9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsبیان القرآن

Ayahs 9:113–116

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ رشتہ دار ہی (کیوں نہ) ہوں اس امر کے ظاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں۔ (ف 7) (113)

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت مانگنا وہ صرف وعدے کے سبب تھا جو انہوں نے اس سے وعدہ کرلیا تھا پھر جب ان پر یہ بات ظاہر ہوگئی کہ وہ خدا کا دشمن ہے (يعنی کافر ہو کر مرا) تو وہ اس سے محض بےتعلق ہوگئے واقعی ابراہیم (علیہ السلام) بڑے رحیم المزاج حلیم الطبع تھے۔ (114)

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا کہ کسی قوم کو ہدایت کے پیچھے گمراہ کر دے جب تک کہ ان چیزوں کو صاف صاف نہ بتلادے جن سے وہ بچتے رہتے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں۔ (115)

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

( اور) بلا شبہ اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے اور تمہارا اللہ کے سوا نہ کوئی یاد رہے نہ مددگار ہے (116)

ف 7۔ وجہ اس نہی کی یہ ہوئی کہ ابوطالب کی وفات کے بعد آپ نے فرمایا کہ جب تک مجھ کو ممانعت نہ ہوگی ان کے لیے استغفار کروں گا اس پر اور مسلمانوں نے بھی اپنے مشترک اموات کے لیے استغفار شروع کیا تو اس آیت میں اس کی ممانعت آئی بعض کو شبہہ ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی تو اپنے باپ کے لیے استغفار فرمایا تھا اس پر اگلی آیت میں جواب نازل ہوا۔
Ayah 9:117

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے نے پیغمبر ﷺ کے حال پر توجہ فرمائی (ف 1) اور مہاجرین و انصار کے حال پر بھی (توجہ فرمائی) (ف 2) جنھوں نے ایسی تنگی کی وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا (ف 3) بعد اس کے کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل ہو چلا تھا پھر اللہ نے ان (گروہ) کے حال پر توجہ فرمائی بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان سب پر بہت ہی شفیق مہربان ہے۔ (117)

ف 1۔ کہ آپ کی نبوت اور امامت جہاد اور تمام خوبیاں عطا فرمائیں۔ 2۔ کہ ان کو ایسی مشقت کے جہاد میں مستقیم رکھا۔ 3۔ اس غزوہ کے زمانہ کو ساعة عسرة اس واسطے فرمایا کہ گرمی شدید کا وقت تھا سفر دراز تھا مقابلہ قواعدوں لشکر سے تھا سواری کی بہت کمی تھی۔ کھانے پینے کے سامان رسد کی کمی اس درجہ تھی کہ ایک ایک خرما دو دو شخصوں میں تقسیم ہوتا تھا بعض دفعہ ایک چھوہارے کو آگے پیچھے کئی کئی آدمی چوستے تھے سواری کے اونٹ ذبح کرنے پڑے ان کی آلائش کو نچوڑ کر پینا پڑا۔
Ayahs 9:118–120

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 9:118 in the Quran reader

اور ان تین شخصوں کے حال پر بھی (توجہ فرمائی) جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا یہاں تک کہ جب (ان کی پریشانی کی یہ نوبت پہنچی کہ) زمین باوجود اپنی فراخی کے ان پر تنگی کرنے لگی اور خود اپنی جان سے تنگ آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ خدا (کی گرفت) سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی بجز اس کے کہ اسی کی طرف رجوع کیا جاوے (اس وقت وہ خاص توجہ کے قابل ہوئے) پھر ان کے حال پر (بھی خاص) توجہ فرمائی تاکہ وہ آئندہ بھی رجوع رہا کریں بیشک اللہ تعالیٰ بہت توجہ فرمانے والے بڑے رحم کرنے والے ہیں۔ (ف 4) (118)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 9:119 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور (عمل میں) سچوں کے ساتھ رہو۔ (119)

