان کی جگہ کفر کو اختیار کر رکھا ہے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو ذرہ برابر ضرر نہیں پہنچاسکتے اور ان کو دردناک سزا ہوگی۔ (177)

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور جو لوگ کفر کررہے ہیں وہ یہ خیال ہرگز نہ کریں کہ ہمارا ان کو مہلت دینا ان کے لیے بہتر ہے ہم ان کو صرف اس لیے مہلت دے رہے ہیں تاکہ جرم میں ان کو اور ترقی ہوجاوے اور ان کو توہین آمیز سزا ہوگی۔ (ف 2) (178)

ف 2۔ اس آیت سے کوئی یہ شبہ نہ کرے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسی لیے مہلت دی ہے کہ اور زیادہ جرم کرنے سے عذاب کیوں ہوگا اصل سبب امہال کا زیادہ عقوبت ہے لیکن اس سبب کے سبب یعنی ازدیار اثم کو جو باختیار عبد ہے قائم مقام سبب بغرض افادہ بلاغت کلام کردیا گیا۔
Ayah 3:179

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس حالت پر رکھنا نہیں چاہتے جس پر تم اب ہو جب تک کہ ناپاک کو پاک سے متمیز نہ فرمادیں اور اللہ تعالیٰ ایسے امورغیبیہ پر تم کو مطلع نہیں کرتے و لیکن ہاں جس کو خود چاہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں ان کو منتخب فرمالیتے ہیں۔ پس اب اللہ پر اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لے آؤ (ف 3) اور اگر تم ایمان لے آؤ اور پرہیز رکھو تو پھر تم کو اجر عظیم ہے۔ (179)

ف 3۔ یہ جو فرمایا سب رسولوں پر ایمان لاو حالانکہ مقام مقتضی ہے ذکر ایمان بہ محمد ﷺ کو۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ آپ پر بھی ایمان جب ہی متحقق ہوگا جب سب کو مانے کیونکہ ایک کی تکذیب سب کی تکذیب ہے۔
Ayah 3:180

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

اور ہرگز خیال نہ کریں ایسے لوگ جو ایسی چیز میں بخل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے دی ہے کہ یہ بات کچھ ان کے لیے اچھی ہوگی بلکہ یہ بات ان کے لیے بہت ہی بری ہے وہ لوگ قیامت کے روزطوق پہنادئیے جائیں گے اس کا جس میں انہوں نے بخل کیا تھا۔ اور اخیر میں آسمانوں و زمین اللہ ہی کا رہ جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے سب اعمال کی پوری خبر رکھتے ہیں۔ (ف 1) (180)

ف 1۔ اس طوق پہنائے جانے کی کیفیت حدیث بخاری میں آئی ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کو خدا تعالیٰ مال دے اور وہ اس کی زکوة نہ دے تو اس کا وہ مال قیامت کے روز ایک زہریلے سانپ کی شکل بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا اور وہ اس شخص کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں تیرا سرمایہ ہوں پھر حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔
Ayahs 3:181–183

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ نے سن لیا ہے ان لوگوں کا قول جنہوں نے یوں کہا کہ اللہ تعالیٰ مفلس ہے اور ہم مالدار ہیں ہم ان کے کہے ہوئے کو لکھ رہے ہیں (ف 2) اور ان کا انبیاء کو ناحق قتل کرنا بھی۔ اور ہم کہیں گے کہ چکھو آگ کا عذاب۔ (181)

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

یہ ان اعمال کی وجہ سے ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں سمیٹے ہیں اور یہ امر ثابت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والے نہیں۔ (182)

اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:183 in the Quran reader

وہ ایسے لوگ ہیں کہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو حکم فرمایا تھا کہ ہم کسی پیغمبر پر اعتقاد نہ لاویں جب تک کہ ہمارے سامنے معجزہ نذر ونیاز خداوندی کا ظاہر نہ کرے کہ اس کو آگ کھا جاوے (ف 3) آپ فرمادیجئیے کہ بالیقین بہت سے پیغمبر مجھ سے پہلے بہت سے دلائل لے کر آئے اور خود یہ معجزہ بھی جس کو تم کہہ رہے ہو سو تم نے ان کو کیوں قتل کیا تھا۔ اگر تم سچے ہو۔ (183)

ف 3۔ پہلے بعض انبیاء کا یہ معجزہ ہوا ہے کہ کوئی چیز جاندار یا غیر جاندار اللہ کے نام کی نکال کر کسی میدان یا پہاڑ پر رکھ دی غیب سے ایک آگ نمودا رہوئی اور اس چیز کو جلا دیا۔
Ayah 3:184

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 3:184 in the Quran reader

سو اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کریں تو بہت سے پیغمبروں کی جو آپ سے پہلے گزرے ہیں تکذیب کی جاچکی ہے (ف 4) جو معجزات لے کر آئے تھے اور صحیفے لے کر اور روشن کتاب لے کر۔ (ف 5) (184)

