9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsبیان القرآن

Ayahs 9:74–77

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

وہ لوگ قسمیں کھاجاتے ہیں کہ ہم نے (فلانی بات) نہیں کہی حالانکہ یقینا انہوں نے کفر کی بات کہی تھی اور (وہ بات کہہ کر) اپنے اسلام (ظاہری) کے بعد (ظاہر میں بھی) کافر ہوگئے اور انہوں نے ایسی بات کا ارادہ کیا تھا جو ان کے ہاتھ نہ لگی اور یہ کہ انہوں نے صرف اس بات کا بدلہ دیا ہے کہ ان کو اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے رزق خداوندی سے مالدار کردیا۔ سو اگر (اس کے بعد بھی) توبہ کریں تو ان کے لیے (دونوں جہان میں) بہتر ہوگا۔ اور اگر روگردانی کی تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت میں دردناک سزا دے گا۔ اور ان کا دنیا میں نہ کوئی یار ہے اور نہ مددگار۔ (ف 2) (74)

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور ان (منافقین) میں بعض آدمی ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے عہد کرتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم کو اپنے فضل سے (بہت سامال) عطا فرمادے تو ہم خوب خیٰرات کریں اور ہم (اس کے ذریعہ سے) خوب نیک نیک کام کیا کریں۔ (75)

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

سو جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے (بہت سا مال) دے دیا تو وہ اس میں بخل کرنے لگے (کہ زکوة نہ دی) اور (اطاعت سے) روگردانی کرنے لگے۔ (76)

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

اور وہ تو روگردانی کے (پہلے ہی سے) عادی ہیں سو اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا میں ان کے دلوں میں نفاق (قائم) کردیا جو اس (خدا) کے پاس جانے کے دن تک رہے گا اس سبب سے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے اپنے وعدہ میں خلاف کیا اور اس سبب سے کہ وہ (اس وعدہ میں شروع ہی سے) جھوٹ بولتے تھے۔ (77)

ف 2۔ ثعلبہ بن ابی حاطب نامی ایک شخص نے آپ سے کثرت مال کی دعا کرائی آپ نے سمجھایا کہ مصلحت نہیں اس نے کہ میں نیک کاموں میں صرف کیا کروں گا غرض آپ کی دعا سے وہ مال دار ہوگیا جب زکوة کا وقت آیا تو کہنے لگا کہ اس میں اور جزیہ میں کیا فرق ہے اور زکوة نہ دی اس پر اگلی آیت نازل ہوئی۔
Ayah 9:78

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا ان کو خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے دل کا راز اور ان کی سرگوشی سب معلوم ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام غیب کی باتوں کو خوب جانتے ہیں۔ (ف 3) (78)

ف 3۔ ان آیتوں کے نازل ہونے کی خبر سن کر ثعلبہ زکوة لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا کہ اللہ نے مجھ کو تیری زکوة لینے سے منع فرمایا ہے اس نے بہت ہائے واویلا کی پھر حضرت صدیق اکبر کے زمانے میں زکوة لے کر آیا آپ نے بھی قبول نہ کی اسی طرح حضرت عمر اور حضرت عثمان نے بھی قبول نہ کی یہاں تک کہ حضرت عثمان کے زمانہ میں وہ مرگیا۔
Ayahs 9:79–81

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

یہ (منافقین) ایسے ہیں کہ نفل صدقہ دینے والے مسلمان پر صدقات کے بارے میں طعن کرتے ہیں اور (خصوص) ان لوگوں پر ( اور زیادہ) جن کو بجز محنت و مزدوری کے اور کچھ میسر نہیں ہوتا یعنی ان سے تمسخر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اس تمسخر کا (تو خاص) بدلہ دے گا (ف 4) اور (مطلق طعن کا یہ بدلہ ملے ہی گا کہ) ان کے لیے دردناک (آخرت میں) سزا ہوگی۔ (79)

