9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsبیان القرآن

Ayahs 9:37–46

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

یہ ہٹا دینا اور کفر میں اور ترقی ہے جس سے ( اور عالم) کفار گمراہ کیے جاتے ہیں کہ وہ اس حرام مہینے کو کسی سال (نفسانی غرض سے) حلال کرلیتے ہیں اور کسی سال (جب کوئی غرض نہ ہو) حرام سمجھتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو مہینے حرام کیے ہیں (صرف) ان کی گنتی پوری کرلیں پھر اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینے کو حلال کرلیتے ہیں ان کی بداعمالیاں ان کو مستحسن معلوم ہوتی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کو ہدایت (کی توفیق) نہیں دیتا۔ (ف 1) (37)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

اے ایمان والوتم لوگوں کو کیا ہوا کہ جب تم سے کیا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو تم زمین کو لگے جاتے ہو کیا تم نے آخرت کے عوض دنیاوی زندگی پر قناعت کرلی سو دنیاوی زندگی کا تمتع تو کچھ بھی نہیں آخرت کے مقابلہ میں بہت قلیل ہے۔ (38)

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر تم نہ نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو سخت سزا دے گا (یعنی تم کو ہلاک کردے گا) اور تمہارے بدلے دوسری قوم پیدا کردے گا ( اور ان سے اپنا کام لے گا) اور تم اللہ (کے دین) کو کچھ ضرر نہ پہنچاسکو گے اور اللہ کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے۔ (39)

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم لوگ رسول اللہ ﷺ کی مدد نہ کروگے تو اللہ تعالیٰ آپ کی مدد اس وقت کرچکا ہے جبکہ آپ کو کافروں نے جلاوطن کردیا تھا جبکہ دو آدمیوں میں ایک آپ تھے جس وقت کہ دونوں غار میں تھے جب کہ آپ اپنے ہمراہی سے فرما رہے تھے کہ تم (کچھ) غم نہ کرو۔ یقینا اللہ تعالیٰ ہمارے ہمراہ ہے سو اللہ تعالیٰ نے آپ (کے قلب) پر اپنی تسلی نازل فرمائی اور آپ کو ایسے لشکروں سے قوت دی جن کو تم لوگوں نے نہیں دیکھا اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کی بات ( اور تدبیر) نیچی کردی (کہ وہ ناکام رہے) اور اللہ ہی کا بول بالا رہا۔ اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔ (40)

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

نکل پڑو (خواہ) تھوڑے سامان سے (ہو) اور (خواہ) زیادہ سامان سے (ہو) اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو اور یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم یقین رکھتے ہو (تو دیر مت کرو) ۔ (41)

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

اگر کچھ لگتے ہاتھ ملنے والا ہوتا اور سفر بھی معمولی سا ہوتا تو یہ (منافق) لوگ ضرور آپ کے ساتھ ہولیتے لیکن ان کو تو مسافت ہی دور دراز معلام ہونے لگی اور ابھی خدا کی قسم کھاجاوینگے کہ اگر ہمارے بس کی بات ہوتی تو ضرور ہم تمہارے ساتھ چلتے یہ لوگ (جھوٹ بول بول کر) اپنے آپ کو تباہ کررہے ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کہ یہ لوگ یقینا جھوٹے ہیں۔ (42)

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف (تو) کردیا۔ (لیکن) آپ نے ان کو (ایسی جلدی) اجازت کیوں دے دی تھی جب تک کہ آپ کے سامنے سچے لوگ ظاہر نہ ہوجاتے اور جھوٹوں کو معلوم نہ کرلیتے۔ (43)

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں وہ اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے کے بارے میں آپ سے رخصت نہ مانگیں گے (بلکہ وہ حکم کے ساتھ دوڑ پڑینگے) اور اللہ تعالیٰ ان متقیوں کو خوب جانتا ہے۔ (44)

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

البتہ وہ لوگ (جہاد میں نہ جانے کی) آپ سے رخصت مانگتے ہیں جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہیں سو وہ اپنے شکوک میں پڑے ہوئے حیران ہیں۔ (45)

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر وہ لوگ (غزوہ میں) چلنے کا ارادہ کرتے تو اس کا کچھ سامان تو درست کرتے لیکن (خیر ہوئی) اللہ تعالیٰ نے ان کے جانے کو پسند نہیں کیا اس لیے ان کو توفیق نہیں دی اور (بحکم تکوینی) یوں کہہ دیا گیا کہ اپاہج لوگوں کے ساتھ تم بھی یہاں ہی دھرے رہو۔ (46)

