Ayahs 12:1–3حقانیت قرآن حکیم و تمہید قصہ
قال اللہ تعالیٰ الر، تلک ایت الکتب المبین ...... الیٰ ۔۔۔۔ لمن الغفلین۔
(ربط) اس سورت کا آغاز سورة یونس کے آغاز سے مشابہ ہے قرآن کریم کے ذکر سے اس قصہ کو شروع فرمایا چناچہ فرماتے ہیں۔
الر۔ یہ متشابہات میں سے ہے۔ سوائے حق تعالیٰ کے کسی کو اس کی مراد معلوم نہیں۔ جمہور کے نزدیک راجح اور مختار قول یہی ہے اور بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ متشابہات۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان راز ہیں۔ سوائے رسول کے کسی کا مرتبہ نہیں کہ وہ ان اسرار کو سمجھ سکے۔ مفصل کلام سورة بقرہ میں گزر چکا ہے یہ آیتیں ایسی کتاب کی ہیں جو واضح اور روشن ہے۔ حق اور باطل کے فرق کو خوب واضح کرتی ہے ہم نے اس کتاب کو قرآن عربی بنا کر بھیجا ہے تاکہ اے اہل عرب تم اس کے مطالب اور معانی کو خوب اچھی طرح سمجھ سکو اور تم پر حجت قائم ہوجائے ہم آپ کے سامنے بہترین قصہ بیان کرتے ہیں بذریعہ اس قرآن کے جو ہم نے آپ کے پاس بذریعہ وحی بھیجا ہے یعنی یہ قرآن جو ہم نے بذریعہ وحی تجھ پر نازل کیا ہے اس کے ذریعے تجھ کو بہترین قصہ سناتے ہیں۔ اور تحقیق آپ ﷺ اس سورت کے نازل ہونے سے پہلے بیخبروں میں سے تھے۔ آپ ﷺ کو اس قصہ کی خبر نہ تھی اور اس قصہ کو احسن القصص یعنی بہترین قصہ اس لیے فرمایا کہ اس قصہ میں عبرتیں اور حکمتیں ہیں اور نکات ہیں اور اس میں بادشاہوں سے غلاموں تک برتاؤ اور عورتوں کے مکروفریب کا اور دشمنوں کے ایذاء پر صبر کا اور قدرت کے وقت عفو اور جودو کرم کا بیان ہے اور حاسد اور محسود کے انجام کا بیان ہے حسد کا انجام نقصان اور خذلان ہے اور صبر مفتاح الضرج ہے اور عفت و پاکدامنی موجب عزت و رفعت ہے سورة ہود کے ختم پر صبر اور استقامت کا ذکر تھا اس قصہ کو ذکر کرکے بتلا دیا کہ صبر اور استقامت ایسا ہوتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے غیابت الجب اور امرأۃ العزیز کی تہمت اور جیلخانہ کی مصیبت اور باپ کی مفارقت وغیرہ وغیرہ پر کس طرح صبر کیا۔
نیز یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کی دلیل جو کہ آپ ﷺ وحی الٰہی سے صحیح صحیح واقعات بیان فرماتے ہیں جو آپ ﷺ نے نہ دیکھے اور نہ کسی سے سنے اور نہ کہیں پڑھے اور بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اس قصہ کو احسن القصص اس لیے فرمایا کہ یہ قصہ جن آدمیوں کا ہے وہ سب آدمیوں میں احسن اور اجمل تھے اور بعض نے کہا ہے کہ احسن القصص کے معانی اعجب القصص کے ہیں یعنی یہ قصہ بہت ہی عجیب ہے۔
Ayahs 12:4–6آغاز قصہ برؤیائے صالحہ و صادقہ
قال تعالیٰ اذ قال یوسف لابیہ یابت .... الیٰ .... ان ربک علیم حکیم۔
(ربط) اب یہاں سے احسن القصص کا بیان شروع ہوتا ہے جس کی ابتداء ایک رؤیائے صالح سے ہوئی چناچہ فرماتے ہیں یاد کرو اس وقت کو کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے باپ یعقوب (علیہ السلام) سے کہا کہ اے میرے پیارے باپ میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے تحقیق میں نے خواب میں دیکھا گیارہ ستاروں کو اور سور اور چاند کو وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں گیارہ ستاروں سے یوسف (علیہ السلام) کے بھائی مراد ہیں اور سورج اور چاند سے ان کے باپ اور خالہ مراد ہیں اور سجدہ سے یہ مراد ہے کہ سب ایک دن ان کے آگے جھکیں گے بالجملہ یہ خواب یوسف (علیہ السلام) کے رفعت شان اور علو مرتبہ پر دال ہے۔ یعقوب (علیہ السلام) سنتے ہی خواب کی تعبیر سمجھ گئے اور ڈرے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی سنیں گے تو درپے حسد ہوں گے اس لیے یعقوب (علیہ السلام) نے از راہ شفقت فرمایا اے میرے چھوٹے بیٹے تو اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے نہ بیان کرنا۔ کیونکہ وہ سنتے ہی اس کی تعبیر سمجھ جائیں گے اور تیری ایذا رسائی کے لئے کوئی حیلہ اور فریب کریں گے تحقیق شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے ذرا موقع ملے تو رشک اور حسد کا وسوسہ دل میں ڈال دیتا ہے۔ اور طرح طرح کے مکرو فریب پر آمادہ کردیتا ہے اور حسد کی آگ دل میں بھڑکاتا ہے اور جس طرح خدا نے تجھے خواب کے ذریعہ عزت اور رفعت اور برگزیدگی کی بشارت دی ہے اسی طرح تیرا پروردگار تجھ کو برگزیدہ بنائے گا یعنی عزتیں اور درجات عالیہ تجھ کو عطا کرے گا۔ جن میں تیری سعی اور کوشش کو دخل نہ ہوگا اور تجھ کو خوابوں کی تعبیر سکھلائے گا تاکہ تو خوابوں کے ذریعے اشارات غیبیہ اور پیش آنے والے واقعات کو سمجھ سکے اور اس کے علاوہ اور نعمتیں دیکر بھی تم پر اور خاندان یعقوب پر اپنے انعام کو کامل کرے یعنی دنیا و آخرت کی ایسی بھلائیاں تم کو عطا کرے جو تام اور کامل ہوں اور ان میں کوئی نقصان نہ ہو۔ جیسا کہ اس کے قبل تمہارے دونوں باپ یعنی ابراہیم اور اسحاق (علیہما السلام) پر انعام کامل کرچکا ہے اس مقام پر یعقوب (علیہ السلام) نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کا ذکر کیا اور تواضعا اپنا ذکر نہیں کیا۔ البتہ تیرا پروردگار خوب دانا اور حکمت والا ہے یعنی جو جس لائق ہے وہی اس کو دینا ہے مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ یہ ہے کہ آباء و اجداد کی طرح تجھ کو اپنی نعمتوں سے نوازے اور جسے خدا نوازنا چاہتا ہے اس کا کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔
فائدہ : پہلی شریعتوں میں بطور تحیت وسلام سجدہ تعظیمی جائز تھا ہماری شریعت میں حرام ہوگیا۔
خواب کی حقیقت
رؤیا کے معنی خواب کے ہیں اس کی تین قسمیں ہیں۔
(اول حدیث نفس) جس کا لفظی ترجمہ ” دل کی باتیں “ ہیں۔ انسان دن میں جس کام میں مشغول اور منہمک ہو رات کو بھی خواب میں اس کو وہی چیزیں نظر آتی ہیں جیسا کہ عاشق کو خواب میں طرح طرح سے اپنا معشوق ہی دکھلائی دیتا ہے اور بلی کو خواب میں گوشت کے چھچھڑے نظر آتے ہیں جسے الیکشن کی دھن ہوتی ہے اسے خواب میں اسمبلی ہال ہی کی چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔
(دوم اضغاث احلام) جس کا لفظی ترجمہ ” خواب پریشان “ ہے نفس اور شیطان کے القاء سے جو چیزیں خواب میں دکھائی دیں وہ اضغاث احلام ہیں اور احتلام بھی اسی قبیل سے ہے خواب کی یہ دو قسمیں فاسد ہیں ان کی کوئی تاویل اور تعبیر نہیں۔
(خواب کی تیسری قسم) دویائے صالحہ ہے یعنی درست خواب کہ جو وساوس شیطانی اور ہوا جس نفسانی سے پاک ہو ایسا ہی خواب حقیقتا خواب ہوتا ہے اور محتاج تعبیر ہوتا ہے اور ایسے ہی خواب کو حدیث میں رویائے صالحہ اور جزء نبوت بتلایا گیا ہے اس قسم کا خواب القاء ربانی ہوتا ہے اور مؤید الٰہی ہوتا ہے جمہور متکلمین اور مفسرین اور اولیاء اور محدثین فرماتے ہیں کہ رویائے صالحہ ایک قسم کا روحانی مشاہدہ ہے کہ جب انسان سو جاتا ہے اور اس کے حواس ظاہرہ معطل ہوجاتے ہیں تو اس حالت میں روح عالم غیب کی چیزوں کو دیکھتی ہے اور سنتی ہے روح کبھی اللہ کا کلام سنتی ہے اور کبھی فرشتوں کا کلام سنتی ہے اور اس عالم کی چیزوں کو دیکھتی ہے اور یہ روحانی مشاہدہ کبھی اصل حقیقت کا ہوتا ہے اور کبھی صور مثالیہ کے ذریعے ہوتا ہے جس سے آئندہ واقعات کی طرف برنگ تمثیل و تشبیہ اشارہ اور تنبیہ مقصور ہوتی ہے جیسے یوسف (علیہ السلام) کو گیارہ ستارے سجدہ کرتے ہوئے دکھلائے گئے برنگ تمثیل آئندہ پیش آنے والے واقعہ سے آگاہ کردیا گیا۔
اور چونکہ حضرات انبیاء کے نفوس قدسیہ نفس اور شیطان اور وہم اور خیال کی مداخلت سے پاک اور منزہ ہوتے ہیں اس لیے ان کا خواب وحی قطعی اور معصوم عن الخطاء ہوتا ہے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) کا خواب یبنی الی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ما ذا تری۔ اور اولیاء چونکہ معصوم نہیں ہوتے اس لیے ان کا خوان وحی تو نہیں ہوتا لیکن وحی نبوت کا ایک عکس اور پر تو ہوتا ہے جس درجہ کی ولایت ہوگی اسی درجہ کے مطابق رویا کا صلاح اور صدق ہوگا اور عوام المسلمین چونکہ کدورات نفسانیہ اور ظلمات باطنیہ میں مبتلا رہتے ہیں ان کا خواب کبھی صادق ہوتا ہے اور کبھی کاذب۔
