Ayahs 11:84–95قصہ شعیب (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ والی مدین اخاھم شعیبا .... الیٰ .... الا بعدا لمدین کما بعدت ثمود۔
(ربط) یہ چھٹا قصہ شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو خطیب الانبیاء کے لقب سے معروف ہیں اور مدین کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ لوگ بڑے سرمایہ دار تھے انکا مذہب یہ تھا کہ ہم اپنے مالوں کے تصرف میں آزاد اور مختار ہیں ( جیسا کہ آج کل کے سرمایہ دار کہتے ہیں) جس طرح چاہیں ان میں تصرف کریں حضرت شعیب (علیہ السلام) یہ فرماتے تھے کہ یہ اموال اگرچہ تمہارے مملوک ہیں مگر تمہاری ملکیت مالک حقیقی کی ملکیت اور اس کے حکم کے ماتحت ہے۔ امانت اور دیانت کے ساتھ اور صحیح کمیل اور وزن کے ساتھ تم اس میں تصرف کرسکتے ہو یہ قوم بت پرستی اور بدکاری کے علاوہ معاملات دنیاوی میں خیانت اور کم تولنے میں مبتلا تھی۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اصحاب مدین کو توحید کی دعوت دی اور شرک اور کم تولنے کی عادت سے توبہ اور استغفار کی نصیحت کی اور کہا کہ مجھ کو ڈر ہے کہ اگر تم نے میرا کہنا نہ مانا تو تم پر اللہ کا عذاب آئیگا اور قوم نوح اور قوم عاد اور قوم ثمود کی طرح ہلاک کر دئیے جاؤ گے۔
جب ان لوگوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا کہنا نہ مانا تو آخری درجہ میں یہ فرمایا اعملوا علیٰ مکانتکم الخ کو خیر ہو تمہارا جی چاہے کرو۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ تم کو کیا رسوائی پہنچنے والی ہے آخر وہی ہوا کہ تھوڑے دنوں میں عذاب آیا آگ برسی اور سب ہلاک ہوگئے۔ چناچہ فرماتے ہیں ہم نے مدین والوں کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا تاکہ یہ اندھے اور بہرے شاید اپنے بھائی کی کچھ سنیں اور دیکھیں۔ مدین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کا نام تھا پھر اس کی اولاد کا بھی یہی نام ہوگیا اور ان لوگوں نے ایک شہر آباد کیا اس کا نام بھی مدین رکھا۔ یہ شہر بحر قلزم کے کنارے پر تبوک کے محاذی اس سے چھ مرحلہ دور واقع ہے اور تبوک سے بڑا ہے اور مدین وہی شہر ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اول مرتبہ مصر سے تنہا نکلے تو اس شہر کے کنوئیں پر ٹھہر کر شعیب (علیہ السلام) کی بکریوں کو پانی پلایا تھا۔ اب آگے شعیب (علیہ السلام) کی تعلیم و تلقین کا حال بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے قوم کو وہ بات بتائی جو سب سے اول اور مقدم فرض ہے۔ شعیب (علیہ السلام) نے ان سے یہ کہا اے میری قوم ! تم صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ توحید اور عبادت یہ تو اللہ تعالیٰ کا حق ہوا۔ اب آگے مخلوق کا حق بتایا جو باہمی معاملات سے متعلق تھا اور نہ کمی کرو تم پیمانے سے ناپنے کی چیزوں میں اور ترازو سے تولنے کی چیزوں میں۔ تحقیق میں تم کو اچھی حالت یعنی نعمت اور تونگری میں دیکھتا ہوں یعنی تم مفلس اور محتاج نہیں کہ اس کی وجہ سے خیانت کرو بلکہ مالدار اور نعمت والے ہو اس کا حق تو یہ ہے کہ لوگ تم سے بہرہ مند ہوں نہ یہ کہ تم دوسروں کے حق میں سے کمی کرو۔ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر کرو۔ اگر زیادہ نہیں تولتے تو کم بھی نہ تولو اور تحقیق میں اس خیانت کی وجہ سے تمہاری نسبت ایسے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں جو تم سب کو گھیرے میں لیے ہوئے ہوگا۔ اس سے قیامت کا عذاب مراد ہے یا دنیوی عذاب ہلاکت مراد ہے۔ یہ تو ناپ تول میں کمی کی ممانعت ہوئی اب آئندہ آیت میں ناپ تول کو پورا کرنے کا حکم اور اس میں تاکید اور مبالغہ ہے اور اے میری قوم انصاف کے ساتھ ماپ اور تول کو پورا کیا کرو۔ ماپ میں پیمانہ کا اوچھا نہ بھرو اور تولنے میں ڈنڈی نہ مارو اور لوگوں کی چیزوں میں ذرہ برابر کمی نہ کرو۔ یعنی کیل اور وزن کی خصوصیت نہیں تمام چیزوں میں عدل و انصاف کو ملحوظ رکھو خواہ کسی قسم کی کوئی چیز ہو اس میں کمی نہ کرو۔ مطلب یہ ہے کہ کسی کے حق میں خیانت نہ کرو۔ ایک ہی بات کو تین مرتبہ دھرانے سے مقصود تاکید ہے مگر ہر مرتبہ نئی عبارت سے ادا کیا گیا ہے جس میں خاص بلاغت ہے اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو یعنی رہزنی نہ کرو۔ یہ لوگ رہزنی بھی کیا کرتے تھے۔ ناپ تول میں ہر حق دار کا حق ادا کرنے کے بعد اللہ کا دیا ہوا حلال مال جو تمہارے پاس باقی رہ جائے اس زیادہ مال سے کہیں زیادہ بہتر ہے جو خیانت کرکے تم حاصل کرو۔ کیونکہ حلال مال میں گو وہ قلیل ہو اس میں خیروبرکت ہے۔ اگر ہو تم یقین رکھنے والے تو سمجھ لو کہ برکت حلال میں ہے۔ حرام میں نہیں۔ میں تمہارا نگہبان نہیں کہ زبردستی تم کو منوا دوں اور نیک راہ پر چلا دوں
من آنچہ شرط بلاغت نا قوی گویم تو خواہ از سخنم پند گیر و خواہ ملال
حکایت کیا جاتا ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) دو قسم پر تھے ایک وہ کہ جن کو جہاد کا حکم ہوا جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ھجرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور بعضے وہ ہیں جن کو جہاد کا حکم نہیں ہوا۔ صرف تبلیغ رسالت ان کے ذمہ تھا۔ شعیب (علیہ السلام) ان ہی میں تھے جن کو جہاد کا حکم نہیں تھا وہ دن بھر قوم کو نصیحت فرماتے اور رات بھر نماز پڑھتے (روح البیان ص 174 ج 4)
قوم مردود کا جواب
