5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsبیان القرآن

Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے رسول جو لوگ کفر میں دوڑ دوڑ گرتے ہیں (ف 3) آپ کو مغموم نہ کریں خواہ وہ ان لوگوں میں سے ہوں جو اپنے منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور ان کے دل یقین نہیں لائے (ف 4) اور خواہ وہ ان لوگوں میں سے ہوں جو کہ یہودی ہیں یہ لوگ غلط باتوں کے سننے کے عادی ہیں (آپ کی باتیں) دوسری قوم کی خاطر کان دھر دھر سنتے ہیں (جس قوم کے یہ حالات ہیں) وہ آپ کے پاس نہیں آئے کلام کو بعد اس کے کہ وہ اپنے موقع پر ہوتا ہے بدلتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہ حکم ملے تب تو اس کو قبول کرلینا اور اگر تم کو یہ حکم نہ ملے تو احتیاط رکھنا اور جس کا خراب ہونا خدا ہی کو منظور ہو (ف 5) تو اس کے لیے اللہ سے تیرا کچھ زور نہیں چل سکتا یہ لوگ ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو ان کے دلوں کا پاک کرنا منظور نہیں ہوا۔ (ف 6) ان لوگوں کے لیے دنیا میں رسوائی ہے۔ اور آخرت میں ان کے لیے سزائے عظیم ہے۔ (41)

ف 3۔ یعنی بےتکلف رغبت سے ان باتوں کو کرتے ہیں۔ 4۔ مراد منافقین ہیں جو کہ ایک واقعہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ 5۔ یہ تخلیقی منظوری اس گمراہ کے عزم گمراہی کے بعد ہوتی ہے۔ 6۔ کیونکہ یہ عزم ہی نہیں کرتے اس لیے اللہ تطہیر تخلیقی نہیں فرماتے بلکہ ان کے عزم گمراہی کی وجہ سے تخلیقا ان کا خراب ہونا ہی منظور ہے۔ پس قاعدہ مذکورہ کے موافق کوئی شخص ان کو ہدایت نہیں کرسکتا مطلب یہ کہ جب یہ خود خراب رہنے کا عزم رکھتے ہیں اور عزم کے بعد اس فعل کی تخلیق عادت الہیہہ ہے اور تخلیق الہی کو کوئی روک نہیں سکتا تو پھر ان کے راہ پر آنے کی کیا توقع کی جائے اس سے رسول اللہ ﷺ کو زیادہ تسلی ہوسکتی ہے جس سے کلام شروع بھی ہوا تھا پس آغاز اختتام کلام مضمون تسلی سے ہوا آگے ان اعمال کا ثمرہ بیان فرماتے ہیں۔
Ayahs 5:42–44

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

یہ لوگ غلط باتوں کے سننے کے عادی ہیں بڑے حرام کھانے والے ہیں تو اگر یہ لوگ آپ کے پاس آویں تو خواہ آپ ان میں فیصلہ کردیجئیے یا انکو ٹال دیجیے۔ اور اگر آپ ان کو ٹال ہی دیں تو ان کی مجال نہیں کہ آپ کو ذرا بھی ضرر پہنجاسکیں اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان میں عدل کے موافق فیصلہ کیجئیے (ف 7) بیشک اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔ (ف 8) (42)

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور وہ آپ سے کیسے فیصلہ کراتے ہیں حالانکہ ان کے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم ہے پھر اس کے بعد پھرجاتے ہیں اور یہ لوگ ہرگز اعتقاد والے نہیں۔ (43)

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

ہم نے توریت نازل فرمائی تھی جس میں ہدایت تھی اور وضوح تھا انبیأ جو کہ اللہ تعالیٰ کے مطیع تھے اس کے موافق یہود کو حکم دیا کرتے تھے اور اہل اللہ اور علمأ بھی بوجہ اس کے کہ ان کو اس کتاب اللہ کی نگہداشت کا حکم دیا تھا اور وہ اس کے اقراری ہوگئے تھے سو تم بھی لوگو وں سے اندیشہ مت کرو اور مجھ سے ڈرو اور میرے احکام کے بدلے میں متاع قلیل مت لو اور جو شخص خدا تعالیٰ کے نازل کیے ہوئے کے موافق حکم نہ کرے سو ایسے لوگ بالکل کافر ہیں۔ (44)

