11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 11:50–68

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور ہم نے عدا کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا) انہوں نے کہا کہ میری قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تم (شرک کرکے خدا پر) محض بہتان باندھتے ہو۔

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

میری قوم ! میں اس (وعظ ونصیحت) کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو اس کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ بھلا تم سمجھتے کیوں نہیں ؟

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے قوم ! اپنے پروردگار سے بخشش مانگو پھر اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تم پر آسمان سے موسلادھار مینہ برسائے اور تمہاری طاقت بڑھائے گا۔ اور (دیکھو) گنہگار بن کر روگردانی نہ کرو۔

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

وہ بولے ہود تم ہمارے پاس کوئی دلیل ظاہر نہیں لائے اور ہم (صرف) تمہارے کہنے سے نہ اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تم پر ایمان لانے والے ہیں۔

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا (کر دیوانہ کر) دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

(یعنی جن کی) خدا کے سوا (عبادت کرتے ہو تو) تم سب مل کر میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی چاہو) کرلو اور مجھے نہ دو ۔

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں خدا پر جو میرا اور تمہارا (سب کا) پروردگار ہے بھروسہ رکھتا ہوں (زمین پر) جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔ بیشک میرا پروردگار سیدھے راستے پر ہے۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

اگر تم رودگرانی کرو گے تو جو پیغام میرے ہاتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہے وہ میں نے تمہیں پہنچا دیا ہے اور میرا پروردگار تمہاری جگہ اور لوگوں کو لابسائے گا۔ اور تم خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے۔ میرا پروردگار تو ہر چیز پر نگہبان ہے۔

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے انکو اپنی مہربانی سے بچا لیا۔ اور انھیں عذاب شدید نجات دی۔

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

یہ (وہی) عاد ہیں جنہوں نے خدا کی نشانیوں سے انکار کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی اور ہر متکبر وسرکش کا کہا مانا۔

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

تو اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہی اور قیامت کے دن بھی (لگی رہے گی) دیکھو عاد نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ (اور) سن رکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا کہ قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پید کیا اور اس میں آباد کیا۔ تو اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بیشک میرا پروردگار نزدیک (بھی ہے اور دعا کا) قبول کرنے والا (بھی) ہے۔

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

انہوں نے کہا صالح اس سے پہلے ہم تم سے (کئی طرح کی) امیدیں رکھتے تھے (اب وہ منقطع ہوگئیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کے پوچنے سے منع کرتے ہو جن کو ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں۔ اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں قومی شبہہ ہے۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

صالح نے کہا قوم ! بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے (نبوت کی) نعمت بخشی ہو تو اگر میں خدا کی نافرمانی کروں تو اسکے سامنے میری کون مدد کریگا ؟ تم تو (کفر کی باتوں سے) میرا نقصان کرتے ہو۔

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور (یہ بھی کہا کہ) اے قوم ! یہ خدا کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی (یعنی معجزہ) ہے تو اس کو چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں (جہاں چاہے) چرے اور اسکو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ تو (صالح نے) کہا کہ اپنے گھروں میں تین دن (اور) فائدے اٹھالوں۔ یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا۔

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا) بیشک تمہارا پروردگار طاقتور اور زبردست ہے۔

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ (کی صورت میں عذاب) نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

گویا کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ اور سن رکھو ثمود پر پھٹکار ہے

قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا .... الیٰ .... الا بعد العاد قوم ھود۔ (ربط) نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد دوسرا قصہ ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا ہے جس میں قوم عاد کی ضلالت اور عذاب کا حال بیان فرمایا ہے یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے اور دولت و ثروت کی وجہ سے مغرور تھے۔ اور انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دو خصوصیتیں عطا فرمائی تھیں ایک قوت و توانائی کما قال تعالیٰ وقالوا من اشد منا قوۃ۔ دوم یہ کہ ان کے بلاد نہایت سرسبز اور شاداب تھے یمن ان کا مسکن تھا۔ صاحب زراعت اور صاحب عمارت تھے۔ اس قصہ میں اشارہ اس طرف ہے کہ قوم عاد۔ ہود (علیہ السلام) کی قریبی رشتہ دار تھی اور ہود (علیہ السلام) اسی قبیلے کے ایک فرد تھے مگر آخرت کے معاملہ میں قرابت نسبی کچھ کام نہ آئی۔ صرف ایمان کام آیا جیسے نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کو نسب کام نہ آیا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جس طرح ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اسی طرح ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے برادری کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیجا جو باعتبار نسب اور قرابت کے ان کے بھائی تھے اور قوم نوح (علیہ السلام) کی طرح قوم عاد بھی بت پرستی میں مبتلا تھی۔ اور قوم نوح (علیہ السلام) کا انجام سن چکے تھے ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم صرف اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں مگر تم نے محض اپنے گمان سے ان بتوں کو خدا کا شریک ٹھہرا لیا اور ان کو معبود بنا لیا ہے۔ نہیں ہو تم اس شرک اور بت پرستی کے خیال میں مگر نرا جھوٹ بولنے والے یعنی یہ شرک اور بت پرستی تمہاری بنائی ہوئی بات ہے جس پر کوئی دلیل نہیں اے میری قوم میں تم سے اس تبلیغ و دعوت اور مخلصانہ نصیحت پر کوئی اجرت اور معاوضہ نہیں چاہتا۔ کسی پیغمبر نے اپنی قوم سے کوئی اجرت نہیں مانگی تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ نصیحت دنیوی غرض سے پاک ہے۔ میری مزدوری تو اللہ پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا وہی مجھ کو دنیا میں روزی دیتا ہے اور وہی آخرت میں ثواب دے گا جو اس کے جودوکرم کے لائق ہے کیا تمہیں عقل نہیں کہ صادق اور کاذب اور حق اور باطل کے فرق کو سمجھ سکو۔ تم اس قدر غبی ہو کہ ایک بےغرض شخص کو جو تمہاری ہمدردی اور خیر خواہی میں تم کو فلاح دارین کی طرف بلاتا ہے اس کو تم اپنا دشمن سمجھ کر اس سے دست و گریبان بنے ہوئے ہو اے میری قوم میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم اپنے دلوں سے کفر اور معصیت کی ظلمت دور کرنے کے لیے اپنے پروردگار کے سامنے استغفار کرو یعنی ایمان لاؤ۔ اور کفر اور شرک سے معانی مانگو پھر اللہ کی اطاعت اور عبادت کی طرف رجوع کرو اور اس استغفار اور توبہ کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ تم پر برسنے والا بادل بھیجے گا یعنی بارش برسائے گا جس سے تمہارا قحط دور ہوگا۔ قوم عاد کا ملک نہایت سرسبز اور شاداب تھا۔ کھیتی اور باغوں اور مویشی کی کثرت تھی قوم عاد نے جب ہود (علیہ السلام) کی دعوت کو رد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو قحط میں مبتلا کیا اور تین سال ان سے بارش کو روک لیا۔ ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر تم کفر اور شرک سے توبہ کرو تو خدا تعالیٰ تمہاری مالی اور بدنی قوت بڑھا دے گا۔ اور مال اور اولاد میں برکت دے گا اور مجرم اور ہٹ دھرم بن کر پیغام الٰہی سے انحراف نہ کرو بالفرض اگر مجرم پر کوئی عذاب بھی نہ آئے تو فوائد اور منافع سے محرومی تو یقینی ہے وہ بدبخت بولے اے ہود (علیہ السلام) تم ہمارے پاس کوئی روشن دلیل نہیں لائے جو تمہارے دعوے کی صحت پر دلالت کرے انکا یہ کہنا صریح جھوٹ اور عناد تھا ہود (علیہ السلام) براہین قاطعہ اور آیات بینات لے کر آئے مگر عناد کی بنا پر ان معجزات کو شمار میں نہ لائے اور کہنے لگے کہ ہم تمہارے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور ہم تو کسی طرح تیری بات ماننے والے نہیں۔ ہم تیرے بارے میں کچھ نہیں کہتے مگر یہ کہ ہمارے بعض خداؤں نے تجھ کو کسی برائی اور خرابی میں مبتلا کردیا ہے۔ یعنی ہمارے کسی خدا نے تجھ کو مجنون اور دیوانہ بنا دیا ہے جس سے تو خلاف عقل باتیں کرتا ہے مطلب یہ ہے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی کی پھٹکار تجھ پر پڑگئی ہے اس وجہ سے تو یہ بہکی بہکی باتیں کرتا ہے تیرا اس قسم کی بہکی ہوئی باتیں کرنا ہمارے بتوں کی شان میں گستاخی کی سزا ہے ہود (علیہ السلام) نے ان کے جواب میں کہا کہ تم ان بتوں کو نفع اور ضرر دینے والا خیال کرتے ہو تحقیق میں گواہ بناتا ہوں اللہ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ میں بری اور بیزار ہوں سوائے خدا کے ان سے جن کو تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو۔ یعنی خدا کے سوا سب سے بیزار ہوں۔ پس اگر تم ان بتوں کو نفع اور ضرر دینے والا خیال کرتے ہو تو سب مل کر میرے ہلاک کرنے کی تدبیر کرلو۔ پھر مجھ کو مہلت بھی نہ دو ۔ معلوم ہوجائیگا کہ تمہارے خداؤں میں کتنی قوت اور طاقت ہے اور جب تم سب مل کر میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تو یہ پتھر کے بت میرا کیا بگاڑ سکیں گے لہٰذا تمہارا یہ کہنا کہ تم پر ان بتوں نے کچھ کردیا۔ یہ خود تمہارے دیوانہ پن کی دلیل ہے ہود (علیہ السلام) کا یہ کہنا بھی ایک معجزہ تھا کسی شان و شوکت والی قوم کے سامنے ایسا کلمہ منہ سے نکالنا بغیر تائید خداوندی ناممکن ہے چونکہ ہود (علیہ السلام) کو خدائے تعالیٰ پر کامل بھروسہ تھا اس لیے فرمایا تحقیق میں نے بھروسہ کیا اللہ تعالیٰ پر جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے اس لیے میں نے اپنا کام اسی پر چھوڑ دیا تم سب اسی کے تصرف میں ہو۔ روئے زمین پر کوئی چلنے والا ایسا نہیں کہ اس کی پیشانی اس کے ہاتھ میں نہ ہو پیشانی کے بال پکڑنا یہ کمال قدرت و تصرف کی تمثیل ہے یعنی ہر چیز اس کے قبضہ قدرت میں ہے بغیر اس کے مشیت کے کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ تحقیق میرا پروردگار سیدھے راستے پر ہے جو اس پر بھروسہ کرتا ہے اس کو سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ پس اگر اس بیان واضح کے بعد بھی تم صراط مستقیم سے اعراض کرو تو تمہارے اس اعراض سے مجھے اپنے حق میں کوئی ڈر نہیں کیونکہ تحقیق میں نے تم کو یہ پیغام پہنچا دیا ہے جو دیکر تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں۔ میں بری الذمہ ہوگیا اور تم پر حجت پوری ہوگئی اب اگر تم حق کو نہیں مانو گے تو اللہ تم کو ہلاک کر دے گا اور تمہارا قصہ ختم کر دے گا اور میرا پروردگار دوسری قوم کو تمہاری جگہ آباد کرے گا جو تمہارے دیار اور اموال کے مالک بنیں گے۔ اور تم اس کفر اور اعراض سے خدا کو کوئی ضرر نہ پہنچا سکو گے۔ اپنا ہی کچھ بگاڑو گے۔ بیشک میرا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے ہر چیز اس کے حفظ اور علم میں ہے جو جس کے لائق ہو وہی اس کو پہنچتا ہے یا یہ معنی ہیں کہ وہ اپنے دوستوں کی دشمنوں سے حفاظت کرتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ حفاظت اللہ کا کام ہے اور یہ بت تو اپنی بھی حفاظت نہیں کرسکتے۔ اس ارشاد سراپارشاد سے اشارہ اس طرف تھا کہ اب عذاب کا وقت آپہنچا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جب ہمارا حکم عذاب آپہنچا تو ہم نے ہود (علیہ السلام) اور ان لوگوں کو جو ان کے ہمراہ ایمان لائے تھے باد صرصر کے عذاب سے بچا لیا اور یہ نجات دینا محض ہماری رحمت اور مہربانی کے سبب سے تھا اور وہ ایمان جو اس نجات کا ظاہری سبب بنا وہ بھی ہماری توفیق اور عنایت سے تھا لہٰذا کسی کو اپنے نیک عمل پر گھمنڈ نہ کرنا چاہئے اور ہم نے ان کو سخت عذاب سخت آندھی سے بچا لیا۔ قوم عاد پر آٹھ دن اور سات رات متواتر آندھی چلی جس نے ان کے اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور ہود (علیہ السلام) کے ساتھ جو اخیر میں چار ہزار تک پہنچے تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے اس عذاب سے محفوظ رکھا۔ تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ عذاب دنیوی ہو یا اخروی کو بغیر ایمان کے اس نے نجات نہیں ملتی اور ایمان کیا ہے ؟ پیغمبر خدا کی پیروی اور اس کی کفش برداری۔ یہاں تک قوم عاد کا قصہ بیان ہوا۔ اب آگے اہل عرب کو خطاب کرتے ہیں تاکہ عبرت پکڑیں اور یہ قوم جس پر عذاب نازل ہوا قوم عاد تھی۔ اور یہ ان کے اجڑے ہوئے مکان اور ان کی تباہی اور بربادی کے نشان اور کھنڈر تمہارے سامنے ہیں۔ اس قوم نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر سرکش اور عناد کرنے والے کے حکم کی پیروی کی خدا کے رسولوں کی اتباع اور پیروی کو اپنے لیے عار سمجھا اور ظالموں اور سرکشوں کی پیروی کو اپنے لیے عزت جانا۔ ان لوگوں نے اگرچہ صرف ہود (علیہ السلام) کا انکار کیا مگر وہ درحقیقت تمام رسولوں کا انکار تھا۔ کیونکہ تمام رسول رسالت میں باہم یکساں ہیں۔ اور توحید وغیرہ اور اصول دین میں سب متفق ہیں۔ اس لیے ایک پیغمبر کی نافرمانی سب پیغمبروں کی نافرمانی کو مستلزم ہے۔ اور ان کے ان افعال کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی لعنت ان کے پیچھے پیچھے ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا اور آخرت میں لعنت کبھی ان سے جدا ہوگی۔ پس اے اہل عرب ! تم ان کے حال سے عبرت پکڑو۔ خبردار ہوجاؤ کہ قوم عاد نے اپنے رب کا کفر کیا۔ سن لو کہ پھٹکار ہے قوم عاد کو جو ہود کی قوم تھی۔ عاد دو قوموں کا نام ہے (اول) وہ کہ جن کی طرف ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے۔ یہ لوگ بت پرست تھے اور نہایت قوی اور مہیب ڈیل ڈول کے مغرور آدمی تھے۔ اس قوم کو عاد اولیٰ کہتے ہیں۔ (دوم) وہ عاد جن کی طرف صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور شداد، مردود و مطرود، اور لقمان (علیہ السلام) مقرب و مقبول وغیرہ اسی قوم میں سے تھے اس قوم کو عاد ثانیہ کہتے ہیں۔ یہ قصہ عاد اولیٰ کا تھا۔ اب آئندہ رکوع میں عاد ثانیہ کا بیان کرتے ہیں۔
Ayahs 11:69–76

