3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsبیان القرآن

Ayahs 3:198–200

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ Open ayah 3:198 in the Quran reader

لیکن جو لوگ خدا سے ڈریں ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ مہمانی ہوگی اللہ کی طرف سے۔ اور جو چیزیں خدا کے پاس ہیں وہ نیک بندوں کے لیے بدرجہاں بہتر ہیں۔ (198)

وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:199 in the Quran reader

اور بالیقین بعض لوگ اہل کتاب میں سے ایسے بھی ضرور ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعتقاد رکھتے ہیں اور اس کتاب کے ساتھ بھی جو تمہارے پاس بھیجی گئی اور اس کتاب کے ساتھ بھی جو ان کے پاس بھیجی گئی اس طور پر کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کے مقابلہ میں کم حقیقت معاوضہ نہیں لیتے۔ ایسے لوگوں کو ان کا (نیک) عوض ملے گا ان کے پروردگار کے پاس بلاشبہ اللہ تعالیٰ جلدی ہی حساب کردیں گے۔ (199)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 3:200 in the Quran reader

اے ایمان والو خود صبر کرو اور مقابلہ میں صبر کرو اور مقابلہ کے لیے مستعد رہو (ف 6) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پورے کامیاب ہوں۔ (200)

ف 1۔ قاموس میں مرابطت اور رباط کے دو معنی لکھے ہیں ایک ملازمت ثغر العدو یعنی مابین دار الاسلام و دار الکفر کے سرحد کے موقع پر قیام کرنا تاکہ کفار سے دار الاسلام کی حفاظت رہے، احقر نے یہی معنی لئے ہیں، دوسرے معنی مواظبت علی الامر یعنی مطلق احکام کی پابندی کرنا۔ بیضاوی نے یہ معنی بھی لئے ہیں اور حدیث میں انتظار الصلوۃ بعد الصلوۃ کو رباط فرمایا ہے، اس میں دونوں معنی کا احتمال ہے، یا تو معنی اول کے اعتبار سے تشبیہا اس کو رباط فرما دیا کہ یہ بھی نفس و شیطان کے مقابلہ میں مستعد رہنا ہے یا معنی ثانی کے اعتبار سے حقیقۃ فرمادیا ہے کہ یہ انتظار خود علامت ہے دوام کی جیسا کہ ظاہر ہے۔ واللہ اعلم