ف 7۔ یعنی قانون اسلام کے موافق۔ 8۔ اور وہ عدل اب منحصر ہوگیا ہے قانون اسلام میں پس وہی لوگ محبوب ہوں گے جو اس قانون کے موافق فیصلہ کریں۔
Ayahs 5:45–46

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر اس (تورات) میں یہ بات فرض کی تھی کہ جان بدلے جان کے اور آنکھ بدلے آنکھ کے اور ناک بدلے ناک کے اور کان بدلے کان کے اور دانت بدلے دانت کے اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے پھر جو شخص اس کو معاف کردے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہوجائے گا (ف 1) اور جو شخص خدا تعالیٰ کے نازل کیے ہوئے کے موافق حکم نہ کرے سو ایسے لوگ بالکل ستم ڈھا رہے ہیں۔ (ف 2) (45)

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو اس حالت میں بھیجا کہ وہ اپنے سے قبل کی کتاب یعنی توریت کی تصدیق فرماتے تھے۔ اور ہم نے انکو انجیل دی جس میں ہدایت تھی اور وضوح تھا اور وہ اپنے سے قبل کی کتاب یعنی توریت کی تصدیق کرتی تھی اور وہ سراسر ہدایت اور نصیحت تھی خدا سے ڈرنے والوں کے لیے۔ (46)

ف 1۔ یعنی معاف کرنا موجب ثواب ہے۔ 2۔ مسائل : (ا) قصاص اس قتل یا جرم میں ہے جو حق ہو ورنہ حق پر قتل کرنا درست ہے اور عمدا ہو کیونکہ خطا میں دیت ہے۔ (2) النفس بالنفس میں آزاد اور غلام اور مسلمان اور کافر ذمی اور مرد اور عورت اور کبیر اور صغیر اور شریف اور رذیل اور بادشاہ اور رعیت سب داخل ہیں البتہ خود اپنے مملوک گلام اور اپنی اولاد کے قصاص میں نہ مارا جانا اجماع و حدیث سے ثابت ہے۔ (3) قتل میں دلی مقتول کو اور باقی صورتوں میں خود مقطوع ومجروح کو معاف کرنے کا حق حاصل ہے۔
Ayah 5:47

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور انجیل والوں کو چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اس میں نازل فرمایا ہے اس کے موافق حکم کیا کریں اور جو شخص خدا تعالیٰ کے نازل کیے ہوئے کے موافق حکم نہ کرے تو ایسے لوگ بالکل بےحکمی کرنے والے ہیں۔ (ف 1) (47)

ف 1۔ اوپر تورات و انجیل کا اپنے اپنے دور میں واجب العمل ہونا بیان فرمایا تھا آگے قرآن مجدی کا اپنے دور میں جو کہ زبان نزول سے قیام قیامت تک ہے واجب العمل ہونا بیان فرماتے ہیں۔
Ayahs 5:48–49

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

اور ہم نے یہ کتاب (ف 2) آپ کے پاس بھیجی ہے جو خود بھی صدق کے ساتھ (موصوف) ہے اور اس سے پہلے جو کتابیں ہیں ان کی بھی تصدیق کرتی ہے اور ان کتابوں کی محافظ ہے تو ان کے باہمی معاملات میں اسی بھیجی ہوئی کتاب کے موافق فیصلہ فرمایا کیجئیے اور یہ جو سچی کتاب آپ کو ملی ہے اس سے (دور ہوکر) ان کی خواہشوں پر عملدرآمد نہ کیجئیے تم میں سے ہر ایک کے لئیے ہم نے خاص شریعت اور خاص طریقت تجویز کی تھی اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو تم سب کو ایک ہی امت کردیتے لیکن ایسا نہیں کیا تاکہ جو جو دین تم کو دیا ہے اس میں تم سب کا امتحان فرماویں۔ تو مفید باتوں کی طرف دوڑو (ف 3) تم سب کو خدا ہی کے پاس جانا ہے پھر وہ تم سب کو جتلادے گا جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔ (48)