خلاصہ کلام یہ کہ خواب کی تین قسمیں ہیں ایک حدیث نفسانی اور دوم حدیث شیطانی، سوم القائے ربانی اور رویائے حقانی اول کی دو قسمیں فاسد اور کا سد ہیں تیسری قسم وحی رویائے حقانی ہے جس کو حدیث میں رویائے صالحہ اور رویائے صادقہ کہا گیا ہے۔ (دیکھو اشارات المرام عن عبارات الامام ص 158)
تعبیر خواب : اور تعبیر خواب کبھی تو الہام یزدانی اور القاء ربانی سے ہوتی ہے جیسا کہ ویعلمک من تاویل الاحادیث میں تعبیر سے وہ تعبیر مراد ہے جو تعلیم ربانی اور القاء رحمانی سے ہو۔ ایسی تعبیر قطعی اور یقینی ہوتی ہے۔
اور کبھی خواب کی تعبیر عقل سلیم اور خدادا فہم و فراست سے ہوتی ہے اس میں کبھی خطاء اور لغزش بھی ہوجاتی ہے۔
بعض فلاسفہ کہتے ہیں کہ رؤیا (خواب) محض ایک خیال باطل ہے جس کی کوئی حقیقت واقعیہ نہیں اس لیے کہ نوم ادراک کی ضد ہے حالت نوم میں ادراک عقلا ناممکن اور محال ہے۔
حضرات متکلمین فرماتے ہیں کہ حق جل شانہ جس طرح بحالت بیداری دل میں علوم اور ادراکات کی القاء فرماتے ہیں اسی طرح وہ اپنی قدرت کاملہ سے بحالت خواب سونے والے کے دل میں علوم اور ادراکات کا القاء فرماتے ہیں جو اس ظاہری ادراک اور احساس کی علت۔۔۔۔ نہیں اصل علت حق جل شانہ کی قدرت اور اس کا ارادہ اور اس کی مشیت اور اس کی تخلیق ہے اور اس کی قدرت و مشیت کے اعتبار سے حالت نوم اور یقظہ سب برابر ہیں یہ حواس ظاہرہ جو اسی کی مخلوق ہیں ادراک ظاہری کی علامتیں ہیں جو محض علامت کے درجہ میں ہیں علت کے درجہ میں نہیں۔
یونان کے نادانوں نے ایک ظاہری علامت کو جو اسی کی پیدا کردہ تھی اس کو ادراک کی علت تامہ سمجھ لیا اور خواب کی حالت میں جب ان کو ادراک کی کوئی ظاہری علامت نظر نہ آئی تو خواب کی حقیقت ہی کا انکار کر بیٹھے اور کہہ دیا کہ خواب کی کوئی حقیقت واقعیہ نہیں بلکہ ایک وہمی اور خیالی چیز ہے خوب سمجھ لو کہ خواب تو بلاشبہ ایک حقیقت واقعہ ہے مگر اس کا انکار وہ وہم فاسد اور خیال کا سد ہے۔
Ayahs 12:7–20معاملہ برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ لقد کان فی یوسف واخواتہ ایت ..... الیٰ ..... وکانوا فیہ من الزاھدین۔
بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں اور عبرتیں اور نصیحتیں ہیں ان لوگوں کے لیے جو اس قصہ کو دریافت کرتے ہیں کیونکہ یہ عجیب قصہ اس لائق ہے کہ اس کی خبر دریافت کی جائے کہ حق تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو بےکسی اور بےبسی سے نکال کر مقام سلطنت تک کس طرح پہنچایا یہ اس کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ جو پوچھتے ہیں ان کے لیے اس قصہ میں بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں اور جو نہیں پوچھتے ان کے لیے بھی بہت سی نشانیاں ہیں۔
جبکہ یوسف کے علاتی بھائی آپس میں یہ کہنے لگے کہ البتہ یوسف اور انکا حقیقی بھائی بنیامین ہمارے باپ کو بہ نسبت ہمارے زیادہ محبوب ہے حالانکہ وہ دونوں کم عمر ہیں کار خدا مت پدری بخوبی انجام نہیں دے سکتے اور ہم ایک قوی جماعت ہیں ہر طرح کا آرام ہم سے مقصود ہے لہٰذا ہم زیادہ عزیز اور محبوب ہونے چاہئیں بیشک ہمارا باپ صریح غلطی میں ہے اپنے نفع نقصان کا ان کو صحیح اندازہ نہیں یعنی ہماری محبت کے بارے میں باپ کو چوک ہوئی کہ ہمارے مقابلہ میں یوسف (علیہ السلام) کو ترجیح دی اگر دلیل سے دیکھا جائے تو ہم سب فرزند ہونے میں یکساں ہیں اس لیے محبت میں برابری ہونی چاہئے تھی لیکن ہم کو ان دونوں پر اس لیے ترجیح ہے کہ ہم ایک قوی اور زبردست جماعت ہیں باپ کو ہر طرح سے آرام اور راحت پہنچا سکتے ہیں اور جو تکلیف پیش آئے اس کو دور کرسکتے ہیں اور ہر کام کے لیے کافی ہیں اور ان دونوں بھائیوں سے نو عمری کی وجہ سے یہ بات ممکن نہیں لہٰذا قاعدہ کے مطابق محبت ہم سے زیادہ ہونی چاہئے پھر اگر زیادہ نہ ہوتی تو خیر برابر ہوتی اس بارے میں ہمارے باپ صریح غلطی میں ہیں۔
