11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 11:110–115

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور وہ تو اس سے قوی شبہ میں (پڑے ہوئے) ہیں۔

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار ان سب کو (قیامت کے دن) انکے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیگا۔ بیشک جو عمل یہ کرتے ہیں وہ اس سے واقف ہے۔

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

سو (اے پیغمبر) جیسا تم کو حکم ہوتا ہے (اس پر) تم اور جو لوگ تمہارے ساتھ تائب ہوئے ہیں قائم رہو۔ وہ تمہارے (سب) اعمال کو دیکھ رہا ہے۔

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور جو لوگ ظالم ہیں انکی طرف مائل نہ ہونا نہیں تو تمہیں (دوزخ کی) آگ آ لپٹے گی۔ اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں (اگر تم ظالموں کی طرف مائل ہوگئے) تو پھر تم کو (کہیں سے) مدد نہ مل سکے گی۔

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور دن کے دونوں سروں (یعنی صبح و شام) کے اوقات میں اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ ان کے لئے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنیوالے ہیں۔

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کئے رہو کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

تحذیر از اختلاف وافتراق وحکم استقامت براحکام شریعت قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتب فاختلف فیہ .... الیٰ .... فان اللہ لا یضیع اجر المحسنین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اب ان آیات میں یہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عنایت کی مگر لوگوں نے اس میں اختلاف کیا کسی نے مانا اور کسی نے نہ مانا اور مورد عتاب الٰہی بنے۔ لہٰذا اے مسلمانو ! تم کو چاہئے کہ ان سے عبرت پکڑو اور جو کتاب مبین ہم نے تم کو دی ہے سب مل کر اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور تفرق اور اختلاف سے پرہیز رکھو اور جادہ شریعت پر ایسے مستقیم ہوجاؤ کہ پائے استقامت میں تزلزل نہ آنے پائے اور کما امرت کے لفظ میں اشارہ اس طرف ہے کہ سرموحکم سے عدولی نہ ہو حکم کے مطابق اطاعت ہو اور ولا تطغوا کے لفظ میں اشارہ اس طرف ہے کہ حدود شریعت سے باہر نہ جاؤ اور ولا ترکنوا الی الذین ظلموا۔ میں اشارہ اس طرف ہے کہ بےدینوں کی شان و شوکت دیکھ کر ان کی طرف مائل نہ ہوجانا اور ان کی رسوم اور ان کے طور و طریق اور معاشرہ کو اختیار نہ کرنا اور پھر استقامت کے حکم کے ساتھ بعض مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کا حکم دیا جو استقامت میں معین اور مددگار ہیں خاص کر تواضع اور اہل دنیا سے کنارہ کشی استقامت میں بڑی معین اور مددگار ہے اس لیے کہ لاتطغوا میں تواضع کی طرف اشارہ ہے۔ اور لا ترکنوا الی الذین ظلموا میں اہل دنیا اور فساق و فجار سے علیحدہ رہنا مراد ہے اور نماز جو ام العبادات ہے وہ تو مومن کی معراج ہے جس کا واقم الصلوٰۃ طرفی النھار۔ میں حکم دیا گیا اور طرفین نہار کے نماز سے صبح اور عصر کی نماز مراد ہے جس میں ملائکہ اللیل والنہار جمع ہوتے ہیں۔ صبح کی نماز شروع ان میں ہوئی ہے اور عصر کی نماز اخیر دن میں ہوتی ہے اسی وجہ سے امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ بہتر یہ ہے کہ صبح کی نماز اندھیرے میں نہ پڑھے بلکہ جب خوب روشنی ہوجائے اور عصر کی نماز اخیردن میں غروب سے پہلے پڑھے جبکہ سایہ اصلی کے سوا ہر چیز کا سایہ دو چند ہوجائے اور زلفا من الیل سے تہجد کی نماز مراد ہے۔ یہ مجموعہ مل کر پانچ امور ہوئے (1) استقامت (2) لا تطغوا (3) لا ترکنوا (4) مداومت بر نماز فجر و عصر (5) نماز تہجد جس کے فضائل و برکات کی کوئی حد نہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ حکم خداوندی کا اتباع موجب نجات ہے اور حکم خداوندی سے اختلاف اور انحراف موجب ہلاکت ہے چناچہ فرماتے ہیں اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی سو اس میں اختلاف کیا گیا۔ کسی نے مانا اور کسی نے نہ مانا بعینہٖ یہی معاملہ آپ ﷺ کی کتاب یعنی قرآن کے ساتھ پیش آیا۔ پس آپ ﷺ مغموم نہ ہوں اور کافروں کے اختلاف اور تکذیب سے گھبرائیں نہیں یہ کوئی نئی بات نہیں آپ ﷺ سے اختلاف کو نیوالے فرعونیوں کے حکم میں ہیں اور اگر حکم ازلی تیرے پروردگار کی طرف سے صادر نہ ہوچکا ہوتا کہ کافروں کو پوری سزا آخرت میں دی جائے گی۔ ابھی دنیا ہی میں انکا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور بلا کسی تاخیر اور مہلت کے عذاب نازل کرکے انکا فیصلہ کردیا جاتا مگر اللہ نے اپنی حکمت سے ان کے عذاب کے لیے ایک میعاد مقرر کردی ہے اور تحقیق یہ معاندین اللہ کے فیصلہ سے شک میں پڑے ہوئے ہیں جس نے ان کو قلق اور اضطراب میں ڈال رکھا ہے شکوک اور اوہام کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اور پراگندہ دل میں اور بعض کہتے ہیں کہ منہ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے کہ قرآن کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں کبھی کہتے ہیں جادو ہے اور کبھی کچھ اور کبھی کچھ۔ کسی ایک بات پر ان کو قرار نہیں اور تحقیق تیرا پروردگار ان سب کو ان کے اعمال کی پوری پوری جزا دیگا نیکو کار کو ثواب اور بدکار کو عذاب بیشک اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے پورا باخبر ہے اس پر انکا کوئی عمل دخل مخفی نہیں پس آپ ﷺ ان نابکاروں کی جزاوسزا کا معاملہ تو اس علیم و قدیر پر چھوڑئیے۔ بہمہ کاربندہ دانا اوست بمکافات ہم توانا اوست لوگ حق کو قبول کریں یا نہ کریں۔ آپ اپنی ذات سے صراط مستقیم اوردین حق پرسیدھے قائم رہیئے جیسا کہ آپ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے اور جن لوگوں نے آپ ﷺ کے ہمراہ توبہ کی ہے وہ بھی آپ ﷺ کی طرح صراط مستقیم پر قائم ہوجائیں تاکہ منزل مقصود تک پہنچ جائیں استقامت کے معنی کسی چیز پر ٹھیک جم جانے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جادہ اطاعت و محبت پر قدم کو ایسا جماؤ کہ اس میں کسی قسم کا تزلزل اور تذیذب باقی نہ رہے اور یہ حکم وقائد اور اعمال دونوں کو شامل ہے۔ عقائد میں استقامت یہ ہے کہ نہ تو مجسمہ کی طرح تشبیہ کا اعتقاد رکھے کہ جس سے خالق کی مخلوق کے ساتھ مشابہت لازم آئے اور نہ فلاسفہ کی طرف تعطیل کا قائل ہو کہ خدا تعالیٰ کو صفات کمالیہ سے عاری اور معطل جانے اور اعمال میں اعتدال کو ملحوظ رکھے افراط وتفریط نہ کرے اور ٹھیک درمیان میں چلنا اور کسی جانب ملتفت نہ ہونا اور حق اطاعت کو پورا پورا بجالانا بہت دشوار ہے اور اسی بناء پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سورة ہود نے مجھ کو بوڑھا بنا دیا اس لیے کہ استقامت نہایت سخت اور دشوار ہے اور جو خود تمہارے لیے مقرر کردی گئی ہے اس سے تجاوز نہ کرو۔ مطلب یہ ہے کہ دین کے دائرہ سے باہر قدم نہ نکالو تحقیق اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ تمہاری اطاعت اور استقامت اور تمہارا عصیان اور طغیان اس کی نظروں کے سامنے ہے اور ظالموں یعنی حد سے نکلنے والوں کی طرف جھکو بھی مت تو عصیان اور طغیان تو بڑی چیز ہے۔ ظالموں اور فاسقوں کی طرف تو تھوڑا سا میلان اور جھکاؤ بھی بہت برا ہے۔ اور خطرناک ہے کیوں کہ اندیشہ ہے کہ ظالموں اور نافرمانوں کی طرف میلان اور رغبت کی بناء پر تم کو دوزخ کی آگ نہ لگ جائے اور ان کے ساتھ تم بھی آگ کی لپیٹ میں نہ آجاؤ ظالموں کی طرف میلان کے معنی یہ ہیں کہ ان کے طور و طریق اور ان کے حال اور وضع کو پسند کرنے لگے جیسے کوئی انگریزی یا ہندوانی وضع قطع اختیار کرلے تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اس کو کافروں کی وضع پسند ہے اور جب ظالموں کی طرف جھکنے والوں کا یہ حال ہے تو سمجھ لو کہ خود ظالم کا کیا حال ہوگا پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے استقامت کا حکم دیا دوسری آیت میں طغیان کی ممانعت فرمائی اور تیسری آیت میں طغیان اور اہل عصیان کی طرف میلان کی ممانعت فرمائی اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت پر ظاہرا و باطنا ٹھیک قائم رہو اور حدود شریعت سے باہر قدم نہ نکالو اور کسی ظالم اور نافرمان کی طرف جھکو بھی نہیں اندیشہ ہے کہ وہ تم کو کھینچتے کھینچتے دین کے دائرہ سے باہر نہ نکال دیں اور خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی تمہارا مددگار نہیں پھر اگر تم ان ظالموں کی طرف مائل ہوئے تو سمجھ لو کہ تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔ خدا ان لوگوں کی مدد نہیں کرتا جو اس کے دشمنوں اور نافرمانوں کی طرف مائل اور راغب ہوں اور اے بندے ! تو ان ظالموں کو چھوڑ اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوجا اور دن کے دونوں سروں میں فجر اور عصر کی نماز اور کچھ رات گئے تہجد کی نماز پابندی سے پڑھا کر اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت اور میلان کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔ خاص کر فجر اور عصر اور تہجد کی نمازیں یہ اوقات خدا تعالیٰ کے خاص انوار و تجلیات کے اوقات ہیں بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کرتی ہیں۔ کیونکہ نیکی نور ہے اور برائی ظلمت ہے اور ظاہر ہے کہ جب نور آئے گا تو ظلمت اور تاریکی دور ہوگی جس درجہ کا نور ہوگا اسی قدر تاریکی دور ہوگی اور خوب سمجھ لو کہ یہ بات کہ نیکیوں سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ ایک جامع نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کے لیے کیوں کہ اس میں قاعدہ کلیہ بتلا دیا گیا کہ نیکیاں گناہوں کا کفارہ ہوتی ہیں اور نیکیوں میں نمبر اول نماز کا ہے۔ اور چوں کہ استقامت نہایت سخت اور دشوار ہے۔ اور طغیان اور ظالموں کی طرف میلان سے اپنے کو محفوظ رکھنا یہ بھی نفس پر شاق اور گراں ہے اور نماز بھی نفس پر شاق اور گراں ہے اس لیے ان سب احکام کے بعد صبر کا حکم دیتے ہیں کیونکہ الصبر مفتاح الفرج صبر کی کامیابی کی کنجی ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے بندے ! تمام اوامر اور نواہی میں عموما اور استقامت میں اور طغیان اور میلان سے بچنے میں خصوصا صبر سے کام لے کیونکہ صبر تمام نیکیوں کی جڑ ہے پس تحقیق اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ظاہر کلام کا مقتضیٰ یہ تھا کہ اس طرح فرماتے فان اللہ لایضیع اجر الصابرین۔ مگر بجائے اس کے فان اللہ لایضیع اجر المحسنین۔ فرمایا اشارہ اس طرف ہے کہ صبر بھی حسنات میں سے ہے یا یوں کہو کہ نماز کے بعد صبر کا ذکر اس لیے کیا کہ اللہ کی مدد حاصل کرنے میں دو چیزوں کو خاص دخل ہے ایک نماز اور ایک صبر کما قال تعالیٰ واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ۔
Ayahs 11:116–119