ف 4۔ جب اوروں کی بھی تکذیب ہوچکی ہے تو آپ کی تکذیب کوئی نئی بات نہیں پھر غم کیا ؟۔ 5۔ یعنی بعض معجزے لائے بعض چھوٹی کتابیں اور بعض بڑی کتابیں جیسے تورات، انجیل۔ اور چونکہ کتاب سے بڑی کتاب مراد ہے اور بڑی کتاب شان اور مضامین میں زیادہ ہوگی اس لیے اس کی صفات میں منیر فرمایا کہ اس میں شان و مضامین دونوں کے اعتبار سے معنی ظہور کے زیادہ ہوں گے۔
Ayah 3:185

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 3:185 in the Quran reader

ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تم کو پوری پاداش تمہاری قیامت ہی کے روز ملے گی تو جو شخص دوزخ سے بچالیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا سو پورا کامیاب وہ ہوا۔ اور دنیاوی زندگی تو کچھ بھی نہیں مگر صرف دھوکے کا سودا ہے۔ (ف 6) (185)

ف 6۔ یہ جو فرمایا کہ دھوکے کا سودا تو اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ دنیوی زندگی سب کے لیے مضر ہے مطلب تشبیہ سے صرف یہ ہے کہ یہ اصلی مقصود بنانے کے قابل نہیں۔
Ayah 3:186

لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ Open ayah 3:186 in the Quran reader

البتہ آگے اور آزمائے جاؤ گے اپنے مالوں میں اور اپنی جانوں میں اور البتہ آگے کو اور سنو گے بہت سی باتیں دل آزاری کی ان لوگوں سے جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے ہیں اور ان لوگوں سے جو کہ مشرک ہیں (ف 7) اور اگر صبر کروگے اور پرہیز رکھو گے تو یہ تاکیدی احکام میں سے ہے۔ (ف 8) (186)

ف 7۔ آزمانے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے حوادث تم پر وقتا فوقتا واقع ہوا کریں گے اس کو مجازا آزمانا کہہ دیا ورنہ اللہ تعالیٰ آزمانے کے حقیقی معنی سے پاک ہیں کیونکہ وہ عالم الغیب ہیں۔ 8۔ صبر کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ تدبیر نہ کرو یا مواقع انتقام میں انتقام نہ لو یا مواقع قتال میں قتال نہ کرو بلکہ حوادث میں دل تنگ نہ ہوں کیونکہ اس میں تمہارے لیے منافع ومصالح ہیں اور تقوی یہ کہ خلاف شرع امور سے بچو گوتدبیر بھی کی جائے۔
Ayahs 3:187–188

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ Open ayah 3:187 in the Quran reader

اور جب کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے یہ عہد لیا کہ اس (کتاب) کو عام لوگوں کے روبرو ظاہر کردینا اور اس کو پوشیدہ مت کرنا سو ان لوگوں نے اس کو اپنی پس پشت پھینک دیا اور اس کے مقابلے میں کم حقیقت معاوضہ لیاسو بری چیز ہے جس کو وہ لوگ لے رہے ہے۔ (187)

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:188 in the Quran reader

ہرگز مت خیال کرو کہ جو لوگ ایسے ہیں کہ اپنے کردار (بد) پر خوش ہوتے ہیں۔ اور جو کام نہیں کیا اس پر چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف ہو سو ایسے شخصونکو ہرگز مت خیال کرو کہ وہ خاص طور کے عذاب سے بچاؤ میں رہیں گے بلکہ ان کو دردناک سزا ہوگی۔ (ف 1) (188)

ف 1۔ کردار بدیہی کے احکام کو چھپاتے تھے اور جو نیک کام نہیں کیا اس سے مراد اظہار حق ہے جس کو وہ نہ کرتے تھے لیکن دوسروں کو یقین دلانا چاہتے تھے کہ ہم اظہار حق کرتے ہیں تاکہ ان کا خداع معلوم نہ ہو چناچہ جناب رسول اللہ ﷺ کے روبرو بھی یہود نے یہ جرات کی۔
Ayah 3:189

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 3:189 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں کی اور زمین کی اور اللہ تعالیٰ ہر شے پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔ (ف 2) (189)

ف 2۔ پس چونکہ وہ سلطان حقیقی ہیں سب پر ان کا حکم ماننا ضروری ہے اور نافرمانی جرم ہے اور چونکہ وہ قادر ہیں اس لیے جرم کی سزا دے سکتے ہیں اور چونکہ انہوں نے اس سزا کی خبر دی ہے اس لیے ضرور سزادیں گے اور چونکہ یہ صفات ان کے ساتھ خاص ہیں لہذا ان کے سزادیے ہوئے کو کوئی بچا نہیں سکتا۔
Ayahs 3:190–191

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ Open ayah 3:190 in the Quran reader