فائدہ : یعقوب (علیہ السلام) کا یوسف (علیہ السلام) سے زیادہ محبت کرنا معاذ اللہ حسن ظاہری کی وجہ سے نہ تھا بلکہ حسن صورت کے ساتھ حسن سیرت اور جمال نبوت و صدیقیت اور نور فہم و فراست اور نور عفت بھی اس کے ساتھ شامل تھا۔ اور ان محاسن و شمائل اور کمالات و فضائل میں کوئی بھائی وغیرہ شریک نہ تھا۔ یوسف (علیہ السلام) ان فضائل و شمائل میں سب پر فوقیت رکھتے ہیں اور یعقوب (علیہ السلام) نور نبوت اور چشم بصیرت سے ان باطنی محاسن کو بھی دیکھتے تھے اس لیے وہ ان کی نظر میں زیادہ محبوب تھے۔
نیز یوسف (علیہ السلام) کا حسن و جمال بشری حسن و جمال کے جنس سے نہ تھا اس لئے زنان مصر کی زبان سے بےاختیار یہ لفظ نکلا ما ھذا بشرا ان ھذا الا ملک کریم بلکہ یوسف (علیہ السلام) کا حسن و جمال اہل جنت کے حسن و جمال کی جنس سے تھا اور حورو غلمان کے حسن و جمال کی قسم سے تھا غرض کہ یوسف (علیہ السلام) کا حسن و جمال اخروی حسن و جمال کا نمونہ تھا اور از قسم جمال اخروی تھا اس لیے یعقوب (علیہ السلام) ان کی طرف زیادہ مائل تھے۔ کیونکہ یوسف (علیہ السلام) کا باطنی حسن و جمال یعنی علم و حکمت اور ان کی بےمثالی عصمت و عفت اور نور نبوت و صدیقیت یہ باطنی محاسن یعقوب (علیہ السلام) کے پیش نظر تھے اور دوسرے بھائی ان کی طرح ان کے محاسن سے متصف نہ تھے اور حسن سیرت اور حسن صورت دونوں سے آراستہ تھے نیز یوسف (علیہ السلام) کا حسن و جمال ملائکہ کے حسن و جمال کا ایک نمونہ تھا اس لیے وہ باپ کی نظر میں زیادہ محبوب تھے۔ علاوہ ازیں رشدونجابت کے جو آثار یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین میں نمایاں تھے وہ دوسرے بھائیوں میں نمایاں نہ تھے اور خاص کر یوسف (علیہ السلام) میں نبوت اور صدیقیت کے آثار نمایاں تھے اس اعتبار سے وہ جنس انبیاء و صدیقین سے ہے پس حسب قاعدہ الجنس یمیل الیٰ الجنس یعقوب (علیہ السلام) ان کی طرف زیادہ مائل تھے کیونکہ یہ جانتے تھے کہ یہ خدا کا برگزیدہ اور پیغمبر ہونے والا ہے پس نبوت و رسالت کے ساتھ علاقہ نبوت یعنی فرزندیت بھی مل جائے تو دلی محبت اور تعلق میں اضافہ ہوجاتا ہے اور خدا کے برگزیدہ اور محبوب بندہ سے محبت رکھنا یہ عبادت ہے اور محبوب خدا کی محبت دراصل خدا کی محبت ہے اور پھر یہ کہ یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین اگرچہ باطنی فضائل وشمائل کی وجہ سے یعقوب (علیہ السلام) کی نظر میں زیادہ محبوب تھے مگر عملی طور پر حقوق فرزندیت کے اعتبار سے معاملہ سب کے ساتھ یکساں تھا اور پورے پورے عدل اور انصاف کے ساتھ تھا قرآن سے کہیں یہ ثابت نہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین کو دوسرے بھائیوں پر حقوق واجبہ میں یا کسی ایسے امر میں ترجیح دی ہو جو ان کے اختیار میں ہو اور محبت جس کی حقیقت میلان طبعی ہے وہ امر اختیاری نہیں اس میں عدل اور مساوات ناممکن ہے اگر کوئی باپ اپنے کسی عالم اور متقی بیٹے کو بہ نسبت غیر عالم بیٹے کے زیادہ محبوب رکھے تو اس سے یہ کہنا کہ آپ اس سے زیادتی محبت میں غلطی اور خطا پر ہیں۔ یہی صریح غلطی اور ضلال مبین ہے خوب سمجھ لو اور اولاد میں اور بیبیوں میں طبعی میلان اور محبت کے اعتبار سے مساوات عادتا ناممکن نظر آتی ہے، الغرض جب بھائیوں نے یہ دیکھا کہ باپ کی نظر عنایت یوسف (علیہ السلام) کی طرف زیادہ ہے تو بولے۔ ان ابانا لفی ضلال مبین۔ کہ واقعی ہمارا باپ اس بارے میں صریح گمراہی میں مبتلا ہے اس لفظ سے ان کی دین خداوندی میں گمراہی مراد نہ تھی۔ بلکہ دین محبت اور آئین شفقت میں گمراہی مراد تھی کہ جب ہم اخوت میں برابر ہیں تو محبت میں بھی برابر ہونے چاہئیں اور ضلال کے معنی لغت میں غلطی اور خطاء کے ہیں اور مطلب یہ تھا کہ ہمارے باپ نظر محبت و شفقت کے خرچ کرنے سے غلطی پر ہیں۔ مساوات کیوں نہیں برتتے اس گفتگو سے بھائیوں کا مقصود یہ نہ تھا کہ باپ کی غلطی ثابت کریں بلکہ مقصود یہ تھا کہ اس شخص کا وجود تمہارے لیے محبت پدری میں مزاحم ہے اگر یہ باپ کی نظروں سے دور ہوجائے تو پھر ہمارا معاملہ درست ہوسکتا ہے اور اسی درمیان میں ان کو یوسف (علیہ السلام) کے کو اب کی بھی خبر ہوگئی اس لیے مشورہ کیا کہ کوئی تدبیر ایسی کرنی چاہئے کہ باپ کے سامنے نہ رہے خواہ قتل کرکے، خواہ اس طرح کہ اس کو کسی دور دراز کنوئیں میں پھینک دیا جائے اور اس بارے میں باہم مشورہ ہوا اور رائے ٹھہری کہ یوسف کو مار ڈالو کہ محبت اور شکایت کا محل ہی ختم ہوجائے یا اس کو کسی ایسی درور دراز غیر معلوم زمین میں لے جا کر پھینک دو کہ یوسف (علیہ السلام) وہاں سے واپس نہ آسکیں اور باپ وہاں تک نہ پہنچ سکیں۔ دونوں صورتوں میں باپ سے جدا ہوجائیں گے۔ تو پھر تمہارے ہی لیے خالی ہوجائے گا۔ تمہارے باپ کا چہرہ اور تم باپ کے منظور نظر بن جاؤ گے۔ کیونکہ اس وقت باپ کو تم ہی تم نظر آؤ گے اور اس کے بعد تم توبہ کر کے اللہ کے نزدیک نیک بختوں میں ہوجاؤ گے۔
ع امروز گنہ کنید وفردا توبہ
یا یہ معنی ہیں کہ یوسف علیہ اسلام کے بعد تمہارے سب کا مدرست ہوجائیں گے اس معنی کو صلاح سے اخروی صلاح اور نیک بختی مراد نہ ہوگی بلکہ دنیوی امور کی صلاح اور درستی اور فارغ البالی مراد ہوگی۔ بھائیوں نے صرف یوسف (علیہ السلام) کا ذکر کیا۔ بنیامین کے معاملہ کو کچھ اہمیت نہ دی بظاہر یہ وجہ ہوگی کہ وہ بنیامین کی محبت کو یوسف (علیہ السلام) کی محبت کا تتمہ سمجھتے ہونگے بھائیوں کے اس قول سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا مقصود باپ کو تکلیف پہنچانا نہ تھا بلکہ مقصود یہ تھا کہ باپ کی توجہ اور نظر عنایت کو اپنی طرف پھیر لیں۔ یہ خیال ان پر اس قدر غالب آیا کہ ان کو حسد پر آمادہ کیا اور ان سے یہ کام کروایا۔ مگر آخر میں نادم ہوئے اور خدائے تعالیٰ اور یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی خطا معاف کی اصل مقصود یہ تھا کہ باپ کی توجہ خاص ان کی طرف ہوجائے۔ یخل لکم وجہ ابیکم۔ اور یہ مقصود فی حد ذاتہ محمود تھا۔ مگر اس کے حصول کیلئے جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ غلط تھا ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو قتل تو نہ کرو، بےگناہ کا قتل بہت بڑا گناہ ہے مطلب یہ تھا کہ حسد اور عداوت کو اتنی ترقی نہ دو کہ قتل کرکے جان لے لو یہ کہنے والا بڑا بھائی روبیل تھا یا یہودا تھا اور بجائے قتل کے یہ صورت کرلو کہ اس کو کسی گہرے اور تاریک اور اندھے کنوئیں میں لے جا کر پھینک دو تاکہ کسی کو پتہ ہی نہ چلے کہ کہاں گئے اس لیے بہتر یہ ہے کہ بجائے قتل کے اس کو کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو تاکہ وہاں سے کوئی راہ چلتا مسافر جو وہاں پہنچے اس کو اٹھا لے جاوے اور اس کو کسی اور زمین پر لے جاوے اور تم اس سے چھوٹ جاؤ اور جو تمہاری غرض ہے کہ باپ سے دور ہوجائے اور وہ بلا قتل کے حاصل ہوجائے اگر تم کرنے ہی والے ہو۔ یعنی اگر تم کو یہ کام کرنا ہی ہے تو میری رائے یہ ہے کہ بجائے قتل کے ان کو غیابت الجب میں ڈال دو اور اس طرح سے بھی تمہارا مقصود حاصل ہوجائے گا۔ ” غیابت الجب “ اس کنوئیں کو کہتے ہیں کہ جو چیز اس میں گرے وہ نظروں سے ایسی غائب اور پوشیدہ ہوجائے کہ کسی کو پتہ بھی نہ چلے کہ وہ کہاں گئی۔ مشورہ میں سب کا اسی پر اتفاق رائے ہوگیا اور مشورہ کے بعد باپ سے جدا کرنے کی یہ تدبیر سوجی کہ سب مل کر باپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ کہا کہ اے ہمارے باپ آپ کو کیا ہوا کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے اور کبھی ان کو ہمارے ساتھ نہیں بھیجتے آخر ہم ان کے بھائی ہیں اور تحقیق ہم ان کے خیرخواہ اور بھلائی چاہنے والے ہیں۔ نہ کہ دشمن اور اس پر مہربان ہیں۔ لہٰذا آپ بلا تامل کل کے روز اس کو ہمارے ساتھ جنگل کی طرف بھیج دیجئے کہ آسودہ ہو کر جنگل کے میوے کھائے اور کھیلے کودے اور تیر چلائے اور اونٹ دوڑائے اور اس قسم کے کھیل شرعا جائز ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) بھی خوش ہوجائیں گے اور بیشک ہم ہر حال میں یوسف کے خوب محافظ اور نگہبان رہیں گے۔ یعنی آپ کسی طرح اندیشہ نہ فرمائیں ہم یوسف (علیہ السلام) کو کھلا کو دا کر خوش و خرم آپ کے پاس واپس لے آئیں گے اور شاید اس سے پہلے یوسف (علیہ السلام) کو بھی سیر و تفریح کی ترغیب دیکر ساتھ چلنے پر آمادہ کرلیا ہوگا اس کے بعد باپ سے اجازت چاہی اور یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے جانے کی درخواست کی۔ یعقوب (علیہ السلام) نے جواب میں یہ کہا کہ تحقیق غم میں ڈالتی ہے مجھ کو یہ بات کہ تم یوسف (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ لے جاؤ تمہارے ساتھ جانے پر قلب مطمئن نہیں انبیاء کا قلب مبارک چونکہ سلیم ہوتا ہے۔ اس لیے سنتے ہی ان کو بات میں سے صدق اور کذاب کی بو آنے لگتی ہے۔
یعقوب (علیہ السلام) نے جب بیٹوں کی یہ پر فریب درخواست سنی تو سنتے ہی اس میں سے مکر اور فریب اور حسد کی بو محسوس فرمالی جیسا کہ حدیث میں ہیالصدق طمانینۃ والکذب ریبۃ اور ھسد و منافست کے آثار پہلے ہی سے نمایاں تھے اس لیے یعقوب (علیہ السلام) ان کے ساتھ بھیجنے سے خائف تھے اور بعد میں جب ایک بات بنائی تو یعقوب (علیہ السلام) کا دل مطمئن نہ ہوا تو فرمایا کہ مجھے اس کی جدائی دم بھر بھی ناگوار ہے اور اس کے دیکھے بغیر صبر کرنا میرے لیے بہت دشوار ہے اور اگر بالفرض تم پر اطمینان بھی کرلوں تو میں ڈرتا ہوں کہ اس کو بھیڑیا کھا جائے اور تم اس سے غافل رہو تم کھیل تماشہ میں مشغول ہونے کہ وجہ سے اس کی حفاظت سے غافل ہوجاؤ۔
ازاں ترسم کزو غافل شیند زغفلت صورت حالش نہ بلیند
دریں دیرینہ دشت محنت انگیز کہن گرگے برد دنداں کند تیز
بیان کیا جاتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے خواب میں دیکھا گیا کہ ایک بھیڑئیے نے یوسف (علیہ السلام) پر حملہ کیا۔ (تفسیر قرطبی ص 40 ج 9)
اس لیے یعقوب (علیہ السلام) کو خوف ہوا اور اس علاقے میں بھیڑئیے بھی کثرت سے تھے اس خیال سے انہوں نے یہ بات فرمائی بیٹوں نے اسی بات کو بہانہ پکڑ لیا اور اسی کو واقعہ بنا کر پیش کردیا۔ پہلی بات کا تو کوئی جواب نہ تھا اس سے تو انجان بن گئے بلکہ اسی دوسری بات کا جواب دیا۔ چناچہ یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے دوسری بات کے جواب میں بولے خدا کی قسم اگر اس کو ایسی حالت میں بھیڑیا کھا جائے کہ ہم جیسی قوی جماعت وہاں موجود ہو جو شیروں سے مقابلہ کرسکتی ہے تو ایسی صورت میں ہم یقیناً زیاں کار اور نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ کہ اپنے بھائی سے بھی بھیڑئیے کو دفع نہ کرسکے۔ القصہ جب یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کا مبالغہ اور اصرار سنا اور کسی درجہ میں یوسف (علیہ السلام) کا دل بھی جانے کی طرف مائل پایا تو اپنے دل کو مضبوط کرکے اور قضائے الٰہی پر راضی ہو کر جانے کی اجازت دے دی اور محافظت کی تاکید اکید کی، پھر جب ان کو لیکر چلے تو راستہ ہی میں ان کے ساتھ بدسلوکی شروع کردی جو لائق بیان نہیں اور اس بات پر سب متفق ہوگئے کہ اسکو اندھے کنوئیں میں ڈال دیں۔ چناچہ رسی میں باندھ کر کنوئیں میں لٹکایا اور جب درمیان میں پہنچے تو رسی کاٹ دی جاکر پانی پر گرے کنوئیں میں ایک پتھر تھا اس پر کھڑے ہوگئے۔ (زاد المسیر ص 190 جلد 4)