قوم کے سردار بو کے اے شعیب (علیہ السلام) ہم نے تمہارا وعظ سن لیا۔ کیا تیری نماز اور عبادت تجھ کو یہ حکم دیتی ہے ہے کہ ہم ان بتوں کو چھوڑ دیں جن کو ہمارے بڑے پوجتے تھے اور سب بتوں کو چھوڑ کر تیرے کہنے سے خالی ایک معبود کے ہو رہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) چونکہ کثیر الصلوٰۃ تھے۔ ان کی قوم ان کو نماز پڑھتا دیکھتی تو بطور تمسخر ان سے یہ کہتی۔ یا ہم اپنے مالوں میں سے حسب منشاء تصرف کو نا چھوڑ دیں۔ ہم اپنے مالوں کے مالک اور مختار ہیں جس طرح چاہیں ان میں تصرف کریں۔ تحقیق تو تو بڑا بردبار اور راہ یاب ہے تو ایسی باتیں کیوں کہتا ہے۔ یہ کہنا ان کا بطور استہزاء اور تمسخر تھا۔ جیسا کہ آج کل کے سرمایہ دارانہ نظام والے بھی یہی کہتے ہیں کہ ہم اپنے سرمایہ کے مالک اور مختار ہیں اور اس کے کمانے اور خرچ کرنے میں آزاد ہیں۔ یہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تقسیم کیسی۔ مطلب یہ تھا کہ اب ہم کو ہمارے حال پر چھوڑ دیجئے اور دغا بازی سے بچنے کا وعظ نہ کہئے۔ شریعت یہ کہتی ہے کہ بیشک تم اپنے مالوں کے مالک ہو مگر ہم تمہارے وجود کے اور تمہارے مالوں کے مالک مطلق اور مالک حقیقی ہیں تم سب ہمارے بندے اور غلام ہو تم اپنی تجارت اور زراعت میں ہمارے نازل کردہ قانون کے پابند ہو جس طرح تمہارا وجود ہمارا عطیہ ہے اسی طرح تمہارے اموال ہمارے عطا کردہ ہیں ہمارے عطاء کردہ اعضاء اور جوارح سے اور ہمارے حکم کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں ہم نے اپنی رحمت اور مہربانی سے یہ کہہ دیا ہے کہ تم ان اموال کے مالک ہو مگر ہماری اس عنایت اور مرحمت کا یہ مطلب نہیں کہ تم ہمارے نازل کردہ قانون شریعت کی حدودو قیود اور اوامرو نواہی سے آزاد ہو کہ خلاف قانون جو چاہو تصرف کرو شریعت شخصی اور انفرادی ملکیت کو برقرار رکھتی ہے۔ اشتراکیت کی طرح شریعت شخصی اور انفرادی ملکیت کی منکر نہیں البتہ اس کی آزادی اور مطلق العنانی کی منکر ہے جس طرح ایک مجازی غلام اور خادم کی تصرف اور تجارتی کاروبار مجازی آقا کے ماتحت ہے۔ اسی طرح سمجھو کہ بندوں کے تمام مالی تصرفات مالک حقیقی اور خداوند حکم الحاکمین کے حکم اور قانون کے ماتحت ہیں۔ ملک کی رعایا، حکومت اور صدر مملکت اور وزرائے سلطنت کی مخلوق نہیں اور اپنی ذاتی قدرت اور اختیار میں اور تجارتی کاروبار میں حکومت کے محتاج نہیں مگر بایں ہمہ ملک کی رعایا۔ قانون حکومت کے ماتحت تصرف کرسکتی ہے۔ اس کے خلاف تصرف نہیں کرسکتی۔ پس جبکہ مجازی اور قانونی حکومت میں رعایا کا تصرف قانون حکومت کے ماتحت ہونا تہذیب اور تمدن کے خلاف نہیں۔ تو خدا کی مخلوق کے تصرف کو خدا کے نازل کردہ قانون شریعت کے ماتحت قرار دینا کیسے خلاف تمدن ہوسکتا ہے۔ آج کل کے سرمایہ داروں کی طرح قوم شعیب (علیہ السلام) بھی یہی کہتی تھی کہ کیا آپ کی نماز ہم کو یہ حکم دیتی ہے۔ کہ ناپ تول میں کمی کرنا چھوڑ دیں اور اپنے مالوں میں حسب منشاء تصرف کرنا چھوڑ دیں۔ ان معزورین اور متکبرین کا جواب یہ ہے کہ ہاں نماز ایسی ہی باتوں کا حکم دیتی ہے۔ ان الصلاۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر۔ (تحقیق نماز فحشاء اور منکرات سے روکتی ہے) اس لیے شعیب (علیہ السلام) کی نماز ان کو آمادہ کرتی تھی کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں۔
شعیب (علیہ السلام) کا قوم کو جواب باصواب
شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا اے میری قوم ! مجھے یہ بتاؤ کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے بصیرت اور روشن دلیل اور حجت پر ہوں۔ یعنی علم اور ہدایت پر ہوں جن کی بنا پر ہم کو نیکی کا حکم دیتا ہوں اور برائی سے منع کرتا ہوں اور مزید برآں اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے پاس سے اچھا رزق یعنی حلال و طیب اور فراخ دیا ہو تو کیا ایسی صورت میں تمہاری جاہلانہ اور احمقانہ باتوں کی وجہ سے حق کی دعوت اور تبلیغ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو چھوڑ دوں اور تم کو بت پرستی اور کیل اور وزن میں کمی کرنے سے منع نہ کروں جبکہ خدا تعالیٰ نے نبوت و رسالت اور حجت واضحہ اور علم و حکمت کی دولت عطا کی جس سے مجھ کو بصیرت اور نور یقین حاصل ہے اور مال حلال و طیب بھی مجھ کو اتنا دیا کہ جس کے بعد مجھ کو مخلوق کی ضرورت نہیں۔ تو مجھ پر تم بیوقوفوں کی طعن آمیز باتوں کا کیا اثر ہوسکتا ہے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ رزق حسن سے نبوت کی نعمت مراد ہے اور میرا یہ ارادہ نہیں کہ جس بات سے تم کو منع کروں اسکے خلاف میں خود کروں۔ مطلب یہ کہ میں ایسا نہیں کہ جن باتوں اور خواہشوں سے تم کو منع کروں خود اس میں داخل ہوجاؤں۔ بلکہ تمہارے لیے وہی بات پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔ جہاں تک مجھ سے ممکن ہے میں سوائے تمہاری اصلاح کے کچھ نہیں چاہتا۔ صرف یہ چاہتا ہوں کہ تمہارے عقائد اور معاملات درست ہوجائیں اور تمہارے اعتقادات اور معاملات سے فسادات دور ہوجائیں۔ اور یہی کمال رشد اور کمال حلم ہے اور نہیں ہے میری توفیق مگر اللہ کی قوت اور طاقت سے یعنی میں اپنی طاقت کے مطابق اصلاح کرنا چاہتا ہوں مگر میری طاقت اللہ کی قوت اور اعانت سے ہے۔ اور اس کی مدد سے ہے۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع ہوتا ہوں۔ حتیٰ کہ توکل اور اصلاح میں بھی اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ ہر کام میں نیت اسی کی کرتا ہوں۔
ترہیب قوم از مخالفت و معاندت