ف 1۔ یہاں سے غزوہ تبوک کا بیان ہے تبوک ایک مقام ہے ملک شام میں رسول اللہ جب فتح مکہ و غزوہ حنین وغیرہما سے فارغ ہوئے تو آپ کو خبر ہوئی کہ روم کا بادشاہ مدینہ پر فوج بھیجنی چاہتا ہے اور وہ فوج تبوک میں جمع کی جائے گی آپ نے خود ہی قصد سفر کا مقابلہ کے لیے فرمایا اور مسلمانوں میں اس کا اعلان عام کردیا چونکہ وہ زمانہ گرمی کی شدت کا تھا اور مسلمانوں کے پاس سامان بہت کم تھا اور سفر بھی دوردراز کا تھا اس لیے اس غزوہ میں جانا بڑی ہمت کا کام تھا اس لیے ان آیا میں اس کی بہت ترغیب دی گئی اور چونکہ منافقین بوجہ عدم ایمان وعدم اخلاص کے اس میں طرح طرح کے بہانے پیش کرنے لگے اور ان کی طرح طرح کی خباثتیں ظاہر ہوئیں اس لیے ان آیات میں ان پر بھی بہت تشنیع ہوئی ہے۔ غرض آپ اس مقام تبوک تک تشریف لے جاکر لشکر نصاری کے منتظر رہے مگر وہ ایسے مرعوب ہوئے کہ ان کا حوصلہ نہ پڑا اور آپ وہاں ایک عرصہ مقیم رہ کر خیر و عافیت کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لائے اور یہ واقعہ رجب 9 ہجری میں ہوا۔
Ayah 9:47

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر یہ لوگ تمہارے شامل جاتے تو سوائے اس کے کہ اور دونا فساد کرتے اور کیا ہوتا اور تمہارے درمیان فتنہ پردازی کے فکر میں دوڑے دوڑے پھرتے (ف 1) اور (اب بھی) تم میں ان کے کچھ جاسوس موجود ہیں اور ان ظالموں کو اللہ خوب سمجھے گا۔ (47)

ف 1۔ یعنی لگائی بجھائی کرکے آپس میں تفریق ڈلواتے اور جھوٹی خبریں اڑا کر پریشان کرتے دشمن کا رعب تمہارے قلوب میں ڈالنے کی کوشش کرتے اس لیے ان کا نہ جاناہی اچھا ہوا۔
Ayah 9:48

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

انہوں نے تو پہلے بھی فتنہ پردازی کی فکر کی تھی (ف 2) اور آپ کے لیے کاروائیوں کی الٹ پھیر کرتے ہی رہے یہاں تک کہ سچا وعدہ آ گیا اور (اس کا آنا یہ کہ) اللہ کا حکم غالب رہا اور ان کو ناگوار ہی گزرتا رہا۔ (ف 3) (48)

ف 2۔ یعنی جنگ احد وغیرہ میں۔ 3۔ اوپر منافقین کے احوال مشترکہ کا بیان تھا آگے کئی آیتوں میں جو لفظ منھم سے شروع ہوئی ہیں بعض کے احوال و اقوال مختصہ اور درمیان درمیان میں احوال مشترکہ بھی مذکور ہیں۔
Ayahs 9:49–50

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور (ان منافقین متخلفین) میں بعضا شخص وہ ہے جو کہتا ہے کہ مجھ کو اجازت دے دیجئیے اور مجھ کو خرابی میں نہ ڈالیے خوب سمجھ لو کہ یہ لوگ خرابی میں تو پڑ ہی چکے اور یقینا دوزخ (آخرت میں) ان کافروں کو گھیرے گی۔ (ف 4) (49)

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

اگر آپ کو کوئی اچھی حالت پیش آتی ہے تو وہ ان کے لیے موجب غم ہوتی ہے اور اگر آپ پر کوئی حادثہ آپڑتا ہے تو (خوش ہوکر) کہتے ہیں کہ ہم نے تو (اسی لیے) پہلے سے اپنا احتیاط کا پہلو اختیار کرلیا تھا اور (یہ کہ) وہ خوش ہوتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ (50)

ف 4۔ اس شخص کا نام جدبن قیس تھا اس نے یہ بہانہ تراشا تھا کہ میں عورتوں پر مفتون ہوجاتا ہوں اور رومیوں کی عورتیں حسین زیادہ ہیں جانے میں میرا دینی ضرر ہے اس لیے رخصت کا خواستگار ہوں۔
Ayah 9:51

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

آپ فرمادیجئیے ہم پر کوئی حادثہ نہیں پڑسکتا مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے مقدر فرمایا ہے۔ وہ ہمارا مالک ہے۔ اور اللہ کے تو سب مسلمانوں کو اپنے سب کام سپرد رکھنے چاہئیں۔ (ف 5) (51)

