3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsبیان القرآن

Ayahs 3:120–121

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ Open ayah 3:120 in the Quran reader

اگر تم کو کوئی اچھی حالت پیش آتی ہے تو ان کے لیے موجب رنج ہوتی ہے اور اگر تم کو کوئی ناگوار حالت پیش آتی ہے تو اس سے خوش ہوتے ہیں۔ اور اگر تم استقلال اور تقویٰ کے ساتھ رہو تو ان لوگوں کی تدبیر تم کو ذرا بھی ضرر نہ پہنچا سکے گی بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال پر احاطہ رکھتے ہیں۔ (120)

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

اور جب کہ آپ صبح کے وقت اپنے گھر سے چلے (ف 4) مسلمانوں کو مقاتلہ کرنے کے لیے مقامات پر جما رہے تھے اور اللہ تعالیٰ سب سن رہے تھے سب جان رہے تھے۔ (121)

ف 4۔ یہ قصہ غزوہ احد کا ہے۔
Ayah 3:122

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

جب تم میں سے دو جماعتوں نے دل میں خیال کیا کہ ہمت ہار دیں۔ اور اللہ تعالیٰ تو ان دونوں جماعتوں کا مددگار تھا اور مسلمانوں کو تو اللہ تعالیٰ ہی پر اعتماد کرنا چاہیے۔ (ف 5) (122)

ف 5۔ صحابہ پر خدا تعالیٰ کی کیسی عنایت تھی کہ بیان جرم کے ساتھ ان کو بشارت ولایت خاصہ بھی سنادی جس میں وعدہ معافی مفہوم ہوتا ہے اور جرم بھی کتنا خفیف بتلایا کہ واپسی نہیں صرف کم ہمتی پھر اس کا بھی وقوع نہیں بلکہ خیال پس یا تو صدور اتناہی ہوا ہو یا بعض صادر کو ذکر نہیں فرمایا اور تقدیر اول پر عتاب کی وجہ ان حضرات کا غایت تقرب ہے۔
Ayahs 3:123–124

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

اور یہ (بات) محقق ہے کہ حق تعالیٰ نے تم کو بدر میں منصور فرمایا حالانکہ تم بےسرو سامان تھے۔ سو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ تم شکر گزار رہو۔ (ف 6) (123)

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

جب کہ آپ مسلمانوں سے یوں فرما رہے تھے کہ کیا تم کو یہ امر کافی نہ ہوگا کہ تمہارا رب تمہاری امداد کرے تین ہزار فرشتوں کے ساتھ جو اتارے جاویں گے۔ (ف 1) (124)

ف 1۔ معلوم ہوتا ہے کہ بڑے درجہ کے فرشتے ہوں گے اور نہ جو فرشتے پہلے زمین پر موجود تھے ان سے بھی یہ کام لیا جاسکتا تھا۔
Ayahs 3:125–127

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

ہاں کیوں نہیں اگر مستقل رہوگے اور متقی رہوگے اور وہ لوگ تم پر ایک دم سے آپہنچیں گے تو تمہارا رب تمہاری امداد فرمائے گا پانچ ہزار فرشتوں سے جو کہ ایک خاص وضع بنائے ہوئے ہونگے۔ (125)

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے یہ امداد محض اس لیے کی کہ تمہارے لیے بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دلوں کو قرار ہوجاوے اور نصرت صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو کہ زبردست ہیں حکیم ہیں۔ (126)

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

تاکہ کفار میں سے ایک گروہ کو ہلاک کردے یا ان کو ذلیل و خوار کردے پھر وہ ناکام لوٹ جاویں۔ (ف 2) (127)

ف 2۔ یہاں امداد کی حکمت نہایت تصریح کے ساتھ فرمائی جس میں غور کرنے سے اس مضمون میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ حاصل اس کا یہ ہوا کہ ان فرشتوں کے نزول سے اصلی مقصود یہ تھا کہ مسلمانوں کے قلب کو سکون ہو۔
Ayah 3:128