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

جو امتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں ان میں ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے ؟ ہاں (ایسے) تھوڑے سے (تھے) جن کو ہم نے ان میں سے مخلصی بخشی۔ اور جو ظالم تھے وہ انہی باتوں کے پیچھے لگے رہے جن میں عیش و آرام تھا اور وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو جبکہ وہاں کے باشندے نیکوکار ہوں ازراہ ظلم تباہ کردے۔

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے۔

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

مگر جن پر تمہارا پروردگار رحم کرے۔ اور اسی لئے اس نے انکو پیدا کیا ہے۔ اور تمہارے پروردگار کا قول پورا ہوگیا کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔

امم سابقہ کی ہلاکت کے سبب قریب اور سبب بعید کا بیان قال اللہ تعالیٰ فلولا کان من القرون .... الیٰ .... من الجنۃ والناس اجمعین۔ (ربط) پچھلی امتوں کا حال سنا کر یہ بتلاتے ہیں کہ ان کی ہلاکت کے دو سبب ہیں ایک سبب قریب اور ایک سبب بعید اور بالفاظ دیگر ایک سبب ظاہری اور ایک سبب باطنی۔ سبب ظاہری تو یہ تھا کہ شہوات نفسانی اور حظوظ شہوانی کے پیرو بن گئے۔ اور خدا کی معصیت میں غرق ہوگئے اور علماء اور واعظین قلیل اور مغلوب تھے ان کا وعظ اور ان کی نصیحت کارگر نہ ہوئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے جو معدد دے چند تھے وہ تو عذاب سے محفوظ رہے اور باقی قوم جو غرق معصیت تھی وہ سب تباہ ہوگئی۔ شاہ عبد القادر (رح) لکھتے ہیں ” کہ اگر نیک لوگ غالب ہوتے تو قوم ہلاک نہ ہوتی تھوڑے تھے سو آپ بچ گئے اور سبب باطنی یہ تھا کہ اللہ کا ارادہ اور اس کی مشیت اور اس کی حکمت بھی تھی کہ سب لوگ ایک راہ پر نہ چلیں بلکہ مختلف رہیں کچھ ایمان لائیں جن پر اللہ کی رحمت ہو اور کچھ کفر کریں جن پر اللہ کا قہر نازل ہو “۔ امم سابقہ کی معصیت اور ان کا فسق و فجور، ان کی ہلاکت کا سبب ظاہری تھا۔ اور قضاء و قدر اور مشیت خداوندی اس کا سبب باطنی تھا جو لوگوں کی نطروں سے پوشیدہ ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ پس کیوں نہ ہوئے پہلی امتوں میں سے جن کو ہم نے نافرمانی اور سرکشی کے باعث ہلاک کیا۔ ایسے ذی رائے اور صاحب عقل لوگ جو لوگوں کو زمین میں فساد کرنے سے یعنی کفر و معصیت کرنے سے منع کرتے تاکہ ان پر عذاب نہ آئے لیکن تھوڑے لوگ ایسے تھے جو لوگوں کو کفر اور شرک اور بد اعمالی سے منع کرتے تھے مگر وہ مغلوب تھے قوم کے لوگ انکا کہنا نہیں مانتے تھے قوم میں سے ہم نے ان کو عذاب سے بچا لیا کیونکہ یہ قلیل افراد لوگوں کو کفر اور شرک اور معصیت کے فتنہ اور فساد سے منع کرتے تھے۔ یہ تو عذاب سے بچ گئے اور باقی قوم تباہ ہوگئی اور جو لوگ ظالم تھے وہ اس راہ کو لگ لئے جس میں عیش و عشرت کا سامان تھا یعنی وہ لذات و شہوات کے پیچھے دوڑ پڑے اور عذاب الٰہی سے تباہ ہوئے اور تھے یہ لوگ بڑے ہی مجرم۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ ” گزشتہ قرون میں ایسے بقایا اہل خیر کیوں نہ ہوئے کہ جو لوگوں کو ثرور اور منکرات سے نہی کرتے۔ ہاں ایسے لوگ قلیل ہوئے ہیں۔ انہی کو اللہ نے اپنے عذاب سے بچا لیا لہٰذا اللہ نے اس امت کو حکم دیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرئیے۔ کما قال تعالیٰ ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر الایۃ۔ پھر فرمایا کہ ظالم معاصی پر مستمر رہے اور انہوں نے کچھ التفات نہ کیا یہاں تک کہ ناگہاں ان پر عذاب آگیا “ آہ آگے فرماتے ہیں اور نہیں ہے۔ تیرا پروردگار کہ بستیوں کو ظلم کے ساتھ ہلاک کرے۔ یعنی بلاوجہ اور بلا جرم ان کو ہلاک کرے اور درآنحالیکہ وہاں کے باشندے نیکو کار ہوں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کسی کو زبردستی پکڑ کر ہلاک نہیں کرتا۔ درآنحالیکہ وہاں کے باشندے اپنی حالت کے درست کرنے کی طرف متوجہ ہوں نیکی کو رواج دیتے ہوں اور ظلم اور فساد کو روکتے ہوں یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہوں تو خداوند قدس ایسی حالت میں کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کا عذاب قریہ ظالمہ پر آتا ہے۔ قریہ مصلحہ پر نہیں آتا۔ کما قال تعالیٰ وما ظلمنھم و لکن ظلموا انفسھم الآیۃ آیت کی یہ تفسیر عبد اللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے۔ (دیکھو زاد المسیر ص 171 ج 4) اور ابن جریر (رح) یہ کہتے ہیں آیت میں ظلم سے شرک مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ محض شرک کی وجہ سے کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا درآنحالیکہ وہاں کے باشندوں کے باہمی معاملات درست ہوں محض شرک کی وجہ سے بستی پر ایسا عذاب نہیں آتا کہ جس سے بستی بالکل تباہ ہوجائے۔ بلکہ ایسا عذاب اس وقت آتا ہے کہ جب لوگ باہم ایک دوسرے پر ظلم اور زیادتی کرنے لگیں۔ پس جن قوموں پر عذاب نازل ہوا وہ محض شرک کی وجہ سے نازل نہیں ہوا بلکہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب اور تمسخر اور قتل ناحق اور ایزاء رسانی اور اہل ایمان پر ظلم و ستم کی وجہ سے آیا اللہ تعالیٰ اپنے حق میں چشم پوشی کرتا ہے اور حقوق العباد میں سختی کرتا ہے اور کفر اور شرک پر جو عذاب شدید و الیم ہوگا وہ آخرت میں ہوگا۔ اور حافظ ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں آیت کا وہی مطلب اختیار کیا جس کو ہم نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا اور جلال الدین سیوطی (رح) نے جلالین میں اور قاضی ثناء اللہ (رح) نے بھی تفسیر مظہری ص 66 ج 5 میں اسی تفسیر کو اختیار کیا اور شاہ عبد القادر (رح) نے بھی اسی تفسیر کو اختیار کیا اور ابن عطیہ (رح) نے بھی اسی کو اختیار کیا اسی لیے میرے نزدیک بھی راجح قول اول ہے اس لیے کہ کفر اور شرک سے بڑھ کر کوئی جرم اور ظلم نہیں اور ایمان سے بڑھ کر کوئی صلاح اور خیر نہیں۔ عذاب کی اصل علت کفر اور شرک ہے اور نجات کا سبب اصل ایمان اور اتباع شریعت ہے اور اے نبی ﷺ ! اگر تیرا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی دین پر کردیتا۔ لیکن اللہ کی حکمت تکوینی اس کی مقتضی نہیں۔ کہ سب کو ایک ہی راہ پر ڈال دے۔ تکوین عالم سے اس کا مقصود یہ ہے کہ اس کی صفات جمالیہ اور صفات جلالیہ دونوں ہی کا ظہور ہو۔ اس لیے مظاہر کا مختلف ہونا ضروری ہو اپس جنت اور اہل ایمان کو اپنے لطف و جمال اور جو دو نوال کا مظہر بنایا اور دوزخ کو اور اہل کفر کو صفت جلال اور شان قہر کا مظہر بنایا۔ درکا خانہ عشق از کفر ناگزیراست دوزخ کرا بسوزد گر بولہب نبا شد اور لوگ ہمیشہ مختلف رہیں گے۔ کوئی دین حق کو قبول کرے گا اور کوئی نہیں۔ مگر جس پر تیرا پروردگار رحم کرے اس کو اختلاف سے محفوظ رکھے گا اور دین حق اور صراط مستقیم پر لگا دیگا اور اسی اختلاف اور رحمت کے لیے لوگوں کو پیدا کیا یعنی بعض کو دوزخ کے لیے اور بعض کو جنت کے لیے اور اسی اختلاف کے لیے پیدا کرنے کی وجہ سے تیرے پروردگار کی یہ بات پوری ہوئی کہ میں بلاشبہ جہنم کو جنوں اور آدمیوں سے بھر دوں گا۔ تاکہ مغضوبین پر اس کی صفت غضب ظاہر ہو۔
Ayah 11:120