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

آپ خواہ ان (منافقین) کے لیے استغفار کریں یا ان کے لیے استغفار نہ کریں۔ اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کرینگے تب بھی اللہ تعالیٰ ان کو نہ بخشے گا یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اللہ اور رسول ﷺ سے کفر کیا۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے سرکش لوگوں کو ہدایت نہیں کیا کرتا۔ (80)

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

پیچھے رہ جانے والے خوش ہوگئے رسول ﷺ اللہ کے (جانے کے) بعد اپنے بیٹھے رہنے پر اور ان کو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرنا ناگوار ہوا اور (دوسروں کو بھی) کہنے لگے کہ تم گرمی میں مت نکلو آپ کہہ دیجئیے کہ جہنم کہ آگ (اس سے بھی) زیادہ گرم ہے۔ کیا خوب ہوتا اگر وہ سمجھتے۔ (81)

ف 4۔ تمسخر سے چونکہ زیادہ دل دکھتا ہے اس لیے اس کا ذکر وقوع اور جزادونوں میں خصوصیت کے ساتھ کیا گیا۔
Ayahs 9:82–83

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

سو تھوڑے دنوں (دنیا میں) ہنس لیں اور بہت دنوں (آخرت میں) (ف 1) روتے رہیں ان کاموں کے بدلہ میں جو کچھ (کفر و نفاق و خلاف) کیا کرتے تھے۔ (82)

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

تو اگر خدا تعالیٰ آپ کو (اس سفر سے مدینہ کو صحیح سالم) ان کے کسی گروہ کی طرف واپس لائے پھر یہ لوگ (کسی جہاد میں) چلنے کی اجازت مانگیں تو آپ یوں کہہ دیجئیے کہ تم کبھی بھی میرے ساتھ نہ چلوگے اور نہ میرے ہمراہ ہو کر کسی دشمن (دین) سے لڑو گے۔ تم نے پہلے بھی بیٹھے رہنے کو پسند کیا تھا تو ان لوگوں کے ساتھ بیٹھے رہو جو پیچھے رہ جانے کے لائق ہی ہیں۔ (83)

ف 1۔ یعنی ہنسنا تھوڑے دنوں کا ہے پھر رونا ہمیشہ ہمیشہ کا ہے۔ فلیضحکوا گوصیغہ امر کا ہے مگر مراد اس سے خبر ہے اور مقصود مرتب کرنا مجموعہ ہے۔
Ayah 9:84

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور ان میں کوئی مرجاوے تو اس (کے جنازہ) پر کبھی نماز نہ پڑھئیے اور نہ (دفن کے لیے) اس کی قبر پر کھڑے ہوجئیے (کیونکہ) انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ حالت کفر ہی میں مرے ہیں۔ (ف 2) (84)

ف 2۔ شان نزول اس آیت کا حدیث شیخین میں ابن عمر سے اس طرح منقول ہے کہ جب عبداللہ بن ابی منافق مر گیا تو اس کے بیٹے نے کہ وہ صحابی رسول تھے رسول اللہ سے درخواست کی کہ اپنا قمیص دیجیے کہ اس میں اس کو کفنایا جائے آپ نے دے دیا پھر درخواست کی کہ اس کی جنازے کی نماز پڑھا دیجیے آپ پڑھنے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا اور عرض کیا یارسول اللہ آپ اس کی نماز پڑھتے ہیں حالانکہ اللہ نے آپ کو منافقین پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے یعنی استغفر لھم ولاتسغفر لھم میں آپ نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے اختیار دیا ہے منع نہی کیا غرض آپ نے نماز پڑھائی اس پر یہ آیت نازل ہوئی پھر کبھی آپ نے منافقین کے جنازے پر نماز نہیں پڑھی مسئلہ کافر کے جنازے پر نماز اور اس کے لیے استغفار یا اس کے کفن دفن میں شرکت جائز نہیں۔
Ayah 9:85