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 9:120 in the Quran reader

مدینے کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گردوپیش (رہتے) ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول ﷺ اللہ کا ساتھ نہ دیں اور نہ یہ (زیبا تھا) کہ اپنی جان کو ان کی جان سے عزیز سمجھیں ( اور) یہ ( ساتھ جانے کا ضروری ہونا) اس سبب سے ہے کہ ان کو اللہ کی راہ میں جو پیاس لگی اور جو ماندگی پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو چلنا چلے جو کفار کے لیے موجب غیظ ہوا ہو اور شمنوں کی جو کچھ خبر لی ان سب پر ان کے نام ایک ایک نیک کام لکھا گیا یقینا اللہ تعالیٰ مخلصین کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ (120)

ف 4۔ کسی شخص کو بوجہ ارتکاب امر خلاف شرع کے یہ سزا دینا کہ اس سے ترک سلام و کلام کردیں جائز ہے اور حدیثوں میں جو ممانعت آئی ہے کہ تین روز سے زیادہ ترک کلام نہ کرے مراد اس سے وہ ہے جس کا سبب کوئی دنیوی رنج ہو۔
Ayah 9:121

وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:121 in the Quran reader

اور (نیز) جو کچھ چھوٹا بڑا انہوں نے خرچ کیا اور جتنے میدان ان کو طے کرنے پڑے یہ سب بھی ان کے نام (نیکیوں میں) لکھا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے) ان سب) کاموں کا اچھے سے اچھابدلہ دے۔ (ف 1) (121)

ف 1۔ اوپر جو متخلفین کے باب میں ملامت کے مضامین نازل ہوئے اس سے آئندہ کے لیے شبہ ہوسکتا تھا کہ ہمیشہ کے لیے سب کے ذمہ جہاد میں جانا ضروری ہے اس لیے آگے ہر شخص کے جانے کا فرض نہ ہونا بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 9:122

وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً١ؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠ Open ayah 9:122 in the Quran reader

اور (ہمیشہ کے لیے) مسلمانوں کو یہ (بھی) نہ چاہیئے کہ (جہاد کے واسطے) سب کے سب (ہی) نکل کھڑے ہوں سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت (جہاد) میں جایا کرے تاکہ (یہ) باقی ماندہ لوگ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں اور تاکہ یہ لوگ اپنی (اس) قوم کو جب کہ وہ ان کے پاس واپس آویں ڈراویں تاکہ وہ (ان سے دین کی باتیں سن کر برے کاموں (سے) احتیاط رکھیں۔ (ف 2) (122)

ف 2۔ باقی ماندہ لوگوں کے رہ جانے میں جو مصلحت ہیں ان میں سے ایک بڑی مصلحت کہ دینی مصلحت ہے ذکر فرمادیا اس کے علاوہ دنیا کی بھی مصلحتیں ہیں جو ظہور کی وجہ سے محتاج ذکر نہیں مثلا سب کے چلے جانے میں خود دالاسلام کا قبضہ سے نکل جانا غیر بعید نہیں۔
Ayahs 9:123–124

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:123 in the Quran reader

اے ایمان والو ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس (رہتے) ہیں اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہیئے (ف 3) اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ (کی امداد) متقی لوگوں کے ساتھ ہے (پس ان سے ڈریو مت) ۔ (ف 4) (123)

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًا١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 9:124 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت (جدید) نازل کی جاتی ہے تو بعض منافقین (غربأ مسلمین سے بطور تمسخر) کہتے ہیں کہ (کہو) اس سورت میں تم میں سے کس کے ایمان میں ترقی دی سو (سنو) جو لوگ ایماندار ہیں اس سورت نے ان کے (تو) ایمان میں ترقی دی ہے اور وہ (اس ترقی کے ادراک سے) خوش ہو رہے ہیں۔ (124)

