11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 11:1–5

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

الرا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہیں۔

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

(وہ یہ) کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور میں اس کی طرف سے تم کو ڈر سنانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں۔

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تم کو ایک وقت مقرر تک متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا اور صاحب بزرگی کو اس کی بزرگی (کی داد) دے گا اور اگر روگردانی کرو گے تو مجھے تمہارے بارے میں (قیامت کے) بڑے دن کے عذاب سے ڈر ہے۔

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

تم (سب) کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

دیکھو یہ اپنے سینوں کو دوہرا کرتے ہیں تاکہ خدا سے پردہ کریں۔ سُن رکھو جس وقت یہ کپڑوں میں لپٹ کر پڑتے ہیں (تب بھی) وہ ان کی چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے وہ تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے۔

سورة ھود اثبات حقانیت قرآن و توحید ورسالت وتذکیر آخرت الرا۔ کتب احکمت ایتہ۔۔ الی۔۔ انہ علیم بذات الصدور (ربط): اول قرآن حکیم کا منزل من اللہ ہونا بیان کیا کہ اس کتاب کے نزل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ تم ایک اللہ کی عبادت کرو پھر آں حضرت ﷺ کا مرسل من اللہ وہنا بیان کیا کہ آپ کو بشارت اور آخرت اور قیامت کو یاد دلایا جس دن بندوں کو ان کے اعمال کی جزا وسزا ملے گی۔ تاکہ پہلے سے تیاری کرلیں۔ اور چونکہ جزا وسزا کے لیے علم کامل اور قدرت کاملہ کا ہونا ضروری ہے کہ حاکم کو مجرم کے جرم کا علم ہو اور اس کے سزا دینے پر اس کو قدرت اور اختیار بھی ہو اس لیے الی اللہ مرجعکم کے بعد وھو علی کل شیئ قدیر۔ سے اپنی قدرت کاملہ کو بیان کیا اور یعلم ما یسرون وما یعلنون انہ علیم بذا لصدور میں اپنے علم محیط کو بیان کیا کہ ہمارا علم ظاہر و باطن سب کو محیط ہے اور بعد ازاں وما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا الخ سے اپنی صفت ترزیق و تخلیق کو بیان کیا۔ الر۔ اسرار الہیہ میں سے اللہ کا ایک بھید ہے جو اللہ ہی کو معلوم ہے۔ یہ قرآن ایک کتاب ہے جس کی آیتیں نہایت محکم اور مضبوط ہیں یعنی اس کے دلائل ایسے قوی ہیں کہ جن میں نقص اور خلل کو راہ نہیں کیونکہ اس میں وحدانیت اور نبوت و رسالت اور معاد کا اثبات ہے اور یہ ایسے امور ہیں جو دلائل عقلیہ اور فطریہ سے ثابت ہیں جن کو ہر ایک عقل سلیم تسلیم کرتی ہے اور ان میں عیب نکالنے کا موقع نہیں کسی قسم کا تناقص ان میں نہیں۔ پھر اس کی تفصیل بیان کی گئی۔ یعنی ہر حکم کو اچھی طرح سمجھا کر بیان کیا گیا ہے۔ جن میں اجمال اور اغلاق نہیں اور یہ کتاب اس ذات پاک کی طرف سے آئی ہے جو حکمت والا اور خبردار ہے۔ الغرض یہ کتاب اس حکیم وخبیر کے علم و حکمت کا مظہر اور آئینہ ہے۔ اس کا اصل مضمون اور اصل مقصود یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور رہا میں، سو جان لو کہ تحقیق میں اللہ کا نبی ہوں اس کی طرف ڈرانے والا اور بشار دینے ولاا ہوں بدوں کو عذاب سے ڈراتا ہوں اور نیکوں کو اس کے ثواب کی بشارت سناتا ہوں۔ اور اس کتاب محکم کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ ہے کہ تم اپنے پروردگار سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو یعنی ایمان لے آؤ پھر آئندہ کے لیے اس کی طرف رجوع ہوجاؤ یعنی ہمہ تن اس کی اطاعت اور اعمال صالحہ کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ اللہ تعالیٰ تم کو ایمان اور عمل صالح کی برکت سے دنیا میں ایک وقت مقررہ تک اچھا بہرہ مند بنائے گا۔ یعنی تمہارے رزق میں برکت ہوگی اور سکون و اطمینان کی زندگی بسر کرو گے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ بہرہ مند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نعمت پر شکر کی اور بلا پر صبر کی توفیق عطا کرے گا۔ جس سے تم ہر حال میں خوش رہو گے۔ دنیاداروں کی طرح دنیا کے دیوانے نہ بنو گے اور یہ مرتبہ ایمان اور عمل صالح کی برکت سے میسر آتا ہے اور ہر زیادہ عمل کرنے والے کو زیادہ اجر عطا کرے گا۔ اور ہر حال میں اللہ کا فضل اور انعام بندہ کے عمل سے زیادہ رہے گا۔ کم از کم دس گنا تو زیادہ رہے گا یہ میری بشارت ہے اور اگر تم لوگ ہدایت اور دین حق کے قبول کرنے سے اور میری متابعت سے روگردانی کرو گے تو میں تم پر بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ قیامت کے دن کو بڑا دن اس لیے کہا گیا کہ وہ تمام دنوں سے بڑا ہوگا اور یہ میری نذارت ہے مجھ کو خدا نے بشیر ونذیر بنا کر بھیجا ہے جو میری بشارت ونذارت سے اعراض کرے گا وہ بڑے دن کے عذاب میں مبتلا ہوگا۔ تم سب کو اللہ ہی کی طرف جانا ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔ یعنی وہ دوبارہ زندہ کرنے اور ثواب و عتاب دینے پر قادر ہے۔ جز وسزا کے لیے یہ ضروری ہے کہ مجرم حاکم کے سامنے حاضر ہو۔ سو حق تعالیٰ تم کو اپنے روبرو حاضر کرنے پر بھی قادر ہے یہ تو حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان ہوا۔ اب آگے اس کے علم محیط کو بیان کرتے ہیں کہ کوئی پوشیدہ سے پوشیدہ چیز بھی اس پر مخفی نہیں مشرکین اور بعض منافقین یہ کہتے تھے کہ جب ہم گھر کے دروازے بند کرلیں گے۔ اور پردے چھوڑدیں اور اپنے کپڑوں میں اپنے آپ کو چھپا لیں اور اپنے سینے میں محمد ﷺ کی عداوت رکھیں تو ہمارے اس راز کو کون جان سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے آئندہ آیت میں اس کا جواب دیا کہ ہم جان سکتے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں : آگاہ ہوجاؤ اور کان کھول کر سن لو تحقیق یہ کافر اپنے سینوں کو دہرا کرتے ہیں۔ یعنی دل میں آں حضرت ﷺ کی عدوت کو چھپاتے ہیں اور اوپر سے کپڑا لپیٹ لیتے تاکہ خدا سے چھپ جائیں ان کا گمان یہ تھا کہ جب ہم کپڑوں میں لپٹ جائیں تو ہماری اس حالت کی خدا کو خبر نہ ہوگی سو آگاہ ہوجاؤ کہ جس وقت وہ لوگ اپنے کپڑوں کو لپیٹتے ہیں اللہ خوب جانتا ہے جو وہ سینوں میں چھپاتے ہیں اور جو زبانوں سے ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے علم میں ظاہر و باطن یکساں ہے تحقیق وہ جاننے والا ہے ان بھیدوں کو جو سینوں میں ہیں۔ اے کہ درد دل نہاں کنی سرے آنکہ دل آفریدہ می داند پس جس خدا پر تمہارے سینے کی بات مخفی نہیں اس پر تمہاری زبانوں کی باتیں کیسے پوشیدہ رہ سکتی ہیں۔ شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں " کافر کچھ مخالفت کی بات گھر میں کہتے اس کا جواب قرآن میں اترتا سمجھتے کہ کوئی کھڑآ سنتا ہے جا کر رسول خدا سے کہہ دیتا ہے۔ تب ایسی بات کہتے تو کپڑا اوڑھ کر جھک کر دوہرے ہو کر کہتے اللہ تعالیٰ نے تب یہ نازل کیا " انتہی۔ اور بعض روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت بعض مسلمانوں کے حق میں نازل ہوئی جن پر حیاء کا اس قدر غلبہ تھا کہ استنجاء یا جماع یا دیگر ضروریات بشری کے وقت بھی شرم کی وجہ سے اپنا سر کپڑؤں سے ڈھانپ لیتے اور بدن کو برہنہ کرنے شرماتے کہ آسمان والا ہم کو دیکھتا ہے یہ لوگ مغلوب الحال تھے۔ اس آیت میں ان کی اصلاح فرمادی کہ اس غلو اور تعمق کی ضرورت نہیں ہے بندہ کسی وقت بھی خدا سے نہیں چھپ سکتا لہذا حوائج بشریہ کے متعلق اس قدر غلو سے کام لینا ٹھیک نہیں۔ آیت کا اصل شان نزول وہی ہے جو شروع میں ذکر کیا گیا کہ یہ آیت کافروں کے حق میں نازل ہوئی لیکن آیت اپنے مدلول عام کے لحاظ سے اگر بعض مسلمانوں کی کسی غلطی کی اصلاح کو متضمن ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ الحمد للہ۔ کہ اس آیت پر پارہ یاز دہم کی تفسیر ختم ہوئی اب پارہ دواز دہم کی تفسیر شروع ہوتی ہے۔ وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور زمین پر کوئی چلنے پھر نے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے۔ وہ جہاں رہتا ہے اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ یہ سب کچھ کتاب روشن میں (لکھا ہوا) ہے۔