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

(اے محمد) پیغمبروں کے وہ سب حالات جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ان سے ہم تمہارے دل کو قائم رکھتے ہیں۔ اور ان (قصص) میں تمہارے پاس حق پہنچ گیا اور (یہ) مومنوں کے لئے نصیت اور عبرت ہے۔

تنبیہ بر بعض حکمت ہائے حکایت قصص مذکورہ قال اللہ تعالیٰ وکلا نقص علیک من انباء الرسل .... الیٰ .... وذکری لل مومن ین۔ (ربط) اوپر کی آیت میں واقعات ہلاکت کے وقوع کی علت اور حکمت بیان کی یہ واقعات ہلاکت کیوں پیش آئے۔ اب اس آیت میں ان قصص اور واقعات کے حکایت اور ذکر کی بعض حکمتوں پر تنبیہ فرماتے ہیں اور بالفاظ دیگر گزشتہ آیت میں محکی عنہ کے وقوع کی علت اور حکمت کا بیان تھا اور اس آیت میں نفس حکایت کی علت اور حکمت کا بیان ہے جس کا حاصل تقویت قلب اور موعظت و نصیحت اور عبرت ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ﷺ ہم رسولوں کی خبروں میں سے تم پر ہر قسم کی خبر بیان کرتے ہیں۔ یعنی انبیاء کرام کے وہ حالات جو ان کو ادائے رسالت اور قوم کی سرکشی اور ایذاء رسانی اور بالآخر ان کی ہلاکت کے گزرے ہیں جو تجھ کو ان واقعات میں سے کچھ سناتے ہیں وہ فائدوں کے لیے (اول) یہ کہ تیرے دل کو تقویت پہنچائے کہ ان کو سن کر آپ ﷺ کو سکون اور اطمینان ہوجائے کہ دعوت و تبلیغ میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کو یہ حالات پیش آئے اور انبیاء (علیہ السلام) نے ان جاہلوں کی ہلاکت اور اذیت پر کس طرح صبر کیا۔ بالآخر انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین نے نجات پائی اور ان کے دشمن عذاب الٰہی سے تباہ وبرباد ہوئے اور (دوسرا) فائدہ یہ ہے کہ ان واقعات کے ضمن میں حق آپ کے سامنے آگیا کہ حق ایسا ہوتا ہے کہ ابتداء ضعیف اور ناتواں ہوتا ہے اور آخر میں ایسا قوی اور جوان پوتا ہے کہ بڑے بڑے متکبروں اور سرکشوں کو زمین پر پچھاڑتا ہے اور دنیا کو باطل کی ذلت کا تماشا دکھاتا ہے اور ان واقعات میں اہل ایمان کے لیے نصیحت اور عبرت ہے۔ نصیحت تو یہ ہے کہ آئندہ میں ایسا نہ کریں۔ اور عبرت یہ ہے کہ ان واقعات کو سن کر اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور پناہ مانگیں کہ اے اللہ تو ہم کو ان تباہ کاروں کے راستہ سے دور رکھنا۔
Ayahs 11:121–123

وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ Open ayah 11:121 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان نہیں لائے ان سے کہہ دو کہ تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ ہم (اپنی جگہ) عمل کئے جاتے ہیں۔

وَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 11:122 in the Quran reader

اور (نتیجہ اعمال کا) تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 11:123 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کا علم خدا ہی کو ہے۔ اور تمام امور کا رجوع اسی کی طرف ہے۔ تو اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھر وسہ رکھو۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو تمہارا پروردگار اس سے بیخبر نہیں۔

