10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsبیان القرآن

Ayahs 10:40–44

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور ان میں سے بعضے ایسے ہیں جو اس (قرآن) پر ایمان لے آویں گے اور بعضے ایسے ہیں کہ اس پر ایمان نہ لاوینگے اور آپ کا رب (ان) مفسدوں کو خوب جانتا ہے۔ (40)

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور (ان دلائل کے بعد بھی) اگر آپ کو جھٹلاتے رہیں تو (بس اخیر کی بات) یہ کہہ دیجیئے (اچھا صاحب) میرا کیا ہوا مجھ کو ملے گا اور تمہارا کیا ہوا تم کو ملے گا تم میرے کیئے ہوئے کے جوابدہ نہیں ہو اور میں تمہارے کیے ہوئے کا جوابدہ نہیں ہوں۔ (41)

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور (آپ ان کے ایمان کی توقع چھوڑ دیجیئے کیوں کہ) ان میں (گو) بعض ایسے بھی ہیں جو (ظاہر میں) آپ کی طرف کان لگا لگا بیٹھے ہیں کیا آپ بہروں کو سنا (کر ان کے ماننے کا انتظار) کرتے ہیں۔ (42)

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

گو ان کو سمجھ بھی نہ ہو اور (اسی) طرح) ان میں بعض ایسے ہیں کہ (ظاہرا) آپ کو (مع معجزات و کمالات) دیکھ رہے ہیں پھر کیا آپ اندھوں کو رستہ دکھانا چاہتے ہیں گو ان کو بصیرت بھی نہ ہو۔ (43)

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود ہی اپنے آپ کو تباہ کرتے ہیں۔ (ف 3) (44)

ف 3۔ یعنی خود ہی قابلیت موہوبہ کو ضائع کردیتے ہیں اور اس سے کام نہی لیتے۔
Ayah 10:45

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور (ان کو) وہ دن (یاد دلائیے) جس میں اللہ تعالیٰ ان کو اس کیفیت سے جمع کرے گا (ف 4) کہ (وہ ایسا سمجھیں گے) گویا وہ ( دنیا یا برزخ میں) سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہوں گے (ف 5) اور آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے (بھی) واقعی (اس وقت سخت) خسارہ میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے پاس جانے کو جھٹلایا اور وہ (دنیا میں بھی) ہدایت پانے والے نہ تھے۔ (45)

ف 4۔ اوپر آیت کذالک کذب الخ۔ میں کفر و تکذیب پر عذاب کی وعید فرمائی ہے اور آگے اس عذاب کے دنیا میں واقع نہ ہو سے جو وہ کفار جو شبہات کرتے تھے ان کا جواب بضمن تحقیق معاد کے بتلاتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ احیانا دنیا میں گو واقع ہوجائے لیکن اصلی وقت اس کا یوم حشر ہے اسی لیے دنیا میں اس کے صرف بعض شعبے واقع ہوتے ہیں لقولہ تعالیٰ بعض الذ۔ اور کامل طور پر اسی وقت ہوگا۔ لقولہ تعالیٰ ولوان لکل نفس۔ پس دنیا میں واقع نہ ہونا نہ مضر ہے اور نہ میرے اختیار میں ہے۔ لقولہ تعالیٰ قل لا املک۔ اور نہ تمہارے لیے مصلحت ہے کیونکہ فوری وقوع میں مہلت ایمان کی بھی فوت ہوجائے گی لقولہ تعالیٰ ماذا یستعجل۔ 5۔ چونکہ وہ دن مدید ہوگا اور شدید بھی ہوگا اس لیے دنیا اور برزخ کی مدت اور تکلیف سب بھول کر ایسا سمجھیں گے کہ وہ زمانہ بہت جلد گذر گیا۔
Ayah 10:46

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اور جس (عذاب) کا ان سے ہم وعدہ کر رہے ہیں اس میں سے کچھ تھوڑا سا (عذاب) اگر ہم آپ کو دکھلا دیں (ف 6) یا (اس کے نزول کے قبل ہی) ہم آپ کو وفات دے دیں سو ہمارے پاس تو ان کو آنا ہی ہے پھر سب کو معلوم ہے کہ اللہ ان کے سب افعال کی اطلاع رکھتا ہے۔ (ف 7) (46)