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

اور ان کے اموال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ کو صرف یہ منظور ہے کہ ان (مذکورہ) چیزوں کی وجہ سے دنیا میں (بھی) ان کو گرفتار عذاب رکھے اور ان کا دم حالت کفر ہی میں نکل جاوے۔ (ف 3) (85)

ف 3۔ اوپر غزوہ تبوک کے متعلق منافقین کے تخلف واستیذان باعذار باطلہ کا بیان تھا آگے ان کی اس عادت کا مستمر ہونا کہ ہر غزوہ میں ان کی یہی حالت ہے اور ان کے مقابلہ میں اہل ایمان کی جانبازی اور اس کی فضیلت بیان فرماتے ہیں۔
Ayahs 9:86–89

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور جب کوئی ٹکڑا قرآن کا اس مضمون میں نازل کیا جاتا ہے کہ تم (خلوص دل سے) اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول ﷺ کے ہمراہ ہو کر جہاد کرو تو ان میں کے مقدور والے آپ سے رخصت مانگتے ہیں (ف 1) اور کہتے ہیں کہ ہم کو اجازت دیجئیے کہ ہم بھی (یہاں) ٹھیرنے والوں کے ساتھ رہ جائیں۔ (86)

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

وہ لوگ (غایتہ بےحمیتی سے) خانہ نشین عورتوں کے ساتھ رہنے پر راضی ہوگئے اور ان کے دلوں پر مہر لگ گئی جس سے وہ حمیت و بےحمیتی کو) سمجھتے ہی نہیں۔ (87)

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

ہاں لیکن رسول ﷺ اور آپ کی ہمراہی میں جو مسلمان ہیں انہوں نے (اس حکم کو مانا اور) اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کیا اور ان ہی کے لیے ساری خوبیاں ہیں۔ اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ (88)

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں وہ ان میں ہمیشہ کو رہیں گے۔ اور یہ بڑی کامیابی ہے۔ (89)

ف 1۔ اولو الطول کے ذکر سے تخصیص مقصود نہیں بلکہ غیر اولی الطول کا حال بدرجہ اولی معلوم ہوگیا کہ جب اہل مقدور کا یہ حال ہے تو بےمقدوروں کا تو ضروری ہوگا۔
Ayah 9:90

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور کچھ بہانہ باز لوگ دیہاتیوں میں سے آئے تاکہ ان کو (گھر رہنے کی) اجازت مل جائے اور (ان دیہاتیوں میں سے) جنہوں نے خدا سے اور اس کے رسول ﷺ سے (دعوٰیٴ ایمان میں) بالکل ہی جھوٹ بولا تھا وہ (بالکل ہی) بیٹھ رہے ان میں جو (آخر تک) کافر رہیں گے ان کو دردناک عذاب ہوگا۔ (ف 2) (90)

ف 2۔ یوں تو دعوی ایمان میں سب ہی منافقین جھوٹے تھے مگر جو عذر کرنے آئے تھے انہوں نے اپنے دعوی کو ظاہر داری میں تو پورا کیا اور بعض ایسے متکبر تھے جنہوں نے ظاہرداری بھی نہ برتی وہ جیسے دل میں جھوٹے تھے ظاہر میں بھی ان کا جھوٹ کھل گیا۔
Ayahs 9:91–92

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

کم طاقت والوں پر کوئی گناہ نہیں اور نہ بیماروں پر اور نہ ان لوگوں پر جن کو خرچ کرنے کو میسر نہیں جبکہ یہ لوگ اللہ اور رسول کے ساتھ ( اور احکام میں) خلوص رکھیں ان نیکوکاروں پر کسی قسم کا الزام (عائد) نہیں اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے بڑی رحمت والے ہیں۔ (ف 3) (91)

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں پر (کوئی گناہ ہے) جس وقت وہ آپ کے پاس اس واسطے آتے ہیں کہ آپ ان کو کوئی سواری دیدیں اور آپ کہہ دیتے ہیں کہ میرے پاس تو کوئی چیز نہیں جس پر میں تم کو سوار کروں تو وہ (ناکام) اس حالت سے واپس چلے جاتے ہیں۔ کہ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے ہیں اس غم میں کہ (افسوس) ان کو خرچ کرنے کو کچھ بھی میسر نہیں۔ (92)