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

اور ہم (مکرر) حکم دیتے ہیں کہ آپ ان کے باہمی معاملات میں اس بھیجی ہوئی کتاب کے موافق فیصلہ فرمایا کیجئیے اور ان کی خواہشوں پر عملدرآمد نہ کیجئیے اور ان سے (یعنی ان کی اس بات سے) احتیاط رکھئیے کہ وہ آپ کو خدا تعالیٰ کے آپ کے پاس بھیجے ہوئے کسی حکم سے بچلادیں۔ پھر اگر یہ لوگ اعراض کریں تو یہ یقین کرلیجئیے تو بس خدا ہی کو منظور ہے کہ ان کے بعضے جرموں پر سزا دیں۔ اور زیادہ آدمی تو بےحکم ہی ہوتے ہیں۔ (49)

ف 2۔ یعنی قرآن مجید۔ 3۔ یعنی ان عقائد و اعمال اور احکام کی طرف جن پر قرآن مشتمل ہے دوڑو یعنی قرآن پر ایمان لاکر اس پر چلو۔
Ayah 5:50

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

یہ لوگ پھر کیا زمانہٴ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں اور فیصلہ کرنے میں اللہ سے کون اچھا ہوگا یقین رکھنے والوں کے نزدیک۔ (ف 4) (50)

ف 4۔ اوپر یہود و نصاری کے قبائح مذکور ہوئے بعض منافقین جو کہ ظاہر اسلام کے مدعی تھی ان سے بعض وہمی مصلحتوں کی بنا پر دوستی رکھتے تھے اس لیے آگے اہل ایمان کو ان کے ساتھ دوستی کرنے بطور تفریع مضمون مذکور کے منع فرماتے ہیں کہ جب ان لوگوں کے یہ حالات ہیں تو ان کا مقتضا تو یہی ہے کہ ان سے ان منافقوں کی طرح ہرگز دوستی مت کرو پھر اہل ایمان کو منع کرنے کے بعد ان منافقین کی مذمت اور ان مصلحتوں کا ابطال اور انجام کار ان کا ندامت اٹھانا بطور پیشن گوئی کے مذکور ہے۔
Ayah 5:51

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

اے ایمان والو تم یہود اور نصاریٰ کو دوست مت بنانا وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں (ف 5) اور جو شخص تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے گا بیشک وہ ان ہی میں سے ہوگا۔ یقینا اللہ تعالیٰ سمجھ نہیں دیتے ان لوگوں کو جو اپنا نقصان کررہے ہیں۔ (51)

ف 5۔ مطلب یہ کہ دوستی ہوتی ہے مناسبت سے سو ان میں باہم تو مناسبت ہے مگر تم میں ان میں کیا مناسبت ؟۔
Ayah 5:52

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

اسی لیے تم ایسے لوگوں کو جن کے دل میں مرض ہے دیکھتے ہو کہ دوڈ دوڈ کر ان میں گھستے ہیں کہتے ہیں کہ ہم کو اندیشہ ہے کہ ہم پر کوئی حادثہ پڑجائے سو قریب امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کامل فتح کا ظہور فرمادے یا کسی اور بات کا خاص اپنی طرف سے (ف 6) پھر وہ اپنے پوشیدہ دلی خیالات پر نادم ہونگے۔ (ف 1) (52)

ف 6۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی فتح اور منافقوں کی پر وہدری دونوں امر عنقریب ہونے والے ہیں۔ 1۔ ایک ندامت تو اپنے خیال کی غلطی پر کہ امر طبعی ہے دوسری ندامت اپنے نفاق پر جس کی بدولت آج رسوا ہوئے۔ ما اسروا میں یہ دونوں داخل ہیں اور تیسری ندامت کفار کے ساتھ دوستی کرنے پر رائیگاں ہی گئی۔ اور مسلمانوں سے بھی بڑے تھے چونکہ یہ دوستی ما اسروا پر مبنی تھی لہذا ان دونوں ندامتوں کے ذکر سے یہ تیسری بلا ذکر صریح خود مفہوم ہوگئی۔
Ayah 5:53

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اور مسلمان لوگ کہیں گے ارے کیا یہ وہی لوگ ہیں کہ بڑے مبالغہ سے اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان لوگوں کی ساری کاروائیاں غارت گئیں جس سے یہ ناکام رہے۔ (ف 2) (53)

ف 2۔ چناچہ یہ پیشن گوئی صادق ہوئی ان منافقوں کی زیادہ دوستی مدینہ کے یہود اور مکہ کے مشرکین سے تھی مکہ فتح ہوگیا اور یہود خستہ وخراب ہوئے جس کا ذکر کئی بار آچکا ہے۔
Ayah 5:54