ف 6۔ یعنی اگر آپ کی حیات میں ان پر اس کا نزول ہوجائے۔ 7۔ غرض یہ کہ دنیا میں خواہ سزا ہو یا نہ ہو مگر اصلی موقع پر ضرور ہوگی۔
Ayah 10:47

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر ہر امت کے لیے ایک حکم پہنچانے والا (ہوا) ہے سو جب ان کا وہ رسول (ان کے پاس) آ چکتا ہے ( اور احکام پہنچا دیتا ہے اس کے بعد) ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے اور ان پر (ذرا) ظلم نہیں کیا جاتا۔ (ف 1) (47)

ف 1۔ وہ فیصلہ یہی ہے کہ نہ ماننے والوں کو عذاب ابدی میں مبتلا کیا جاتا ہے۔
Ayahs 10:48–49

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ (اے نبی اور اے مسلمانو) یہ وعدہ (عذاب کا) کب (واقع) ہوگا اگر تم سچے ہو تو واقع کیوں نہیں کرا دیتے۔ (48)

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

آپ فرما دیجیئے کہ میں (خود) اپنی ذات خاص کے لیے تو کسی نفع (کے حاصل کرنے) کا اور کسی ضرر (کے دفع کرنے کا) اختیار رکھتا ہی نہیں مگر جتنا (اختیار) خدا کو منظور ہو (ف 2) ہر امت کے لیے ایک معین وقت ہے (سو) جب ان کا وہ معین وقت آ پہنچتا ہے تو (اس وقت) ایک ساعت نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے سرک سکتے ہیں۔ (ف 3) (49)

ف 2۔ پس جب اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں تو دوسرے کے نفع و نقصان کا تو کیونکہ مالک ہوں گا پس عذاب واقع کرنا میرے اختیار میں نہیں۔ 3۔ اسی طرح تمہارے عذاب کا بھی وقت معین ہے اس وقت اس کا وقوع ہوجائے گا۔
Ayah 10:50

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

آپ (اس کے متعلق ان سے) فرما دیجیئے کہ یہ تو بتلاؤ کہ اگر تم پر خدا کا عذاب رات کو آ پڑے یا دن کو تو اس (عذاب) میں کون چیز ایسی ہے کہ مجرم لوگ اس کو جلدی مانگ رہے ہیں۔ (ف 4) (50)

ف 4۔ یعنی عذاب تو سخت ہولناک اور پناہ مانگنے کی چیز ہے نہ جلدی مانگنے کی چیز۔
Ayahs 10:51–56

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا پھر جب وہ (اصل موعود) آ ہی پڑے گا (اس وقت) اس کی تصدیق کرو گے ہاں اب مانا حالانکہ (پہلے سے) تم (بقصد تکذیب) اس کی جلدی مچایا کرتے تھے۔ (51)

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر ظالموں (یعنی مشرکوں) سے کہا جاوے گا کہ ہمیشہ کا عذاب چکھو تم کو تمہارے ہی کئے کا بدلہ ملا ہے۔ (52)

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور وہ (غایت تعجب و انکار سے) آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا وہ (عذاب) واقعی امر ہے آپ فرما دیجیئے کہ ہاں قسم میرے رب کی وہ واقعی امر ہے اور تم کسی طرح خدا کو عاجز نہیں کرسکتے (کہ وہ عذاب دینا چاہے اور تم بچ جاؤ) ۔ (53)

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگر ہر ہر مشرک شخص کے پاس اتنا (مال) ہو کہ ساری زمین میں بھر جاوے تب بھی اس کو دے کر اپنی جان بچانے لگے اور جب عذاب دیکھیں گے تو (مزید فضیحت کے خوف سے) پشیمانی کو (اپنے دل ہی دل میں) پوشیدہ رکھیں گے اور ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہوگا اور ان پر (ذرا) ظلم نہ ہوگا۔ (ف 1) (54)