ف 5۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ مالک اور حاکم ہیں حاکم ہونے کی حثییت سے ان کو ہر تصرف کا اختیار ہے اس لیے ہم راضی ہیں۔
Ayahs 9:52–55

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

فرمادیجئیے کہ تم تو ہمارے حق میں دو بہتر یوں میں سے ایک بہتری ہی کے منتظر رہتے ہو۔ اور ہم تمہارے حق میں اس کے منتظر رہا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ تم پر کوئی عذاب واقع کرے گا (خواہ) اپنی طرف سے (دنیا یا آخرت میں) یا ہمارے ہاتھوں سے سو تم (اپنے طور پر) انتظار کرو ( اور) ہم تمہارے ساتھ (اپنے طور پر) انتظار میں ہیں۔ (ف 1) (52)

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

آپ فرمادیجئیے کہ تم خواہ خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے کسی طرح (خدا کے نزدیک) مقبول نہیں (کیونکہ) بلاشبہہ تم عدول حکمی کرنے والے لوگ ہو۔ (53)

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور ان کی خیر خیرات قبول ہونے سے اور کوئی چیز بجز اس کے مانع نہیں کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کفر کیا اور وہ لوگ نماز نہیں پڑھتے مگر ہارے جی سے اور خرچ نہیں کرتے مگر ناگواری کے ساتھ۔ (54)

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

سو ان کے اموال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں اللہ کو صرف یہ منظور ہے کہ ان (مذکورہ) چیزوں کی وجہ سے دنیوی زندگی میں (بھی) گرفتار عذاب رکھے اور ان کی جان کفر ہی کی حالت میں نکل جاوے۔ (55)

ف 1۔ حاصل یہ کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہیں اس مصیبت میں بھی ہمارے فائدے کی رعایت کرتے ہیں اس لیے ہم ہر حال میں فائدہ میں ہیں بخلاف تمہارے کہ تمہاری خوش حالی کا انجام بھی وبال اور نکال ہے اگر دنیا میں نہیں تو آخرت میں ضرور ہے۔
Ayahs 9:56–57

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور یہ (منافق) لوگ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ بیشک وہ تم میں کے ہیں (ف 2) حالانکہ (واقع میں) وہ تم میں کے نہیں لیکن (بات یہ ہے کہ) وہ ڈرپوک لوگ ہیں۔ (56)

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

ان لوگوں کو اگر کوئی پناہ کی جگہ مل جاتی یا غار یا کوئی گھس بیٹھنے کی ذراجگہ (مل جاتی) تو یہ ضرور منہ اٹھا کر ادھر چل دیتے۔ (57)

ف 2۔ یعنی مسلمان ہیں۔
Ayahs 9:58–59

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور ان میں بعض وہ لوگ ہیں جو صدقات (تقسیم کرنے) کے بارے میں آپ پر طعن کرتے ہیں۔ سو اگر ان (صدقات) میں سے (ان کی خواہش کے موافق) ان کو مل جاتا ہے تو وہ راضی ہوجاتے ہیں اور اگر ان (صدقات) میں سے ان کو (ان کی خواہش کے موافق) نہیں ملتا تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں۔ (ف 3) (58)

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور ان کے لیے بہتر ہوتا اگر وہ لوگ اس پر راضی رہتے جو کچھ ان کو اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے دیا تھا۔ اور یوں کہتے کہ ہم کو اللہ کافی ہے آیندہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہم کو اور دے گا اور اس کے رسول ﷺ دینگے ہم (اول سے) اللہ ہی کی طرف راغب ہیں۔ (59)

ف 3۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل منشاء ان کے اعتراض اور حرف گیری کا محض حرص دنیا اور خود غرضی ہے پس ایسے اعتراض کا باطل ہونا ظاہر ہے۔
Ayahs 9:60–65

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

صدقات تو صرف حق ہے غریبوں کا اور محتاجوں کا (ف 4) اور جو کارکن ان صدقات پر متعین ہیں (ف 5) اور جن کی دلجوئی کرنا (منظور) ہے (ف 6) اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں (ف 7) اور قرضداروں کے قرضہ میں اور جہاد میں اور مسافروں میں یہ حکم اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔ (ف 1) اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑے حکمت والے ہیں۔ (60)