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 5:54 in the Quran reader

اے ایمان والو جو شخص تم میں سے اپنے دین میں پھر جاوے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو پیدا کرے گا جن سے اللہ تعالیٰ کو محبت ہوگی اور ان کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہوگی مہربان ہونگے وہ مسلمانوں پر تیز ہونگے کافروں پر جہاد کرتے ہونگے اللہ کی راہ میں اور وہ لوگ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کرینگے (ف 3) یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہیں عطا فرمائیں اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں بڑے علم والے ہیں۔ (54)

ف 3۔ چناچہ بعض لوگ مرتد ہوگئے تھے لیکن اللہ نے اپنی اس پیشن گوئی کے موافق مومنین مخلصین کے ہاتھوں عہد صدیقی میں ان کا استیصال فرما دیا اور بعض نے توبہ کرلی تھی بہر حال اسلام کو کوئی ضعف یاضرر نہیں پہنچا۔
Ayahs 5:55–57

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ Open ayah 5:55 in the Quran reader

تمہارے دوست تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور ایماندار لوگ ہیں جو کہ (اس حالت سے) نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور زکوة دیتے ہیں کہ ان میں خشوع ہوتا ہے۔ (ف 4) (55)

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ Open ayah 5:56 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ سے دوستی رکھے گا اور اس کے رسول سے اور ایماندار لوگوں سے سو اللہ کا گروہ بلاشک غالب ہے۔ (56)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

اے ایمان والو جن لوگون کو تم سے پہلے کتاب مل چکی ہے ان لوگوں میں سے جو ایسے ہیں کہ انہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنارکھا ہے ان کو اور دوسرے کفار کو دوست مت بناؤ۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو اگر تم ایمان دار ہو۔ (57)

ف 4۔ یعنی عقائد و اخلاق و اعمال بدنی ومالی سب کے جامع ہیں۔
Ayah 5:58

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

اور جب تم نماز کے لیے اعلان کرتے ہو تو وہ لوگ اس کے ساتھ ہنسی اور کھیل کرتے ہیں۔ یہ اس سبب سے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ بالکل عقل نہیں رکھتے۔ (ف 5) (58)

ف 5۔ یہ اشارہ ہے دو قصوں کی طرف ایک یہ کہ جب آذان ہوتی اور مسلمان نماز شروع کرتے تو یہود کہتے کہ یہ کھڑے ہوتے ہیں خدا کرے کبھی کھڑا ہونا نصیب نہ ہو اور جب ان کو رکوع سجدہ کرتے دیکھتے توہنستے اور تمسخر کرتے دوسراقصہ یہ کہ مدینہ میں ایک نصرانی تھا جب اذان میں سنتا اشھد ان محمد الرسول اللہ تو کہتا جل جائے ایک شب ایسا اتفاق ہوا کہ وہ اور اس کے اہل و عیال سب سو رہے تھے کوئی خادم گھر میں آگ لے کرگیا ایک چنگاڑی گر پڑی اور وہ اس کا گھر اور گھروالے سب جل گئے یہ تو الذین اتوالکتاب کے مصداق تھے اور الکفار کے مصداق کا ایک قصہ یہ ہوا کہ رفاعہ بن زید بن تابوت و رسوید بن الحارث نے منافقانہ اظہار اسلام کیا تھا یعنی بعض مسلمان ان سے اختلاط رکھتے تھے ان سب واقعات پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
Ayah 5:59

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

آپ کہئیے کہ اے اہل کتاب تم ہم میں کونسی بات معیوب پاتے ہوبجز اس کے کہ ہم ایمان لائیں ہیں اللہ پر اور (اس پر) جو ہمارے پاس بھیجی گئی ہے اور (اس پر) جو پہلے بھیجی جاچکی ہے باوجود اس کے کہ تم میں اکثر لوگ ایمان سے خارج ہیں۔ (ف 1) (59)

ف 1۔ اکثر اس لیے فرمایا کہ بعض بعض ہر زمانہ میں ایمان کے ساتھ متصف رہے۔
Ayahs 5:60–63

