11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 11:25–35

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو انکی قوم کی طرف بھیجا تو (انہوں نے ان سے کہا) کہ میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے (اور پیغام پہنچانے) آیا ہوں

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو مجھے تمہاری نسبت عذاب الیم کا خوف ہے۔

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

تو انکی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں۔ اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں اور وہ بھی رائے ظاہرے سے (نہ غور وتعمق سے) اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اے قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف دلیل (روشن) رکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت بخشی ہو جس کی حقیقت تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے تو کیا ہم اس کے لئے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں ؟ اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہو رہے ہو۔

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے قوم ! میں اس (نصیحت) کے بدلے تم سے مال وزر کا خواہاں نہیں ہوں۔ میرا صلہ تو خدا کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انکو نکالنے والا بھی نہیں ہوں۔ وہ تو اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو۔

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور برادران ملت اگر میں انکو نکال دوں تو (عذاب) خدا سے (بچانے کے لئے) کون میری مدد کرسکتا ہے ؟ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی اعمال کی جزائے نیک) نہیں دیگا جو انکے دلوں میں ہے اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں۔

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ نوح تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور جھگڑا بھی بہت کیا لیکن اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر نازل کرو۔

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ اس کو تو خدا ہی چاہے گا تو نازل کریگا۔ اور تم (اس کو کسی طرح) ہرا نہیں سکتے۔

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور اگر میں یہ چاہوں کہ تمہاری خیر خواہی کروں اور خدا یہ چاہے کہ تمہیں گمراہ کرے تو میری خیر خواہی تم کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ وہی تمہارا پروردگار ہے۔ اور تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے نے قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ و کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں برئی الذمہ ہوں۔