اس مواعظت سراپا حکمت کے بعد شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کو اپنی مخالفت پر عذاب سے ڈراتے ہیں اور اے میری قوم ! تم کو میری دشمنی اور عداوت اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم میری نافرمانی کرو۔ اور پھر تم کو ویسا ہی عذاب پہنچے جیسا کہ قوم نوح کو طوفان پہنچا۔ یا قوم ہود کو ہوا کا طوفان پہنچا جس سے وہ پارہ پارہ ہوئے یا قوم صالح کو زلزلے نے تباہ اور برباد کیا تم ان قوموں کے تاریخی حالات سے بخوبی واقف ہو اگرچہ ان کو کچھ زمانہ گزر گیا ہے۔ تم کو چاہئے کہ ان سے عبرت پکڑو ! اور قوم لوط تو تم سے دور نہیں۔ ان کو تباہ ہوئے کچھ زیادہ نہیں گزرا۔ دیکھ لو کہ پیغمبر کی مخالفت سے تمہارے روبرو کیسے ہلاک ہوئے مطلب یہ ہے کہ اگر گزشتہ امتوں کے حال سے عبرت نہیں پکڑتے تو قوم لوط سے عبرت پکڑو اس قوم کی بستیاں تم سے دور نہیں اور اپنے پروردگار سے اپنے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگو اور آئندہ کے لیے اس کی طرف رجوع کرو یعنی اس کے حکم پر چلو اور کفر و شرک سے توبہ کرو اور ناپ تول میں کمی کو چھوڑو بیشک میرا پروردگار بڑا مہربان ہے۔ استغفار کرنے والوں پر۔ اور بڑا محبت کرنے والا ہے۔ توبہ کرنے والوں سے استغفار سے اللہ کی رحمت اور عنایت نازل ہوتی ہے اور توبہ سے اللہ کی محبت اس پر نازل ہوتی ہے جس کا ثمرہ یہ ہے کہ وہ دنیا اور آخرت میں خدا کا محبوب بن جاتا ہے۔ کما قال تعالیٰ ان اللہ یحب التوابین ویحب المتطھرین۔
قوم کا جواب
قوم کے لوگ جب شعیب (علیہ السلام) کی اس موعظت سراپا حکمت اور تقریر دل پذیر کے جواب سے لاجواب ہوئے تو ازراہ جہالت و عداوت یہ کہنے لگے اے شعیب تیری بہت سی باتیں جو تو کہتا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ یعنی تو جو کہتا ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور شرک اور بت پرستی کو چھوڑو۔ اور ناپ تول میں کمی کرنا چھوڑو۔ تیری یہ باتیں سب تیرے خیالات فاسدہ ہیں قابل توجہ نہیں اور ہم تو تجھے اپنے درمیان کمزور اور ناتواں دیکھتے ہیں تجھ میں کوئی قوت نہیں اور ہم اگر تجھ کو کوئی برائی پہنچانا چاہیں تو کوئی روک نہیں یا یہ مطلب ہے کہ تو ہم میں ایک ذلیل آدمی ہے تیری کچھ عزت نہیں اور اگر تیرا کنبہ نہ ہوتا تو ہم تجھ کو سنگسار کردیتے ہم کو تیرے خاندان اور قبیلہ کی عزت اور حرمت کا پاس ہے جو تجھ کو چھوڑ دیا اور تو ہماری نظروں میں کوئی عزت والا نہیں کہ تیری عزت سنگساری سے مانع بنے۔
شعیب (علیہ السلام) کی طرف سے قوم کی دھمکیوں کا جواب
یہ تو قوم کی دھمکیوں کا ذکر ہوا اور بیوقوفوں کا یہی دستور ہے کہ آیات بینات اور روشن دلائل کے مقابلہ میں دھمکیاں دیا کرتے ہیں۔ اب آگے ان دھمکیوں کے مقابلہ میں شعیب (علیہ السلام) کا جواب ذکر کرتے ہیں۔ جو ان نادانوں کی شفقت سے لبریز ہے۔ اور شعیب (علیہ السلام) کی قلبی سکون اور اطمینان کا آئینہ دار ہے کہ وہ قوم کی دھمکیوں سے ذرہ برابر مرعوب نہ تھے بلکہ وعدہ خداوندی پر مطمئن تھے۔ چناچہ شعیب (علیہ السلام) نے ان کی دھمکیوں کے جواب میں کہا ! اے میری قوم افسوس اور تعجب ہے کہ میری نبوت و رسالت تو میرے رجم سے مانع نہ ہوئی۔ بلکہ میرے قبیلہ اور خاندان کی قوت و شوکت میرے رجم سے تمہارے لئے مانع بنی کیا میری برادری اور میرا کینہ تمہارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزت والا ہے کہ خاندان کا تو پاس کیا اور جس خدا نے مجھ کو رسول بنا کر بھیجا اور سچائی کے نشان مجھے دئیے اس کا پاس نہیں کیا اور اللہ کو یعنی اس کے حکم کو تم نے پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا۔ مگر یاد رکھو کہ عنقریب تم کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ کیونکہ تحقیق میرا پروردگار تمہارے اعمال کو احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تمہارا کوئی عمل اس سے پوشیدہ نہیں تمہارے اعمال کے موافق تم کو جزا دے گا۔ بعد ازاں جب شعیب (علیہ السلام) قوم کی ہدایت سے ناامید ہوئے اور سمجھ گئے کہ ان لوگوں کو عذاب سے ڈرانا بیکار ہے۔ کوئی نصیحت ان پر کارگر نہ ہوئی کیونکہ ان لوگوں کو یقین ہے کہ عذاب کا وعدہ محض دھمکی ہی دھمکی ہے تو اخیر میں یہ فرمایا کہ اچھا اگر تم کو عذاب کا یقین نہیں تو اچھا تم جانو عنقریب پتہ چل جائے گا اور بالآخر ناامید ہو کر یہ کہا اے میری قوم تم اپنی جگہ میں اپنے کام کیے جاؤ میں بھی اپنا کام کرتا ہوں۔ عنقریب تم جان لوگے کہ وہ کون ہے جس پر ایسا عذاب آئے گا۔ جو اس کو ذلیل و خوار کرے گا اور معلوم ہوجائے گا کہ کون ہے جو جھوٹا ہے اس وقت طرفین کی عزت اور ذلت کا فیصلہ ہوجائیگا اور معلوم ہوجائیگا کہ تم جھوٹے ہو یا میں جھوٹا ہوں اور آسمانی فیصلہ کا انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ جس عذاب سے میں تم کو ڈرا رہا ہوں وہ محض دھمکی نہیں بلکہ وہ اتنا قریب آگیا کہ اس کی طرف ٹکٹکی لگا کر انتظار میں بیٹھ جاؤ۔ پس حسب وعدہ چند روز کے بعد عذاب کا سامان شروع ہوا اور جب ہمارا حکم عذاب کے لیے آپہنچا تو ہم نے فریقین میں سے شعیب (علیہ السلام) کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی طرف سے ایک خاص رحمت کے ساتھ عذاب آسمانی سے نجات دی اور ان ظالموں کو جنہوں نے شرک اور معصیت سے اپنی جانوں پر ظلم کر رکھا تھا یکدم ایک سخت آواز نے آپکڑا جس سے یک لخت سب کے دل پھٹ گئے اور ایک دم سب مرگئے۔ جبریل امین (علیہ السلام) نے ایک چیخ ماری جس کی دہشت سے سب کافر مرگئے۔ پس یہ لوگ صبح کے وقت اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل مرے رہ گئے گویا کہ وہ کبھی ان گھروں میں بسے نہ تھے۔ آگاہ ہوجاؤ اور خوب سن لو کہ قوم مدین کو ہلاکت اور پھٹکار ایسی ہوئی جیسا کہ قوم ثمود کو ہوئی تھی۔ چونکہ قوم شعیب اور قوم صالح (یعنی قوم ثمود) ایک ہی عذاب سے ہلاک ہوئے اس لیے فرمایا کہ مدین کی ہلاکت ویسی ہی ہے جیسی ثمود کی ہلاکت ہے۔ تشبیہ اس بات میں ہے کہ دونوں قومیں عذاب صیحہ سے ہلاک ہوئیں۔ فرق صرف اس قدر تھا کہ قوم ثمود نے نیچے کی جانب سے صیحہ (چنگھاڑ) سنی اور ہلاک ہوئی۔ اور قوم مدین نے اوپر کی جانب سے صیحہ (چیخ) سنی اور ہلاک ہوئی۔ نیز مدین کو ثمود کے ساتھ اس لیے بھی ذکر کیا کہ دونوں قوموں کی بستیاں قریب تھیں اور کفر اور رہزنی میں ایک دوسرے کے مشابہ تھیں اور عذاب میں بھی ایک دوسرے کے مشابہ تھیں اور دونوں عرب میں تھے اس اعتبار سے تشبیہ معنوی ہوگئی۔