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

آپ کہئیے کہ کیا میں تم کو ایسا طریقہ بتلاؤں جو اس سے بھی خدا کے یہاں پاداش ملنے میں زیادہ براہو۔ (وہ ان اشخاص کا طریقہ ہے) جن کو اللہ تعالیٰ نے (رحمت سے) دور کردیا ہو اور ان پر غضب فرمایا ہو اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور سور بنادیا ہو اور انہوں نے شیطان کی پرستش کی ہو ایسے اشخاص مکان کے اعتبار سے بھی (بہت) برے ہیں اور راہ راست سے بھی بہت دور ہیں۔ (ف 2) (60)

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ تم لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور حالانکہ وہ کفر ہی کو لے کر آئے تھے اور اس (کفر) ہی کو لے کر چلے گئے اور اللہ تعالیٰ تو خوب جانتے ہیں جس کو یہ پوشیدہ رکھتے ہیں۔ (61)

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

اور آپ ان میں بہت آدمی ایسے دیکھتے ہیں جو دوڈ دوڈ کر گناہ اور ظلم اور حرام کھانے پر گرتے ہیں واقعی ان کے یہ کام برے ہیں۔ (62)

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

ان کو مشائخ اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام مال کھانے سے کیوں نہیں منع کرتے واقعی ان کی یہ عادت بری ہے۔ (63)

ف 2۔ جن سے دوستی کرنے کی اوپرممانعت فرمائی ان میں بعض منافق تھے جو اوپر بھی لفظ الکفار میں یا عموم لفظ یہود میں داخل ہوکرمذکور ہیں آگے ان کی ایک خاص حالت بیان فرماتے ہیں۔
Ayahs 5:64–65

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

اور یہود نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بند ہوگیا ہے۔ (ف 3) ان ہی کے ہاتھ بند ہیں اور اپنے اس کہنے سے یہ رحمت سے دور کردئیے گئے بلکہ ان کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔ (ف 4) جس طرح چاہتے ہیں خرچ کرتے ہیں (ف 5) اور جو (مضمون) آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے بھیجا جاتا ہے وہ ان میں سے بہتوں کی سرکشی اور کفر کی ترقی کا سبب ہوجاتا ہے۔ اور ہم نے ان میں باہم قیامت تک عداوت اور بغض ڈال دیا۔ جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں حق تعالیٰ اس کو فرو کردیتے ہیں (ف 6) اور ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں۔ (ف 7) اور اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو محبوب نہیں رکھتے۔ (64)

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر یہ اہل کتاب ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ضرور ان کی تمام برائیاں معاف کردیتے اور ضرور ان کو چین کے باغوں میں داخل کرتے۔ (65)

ف 3۔ وجہ گستاخی کی یہ ہوئی تھی کہ پہلے یہود پر رزق کی فراغت تھی جب حضور ﷺ تشریف لائے اور وہ آپ کے ساتھ عداوت و مخالفت سے پیش آئے تو رزق کی تنگی ہوگئی اس پر بےہودہ باتیں بکنے لگے اور ہرچند کہ کہنے والے دوہی شخص تھے لیکن چونکہ اور یہود بھی اس سے مانع نہیں ہوئے بلکہ رضی رہے اس لیے اوروں کو بھی اس میں شامل فرمایا گیا۔ 4۔ یعنی بڑے جواد و کریم ہیں۔ 5۔ چونکہ حکیم بھی ہیں اس لیے جس طرح چاہتے ہیں خرچ کرتے ہیں پس یہود پر جو تنگی ہوئی اس کی علت حکمت ہے کہ ان کے کفر کا وبال ان کو چکھانا اور دکھانا ہے نہ یہ کہ بخل اس کی علت ہو۔ 6۔ یعنی وہ مرعوب ہوجاتے ہیں۔ 7۔ جیسے نومسلموں کو بہکانا۔ لگائی بجھائی کرنا عوام کو تورات کے محرف مضامین سنا کر اسلام سے روکنا۔
Ayah 5:66

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ توریت اور انجیل کی اور جو کتاب ان کے پاس بھیجی گئی اس کی پوری پابندی کرتے (ف 1) تو یہ لوگ اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے (خوب فراغت سے) کھاتے ان میں ایک جماعت راہ راست پر چلنے والی ہے اور زیادہ ان میں ایسے ہی ہیں کہ ان کے کردار بہت برے ہیں۔ (66)