بیان صفت ترزیق و صفت تخلیق قال اللہ تعالیٰ وما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا ... الی ... لیبلوکم ایکم احسن عملا۔ (ربط) اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا عالم الغیب ہونا بیان کیا کہ اس کا علم تمام کائنات کو محیط ہے اب ان آیات میں صفت ترزیق اور صفت تخلیق کو بیان کرتے ہیں کہ وہی سب کا رازق ہے اور وہی سب کا خالق ہے اور مخلوق رزق کو کسی جان دار کا زندہ رکھنا مقصود ہے اس وقت تک اس کو رزق پہنچتا رہے گا۔ اور جو حیوان بھوک سے مرجائے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں کمی آگئی ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ اس کے زندہ رکھنے کا نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے جس حیوان کا جتنا رزق مقرر کردیا ہے وہ اس سے غافل نہیں اور زمین کے تمام جانداروں کا رزق اس کے ذمہ ہونا اسکی دلیل ہے کہ اسکا علم تمام کائنات کو محیط ہے اگر اس کو تمام اشیاء کا علم نہ ہوتا تو اس قدر بیشمار مخلوقات کو رزق کیسے دیتا۔ نیز یہ بھی ناممکن ہے کہ خالق کو اپنی مخلوق کا علم نہ ہو۔ الا یعلم من خلق۔ پس اس کا خالق اور رازق ہونا اس کے کمال علم اور کمال قدرت کی دلیل ہے چناچہ ارشاد ہے اور نہیں ہے کوئی جاندار جو زمین پر چلتا ہو اور رزق کھانے والا ہو مگر اللہ کے ذمہ ہے اس کا رزق جو اس کے اس کے لیے مقرر کردیا۔ خدا تعالیٰ نے جس جاندار کا جو اور جتنا رزق مقرر کردیا اسکا پہنچانا خدا کے ذمے ہے رزقھا کی اضافت عہد اور تعین پر دلالت کرتی ہے۔ یعنی قضاء و قدر میں جو رزق اسکا مقدر اور معین ہوچکا ہے وہ اس کو پہنچتا رہے گا۔ خدا کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں پس اگر کوئی بھوک اور فاقہ سے مرجائے تو اس کی یہ وجہ نہیں کہ خدا کے خزانے میں رزق نہیں وہا بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کا اب اسکا زندہ رکھنا ہی مقصود نہیں۔ وہ کسی کو فاقہ سے مارتا ہے اور کسی و بیماری سے مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کے رزق کا کفیل ہے اس کے سوال کوئی رازق نہیں۔ بندوں کو چاہئے کہ اس پر بھروسہ کریں اور چونکہ رزق رسانی کے لیے علم کامل کی ضرورت ہے اس لیے وہ خداوند رزاق ہر حیوان کی جائے قرار کو جانتا ہے۔ مستقر سے وہ جائے قرار مراد ہے، جہاں حیوان اپنی زندگی میں اپنے اختیار سے ٹھہرے جیسے اپنے مکان اور رہنے کی جگہ اور مستودع یعنی جائے ودیعت سے وہ جگہ مراد ہے جہاں ٹھہرنا اختیار سے نہ ہو۔ جیسے پشت پدر اور رحم مادر اور جائے قبر۔ شاہ ولی اللہ قدس سرہ فرماتے ہیں۔ مترجم گوید مستودع جائیست کہ بغیر اختیار اور آنجانگاہ داشتہ بودند مانند صلب ورحم ومستقر جایئست کہ بااختیار خودمی مانند مثل خانہ “ (فتح الرحمن) اور یہی تفسیر ابن عباس ؓ سے منقول ہے (دیکھو تفسیر قرطبی ص 8 ج 9) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی مخلوق زمین میں پیدا کی ہے وہ سب کی روزی پہنچاتا ہے اور وہ ہر مخلوق کی قرار اور رہائش کی جگہ کو جانتا ہے کہ کس جگہ اس کی بودو باش ہے اور کس جگہ اس کی موت ہوگی اور یہ سب باتیں اگرچہ اس کے علم ازلی میں ہیں مگر ساتھ ساتھ لوح محفوظ میں بھی لکھی ہیں اور تم اس کی کفالت رزق کا کیسے انکار کرسکتے ہو کیونکہ خداوند رزاق وہی ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ دن کی مقدار میں پیدا کیا آسمان سے پانی برساتا ہے اور زمین سے روزی نکلتی ہے اور آفتاب کی گرمی سے وہ کھیتیاں پکتی ہیں اور آسمان اور زمین کے پیدا کرنے سے پہلے اس کا عرش عظیم پانی پر تھا جس پر زندگی کا دارومدار ہے کما قال تعالیٰ وجعلنا من السماء کل شیء حیتی۔ غرض یہ کہ آسمان اور زمین اور عرش اور پانی کے پیدا کرنے کے بعد تم کو پیدا کیا تاکہ تم کو آزمائے کہ کون تم میں اچھے عمل کرتا ہے یہ کون و مکان اور یہ زمین و آسمان اور رزق کا یہ سامان اس لیے پیدا کیا کہ دیکھیں کہ ان نعمتوں کو دیکھ کر کون اپنے منعم اور محسن تک پہنچتا ہے۔ اور کون ان نعمتوں میں مست ہو کر منعم اور رزاق کا منکر ہوتا ہے عاقل اور دانا نے اس عجیب و غریب نظام کو دیکھ کر سمجھ لیا کہ یہ دار فانی امتحان گاہ ہے اور آئندہ چل کر ایک وقت آنے والا ہے جس میں اس امتحان کے نتیجہ کا علان ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ہر چیز پر قدرت ہے اس نے اپنی قدرت سے آسمان اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور اس سے پہلے اللہ کا عرش پانی پر تھا۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے پانی کو پیدا کیا اور پھر عرش کو پیدا کیا۔ پھر قلم کو پھر لوح محفوظ کو اور پھر پچاس ہزار سال بعد آسمان اور زمین پیدا کئے اور عمران بن حصین (رح) کی حدیث میں ہے۔ کان اللہ ولم یکن شیء غیرہ۔ یعنی ایک وقت ایسا تھا کہ صرف اللہ کی ذات پاک تھی۔ اور اس کے سوا کوئی چیز نہ تھی اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ بدیع السموت والارض۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو بلا مادہ اور بلا کسی اصل کے محض اپنی قدرت سے پیدا کیا تاکہ بندوں کا امتحان کرے کہ وہ خدا کے آثار قدرت کو دیکھ کر اس کو مانتے ہیں یا نہیں۔ اس قسم کی آیات اور احادیث اس امر کی صریح دلیل ہیں کہ دیگر کائنات کی طرح مادہ بھی مخلوق اور حادث ہے اللہ ہر چیز کا خالق ہے مادہ ہو یا صورت سب اس کی مخلوق ہے۔ فلاسفہ اور دہریہ کہتے ہیں کہ مادہ قدیم اور غیر مخلوق ہے یہ گروہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا قائل نہیں ان کا قول یہ ہے کہ دنیا کے تمام کام مادہ قدیمہ کی حرکت سے اور موجودات کی باہمی کششوں اور طبعی خواص سے چل رہے ہیں اور یہ لوگ اپنے اس قول کی دلیل یہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے کسی چیز کو معدوم محض ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اور نہ کسی چیز کو نیست سے ہست ہوتے دیکھا صرف صورتوں کا اختلاف دیکھا۔ لکڑی اور مٹی کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں مگر مادہ بحالہ باقی رہتا ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ ہماری قدرت میں صرف اتنا ہے کہ صورت تبدیل کرسکتے ہیں۔ ایجاد محض یا اعدام محض نہیں کرسکتے۔ جواب یہ ہے کہ آپ کی اس دلیل سے یہ کہاں سے لازم آیا کہ واقع میں ایسا ناممکن اور محال ہے بیشک ایک چیز آپ نے نہیں دیکھی اور آپ کی قدرت سے باہر ہے مگر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا اور یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ امر کسی کی بھی قدرت میں نہیں بلکہ اپنے متعلق بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ آئندہ چل کر مجھے اس پر قدرت نہ ہوگی۔ ممکن ہے کہ یہ امر آج آپ کی قدرت سے خارج ہو اور آئندہ چل کر آپ اس پر قادر ہوجائیں۔ جیسے گراموفون اور ٹیلی فون اور تار برقی کی ایجادات دو سو سال پیشتر قدرت انسانی سے خارج تھیں اور اب ہر وقت نظروں کے سامنے ہیں غرض یہ کہ کسی چیز کو عدم تجربہ اور نہ دیکھنے پر محال کہنا سراسر غلط ہے سورج کو مشرق یا مغرب سے نکالنا آپ کی قدرت میں نہیں تو اس سے یہ کہاں لازم آیا کہ یہ امر کسی کی بھی قدرت میں نہیں۔ بیشک یہ امر آپ کی قدرت سے خارج ہے مگر جس قادر مطلق نے اس کو وجود عطا کیا ہے اس کو قدرت ہے کہ چاہے مشرق سے نکالے یا مغرب سے نکالے اس کی قدرت کے اعتبار سے مشرق اور مغرب سب برابر ہیں اگر کوئی شخص کسی فقیر یا مزدور سے جو دن بھر میں کمال مشقت و محنت سے ایک ایک روپیہ کماتا ہو، یہ کہے کہ تجھ کو دس ارب روپیہ مل جائے گا تو وہ اس کو ناممکن اور محال سمجھے گا۔ اور عجب نہیں کہ اس کے محال ہونے پر کوئی طویل و عریض لیکچر بھی دیدے۔ لیکن عاقل اور دانا یہ سمجھتا ہے کہ یہ امر عقلا محال اور ناممکن نہیں بلکہ مستبعد اور اچنبھا ہے یعنی عجیب معلوم ہوتا ہے دائرہ امکان سے باہر نہیں ” محال “ وہ ہے کہ جس کا باطل ہونا دلیل عقلی سے ثابت ہو جیسے اجتماع نقیضین اور ارتقاع نقیضین اور ” مستبعد “ وہ ہے کہ جو ظاہر کے لحاظ سے عجیب و غریب نظر آئے۔ آج کل کے سائنسدان محال اور مستبعد میں فرق نہیں کرتے حالانکہ دونوں میں بڑا فرق ہے بہرحال عدم محض سے کسی چیز کا وجود میں آنا نیست سے ہونا قطعا محال نہیں ہوا اور ہم نے کبھی ایسا نہیں دیکھا آپ ذرا ہوش میں آئیے اور بتلائیے کہ آپ کے نہ دیکھنے سے یا نہ کرسکنے سے کسی چیز کا محال ہونا کیسے ثابت ہوا۔ اس قسم کی باتوں سے کسی چیز کا ناممکن اور محال ہونا ثابت نہیں ہوتا البتہ ان باتوں سے آپ کا گھمنڈ ثابت ہوجاتا ہے۔ ابطال قدامت مادہ اسے علمبرداران فلسفہ و سائنس آپ اگر ثہ مادہ کو قدیم اور اس کے ذرات بسیط کی حرکت کو قدیم مانتے ہیں لیکن تبدیل صورت کے تو قائل ہیں کہ صورتیں بدلتی رہتی ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ صورتوں کے حادثات ہونے کے قائل اور معترف ہیں اور صورت کی تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ پہلی صورت تو معدوم اور زائل ہوگئی اور جدید صورت موجود ہو کر مادہ کو لاحق ہوگئی تو اب سوال یہ ہے کہ جب اجسام مادیہ میں صورت و شکل کی تبدیلی واقع ہوتی ہے تو آپ یہ بتلائیں کہ اس اول بدل ہے وقت۔ اور دوسری صورت کے آنے کے وقت پہلی صورت اور شکل بھی اس جسم میں باقی رہی یا بالکل زائل اور معدوم اور فنا ہوگئی۔ یا کسی دوسرے جسم کی طرف منتقل ہوگئی۔ پہلی شق بداہتہً باطل ہے اس لیے کہ ایک محل میں ایک ہی وقت میں دو متضاد شکلوں کا جمع ہونا عقلاً محال ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ موم کے گولہ کو ایک شمع بنا لیا جائے تو اس میں باوجود مستطیل ہونے کے شکل مستدیری ہی باقی رہے اور علیٰ ہذا تیسری شق بھی ہداہتہً باطل ہے ہم ہداہتہً جانتے ہیں کہ اس جس کی پہلی صورت زائل ہو کر کسی دوسرے جسم کو جاکر نہیں لگ گئی۔ اب دوسری صورت متعین ہوگئی کہ تبدیلی کے وقت پہلی صورت و شکل بالکل زائل اور معدوم ہوگئی۔ اور عدم میں چلی گئی۔ لہٰذا اب دوسری شکل و صورت کے متعلق تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ عدم محض سے وجود میں آئی یعنی پہلے نیست تھی اب ہست ہوگئی۔ پس ہر لمحہ صورتوں کی تبدیلی سے نیست سے ہست ہونے کا آپ نے مشاہدہ کرلیا۔ یہ تو آپ کی قدرت کا حال ہوا کہ آپ صورتوں اور شکلوں میں نیست سے ہست کرنے پر قادر ہیں تو سمجھ لو کہ خداوند قدیر آسمان و زمین اور شمس و قمر جیسے اجسام کو نیست سے ہست کرنے پر قادر ہے اور خدا اپنی قدرت کاملہ سے ہر جوہر و عرض کو نیست سے ہست کرنے پر قاد ہے پس جب یہ ثابت ہوگیا کہ صورت حادث ہے اور نیست سے ہست ہوتی ہے تو اس سے مادہ کا حادث ہونا ثابت ہوگیا۔ کیونکہ صورت مادہ کیلئے لازم ہے مادہ بغیر صورت کے موجود نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ یہ امر عقلا محال ہے کہ مادہ کو موجد ہو اور اس کی صورت اور شکل نہ ہو کیونکہ عقل اس تصور سے قاصر ہے کہ مادہ پر کوئی زمانہ ایسا گزرا ہے کہ مادہ بغیر صورت کے موجود تھا۔ اور اس کو کوئی صورت اور شکل حاصل نہ تھی اور جب مادہ بلا صورت کے موجود نہیں ہوسکتا تو مادہ کا قدیم ہونا باطل ہوگیا کیونکہ جس چیز کا وجود کسی حادث پر موقوف ہوگا وہ قدیم نہیں ہوسکتی بلکہ بلاشبہ حادث ہوگی بلکہ وہ تو حادث در حادث ہوگی۔ اور اگر یہ مان لیا جائے کہ مادہ بغیر صورت کے موجود ہوسکتا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ وجود بالقوہ ہوگا۔ اور وجود بالفعل نہ ہوگا اور وجود بالقوہ من وجہ عدم ہے اور من وجہ وجود ہے یعنی ناقص و ناتمام وجود ہے اور جس چیز کا وجود ناقص اور ناتمام ہو وہ کبھی قدیم نہیں ہوسکتی۔ اور بالفاظ دیگر وجود بالقوہ ایک استعداد اور قابلیت اور صلاحیت کا نام ہے جو ایک قسم کا فرضی وجود ہے حقیقی وجود نہیں لہٰذا ایسی فرجی اور موہوم حقیقت کا قدیم ہونا عقلا محال ہے۔
Ayahs 11:7–8