فائدہ : یہاں قوم شعیب کا صیحہ (چیخ) سے ہلاک ہونا مذکور ہوا اور سورة اعراف میں رجفہ کا لفظ آیا ہے یعنی زلزلہ سے ہلاک ہوئے عجب نہیں کہ ابتداء میں زلزلہ آیا ہو اور پھر چیخ آئی ہو۔
Ayahs 11:96–99قصہ موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا .... الیٰ .... بئس الرفد المرفود۔
(ربط) اب یہ ساتواں قصہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے اور یہ قصہ اس سورت کا آخری قصہ ہے۔ جس میں یہ بتلایا کہ خدا اور رسول کے مقابلہ میں سلطنت اور مال و دولت اور قوت و شوکت کچھ کام نہیں آئی۔ عزت، حق کی اتباع میں ہے اور تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور کھلا غلبہ دیکر بھیجا یعنی معجزات قاہرہ و باہرہ مثل معجزہ عصا۔ اور معجزہ یدبیضا دیکر فرعون اور اس کے ملک کے سرداروں کی طرف بھیجا۔ پس باوجود ان معجزات قاہری اور براہین باہری اور دلائل ظاہرہ کے ان سرکشوں نے پیغمبر خدا ﷺ کا اتباع نہ کیا بلکہ حکم فرعون کے تابع اور پیرو ہوگئے اور فرعون کا کام درست نہ تھا اور جس طرح فرعون دنیا میں ان گمراہوں کا پیشرو بنا اسی طرح وہ قیامت کے دن اپنی تمام قوم کا پیشوا ہوگا۔ اور اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا سو ان کو آگ میں لے جا کر اتارے گا جیسا کہ وہ دنیا میں اس کے آگے تھا۔ اور بحر قلزم میں لے جاکر ان کو غرق کیا اسی طرح قیامت کے دن بھی ان کے آگے آگے ہوگا اور برا گھاٹ ہے جس پر وہ اتارے گئے یعنی آتش دوزخ جس پر ان کو لایا گیا وہ بہت برا گھاٹ ہے۔ اس لیے کہ آدمی گھاٹ پر اس امید پر اترتا ہے کہ وہاں پیاس اور دھوپ کی گرمی دور ہوگی اور آرام و آسائش ملے گی۔ مگر یہاں معاملہ برعکس ہوگا کہ وہاں پانی سے کلیجہ اور جل جائے گا اور پیاس زیادہ ہوجائے گی اور زبان چھاتی پر لٹک پڑے گی اور اس دنیا میں اس قوم کے پیچھے لعنت لگا دی گئی ایسے مغرورین اور متکبرین پر ہر شخص دنیا میں لعنت کرتا ہے اور قیامت کے دن بھی لعنت ان کے پیچھے لگی ہوگی تمام اہل محشر ان پر لعنت کریں گے۔ یہ کتنا برا عطیہ ہے جو ان کو عطاء کیا گیا کہ دنیا اور آخرت میں لعنت ان کے گلے کا ہار بنا دی گئی۔
Ayahs 11:100–102تذکیر عواقب ونیویہ امم ظالمہ برائے عبرت
قال اللہ تعالیٰ ذلک من انباء القری .... الیٰ .... ان اخذہ الیم شدید۔
(ربط) یہاں تک امم ظالمہ کے عبرتناک قصص کا بیان ہوا جن میں کفار کے شبہات اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جوابات کا ذکر تھا اب ان واقعات کے ذکر کرنے کی حکمت بیان کرتے ہیں کہ دیکھ لو کہ کفر و تکذیب کا انجام باعتبار دنیا کے بھی برا ہے اور باعتبار آخرت کے بھی برا ہے جن لوگوں نے انبیاء (علیہ السلام) کا مقابلہ کیا۔ وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے اور ان کی بستیاں تباہ و برباد ہوئیں ان آیات میں کفر و تکذیب کا مقابلہ کیا۔ وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے اور ان کی بستیاں تباہ و برباد ہوئیں ان آیات میں کفر و تکذیب کے دنیوی انجام کو بیان کرتے ہیں تاکہ عبرت پکڑیں اور آئندہ آیت ام فی ذلک لایۃ لمن خاف عذاب الاخرۃ میں کفر و تکذیب کے عذاب اخروی کو بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں اور سمجھیں کہ حق اور صداقت کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ اور اس قسم کے عجیب و غریب واقعات کا بلا تعلیم و تعلم بیان کرنا یہ آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل ہے کیونکہ اس قسم کا علم بدون وحی الٰہی ناممکن اور محال ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں یہ سات ہولناک اور عبرتناک قصے جو ہم نے اس سورت میں بیان کیے ہیں۔ امم سابقہ اور قرون ماضیہ کے بستیوں میں کے چند قصے ہیں جن کو ہم تمہارے سامنے بیان کرتے ہیں تاکہ آپ ﷺ لوگوں کو سنا دیں اور لوگ سن کر عبرت پکڑیں۔ سو بعض بستیاں تو اب بھی ان میں کی باقی اور آباد ہیں۔ اور بعض اجڑ گئیں اور ان نستیوں کو جو ہم نے جو عذاب نازل کرکے برباد کیا۔ سو ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا۔ لیکن انہوں نے کفر کرکے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا کہ کفر و شرک کرکے مستوجب عذاب ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا کہ ان کو بلا قصور ہلاک کردیا ہو بلکہ اول ان کو نصیحت کی۔ اور نافرمانی کے بعد ان کو فورا نہیں پکڑا بلکہ ان کو مہلت دی۔ جب ان لوگوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا اور پیغمبروں کے مقابلہ پر اتر آئے۔ اور کسی طرح اپنے کفر اور عناد سے باز نہ آئے تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کیا۔ سو جب تیرے پروردگار کا حکم آپہنچا تو ان کے معبودوں نے جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے ان کو کچھ نفع نہیں پہنچایا۔ یعنی ان کے معبود ان سے ہمارے عذاب کو نہ ہٹا سکے۔ اور ان کے معبودوں نے ان کے لیے سوائے ہلاکت کے اور کسی بات میں اضافہ نہ کیا۔ یعنی یہ معبود ہی ان کی ہلاکت اور تباہی کا باعث بنے۔ اور تیرے پروردگار کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے۔ جب وہ ظالم بستیوں کو ظلم اور معصیت کے جرم میں پکڑتا ہے۔ بیشک تیرے پروردگار کی پکڑ نہایت دردناک اور سخت ہے صحیحین میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب اس کو پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری وہی ظالمۃ ان اخذہ الیم شدید۔