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا۔ ابھی کچھ وقفہ نہیں ہوا تھا کہ (ابرہیم) بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

جب دیکھا کہ ان کہ ہاتھ کھانے کی طرف نہیں جاتے (یعنی وہ کھانا نہیں کھاتے) تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا۔ (فرشتوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجئے ہم قوم لوط کی طرف (انکے ہلاک کرنے کو) بھیجے گئے ہیں

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحاق اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی۔

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

اس نے کہا اے ہے میرے بچہ ہوگا ؟ میں تو بڑھیا ہوں اور میرے میاں بھی بوڑھے ہیں۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو ؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہی۔ وہ سزا وار تعریف اور بزرگوار ہے۔

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

جب ابراہیم سے خوف جاتا رہا اور ان کو خوش خبری بھی مل گئی تو قوم لوط کے بارے میں لگے ہم سے بحث کرنے۔

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

بیشک ابراہیم بڑے تحمل والے ' نرم دل اور رجوع کرنیوالے تھے۔

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

اے ابراہیم ! اس بات کو جانے دو ۔ تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا ہے۔ اور ان لوگوں پر عذاب آنے والا ہے جو کبھی نہیں ٹلنے گا۔

قصہ ابراہیم (علیہ السلام) مشتمل بربشارت ملائکہ کرام بولادت اسحاق (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد جاءت رسلنا ابراہیم بالبشری .... الیٰ .... عذاب غیر مردود۔ (ربط) اب ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرتے ہیں جس میں فرشتوں کی تولد فرزند کی بشارت کا ذکر ہے کہ تمہارے یہاں ایک بیٹا ہوگا جس کا نام اسحاق (علیہ السلام) ہوگا پھر اس بیٹے کے ایک بیٹا ہوگا جس کا نام یعقوب (علیہ السلام) ہوگا۔ اس بشارت کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس برس کی تھی اور حضرت سارہ ؓ کی عمر نوے یا بانوے سال کی تھی حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) سے حضرت اسمعیل (علیہ السلام) پہلے پیدا ہوچکے تھے۔ سارہ (علیہ السلام) کو تمنا تھی کہ ان کے بھی کوئی بیٹا ہو لیکن کبرسنی کی وجہ سے ناامید ہوچکی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی زبانی یہ بشارت بھیجی۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ بشارت دینے کے لیے تین فرشتے آئے تھے۔ جبرائیل اور میکاعیل (علیہ السلام) اور اسرافیل (علیہم السلام) اور بعض کہتے ہیں کہ آٹھ یا نو فرشتے آئے تھے۔ (دیکھو تفسیر قرطبی صفحہ 62 ج 9 و زاد المسیر لابن الجوزی صفحہ 127 ج 4) الغرض یہ قصہ من جملہ قصص مذکور کا چوتھا قصہ ہے جو لوط (علیہ السلام) کے قصہ کی تمہید ہے اسی وجہ سے ما قبل کی طرح ارسلنا ابراہیم الی کذا۔ نہیں فرمایا چناچہ فرماتے ہیں اور جب ہمارے وہ فرشتے کن کو ہم نے قوم لوط پر عذاب کے لیے بھیجا تھا۔ پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے اور پوتے کے پیدا ہونے کی بشارت لیکر آئے تو بولے کہ ہم تم کو سلام کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا وعلیکم السلام چونکہ یہ فرشتے خوبصورت آدمیوں کی شکل میں تھے اس لیے ابراہیم (علیہ السلام) ان کو مہمان سمجھے اور خوش ہو کر ضیافت کا سامان کیا۔ پس ابراہیم (علیہ السلام) نے دیر نہ نہ کہ ان کے کھانے کے لیے ایک بھنا ہوا موٹا تازہ بچھڑا لے آئے جس سے چربی ٹپکتی تھی۔ قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ ان کا اکثر مال یہی گائیں تھیں آپ (علیہ السلام) بڑے مہمان نواز تھے۔ پندرہ روز کے انتظار کے بعد یہ مہمان آئے تو بہت خوش ہوئے اور ان کے لیے کھانا لائے مگر وہ مہمان اپنی ہی قسم کے تھے وہ کس طرح کھا سکتے تھے۔ پس جب ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس بچھڑے کے کھانے کی طرف نہیں بڑھتے تو اس کو اوپر جانا اور دل میں ان کی طرف سے خوف زدہ ہوئے۔ کہ یہ کون لوگ ہیں اور کیوں آئے ہیں اگر مہمان ہیں تو کھانا کیوں نہیں کھاتے۔ حضرت شاہ عبد القادر (رح) خوف کی توجیہ میں یہ فرماتے ہیں کہ فرشتے عذاب الٰہی کو لیکر قوم لوف کی طرف جا رہے تھے اور اس وقت یہ فرشتے خدا کی شان غضب اور انتقام کے مظہر تھے اس کا طبعی اثر یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قلب پر خوف کی ایک کیفیت طاری ہوگئی بعد ازاں ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنا خوف ان پر ظاہر کیا۔ کما قال تعالیٰ انا منکم وجلون۔ تو بولے تم ڈرو مت ہم آدمی نہیں فرشتے ہیں۔ ہم تو قوم لوط کی طرف عذاب دیکر بھیجے گئے ہیں اور راستے میں آپ کو بشارت دینے کے لیے اتر گئے ہیں۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی حضرت سارہ (علیہ السلام) کہیں کھڑی سن رہی تھیں۔ پس وہ ہنس پڑیں۔ آیت میں ہنسنے کی وجہ مذکور نہیں۔ بعض کہتے ہیں ان کا ہنسنا تعجب کی بنا پر تھا کہ عجب بات ہے کہ اتنے دنوں کے بعد تو مہمان ملے جن کی ضیافت کا سامان کیا پھر وہ فرشتے نکلے۔ یا اس بات پر تعجب ہوا کہ فرشتے آدمی کی صورت میں مہمان بن کر آئے کیا بات ہے یا اس بات پر تعجب ہوا کہ اس قدر خدم اور چشم ہوتے ہوئے ابراہیم (علیہ السلام) تین چار آدمیوں سے ڈرگئے۔ یا قوم لوط کی ہلاکت کی خبر سن کر خوش ہوئیں کہ یہ خبیثین اور مفسدین کا گروہ اب ہلاک ہوگا۔ اس قوم نے عورتوں کو خراب کیا اور لڑکوں کو بےحیا اور بدکار بنایا اس لیے ان کا عذاب سن کر خوش ہوئیں اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب فرشتوں نے یہ خبر سنائی کہ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بڑھاپے میں سارہ (علیہ السلام) کے بطن سے بیٹا عطا کرنے والا ہے تو یہ خبر سن کر حضرت سارہ (علیہ السلام) ہنس پڑیں۔ پس ہم نے فرشتوں کی زبانی سارہ کو ایک فرزند کے پیدا ہونے کی بشارت دی جو اسحاق نام کے ساتھ موسوم ہوگا اور اسحاق کے علاوہ یعقوب کی بھی بشارت دی یعنی ایک بشارت تو یہ دی کہ اس سن میں تمہارے ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کا نام اسحاق (علیہ السلام) ہے پھر دوسری بشارت یہ دی کہ تمہارے پوتا بھی ہوگا جس کا نام یعقوب (علیہ السلام) ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بیٹے کے بعد پوتا بھی دیکھو گی۔ اشارہ اس طرف تھا کہ وہ بیٹا زندہ رہے گا۔ اور وہ بیٹا بھی صاحب اولاد ہوگا۔ جس سے تمہاری نسل چلے گی۔ سارہ بولی ہائے میری کمبختی کیا میں اب بچہ جنوں گی۔ حالانکہ میں بوڑھی ہوں اس وقت میری عمر ننانوے سال کی ہے اور میرا خاوند ہے بہت بوڑھا جس کی عمر اس وقت ایک سو بیس برس کی ہے۔ حضرت سارہ (علیہ السلام) کو یہ بشارت اس لیے سنائی گئی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹا اسمعیل (علیہ السلام) حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) کے بطن سے پہلے ہی ہوچکا تھا۔ حضرت سارہ کو تمنا تھی کہ مجھے بھی بیٹا ملے۔ لیکن فرزند نہ عطا ہوا۔ یہاں تک کہ جب بڑھیا ہوگئیں اور مایوس ہوگئیں اس وقت یہ بشارت دی گئی تو تعجب میں پڑگئیں اور کہنے لگیں تحقیق یہ بات تو بہت عجیب ہے کبھی دیکھنے اور سننے میں نہیں آئی۔ فرشتوں نے حضرت سارہ (علیہ السلام) سے کہا۔ کیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے تعجب کرتی ہے۔ تعجب کی کیا بات ہے خدا ہر امر پر قادر ہے خدا نے صنعت کے لیے کسی آلہ کی اور اس کی فضل کے لیے کسی علت کی ضرورت نہیں۔ دو بوڑھوں سے لڑکا پیدا کرنا کوئی عجیب نہیں اس کی قدرت کے سامنے بوڑھا اور جوان سب برابر ہوتا ہے ابراہیم کے گھر والو ! تم پر دن رات کی رحمتیں اور برکتیں برس رہی ہیں صبح و شام معجزات و کرامات اور خوارق عادات کا مشاہدہ کرتے رہتے ہو تمہارا یہ تعجب بھی عجیب ہے تمہارے حق میں یہ نشارت قابل تعجب نہیں بلکہ تمہارا تعجب قابل تعجب ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ قابل تعریف ہے اور بزرگی والا ہے اس کے جود وکرم سے کوئی شئے عجیب نہیں۔ تم بجائے تعجب کے اس کے حمد و شکر میں مشغول ہوجاؤ۔ لطائف ومعارف 1۔ بعض علماء نے ومن وراء اسحاق یعقوب۔ کے لفظ سے استدلال کیا ہے کہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) ذبیح نہ تھے بلکہ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) ذبیح تھے۔ (دیکھو تفسیر ابن کثیر) 2۔ یہ آیت اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ زرجہ رجل بھی اس کے اہلبیت میں سے ہے اس لیے کہ : اتعجبین من امر اللہ رحمت اللہ وبرکتہ علیکم اہل البیت۔ یہ خطاب حضرت سارہ (علیہ السلام) کو ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زرجہ محترمہ تھیں اس طرح حق تعالیٰ کے اس ارشاد انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت وبطھرکم تطھیرا کو سمجھو کہ یہ خطاب دراصل ازواج مطہرات کو ہے اس لیے کہ اوپر سے تمام سلسلہ کلام۔ نساء نبی کریم علیل السلام یعنی ازواج مطہرات کے بارے میں چلا آرہا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے مقتضائے مشفقت دیگر اہل خانہ کو بھی کمبل اڑھا کر اس دعا میں شامل فرما لیا۔ اور جس طرح اس آیت میں اہل بیت کے لیے جمع مذکر کا صیغہ رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم۔ واحد مؤنث کے لیے بطور تعظیم و تکریم استعمال کیا گیا۔ اسی طرح آیت تطہیر میں یہی خطاب جمع مذکر کے صیغے جمع مؤنث کے لیے بطور تعظیم و تکریم استعمال کیے گئے۔ 3۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ نمازوں میں جو درود شریف پڑھا جاتا ہے۔ اس کے الفاظ اسی آیت سے ماخوذ اور مقتبس ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حلم اور ترحم اب آگے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حلم اور ترحم کو بیان کرتے ہیں۔ پس جب ابراہیم (علیہ السلام) سے وہ خوف جاتا رہا جو فرشتوں کی طرف سے پیدا ہوا تھا اور ان کے پاس بیٹے اور پوتے کی پیدا ہونے کی خوشخبری پہنچ گئی۔ تو ادھر سے بےفکر ہو کر دوسری طرف متوجہ ہوئے اور ہم سے قوم لوط کے بارے میں بحث شروع کردی جس کی تفصیل دوسری آیت میں ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا فرشتوں سے مجادلہ یہ تھا کہ جب فرشتوں نے کہا کہ ہم قوم لوط کے ہلاک کرنے کے لیے آئے ہیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اس بستی میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہے تم اس بستی کو کیسے ہلاک کرسکتے۔ فرشتوں نے کہا کہ ہم سوائے ان کی بیوی کے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچالیں گے۔ بیشک ابراہیم بڑے بردبار اور نرم دل اور خدا کی طرف بڑے رجوع کرنے والے تھے چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بڑے نرم دل اور حلیم اور بردبار تھے۔ اس لیے خطا کاروں پر عقوبت میں جلدی نہیں چاہتے تھے مطلب یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی طبعی فرط رحمت اور زیادتی شفقت اس اصرار اور مجادلہ کا باعث بنی۔ خدا ترس بندوں کے دل بہت نرم ہوتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ چاہتے تھے کہ عذاب میں تاخیر ہوجائے شاید یہ لوگ ایمان لے آئیں اور اپنے گناہوں سے توبہ کرلیں۔ لیکن آخرکار ملائکہ (علیہ السلام) نے ان کو حکم قضا و قدر سے آگاہ کردیا اور کہا کہ اے ابراہیم (علیہ السلام) آپ اس بحث کو چھوڑ دیجئے۔ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں۔ تحقیق تیرے پروردگار کا حکم ان کے بارے میں آپہنچا ہے۔ اب وہ کسی طرح ٹل نہیں سکتا اور تحقیق ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے جو ان سے ہٹایا نہیں جائیگا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی فطری رحم دلی کی بناء پر تعبیر فرمایا۔ فرشتوں نے جواب دیا کہ یہ لوگ شفقت و رحمت کے محل نہیں رہے آپ (علیہ السلام) اس خیال کو دل سے نکال دیجئے۔ ان کے مجرم کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور ان کے متعلق عذاب کا حکم جاری ہوچکا ہے۔ جو کسی طرح واپس نہیں ہوسکتا البتہ جو اہل ایمان ہیں اول ان کو علیحدہ کردیا جائیگا اس کے بعد عذاب نازل ہوگا تاکہ اہل ایمان کو گزند نہ پہنچے۔
Ayahs 11:77–83