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا (تمہارے پیدا کرنے سے) مقصود یہ ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کرکے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر ایک مدت معین تک ہم ان سے عذاب روک دیں تو کہیں گے کہ کون سی چیز عذاب کو روکے ہوئے ہے۔ دیکھو جس روز ان پر واقع ہوگا (پھر) ٹلنے کا نہیں اور جس چیز کے ساتھ یہ استہزأ کیا کرتے ہیں وہ ان کو گھیر لے گی۔

قال اللہ تعالیٰ ولئن قلت انکم مبعوثون ..... الی .... وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزءون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں تکوین عالم اور اس کی غرض وغایت کا ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو تمہاری آزمائش کے لیے پیدا کیا کہ کون اچھا عمل کرتا ہے اب اس آیت میں بعث بعد الموت۔ اور عمل کی جزا و سزا کو بیان کرتے ہیں کیونکہ مکلفین کے ابتلاء و امتحان کے لیے جزا اور سزا ضروری ہے اور جزا اور سزا کے لیے حشر و نشر ضروری ہے لہٰذا اگر کسی حکمت کی وجہ سے عذاب میں تاخیر ہوجائے تو انسان کو یہ گمان نہ کرنا چاہئے کہ عذاب کا وعدہ غلط ہے۔ عذاب ضرور آئیگا مگر اپنے وقت پر آئیگا اور جب عذاب آئے گا تو اس سے کچھ بچ نہیں سکے گا اور ان کے مسخرہ پن کی سزا ان کو مل جائے گی اور اے نبی ﷺ ! اگر آپ ان منکرین حساب و کتاب سے یہ کہیں کہ تم مرنے کے بعد یہ قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جاؤ گے تو جو کافر ہیں اور حشر نشر کے منکر ہیں تو ضرور بالضرور جواب میں یہ کہیں گے کہ نہیں ہے یہ حشر و نشر کی بات مگر کھلا جادو۔ یعنی دوبارہ زندگی کی بات مثل جادو کے دھوکہ اور فریب سے جس کی حقیقت کچھ نہیں مطلب یہ ہے کہ اس قرآن میں جادو کی باتیں ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونگے اور اگر ہم ان منکروں سے اس عذاب اور مؤاخذہ میں کچھ دیر لگا دیں جس کا ہم نے اس سے وعدہ کیا ہے اور ایک وقت مقررہ تک اس عذاب موعود کو کسی حکمت اور مصلحت کی بنا پر ملتوی رکھیں تو یہ لوگ ازراہ تمسخر یہ کہیں گے کہ کس چیز نے اس عذاب موعود کو نازل اور واقع ہونے سے روک رکھا ہے جس عذاب کے ہم آپکے نزدیک مستحق ہیں یعنی محمد ﷺ جس عذاب کی ہم کو دھمکیاں دیتے ہیں وہ سب جھوٹی ہیں اگر سچا ہے تو عذاب ہم پر نازل کیوں نہیں ہوجاتا۔ حق تعالیٰ جواب میں فرماتے ہیں آگاہ ہوجاؤ اور کان کھول کر سن لو۔ جس دن وہ عذاب موعود ان پر آجائے گا تو پھر وہ کسی طرح ان سے ہٹایا نہیں جائے گا۔ وہ لامحالہ ان پر واقع ہو کے رہے گا اور وہی عذاب ان کو آکر گھیرے گا جس کا یہ ٹھٹھا اڑاتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ عذاب کے مستحق ہیں کسی حکمت سے اس میں تاخیر ہو رہی ہے۔ جب عذاب اپنے وقت معین پر نازل ہوگا تو ساری کسر نکل جائے گی اللہ تعالیٰ نے کسی حکمت سے اس عذاب کے نزول کا وقت نہیں بتلایا۔
Ayahs 11:9–11

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور اگر ہم انسان کو اپنے پاس سے نعمت بخشیں پھر اس سے اسکو چھین لیں تو ناامید (اور) ناشکرا (ہوجاتا ہے )

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو (خوش ہو کر) کہتا ہے کہ (آہا) سب سختیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ بیشک وہ خوشیاں منانے والا (اور) فخر کرنیوالا ہے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

ہاں جنہوں نے صبر کیا اور عمل نیک کئے۔ یہی ہیں جن کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔

بیان حال طبیعت انسانیہ و راحت و کلفت قال اللہ تعالیٰ ولئن اذقنا الانسان منا رحمۃ .... الیٰ .... لہم مغفرۃ واجر کبیر۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ بیان فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ ولیہ وآلہ وسلم جب عذاب الٰہی سے ڈراتے تو کفار نہایت بےباکی سے یہ کہہ دیتے کہ وہ عذاب کیوں نہیں آتا اب اس آیت میں طبیعت انسانی کا حال بیان کرتے ہیں کہ وہ اکثر و بیشتر ایک حال پر نہیں رہتی اگر عیش و آرام کے بعد ذرا تکلیف میں مبتلا ہوا تو ناامید ہو کر بیٹھ جاتا ہے اور اگر مصیبت کے بعد راحت پہنچتی ہے تو اترانے لگتا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اگر ہم انسان کو اپنی طرف سے کسی رحمت اور نعمت کا مزا چکھائیں اور پھر اس سے وہ اپنی نعمت چھین لیں تو وہ بےصبری کی وجہ سے آئندہ ہمارے لطف و کرم سے ناامید ہوجاتا ہے اور گزشتہ نعمت کو بھی بھول جاتا ہے اور جو نعمتیں فی الحال اس کو حاصل ہیں ان کے شکر سے بھی غافل ہوجاتا ہے اور اگر ہم اس کو کسی نرمت کا مزہ چکھائیں جیسے تندرستی اور مالداری بعد اس سختی کے جو اسے پہنچتی ہو جیسے بیماری اور محتاجی تو یہ کہنے لگتا ہے کہ اب تو مجھ سے برائیں گئیں یعنی مصیبتیں اور سختیاں مجھ سے دور ہوئیں اب آئندہ کی مجھے پرواہ نہیں تحقیق یہ نادان انسان بڑا اترانے والا ہے نعمت کو دیکھ کر پھول جاتا ہے اور بڑا شیخی خورہ ہے نعمت دیکھ کر فخر کرنے لگتا ہے۔ اور شکر سے غافل ہوجاتا ہے۔ اکثر انسانوں کی یہی حالت ہے کہ مصیبت میں بےصبرے اور نعمت میں ناشکرے اور ناقدرے مگر جو لوگ صابر اور نیک عمل ہیں انکا یہ حال نہیں وہ مصیبت اور زوال نعمت کے وقت صبر سے کام لیتے ہیں اور عطائے نعمت کے وقت شکر سے کام لیتے ہیں غرض یہ کہ سراء اور ضراء کسی حال میں خدا سے غافل نہیں ایسے ہی لوگوں کے لیے جو صبر و شکر سے موصوف ہوں گناہوں کی بخشش ہے اور بڑا اجر ہے صبر اور شکر کی برکت سے گناہوں کی بخشش بھی ہوئی اور وہم و گمان سے بڑھ کر اجر اور ثواب بھی ملے گا۔
Ayahs 11:12–14

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

شاید تم کچھ چیز وحی میں سے جو تمہارے پاس آتی ہے چھوڑ دو ۔ اس (خیال) سے تمہارا دل تنگ ہو کہ (کافر) یہ کہنے لگیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں نازل ہوا ؟ یا اس کے ساتھ فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ (اے محمد) تم تو صرف نصیحت کرنیوالے ہو اور خدا ہر چیز کا نگہبان ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

یہ کیا کہتے ہیں کہ اس نے قرآن از خود بنالیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ خدا کے سوا جس جس کو بلا سکتے ہو بلا بھی لو

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ وہ خدا کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تمہیں بھی اسلام لے آنا چاہئے۔