ف 3۔ اگر یہ لوگ اپنے علم میں معذور ہوں اور اپنی طرف سے خلوص و اطاعت میں کوشش کریں اور واقع میں کچھ کمی رہ جائے تو معاف کردیں گے۔
Ayahs 9:93–95

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

پس الزام ( اور مؤ اخذہ) تو صرف ان لوگوں پر ہے جو باوجود اہل سامان (وقوت) ہونے کے گھر رہنے کی اجازت چاہتے ہیں وہ لوگ (غایتہ بےحمیتی سے) خانہ نشین عورتوں کے ساتھ رہنے پر راضی ہوگئے اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی جس سے وہ (گناہ وثواب کو) جانتے بھی نہیں۔ (ف 4) (93)

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

یہ لوگ تمہارے (سب کے) سامنے عذر پیش کریں گے جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے (سو اے محمد ﷺ آپ (سب کی طرف سے صاف) کہہ دیجیئے کہ یہ عذرپیش مت کرو ہم کبھی تم کو سچا نہ سمجھیں گے اللہ تعالیٰ ہم کو تمہاری (واقعی) حالت کی خبر دے چکے ہیں اور آئندہ بھی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ تمہاری کار گزاری دیکھ لیں گے پھر ایسے کے پاس لوٹائے جاؤ گے جو پوشیدہ اور ظاہر سب کا جاننے والا ہے پھر وہ تم کو بتلاوے گا جو کچھ تم کرتے تھے۔ (94)

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

ہاں وہ اب تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کہا جائیں گے (کہ ہم معذور تھے) جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تاکہ تم ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو وہ لوگ بالکل گندے ہیں اور (اخیر میں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ان کاموں کے بدلے میں جو کچھ وہ (نفاق و خلاف وغیرہ) کرتے تھے) ۔ (95)

ف 4۔ اوپر ان منافقین کا ذکر تھا جنہوں نے روانگی کے وقت عذر تراشتے تھے آگے ان کا ذکر ہے جنہوں نے واپسی کے بہانے تصنیف کیے یہ اگلی آیتیں واپسی کے قبل نازل ہوئیں جن میں اغراض خانیہ اعراض ورضائے خلق کی تحصیل کے لیے ان کی بہانہ سازی یعتذرون میں پیشین گوئی ہے اور قل لاتعتذروا اور فاعرضوا میں اس عذر کے وقت ان کے ساتھ قولا و عملا برتاو کی تعلیم ہے اور ساتھ ساتھ عذاب کی وعیدیں ان کو سنائی گئی ہیں۔
Ayahs 9:96–97

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

یہ اس لیے قسمیں کھاویں گے کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ سو اگر تم ان سے راضی بھی ہوجاؤ تو (ان کو کیا نفع کیونکہ) اللہ تعالیٰ تو ایسے شریر لوگوں سے راضی نہیں ہوتا۔ (ف 1) (96)

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

(ان منافقیں میں جو) دیہاتی لوگ (ہیں وہ) کفر اور نفاق میں بہت ہی سخت ہیں اور ان کو ایسا ہونا ہی چاہیئے کہ ان کو ان کے احکام کا علم نہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں۔ (97)

ف 1۔ عذر وحلف میں ان کی دوغرضیں فرمائیں اعراض اور رضا اور اس کے متعلق تین حکم فرمائے ایک لاتعتذروا دوسرا اعرضو تیسرا عدم رضا جو فان ترضوا سے مفہوم ہوتا ہے۔
Ayah 9:98