قصہ نوح (علیہ السلام) با قوم او قال تعالیٰ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ ..... الی .... وانا بریء مما تجرمون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اہل حق اور اہل باطل کا برابر ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسا کہ بینا اور نابینا اور شنوا اور بہرے کا برابر ہونا ناممکن ہے۔ پس غور کرلو کہ ان دو مختلف اور متضاد فریقین کا انجام کیسے یکساں ہوسکتا ہے۔ اب آگے اسی مضمون کی تائید اور تاکید کے لیے چند عبرتناک واقعات بیان کرتے ہیں جن میں اول قصہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ہے کہ جو صدہا سال کی نصیحت کے بعد بھی راہ راست پر نہ آئے بالآخر غرق ہوئے یہ قصہ اگرچہ سورة یونس میں مذکور ہوچکا ہے مگر یہاں کچھ زائد حالات کا ذکر ہے جن سے جدید فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب نوح (علیہ السلام) کو چالیس سال کی عمر میں نبوت مل ساڑھے نو سو برس قوم کو نصیحت کرتے رہے اس کے بعد طوفان آیا۔ طوفان کے ساٹھ برس بعد تک زندہ رہے اس قسم کے واقعات سے کفار کو تنبیہ ہے اور آنحضرت ﷺ کو تسلی ہے کہ آپ ﷺ کی تکذیب سے دلگیر نہ ہوں اطمینان اور صبر کے ساتھ دعوت اور تبلیغ میں لگے رہیں۔ نکتہ سورة یونس میں نوح (علیہ السلام) کا قصہ استعجال عذاب کے جواب میں ذکر کیا اور یہاں کفار کی ایذاء رسانی اور ان کے تمسخر کے جواب میں ذکر کیا کہ نوح (علیہ السلام) نے ان کے ایزاء اور تمسخر پر صبر کیا اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو نجات دی اور ان مسخروں کو ہلاک کیا۔ (تفسیر کبیر ص 68 ج 5) اور البتہ تحقیق ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف جو حق کے بارے میں اندھے اور بہرے بنے ہوئے تھے۔ رسول بنا کر بھیجا نوح (علیہ السلام) نے ان سے یہ کہا کہ تحقیق میں تمہارے لیے کھول کر ڈرانے والا ہوں یعنی اسباب عذاب اور وجوہ خلاص کو بیان کرنے والا ہوں کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ تحقیق میں تم کو ایک بڑے دردناک دن کے عذاب سے ڈراتا ہوں۔ قوم کا جواب پس ان کی قوم کے جو لوگ کافر تھے ان کے سردار جواب میں یہ کہنے لگے کہ اے نوح (علیہ السلام) ! اول تو ہم تم کو اپنے جیسا ہی آدمی دیکھتے ہیں یعنی تم میں کوئی خاص فضیلت اور خصوصیت اور امتیاز نہیں پاتے جس کی بناء پر ہم آپ (علیہ السلام) کو نبی مانیں جیسے انسان تم ہو ویسے ہی انسان ہم بھی ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ تم پر وحی آئے اور ہم پر نہ آئے اور دوم یہ کہ ہم نہیں دیکھتے کہ تیری پیروی کی ہو کسی نے سوائے ان لوگوں کے جو ہم میں سے رذیل اور کمینہ ہیں اور یہ پیروی بھی انہوں نے بےسوچے سرسری نظر سے کرلی ہے اگر وہ غور وفکر کرتے تو وہ بھی آپ (علیہ السلام) کی پیروی نہ کرتے ان بےسمجھ لوگوں نے سادہ لوحی سے آپ (علیہ السلام) کے سحر کو معجزہ اور آپ (علیہ السلام) کی شبہات کو دلائل اور براہین سمجھ لیا ہے مطلب یہ ہے کہ نہ آپ (علیہ السلام) میں کوئی شان امتیازی ہے اور نہ آپ (علیہ السلام) کے پیروؤں میں کوئی خاص خصوصیت ہے بلکہ وہ رذیل اور بےعقل اور جاہل لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنا بھی ہم جیسے معززین کے لیے باعث عار اور ننگ ہے اور آج کل بھی ایسا طبقہ موجود ہے کہ جو اہل ایمان کو عموما اور علما کو خصوصا حقارت کی نظروں سے دیکھتا ہے اور ان کو بیوقوف سمجھتا ہے اس لیے کہ یہ طبقہ دنیاوہ مال و جاہ میں ان سے کم ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک شرف و عزت کا دارومدار مال و دولت پر ہے جس کے پاس مال نہیں وہ ان کے نزدیک رذیل ہے اگرچہ عقل و فہم میں ان سے کہیں بلند ہو اور ہم آپ لوگوں سے کس بات میں کم ہیں۔ ہم تمہارے لیے اپنے اوپر کسی قسم کی برتری نہیں دیکھتے تم ہم سے نہ مال و دولت میں زیادہ ہو اور نہ عزت و وجاہت میں ہم سے بڑھ کر ہو پھر کیوں آپ (علیہ السلام) کے تابع اور پیرو بنیں۔ بلکہ ہمارا گمان تو یہ ہے کہ تم سب جھوٹے ہو تم نے ایک بات بنا لی ہے اور چند بیوقوفوں نے بےسوچے سمجھے ہاں میں ہاں ملا دی ہے ایسے حقیر اور فقرا اور بےعقل اور جاہلوں کو اتباع آپ (علیہ السلام) کی صداقت کی دلیل کیسے ہوسکتی ہے۔ یہ ان ملعونین اور مغرورین و متکبرین کی جہالت آمیز تقریر تھی جو ختم ہوئی اب آئندہ آیت میں نوح (علیہ السلام) کا جواب ماصواب آتا ہے اب اس کو سنیئے اور خوب کان لگا کر سنیئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف سے جواب باصواب نوح (علیہ السلام) نے ان کے جواب میں یہ کہا کہ اے میری قوم تمہارا میری بشری اور ظاہری صورت کو دیکھ کر یہ کہنا کہ میں اور تم برابر ہیں یہ تمہاری جہلات اور حماقت ہے صورت بشریہ میں سب انسان شریک ہیں مگر باطنی فضائل و کمالات میں مختلف ہیں۔ بیشک انسان ہونے میں میں اور تم برابر ہیں مگر انسان اور بشر ہونا نبوت و رسالت کے منافی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ظاہری صورت کے اعتبار سے اگرچہ مجھ کو تمہاری ہی جیسی صورت عطاء کی ہے مگر باطنی فضائل و کمالات کے اعتبار سے مجھ کو تم سے جدا اور ممتاز بنایا ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنی نبوت و رسالت کے روشن دلائل لیکر آیا ہوں میں تمہارے مثل کیسے ہوسکتا ہوں صورت بشریہ کے اعتبار سے اگرچہ تمہارے مثل ہوں مگر فضائل و کمالات اور آیات بینات کے اعتبار سے تم سے ممتاز اور بالکل جدا ہوں۔ بتلاؤ تو سہی کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں جو میری صداقت پر گواہ ہو اور جس سے میری نبوت ثابت ہوتی ہو اور دی ہو اس نے اپنے پاس سے مجھے اپنی خاص رحمت یعنی نبوت و ہدایت کاملہ اور طہارت فاضلہ جس کو دیکھ کر ایک نظر میں صاحب بصر سمجھ جائے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے کوئی بنائی ہوئی بات نہیں پھر یہ روش حقیقت تمہاری آنکھ بند کرلینے کی وجہ سے تم پر پوشیدہ اور مخفی کردی گئی تکبر اور غرور نے تم کو اندھا بنا دیا اس لیے تم کو میری نبوت نظر نہیں آتی تو بتلاؤ ایسی صورت میں میں کیا کروں مجبور ہوں کیا اس رحمت اور ہدایت کو ہم زبردستی تمہارے سر لگا دیں درآنحالیکہ تم اس سے بیزار اور متنفر ہو اور اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا بھی تم کو گوارا نہیں۔ مشعل ہدایت تمہارے سامنے کردی ہے اب دیکھنا اور نہ دیکھنا تمہارا کام ہے باقی کسی کو ہدایت یاب کردینا یہ اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے نبی اور ولی کے اختیار میں نہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ میری نبوت تو دلائل اور براہین سے روز روشن کی طرح واضح ہے مگر تم کو اس لیے نظر نہیں آتی کہ تم دل کے اندھے ہو یا آنکھیں بند کیے ہوئے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے میری ذیعے جو تم کو رحمت دی تم نے اس کی قدر نہ جانی بلکہ تکذیب کے درپے ہو تو کیا میں باوجود تمہاری اس کراہت اور نفرت کے اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو تمہارے گلے باندھ دوں۔ یہاں تک کافروں کے پہلے شبہ اور اعتراض کا جواب ہوا کہ تم ہم جیسے بشر ہو اب ان کے دوسرے شبہ اور اعتراض کا جواب دیتے ہیں۔ دوسرا شبہ انکا یہ تھا کہ آپ (علیہ السلام) کے اتباع کرنے والے حقیر اور ذلیل لوگ ہیں سو یہ اعتراض بھی جہالت اور حماقت پر مبنی ہے عزت اور ذلت کا دارومدار مال و دالت پر مبنی نہیں بلکہ اتباع پر ہے جس غریب و فقیر نے دولت حق اور باطل کے فرق کو سمجھ کر حق کا اتباع کیا وہ عزت والا ہوگیا اور جس دولت مند نے حق سے منہ موڑا وہ ذلیل و خوار ہوا لہٰذا معلوم ہوا کہ اراذل اور ضعفاء اور فقراء کا اتباع نبوت اور صداقت میں قادح نہیں پھر یہ کہ اراذل صورت بشریہ میں تمہارے مثل ہیں پس تم جیسے اہل عقل اور اہل فہم کا نبوت کو قبول کرنا تم پر حجت ہے یہ غرباء اور فقراء اگر مال و دولت میں تم سے کم ہیں تو عقل اور فہم میں تم سے بڑھ کر ہیں اور اگر برابر بھی ہوں تو ان کی آنکھوں پر کوئی پردہ نہیں اور تمہاری آنکھوں پر تکبر اور غرور کا پردہ پڑا ہوا ہے اس لیے تم کو یہ روشن حقیقت نظر نہیں آتی جو ان فقراء اور ضعفاء کو نظر آرہی ہے چناچہ فرماتے ہیں اور یہ فرمایا اے میری قوم میں تم سے تبلیغ و رسالت پر کوئی مال نہیں مانگتا جس کا دینا تم پر شاق ہو اور نہ دینا مجھے ناگوار ہو۔ جزایں نیست کہ میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے جس نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے اور جس کا اس نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میرا مقصود تو نصیحت اور تبلیغ رسالت ہے میری نظر صرف اللہ تعالیٰ پر ہے مال و دولت پر میری نظر نہیں۔ اس لیے میری نظر میں امیر و فقیر اور دولت مند اور حاجت مند سب برابر ہیں ظاہری صورت کے اعتبار سے بیشک میں بشر ہوں مگر حقیقت باطنہ کے لحاظ سے فرشتہ بلکہ فرشتہ سے بڑھ کر ہوں حرص اور طمع سے بالکل پاک اور منزہ ہوں اور ظاہر ہے کہ جو طمع اور غرض سے پاک ہو وہ کیوں جھوٹ بولے گا۔ تم درہم و دینار کے بندے ہو اور میں خالص خدا کا بندہ ہوں۔ میری نظر صرف خدا پر ہے مجھ میں اور تم میں یہ فرق ہے اگر عقل رکھتے ہو تو سمجھ لو اور تم میرے متبعی کی ظاہری شکستگی اور تنگدستی کو دیکھ کر انہیں رذیل کہتے اور حقیر سمجھتے ہو اور یہ چاہتے ہو کہ میں ان کو اپنے پاس سے نکال دوں تب تم میرے پاس بیٹھو۔ اور میری بات سنو تو خوب سمجھ لو کہ میں اہل ایمان کو اپنی مجلس اور صحبت سے ہانک دینے والا نہیں میں تمہاری درخواست کی بناء پر ضعفاء مومنین اور فقراء مسلمین کو اپنی مجلس سے نہیں ہٹا سکتا۔ تحقیق یہ درویشان اسلام عزت و کرامت کے ساتھ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں قیامت کے دن ان کے ایمان اور اعمال صالحہ سے ان کی کرامت ظاہر ہوگی اور مومن کو دنیا ومافیہا سے دس گنا زیادہ دولت ملے گی۔ اور یہ دولت مند کافر مچھر کے ایک پر کے برابر بھی نہ ہوں گے و لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم ایک جاہل قوم ہو کہ اپنے مال و دولت اور موٹر بنگلہ کو عزت سمجھتے ہو اور اہل ایمان جو خدا تعالیٰ کے نزدیک معزز اور مقرب ہیں دل سے ان کو حقیر و ذلیل اور زبان سے ان کو کمینہ اور رذیل کہتے ہو تم ایسی جاہل قوم ہو کہ تمہیں عزت و ذلت کے معنی بھی معلوم نہیں۔ خداوند ذوالجلال سے صحیح تعلق (ایمان) کا نام عزت ہے اور خدا وند تعالیٰ سے بغاوت اور قطع تعلق (کفر) کا نام ذلت ہے۔ وللہ العزۃ ولرسولہ ولل مومنین ولکن المنفقین لا یعلمون۔ خاکساران جہاں رابحقارت منگر توجہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد اور اے میری قوم ! اگر بالفرض والتقدیر تمہاری رعایت سے ان غربار اور فقراء کو اپنی مجلس سے علیحدہ کر دوں تو بتلاؤ کون مجھ کو اللہ کے عذاب سے چھڑائے گا۔ غریب طالب حق کو دولتمند کی رعایت سے مجلس سے نہیں پٹایا جاسکتا یہ بےانصافی اور ظلم ہے میں تمہاری رعایت سے خدا کے مخلص بندوں کے ساتھ بےانصافی نہیں کرسکتا اگر خدانخواستہ ایسا کروں تو مجھے خدا کی گرفت سے کون بچا سکے گا کیا بھلا تم غور نہیں کرتے کہ ایمان اور اطاعت سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت ملتی ہے۔ محض دنیاوی مال و دولت سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو نبوت و رسالت کا منصب عطاء کیا اور ان فقراء مومنین کو ولایت باکرامت کی عزت سے سرفراز فرمایا۔ بعد ازاں نوح (علیہ السلام) نے کافروں کے اور بعض اقوال کا جواب ارشاد فرمایا اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے اور جسکے نہ ہونے کو خساست اور رذالت سمجھتے ہو اور مال و دولت کے نہ ہونے کو کاذب ہونے کی دلیل قرار دیتے ہو اور یہ کہتے ہو کہ بل نظنکم کاذبین۔ خوب سمجھ لو کہ رسول کے لیے یہ شرط نہیں کہ وہ خزانوں کا مالک میرے نزدیک مال و دولت کا وجود اور عدم سب برابر ہے۔ میرے نزدیک عزت کا دارومدار ایمان اور اطاعت پر ہے اور مال و دولت کا نہ ہونا کاذب ہونے کی دلیل نہیں کیا فقیر، کاذب اور مال دار صادق ہوتا ہے اور نہ میں غیب دان ہوں کہ لوگوں کے باطن کی خبر دوں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں یعنی تم جو یہ کہتے ہو کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا بشر دیکھتے ہیں تو میرا یہ دعویٰ کب ہے کہ میں فرشتہ ہوں مگر تمہاری یہ جہالت ہے کہ تم بشریت کو نبوت کے منافی خیال کرتے ہو فرشتوں کا رتبہ تو انبیاء سے کم ہی ہے البتہ میں بشر ہوں مگر مؤید یہ معجزات ہوں تم عجیب نادان ہو کہ شجر اور حجر کو تو خدا اور معبود سمجھتے ہو اور بشر کے نبی ہونے کے منکر ہو صورت بشر یہ میں تمہارے مثل ہوں لیکن کمالات بشریہ اور فضائل انشانیہ میں تم سے ممتاز اور جدا ہوں یہ تو اپنے متعلق ارشاد فرمایا اب آگے اپنے متبعین کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں اور جن لوگوں کو تمہاری آنکھیں حقارت سے دیکھتی ہیں میں ان کی نسبت یہ نہیں کہتا کہ یہ لوگ دل سے ایمان نہیں لائے اس لیے اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز کوئی بھلائی نہیں دے گا اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے اگر یہ لوگ مثل ظاہر کے باطن میں بھی مومن بنیں تو ان کو بہتر جزا ملے گی جو تمام روئے زمین کی سلطنت اور اس کے خزانوں سے بہتر ہوگی چونکہ یہ لوگ ظاہر میں مسلمان ہیں اس لیے میں اس کے مطابق ان کے ساتھ سلوک کرتا ہوں باطن کی خبر تو اللہ تعالیٰ جانے اگر میں ان کو نکال دوں تو بلاشبہ میں ظالموں سے ہوں گا کہ محض شبہ اور گمان کی بناء پر ان کو نکال دیا۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو اللہ کا یہ حکم ہے کہ ظاہر کے مطابق معاملہ کریں۔ الغرض تمہارے یہ تمام شبہات اور اعتراضات سب لایعنی اور مہمل ہیں اور جو میں کہتا ہوں وہ حق اور صحیح ہے اور دلیل اور برہان سے ثابت ہے۔ جب کفار نوح (علیہ السلام) کے جوابات سے لاجواب ہوئے تو یہ کہنے لگے کہ اے نوح (علیہ السلام) تو نے ہمارے ساتھ مباحثہ اور مجادلہ کیا اور بحث کو بہت بڑھایا اور طول دیا۔ خیر اب بحث تو چھوڑو۔ پس اگر آپ (علیہ السلام) سچوں میں سے ہیں تو آپ (علیہ السلام) وہ عذاب لے آئیں جس سے آپ (علیہ السلام) ہم کو ڈراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر تم مجھ پر ایمان نہ لاؤ گے۔ اور مجھے رسول نہ مانو گے تو تم پر عذاب آئیگا۔ اب آپ بحث کو چھوڑئیے اور عذاب لائیے تو نوح (علیہ السلام) نے ان کو جواب میں کہا میرے اختیار میں دعوت و نصیحت تھی وہ کرچکا۔ باقی عذاب کا لانا وہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے جزائیں نیست کہ اللہ تعالیٰ ہی عذاب لائے گا جب اس کو منظور ہوگا۔ دیر میں آئے یا سویر میں اور پھر تم اس عذاب سے بچ نہیں سکتے مجھے جو نصیحت کرنی تھی وہ میں نے تم کو کردی۔ اب آخری بات یہ ہے جس پر میں اپنے کلام کو ختم کرتا ہوں وہ یہ کہ میری نصیحت تم کو سود مند نہ ہوگی اگر میں چاہوں کہ تمہاری خیرخواہی کروں تو میرے ارادے سے کچھ نہیں ہوتا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ازل میں تمہارے گمراہ کرنے کا ارادہ فرما لیا ہے اور رسول میں یہ قدرت نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کو بدل سکے۔ وہی تمہارا مربی اور محسن ہے اس نے تمہاری ہدایت کے لیے پیغمبر بھیجے تم کو چاہئے تھا کہ اس کے حکموں پر چلتے مگر ازراہ عناد تم مجرم بنے اور ایک دن تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور اپنے اعمال کی جزا پاؤ گے۔ کیا کافر یہ کہتے ہیں کہ نوح (علیہ السلام) نے یہ پیغام اپنی طرف سے بنا لیا ہے یعنی ازخود گھڑ لیا ہے۔ اے نوح (علیہ السلام) آپ جواب میں کہہ دیجئے کہ اگر یہ پیغام میں نے خود گھڑ لیا ہے تو میرے جرم کا وبال مجھ پر ہوگا اور میں بری ہوں اس جرم سے جس کے تم مرتکب ہو مفسرین کی ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ یہ آیت نوح (علیہ السلام) کے قصہ کا تتمہ ہے اور بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ یہ گفتگو کفار مکہ کی آنحضرت ﷺ سے تھی کہ یہ قرآن آپ ﷺ خود بنا لائے ہیں۔ خدا کا کلام نہیں ہے حضرت نوح (علیہ السلام) کوئی کتاب نہ لائے تھے جو ان کی قوم یہ بات کہتی۔ اس لیے یہ آیت آنحضرت ﷺ سے متعلق ہے بطور جمہ معترضہ کفار مکہ کے کلام کو درمیان قصہ نوح (علیہ السلام) ذکر فرمایا یہاں تک جتنے سوالات اور جوابات ذکر کیے وہ سب قوم نوح کے متعلق تھے مگر کفار مکہ بھی یہی کہتے تھے اس لیے درمیان قصہ بطور جملہ معترضہ کفار مکہ کا کلام ذکر کردیا گیا۔ اب آگے پھر نوح (علیہ السلام) کا باقی قصہ ذکر ہوتا ہے۔ لطائف و معارف عارف رومی قدس سرہ السامی فرماتے ہیں۔ اشقیاء را دیدہ بینا بنود نیک و بدر دیدہ شاں یکساں نمود بدبخت لوگ دل کی آنکھوں سے محروم تھے۔ اس لیے ان کی نظر میں نیک و بد یکساں دکھائی دیتے تھے۔ ہمسری با انبیاء برداشتند اولیاء راہمچو خود پنداشتند انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ہمسری کے مدعی تھے اور اولیاء (رح) کو اپنے برابر سمجھتے تھے۔ گفتہ اینک ما بشع ایشاں بشر ماؤ ایشاں بستہ خوابیم و خود اور یہ کہتے تھے کہ ہم بھی انسان ہیں اور انبیاء (علیہ السلام) بھی انسان ہیں کھانے اور سونے کے دونوں پابند ہیں، پھر ہم میں اور ان میں فرق کیا رہا۔ ایں ندانستند ایشاں از عمیٰ ہست فرقے درمیاں بےمنتہیٰ اور کور باطنی سے یہ سمجھا کہ دونوں میں بےانتہا فرق ہے۔ ہر دو گوں ز نبور خود دند از محل لیک شد زاں نیش وذاں دیگر عسل دونوں قسم کے زنبور (بھڑ) ایک ہی جگہ سے پھلوں کا رس چوستی ہیں مگر ایک زنبور سے ڈنگ پیدا ہورا ہے اور دوسرے زنبور سے شہد پیدا ہوتا ہے۔ ہر دو گون آ ہوگیا خور دند آب زیں یکے سرگیں شدد زاں مشکناب اس شعر میں ایک دوسری مثال ذکر کرتے ہیں کہ دونوں قسم کے ہرن ایک ہی قسم کی گھاس چرتے ہیں اور ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے ہیں لیکن ایک سے تو مینگیاں بنتی ہیں اور دوسرے سے خالص مشک نکلتی ہے۔ ہر دو نے خورد نداز یک آب خورد آں یکے خالی و آں پر از شکر یہ تیسری مثال ہے کہ دونوں قدم کی نے ایک ہی گھاٹ سے سیراب ہوتے ہیں لیکن ایک کھوکھلی ہے اور دوسری شکر اور رس سے پر ہے۔ صد ہزاراں ایں چنیں اشباہ بیں فرق شاں ہفتاد سالہ راہ بیں اس قسم کی سو ہزار نظریں دیکھو گے ان میں ستر سال کا فرق پاؤ گے۔ ایں خورد گر دو پلیدی زوجدا واں خورد گردد ہم نور خدا خدا کا نافرمان غذا کھاتا ہے تو اس سے نجاست نکلتی ہے اور خدا کا فرمانبردار کھاتا ہے تو اس سے نور خدا یعنی معرفت اور محبت خداوندی پیدا ہوتی ہے۔ ایں خورد زاید ہمہ بخل و حسد واں خرد زاید ہمہ نور احد یہ کھاتا ہے تو سراسر بخل و حسد پیدا ہوتا ہے اور وہ کھاتا ہے تو اس سے نور خدا پیدا ہوتا ہے۔ ہر دو صورت گر بہم ماند رواست آب تلخ و آب شیریں واصفا است سعید اور شقی کا صورت کے لحاظ سے ایک دوسرے کے مشابہ ہونا ممکن ہے جیسا کہ آب تلخ اور آب شیریں ظاہر کے اعتبار سے ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ دونوں میں صفائی موجود ہے مگر حقیقت مختلف ہے۔ جس کا فرق چکھنے ہی سے معلوم ہوسکتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ کفار نے محض ظاہری مشابہت کی بنا پر انبیاء کرام (علیہ السلام) کو اپنے ہمسر اور برابر جانا یہی ان کی کور باطنی اور بےعقلی کی دلیل ہے رہبر کا کام راستہ بتانا ہے۔ اگر کسی گم گشتہ راہ کو لق و دو میدان میں کوئی رہنما مل جائے جو راستہ سے بخوبی واقف ہو اور وہ اس کو راستہ بتلائے اور یہ شخص جو اب میں یہ کہے کہ تم تو مجھ جیسے انسان ہو میں تم کو ہادی کیسے مانوں اور تمہارے کہنے پر کیسے چلوں تو یہی جواب اس کی نادانی اور حماقت کی دلیل ہے بلاشبہ وہ ہادی طریق صورت و شکل میں تم ہی جیسا انسان ہے مگر وہ منزل مقصود کی راہ سے بخوبی واقف ہے اور تم بیخبر ہو۔
Ayahs 11:36–43