بیان نوع دیگر از طعنہائے کفار ناہنجار و تسلی نبی اکرم ﷺ قال اللہ تعالیٰ فلعلک تارک بعض ما یوحی الیک ........ الی ....... فہل انتم مسلمون۔ (ربط) اس سورت کا آغاز قرآن کریم کے ذکر سے فرمایا جس کے ساتھ ساتھ یہ بتلایا کہ قرآن کا موضوع دعوت توحید ہے اور آنحضرت ﷺ خدائے تعالیٰ کی جانب سے بشیر و نذیر ہیں۔ اس لیے بھیجے گئے ہیں کہ تم ناشائستہ اعمال سے توبہ کرو۔ مگر وہ لوگ قرآن کو سحر اور آپ ﷺ کو ساحر بتلاتے تھے اب ان آیات میں ان کی دوسری ناشائستہ اور طعن آمیز باتوں کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ ﷺ کا استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں اور احکام الٰہی کو سن کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور آپ ﷺ سے بیہودہ سوالات کرتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ فرشتوں کو ہمارے سامنے لاؤ کہ وہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی شہادت دیں کبھی کہتے ہیں کہ جبل احد کو سونا بناؤ کبھی کہتے ہیں کہ قرآن سے ہمارے بتوں کی مذمت نکال دو اس قسم کی بیہودہ باتوں سے آپ ﷺ تنگدل اور رنجیدہ ہوتے اور خیال آتا کہ ایسے مسخروں کو کلام الٰہی سنانا اور وعظ و نصیحت کرنا بےسود ہے حق جل شانہ نے اس آیت میں آپ ﷺ کو تسلی دی کہ آپ صلی اللہ علیہوسلمل ان کی بیہودہ باتوں پر دل میں میل نہ لائیں اور ان کے تعنت وعناد اور طعن وتشنیع سے تنگ دل ہو کر کسی حکم الٰہی کے بیان کو ترک نہ کریں بیشک انسان کا یہ امر طبعی ہے کہ جو اس کی بات کو نہ سنے بلکہ اس کا مذاق اڑائے تو اس کے سامنے کیا کہے حق تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ ان کی طرف نظر نہ کریں ہماری طرف نظر کریں اور نہایت کشادہ دلی سے کلام خداوندی کی آیتیں ان کو سناتے رہیں اور اگر انکا یہ گمان ہے کہ یہ قرآن آپ ﷺ کا افتاء کیا ہوا ہے تو آپ ﷺ ان سے کہہ دیں کہ تم بھی اس جیسی دس سورتیں افتراء کر لاؤ جب نہ بنا کر لاسکیں تو سمجھ لیں کہ یہ کلام بشر کا نہیں۔ (بالفاظ دیگر) گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا بیان تھا۔ اب اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کی ایک عظیم دلیل کا بیان ہے یعنی یہ قرآن آپ ﷺ کی نبوت کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ جب تمام فصحاء اور بلغاء اس کے مثل لانے سے عاجز ہوجائیں گے تو معلوم ہوجائے گا کہ یہ کلام بشر نہیں بلکہ کلام خداوندی اور وحی ربانی ہے اور جس پر اللہ کی وحی نازل ہو وہ اللہ کا نبی اور رسول ہے اور یہ کلام معجز نظام اس کی نبوت و رسالت کی دلیل ہے اور اس معجزہ کے بعد کسی اور معجزہ کی ضرورت نہیں لہٰذا آپ ﷺ ان کی ہر زہ سرائیوں کی طرف التفات نہ کریں صبر اور استقامت کے ساتھ فرائض تبلیغ انجام دیتے رہیے۔ مشرکین مکہ نے قرآن کریم کو مشکوک بنانے کے لیے یہ شبہ نکالا کہ یہ قرآن سحر اور جادو ہے مگر وہ لوگ چونکہ اہل فصاحت و بلاغت تھے اور اہل زبان تھے اس لیے یہ شبہ ان پر کار گر نہ ہوا تو اب یہ بہانہ نکالا یہ قرآن اللہ کی وحی نہیں بلکہ محمد ﷺ کا بنایا ہوا کلام ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر تمہارا یہ زعم ہے کہ یہ قرآن پاک آپ ﷺ کا بنایا ہوا ہے تو تم بھی تو اہل زبان ہو اور ایسے کلام کے بنانے پر قادر ہو بنا لاؤ چناچہ فرماتے ہیں۔ پس شاید آپ ﷺ ان کافروں کے تعنت اور عناد اور تمسخر کو دیکھ کر بعض ان چیزوں کا جو بذریعہ وحی آپ کی طرف بھیجی گئی ہیں اور ان مشرکین کو ناگوار ہیں جیسے بت پرستی کی مذمت۔ تو کیا آپ ﷺ ان کی ناگواری کی بنا پر ایسی باتوں کا بیان کرنا چھوڑ دیں گے کہ یہ نادان ان باتوں کا مذاق اڑائیں گے۔ ان کے سامنے ایسی باتیں بیان کرنا بےسود ہے۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں کہ فلعلک تاک کا استفہام، استفہام انکار ہے جس سے مقصود نفی اور ممانعت ہے یعنی ان کے عناد کی وجہ سے ان باتوں کو ترک نہ کریں اور ان کی اس تکذیب اور عناد کی وجہ سے آپ کا سینہ تنگ ہوتا ہے اور آپ ﷺ کا دل گھٹتا ہے اس سبب سے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ نبی ہیں تو ان پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا گیا کہ غیب سے ان کو خزانہ ملتا۔ اور وہ لوگوں پر تقسیم کرتے اور لوگ انکا اتباع کرتے یا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا جو ان کی نبوت کی گواہی دیتا تو اے ہمارے نبی ! آپ ﷺ ان کی بےہودہ باتوں سے تنگ دل ہو کر دعوت و تبلیغ میں کوئی کمی نہ کیجئے۔ جزایں نیست آپ صرف ڈرانے والے ہیں۔ آپ ﷺ کے ذمہ تو صرف ڈرانا اور احکام خداوندی کا پہنچانا ہے ان کی بد زبانی کی طرف التفات نہ کیجئے۔ در شب مہتاب مہ را بر سماک از سگان و دع دو ایشاں چہ باک اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے وہ بغیر خزانہ اور بغیر فرشتہ ہی کے آپ ﷺ کے دین کو بلند کرے گا یا یہ معنی ہیں کہ اللہ کارساز ہے وہی ہر کام بنانے والا ہے۔ آپ ﷺ اپنا کام اس کے سپرد کر دیجئے جو شخص اپنا کام اللہ پر چھوڑ دیتا ہے، اللہ اس کا نام بناتا ہے اور جو اپنے آپ کو خدا کے سہرد کر دے اس کی حفاظت کرتا ہے کیا یہ کافر یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن آپ ﷺ نے کود بنا لیا ہے آپ ﷺ اس کے جواب میں یہ کہہ دیجئے کہ اچھا تم بھی قرآن جیسی دس سورتیں اپنی طرف سے بنائی ہوئی لے آؤ اور سوائے خدا کے جس کو چاہے اپنی مدد کے لیے بلا لو اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ۔ یہ قرآن آپ ﷺ کا بنایا ہوا کلام ہے پس اگر وہ اس کے مثل بنا کر نہ لاسکیں تو آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ اب تو یقین کرلو کہ یہ اللہ ہی کے علم سے نازل کیا گیا ہے جو علوم معاش اور معاد پر مشتمل ہے جس کو سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا اور یہ بھی جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں تو بتلاؤ اب بھی مسلمان ہوتے ہو یا نہیں ؟ کسی جگہ دس سورتوں کے تحدی کا ذکر ہے اور کسی جگہ ایک سورت کی تحدی کا ذکر ہے تاکہ طرح طرح سے قرآن کا اعجاز ظاہر ہوجائے۔ دلائل اعجاز قرآن پر ایک اجمالی نظر اعجاز قرآن پر دلائل تو بیشمار ہیں جس پر علماء دین نے مستقل کتابیں لکھی ہیں اس وقت اجمالی اور اختصار کے ساتھ چند حرف ہدیہ ناظرین ہیں۔ (1) قرآن کریم۔ اصول دین یعنی توحید اور رسالت اور قیامت کی ایسی تفصیل اور تحقیق پر مشتمل ہے کہ توریت، انجیل اور زبور میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔ (2) پھر یہ کہ قرآن کریم اثبات الوہیت و وحدانیت اور اثبات نبوت و رسالت اور اثبات قیامت کے ایسے دلائل عقلیہ اور براہین قطعیہ پر مشتمل ہے کہ جس کے جواب سے روئے زمین کے فلاسفہ عاجز اور درماندہ ہیں اور بڑے بڑے دہری اور مادہ پرست ان دلائل کے سامنے لاجواب ہیں۔ (3) حرام و حلال کی تفصیل کرتا ہے۔ (4) قرآن کریم، انبیاء سابقین کی نصیحتوں اور ان کے کلمات و موعظمت کا جامع ہے۔ (5) عقل معاش اور عقل معاد دین اور دنیا کی رہنمائی کرتا ہے۔ (6) گذشتہ امتوں کے عبرت آمیز واقعات بیان کرتا ہے اور آئندہ کے لیے اہل ایمان کو بشارت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو کافروں کے مقابلہ میں غلبہ عطاء فرمائے گا۔ (7) اور قیامت تک آنے والے حوادث کلیہ کی تم کو خبر دیتا ہے کہ زمانہ کس رفتار سے جائیگا اور کس حال میں اس کی بساط پلٹی جائے گی اور کس طرح قیامت قائم ہوگی یہ تو قرآن کریم کے معنوی اعجاز کے چند وجوہ ہیں اور فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے اس کے دلائل اعجاز اور اسرار بلاغت کی کوئی حد نہیں۔ آج دنیا میں مقامات حریری اور مقامات بدیعی اور مقامات زمخشری۔ بشری فصاحت و بلاغت کا شاہکار دنیا کے سامنے موجود ہیں مگر قرآن کریم کے ساتھ ان کتابوں کو کوئی نسبت نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ مقامات بدیعی اور مقامات حریری میں عجیب طریقہ سے لغات فریدہ کو سج اور قافیہ کے رنگ میں جمع کیا ہے مگر قرآن کریم بلکہ کلام نبوی ﷺ کے ساتھ ان کو وہ نسبت نہیں کہ جو ذرہ بےمقدار کو آفتاب سے ہے۔ باتفاق اہل لسان مقامات حریری اور بدیعی معجزہ نہیں۔ مگر قادیان کے ایک دہقان کی دیدہ دلیری کو دیکھو کہ وہ اپنے ہذیان اور تک بندیوں کے متعلق یہ کہتا ہے کہ یہ میری وحی بھی قرآن کی طرح معجزہ ہے آیات قرآنیہ کا سرقہ کرتا ہے اور اس میں ایک دو لفظ کا ردوبدل کرکے بےحیائی سے کہتا ہے کہ یہ میری وحی ہے قرآن کی طرح اس پر بھی ایمان لانا فرض ہے۔ لاحوال ولا قوہ الا باللہ اے مسلمانو ! ذرا غور تو کرو کہ جب اہل لسان کے نزدیک مقامات حریری اور مقامات بدیعی معجزہ نہیں تو قادیان کے ایک دہقان کا ہذیان کہاں سے معجزہ ہوجائے گا۔
Ayahs 11:15–16