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

آپ کو کوئی دخل نہیں (یہاں تک کہ خدا تعالیٰ ) ان پر یا تو متوجہ ہوجاویں یا ان کو کوئی سزادیدیں کیونکہ وہ ظلم بھی بڑا کررہے ہیں۔ (ف 3) (128)

ف 3۔ غزوہ احد میں نبی ﷺ کا دندان مبارک شہید ہوگیا اور چہرہ مبارک مجروح ہوگیا تو آپ نے یہ فرمایا کہ ایسی قوم کو کیسے فلاح ہوگی جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا کیا حالانکہ وہ نبی ان کو خدا کی طرف بلاتا ہے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 3:129–130

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

اور اللہ ہی کی (ملک) ہے جو کچھ بھی آسمانوں میں ہے اور جو کچھ کہ زمین میں ہے وہ جس کو چاہیں بخشدیں اور جس کو چاہیں عذاب دیں اور اللہ تعالیٰ تو بڑے مغفرت کرنے والے اور رحمت کرنے والے ہیں۔ (129)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے ایمان والو سود مت کھاؤ (یعنی مت لو اصل سے) کئی حصے زائد (کرکے) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو امید ہے کہ تم کامیاب ہو۔ (ف 4) (130)

ف 4۔ یہ جو فرمایا کہ اصل سے کوئی حصے زائد کرکے۔ یہ سود کے حرام ہونے کی قید نہیں کیونکہ سود قلیل ہو یا کثیر سب حرام ہے۔
Ayahs 3:131–133

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئ ہے۔ (131)

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اور خوشی سے کہنا مانو اللہ تعالیٰ کا اور رسول کا امید ہے کہ تم رحم کیے جاؤ۔ (132)

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

اور دوڑو طرف مغفرت کی جو تمہارے پروردگار کی جانب سے ہے۔ (ف 5) اور (طرف) جنت کی جس کی وسعت ایسی ہے جیسے سب آسمان اور زمین وہ تیار کی گئی ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لیے۔ (133)

ف 5۔ مطلب یہ کہ ایسے نیک کام اختیار کرو جس سے پروردگار تمہاری مغفرت کردیں اور تم کو جنت عنایت ہو۔
Ayahs 3:134–143

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

ایسے لوگ جو کہ خرچ کرتے ہیں فرغت میں اور تنگی میں اور غصے کے ضبط کرنے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے نیکو کاروں کو محبوب رکھتا ہے۔ (134)

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

اور ایسے لوگ کہ جب کوئی ایسا کام کر گزرتے ہیں جس میں زیادتی ہو یا اپنی ذات پر نقصان اٹھاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرلیتے ہیں پھر اپنے گناہوں کی معافی چاہنے لگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور ہے کون جو گناہوں کو بخشتا ہو۔ اور وہ لوگ اپنے فعل پر اصرار نہیں کرتے اور وہ جانتے ہیں۔ (135)

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

ان لوگوں کی جزابخشش ہے ان کے رب کی طرف سے اور باغ ہیں کہ ان کے نیچے سے نہریں چلتی ہونگی یہ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ اچھا حق الخدمت ہے ان کام کرنے والوں کا۔ (ف 1)1۔ ان آیتوں میں دو درجوں کے مسلمانوں کا بیان ہے ایک اعلی درجہ کے ایک ان سے کم اور خدا سے ڈرنے والوں میں سب آگئے کیونکہ توبہ بھی خدا کے ڈر ہی سے ہوتی۔ (136)

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

بالتحقیق تم سے قبل مختلف طرق گزر چکے ہیں۔ تو تم روئے زمین پر چلو پھرو اور دیکھ لو کہ آخر انجام تکذیب کرنے والوں کا کیسا ہوا۔ (137)

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ بیان کافی ہے تمام لوگوں کے لیے اور ہدایت اور نصیحت ہے خاص خدا سے ڈرنے والوں کے لیے۔ (138)

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

اور تم ہمت مت ہارو اور رنج مت کرو غالب تم ہی رہوگے اگر تم پورے مومن رہے۔ (139)