Ayahs 11:103–109تذکیر عواقب اخرویہ کفر و تکذیب برائے موعظت و نصیحت
قال اللہ تعالیٰ ان فی ذلک لایۃ لمن خاف عذاب الاخرۃ .... الیٰ .... وانا لموفوھم نصیبھم غیر منقوص۔
(ربط) گزشتہ آیت میں کفر و تکذیب کے دنیوی انجام اور دنیاوی ذلت اور رسوائی کی یاد دہانی تھی۔ اب اس آیت میں کفر وتکذیب کے اخروی انجام کا بیان ہے دنیوی ذلت وہلاکت کے ذکر سے موعظت اور نصیحت مقصود ہے عقلمند کو چاہیے کہ پہلے سے اپنے انجام کو سوچ لے قیامت کا دن اللہ کی عدالت کا دن ہے جس میں سعداء اور اشقیاء کی جزاء اور فیصلہ کا بیان ہے کہ اس دن سعداء گا ئز المرام ہونگے اور اشقیاء خائب و خاسر ہونگے۔
جاننا چاہئے کہ ان آیات میں حق جل شانہ نے اہل محشر کی دو قسمیں ذکر فرمائیں ایک سعداء اور اور ایک اشقیاء اور چونکہ مقام تحذیر ہے۔ اس لیے اشقیاء کے ذکر کو سعداء کے ذکر پر مقدم فرمایا۔ اور یہاں ایک تیسری قسم اور بھی ہے جن کے ذکر سے حق جل شانہ نے سکوت فرمایا وہ وہ لوگ ہیں جن کی حسنات اور سیات برابر ہوں گے یا وہ لوگ ہیں کہ جن کے پاس نہ حسنات ہوں گی اور نہ سیات ہونگی جیسے مجانین اور اطفال و صبیان سو یہ تیسری قسم اللہ تعالیٰ کے زیر مشیت ہے۔ قیامت کے دن اللہ جو چاہے گا وہ ان کے درمیان حکم کریگا۔ چونکہ اس قسم کا حکم زیر مشیت خداوندی مستور ہے اس لیے آیت میں اس قسم کا ذکر نہیں فرمایا۔ دو قسم کے ذکر کرنے سے تیسری قسم کی نفی لازم نہیں آتی۔ دو قسموں کا حکم بتلا دیا۔ تیسری قسم کا حکم مخفی رکھا۔ تحقیق اللہ کی اس دردناک گرفت اور پکڑ میں یا ان قصص اور واقعات میں جو ہم نے بیان کیے ہیں۔ عظیم عبرت ہے اس شخص کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو کیونکہ جب وہ یہ دیکھے گا کہ دار ابتلاء میں حق تعالیٰ کی پکڑ اس قدر الیم اور شدید ہے تو دار جزاء میں اس کی پکڑ اور بھی زیادہ سخت ہوگی کیونکہ یہ آخرت کا دن وہ دن ہوگا جس میں اول دنیا سے لیکر آخر دنیا تک تمام لوگوں کو حساب و کتاب کے لیے جمع کیا جائے گا اور یہ وہ دن ہوگا جس میں سب حاضر ہونگے۔ اس دن یہ ممکن نہیں کہ کوئی غائب ہوجائے اور حاضر نہ ہو۔ اس دن سب حاضر ہوں گے اور اس کی ہول کا مشاہدہ کریں گے۔ اور اگر کوئی یہ شبہ کرے کہ آخر وہ دن کب آئے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ ہم نہیں تاخیر کرتے۔ اس دن میں مگر ایک شمار کی ہوئی مدت کے گزر جانے کے لیے جس کا علم سوائے ہمارے کسی کو نہیں۔ جب وہ مدت پوری ہوجائے گی تو اچانک قیامت قائم ہوجائے گی۔ دنیا کی مدت بظاہر اگرچہ طویل ہے مگر آخرت کی مدت کے مقابلہ میں قلیل ہے اس لیے کہ دنیا کی مدت محدود اور متناہی ہے اور آخرت کی مدت غیر محدود اور غیر متناہی ہے اور محدود اور متناہی غیر محدود اور غیر متناہی کے مقابلہ میں بلاشبہ قلیل ہے جب وہ قیامت کا دن آپہنچے گا تو بغیر اجازت خدا وندی کسی کو بولنے کی مجال نہ ہوگی۔ چہ جائیکہ کوئی سفارش کرسکے پس ان تمام جمع شدہ نفوس میں سے بعض تو شقی یعنی بدبخت ہوں گے اور بعض سعید یعنی نیک بخت ہوچکے ہوں گے۔ کما قال تعالیٰ فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر۔ پس ان میں جو لوگ بدبخت ہوچکے ہیں وہ دوزخ میں جائیں گے اور دوزخ میں ان کی حالت یہ ہوگی کہ ان کے لیے گدھے کی اول آواز اور آخر آواز کی طرح چلانا اور دھاڑنا ہے۔ لغت میں ” زفیر “ گدھے کی شروع آواز کہتے ہیں جو سخت ہوتی ہے اور ” شہیق “ گدھے کی پچھلی آواز کو کہتے ہیں جو آہستہ اور کم ہوتی ہے مگر اس میں سانس بہت لمبا ہوتا ہے مطلب یہ ہے کہ شدت کرب و غم اور شدت رنج و الم سے اشقیاء کی جہنم میں یہ حالت ہوگی کہ گدھوں کے مشابہ ہوں گے اور گدھوں کی طرح چیخیں گے اور چنگاڑیں گے ان کی آواز کبھی زفیر ہوگی اور کبھی شہیق ہوگی۔ ہمیشہ اس حال میں رہیں گے جب تک رہیں آسمان اور زمین یہ کلام عرب کے محاورہ کے مطابق ہے کہ عرب جب کسی چیز کو دوام بیان کرنا چاہتے ہیں۔ ما دامت السموات والارض یہ ہمیشہ رہے گا جب تک کہ آسمان اور زمین رہیں اور کہتے ہیں تو زندہ رہے ما اختلف اللیل والنھار جب تک دن رات ایک دوسرے کے پیچھے آتے رہیں اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ یہاں سموات والارض سے جنت کے آسمان اور زمین مراد ہیں۔ کما قال تعالیٰ یوم تبدل الارض غیر الارض والسموات اور آخرت کے آسمان و زمین کے لیے کبھی فنا نہیں۔ جنت کی طرح جنت کے آسمان و زمین بھی ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے بہرحال مطلب یہ ہے کہ کافروں کا جہنم میں رہنا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے کبھی وہاں سے نکالے نہیں جائیں گے اور نہ ان کو وہاں موت اور فنا ہے اور یہی تمام اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ کفار ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ اور جنت کی طرح دوزخ بھی کبھی فنا نہ ہوگی۔ بعض نام نہاد مفسر اور مصنف یہ کہتے ہیں کہ چند روز کے بعد دوزخ فنا ہوجائے گی۔ اور کافروں کے حق میں دوزخ کا عذاب باقی نہ رہے گا اور غلط فہمی یا کوتاہ نظری یا کج طبعی کی بنا پر اس آیت میں جو لفظ الا ما شاء ربک۔ آیا ہے اس کو استدلال میں پیش کرتے ہیں کہ کفار کا عذاب دائمی نہیں۔