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت کے طا لب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انھیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں اور اس میں انکی حق تلفی نہیں کی جاتی۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں (آتش جہنم) کے سوا اور کچھ نہیں۔ اور جو عمل انہوں نے دنیا میں کئے سب برباد اور جو کچھ وہ کرتے رہے سب ضائع ہوا۔

ابطال غرہ اہل دنیا بر اعمال خود قال اللہ تعالیٰ من کان یرید الحیوۃ الدنیا ... .. الیٰ ......... بطل ما کانوا یعملون۔ (ربط) جب گذشتہ آیات میں منکرین قرآن اور منکرین توحید اور منکرین رسالت کے وعید اور عذاب کا بیان ہوا تو اب اس آیت میں اہل دنیا کے وہم فاسد اور زعم کا سد کا ابطال فرماتے ہیں اہل دنیا کو جب عذاب آخرت کی وعید سنائی جاتی تو یہ کہتے کہ اگر بالفرض والتقدیر قیامت حق ہے تو ہم بڑے بڑے نیک کام کرتے ہیں۔ غریب پروری اور صلہ رحمی اور مہمان نوازی وغیرہ وغیرہ تو ہم کو قیامت کے دن ان نیک اعمال کا ثواب ملے گا۔ جیسا کہ دوسری جگہ ہے۔ لئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی۔ اس لیے اس آیت میں اس غرہ اور زعم کا ابطال کرتے ہیں کہ تم اس گمان میں نہ رہنا کہ تم ان اعمال پر اجر اور ثواب کے مستحق ہو ان اعمال کی صورت اگرچہ نیکی کی ہے مگر ایمان اور اخلاص کی روح سے کالی ہیں اور ظاہری اعمال حسنہ سے تمہارا مقصود صرف دنیا تھی اس لیے اس کا صلہ تم کو دنیا ہی میں مل گیا اب تمہارے لیے آخرت میں سوائے آتش دوزخ کے کچھ نہیں۔ (ربط دیگر) کہ پہلی آیت میں اسلام کی حقانیت اور قرآن کریم کا منزل من اللہ ہونا بیان کیا۔ اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ کفار جو اس قرآن کریم کی تکذیب کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دنیا کی لذات و شہوات پر مفتون ہیں اور اسلام اور قرآن ان کو آخرت کی دعوت دیتا ہے جس کو اپنی لذات و شہوات میں حارج اور مزاحم سمجھتے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں جو پست ہمت اپنے اعمال خیر کا صلہ محض دنیاوی زندگی اور آرائش چاہے یعنی نیک کام کرے فقط دنیا کا فائدہ چاہے۔ اور آخرت پر نظر نہ کرے محض دنیا کی شہرت اور نیک نامی اس کا مقصود ہو ثواب آخرت اس کا مقصود نہ ہو تو ہم ان لوگوں کے اعمال کی جزاء دنیا ہی میں پوری پوری دیتے ہیں یعنی دنیا میں ان کو مال و دولت اور عزت و وجاہت اور صحت و اولاد کی کثرت عنایت کردیتے ہیں اور دنیا میں ان کے عوض میں کوئی کمی نہیں کی جاتی ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں سوائے دوزخ کے کچھ نہیں اور انہوں نے جو دنیا میں عمل کیا تھا وہ آخرت میں جاکر سب تباہ اور برباد ہوا اور سارا کیا کرایا اکارت گیا اور آخرت میں کچھ کام نہ آیا اور دنیا میں جو کچھ کر رہے ہیں وہ فی نفسہہ اور فی حد ذاتہ بھی نیست اور نابود ہیں کیونکہ جو عمل خالص اللہ کے لیے نہ ہو وہ فی حد ذاتہ ہیچ ہے۔ ع الا کل شیء ماخلا اللہ باطل کافروں نے دنیا میں جو ایسے عمل کیے کہ جو ظاہر صورت کے اعتبار سے صالح تھے مثلاً کسی کو نفع یا فائدہ پہنچانا۔ ایسے اعمال کے معتقل حبط ما صنعوا فرمایا۔ جن اعمال کی صورت نیکی کی تھی وہ قیامت کے دن حبط ہوجائیں گے۔ ان پر کوئی اجر اور ثواب مرتب نہ ہوگا۔ باقی حقیقت کے اعتبار سے ان کے تمام اعمال باطل اور نابود تھے فی نفسہ ان کے تمام اعمال باطل کسی شمار میں نے تھے۔ کیونکہ ایمان و اخلاص سے عاری تھے اور عجب نہیں ما کانوا یعملون۔ سے ان کے اعمال کفریہ اور شرکیہ مراد ہوں تو ایسے اعمال کا صورت اور حقیقت کے اعتبار سے باطل اور لغو ہونا ظاہر و باہر ہے ایسے اعمال کے متعلق فرمایا۔ و بطل ما کانوا یعملون۔ اور گذشتہ آیت یعنی وحبط ما صنوا۔ میں وہ اعمال مراد ہیں جو بظاہر خیر اور بھلائی کے ہیں جیسے صدقہ اور صلہ رحمی اور مہان نوازی کافروں کے۔ ایسے اعمال قیامت کے دن حبط ہوجائیں گے۔ یعنی ان پر کوئی اخری ثواب نہ ملے گا البتہ یہ ممکن ہے کہ ان اعمال حسنہ کی بنا پر کافروں کے عذاب دوزخ میں تخفیف کردی جائے جیسے ابو طالب کے حق میں آیا ہے کہ جہنم میں سب سے خفیف عذاب ابو طالب کو ہوگا۔ ثواب ملنا اور چیز ہے اور عذاب میں تخفیف ہوجانا اور چیز ہے۔ شان نزول : اس آیت کے نشان نزول میں مختلف روایتیں آئی ہیں کہ یہ آیت کافروں اور مشرکوں کے بارے میں ہے یا یہود و نصاری کے بارے میں یا منافقوں کے بارے میں یا اہل ریاء کے بارے میں ہے صحیح قول یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے جو سب کو شامل ہے اور مطلب یہ ہے کہ کافر ہو یا منافق یا ریاء کار جو بظاہر نیک عمل کرتے ہیں اس کا بدلہ ان کو دنیا ہی میں دے دیا جائے گا۔ اور آخرت میں سوائے نار کے اور کچھ نہیں ملے گا لہٰذا ان کو چاہئے کہ اپنی اس دنیاوی نیکی کے بھروسہ پر نہ رہیں اور یہ خیال نہ کریں کہ آکرت میں بھی ہماری یہ نیکیاں کام آئیں گی۔ آخرت میں سوائے اخلاص کے کچھ کام نہ آئے گا۔
Ayahs 11:17–24

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل (روشن) رکھتے ہوں اور ان کے ساتھ ایک (آسمانی) گواہ بھی اس کی جانب سے ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہو جو پیشوا اور رحمت ہے (تو کیا وہ قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے ؟ ) یہی لوگ تو اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو کوئی اور فرقوں میں سے اس سے منکر ہو تو اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔ تو تم اس (قرآن) سے شک میں نہ ہونا۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لانے۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے ؟ ایسے لوگ خدا کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ بولا تھا۔ سن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے۔

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو خدا کے راستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہ آخرت سے بھی انکار کرتے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

یہ لوگ زمین میں (کہیں بھاگ کر خدا کو) ہرا نہیں سکتے اور نہ خدا کے سوا کوئی ان کا حمایتی ہے۔ (اے پیغمبر) ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ یہ (شدت کفر سے تمہاری بات) نہیں سن سکتے تھے اور نہ (تم کو) دیکھ سکتے تھے۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہی ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اور جو کچھ یہ افترا کیا کرتے تھے ان سے جاتارہا۔

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

بلاشبہ یہ لوگ آخرت میں سب سب زیادہ نقصان پانیوالے ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے اور اپنے پروردگار کے آگے عاجزی کی یہی صاحب جنت ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