ف 3۔ یعنی جہاد کے وقت بھی مضبوط رہنا چاہیے اور ویسے بھی غیر زمانہ صلح میں ان سے ڈھیلا پن نہ برتنا چاہیے۔ 4۔ اوپر چند آیتوں میں جہاد کی ترغیب تھی اب اس کی ترتیب مع اس کے بعض متعلقات کے مذکور ہے حاصل ترتیب کا ظاہر ہے کہ اول پاس والوں سے نبٹنا چاہیے پھر بقایا میں جو سب سے پاس ہوں وعلی وہذا القیاس۔ اور اس ترتیب کے عکس میں جو مفاسد ہیں ظاہر ہیں چناچہ حضور ﷺ نے جو باختیار خود غزوات فرمائے اور صحابہ نے بھی سب میں یہی ترتیب ملحوظ رہی۔
Ayahs 9:125–127

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:125 in the Quran reader

اور جن کے دلوں میں (نفاق کا) آزار ہے اس سورت نے ان میں ان کی (پہلی) گندگی کے ساتھ اور (نئی) گندگی بڑھا دی اور وہ حالت کفر ہی میں مر گئے۔ (ف 5) (125)

اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 9:126 in the Quran reader

اور کیا ان کو نہیں دکھلائی دیتا کہ یہ لوگ ہر سال میں ایک بار دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنسے رہتے ہیں (مگر) پھر بھی (اپنی حرکات شنیعہ سے) باز نہیں آتے اور نہ کچھ سمجھتے ہیں (جس سے باز آنے کی آئندہ امید ہو) ۔ (126)

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ١ؕ هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:127 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت (جدید) نازل کی جاتی ہے تو ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے ہیں اور (اشارے سے باتیں کرتے ہیں) کہ تم کو کوئی (مسلمان) دیکھتا تو نہیں پھر چل دیتے ہیں (یہ لوگ مجلس نبوی سے کیا پھرے) خدا تعالیٰ نے ان کا دل (ہی ایمان سے) پھیر دیا ہے اس وجہ سے کہ محض بےسمجھ لوگ ہیں (کہ اپنے نفع سے بھاگتے ہیں۔ (127)

ف 5۔ یعنی جو ان میں مرچکے وہ کافر مرے اور جو اسی اصرار پر رہیں گے وہ کافر مریں گے حاصل یہ کہ قرآن میں ایمان کو ترقی دینے کی بیشک خاصیت ہے لیکن محل میں قابلیت بھی تو ہو اگر پہلے سے خباثت مستحکمہ ہے تو اور بھی اس کا استحکام ہوگا۔
Ayahs 9:128–129

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:128 in the Quran reader

اے لوگو تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہارری جنس (بشر) سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے (ف 6) جو تمہارے منفعت کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں (ف 7) (یہ حالت تو سب کے ساتھ ہے بالخصوص) ایمانداروں کے ساتھ بڑے ہی شفیق ( اور) مہربان ہیں۔ (128)

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ۖۗ٘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 9:129 in the Quran reader

پھر اگر یہ روگردانی کریں تو آپ کہہ دیجیئے (میرا کیا نقصان ہے) کہ میرے لیے (تو) اللہ تعالیٰ (حافظ و ناصر) کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود ہونے کے لائق نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کرلیا اور وہ بڑے بھاری عرش کا مالک ہے۔ (129)

ف 6۔ یعنی چاہتے ہیں کہ تم کو کوئی ضرور نہ پہنچے۔ 7۔ اس تمام تر سورت کا حاصل چندمضامین ہیں اول اثبات توحید ثانی اثبات رسالت ثالث قرآن۔ رابع اثبات معاد۔ خامس تہدید بذریعہ بعض قصص۔ اور اول کے ضمن میں ابطال شرک اور ثانی کے ضمن میں اس کے متعلق بعض شہادت کا جواب اور آپ کی تسلی اور یہ سب مضامین محاجہ میں کفار کے ساتھ اور پہلی سورت میں بھی ان سے محاجہ تھا گو وہاں باسنان تھا اور یہاں باللسان اور وہاں کفار کے مختلف فرقوں سے تھا اور یہاں صرف مشرکین سے چناچہ آیات میں غور کرنے سے یہ سب امور ظاہر ہوسکتے ہیں اس تقریر سے دونوں سورتوں میں بھی اور اس سورت کے اجزاء میں باہمد گر بھی تناسب وارتباط ظاہر ہوگیا۔