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

ان (منافقین) میں سے بعضے ایسے ہیں کہ نبی کو ایذائیں پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ ہر بات کان دے کر سن لیتے ہیں۔ آپ فرما دیجئیے کہ وہ نبی کان دے کر تو وہی بات سنتے ہیں جو تمہارے حق میں خیر (ہی خیر) ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور مومنین کا یقین کرتے ہیں اور آپ ان لوگوں کے حال پر مہربانی فرماتے ہیں جو تم میں ایمان کا انتظار کرتے ہیں اور جو لوگ رسول ﷺ اللہ کو ایذائیں پہنچاتے ہیں ان لوگوں کے لیے دردناک سزا ہوگی۔ (61)

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

یہ لوگ تمہارے سامنے (جھوٹی) قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو راضی کرلیں (جس میں مال و جان محفوظ رہے) حالانکہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ حق رکھتے ہیں کہ اگر یہ لوگ سچے مسلمان ہیں تو اس کو راضی کریں۔ (62)

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا ان کو خبر نہیں کہ جو شخص اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرے گا (جیسا کہ یہ لوگ کررہے ہیں) تو یہ بات ٹھیر چکی ہے کہ ایسے شخص کو دوزخ کی آگ اس طور پر نصیب ہوگی کہ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا ( اور) یہ بڑی رسوائی ہے۔ (63)

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

منافق لوگ (طبعا) اس سے اندیشہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں پر کوئی سورت (مثلا یا آیت) نازل نہ ہوجاوے جو ان کو ان منافقین کے مافی الضمیر پر اطلاع دیدے۔ آپ فرما دیجئیے کہ اچھا تم استہزاء کرتے رہو۔ بیشک اللہ تعالیٰ اس چیز کو ظاہر کرکے رہے گا جس (کے اظہار) سے تم اندیشہ کرتے تھے۔ (64)

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیے تو کہہ دینگے کہ ہم تو محض مشغلہ اور خوش طبعی کررہے تھے آپ (ان سے) کہہ دیجئیے گا کہ کیا اللہ کے ساتھ اور اس کی آیتوں کے ساتھ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ تم ہنسی کرتے تھے۔ (65)

ف 4۔ فقیر کے معنی ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو۔ مسکین کے معنی ہیں جس کے پاس نصاب سے کم ہو۔ 5۔ اسلام اور قدرنصاب فارغ عن الحوائج الاصلیہ کا مالک و قابض نہ ہوناسب میں شرط ہے بجز عاملین ومحصلین زکوة کے جو سلطان اسلام کی طرف سے مقرر ہوں کہ ان کو باوجود غنی ہونے کے بھی اس زکوة میں سے بطور اجرت کے دیناجائز ہے باقی اصناف میں قید مذکور شرط ہے۔ 6۔ مولفة القلوب کو جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں زکوة دی جاتی تھی گو وہ مسلمان نہ ہوں۔ مگر ان کے مسلمان ہونے کی امید ہو یا محض ان کے شروفتنہ سے بچنے کے لیے اور یا مسلمان ہوں مگر غریب نہ ہوں محض ان کو اسلام سے محبت پیدا کرنے کے لیے صحابہ کے وقت میں اجماع ہوگیا ان کی عدم استحقاق پر جو علامت ہے حکم سابق کے منسوخ ہوجانے کی۔ 7۔ گردن چھڑانے کا یہ مطلب ہے کہ کسی غلام کو اس کے آقا نے کہہ دیا ہو کہ اتنا روپیہ دیدے تو آزاد ہے اس غلام کو زکوة دی جائے تاکہ اپنے آقا کو دیکر آزاد ہوجائے۔ 1۔ سب مصارف زکوة میں یہ شرط ہے کہ جن کو دی جائے ان کو مالک کردیا جائے بدون تملیک زکوة ادانہ ہوگی۔
Ayah 9:66

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

تم اب (یہ بیہودہ) عذرمت کرو تم اپنے کو مومن کہہ کر کفر کرنے لگے اگر ہم تم میں سے بعض کو چھوڑ بھی دیں تاہم بعض کو تو (ضرور ہی) سزادینگے بسبب اس کے کہ وہ (علم ازلی) میں مجرم تھے۔ (ف 2) (66)

ف 2۔ دین کے ساتھ قصدا استہزاء خواہ بداعتقادی سے ہو یا بدو بداعتقادی کے ہو کفر ہے اور استہزاء باللہ وآیاتہ و رسولہ باہم تینوں متلازم ہیں۔
Ayahs 9:67–68

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک طرح کے ہیں کہ بری باتیں (یعنی کفر و مخالفت اسلام) کی تعلیم دیتے ہیں اور اچھی بات (یعنی ایمان و اتباع نبوی) سے منع کرتے ہیں۔ اور اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں انہوں نے خدا کا خیال نہ کیا پس اس (خدا) نے ان کا خیال نہ کیا (ف 3) بلاشبہہ یہ منافق بڑے ہی سرکش ہیں۔ (67)