خاتمہ سورت مشتمل بر تہدید عدم قبول ذکریٰ وموعظت قال اللہ تعالیٰ وقل للذین لا یؤمنون اعملوا علی مکانتکم .... الیٰ .... وما ربک بغافل عما تعملون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ اس سورت میں حق کو حقیقت خوب واضح ہوگئی اور اہل ایمان کے لیے نصیحت آگئی اب اس آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ جب حق آگیا اور حجت پوری ہوگئی اس پر بھی اگر کوئی نہ مانے تو آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اچھا تم اپنی اسی حالت پر رہو اور نتیجہ کا انتظار کرو۔ عنقریب تم کو اپنے خبط کا پتہ چل جائیگا اور اے اے نبی آپ ﷺ ان کے عناد سے دلگیر نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگے رہئے اور اللہ پر بھروسہ رکھئے پھر سورت کو اللہ تعالیٰ کے کمال علم اور کمال قدرت کے بیان پر ختم کیا جس سے سورت کا آغاز ہوا تھا چناچہ فرماتے ہیں اور جو لوگ باوجود ان براہین قاطعہ کے ایمان نہیں لاتے اور گزشتہ قوموں پر جو عذاب نازل ہوا اس کی پرواہ نہیں کرتے آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے تم اپنی جگہ پر کام کیے جاؤ ہم اپنی جگہ پر کام کر رہے ہیں۔ جیسا ہم کو ہمارے پروردگار نے حکم دیا اور نتیجہ کا انتظار کرو اور تحقیق ہم بھی نتیجہ کے منتظر ہیں۔ عنقریب حق اور باطل سامنے آجائیگا۔ مگر وہ نتیجہ فی الحال پوشیدہ ہے چند روز کے بعد پردہ غیب سے نمودار ہوگا اور اللہ ہی کے لیے ہیں چھپی باتیں آسمانوں کی اور زمین کی یعنی اللہ کو ذرہ ذرہ کا علم ہے آسمان اور زمین کی کوئی بات اس سے چھپی ہوئی نہیں۔ خفی اور جلی، معدوم اور موجود اس کے نزدیک سب برابر ہیں۔ اور اسی کی طرف سب کام کا رجوع ہے یعنی دنیا اور آخرت کے تمام امور کی باگ اس کے ہاتھ میں ہے اس لیے اس کے نتیجہ اور فیصلہ کا انتظار ضروری ہے۔ پس جب یہ معلوم ہوگیا کہ وہی غیب کا جاننے والا ہے اور تمام امور کا مرجع اور منتہٰی ہے تو آپ ﷺ ہمہ تن اللہ کی عبادت میں لگ جائیے اور اسی پر بھروسہ رکھئے اور ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ ہوجانا۔ اور اسی پر تکیہ اور بھروسہ کرنا یہی وہ استقامت ہے جس کا آپ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے۔ پس ان کافروں اور مشرکوں اور منا فقوں کا معاملہ اللہ کے سپرد کیجئے اور تیرا پروردگار تم سب لوگوں کے اعمال سے غافل نہیں تمہارا اخلاص اور انکا کفر و نفاق سب اس کے علم میں ہے مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ان کفار اور منافقین کی عداوت سے دلگیر نہ ہوں انکا معاملہ اللہ کے سپرد کیجئے اور نتیجہ کا انتظار کیجئے۔ کعب احبار ؓ سے منقول ہے کہ توریت کا شروع وہ ہے جو سورة انعام کا شروع ہے اور توریت کا خاتمہ وہ ہے جو سورة ہود کا خاتمہ ہے یعنی وللہ غیب السموت والارض ..... الیٰ آخر السورۃ اخرجہ ابن جریر وغیرہ (تفسیر قرطبی ص 117 ج 9 و تفسیر ابن کثیر ص 466، ج 2) والحمدللہ اولا وآخرا و باطنا وظاہرا ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وعلیٰ الہ و اصحابہ وذریاتہ اجمعین وسلم کثیرا کثیرا وعلینا معھم یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین ویا اجود الاجودین آمین آمین یا رب العالمین۔ الحمد للہ کہ آج بروز شنبہ 2 جمادی الاولیٰ 1388 ھ کو بوقت 30: 7 بھے دن کے سورة ہود کی تفسیر سے فراغت ہوئی اور اے اللہ تو اپنی رحمت سے باقی تفسیر کی بھی توفیق عطا فرما۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم ویارب ارزقنا الاستقامۃ علیٰ دینک وسنتی نبیک محمد ﷺ ۔ آمین یا رب العالمین۔