ف 1۔ یعنی ان میں جن باتوں پر عمل کرنے کو لکھا ہے سب پر پوراعمل کرتے اس میں تصدیق رسالت بھی آگئی اور اس سے احکام محرفہ ومنسوخہ نکل گئے کیونکہ ان کتب کا مجموعہ ان پر عمل کرنے کو نہیں بتلاتا بلکہ منع کرتا ہے۔
Ayah 5:67

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے رسول جو جو کچھ آپ کے رب کی جانب سے آپ پر نازل کیا گیا ہے آپ (سب) پہنچادیجئیے۔ اور اگر آپ ایسا نہ کریں گے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کا ایک پیغام بھی نہیں پہنچایا (ف 2) ، اور اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا (ف 3) یقینا اللہ تعالیٰ ان کافروں کو راہ نہ دینگے۔ (67)

ف 2۔ چونکہ مجموعہ کا پہنچانا فرض ہے اس لیے جیسا کل کے اخفاء سے یہ فرض فوت ہوتا ہے اسی طرح کے اخفاء سے بھی یہ فرض فوت ہوجاتا ہے 3۔ چناچہ یہ وعدہ اسی طرح صادق ہوگیا گوبعض غزوات میں آپ زخمی بھی ہوئے اور یہود نے نامردوں کی طرح آپ کو زہر بھی دیا مگر مجمع و مقاتل ہو کر کوئی قتل وہلاک نہ کرسکا اور اس پیشن گوئی کا واقع ہونا آپ کا معجزہ دلیل نبوت ہے اور ترمذی میں ہے کہ پہلے حضور ﷺ کے پاس پہرہ دیا جاتا تھا جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ چلے جاو اللہ نے میری حفاظت کی ذمہ لے لی یہ بھی دلیل نبوت ہے کیونکہ ایسا اعتماد بدون وحی کے نہیں ہوسکتا۔
Ayah 5:68

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

آپ کہئیے کہ اے اہل کتاب تم کسی راہ پر بھی نہیں (ف 4) جب تک کہ توریت کی اور انجیل کی اور جو (کتاب) تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بھیجی گئی ہے اسکی بھی (پوری) پابندی نہ کرو گے اور ضرور جو (مضمون) آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے بھیجا جاتا ہے وہ ان میں سے بہتوں کی سرکشی اور کفر کی ترقی (کا سبب) بن جاتا ہے۔ تو آپ ان کافر لوگوں پر غم نہ کیا کیجئیے۔ (ف 5) (68)

ف 4۔ کیونکہ غیر مقبول راہ پرچلنا مثل بےراہی کے ہے۔ 5۔ اوپر اہل کتاب کو اسلام کی ترغیب تھی آگے بھی ایک قانون عام سے جو کہ اہل کتاب وغیرہ اہل کتاب سب کو شامل ہے اسی کی ترغیب ہے۔
Ayah 5:69

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

یہ تحقیقی بات ہے کہ مسلمان اور یہودی اور فرقہ ٴصابئین اور نصارے ٰ میں سے جو شخص یقین رکھتا ہو اللہ تعالیٰ پر اور روز قیامت پر اور کارگزاری اچھی کرے (ف 6) ایسوں پر نہ کسی طرح کا اندیشہ ہے اور نہ وہ مغموم ہونگے۔ (69)

ف 6۔ یعنی موافق قانون شریعت کے۔
Ayahs 5:70–71

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا (ف 7) اور ہم نے ان کے پاس بہت سے پیغمبر بھیجے جب کبھی ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا حکم لایا جس کو ان کا جی نہ چاہتا تھا سو بعضوں کو جھوٹا بتلایا اور بعضوں کو قتل ہی کر ڈالتے تھے۔ (70)

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور یہی گمان کیا کہ کچھ سزا نہ ہوگی۔ اس سے اور بھی اندھے اور بہرے بن گئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر توجہ فرمائی پھر بھی اندھے اور بہرے بنے رہے یعنی ان میں کے بہترے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو خوب دیکھنے والے ہیں۔ (71)

ف 7۔ یعنی تمام پیغمبروں کی تصدیق و اطاعت کا عہد۔
Ayahs 5:72–73

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ کافر ہوچکے جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ عین مسیح ابن مریم ہے حالانکہ مسیح نے خود فرمایا تھا کہ اے بنی اسرائیل تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے (ف 1) بیشک جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک قرار دے گا سو اس پر اللہ تعالیٰ جنت کو حرام کردے گا، اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ (72)