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور (علانیہ) کفر کرنے والوں سے دوزخ کی آگ کا عہد کر رکھا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے وہ ان کے لیئے (یہ سزا) کافی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے دور کرے گا اور ان کو عذاب دائمی ہوگا۔ (68)

ف 3۔ یعنی انہوں نے اطاعت نہ کی اللہ نے ان پر رحمت خاصہ نہ کی۔
Ayah 9:69

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

(اے منافقو) تمہاری عادت ان لوگوں کی سی ہے جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ جو شدت قوت میں اور کثرت اموال و اولاد میں تم سے بھی زیادہ تھے۔ تو انھوں نے اپنے (دنیوی) حصہ سے خوب فائدہ حاصل کیا سو تم نے بھی اپنے (دنیوی) حصہ سے خوب فائدہ حاصل کیا جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں نے اپنے حصہ سے فائدہ حاصل کیا تھا اور تم بھی بری باتوں میں ایسے ہی گھسے جیساوہ لوگ گھسے تھے۔ اور ان لوگوں کے اعمال (حسنہ) دنیا اور آخرت میں ضائع گئے۔ (ف 1) اور وہ لوگ بڑے نقصان میں ہیں۔ (69)

ف 1۔ کیونکہ دنیا میں ان اعمال پر بشارت ثواب نہیں اور آخرت میں ثواب نہیں۔
Ayahs 9:70–72

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو (ان کے عذاب و ہلاک کی) خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے ہوئے ہیں (جیسے) قوم نوح (علیہ السلام) اور عاد اور ثمود اور قوم ابراہیم (علیہ السلام) اور اہل مدین اور الٹی ہوئی بستیاں کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر صاف نشانیاں (حق کی) لیکر آئے (لیکن نہ ماننے سے برباد ہوئے) سو (اسی بربادی میں اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔ (ف 2) (70)

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے (دینی) رفیق ہیں۔ نیک باتوں کی تعلیم دیتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوة دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کہنا مانتے ہیں ان لوگوں پر ضرور اللہ تعالیٰ رحم کرے گا بلاشبہہ اللہ تعالیٰ قادر (مطلق) ہے حکمت والا ہے۔ (71)

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں سے ایسے باغوں کا وعدہ کر رکھا ہے جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہونگی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور نفیس مکانوں کا جو کہ ان ہمیشگی کے باغوں میں ہونگے اور (ان سب نعمتوں کے ساتھ) اللہ تعالیٰ کی رضامندی سب (نعمتوں) سے بڑی چیز ہے۔ (یہ جزائے مذکور) بڑی کامیابی ہے۔ (72)

ف 2۔ اوپر منافقین کے قبائح وفضائح مذکور تھے آگے زیادہ کشف مضمون کے لیے الاشیاء تعرف کے لیے مومنین کے بعض مدائح کا بیان ہے۔
Ayah 9:73

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے نبی ﷺ کفار (سے بالسنان) اور منافقین سے (باللسان) جہاد کیجئیے اور ان پر سختی کیجئیے (دنیا میں تو یہ اس کے مستحق ہیں) اور (آخرت میں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بری جگہ ہے۔ (ف 1) (73)

ف 1۔ اگلی آیت کے متعلق یہ قصہ ہے کہ تبوک سے واپسی پر چند منافقین نے کہ ان کی تعداد بارہ تک منقول ہے ایک شب صلاح کی کہ فلاں گھاٹی میں آپ کی سواری گزرے گی سب مل کر آپ کو دھکیل دیں پھر قتل کردیں غرض سب اپنا منہ لپیٹ کر جمع ہو کر دفعتا اس موقع پر آپ ہنچے مگر آپ نے دیکھ کر ڈانٹا اور حضرت حذیفہ و حضرت عمار ساتھ تھے انہوں نے ہٹایا مگر پہچانے نہیں گئے آپ کو وحی سے معلوم ہوا آپ نے مزل پر پہنچ کر ان کو بلاکر پوچھا کہ تم نے ایسا ایسا مشورہ کیا تھا وہ سب قسمیں کھانے لگے کہ نہ مشورہ ہوا نہ ارادہ ہوا ان میں سے بعض کے ساتھ آپ نے خاص طور پر مالی اعانت بھی فرمائی تھی جیسے جلاس۔ اس قصہ میں یہ آیت نازل ہوئی اور اس کے نازل ہونے کے بعد جلاس نے صدق و اخلاص سے اسلام قبول کرلیا۔