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اگر تم کو زخم پہنچ جاوے تو اس قوم کو بھی ایسا ہی زخم پہنچ چکا ہے اور ہم ان ایام کو ان لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہا کرتے ہیں اور تاکہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو جان لیویں اور تم میں سے بعضوں کو شہید بنانا تھا اور اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں سے محبت نہیں رکھتے۔ (140)

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور تاکہ میل کچیل سے صاف کردے اللہ ایمان والوں کو اور مٹادیوے کافروں کو۔ (141)

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

ہاں کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ جنت میں جا داخل ہوگے حالانکہ ہنوز اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو تو دیکھا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا ہو اور نہ ان کو دیکھا جو ثابت قدم رہے۔ (142)

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

اور تم تو مرنے کی تمنا کررہے تھے اس (موت) کے سامنے آنے سے پہلے سے۔ (ف 2) سو اس کو تو کھلی آنکھوں دیکھ لیا تھا۔ (143)

ف 2۔ شان نزول اس آیت کا یہ ہے کہ سال گزشتہ بعض صحابہ جو بدر میں شہید ہوئے تھے اور ان کے بڑے فضائل معلوم ہوئے تو بعض نے تمنا کی کاش ہم کو بھی کوئی ایسا موقع پیش آئے کہ اس دولت شہادت سے مشرف ہوں آخر یہ احد کا غزوہ پیش ہوا توپاوں اکھڑ گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 3:144

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

اور محمد ﷺ نرے رسول ہی تو ہیں آپ سے پہلے اور بھی بہت رسول گزر چکے ہیں۔ سو اگر آپ کا انتقال ہوجائے یا آپ شہید ہی ہوجائیں تو کیا تم لوگ الٹے پھر جاؤ گے اور جو شخص الٹا پھر بھی جاوے گا۔ تو خدا تعالیٰ کا کوئی نقصان نہ کرے گا اور خدا تعالیٰ جلدی ہی عوض دے گا حق شناس لوگوں کو۔ (ف 3) (144)

ف 3۔ جب غزوہ احد میں رسول اللہ ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوئے اور سر مبارک زخمی ہوا تو اس وقت کسی دشمن نے پکار دیا کہ محمد ﷺ قتل کیے گئے مسلمان لڑائی بگڑجانے سے بدحواس اور منتشر ہو ہی رہے تھے اس خبر سے اور بھی کمر ٹوٹ گئی کسی نے یہ تجویز کیا کہ اب کفار سے امن لے لینا چاہیے بعض ہمت ہار کر بیٹھ رہے اور ہاتھ پاوں چھوڑ دیے اور بعض بھاگ کھڑے ہوئے بعض منافق بولے کہ اگر محمد ﷺ نہیں رہے تو پھر اپنا پہلاہی دین کیوں نہ اختیار کرلیا جائے بعض نے کہا کہ اگر نبی ہوتے تو قتل کیوں ہوتے اور بعض نے کہا کہ اگر آپ ہی نہ رہے تو ہم رہ کر کیا کریں گے جس پر آپ نے جان دی اس پر ہم کو بھی جان دی دینی چاہیے اور اگر آپ قتل ہوگئے تو تو کیا ہے اللہ تعالیٰ تو قتل نہیں ہوئے اس پریشانی میں اول آپ کو حضرت کعب بن مالک نے دیکھ کر پہچانا اور پکار کر کہا کہ اے مسلمانوں رسول اللہ ﷺ زندہ صحیح سلامت ہیں غرض اس وقت پھر مسلمان مجمع ہوئے آپ نے ان کو ملامت فرمائی عرض کیا یارسول اللہ یہ خبر سن کر ہمارے دلوں میں ہول بیٹھ گئی اس لیے ہمارے پاوں اکھڑ گئے اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 3:145–150