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان لاچکے ان کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ تو جو کام یہ کر رہے ہیں انکی وجہ سے غم نہ کھاؤ۔

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ان کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا کیونکہ وہ ضرور غرق کردیے جائیں گے۔

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

تو (نوح نے) کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب انکی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے ' وہ کہتے کہ اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اسی طرح (ایک وقت) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے۔

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

اور تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا۔ اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے ؟

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا۔ تو ہم نے نوح (کو) حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجا ئیگا) اسکو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو اور جو ایمان لایا ہو اسکو کشتی میں سوار کرلو اور انکے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے۔

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

(نوح نے) کہا کہ خدا کا نام لیکر (کہ اسی کے ہاتھ میں) اس کا چلنا اور ٹھہرنا (ہے) اس میں سوار ہوجاؤ۔ بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ انکو لیکر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ (کشتی سے) الگ تھا ' پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو۔

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

اس نے کہا کہ میں (ابھی) پہاڑ سے جا لگوں گا وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں (اور نہ کوئی بچ سکتا ہے) مگر اس پر جس پر خدا رحم کرے۔ اتنے میں دونوں کے درمیان لہر آ حائل ہوئی اور وہ ڈوب کر رہ گیا۔

بمے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید کہ سالک بیخبر نبود زراہ و رسم منزلہا تتمہ قصہ نوح (علیہ السلام) متعلق بہ طوفان قال اللہ تعالیٰ واوحی الی نوح انہ لن یؤمن ..... الی .... فکان من المغرقین۔ (ربط) جب کفار اپنے شبہات اور اعتراضات کا کافی اور شافی جواب سن چکے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے جوابات قاہری کی تاب نہ لاسکے تو دوسرا رنگ اختیار کیا ظلم اور تعدی اور ایذا رسانی اور دشنام طرازی پر اتر آئے۔ چو حجت نماند جفا جوئے را بہ پر خالش برہم کشد روئے را کبھی ان کو دیوانہ اور مجنون کہتے اور کبھی ان کو زمین پر لٹا کر ان کا گلہ گھونٹتے یہاں تک کہ وہ بیہوش ہوجاتے جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو نوح (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں شکایت کی۔ رب انی دعوت قومی لیلا و نھارا (الیٰ ) رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا۔ اور دعا مانگی رب مغلوب فانتصی۔ اس پر نوح (علیہ السلام) کی تسلی کے لیے یہ وحی نازل ہوئی۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جب نوح (علیہ السلام) کو وعظ و نصیحت کرتے ایک زمانہ دراز گزر گیا اور ان پر کچھ اثر نہ ہوا تو نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی گئی کہ اب تیری قوم میں سے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لاچکے ہیں اور کوئی نیا شخص ایمان نہیں لائیگا۔ پس وہ جو کچھ ظلم و ستم کر رہے ہیں آپ اس سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہوئیے۔ اور ان کی مخالفت اور عداوت کی پرواہ نہ کیجئے جس عذاب کا یہ لوگ مذاق اڑا رہے ہیں۔ اس کا وقت نزدیک آگیا ہے جو ان شریروں کا اور ان کی شرارتوں کا یک لخت خاتمہ کر دیگا دعوت اور حجت کا وقت اب ختم ہوا اور نزول عقوبت اور سزا کا وقت قریب آگیا اور اے نوح (علیہ السلام) ! اب کمر ہمت باندھ لیجئے اور ہماری نظروں کے سامنے ہمارے حکم کے مطابق کشتی بناؤ ہم تم کو بتلائیں گے کہ کشتی کس طرح بنائی جاتی ہے کیونکہ اس سے قبل کشتی کا وجود ہی نہ تھا اور باعیننا۔ کا مطلب یہ ہے کہ بےفکر ہو کر کشتی تیار کرو ہماری نظر ہائے عنایت و حفاظت ہر طرف سے تم کو اور تمہاری کشتی کو محیط ہونگی جس کے ذریعے سے تم اور تمہارے متبعین طوفان سے محفوظ رہیں گے۔ طوفان کے وقت اصل محافظ ہماری نظر عنایت ہوگی۔ لہٰذا جب کشتی تیار ہوجائے تو تم ہمارا نام لیکر اس میں سوار ہوجانا اور ہماری نظر عنایت پر نظر رکھنا کشتی پر اعتماد نہ کرنا۔ ہماری حفاظت اور نظر عنایت کے بغیر کشتی بذات خود کسی کو نہیں بچا سکتی اور یہ سن لو کہ ان ظالموں کے بارے میں بمقتضائے شفقت و مرحمت عذاب دفع ہونے کی مجھ سے کوئی درخواست نہ کرنا بلاشبہ یہ غرق کیے جائیں گے۔ ان کی غرقابی کا حکم قطعی ہے اور آپ (علیہ السلام) کی بھی یہی دعا اور التجا تھی۔ رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا لہٰذا نزول عذاب کے وقت بمقتضائے شفقت و رحمت کوئی دعا اور التجا کے خلاف ہو۔ ہماری بارگاہ سے ان ظالموں کی غرقابی کا قطعی فیصلہ ہوچکا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نجار میں تھے اور کشتی بنانا نہیں جانتے تھے۔ اس لیے عرض کیا کہ اے خدا میں کس طرح کشتی بناؤں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم بنوا دیں گے۔ پس بحکم خداوندی تیشہ لے کر لکڑی تراشنا شروع کی تو برابر ٹھیک بنتی چلی جاتی تھی۔ اور اس طرح وہ کشتی بناتے تھے اور ان کی قوم کے سرداروں میں کوئی جماعت جب ان پر گزرتی تو ان کے ساتھ تمسخر کرتے۔ اور یہ کہتی کہ اے نوح (علیہ السلام) پہلے تو تم پیغمبر تھے اور اب بڑھئی ہوگئے اور دریا سے دور خشک بیابان میں کشتی تیار کر رہے ہو۔ اتنی بڑی کشتی خشکی سے کھینچ کر دریا میں کیسے لے جاؤ گے۔ تم جنون ہوگئے ہو نیز خشکی میں کشتی کی ضرورت کیا۔ بلا ضرورت کس لیے کشتی بناتے ہو جہاں دور دور پانی کا نام و نشان نہ ہو وہاں کشتی بنانا بالکل عبث ہے۔ ابن عطیہ (رح) کہتے ہیں اس سے پہلے لوگوں نے کشتی دیکھی بھی نہ تھی۔ اور نہ اس کے استعمال کے طریقے سے واقف تھے اس لیے تعجب کرتے اور قہق ہے لگاتے اور کہتے کہ اے نوح (علیہ السلام) تم اس کو کیا کرو گے نوح (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو تو ہم بھی تم پر ہنسیں گے جیسا کہ تم ہم پر ہنستے ہو وہ ہنستے تھے اس بات پر کہ خشکی پر کشتی بنائی جا رہی ہے کیا یہ کشتی خشکی پر چلے گی اور نوح (علیہ السلام) اس بات پر ہنستے تھے کہ یہ لوگ اپنے انجام سے بیخبر ہیں موت ان کے سر پر کھڑی ہے۔ ان کو معلوم نہیں کہ کس طرح زمین سے پانی ابل پڑے گا اور یہی خشکی تری بن جائے گی۔ اور ان کو غرق کر ڈالے گی۔ سو عن قریب جانا لوگے کہ وہ کون ہے کہ جس پر دنیا میں ایسا عذاب آیا چاہتا ہے جو اس کو رسوا کرے گا۔ یعنی غرق ہوگا جسے دیکھ کر لوگ ہنسیں گے اور اس دنیاوی عذاب کے علاوہ آخرت میں اس پر ایک دائمی عذاب نازل ہوگا۔ جو کبھی اس سے دور نہ ہوگا۔ غرض یہ کہ اسی طرح سوال و جواب اور تمسخر کا سلسلہ جاری رہا۔ یہاں تک کہ جب عذاب کے متعلق ہمار احکم آپہنچا اور اس کی ابتداء اس طرح سے ہوئی کہ روٹی پکانے کا تنور جوش مارنے لگا۔ یعنی اس میں سے پانی ابلنے لگا جو مقدمہ طوفان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو عذاب آنے کی یہ نشانی بتا دی تھی کہ جب اس تنور میں سے پانی پھوٹنے لگے تو ہم اہل ایمان کو لیکر کشتی پر سوار ہوجانا وھذا قول الحسن (رح) وقالہ مجاھد (رح) و عطیتہ (رح) عن ابن عباس ؓ علیہ۔ (دیکھو تفسیر قرطبی ص 33) ابن جریر (رح) اور دیگر محققین کا قول یہی ہے کہ تنور سے یہی روٹی پکانے کا تنور مراد ہے جس سے خلاف عادت پانی ابلنے لگا اور بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ تنور سے صبح مراد ہے مگر اکثر مفسرین کے نزدیک مختار یہی ہے کہ تنور سے ظاہری معنی مراد ہیں اس لیے کہ تنور کے یہ معنی حقیقی اور معروف و متبادر ہیں۔ اور دوسرے معنی مجازی ہیں اور جب لفظ حقیقت اور مجاز کے درمیان دائر ہو تو بالاجماع اس کو حقیقت پر محمول کرنا اولیٰ ہے حق تعالیٰ جل شانہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے یہ فرما دیا تھا۔ کہ جب تنور سے پانی ابلتے دیکھو تو کشتی میں سوار ہو جانایہ علامت تھی طوفان شروع ہونے کی۔ چناچہ جب عذاب کی علامت ظاہر ہوئی کہ تنور ابلنا شروع ہوا اور زمین کے چمشے رواں کر دئیے گئے اور آسمان سے بشدت پانی برسنا شروع ہوا۔ کما قال تعالیٰ ففتحنا ابواب اسماء بماء منھمر و فجرنا الارض عیونا۔ تو ہم نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ہر قسم کے جانوروں میں سے جو انسان کے لیے کار آمد ہیں اور پانی میں زندہ نہیں رہ سکتے دو عدد جوڑا یعنی ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ کشتی میں اپنے ساتھ لادلو اور اپنے اہل و عیال کو جو ایمان والے ہیں ان کو بھی کشتی میں سوا کرلو مگر ان لوگوں کو مت سوار کرنا جن کی غرقابی اور ہلاکت کے متعلق قضا وقدر جاری ہوسکتی ہے۔ اور اہل و عیال کے علاوہ ان لوگوں کو بھی سوار کرلیجئے جو ایمان لائے ہیں اور نہیں ایمان لائے تھے ان کے ساتھ مگر تھوڑے اشخاص جن کی تعداد اسی تھی پس حضرت نوح (علیہ السلام) نے حسب الحکم ان کو کشتی میں سوار کیا اور فرمایا کہ سوار ہوجاؤ اس کشتی میں اور غرق کا اندیشہ مت کرو کیونکہ اس کا چلنا اور ٹھہرنا سبب اللہ ہی کے نام کی برکت سے ہے۔ بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے کشتی کا چلنا اور ٹھہرنا سب اس کی رحمت اور اس کے نام کی برکت سے ہے نجات کا دارومدار اس کی رحمت پر ہے۔ یہ کشتی اس کا ظاہری سبب ہے۔ لہٰذا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھو نہ کہ کشتی پر اور بعض علماء تفسیر یہ فرماتے ہیں کہ بسم اللہ مجرھا ومرسھا۔ مستقل جملہ نہیں بلکہ ماقبل سے حال واقع ہے اور مطلب یہ ہے کہ کشتی میں بسم اللہ پڑھتے ہوئے سوار ہو۔ چناچہ وہ لوگ مع ضروری جانوروں کے اس کشتی میں سوار ہوگئے اور اس اثناء میں پانی بہت بڑھ گیا۔ اب وہ کشتی ان کو لے کر پہاڑ جیسی موجوں میں چل رہی تھی یعنی پانی اس قدر کثیر تھا کہ اس کی موجیں اور لہریں پہاڑ کی مانند بلند تھیں مقصود یہ ہے کہ طوفان نہایت شدید تھا مگر یہ کشتی انہی موجوں میں اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت اور نظر رحمت کے ساتھ اہل ایمان کو سکون، اطمینان کے ساتھ لیکر چل رہی تھی جس میں کسی قسم کا اضطراب نہ تھا پانی اور ہوا کے تھپیڑوں کا کشتی پر کوئی اثر نہ تھا اور اسی اثناء میں کشتی چلے سے پہلے نوح (علیہ السلام) نے اپنے سگے یا سوتیلے بیٹے کو آواز دی جس کا نام کنعان تھا اور وہ کشتی سے علیحدہ تھا۔ اور اس وقت کشتی رواں تھی اور پانی چڑھا آتا تو بمقتضائے شفقت پدری آواز دی اور یہ کہا اے میرے چھوٹے بیٹے خدارا ایمان لے آ اور کشتی میں ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ مت رہ یعنی ان بدبخت کافروں کی معیت کو چھوڑ اور ہمارے ساتھ سوار ہوجا تاکہ اس مصیبت عظمیٰ سے تو نجات پاسکے۔ شفقت پدری کی بناء پر نصیحت فرمائی کہ یہ آخری وقت ہے اگر اس وقت بھی ایمان لے آیا تو غرق سے بچ جائیگا۔ بیٹا بولا کہ مجھے کشتی کی ضرورت نہیں میں عنقریب کسی بلند پہاڑ پر ٹھکانالوں گا۔ جو مجھ کو پانی میں غرق ہونے سے بچا لے گا یہ وقت ابتداء طوفان کا تھا پانی پہاڑوں پر نہیں پہنچتا تھا اس لیے اس نے یہ کہا۔ نوح (علیہ السلام) کو گمان یہ تھا کہ شاید اس قہر عام کو دیکھ کر بیٹا ہوش میں آجائے دنیا کی پریشانی اور میرا سکون اور اطمینان اس کی نظروں کے سامنے ہے فرق کو دیکھ لے اور سمجھ لے مگر غفلت کا پردہ اتنا سخت تھا بیٹا ہوش میں نہ آیا اور خیال کیا کہ پہاڑ کی چوٹی مجھ کو گرق ہونے سے بچا لے گی۔ نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اس خیال کو دماغ سے نکال دے یہ کوئی معمولی سیلاب نہیں یہ اللہ کا قہر ہے جس میں اسباب عادیہ اور تدابیر مادیہ کا رگر نہ ہونگی۔ آج کے دن اللہ کے قہر سے کوئی چیز بچانے والی نہیں مگر جس پر خدا رحم کرے وہی بچ سکتا ہے پہاڑ بھی تو اللہ ہی کے حکم کے تابع ہے وہ بغیر حکم خداوندی کسی کو کیسے پناہ دے سکتا ہے اللہ کی تقدیر پر محکم جاری ہوچکی ہے کہ اس عذاب سے بچے گا کوئی نہیں۔ غرض یہ کہ یہی گفتگو ہو رہی تھی کہ پانی کا روز اس کی طرف بھی بڑھ گیا اور ان دونوں باپ اور بیٹے کے درمیان موج حائل ہوگئی اور اس طرح ان کی گفتگو ختم ہوئی۔ پس ہوگیا وہ بیٹا غرق ہونے والوں میں سے اور کافروں کے ساتھ بیٹا بھی غرق ہوا۔ جمہور علماء اسلام اور اہل کتاب کا قول یہ ہے کہ طوفان عام تھا جہاں پر آیا اور اس کی بعد دنیا میں صرف نوح (علیہ السلام) کی نسل جاری ہوئی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ 1۔ وجعلنا ذریتہ ہم الباقین۔ یعنی طوفان نوح کے بعد ہم نے صرف نوح (علیہ السلام) کی اولاد کو باقی رکھا۔ اور باقی سب کو غرق کردیا اور جو لوگ نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار تھے صرف انہوں نے نجات پائی اور آئندہ کو جو نسل چلی وہ نوح (علیہ السلام) کی اولاد سے چلی اس وجہ سے نوح (علیہ السلام) کو آدم ثانی (علیہ السلام) کہتے ہیں۔ 2۔ اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی یہ دعا رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا۔ یہ بھی اس کی دلیل ہے کہ طوفان تمام اہل زمین کے لیے تھا اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ طوفان صرف نوح (علیہ السلام) کی قوم کے حق میں تھا۔ کیونکہ ان کی بعثت صرف اپنی قوم کے لیے تھی اس لیے یہ طوفان اس خطہ تک محدود تھا جہاں ان کی قوم آباد تھی۔ عام نہ تھا۔ بعض شہر اس طوفان سے بچ گئے تھے یہ لوگ کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی ایسا انقلاب نہیں آیا جس سے ازسر نو دنیا کی آبادی کی ضرورت ہوئی ہو۔ حضرت شاہ عبد العزیز قدس سرہ فرماتے ہیں کہ سلف اور خلف میں سے کسی کا یہ قول نہیں کہ طوفان صرف حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے حق میں تھا اور یہود کے باطل اقوال کا اعتبار نہیں اور نوح (علیہ السلام) کی بعثت اگرچہ عام نہ تھی صرف اپنی قوم کے ساتھ مخصوص تھی مگر اس وقت ان کی قوم اور ان کی امت ہی کل اہل زمین اور اہل جہان کا مصداق تھی اور ان کی امت ہی سارا جہان اور ساری دنیا تھی موجودہ دنیا کی طرح ساری زمین آباد نہ تھی جیسے آدم (علیہ السلام) کی ذریت تھی وہی ان کی امت تھی۔ اس طرح تمام اہل زمین حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم تھی مطلب یہ ہوا کہ اس زمانہ میں جہاں تک دنیا آباد تھی وہاں تک طوفان آیا جو سب کو عام اور شامل تھا۔ جس سے سوائے نوح (علیہ السلام) کے اور اہل ایمان کے کوئی نہیں بچا غرض کہ تمام زمین کی چیزیں غرق ہوگئیں اور صرف نوح (علیہ السلام) اور وہ لوگ جو کشتی میں ان کے ساتھ سوار تھے زندہ رہے اور طوفان کے بعد دنیا ازسر نو آباد ہوئی۔ آج کل کے مدعیان تحقیق یہ کہتے ہیں کہ اسی آدمیوں سے دنیا کا آباد ہونا محال نظر آتا ہے ان نادانوں کو یہ خبر نہیں کہ یہ ساری دنیا صرف حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا سے آباد ہوئی ہے۔ کبھی یہ کہتے ہیں کہ ایسے عظیم انقلاب کا دنیا کی تاریخوں میں ذکر نہیں۔ ان نادانوں کو یہ معلوم نہیں کہ تاریخ میں جن واقعات کا ذکر ہے وہ نہایت قلیل ہیں اور جو واقعات پیش آئے وہ لاکھوں اور کروڑوں ہیں جن کے ذکر سے تاریخ خالی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ نوح (علیہ السلام) کی بعثت عام تھی اور تمام اہل زمین کے لیے تھی تو جاننا چاہئیے کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت تمام اہل زمین کے لیے ہر زمانہ میں ہے اور قیامت تک رہے گی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت اسلام سب اہل زمین کے لیے صرف ان کے زمانہ تک محدود تھی بعد میں باقی نہ رہی اور ہمارے نبی اکرم ﷺ کی نبوت اور بعثت اور دعوت تمام اہل زمین کے لیے ہے ہر زبان میں ہر مکان میں اور اسی طرح تاقیامت باقی رہے گی۔ (فتاویٰ عزیزی ص 47 ج 4) الغرض جمہور مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ یہ طوفان عام اور عالمگیر تھا۔ سوائے اہل کشتی کے کوئی متنفس اس جانکاہ عذاب سے جانبر نہیں ہوا۔ اور قرآن مجید کی آیات اور اشارات سے بھی یہی معلوم اور مفہوم ہوتا ہے کہ وہ طوفان عام تھا اور تمام جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا کا کشتی میں سوار کرنا یہ بھی اسی طرف اشارہ کر رہا ہے کیونکہ اگر طوفان عام نہ ہوتا تو جانوروں کے سوار کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ دوسرے مقامات پر تو جانور موجود ہی تھے جو لوگ طوفان کے عام ہونے کے منکر ہیں کبھی تو یہ کہتے ہیں کہ واقعہ طوفان فطرت کے خلاف ہے اور کبھی یہ کہتے ہیں کہ قانون طبیعت کے خلاف ہے۔ خوب سمجھ لو کہ یہ سب متکبر انہ دعوت ہیں جن پر کوئی دلیل نہیں اور اس قسم کی باتوں سے کسی چیز کا محال ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا۔ اور کشتی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت۔