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

یاد رکھو کہ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمینوں میں ہیں سب اللہ کی ملک ہیں یاد رکھو اللہ کا وعدہ سچا ہے (پس قیامت ضرور آوے گی) لیکن بہت سے آدمی یقین ہی نہیں کرتے۔ (55)

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی جان ڈالتا ہے وہی جان نکالتا ہے (ف 5) اور تم سب اسی کے پاس لائے جاؤ گے ( اور حساب کتاب ہوگا) ۔ (56)

ف 5۔ پس دوبارہ پیدا کرنا اس کو کیا مشکل ہے۔
Ayahs 10:57–58

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو (برے کاموں سے روکنے کے لیے) نصیحت ہے اور دلوں میں جو (برے کاموں سے) روگ (ہوجاتے) ہیں ان کے لیے شفاء ہے رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت اور ذریعہ ثواب ہے۔ (57)

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

ایمان والوں کے لیے آپ ان سے کہہ دیجیئے تو بس لوگوں کو خدا کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہیئے وہ اس (دنیا) سے بدرجہ بہتر ہے جس کو جمع کر رہے ہیں۔ (ف 6) (58)

ف 6۔ کیونکہ دنیا کا نفع قلیل اور فانی اور قرآن کا نفع کثیر اور باقی۔
Ayahs 10:59–60

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

آپ ان سے کہہ دیجیئے کہ یہ تو بتلاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے (انتفاع کے) لیے جو کچھ رزق بھیجا تھا پھر تم نے (اپنی گھڑت سے) اس کا کچھ حصہ حرام اور کچھ حلال قرار دے لیا آپ ان سے پوچھیئے کہ کیا تم کو خدا نے حکم دیا ہے یا (محض) اللہ پر اپنی طرف سے افتراء ہی کرتے ہو۔ (59)

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ پر جھوٹ افتراء باندھتے ہیں ان کا قیامت کی نسبت کیا گمان ہے (ف 1) واقعی لوگوں پر اللہ کا بڑا ہی فضل ہے (ف 2) لیکن اکثر آدمی بےقدرے ہیں (ورنہ توبہ کرلیتے ) ۔ (60)

ف 1۔ یعنی جو بالکل ڈرتے نہیں کیا یہ سمجھتے ہیں کہ قیامت نہیں آئے گی مگر ہم سے باز پرس نہیں ہوگی۔ 2۔ کہ ساتھ کے ساتھ سزا نہیں دیتا بلکہ توبہ کرنے کے لیے مہلت دے رکھی ہے۔
Ayahs 10:61–62

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور آپ (خواہ) کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے آپ کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور (اسی طرح اور لوگ بھی جتنے ہوں) تم جو کام بھی کرتے ہو ہم کو سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام کو کرنا شروع کرتے ہو اور آپ کے رب (کے علم) سے کوئی چیز ذرہ برابر بھی غائب نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں (بلکہ سب اس کے علم میں حاضر ہیں) اور نہ کوئی چیز اس (مقدار مذکور) سے چھوٹی ہے اور نہ کوئی چیز (اس سے) بڑی ہے مگر یہ سب (بوجہ احاطہٴ علم الہٰی کے) کتاب مبین (یعنی لوح محفوظ) میں (مرقوم) ہے۔ (61)

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

یاد رکھو اللہ کے دوستو پر نہ کوئی اندیشہ (ناک واقعہ پڑنے والا) ہے اور نہ وہ (کسی مطلوب کے فوت ہونے پر) مغموم ہوتے ہیں (ف 3) وہ اللہ کے دوست ہیں۔ (62)

ف 3۔ یعنی اللہ ان کو خوفناک اور غم ناک حوادث سے بچاتا ہے خوف سے خوف حق اور غم سے غم آخرت مراد نہیں بلکہ دنیوی خوف وغم کی نفی مراد ہے۔ جس کا احتمال مخالفت اعداء سے ہوسکتا ہے وہ مومنین کاملین کو نہیں ہوتا ہر وقت ان کا اللہ پر اعتماد ہوتا ہے ہر واقعہ کی حکمت کا اعتقاد رکھتے ہیں اس میں مصلحت سمجھتے ہیں۔
Ayah 10:63