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور کسی شخص کو موت آنا ممکن نہیں بدون حکم خدا کے اس طور سے کہ اس کی میعاد معین لکھی ہوئی رہتی ہے اور جو شخص دنیاوی نتیجہ چاہتا ہے تو ہم اس کو اس (دنیا) کا حصہ دیدیتے ہیں۔ اور جو شخص اخروی نتیجہ چاہتا ہے تو ہم اس کو اس (آخرت) کا حصہ دیں گے اور ہم بہت جلد عوض دینگے حق شناسوں کو۔ (145)

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور بہت نبی ہوچکے ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت اللہ والے لڑے ہیں سو نہ تو ہمت ہاری انہوں نے ان مصائب کی وجہ سے جو ان پر اللہ کی راہ میں واقع ہوئیں اور نہ ان کا زور گھٹا اور نہ وہ دبے اور اللہ تعالیٰ کو ایسے مستقل مزاجوں سے محبت ہے۔ (146)

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور ان کی زبان سے بھی تو اس کے سوا اور کچھ نہیں نکلا کہ انہوں نے عرض کیا اے ہمارے پروردگا ہمارے گناہوں کو اور ہمارے کاموں میں ہمارے حد سے نکل جانے کو بخش دیجئیے اور ہم کو ثابت قدم رکھئیے اور ہم کو کافر لوگوں پر غالب کیجئیے۔ (147)

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

سو ان کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کا بھی بدلہ دیا اور آخرت کا بھی عمدہ بدلہ عطا فرمایا اور اللہ تعالیٰ کو ایسے نیکو کاروں سے محبت ہے۔ (148)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

اے ایمان والو اگر تم کہنا مانو گے کافروں کا تو وہ تم کو الٹا پھیر دینگے پھر تم ناکام ہوجاؤ گے۔ (149)

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

بلکہ اللہ تعالیٰ تمہارا دوست ہے اور وہ سب سے بہتر مدد کرنے والا ہے۔ (ف 1) (150)

ف 1۔ پس اسی کی دوستی پر اکتفاء کرو اور اسی کا مددگار سمجھو دوسرا مخالف اگر نصرت کی بھی تدبیر بتلائے خلاف حکم خداوندی تو عمل مت کرو۔
Ayah 3:151

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

ہم ابھی ڈالے دیتے ہیں ہول کافروں کے دلوں میں بسبب اس کے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ایسی چیزوں کو ٹھیرایا ہے جس پر کوئی دلیل اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں فرمائی اور ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے بےانصافوں کی۔ (ف 2) (151)

ف 2۔ چناچہ اس القاء رعب کا ظہور اس طرح ہوا کہ اول تو باجود مسلمانوں کے شکست کھا جانے کے مشرکین بلاکسی سبب ظاہری کے مکہ کو لوٹ گئے پھر جب کچھ رستہ قطع کرچکے تو اپنے اس طرح آنے پر بہت افسوس کیا اور پھر ارادہ واپسی مدینہ کا کیا مگر کچھ ایسا رعب چھایا کہ پھر ارادہ واپسی مدینہ کا کیا مگر کچھ ایسا رعب چھایا کہ پھر نہ آسکے اور راہ میں کوئی اعرابی مل گیا اس سے کہا کہ ہم تجھ کو اتنا مال دیں گے تو مسلمانوں کو ڈرا دینا یہاں وحی سے معلوم ہوگیا آپ ان کے تعاقب میں حمراء الاسد تک پہنچے۔
Ayah 3:152

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور یقینا اللہ تعالیٰ نے تو تم سے وعدہ کو سچا کر دیکھایا تھا جس وقت کہ تم ان کفار کو بحکم خدا وندی قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جب تم خود ہی کمزور ہوگئے اور باہم حکم میں اختلاف کرنے لگے اور تم کہنے پر نہ چلے بعد اس کے کہ تم کو تمہاری دلخواہ بات دکھلادی گئی۔ تم میں سے بعض تو وہ شخص تھے جو دنیا کو چاہتے تھے اور بعض تم میں وہ تھے جو آخرت کے طلبگار تھے (اس لیے اللہ تعالیٰ نے آیندہ کے لیے اپنی نصرت کو بند کرلیا اور) پھر تم کو ان (کفار) سے ہٹا دیا تاکہ خدا تعالیٰ تمہاری آزمائش فرمادے اور یقین سمجھو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو معاف کردیا اور اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں مسلمانوں پر۔ (ف 1) (152)