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

بلاشبہ وہ لوگ بھی کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین میں کا ایک ہے حالانکہ بجز ایک معبود کے اور کوئی معبود نہیں اور اگر یہ لوگ اپنے ان اقوال سے باز نہ آئے تو جو لوگ ان میں کافر رہیں گے ان پر دردناک عذاب واقع ہوگا۔ (73)

ف 1۔ اس قول میں مربوب اور بندہ ہونے کی تصریح ہے پھر ان کو الہ کہنا وہی بات ہے کہ مدعی سست گواہ چست۔
Ayah 5:74

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

کیا پھر بھی خدا تعالیٰ کے سامنے توبہ نہیں کرتے اور اس سے معافی نہیں چاہتے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والے بڑی رحمت فرمانے والے ہیں۔ (ف 2) (74)

ف 2۔ اوپر الورہیت مسحیہ کا ابطال مضمون عام سے بیان فرمایا تھا آگے ایک خاص دلیل سے فرماتے ہیں۔
Ayah 5:75

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

مسیح ابن مریم کچھ بھی نہیں صرف ایک پیغمبر ہیں۔ جن سے پہلے اور بھی پیغمبر گزرچکے ہیں۔ اور ان کی والدہ ایک ولی بی بی ہیں دونوں کھانا کھایا کرتے تھے دیکھئیے تو ہم کیونکر دلائل ان سے بیان کررہے ہیں پھر دیکھئیے وہ الٹے کدھر جارہے ہیں۔ (ف 3) (75)

ف 3۔ یہ دلیل باعتبار استدلال بالمادیت کے روح القدس کے ابطال الوہیت کے لیے بھی کافی ہے اس لیے بالا استقلال اس کا ذکر ضروری نہ ہوا۔
Ayahs 5:76–77

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

آپ فرمائیے کیا خدا کے سوا ایسے کی عبادت کرتے ہو جو کہ تم کو نہ کوئی ضرر پہنچانے کا اختیار رکھتا ہو اور نہ نفع پہنچانے کا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ سب سنتے ہیں سب جانتے ہیں۔ (ف 4) (76)

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

آپ فرمائیے کہ اے اہل کتاب تم اپنے دین میں ناحق کا غلومت کرو اور ان لوگوں کے خیالات پر مت چلو جو پہلے خود بھی غلطی میں پڑچکے ہیں اور بہتوں کو غلطی میں ڈال چکے ہیں اور وہ لوگ راہ راست سے دور ہوگئے تھے۔ (77)

ف 4۔ یا تو یہ نصاری مذکورین عیسیٰ کی پرستش بھی کرتے ہوں گے یا یہ کہ عبادت میں سب سے بڑا درجہ اعتقاد الوہیت کا ہے جب وہ معتقد الوہیت عیسویہ ہوئے تو یقینا ان کی عبادت کی۔
Ayahs 5:78–79

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

بنی اسرائیل میں جو لوگ کافر تھے ان پر لعنت کی گئی تھی داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے (ف 5) یہ لعنت اس سبب سے ہوئی کہ انہوں نے حکم کی مخالفت کی اور حد سے نکل گئے۔ (78)

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

جو برا کام انہوں نے کر رکھا تھا اس سے ایک دوسرے کو منع نہ کرتے تھے واقعی ان کا فعل بیشک برا تھا۔ (79)

ف 5۔ یعنی زبور اور انجیل میں کافروں پر لعنت لکھی تھی جیسے قرآن مجید میں بھی ہے فلعنة اللہ علی الکافرین۔ چونکہ یہ کتابیں حضرت داود حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر نازل ہوئیں اس لیے یہ مضمون ان کی زبان سے ظاہرہوا۔
Ayah 5:80

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

آپ ان میں بہت آدمی دیکھیں گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں (ف 1) جو کام انہوں نے آگے کے لیے کیا ہے وہ بیشک برا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر ناخوش ہوا اور یہ لوگ عذاب میں دائم رہیں گے۔ (80)

ف 1۔ یہود مدینہ اور مشرکین مکہ میں مسلمانوں کی عداوت کے علاقہ سے جس کا منشا تناسب فی الکفر تھا باہم خوب سازگاری تھی۔