بلاشبہ آسمانوں اور زمین کے بنانے میں اور یکے بعد دیگرے رات اور دن کے آنے جانے میں دلائل ہیں اہل عقل کے لیے جن کی یہ حالت ہے کہ۔ (190)

الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا١ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 3:191 in the Quran reader

وہ لوگ اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے بھی بیٹھے بھی لیٹے بھی اور آسمانوں اور زمین کے پیدا ہونے میں غور کرتے ہیں ( اور کہتے ہیں کہ) اے ہمارے پروردگار آپ نے اس کو لایعنی پیدا نہیں کیا (ف 3) ہم آپ کو منزہ سمجھتے ہیں سو ہم کو عذاب دوزخ سے بچالیجئے۔ (191)

ف 3۔ بلکہ اس میں حکمتیں رکھی ہیں جن میں ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ اس مخلوق سے خالق تعالیٰ کے وجود پر توحید پر استدلال کیا جائے۔
Ayahs 3:192–193

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 3:192 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار بےشبہ آپ جس کو دوزخ میں داخل کریں اس کو واقعی رسواہی کردیا۔ اور ایسے بےانصافوں کا کوئی بھی ساتھ دینے والا نہیں۔ (192)

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ Open ayah 3:193 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہم نے پکارنے والے کو سنا کہ ایمان لانے کے واسطے اعلان کررہے ہیں (ف 4) کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ سو ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے پروردگار پھر ہمارے گناہوں کو بھی معاف فرمادیجئیے اور ہماری بدیوں کو بھی ہم سے زائل کردیجئیے اور ہم کو نیک لوگوں کے ساتھ موت دیجئیے۔ (193)

ف 4۔ مراد اس سے محمد ﷺ ہیں بواسطہ یا بلاواسطہ۔
Ayah 3:194

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ Open ayah 3:194 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار اور ہم کو وہ چیز بھی دیجئیے جس کا ہم سے اپنے پیغمبروں کی معرفت آپ نے وعدہ فرمایا ہے اور ہم کو قیامت کے روز رسوا نہ کیجئیے (ف 5) یقینا آپ وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ (ف 6) (194)

ف 5۔ مطلب یہ کہ اول ہی سے جنت میں داخل کردیجیے۔ 6۔ لیکن ہم کو یہ خوف ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ ہم ان صفات سے موصوف نہ رہیں جن پر وعدہ ہے اس لیے ہم آپ سے یہ التجائیں کرتے ہیں کہ ہم کو اپنے وعدے کی چیزیں دیجیے یعنی ہم کو ایسا کردیجیے ایسا ہی رکھیے جس سے ہم وعدے کے مخاطب ومحل ہوجائیں۔
Ayah 3:195

فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى١ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ Open ayah 3:195 in the Quran reader

سو منظور کرلیا ان کی درخوست کو ان کے رب نے اس وجہ سے کہ میں کسی شخص کے کام کو جو کہ تم میں سے کرنیوالا ہو اکارت نہیں کرتا خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ (ف 1) تم آپس میں ایک دوسرے کے جزو ہو سو جن لوگوں نے ترک وطن کیا اور اپنے گھروں سے نکالے گئے (ف 2) اور تکلیفیں دئیے گئے میری راہ میں اور جہاد کیا اور شہید ہوگئے میں ضروران لوگوں کی تمام خطائیں معاف کردونگا (ف 3) اور ضرور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی اور یہ عوض ملے گا اللہ کے پاس سے اور اللہ ہی کے پاس اچھا عوض ہے۔ (ف 4) (195)

ف 1۔ دونوں کے لیے یکساں قانون ہے۔ 2۔ یعنی کفار نے وطن میں پریشان کیا بیچارے گھر چھوڑ کر پردیس کو نکل کھڑے ہوئے۔ 3۔ تمام خطائیں اس لیے کہا گیا کہ یہاں ہجرت و جہاد و شہادت کی فضیلت مذکور ہے اور حدیثوں سے ان اعمال کا تمام ذنوب سابقہ کا کفارہ ہونامعلوم ہوتا ہے۔ 4۔ اوپر کی آیت میں مسلمانوں کی کلفتوں کا بیان اور ان کا انجام نیک مذکور تھا آگے کافروں کے عیش و آرام کا بیان اور ان کا انجام بد مذکور ہے تاکہ مسلمان کو اپنا انجام سن کر تسلی ہوئی تھی جو وہ کافروں کا انجام سن کر زیادہ تسلی ہو۔ اور ان کے عیش و آرام کی طرف حرصا یا حزنا التفات نہ کریں۔
Ayahs 3:196–197

لَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِؕ Open ayah 3:196 in the Quran reader

تجھکو ان کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا مغالطہ میں نہ ڈال دے۔ (196)

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۫ ثُمَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:197 in the Quran reader

یہ چند روزہ بہار ہے (ف 5) پھر ان کا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور وہ بری آرامگاہ ہے۔ (197)

ف 5۔ کیونکہ مرتے ہی اس کا نام و نشان بھی نہ رہے گا