ف 1۔ اس آیت سے صحابہ کے حال پر بڑی عنایت معلوم ہوئی کہ عتاب میں بھی چند درچند تسلیاں فرمائیں ایک یہ کہ سزا نہ تھی بلکہ اس میں بھی تمہاری مصلحت تھی پھر مواخذہ آخرت سے بےفکر کردیا۔
Ayahs 3:153–154

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

(وہ وقت یاد کرو) جب تم چڑھے چلے جاتے تھے اور کسی کو مڑ کر بھی نہ دیکھتے تھے اور رسول تمہارے پیچھے کی جانب سے تم کو پکار رہے تھے۔ سو اللہ تعالیٰ نے تم کو پاداش میں غم دیا بسبب غم دینے کے تاکہ تم مغموم نہ ہوا کرو اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے نکل جاوے نہ اس پر جو تم پر مصیبت پڑے۔ اور اللہ تعالیٰ سب خبر رکھتے ہیں تمہارے سب کاموں کی۔ (153)

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

پھر اللہ تعالیٰ نے اس غم کے بعد تم پر چین بھیجا (یعنی اونگھ) کہ تم میں سے ایک جماعت پر تو اس کا غلبہ ہوا (ف 2) اور ایک جماعت وہ تھی کہ اس کو اپنی جان ہی کی فکر پڑی ہوئی تھی وہ لوگ اللہ کے ساتھ خلاف واقع خیالات کررہے تھے جو کہ محض حماقت کا خیال تھا وہ یوں کہہ رہے تھے کہ کیا ہمارا کچھ اختیار چلتا ہے آپ فرمادیجئیے کہ اختیار تو سب اللہ ہی کا ہے وہ لوگ اپنے دلوں میں ایسی بات پوشیدہ رکھتے ہیں جس کو آپ کے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کچھ اختیار چلتا تو ہم یہاں مقتول نہ ہوتے آپ فرمادیجئیے کہ اگر تم لوگ اپنے گھروں میں بھی رہتے تب بھی جن لوگوں کے لیے قتل مقرر ہوچکا تھا وہ لوگ ان مقامات کی طرف نکل پڑتے جہاں وہ گرے ہیں۔ اور (یہ جو کچھ ہوا اس لیے ہوا) تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے باطن کی بات کی آزمائش کرے تاکہ تمہارے دلوں کی بات کو صاف کردے اور اللہ تعالیٰ سب باطن کی باتوں کو خوب جانتے ہیں۔ (154)

ف 2۔ جب کفار میدان سے واپس ہوگئے تو اس وقت غیب سے مسلمانوں پر اونگھ غالب ہوئی جس سے سب غم غلط ہوگیا۔
Ayah 3:155

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 3:155 in the Quran reader

یقینا تم میں سے جن لوگوں نے پشت پھیردی تھی جس روز کہ دونوں جماعتیں باہم مقابل ہوئیں اس کے سوا اور کوئی بات نہیں ہوئی کہ ان کو شیطان نے لغزش دے دی ان کے بعض اعمال کے سبب سے (ف 3) اور یقین سمجھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف فرمادیا۔ واقعی اللہ تعالیٰ بڑے مغفرت کرنے والے ہیں بڑے حلم والے ہیں۔ (ف 4) (155)

ف 3۔ ببعض ماکسبوا سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک گناہ سے دوسرا گناہ پیدا ہوتا ہے جیسا کہ ایک طاعت سے دوسری طاعت کی توفیق بڑھتی جاتی ہے۔ 4۔ بعض معاندین صحابہ نے اس واقعہ سے صحابہ پر خصوصا حضرت عثمان ؓ پر طعن کیا ہے اور اس سے عدم صلاحیت خلافت کی مستنبط کی ہے لیکن یہ محض مہل بات ہے جب اللہ نے معاف کردیا اب دوسروں کو مواخذہ کرنے کا حق رہا قصہ خلافت کا سو اہل حق کے نزدیک خلافت کے لیے عصمت شرط نہیں ہے۔
Ayah 3:156