اور اس وقت ہم نے ان کی تسلی کے لیے ان کے پاس وحی بھیجی کہ تم گھبراؤ نہیں عنقریب اس کنوئیں سے نکلو گے اور خدا تعالیٰ تم کو بلند رتبہ عطاء کرے گا اور ایک دن وہ ہوگا کہ تم ان لوگوں کو یہ بات جتلاؤ گے اور وہ سمجھتے نہ ہونگے کہ تو یوسف (علیہ السلام) ہے مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت آئی کہ تم کسی ہلاکت وغیرہ کا خوف نہ کرو ہم تمہیں کسی ایسے رتبہ پر پہنچائیں گے کہ یہ لوگ تیرے سامنے شرمسار کھڑے ہونگے اور تو ان کو اس فعل سے آگاہ کرے گا اور یہ تیرے بلند رتبہ کی وجہ سے یہ گمان بھی نہ کریں گے کہ تو یوسف (علیہ السلام) ہے بلکہ ان کو یہ خیال ہوگا کہ یوسف (علیہ السلام) تو کہیں ہلاک ہوچکا ہے اس وحی نے یوسف (علیہ السلام) کی مشکل کو آسان کردیا۔ ظاہر اسباب میں آکر شفقت پدری منقطع ہوئی تو رحمت غیبیہ دستگیر بنی اور اس تائید غیبی نے پائے استقامت کو اور محکم اور مضبوط کردیا۔ غرض یہ کہ یہ قصہ تو یوسف (علیہ السلام) کا ہوا اور ادھر وہ لوگ عشاء کے وقت اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے۔ باپ نے رونے کا سبب دریافت کیا تو بولے اے ہمارے باپ ہم دوڑ میں آگے نکلنا چاہتے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ دوڑ میں لگے ہوئے تھے اور یوسف (علیہ السلام) کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے پس اتفاقا بھیڑیا آکر اس کو کھا گیا اور آپ تو ہماری بات کو یقین نہیں کریں گے اگرچہ ہم سچے ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ آپ کو ہماری طرف سے پہلے ہی شبہ تھا اور آپ نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ شاید تم غافل ہوجاؤ اور اس کو بھیڑیا کھا جائے اور اتفاق سے ایسا ہی ہوگیا اور اس کی دلیل ہمارے پاس یوسف (علیہ السلام) کا پیراہن ہے اور اس کے کرتے پر جھوٹا لہو بھی لگا لائے تھے۔ ایک بکری کو ذبح کرکے یوسف (علیہ السلام) کے کرتہ کو اس سے تر کیا کہ یہ یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ ہے جو ہم نے چھڑایا ہے اور اس قمیص کو اپنے قول کی سند میں پیش کیا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے اس کرتہ کو دیکھا۔ فرمایا وہ بھیڑیا بڑا ہی حکیم اور دانا تھا کہ یوسف کو تو کھا گیا اور پیراہن سے کوئی تعرض نہ کیا پھر ازراہ غصہ فرمایا، اے بیٹو یوسف (علیہ السلام) کو بھیڑئیے نے ہرگز نہیں کھایا بلکہ تمہارے نفسوں نے یوسف (علیہ السلام) کی ہلاکت کی ایک بات بنا کر تمہارے لیے آراستہ کردی ہے۔ نور نبوت سے پہچان لیا کہ یہ سب جھوٹ ہے اور ان کی بنائی ہوئی ایک بات ہے اور یوسف (علیہ السلام) فی الحقیقت ابھی زندہ ہے پس اب میرا کام صبر جمیل ہے عمدہ صبر وہ ہے کہ جس میں نہ جزع ہو نہ فزع ہو اور نہ شکوہ و شکایت ہو اور نہ ارادہ انتقام کا ہو اور جو تم یوسف (علیہ السلام) کی ہلاکت کی داستان بیان کرتے ہو اس کے صبر پر اللہ ہی سے مدد مانگتا ہوں اس لیے کہ بغیر اللہ کی مدد کے صبرناممکن ہے کما قال تعالیٰ واصبر وما صبرک الا باللہ۔ یعقوب (علیہ السلام) کو بیٹوں کی بات کا یقین تو نہ آیا مگر یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کا صدمہ بےحد ہوا۔ بیٹے اور بھائی اور عزیزوں کی جدائی کا صدمہایک امر طبعی ہے اور اولاد تو انسان کا ایک جزو ہے اور جب فرزندد لبند حسن سورت اور حسن سیرت سے آراستہ ہو اور خدا کا گزیدہ اور پسندیدہ ہو تو اس کی جدائی کے رنج والم کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے حضرت یعقوب (علیہ السلام) میں یہ ساری باتیں جمع تھیں پھر طرفہ یہ کہ عجیب طرح سے مصیبت آئی بیٹا اگر بیماری میں مبتلا ہو کر مرجائے تو صبر آجاتا ہے کیونکہ موت سے دل مایوس ہوجاتا ہے مگر یہاں بجائے موت کے گم ہونے کا واقعہ پیش آیا کہ نہ تو ہلاکت کا یقین ہے کہ مایوس ہوجائیں اور نہ زندگی اور سلامتی کے کوئی آثار معلوم ہوتے ہیں جس سے پھر ملنے کی امید اور آرزو رکھیں۔ عجیب کشمکش میں مبتل ا تھے کہ نہ مایوس ہوسکتے تھے اور ناامید اور آرزو کی کوئی صورت نظر آتی تھی معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی بتلا دیا گیا کہ یہ ایک امتحان ہے جس میں تم مبتلا کیے جا رہے ہو یہ پورا ہو کر رہے گا اور ایک مدت کے بعد تم کو اس مصیبت سے نجات ملے گی اور سلامتی کے ساتھ یوسف (علیہ السلام) سے دوبارہ ملنا تم کو نصیب ہوگا۔ فی الحال کسی جستجو یا تلاش یا تدبیر سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ تلاش سے یوسف (علیہ السلام) تو ملیں گے نہیں اور بیٹے رسوا ہوجائیں گے۔ لہٰذا صبر جمیل سے کام لیجئے کیونکہ قضا و قدر پر صبر ضروری ہے۔ (دیکھو تفسیر کبیر ص 114 ج 5 و ص 115 جلد 5)