دونوں فرقوں (یعنی کافر ومومن) کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا بہر ہو اور ایک دیکھتا سنتا۔ بھلا دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے ؟ پھر تم سوچتے کیوں نہیں ؟

اہل دنیا اور اہل آخرت کا مقابلہ اور موازنہ اور فریقین کے نتائج اخروی کا بیان قال اللہ تعالیٰ افمن کان علی بینہ من ربہ ...... الیٰ ...... ہل یستوین مثلا افلا تذکرون۔ (ربط) گذشتہ آیت میں اہل دنیا کا بیان تھا اب ان آیات میں اہل دنیا اور اہل آخرت کا موازنہ اور مقابلہ ہے اور فریقین کے نتائج اخروی کا بیان اور پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے دونوں کی مثال بیان کی کہ کافر تو مثل اندھے اور گونگے کے ہیں اور ایماندار مثل بینا اور شنوا کے ہیں دونوں کے اعمال اور افعال میں اور دونوں کے حال اور مآل میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح سمجھو کہ اہل دنیا اور اہل آخرت برابر نہیں ہوسکتے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ پس کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر قائم ہو جو اس کو راہ حق دکھلادے بینہ سے صاف راستہ اور سیدھی سڑک مراد ہے جس پر چل کر آدمی سیدھا خدا تک پہنچ جائے۔ اس کا مصداق دین اسلام ہے جو عین عقل اور فطرت کے مطابق ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے جب تک بولنا سیکھتا ہے اس وقت تک اسی عہد الست یعنی توحید اور اقرار ربوبیت پر قائم رہتا ہے اور ہوشیار ہونے کے بعد ماں باپ کے ساتھ مل جاتا ہے اور علاوہ ازیں اس روشن دلیل کے پیچھے اللہ کی طرف سے ایک گواہ بھی آئے یعنی قرآن آئے جو اس دلیل عقلی و فطری کی صحت پر گواہی دے بینہ سے مراد دین حق ہے جو دلیل عقلی و فطری اور براہین قاطعہ سے ثابت ہے اور شاہد ربانی (گواہ) سے قرآن مجید مراد ہے یعنی قرآن کریم کا اعجاز اور اسکے بےمثال علوم و معارف۔ دین اسلام کی حقانیت کے گواہ ہیں پس کیا ایسا شخص جو دلیل عقلی اور دلیل نقلی پر قائم ہو یعنی ایسے صاف اور روشن راہ پر گامزن ہو جس کا صاف اور روشن پونا دلیل وجدانی سے ثابت ہو اور پھر اس کے بعد دلیل ربانی یعنی وحی آسمانی بھی اس کی صحت کا شاہد اور گواہ ہو تو کیا ایسا شخص اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے کہ جس کی ہمت فقط حیات دنیا اور اس کی زینت پر مقصور ہو۔ ہرگز ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ اور اس روشن دلیل کا ایک شاہد قرآن سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہے یعنی توریت ہے درآنحالیکہ وہ کتاب موسیٰ (علیہ السلام) اپنے زمانہ میں اہل دین کی مقتداء اور پیشوا تھی تمام انبیاء (علیہ السلام) بنی اسرائیل اس کا اتباع کرتے تھے اس کے موافق حکم دیتے تھے اور درآنحالیکہ وہ کتاب موسیٰ (علیہ السلام) اہل ایمان کے لیے سامان رحمت تھی کہ اس کے اتباع کی برکت سے رحمت نازل ہوتی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ توریت اپنے زمانہ میں امام اور رحمت تھی اور توریت کے بعد اب یہ کتاب یعنی یہ قرآن امام اور رحمت ہے اس کے اتباع اوراقتداء سے اللہ کی رحمت ملے گی۔ مقصود یہ ہے کہ دین اسلام ایک طریق مستقیم ہے جس کا مستحکم ہونا دلیل عقلی اور فطری سے ثابت ہے پھر اس کی صحت پر قرآن کریم شاہد ہے اور قرآن سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی عظیم الشان کتاب توریت بھی اس کی شاہد ہے بس منجانب اللہ تعالیٰ اس دین اسلام کے صراط مستقیم ہونے کا ایک شاہد قرآن کریم ہے اور دوسرا شاہد موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہے۔ جس نے نزول قرآن کی خبر دی اور آنحضرت ﷺ کی بعثت کی خبر دی اور آپ ﷺ کی نبوت عامہ اور ختم نبوت کی شہادت دی نزول قرآن اور نبی امی ﷺ کے ظہور کی بشارت اس میں موجود ہے اور پھر توریت کے بعد زیور اور انجیل میں بھی آنحضرت ﷺ کی خبر دی جس کو علماء بنی اسرائیل توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں (دیکھو تفسیر قرطبی ص 17 ج 9) اور بعض علماء تفسیر یہ کہتے ہیں۔ اس آیت میں شاہد سے آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات مراد ہے اس لیے آپ ﷺ کی صورت اور آپ ﷺ کی سیرت اس بات کی گواہ ہے کہ یہ دین حق ہے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ شاہد سے آنحضرت ﷺ کا چہرہ انور مراد ہے۔ در دل ہر امتی کز حق مزہ است روے و آواز پیمبر معجز است آپ ﷺ کے اخلاق و عادات اور معجزات اور آپ ﷺ کا چہرہ انور سب اس بات کے شاہد اور گواہ ہیں کہ جو دین آپ ﷺ لیکر آئے ہیں وہ بالکل سچا ہے اس لیے کہ یہ چہرہ انور سچے کا چہرہ ہے چھوٹے کا چہرہ نہیں شاہ عبد القادر (رح) فرماتے ہیں کہ گواہی پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ دل میں اس دین کا نور اور مزہ پاتا ہے اور قرآن کی حلاوت آھ۔ خلاصہ کلام یہ کہ بینہ سے روشن دلیل اور صاف راستہ اور سیدھی سڑک مراد ہے یا بالفاظ دیگر اس سے دین صحیح یعنی دین اسلام مراد ہے جس کی صحت دلائل عقلیہ اور فطریہ سے ثابت ہے اور اس کی صحت و صداقت پر دو شاہد عدل موجود ہیں ایک قرآن کریم دوسرے توریت و انجیل پس ایسے دین کے حسن و جمال میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔ اور من کان علی بینۃ۔ سے وہ مومنین مخلصین مراد ہیں جو اس دین حق پر قائم ہیں اور مطلب یہ ہے کہ یہ دین اسلام ایک نور عقل اور نور فطرت اور نور بصیرت ہے عجیب قسم کا ایک نور ہے اور دونور غیبی اس کے شاہد اور مؤید ہیں ایک نور قرآن اور ایک نور تورات اس طرح یہ دین نورعلی نور کا مصداق بن گیا۔ دین اسلام کیا ہے ایک مجموہ انوار ہے تو کیا جو شخص ایسے منور اور وشن دین پر قائم ہو وہ اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو ظلمت بعضھا فوق بعض۔ میں گھرا ہوا ہو اور اسے کوئی صحیح راستہ نظر نہ آتا ہو یعنی جو شخص دنیاوی لذات اور شہوات کا غلام بنا ہوا ہو اور سعادت اخرویہ سے محروم ہو وہ اہل نور اور اہل بصیرت کے مماثل اور مشابہ کہاں ہوسکتا ہے۔ دونوں میں بعد المشرقین ہے ایسے ہی لوگ یعنی جو لوگ اصحاب بینہ ہیں مراد یہ ہے کہ جو لوگ عقل اور نقل اور نور برھانی اور نور یزدانی کے جامع ہیں اور توریت اور انجیل کے عالم اور فاضل ہیں اس قرآن پر یا اس نبی پر ایمان لاتے ہیں اور دو اجر کے مستحق ہوتے ہیں۔ کما قال تعالیٰ اولئک یؤتون اجرھم مرتین۔ یہ لوگ اصحاب بینہ ہیں اور عقل اور فطرت کے پیرو ہیں اور اہل بصیرت ہیں اس لیے کہ حق کو قبول کرتے ہیں اور جو شخص دوسرے فرقوں میں سے اس قرآن کے منزل من اللہ ہونے کا یا اس نبی کے مرسل من اللہ ہونے کا انکار کرے تو دوزخ اس کے وعدہ کی جگہ ہے جو طرح طرح کے عذابوں سے بھرپور ہے مطلب یہ ہے کہ دنیا کا کوئی فرقہ اور کوئی گروہ خواہ یہود و نصاریٰ یا بت پرست اور مجوس ہوں وغیرہ وغیرہ جب تک اس قرآن اور اس نبی کو نہ مانیں گے۔ نجات نہیں پاسکتے سوائے مخاطب ! تو اس قرآن کی طرف سے شک میں مت پڑ بلاشبہ یہ کتاب حق ہے تیرے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے کسی کی بنائی ہوئی نہیں لیکن باوجود ان دلائل کے اکثر لوگ عناد کی وجہ سے اس پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ جس چیز کی صداقت دلائل قطعیہ سے واضح ہوچکی ہو اس کو نہ ماننا حماقت ہے اور اپنی جانوں پر صریح ظلم کرنا ہے۔ ظالموں کے حال اور مال کا بیان اس لیے اب آئندہ آیت میں اللہ تعالیٰ ظالموں اور افتراء پر دازوں کا حال اور مال بیان فرماتے ہیں۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ظالموں کی دس حالتوں اور ذلتوں کو بیان فرمایا ہے۔ (1) افتراء علی اللہ۔ (2) مقام ذلت میں ان کو کھڑا کیا جائے گا۔ اولئک یعرضون علی ربھم۔ (3) خدائی گواہ گواہی دیں گے کہ ان لوگوں نے خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولا۔ (4) یہ ظالم اللہ تعالیٰ کے نزدیک ملعون ہیں۔ (5) لوگوں کو حق سے روکتے ہیں۔ (6) دین میں شبہ نکالتے ہیں۔ (7) آخرت کے منکر ہیں۔ (8) خدا سے بھاگ نہیں سکتے۔ (9) ان کا کوئی مددگار نہیں۔ (10) انکا عذاب دو چند ہے۔ (دیکھو تفسیر کبیر ص 49 جلد 5) چناچہ فرماتے ہیں اور اس شخص سے بڑھ کو کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے کہ اس کی وحی کا یا اس کی وجدانیت کا نکار کرے یا اس کے لیے کوئی شریک ثابت کرے۔ یہی افتراء کرنے والے قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے مجرمانہ حیثیت سے پیش کیے جائیں گے اور گواہ یعنی کراما کاتبین اور انبیاء ومرسلین (علیہ السلام) یا ان کے اعضاء اور جو ارع علی الاعلان یہ کہیں گے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ازراہ عناد اپنے پروردگار پر جھوٹ بولا اور خدا کی طرف غلط باتیں منسوب کیں آگاہ ہوجاؤ کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے جو اپنے کفر اور ظلم کے ساتھ دوسروں کو بھی خدا کی راہ سے روکتے ہیں اور راہ خدا یعنی دین اسلام میں کجی یعنی شکوک اور شبہات ڈھونڈتے رہتے ہیں تاکہ لوگوں کو خدا کی راہ سے ڈگمگا دیں جیسے آج کل ملحدین طرح طرح کے رسالے نکال رہے ہیں جن میں اسلام پر طرح طرح کی نکتہ چینیاں کرتے ہیں اور یہ لوگ آخرت کے بھی منکر ہیں انکا مقصود فقط دنیا ہے دنیا کی شہوتوں اور لذتوں پر فریفتہ ہیں۔ دین اسلام میں کوئی عیب نہیں مگر یہ کہ وہ شہوت پرستی کا مخالف ہے اس لیے یہ کافر اور منافق اور نام کے مسلمان اس میں عیب تلاش کرتے ہیں تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی طرف سے شبہ ڈال دیں۔ یہاں تک تو فرشتوں کے اعلان کا مضمون تھا اب آگے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے یہ لوگ زمین میں کہیں چھپ کر یا بھاگ کر خدا تعالیٰ کو پکڑنے سے عاجز نہیں کرسکتے۔ کوئی اس کے پنجہ گرفت سے چھوٹ نہیں سکتا اور گرفتاری کے بعد اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی انکا مددگار نہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے چھڑالے۔ ایسوں کو تو دوہری مار دی جائے گی۔ ایک اپنی گمراہی کی اور ایک دوسروں کو گمراہ کرنے کی اور یہ لوگ حق سے اس درجہ نفور اور بیزار تھے کہ حق کے سننے کی تاب نہیں رکھتے تھے اور نہ اس کو دیکھ سکتے تھے یہ وہ گروہ ہے جنہوں نے آخرت کے معاملے میں اپنی جانوں کو نقصان پہنچایا اور جو افتراء وہ دنیا میں کرتے تھے آخرت میں سب جاتا رہا۔ ان کا یہ کہنا کہ فرشتے اور بت اور مسیح (علیہ السلام) اور دیوی اور دیوتا ہماری شفاعت کریں گے سب غلط نکلا۔ پس لازمی نتیجہ اس کا یہ ہے کہ یہ جماعت آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والی رہی۔ اس لیے کہ ان لوگوں نے آخرت کو فروخت کرکے جہنم کو خرید لیا تھا۔ مایہ دیں رابد نیا دادن از دوں ہمتی است زان کہ دنیا جملگی رنج است ودیں آسائش است نعمت فانی ستانی دولت باقی دہی اندریں سود اخرد دامذ کہ غبن فاحش است ذکر حال و مآل اہل ایمان اب اہل ایمان اور اہل طاعت کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں۔ تحقیق جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور خشوع اور خضوع اور تواضع کے ساتھ بالکلیہ اپنے پروردگار کی طرف مائل اور متوجہ ہوں گے ایسے ہی لوگ جنتی ہیں ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ اب آگے دونوں فریق کی مثال بیان کرتے ہیں۔ مثال فریقین ان ہر دو فریق یعنی مومن اور کافر کی مثال اندھے اور بہرے اور بینا اور شنوا کی ہے۔ کافر اندھا اور بہرا ہے نہ حق کو دیکھتا ہے اور نہ سنتا ہے اور مومن بینا اور شنوا ہے حق کو دیکھتا ہے اور سنتا ہے کیا یہ دونوں فریق یعنی اندھا اور بہرا۔ اور سننے والا اور دیکھنے والا۔ حال اور مثال میں برابر ہوسکتے ہیں یعنی ہرگز نہیں اسی طرح مومن کافر بھی برابر نہیں ہوسکتے تو کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے یعنی دل کے بینا بن جاؤ تاکہ آخرت کی تجارت کرسکو اور اگر خود بینا نہیں تو کسی بینا کی سنو اور اس پر چلو اصل بینا وہ ہے جو حق کو حق اور باطل کو باطل دیکھے اور حق کی پیروی کرے اور باطل سے بچے اور جو حق کو نہ دیکھتا ہو اور نہ سنتا ہو وہ نابینا اور بہرا ہے۔ ضمیمہ متعلقہ بہ تفسیر آیت افمن کان علی بینۃ من ربہ الآیہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت (یعنی) افمن کان علی بینۃ من ربہ ویتلوہ شاھد منہ ومن قبلہ کتب موسیٰ امام و رحمۃ اولئک یؤمنون بہ۔ کی تفسیر میں غور و فکر کے بعد میرے نزدیک جو تحقیق ہے وہ درج کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں شک نہیں کہ بعض افراد نے بعثت نبوی سے قبل قلب سلیم کی شہادت اور ذکاوت سے کچھ اصول شریعت کو پہچان لیا تھا کہ وہ بت پرستی اور شراب خوری اور زنا کاری کو نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے اور خوب اور رؤیائے صادقہ اور منامات صالحہ کے ذریعہ آپ ﷺ کی بعثت کو بھی جانتے تھے اور آپ ﷺ کی بعثت کے منتظر تھے اس اجمالی علم کو جو ان کے قلوب میں مرکوز تھا اس کو حق تعالیٰ نے بینہ اور دلیل سے تعبیر فرمایا ہے۔ پھر جب آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے اور اپنی آنکھوں سے اپنے خوابوں کی تعبیر دیکھ لی اور اپنے اس علم اجمالی کی شہادت کا آنکھوں سے مشاہدہ کرلیا تو ان کا علم اجمالی۔ علم تفصیلی سے اور ظن و گمان، یقین اور مشاہدہ سے تبدیل ہوگیا۔ اسی علم تفصیلی اور مشاہدہ کو حق تعالیٰ نے شاہد سے تعبیر فرمایا۔ شاھد منہ اور نزول قرآن سے پہلے توریت۔ اہل دین و ملت کے پیشوا اور رہنما تھے اور اب ان کا امان اور پیشوا قرآن ہوگیا ہے صحابہ کرام ؓ میں ایک ایک اعلیٰ جماعت ان اوصاف سے جو اوپر مذکور ہوئے موصوف تھی جن کے سردفتر حضرت صدیق اکبر ؓ تھے اور باطنی مناسبت اور قلبی ذکاوت اور سلامت کی وجہ سے آپ کو قبول اسلام میں کوئی تامل نہیں ہوا بلا تامل اور بدون طلب معجزہ ایمان لے آئے اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے (ازالۃ الخفاء)