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 3:156 in the Quran reader

اے ایمان والو تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا (ف 5) جو کہ کافر ہیں اور کہتے ہیں اپنے بھائیوں کی نسبت جبکہ وہ لوگ کسی زمین میں سفر کرتے ہیں (ف 6) یا وہ لوگ کہیں غازی بنتے ہیں کہ اگر یہ لوگ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ تاکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو ان کے قلوب میں موجب حسرت کردیں اور مارتا اور جلاتا تو اللہ ہی ہے اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ (156)

ف 5۔ اوپر منافقین کا قول نقل کیا تھا چونکہ ایسے اقوال سننے سے احتمال ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں اس قسم کے وساوس پیدا ہونے لگیں اس لیے حق تعالیٰ اس آیت میں مسلمانوں کو ایسے اقوال اور ایسے احوال سے ممانعت فرماتے ہیں۔ 6۔ اس سفر سے دینی کام کے لیے سفر کرنا مراد ہے۔
Ayahs 3:157–159

وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 3:157 in the Quran reader

اور اگر تم لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو بالضرور اللہ کے پاس کی مغفرت اور رحمت ان چیزوں سے بہتر ہے جن کو یہ لوگ جمع کررہے ہیں (157)

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

اور وگر تم لوگ مر گئے یا مارے گئے تو بالضرور اللہ ہی کے پاس جمع کیے جاؤ گے۔ (158)

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

بعد اس کے خدا ہی کی رحمت کے سبب آپ ان کے ساتھ نرم رہے۔ (ف 1) اور اگر آپ تندخو سخت طبیعت ہوتے تو یہ آپ کے پاس سے سب منتشر ہوجاتے سو آپ ان کو معاف کردیجئیے اور آپ ان کے لیے استغفار کردیجئیے اور ان سے خاص خاص باتوں میں مشورہ لیتے رہا کیجئیے۔ (ف 2) پھر جب آپ رائے پختہ کرلیں۔ تو خدا تعالیٰ پر اعتماد کیجئیے (ف 3) بیشک اللہ تعالیٰ ایسے اعتماد کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں۔ (159)

ف 1۔ نرم خوئی کو رحمت کا سبب اس لیے فرمایا کہ خوش اخلاقی عبادت ہو اور عبادت کی توفیق خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہوتی ہے۔ 2۔ یہ جو کہا گیا کہ خاص خاص باتوں میں مشورہ لیتے رہا کیجیے تو مراد ان سے وہ امور ہیں جن میں آپ پر وحی نازل نہ ہوئی ورنہ بعد وحی کے پھر مشوروں کی کوئی گنجائش نہیں۔ 3۔ لفظ عزم میں کوئی قید نہیں لگائی اس سے معلوم ہوا کہ امور انتظامیہ متعلقہ بالرائے میں کثرت رائے کا ضابطہ محض بےاصل ہے ورنہ یہاں عز میں یہ قید ہوتی کہ بشرطیکہ آپ کا عزم کثرت رائے کے خلاف نہ ہو۔ اور مشورہ وعزم کے بعد جو توکل کا حکم فرمایا تو اس سے ثابت ہوا کہ تدبیر منافی نہیں توکل کے کیونکہ مشورہ وعزم کا داخل تدبیر ہونا ظاہر ہے اور جاننا چاہیے کہ مرتبہ توکل کا کہ باوجود تدبیر کے اعتقادا اعتماد رکھے اللہ پر یہ ہر مسلمان کے ذمہ فرض ہے اور توکل بمعنی ترک تدبیر کے تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ تدبیر دینی ہے تو اس کا ترک مذموم۔ اور اگر دنیوی یقینی عادة ہے تو اس کا ترک بھی ناجائز اور اگر ظنی ہے توقوی القلب کو جائز اور اگر وہمی ہے تو اس کا ترک مامور بہ ہے۔