خلاصہ کلام : یہ کہ یعقوب (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ یہ من جانب اللہ ایک ابتلاء ہے ظالم کے ظلم پر اور ماکرکے مکر پر تو صبر ضروری نہیں مگر قضا و قدر پر صبر ضروری ہے قضا و قدر کے مقابلہ میں تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی۔ اس لیے اس وقت صبر جمیل ہی بہتر ہے اور صبر جمیل کے یہ معنی ہیں کہ جب کوئی مصیبت نازل ہو تو بندوں سے شکایت نہ کرے کہ یہ مصیبت مجھ پر کہاں سے آگئی اس لیے یعقوب (علیہ السلام) روپیٹ کر بیٹھ گئے اور نہ یوسف (علیہ السلام) کی جستجو میں پڑے اور نہ بیٹوں سے انتقام کا ارادہ فرمایا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس باپ اور بیٹے کے قصے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ دیکھ لو صبر جمیل ایسا ہوتا ہے اور عفت و پاکدامنی ایسی ہوتی ہے اور یوسف (علیہ السلام) کا قصہ یہ ہوا کہ اتفاق سے ادھر ایک قافلہ آنکلا یہ قافلہ مدین سے مصر کو جا رہا تھا۔ پس قافلہ والوں نے اپنا ایک آدمی پانی لینے کے لیے اس کنوئیں کی طرف بھیجا پس اس پانی لینے والے آدمی نے اپنا ڈول کنوئیں کے اندر لٹکایا، اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ یوسف (علیہ السلام) تم اس ڈول میں بیٹھ جاؤ۔ یوسف (علیہ السلام) اس ڈول میں بیٹھ گئے جب ڈول باہر آیا تو ڈول کھینچنے والا ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیران رہ گیا اور بولا اے بشارت تو حاضر ہوجا یہ تیرے حاضر ہونے کا وقت ہے۔ اے قافلے والو بڑی خوش خبری یہ ہے کہ ایک عجیب و غریب لڑکا ہے جس کا حسن و جمال بےمثال ہے۔
چو آں ماہ جہاں آراء برآمد زجانش بالگ یا بشری برآمد
بشارت کزچنیں تاریک چاہے برآمد بس جہاں افروز ماہے
اور قافلہ والوں نے اس کو سرمایہ تجارت بنا کر پوشیدہ رکھا کہ کوئی اس غلام کا دعویدار نہ نکل آئے مصر جا رہے ہیں وہاں جاکر کسی بڑے دولت مند کے ہاتھ فروخت کریں گے اور خوب نفع کمائیں گے اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں یعنی اللہ کو معلوم ہے کہ قافلے والے اس کو بیچ کر نفع حاصل کرنے چاہتے ہیں کہ یہاں سے کسی دوسرے ملک میں چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ ان کو خزائن مصر کا مالک بنا دے۔ چناچہ بھائیوں کو خبر لگی کہ قافلے والے نکال لے گئے تو وہاں پہنچے اور قافلہ والوں سے یہ ظاہر کیا کہ یہ ہمارا غلام ہے گھر سے بھاگ آیا ہے چونکہ اسے بھاگنے کی عادت ہے اس لیے ہم اب اس کو رکھنا نہیں چاہتے تم اگر خریدنا چاہو تو تم کو سستے داموں میں دیدیں گے اس طرح خریدو فروخت کا معاملہ طے پا گیا اور اس سے ان کو معمولی قیمت پر یعنی چند گنتی کے دراہم پر فروخت کردیا کم و بیش بیس درہم میں ان کو بیچ ڈالا اور دو دو درہم آپس میں بانٹ لیے اور وجہ اس کی یہ تھی کہ بھائی ان کے بارے میں بےغیب تھے ان کا مقصود فروخت کرنا نہ تھا بلکہ یہاں سے ٹلانا ان کا مقصود تھا کہ یوسف (علیہ السلام) کسی طرح یہاں سے دوسرے ملک چلے جائیں دراہم معدودہ پر قناعت کی۔ بھائیوں کو جب یوسف (علیہ السلام) کے کنوئیں سے نکل آنے کی خبر ہوئی تو غلبہ حسد کی وجہ سے یہ چاہا کہ یوسف (علیہ السلام) کو ایسی مصیبت اور بلا میں مبتلا کرو کہ آئندہ چل کر کسی عزت و رفعت کے مقام پر پہنچنے کا امکان ہی ختم ہوجائے۔ اس لیے اس قسم کے مکرو فریب میں لگے ہوئے تھے مگر خداوند ذوالجلال کے یہاں ان کی رفعت اور سربلندی مقدر ہوچکی تھی اس لیے اس کی تقدیر کے مقابلہ میں کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی۔