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور ان یہاتیوں میں سے بعض بعض ایسا ہے کہ جو کچھ وہ خرچ کرتا ہے اس کو جرمانہ سمجھتا ہے اور تم مسلمانوں کے واسطے (زمانہ کی) گردشوں کا منتظر رہتا ہے برا وقت انہیں (منافقین) پہ پڑنے والا ہے (ف 2) اور اللہ تعالیٰ سنتے ہیں جانتے ہیں۔ (98)

ف 2۔ چناچہ فتوحات کی وسعت ہوئی کفارذلیل ہوئے ان کی ساری حسرتیں دل ہی میں رہ گئیں اور تمام عمر رنج وخوف میں کٹی۔
Ayah 9:99

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور بعض اہل دیہات ایسے بھی ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو عندالله قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول ﷺ کی دعاؤں کا ذریعہ بناتے ہیں (ف 3) یاد رکھو کہ ان کا یہ خرچ کرنا بیشک ان کے لیے موجب قربت ہے ضرور ان کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں داخل کرلیں گے اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے بڑی رحمت والے ہیں۔ (99)

ف 3۔ کیونکہ آپ کی عادت شریف تھی کہ ایسے مواقع پر خرچ کرنے والے کو دعادیتے تھے جیسا کہ احادیث میں ہے۔
Ayah 9:100

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

اور مہاجرین اور انصار (ایمان لانے میں سب سے) سابق اور مقدم ہیں اور (بقیہ امت میں) جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس (الله) سے راضی ہوئے (ف 4) اور (الله تعالیٰ ان کے لیے ایسے باغ مہیا رکھتے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ( اور) یہ بڑی کامیابی ہے۔ (100)

ف 4۔ سابقون الاولون میں سب مہاجر و انصار آگئے اور الذین التبعوھم میں بقیہ مومنین جن میں اول درجہ تو ان کا ہے جو صحابہ ہیں گو مہاجر و انصار نہیں کیونکہ اخیر میں ہجرت فرض نہ تھی مسلمان ہو کر اپنے اپنے گھررہنے کی اجازت تھی اور دوسرا درجہ تابعین بالمعنی الاصطلاحی کا ہے پھر غیر صحابہ وغیر تابعین کا پھر خود اس اخیر درجہ میں بھی تفاوت ہے کہ تبع تابعین فضل میں اوروں سے مقدم ہیں جس طرح صحابہ میں مہاجرین و انصار دوسرے صحابہ سے افضل ہیں۔
Ayahs 9:101–102

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور کچھ تمہارے گرد و پیش والے دیہاتیوں میں اور کچھ مدینے والوں میں ایسے منافق ہیں کہ نفاق کی حد کمال پر پہنچے ہوئے ہیں (کہ) آپ (بھی) ان کو نہیں جانتے (کہ یہ منافق ہیں پس) ان کو ہم ہی جانتے ہیں ہم ان کو ( اور منافقین کو آخرت سے پہلے) دہری سزا دیں گے (ایک نفاق کی دوسرے کمال نفاق کی) پھر (آخرت میں) وہ بڑے بھاری عذاب کی طرف بھیجے جائیں گے۔ (ف 1) (101)

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ ہیں جو اپنی خطا کے مقر ہوگئے جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے کچھ بھلے اور کچھ برے (سو) اللہ سے امید ہے کہ ان کے حال پر رحمت کے ساتھ توجہ فرماویں (یعنی توبہ قبول کرلیں) بلا شبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے بڑی رحمت والے ہیں۔ (102)

ف 1۔ ان کو اور منافقین سے بڑھا ہوا اس لیے فرمایا کہ مدار نفاق کے نفاق ہونے کا اخفا ہے اور یہ اس میں ایسے بڑھے ہوئے ہیں کہ باوجودیکہ رسول اللہ ﷺ کا ذکاوت وفطانت میں تمام جہاں سے اکمل ہیں مگر انہوں نے آپ کو بھی پتہ نہ چلنے دیا۔
Ayah 9:103