یہ خیال سراسر غلط اور باطل ہے اور آیات صریحہ اور احادیث متواترہ اور اجماع سلف و خلف کے خسناف ہے جیسا کہ پارہ ہشتم کے شروع میں النار مثوکم خلدین فیہا الا ما شاء اللہ اس پر مفصل گزر چکا ہے تحقیق مسئلہ کا فرض تو ادا ہوچکا ہے اب بطور نفل اور تطوع کچھ عرض کرتے ہیں اس جگہ حق جل شانہ کا یہ ارشاد الا ما شاء ربک اب ربک فعال لما یرید۔ بعینہٖ حق تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق ہے جو سورة انعام میں گزر چکا ہے۔ النار مثوکم خلدین فیہا الا ما شاء اللہ ان ربک حکیم علیم۔ جن لوگوں کو الا ماشاء ربک کے استثناء سے شبہ لگا ہے کہ کافر ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہیں گے۔ علماء کرام (رح) نے اس کے مختلف جوابات دئیے ہیں۔
جواب اول : یہ ہے کہ ما بمعنی من ہے جیسے فانکحوا ما طاب لکم من النساء۔ اس جگہ لفظ ما بمعنی من ہے اور یہ استثناء باعتبار عصاۃ موحدین یعنی گنہگار مسلمانوں کے اعتبار سے ہے یعنی دوزخ میں رہیں گے مگر جن کو خدا چاہے یعنی گنہگار مسلمانوں کو چند روز کے بعد ملائکہ یا انبیاء کی شفاعت سے یا ارحم الراحمین کی رحمت سے دوزخ سے نکال لیا جائیگا۔ اور پھر انکو جنت میں داخل کردیا جائیگا جیسا کہ احادیث متواترہ سے ثابت ہے اور یہ جواب عبد اللہ بن عباس ؓ اور ضحاک (رح) وغیرہ سے منقول ہے (دیکھو زاد المسیر صفحہ 160 ج 4) اور امام ابن جریر (رح) اور حافظ ابن کثیر (رح) کے نزدیک بھی یہی مختار ہے کہ یہ استثناء گنہگار مسلمانوں کی طرف راجع ہے کیونکہ احادیث متواترہ سے قطعا یہ ثابت ہے کہ اہل توحید ہمیشہ دوزخ میں نہ رہیں گے۔ اگرچہ عاصی ہوں۔
یا یوں کہو کہ اشقیاء کی دو قسمیں ہیں ایک کافر اور دوسرے گنہگار مسلمان فی الجملہ دونوں قسمیں شقی ہیں اور ابتداء دونوں ہی کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا مگر چند روز کے بعد گنہگار مسلمانوں کو جو من وجہ سعید اور من وجہ شقی ہیں۔ وہ خدا تعالیٰ کی رحمت سے یا کسی کی شفاعت سے جہنم سے نکالے جائیں گے اور پہلے قسم کے مشقی یعنی کافر وہ جہنم ہی میں رہیں گے۔ وہ جہنم سے کبھی نہیں نکالے جائیں گے۔ (دیکھو تفسیر ابن کثیر ص 460 ج 4) اور شروع آیت میں واما الذین شقوا۔ کا لفظ آیا ہے اس سے مطلق اشقیاء مراد ہیں خواہ وہ شقی کامل ہوں جیسے کافر اور مشرک یا من وجہ شقی اور من وجہ سعید ہوں جیسے گنہگار مسلمان کہ وہ باعتبار ایمان اور اسلام کے سعید ہے مگر معاصی اور گناہوں کی وجہ سے اس میں شقاوت کی آمیزش آگئی ہے غرض یہ کہ شروع آیت میں اشقیاء سے عام معنی مراد ہیں جو دونوں قسموں کو شامل ہیں اور آخر آیت میں یعنی الا ماشاء ربک میں اشقیاء کی دوسری قسم کا استثناء مراد ہے یعنی عصاۃ موحدین کا استثناء مراد ہے کہ اشقیاء کی یہ قسم ہمیشہ جہنم میں نہ رہے گی بلکہ چند روز بعد اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی رحمت سے جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردی جائے گی یہ لوگ اگرچہ معصیت کی وجہ سے من وجہ شقی ہیں لیکن ایمان اور اسلام کی وجہ سے سعید ہیں اس قسم کے لوگ دوزخ میں ہمیشہ نہ رہیں گے بلکہ بعد چندے نکال لیے جائیں گے بخلاف قسم اول کے یعنی اشقیاء کاملین کے ان سے کافر اور مشرک مراد ہیں وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے وہ کبھی بھی جہنم سے باہر نہ نکلیں گے۔ گنہگار مسلمان اگرچہ معصیت کی وجہ سے من وجہ شقی ہیں لیکن ایمان اور اسلام کی وجہ سے سعید ہیں اس قسم کے لوگ دوزخ میں ہمیشہ نہ رہیں گے بلکہ بعد چندے وہاں سے نکال لیے جائیں گے۔ (دیکھو تفسیر امام قرطبی (رح) تعالیٰ صفحہ 99 ج 9)
جواب دوم : دوسرا جواب وہ ہے جو حضرت شاہ عبد القادر (رح) کے کلام سے مفہوم ہوتا ہے اور وہ بہت عجیب ہے اسکا حاصل یہ ہے کہ الا ما شاء ربک سے یہ بتلانا ہے کہ اہل جنت اور اہل جہنم کا خلود اور دوام مستقل نہیں بلکہ اللہ کی مشیت کے تابع ہے اور یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ ابدیت کسی وقت منقطع ہوجائے گی کیونکہ دوسری نصوص صریحہ و قطعیہ سے یہ امر معلوم ہے کہ حق تعالیٰ کی مشیت جو اہل جنت اور اہل جہنم کے خلود کے متعلق ہے وہ کبھی منقطع نہ ہوگی۔ اور الا ما شاء ربک سے فقط اپنی قدرت کا ظاہر کرنا مقصود ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ خلود لازم نہیں بلکہ ہماری مشیت پر موقوف ہے ہم جب چاہیں اور جس کو چاہیں جہنم سے باہر نکال سکتے ہیں اور آیت کا خاتمہ ان ربک فعال لما یرید بھی اسی طرف مشیر ہے۔