قصہ فروشدن طوفان قال اللہ تعالیٰ وقیل یا رض ابلعی ماءک .... الیٰ ... بعدا للقوم الظلمین۔ (ربط) یہاں تک اس طوفان کی آمد کا بیان تھا۔ اب اس کے خاتمہ کا بیان ہے کہ کفار ناہنجار غرق ہوئے اور اہل ایمان صحیح سالم رہے چناچہ فرماتے ہیں اور جب اصحاب سفینہ کے سوا تمام لوگ جن کے حق میں نوح (علیہ السلام) نے دعا کی تھی۔ رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا۔ وہ سب غرق ہوگئے اور کافروں میں زمین پر بسنے والا کوئی باقی نہ رہا۔ تو خدا قدوس کی طرف سے زمین کو حکم دیا گیا کہ اے زمین تو اپنا پانی نگل جا اور آسمان کو یہ حکم دیا کہ اے آسمان تو پانی برسانے سے رک جا پھر کیا مجال تھی کہ آسمان اور زمین اس کے حکم کی تعمیل میں ایک لمحے کی تاخیر کرتے۔ چناچہ زمین نے اپنے اوپر کا تمام پانی چوس لیا اور آسمان نے پانی برسانا بند کردیا اور پانی کم کردیا گیا۔ حتی کہ خشک کردیا گیا۔ اور قوم نوح کا قصہ تمام ہوا۔ اور جو کافر اور منکر تھے ان میں سے کوئی ایک دیار بھی باقی نہ رہا۔ اور اہل ایمان نے نجات پائی اور اللہ کا وعدہ پورا ہوا اور کشتی صحیح سلامت جودی پہاڑ سے جا کر ٹھہر گئی۔ جو موصل کے قریب واقع ہے اور یہ محرم کی دسویں تاریخ تھی۔ نوح (علیہ السلام) نے اللہ کے شکر میں اس دن کا روزہ رکھا کہ اس مبارک دن میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نجات دی اور کفار ناہنجار کو ازاول تا آخر غرق کیا اور منادی کردی گئی کہ لعنت اور پھٹکار ہو ظالم قوم کے لئے جنہوں نے حق اور اہل حق کے ساتھ بےانصافی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو نیست و نابود کیا اور اپنی رحمت سے دور کیا۔ علماء تفسیر (رح) نے لکھا ہے کہ یہ آیت عجیب اسرار بلاغت اور دلائل اعجاز پر مشتمل ہے جس کی تفصیل کتب تفسیر میں ہے چونکہ اہل علم اور اہل فن ہی ان اسرار و لطائف کو سمجھ سکتے ہیں اس لیے ہم نے ان کے بیان سے پہلو تہی کی۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے در بیان و در فصاحت کے بود یکساں سخن گرچہ گوبندہ بود چوں حافظ و چوں اصمعی در کلام ایزد بےچوں کہ وحی منزل است کے بود تبت یداء ماند یا ارض ابلعی !
Ayahs 11:45–47