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

جو ایمان لائے اور (معاصی سے) پرہیز رکھتے ہیں۔ (ف 4) (63)

ف 4۔ یعنی ایمان اور تقوی سے اللہ کا قرب نصیب ہوتا ہے۔
Ayahs 10:64–65

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لیے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی (منجانب اللہ خوف و حزن سے بچنے کی خوشخبری ہے ( اور) اللہ کی باتوں میں (یعنی وعدوں میں) کچھ فرق ہوا نہیں بڑی کامیابی ہے۔ (64)

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور آپ کو ان کی باتیں غم میں نہ ڈالیں تمام تر غلبہ اور قدرت بھی خدا کے لیے (ثابت) ہے (ف 5) وہ (ان کی باتیں) سنتا ہے ( اور ان کی حالت) جانتا ہے (وہ آپ کا بدلہ ان سے خود لے گا۔ (65)

ف 5۔ وہ اپنی قدرت سے حسب وعدہ آپ کی حفاظت کرے گا۔
Ayahs 10:66–71

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

یاد رکھو جتنے کچھ آسمانوں میں ہے اور جتنے زمین میں ہیں (یعنی جن و انس اور فرشتے) یہ سب اللہ کی مملوک ہیں (ف 6) اور جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے شرکاء کی عبادت کر رہے ہیں (خدا جانے) کس چیز کا اتباع کر رہے ہیں محض بےسند خیال کا اتباع کر رہے ہیں اور محض قیاسی باتیں کر رہے ہیں۔ (66)

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہ اللہ ایسا ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی ہے تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن بھی اسی طور بنایا کہ دیکھنے بھالنے کا ذریعہ ہے اس میں دلائل (توحید) ہیں ان لوگوں کے لیے جو (تدبر کے ساتھ مضامین کو) سنتے ہیں۔ (67)

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ (نعوذ بالله) اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے سبحان اللہ (کیسی سخت بات کہی) وہ تو کسی کا محتاج نہیں اور سب اس کے محتاج ہیں اس کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے) تمہارے پاس (بجز بیہودہ دعوے کے) اس (دعوے) پر کوئی دلیل (بھی) نہیں (تو) کیا اللہ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کا تم (کسی دلیل سے) علم نہیں رکھتے۔ (68)

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیئے جو لوگ اللہ پر جھوٹ افتراء کرتے ہیں جیسے (مشرکین) وہ (کبھی) کامیاب نہ ہوں گے۔ (69)

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

یہ دنیا میں (چند روزہ) تھوڑا سا عیش ہے (جو بہت جلد ختم ہوجاتا ہے) پھر (مر کر) ہمارے ہی پاس ان کو آنا ہے پھر ( آخرت میں) ہم ان کو ان کے کفر کے بدلے سزائے سخت (کا مزہ) چکھا دیں گے۔ (70)

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور آپ ان کو نوح (علیہ السلام) کا قصہ پڑھ کر سنائیے (جو کہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ انھوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم اگر تم کو میرا رہنا (یعنی وعظ گوئی کی حالت میں) اور احکام خداوندی کی نصیحت کرنا بھاری ( اور ناگوار) معلوم ہوتا ہے تو میرا تو خدا ہی پر بھروسہ ہے سو تم (میرے ضرر پہچاننے کے متعلق) اپنی تدبیر (جو کچھ کرسکو) مع اپنے شرکاء (یعنی بتوں) کے پختہ کرلو (ف 1) پھر وہ تدبیر تمہاری گھٹن ( اور دل تنگی) کا باعث نہ ہونا چاہیئے (ف 2) پھر میرے ساتھ (جو کچھ کرنا ہے) کر گزرو اور مجھ کو (اصلا) مہلت نہ دو ۔ (ف 3) (71)