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ (جس کو یہ لائے ہیں) لیجیئے جسکے (لینے کے) ذریعہ سے آپ ان کو (گناہ کے آثار سے) پاک کردینگے (ف 2) اور ان کے لیے دعا کیجیئے بلاشبہ آپ کی دعا ان کے لیے موجب اطمینان (قلب) ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سنتے ہیں خوب جانتے ہیں۔ (103)

ف 2۔ اس لیے ان کی توبہ قبول کی اور اپنی رحمت سے مال قبول کرنے کا حکم اور ان کے لیے دعا کرنے کا حکم فرمایا پس آئندہ بھی خطایا وذنوب کے صدور پر توبہ کرلیاکریں اور اگر توفیق ہو تو خیر خیرات کیا کریں۔ فائدہ۔ جب توبہ سے گناہ معاف ہوگیا تو صدقہ کے آلہ تطہیر وتزکیہ ہونے کے کیا معنی سو وجہ اس کی یہ ہے کہ توبہ سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں لیکن گاہے اس کی ظلمت و کدورت کا اثر باقی رہ جاتا ہے اور گو اس پر مواخذہ نہیں لیکن اس سے آئندہ اور گناہوں کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے پس صدقہ سے خصوصا اور دیگر اعمال صالحہ سے عموما یہ ظلمت اور کدورت مندفع ہوجاتی ہے۔
Ayahs 9:104–108

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا ان کو خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہی صدقات کو قبول فرماتا ہے اور (کیا ان کو) یہ خبر نہیں کہ اللہ ہی توبہ کرنے کی صفت اور رحمت کرنے کی صفت میں کامل ہے۔ (ف 3) (104)

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور آپ کہہ دیجیئے کہ (جو چاہو) عمل کیے جاؤ سو ابھی دیکھے لیتا ہے تمہارے عمل کو اللہ اور اس کا رسول ﷺ اور اہل ایمان اور ضرور تم کو ایسے کے پاس جانا ہے جو تمام کھلی اور چھپی چیزوں کا جاننے والا ہے سو وہ تم کو تمہارا سب کیا ہوا بتلادے گا۔ (105)

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ خدا کے خکم آنے تک ملتوی ہے کہ ان کو سزا دے گا یا ان کی توبہ قبول کرے گا اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے اور حکمت والا ہے۔ (106)

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور بعض ایسے ہیں جنہوں نے ان اغراض کے لیے مسجد بنائی ہے کہ (اسلام کو) ضرر پہنچائیں اور ( اس میں بیٹھ بیٹھ کر) کفر کی باتیں کریں اور ایمانداروں میں تفریق ڈالیں اور اس شخص کے قیام کا سامان کریں جو اس کے قبل سے خدا و رسول ﷺ کا مخالف ہے اور قسمیں کھا جاویں گے کہ بجز بھلائی کے ہماری کچھ نیت نہیں اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔ (107)

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

آپ اس میں کبھی (نماز کے لیے) کھڑے نہ ہوں البتہ جس مسجد کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے (مراد مسجد قبا) وہ (واقعی) اس لائق ہے کہ آپ اس میں (نماز کے لیے) کھڑے ہوں اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وہ خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (108)

ف 3۔ ملخص اس قصہ کا یہ ہے کہ شہر مدینہ کے قریب ایک محلہ ہے قبا اس کا نام ہے رسول اللہ ﷺ جب ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے ہیں تو اول اسی محلہ میں قیام فرمایا پھر شہر میں تشریف لے آئے تھے تو زمانہ قیام میں جس جگہ آپ نماز پڑھتے تھے وہاں اس محلہ کے مومنین مخلصین نے ایک مسجد بنالی اور اس میں نماز پڑھا کرتے منافقین میں باہم یہ صلاح ٹھہری کہ ایک مکان مسجد کے نام سے جداگانہ بنایا جائے اس میں سب جمع ہو کر اسلام کی ضرررسانی کے مشورے کیا کریں غرض مسجد کی شکل پر وہ مکان تیار ہوا تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر درخواست کی گئی کہ آپ وہاں چل کر نماز پڑھ لیجیے تو پھر وہاں جماعت ہونے لگے آپ نے وعدہ کرلیا کہ تبوک سے واپس آکر اس میں نماز پڑھوں گا اللہ نے ان آیات میں آپ کو حقیقت جال کی اطلاع کردی اور وہاں نماز پڑھنے کی غرض سے جانے سے منع فرمایا چناچہ آپ نے صحابہ کو بھیج کر اس کو آگ لگوادی اور منہدم کرادیا اس مسجد کا لقب مسجد حاضر مشہور ہے بوجہ اس کے سبب ضر کا تھا۔
Ayah 9:109