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے۔ اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع کیا کرتے تھے۔ لوط نے کہا کہ اے قوم ! (جو) میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں یہ تمہارے لئے (جائز اور) پاک ہیں تو خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے (بارے) میں میری آبرو نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں ؟

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری (قوم کی) بیٹیوں کی ہمیں حاجت نہیں اور جو ہماری غرض ہے اسے تم (خوب) جانتے ہو۔

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

لوط نے کہا کہ اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط قلعہ میں پناہ پکڑ سکتا۔

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا لوط ! ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے تو کچھ رات رہے سہے اپنے گھر والوں کو لیکر چل دو ۔ اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کرنا دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کی جو آفت تم پر پڑنے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ ان سے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے۔ اور کیا صبح کچھ دور ہے ؟

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس (بستی) کو (الٹ کر) نیچے اوپر کردیا اور ان پر پتھر کی تہ بہ تہ (یعنی پے در پے) کنکر یاں برسائیں۔

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ (بستی ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں۔

قصہ لوط (علیہ السلام) وقوم او کہ تتمہ قصہ سابقہ است قال اللہ تعالیٰ ولما جاءت رسلنا لوطا سیء بھم .... الیٰ .... وما ہی من الظلمین ببعید۔ (ربط) گزشتہ قصہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ پیش آیا اب اس کے بعد لوط (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور اہل سدوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ بستی حمص کے قریب تھی اور اسکے پاس اور بھی کچھ گاؤں تھے جن کی مجموعی آبادی تقریباً چار لاکھ تھی سوائے اہل ایمان کے سب ہلاک ہوگئے۔ یہ قصہ کا تتمہ ہے یا یوں کہو کہ پہلا قصہ اس قصہ کی تمہید تھا۔ اور اصل مقصود قوم لوط کی ہلاکت کا قصہ بیان کرنا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے فارغ ہو کر لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے تو لوط (علیہ السلام) ان کے آنے سے رنجیدہ اور تنگ دل ہوئے کیونکہ وہ فرشتے حسین بےریش لڑکوں کی شکل میں تھے لوط (علیہ السلام) ان کو مہمان سمجھے اور چونکہ لوط (علیہ السلام) کو اپنی قوم کے ناشائستہ افعال کا علم تھا کہ یہ لوگ خلاف فطرت فواحش کے عادی اور خوگر ہیں اس لیے وہ اس قسم کے مہمانوں کی آمد سے گھبرائے اور تنگ دل ہوئے اور کڑھے کہ میں ان بدکردار اور خبیث طینت والوں سے اپنے مہمانوں کی حفاظت کیسے کروں گا۔ اور اس قدر تنگ دل ہوئے کہ اپنی تنگ دلی کو چھپانہ سکے۔ اور زبان سے کہنے لگے کہ یہ دن تو بڑا کٹھن ہے۔ فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی اس پریشانی کو دیکھ لیا مگر ابھی تک ان پر ظاہر نہ کیا تھا کہ ہم دراصل فرشتے ہیں اور اس ناہنجار اور بدکردار اور بد اطوار قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں اور لوط (علیہ السلام) ان کو اپنا مہمان سمجھتے رہے اور پریشان رہے کہ دیکھئے اب کیا ہوتا ہے اور ان کی قوم نے جب یہ خبر سنی کہ لوط (علیہ السلام) کے یہاں ایسے خوب صورت لڑکے مہمان آئے ہیں کہ اب تک ان سے زیادہ خوبصورت دیکھنے میں نہیں آئے تو یہ بد اطوار قوم لوط (علیہ السلام) کی طرف دوڑی ہوئی آئی اور اس سے پہلے یہ لوگ بدفعلیاں کیا کرتے تھے لواطت اور اغلام اس قوم کی طینت اور عادت بن چکی تھی اور حیاء اور شرم ان سے نکل چکی تھی۔ لوط (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم ! یہ ہیں میری بیٹیاں یعنی یہ میری قوم کی بیٹیاں موجود ہیں۔ ان سے نکاح کرلو۔ یہ تمہارے لیے پاک ہیں نکاح پاک فعل ہے اور اغلام اور لواطت ناپاک اور گندہ فعل ہے۔ بیٹیوں سے قوم کی لڑکیاں مراد ہیں اس لیے کہ نبی امت کا باپ ہوتا ہے۔ اس لیے قوم کی لڑکیوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ سو تم اللہ سے ڈرو اور اس بری خصلت سے باز آجاؤ اور میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ یہ لڑکے میرے مہمان ہیں تم ان کی بدکاری کی طرف ہاتھ نہ بڑھاؤ اس میں میری سخت رسوائی ہے کہا تم میں کوئی بھلا مانس شخص نہیں ہے جس میں کچھ بھی غیرت اور حیاء کا مادہ ہو وہ بولے اے لوط ! تجھے تو خوب معلوم ہے کہ ہمیں تیری بیٹیوں میں کوئی خواہش اور حاجت نہیں اور تحقیق تو خوب جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں۔ یعنی ہمارا لڑکوں کی طرف راغب ہونا بخوبی معلوم ہے۔ پس عورتوں کو ہم پر پیش کرنا فضول ہے۔ لوط (علیہ السلام) نے ان کے جواب میں کہا۔ کاش مجھ میں تمہارے مقابلہ کی قوت ہوتی تو میں خود تم کو دور کردیتا۔ یا کوئی مضبوط قبیلہ اور کنبہ میرا ماویٰ اور ملجا ہوتا تو اس کی مدد سے تم کو دور کرتا کہ میرے مہمانوں پر زیادتی کرکے مجھے فضیحت نہ کرنے پاتے اور یہ قوم لوط (علیہ السلام) کی قرابت دار نہ تھی۔ کیونکہ لوط (علیہ السلام) پہلے عراق میں اپنے چچا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تھے جب وہاں سے شام آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تفکات پر پیغمبر کیا اور یہ چند بستیاں تھیں جن میں بڑی بستی سدوم تھی اور کل آبادی چار لاکھ کے قریب تھی اس لیے لوط (علیہ السلام) نے تمنا کی کہ کاش اس وقت میرے کنبہ والے باقوت و شوکت ہوتے تو تم مجھ پر ظلم نہ کرسکتے۔ غرض یہ کہ خوبصورت مہمانوں کی خبر سن کر اوباشوں نے ہجوم کیا۔ لوط (علیہ السلام) نے اندر سے دروازہ بند کردیا۔ اور اندر ہی سے لوگوں کے ساتھ گفتگو کرتے رہے ان لوگوں نے چاہا کہ دروازہ توڑ ڈالیں اور اندر گھس آئیں تو لوط (علیہ السلام) نہایت مضطرب ہوئے۔ ملائکہ (علیہ السلام) نے جب ان کے اضطراب کو دیکھا اور یہ دیکھا کہ قوم کے لوگ ان پر چڑھ آئے ہیں اور انکی مدافعت سے عاجز ہیں تب انکو خبر دی کہ ہم فرشتے ہیں پھر یہ خوشخبری سنائی کہ یہ لوگ تجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ تو وہ فرشتے بولے اے لوط تم گھبراؤ نہیں ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے آئے ہیں تم اپنا دل قوی رکھو۔ یہ لوگ ہرگز تجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے لوط (علیہ السلام) سے کہا دروازہ کھول دو ۔ لوط (علیہ السلام) نے دروازہ کھول دیا۔ جبریل (علیہ السلام) باہر برآمد ہوئے اور ان کے منہ پر اپنا پر مارا جس سے ان کی آنکھیں پھوٹ گئیں اور سب اندھے ہوگئے اور یہ کہتے ہوئے بھاگے کہ لوط کے مہمان جادوگر ہیں۔ بعد ازاں جبرئیل (علیہ السلام) نے لوط (علیہ السلام) سے کہا کہ تورات کے کسی حصہ میں اپنے گھر والوں کو اپنے ساتھ لے کر راتوں رات یہاں سے نکل جا اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے مگر تیری بیوی جو کافرہ ہے اس سے نہیں رہا جائیگا وہ پیچھے مڑ کر ضرور دیکھے گی اور ہلاک ہوگی۔ بلاشبہ اس عورت کو بھی وہی عذاب پہنچے گا جو اس قوم کو پہنچنے والا ہے یہ حال سن کر لوط (علیہ السلام) کا اضطراب رفع ہوا اور فرشتوں سے پوچھا کہ کب عذاب آئیگا۔ فرشتوں نے کہا تحقیق ان کو عذاب اور ہلاکت کے وعدہ کا وقت اس رات کی صبح ہے لوط (علیہ السلام) نے کہا کہ ابھی تو صبح میں دیر ہے۔ جبریل (علیہ السلام) نے کہا کیا صبح نزدیک نہیں ہے یہ رات بھر کی تاخیر اس لیے کہ گئی ہے تاکہ لوط (علیہ السلام) اطمینان کے ساتھ اس بستی سے نکل جائیں۔ ہلاکت کے لیے آخر شب کا وقت اس لیے مقرر کیا گیا کہ وہ وقت سکون اور اطمینان کا ہے سب لوگ اپنے گھروں میں جمع ہوتے ہیں اور اپنے کاموں کے لیے متفرق نہیں ہوتے۔ پس جب ہمارا حکم عذاب آپہنچا تو ہم نے اس بستی کو الٹ کر اس کی اوپر کی جانب کو نیچے کردیا اور نچلی جانب کو اوپر کردیا۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے ان بستیوں کو جدا کرکے مثل تختہ کے اپنے بازو پر اٹھا لیا۔ اور آسمان کی طرف اونچا لے گئے وہاں جاکر انہیں پلٹ دیا اونچے کو نیچا اور نیچے کو اونچا کردیا۔ غرض یہ کہ جبرائیل امین (علیہ السلام) کی صفت قرآن میں شدید القویٰ آئی ہے وہ ان بستیوں کو اٹھا کر آسمان کی طرف لے گئے اور پھر ان کو اوپر سے نیچے پٹک دیا پھر ان پر کھنگر یعنی جھانوے برسائے (جھانوہ اس اینٹ کو کہتے ہیں جو پزاوہ کی آگ سے پک کر سیاہ پتھر کی مانند ہوجائے) اور ایسے پتھر برسائے جو ایک کے بعد ایک متواتر گرتے تھے۔ یعنی پے در پے برس رہے تھے۔ وہ پتھر ایسے تھے کہ خدا کے یہاں سے نشان لگے ہوئے تھے۔ ہر پتھر پر مہر یا نشان اور علامت تھی کہ اس پتھر کے لگنے سے فلاں کافر ہلاک ہوگا۔ یا ہر پتھر پر من جانب اللہ اس کافر کا نام لکھا ہوا تھا جس پر یہ پتھر گرے گا۔ وہ پتھر دنیا کے پتھروں سے بالکل جدا اور ممتاز تھے (دیکھو تفسیر قرطبی ص 83 ج 9 و تفسیر ابن کثیر ص 455 ج 2 و تفسیر زاد المسیر ص 146) اور اہل مکہ کو چاہئے کہ اس قصہ سے عبرت پکڑیں کیونکہ قوم لوط کی یہ بستیاں مکہ کے ان ظالموں سے کچھ دور نہیں ملک شام کو جاتے ہوئے ان بستیوں پر گزرتے ہیں اور ہلاکت اور بربادی کے آثار کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ان کو چاہئے کہ عبرت پکڑیں۔ تنبیہ یہ قصہ سورة اعراف میں بھی گزر چکا ہے وہاں بھی دیکھ لیا جائے۔