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار ! میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اسکو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے۔

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے۔ وہ تو ناشائستہ افعال ہے۔ تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

نوح نے کہا پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی مجھے حقیقت معلوم نہیں۔ اور اگر تو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہوجاؤں گا۔

دعا نوح (علیہ السلام) برائے نجات پسر خود و جواب باری تعالیٰ قال اللہ تعالیٰ ونادی نوح ربہ ..... الیٰ ..... اکن من الخسرین۔ اور نوح (علیہ السلام) نے بیٹے کے غرق ہونے سے پہلے حسرت و لجاجت کے ساتھ اپنے پروردگار کو پکارا کہ شاید اس کی شان ربوبیت سے بیٹے کی نجات کی کوئی صورت نکل آئے پس عرض کیا کہ اے میرے رب تحقیق یہ میرا بیٹا جو ہلاکت کے کنارے پر کھڑا ہے میرے اہل و عیال اور گھروالوں میں سے ہے جن کی نجات کا تو نے وعدہ کیا ہے اور بلاشبہ تیرا وعدہ حق اور صدق ہے۔ پس آپ میرے بیٹے کو غرق ہونے سے بچا لیجئے اور آپ تو سب سے بڑے حاکم ہیں۔ آپ کے حکم کو کون توڑ سکتا ہے یا ٹلا سکتا ہے۔ اللہ جل شانہ نے فرمایا اے نوح (علیہ السلام) بیشک ہمارا وعدہ حق ہے مگر تیرا بیٹا حقیقت میں تیرے اہل میں سے نہیں ہے جن کے بچانیکا ہم نے وعدہ کیا ہے کیونکہ تحقیق وہ ناشائستہ اور سرتا پانا کا رہ ہے یعنی کافر ہے اور الا من سبق علیہ القول۔ میں داخل ہے اور ہمارے یہاں اہلیت کا دارومدار قرابت دین پر ہے نہ کہ قرابت نسبی پر، اور ہم نے شروع ہی میں تم سے یہ کہا تھا کہ ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا انھم مغرقون۔ وہ اشارہ اسی کی طرف تھا۔ حکم چونکہ مجمل اور عام تھا لیکن بمقتضائے شفقت پدری تم کو اس کے عموم سے ذھول اور نسیان ہوا اس لیے تم بھولے سے یہ سوال کر بیٹھے پس آئندہ سے تم مجھ سے اس چیز کا سوال نہ کرنا جس کا تم کو علم نہ ہو۔ تحقیق میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادانوں میں سے نہ ہوجانا ایسی دعا مانگنی نادانی کی بات ہے اللہ کی مرضی اور منشاء کو دیکھ کر سوال کرنا چاہیے نوح (علیہ السلام) نے ظاہری اور نسبی قرابت کی بناء پر یہ خیال کیا کہ میرا بیٹا بھی میرے اہل میں سے ہے اس لیے دعا فرمائی اللہ تعالیٰ نے مطلع کردیا کہ وہ آپ کے اہل سے نہیں نبی کے اصل اہل وہ لوگ ہیں جو نبی پر ایمان لائے اور ایمان لاکر اس کی پیروی کی۔ اس بارگاہ میں جسمانی نسبت کا اعتبار نہیں بلکہ ایمانی نسبت کا اعتبار ہے۔ امام ابو منصور ما تریدی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کے کافر ہونے کی خبر نہ تھی۔ خبر ہوتی تو وہ یہ سوال نہ کرتے۔ امام رازی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں کہ پسر نوح (علیہ السلام) کے بارے میں علماء کے تین قول ہیں۔ (قول اول) وہ منافق تھا مگر نوح (علیہ السلام) کو اس کے نفاق کا علم نہ تھا۔ ظاہر کے اعتبار سے اس کو مومن سمجھ کر آواز دی کہ کافروں کا ساتھ چھوڑ دے اور ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجا۔ یبنی ارکب معنا ولا تکن مع الکفرین۔ کا یہ مطلب ہے کہ جب تو کافر نہیں تو پھر ان کے ساتھ کیوں ہے۔ (تفسیر کبیر ص 62 ج 5) اور اسی کو امام قرطبی (رح) نے اختیار کیا ہے۔ (دیکھو تفسیر قرطبی ص 45 ج 9) (قول دوم) نوح (علیہ السلام) کو معلوم تھا کہ کنعان کافر تھا مگر غرق ہونے سے پہلے اس کو اس لیے آواز دی کہ شاہد ہولناک نشانات کو دیکھ کر ہوش میں آجائے اور ایمان لے آئے اور حق جل شانہ سے اس عرض و معروض رب ان ابنی من اہلی الخ کا منشاء بھی یہی ہو کہ اے پروردگار یہ میرا بیٹا اگرچہ بوجہ عدم ایمان کے مستحق نجات نہیں۔ لیکن اگر آپ چاہیں تو آپ اس کو مومن کرسکتے ہیں تاکہ یہ بھی اس وعدہ حقہ کا مورد اور مستحق بن سکے اور نجات پا جائے۔ (تفسیر کبیر ص 26 ج 5) (قول سوم) شفقت پدری نے اس سوال اور استدعاء پر آمادہ کیا ہو اور یہ گمان کیا کہ اللہ نے میرے گھر والوں کے بچانے کا وعدہ فرمایا ہے جن میں بظاہر بیٹا داخل ہے اور الا من سبق علیہ القول کا استثناء مجمل اور مبہم ہے۔ ممکن ہے کہ بیٹا اس میں داخل نہ ہو۔ (تفسیر کبیر ص 62، ج 5) بہر حال نوح (علیہ السلام) کا یہ سوال شفقت پدری کی بناء پر تھا اور دعا کرتے وقت بیٹے کے کفر کا صحیح حال معلوم نہ تھا۔ جیسا کہ فلا تسئلن ما لیس لک بہ علم۔ اس پر دلالت کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ وہ الا من سبق علیہ القول میں داخل ہے اور نصیحت فرما دی کہ مقربین کے شیان شان نہیں کہ وہ بےسوچے سمجھے ادب ناشناس جیسے بےادب جاہلوں کی سی باتیں کرنے لگیں۔ موسیا آداب داناں دیگر اند سوختہ جاناں روانا دیگر اند نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار تحقیق میں تجھ سے پناہ پکڑتا ہوں کہ آئندہ تجھ سے ایسی بات کا سوال کروں جس کا مجھ کو علم نہ ہو۔ نوح (علیہ السلام) کو یہ ڈر ہوا کہ لاعلمی میں ایسی بات کا سوال نہ کر بیٹھوں کہ جو تقدیر ازلی اور علم الٰہی اور منشاء خداوندی کے خلاف ہو اس لیے توبہ استغفار کی۔ اور اے پروردگار اگر تو نے مجھے یہ ترک ادب نہ بخشا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں ٹوٹا اٹھانے والوں میں ہوجاؤں گا یہ شان نبوت تھی کہ لاعلمی میں جو درخواست کر گزرے تھے۔ اس پر عتاب آیا تو کانپ اٹھے اور گڑ گڑانے لگے۔ اور توبہ اور استغفار کرنے لگے۔ مقرباں را بیش بود حیرانی۔
Ayahs 11:48–49

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم ہوا کہ نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اتر آؤ۔ اور کچھ اور جماعتیں ہونگی جن کو ہم (دنیا کے فوائد سے) محظوظ کریں گے پھر انکو ہماری طرف سے عذاب الیم پہنچے گا۔

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ (حالات) من جملہ غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں (اور) اس سے پہلے نہ تم ہی ان جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم (ہی ان سے واقف تھی) تو صبر کرو کہ انجام پرہیزگاروں ہی کا (بھلا) ہے۔

خاتمہ قصہ مشتمل بر بیان حکمت و ذکر استدلال بروحی نبوت قال اللہ تعالیٰ قیل ینوح اھبط بسلم منا .... الیٰ .... ان العاقبۃ للمتقین۔ (ربط) جب کشتی جودی پہاڑ پر جاکر ٹھہر گئی اور پانی بھی اتر گیا تو اس وقت حکم ہوا کہ اے نوح اب کشتی سے اترو ہماری طرف سے سلام اور سلامتی کے ساتھ اور برکتوں کے ساتھ اور یہ سلامتی اور برکتیں تجھ پر مبذول ہوں گی اور ان لوگوں پر مبذول ہوں گی جو تیرے ہمراہیوں سے پیدا ہونگے یعنی تیرے ہمراہیوں کی مسلمان اولاد پر بھی ہماری سلامتی اور برکتیں مبذول ہونگی۔ مطلب یہ ہے کہ آپ (علیہ السلام) کے ہمراہیوں کی مسلمان نسل کا بھی اس سلامتی اور برکت میں سے حصہ ملے گا۔ اور آئندہ نسلوں میں کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے جو ایمان نہیں لائیں گے۔ ہم ان کو دنیا میں چند روزہ بہرہ مند کریں گے۔ یعنی معت کے وقت تک دنیا میں ان کو رسائیں بسائیں گے۔ پھر آخرت میں ان کو ہماری طرف سے دوزخ کا دردناک عذاب پہنچے گا۔ و اھم سنمتعھم سے کافر امتیں مراد ہیں کہ ان کو دنیا میں عیش و آرام دیں گے اور پھر آخرت میں کفر و شرک کی وجہ سے عذاب میں پکڑے جائیں گے اور آخرت میں صرف ایمان اور عمل صالح نفع دے گا نسب کام نہ دے گا جیسا کہ کنعان کو بغیر ایمان اور عمل صالح کے نسب سے کوئی نفع نہ ہوا قریش مکہ کان کھول کر سن لیں۔ یہاں تک نوح (علیہ السلام) کا قصہ تمام ہوا اب اس قصہ کو ختم کرکے اس کے دو فائدے بیان کرتے ہیں ایک تو یہ کہ ایک امی کی زبان سے امم سابقہ کے ایسے مفصل اور مستند واقعات کا بیان اس کی نبوت کی دلیل ہے۔ دوم یہ کہ اس کی تسلی مقصود ہے کہ نوح (علیہ السلام) کی طرح آپ ﷺ کا اور آپ ﷺ کے رفقاء کا انجام بہتر ہوگا۔ یہ قصہ نوح (علیہ السلام) منجملہ غیب کی خبروں کی ایک خبر ہے جس کو ہم بذریعہ وحی کے تجھ پر القاء کرتے ہیں اس قصہ کو ہمارے بتلانے سے پہلے نہ آپ جانتے تھے نہ آپ کی قوم جانتی تھی۔ اور کسی امر غیبی کی بذریعہ وحی اطلاع دینا یہ دلیل نبوت ہے۔ اور اگر اس واضح دلیل کے بعد بھی آپ ﷺ کو نبی نہ مانیں تو آپ ﷺ ان کی ایذاء اور تکلیف دہ باتوں پر صبر کیجئے۔ کیونکہ اس میں شک نہیں کہ نیک انجام خدا سے ڈرنے والوں کے لیے ہے۔ جیسا کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب کو صبر کی برکت سے نیک انجام نصیب ہوا۔ اسی طرح آپ ﷺ بھی کافروں کی ایذاؤں پر صبر کریں۔ آپ ﷺ کا اور آپ کے رفقاء کا انجام بھی بہتر ہوگا۔ قصہ ہود (علیہ السلام) باقوم عاد