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

پھر آیا ایسا شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت (یعنی مسجد) کی بنیاد خدا سے ڈرنے پر اور خدا کی خوشنودی پر رکھی ہو یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی گھاٹی (یعنی غار) کے کنارہ پر جو کہ گرنے ہی کو ہو رکھی ہو (ف 1) پھر وہ (عمارت) اس (بانی) کو لے کر آتش دوزخ میں گر پڑے اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو (دین کی) سمجھ ہی نہیں دیتا۔ (109)

ف 1۔ مراد اس سے اغراض باطلہ کفریہ ہیں ناپائیداری میں اس کے ساتھ تشبیہ دی گئی۔
Ayah 9:110

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

ان کی یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (کانٹا سا) کھٹکتی رہے گی ہاں مگر ان کے (وہ) دل ہی اگر فنا ہوجاویں تو خیر (ف 2) اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں۔ (ف 3) (110)

ف 2۔ الا ان تقطع قلوبھم۔ کا یہ مطلب نہیں کہ بعد فنا وموت کے راحت ہوجائے گی بلکہ یہ محاورات میں کنایہ ہے دوام حسرت سے۔ 3۔ اوپر متخلفین عن الجہاد کی مذمت تھی آگے مجاہدین کی فضیلت پھر ان میں سے خاص کاملین کی جن میں دوسرے اوصاف ایمانیہ بھی ہوں مناقبت مذکور ہے۔
Ayah 9:111

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے انکی جانوں اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں (ف 4) اس پر سچا وعدہ کیا گیا ہے توریت میں (بھی) اور انجیل میں (بھی) اور قرآن میں (بھی) اور (یہ مسلم ہے کہ) اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو کون پورا کرنے والا ہے تو تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے (الله تعالیٰ سے) معاملہ ٹھیرایا ہے خوشی مناؤ (ف 5) اور یہ بڑی کامیابی ہے۔ (111)

ف 4۔ یعنی وہ بیع جہاد کرنا ہے خواہ اس میں قاتل ہونے کی نوبت آئے یا مقتول ہونے کی۔ 5۔ کیونکہ اس بیع پر تم کو حسب وعدہ مذکور جنت ملے گی۔
Ayah 9:112

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

وہ ایسے ہیں جو گناہوں (سے) توبہ کرنے والے ہیں ( اور اللہ کی) عبادت کرنے والے ہیں ( اور) حمد کرنے والے روزہ رکھنے والے رکوع کرنے والے ( اور) سجدہ کرنے والے نیک باتوں کی تعلیم کرنے والے اور بری باتوں سے باز رکھنے والے اور اللہ کی حدوں کا (یعنی احکام کا) خیال رکھنے والے ہیں) اور ایسے مومنوں کو (جن میں جہاد اور یہ صفات ہوں) خوشخبری سنا دیجیئے۔ (ف 6) (112)

ف 6۔ ان صفات کی قید لگانے کا یہ مطلب نہیں کہ بدون ان صفات کے جہاد کا ثواب نہیں ملتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان سب کے اجتماع پر ثواب اور فضیلت میں اور کثرت اور قوت ہوجاتی ہے۔ تاکہ نرے جہاد پر نہ بیٹھ جاویں بلکہ ان عبادات کو بھی ہمیشہ بجالائیں۔