ف 1۔ یعنی تم اور تمہارے معبود سب مل کر میری ضرر رسانی میں اپناارمان پورا کرلو۔ 2۔ یعنی اکثر خفیہ تدبیر سے طبیعت گھٹا کرتی ہے سو خفیہ تدبیر کی ضرورت نہیں جو کچھ تدبیر کرو دل کھول کر علانیہ کرو اور نہ میرے چلے جانے نکل جانے کا اندیشہ کرو کیونکہ اتنے آدمیوں کے پہرے میں سے ایک آدمی کا نکل جانا بھی مستبعد ہے پھر اخفاء کی کیا ضرورت ہے۔ 3۔ حاصل یہ کہ میں تمہاری ان باتوں سے نہ ڈرتا ہوں اور نہ تبلیغ سے رک سکتا ہوں۔
Ayah 10:72

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

پھر بھی اگر تم اعراض ہی کیے جاؤ تو (یہ سمجھو کہ) میں تم سے (اس تبلیغ پر) کوئی معاوضہ تو نہیں مانگا اور میں تم سے کیوں مانگتا کیونکہ) میرا معاوضہ تو صرف (حسب وعدہ کرم) اللہ ہی کے ذمے ہے (ف 4) اور چونکہ مجھ کو حکم کیا گیا ہے کہ میں اطاعت کرنے والوں میں رہوں۔ (72)

ف 4۔ غرض نہ تم سے ڈرتا ہوں نہ کچھ خواہش رکھتا ہوں۔
Ayah 10:73

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

سو ( باوجود اس موعظت بلیغہ کے بھی) وہ لوگ ان کو جھٹلاتے رہے پس (اس پر عذاب طوفان کا مسلط ہوا اور ہم نے اس عذاب سے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے ان کو نجات دی اور ان کو زمین پر آباد کیا اور (باقی جو لوگ رہ گئے تھے) جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو (اس طوفان میں) غرق کردیا سو دیکھنا چاہیئے کہ کیسا (برا) انجام ہوا ان لوگوں کا جو عذاب الہیٰ سے ڈرائے جا چکے تھے۔ (ف 5) (73)

ف 5۔ یعنی بنجیری میں ہلاک نہیں کیے گئے پہلے کہہ دیا سمجھا دیا نہ مانا سزا پائی۔
Ayahs 10:74–76

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر نوح (علیہ السلام) کے بعد ہم نے اور روسولوں کو ان قوموں کی طرف بھیجا سو وہ ان کے پاس معجزات لے کر آئے (مگر) پھر بھی ان کی ضد اور ہٹ کی کیفیت یہ تھی کہ) جس چیز کو انھوں نے اول (دہلہ) میں (ایک بار) جھوٹا کہہ دیا یہ نہ ہوا کہ پھر اس کو مان لیتے اور جیسے یہ لوگ دل کے سخت تھے) اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کے دلوں پر بند لگا دیتے ہیں۔ (74)

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر ان (مذکورین) پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنے معجزات (عصا اور ید) دے کر بھیجا سو انھوں نے (دعوے کے ساتھ ہی ان کی تصدیق کرنے سے) تکبر کیا اور وہ لوگ جرائم کے خوگر تھے۔ (75)

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

(اس لیے اطاعت نہ کی) پھر جب (بعد دعوے کے ان کو ہمارے پاس سے (نبوت موسویہ پر) صحیح دلیل پہنچی (ف 6) تو وہ لوگ کہنے لگے کہ یقینا یہ صریح جادوگر ہے۔ (76)

ف 6۔ مراد اس سے معجزہ ہے۔
Ayah 10:77

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم اس صحیح دلیل کی نسبت جبکہ وہ تمہارے پاس پہنچی ایسی بات کہتے ہو (کہ یہ جادو ہے) کیا یہ جادو ہے حالانکہ جادوگر کامیاب نہیں ہوا کرتے۔ (ف 1) (77)

ف 1۔ یعنی جادوگر جبکہ دعوی نبوت کا کریں تو اظہار خارق میں کامیاب نہیں ہوا کرتے۔