حضرت حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی صاحب تھانوی قدس اللہ سرہ اپنے ایک وعظ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک صحیح اور لطیف جواب وہ ہے جو شاہ عبد القادر صاحب (رح) نے دیا ہے جو ان کے اردو ترجمے سے معلوم ہوتا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ الا ماشاء ربک میں ما مصدر یہ ہے اور یہ مع اپنے مدخول کے ظرف ہے۔ ای الا وقت مشیۂ کما فی قولہ اتیک خفوق النجم ای وقت خفوقہ والمعنی یخلدون فیہا الا ان یشاء ربک عدم خلودھم فینقطع خلودھم اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ وہ مخلد فی النار ہونگے مگر جس وقت خدا ان کے عدم خلود کو چاہے تو ان کا خلود اور دوام منقطع ہوجائے گا رہی یہ بات کہ اس قید کی کیا ضرورت تھی سو اس کا جواب شاہ صاحب (رح) نے دیا ہے کہ اس میں توحید کی حفاظت کی گئی ہے کہ خلود واجب اور خلود ممکن کا فرق ظاہر کردیا گیا تاکہ کوئی خلود کی خبر سن کر بقاء دائم میں واجب الوجود کے شریک ہونے کا گمان نہ کر بیٹھے کہ گو ہم جہنم میں جائیں گے مگر یہ فخر سن کر بقاء دائم میں واجب الوجود کے شریک ہونے کا گمان نہ کر بیٹھے کہ گو ہم جہنم میں جائیں گے مگر فخر تو ہمارے لیے ثابت ہوگیا کہ ہم مثل واجب الوجود کے خلود اور بقاء کے ساتھ متصف ہوجائیں گے۔ اس لیے یہ قید لگا کر یہ بتلا دیا کہ واجب الوجود کا خلود کسی کے مشیت کے تابع نہیں۔ خلود واجب تو ذات واجب کا مقتضائے ذاتی ہے اور ہمارا اور تمہارا سب کا خلود اس کی مشیت کے تابع ہے جب چاہیں اس کو ختم کرسکتے ہیں اور سب کو نکال سکتے ہیں اور جب چاہیں اس کو فنا کرسکتے ہیں اس قید سے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کو طاہر فرمایا۔ دیکھو اجر الصیام من غیر انصرام۔ حصہ دوم وعظ نمبر 63 صفحہ 18 غرض یہ کہ کلمہ الا ما شاء ربک محض اظہار قدرت و مشیت کے لیے ہے خلود عذاب اور دوام عذاب کے انقطاع اور اختتام کے خبر دینے کے لیے نہیں جیسا کہ ان ربک فعال لما یرید۔ سے کمال قدرت و اختیار کا ظاہر کرنا مقصود ہے کہ اگر وہ چاہے تو بلاوجہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عذاب میں رکھ سکتا ہے۔ اور الا ما شاء ربک کا مطلب یہ ہے کہ وہ جس کو چاہے دوزخ سے نکال سکتا ہے اس کو پورا اختیار ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا ہر چیز اس کی مشیت اور ارادہ کے تابع ہے نیز اگلی آیت جو سعداء کے متعلق ہے اس میں بھی یہی الا ما شاء ربک کا استثناء ذکر کیا گیا ہے اور وہاں بالاجماع یہ مراد نہیں کہ اہل جنت کا خلود کسی وقت منقطع ہوجائیگا اور پھر اس کے متصل غیر مجذوذ کا لفظ اضافہ فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایسی عطاء ہے کہ جس کا کبھی انقطاع نہیں۔ پس اگر اما ماشاء ربک کا لفظ انقطاع اور اختتام کے بیان کرنے کے لئے ہوتا تو دوسری آیت میں الا ماشاء ربک کے فورا بعد عطاء غیر مجذوذ کہنا صریح اس کے مخالف اور مناقض ہوتا اور اللہ کا کلام اختلاف اور تناقض سے پاک اور منزہ ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ جنتیوں اور دوزخیوں کا خلود اس کی مشیت اور اختیار سے ہے۔ لیکن اللہ چاہ چکا کہ کفار و مشرکین کا عذاب تو کبھی موقوف اور منقطع نہ ہوگا اور اہل جنت کا ثواب بھی کبھی موقوف نہ ہوگا البتہ جو گناہ گار مسلمان ہیں وہ چند روز کے بعد دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کردیئے جائیں گے۔
تتمہ : اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ الا ما شاء ربک۔ کے معنی یہ ہیں۔ مگر یہ کہ تیرا رب ان کو گرم دوزخ سے نکال کر زمہریر یعنی جہنم کے سرد طبقہ میں ڈال دے مطلب یہ ہے کہ عذاب بدل تو جائے گا مگر دوزخ سے رہائی کبھی نہ ہوگی۔
اور رہ گئے وہ لوگ کہ جو سعید اور نیک بخت ہیں۔ سو وہ جنت میں ہونگے اور ہمیشہ جنت میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم رہیں ہاں مگر جو تیرا پروردگار چاہے سو اس کی مشیت کا علم اسی کو ہے مگر اہل جنت کو یہ بتلائے دیتے ہیں کہ یہ جنتیوں کا جنت میں رہنا عطاء خداوندی ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگی معلوم ہوا کہ جنتیوں کا خلود کبھی منقطع نہ ہوگی معلوم ہوا کہ جنتیوں کا خلود کبھی منقطع نہ ہوگا یہ آیت سعداء اور اہل جنت کے متعلق ہے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے الا ماشاء ربک۔ سے اپنی مشیت کو بیان کیا اور اس آیت یعنی عطاء غیر مجذوذ میں یہ بتلایا کہ جنتیوں کا جنت میں رہنا اللہ کی عطاء ہے جو کبھی بند نہ ہوگی ہمیشہ جاری رہے گی گزشتہ آیت اشقیاء کے متعلق تھی۔ اور یہ آیت سعداء کے متعلق ہے اور دونوں جگہ الا ما شاء ربک کا استثناء مذکور ہے اور اہل جنت کے بارے میں جو استثناء مذکور ہے وہاں بالاجماع یہ مراد نہیں کہ اہل جنت کا خلود کسی وقت منقطع ہوجائیگا۔ کیونکہ اس استثناء کے بعد خود اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لیے بقاء اور دوام کی تصریح فرما دی ہے چناچہ صراحۃً فرما دیا عطاء غیر مجذوذ یعنی اس نعمت کا کبھی انقطاع نہ ہوگا۔ معلوم ہوا کہ الا ما شاء ربک۔ کے استثناء کا یہ مطلب نہیں کہ سعداء اور اشقیاء کا ثواب اور عقاب ابدی نہیں بلکہ یہ استثناء محض اظہار قدرت کے لیے ہے اور مطلب یہ ہے، مگر اللہ تعالیٰ جو چاہے کرے جنت اور جہنم میں کسی کا قیام اور خلود اور دوام بذات خود کوئی امر واجب نہیں بلکہ مشیت الٰہی کے سپرد ہے اشقیاء کے بارے میں استثناء کو ذکر کرکے صرف اپنی مشیت کو بتلا دیا کہ معاملہ اللہ کی مشیت کے سپرد ہے مگر صراحۃً اپنی مشیت کو بیان نہیں فرمایا کہ وہ کیا ہے اور ہم کو اپنی مشیت سے آگاہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا کیا ارادہ ہے اور وہ ان کے حق میں کیا چاہتا ہے مگر سعداء کے حق میں اول اظہار قوت کے لیے اللہ نے اپنی مشیت کا ذکر فرمایا یعنی الا ماشاء ربک فرمایا بعد ازاں اس کے متصل عطاء غیر مجذوذ کا لفظ ذکر کرکے اپنی مشیت کو بیان کردیا کہ اہل جنت کے بارے میں اللہ کی مشیت کیا ہے وہ یہ کہ جو خلود اور دوام کی ان کو بشارت دی گئی ہے وہ عطاء خداوندی ہے جو ان سے واپس نہیں لی جائے گی اور گزشتہ آیت میں الا ما شاء ربک۔ سے اول تو یہ بتلا یا کہ دوزخیوں کا خلود اور دوام اس کی مشیت پر ہے اور پھر اسی کی تاکید کے لیے ان ربک فعال لما یرید۔ فرمایا غرض یہ کہ الا ما شاء ربک۔ کا استثناء اہل جنت اور اہل جہنم دونوں کے ساتھ ذکر فرمایا مگر پہلی آیت میں استثناء کے بعد ان ربک فعال لما یرید۔ ذکر فرمایا اور دوسری آیت میں استثناء کے بعد عطاء غیر مجذوذ فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد خروج نہیں البتہ جہنم میں داخل ہونے کے بعد کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جو ارحم الراحمین کی رحمت سے اور انبیاء ومرسلین (علیہ السلام) کی شفاعت سے جہنم سے نکال لیے جائیں گے اور وہ عصاۃ مومنین یعنی گناہ گار مسلمان ہونگے اور ان کے علاوہ کفار و مشرکین کا عذاب دائمی اور ابدی ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگا جیسا کہ بیشمار آیات اور بیشمار اخبار اور آثار سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ کافروں کا عذاب دائمی اور ابدی ہے۔ اور اسی پر صحابہ ؓ وتابعین ؓ اور تمام سلف (رح) اور خلف (رح) کا اجماع ہے جس میں تاویل کی بھی گنجائش نہیں ابن تیمیہ اور ابن قیم نے دیگر مسائل کی طرح اس مسئلہ میں بھی تفرد اور شذوذ کی راہ اختیار کی ہے اور آیات صریحہ اور احادیث صحیحہ متواترہ سے ہٹ کر ایک موضوع یا غایت درجہ ضعیف روایت کی آڑ لیکر یہ دعویٰ کیا ہے کہ دوزخ چند روز کے بعد فنا ہوجائے گی۔ اور کافروں کا عذاب ختم ہوجائے گا۔ سبحان اللہ سبحان اللہ اگر کافر اور مشرک کی بھی نجات ہوسکتی ہے تو پھر ایمان اور اسلام ہی کی کیا ضرورت رہی خوب مزہ سے کفر اور شرک کرو یہودی بنو یا نصرانی بنو یا دھری بنو اور دل کھول کر جو چاہے فسق و فجور کرو تو بہ کی بھی ضرورت نہیں امید لگائے رکھو کہ دوزخ پر ایک دن ایسا آئے گا کہ دوزخ خالی ہوجائے گی اور اس میں کوئی باقی نہ رہے گا اور اس کے دروازے کھڑ کھڑ کریں گے۔ کہتے ہیں کہ یہ مضمون عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث میں آیا ہے۔ ابن جوزی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے میں کہتا ہوں کہ اگر بالفرض موضوع بھی نہ ہو تو اس کے ضعیف ہونے میں کوئی شبہ ہی نہیں اور پارہ ہشتم کے شروع میں ہم ان آیات اور احادیث کو بیان کرچکے ہیں جن سے صراحۃً یہ ثابت ہے کہ کافروں کا عذاب دائمی اور ابدی ہے تو ایک ضعیف و موضوع روایت کو آیات صریحہ اور احادیث صحیحہ متواترہ کے مقابلہ میں پیش کرنا علمی امانت و دیانت کی سراسر خلاف ہے اور علیٰ ہذا ابن قیم نے جن صحابہ اور تابعین کے چند نام جو نقل کیے ہیں ان کی روایت بھی صحیح نہیں اور صریح بھی نہیں اور اگر تھوڑی دیر کے لیے ہم اس حدیث کو اور ان آثار کو بھی تسلیم کرلیں تو اس کا مطلب وہ ہے جو علماء کرام اور محدثین عظام نے بیان کیا ہے کہ اس حدیث میں جہنم کا وہ طبقہ مراد ہے کہ جس میں گناہ گار مسلمان رکھے جائیں گے اور جب انبیاء (علیہ السلام) اور ملائکہ (علیہ السلام) کی شفاعت سے یا ارحم الراحمین کی رحمت سے دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کر دئیے جائیں گے تو جہنم کا یہ طبقہ خالی رہ جائے گا اور جہنم کے جو طبقے کافروں کے لیے ہیں وہ بدستور بھرے رہیں گے اور ان میں سے کوئی کافر نہیں نکل سکے گا۔ (تفسیر مظہری صفحہ 55 ج 5)
اور معاذ اللہ معاذ اللہ یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دوزخ کسی وقت کافروں اور مشرکوں سے خالی ہوجائے گی ذرا غور تو کرو کہ اگر بغیر ایمان اور اسلام کے اور باوجود کفر اور تکذیب کے عذاب دوزخ سے نجات ہوسکتی ہے تو پھر انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بعثت اور کفار کی ہلاکت سے کیا فائدہ ہوا بالآخر جب کافر بھی عذاب دوزخ سے نجات پاسکتا ہے تو پھر اس ہنگامہ کی کیا ضرورت تھی کہ انبیاء (علیہ السلام) کو کافروں کے مقابلہ میں مبعوث فرمایا اور جن لوگوں نے کفر کیا ان میں سے کسی کو طافون سے ہلاک کیا اور کسی کو دریا میں غرق کیا اور کسی کو زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو بندر اور سور بنایا وغیرہ وغیرہ یہ سب بےکار اور بےفائدہ تھا نجات کافر کے عقیدے سے تو تمام شرائع و ملل کا باطل ہونا لازم آتا ہے۔ اے اللہ تو ہم کو ایمان پر رکھ۔ آمین۔ اور اس زمانے کے آزاد اور بےلگام مصنفین کے پر فریب فتنہ سے مسلمانوں کو محفوظ رکھ۔ آمین
پس اے نبی کریم ﷺ جب سعداء اور اشقیاء کا فرق واضح ہوگیا تو آپ ﷺ ان معبودوں کے باطل ہونے میں شک نہ کیجئے جن کو یہ لوگ پوجتے ہیں۔ بظاہر خطاب آنحضرت ﷺ کو ہے مگر درحقیقت مخاطب امت ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان بت پرستوں کی گمراہی میں شک نہ کرو نہیں عبادت کرتے یہ لوگ مگر جیسے ان کے آباؤاجداد پہلے سے بےدلیل بلکہ خلاف دلیل بتوں کی پرستش کرتے آئے اسی طرح یہ لوگ بھی بلا دلیل باطل کے پیچھے جا رہے ہیں۔ یہ بت پرستی اور گمراہی ان کو باپ دادا سے بطور میراث ملی ہے اور بیشک ہم ان کو عذاب سے انکا پورا حصہ دینے والے ہیں جس میں کمی نہیں کی جائے گی بلاکم وکاست ان کے جرم کے مطابق ان کو عذاب ملے گا۔
موعظت حسنہ
امام بلخی (رح) سے منقول ہے کہ سعادت کی پانچ نشانیاں ہیں۔ اول دل کی نرمی۔ دوم اللہ کے خوف سے بہت رونا۔ سوم آرزو کا تھوڑا ہونا۔ چہارم دنیا سے نفرت۔ پنجم اللہ کے سامنے شرمندہ رہنا۔ اور علی ہذا شقاوت کی بھی پانچ نشانیاں ہیں۔
اول دل کی سختی۔ دوم آنکھوں کی خشکی۔ سوم دنیا کی رغبت۔ چہارم آرزو کا زیادہ ہونا۔ پنجم بےحیائی۔