Ayahs 12:69–87بار دوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ .... الیٰ .... عندہ انا اذا لظلمون
(ربط) یہاں تک برادران یوسف (علیہ السلام) کی پہلی بار آمد کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کی دوسری بار آمد کا ذکر ہے اور جب بار دوم یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق گیارہ بھائی یعنی دس بھائی سابق مع بنیامین کے مختلف دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور بنیامین کو پیش کرکے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق اپنے اس علاتی بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو آپ کے سامنے ہے یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا بنیامین اکیلے رہ گئے اس لیے یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی بنیامین کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اپنے پاس اس کو ٹھہرایا اور کھانے میں ان کو شریک کرلیا اور خلوت میں یوسف (علیہ السلام) نے بنیامین سے پوچھا کہ تیرا نام کیا ہے اس نے کہا بنیامین یوسف (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تیری ماں کا نام کیا ہے بنیامین نے کہا راحیل یوسف (علیہ السلام) نے پوچھا کوئی تیرا سگا بھائی بھی ہے۔ بنیامین نے کہا ایک بھائی تھا وہ ہلاک ہوگیا یوسف (علیہ السلام) نے کہا اگر میں تیرے اس بھائی کے بدلہ جو ہلاک ہوگیا ہے بھائی ہوجاؤں تو تو اس بات کو پسند کرے گا بنیامین نے کہا تجھ سے اچھا بھائی کس کو مل سکتا ہے لیکن تجھ کو یعقوب (علیہ السلام) اور راحیل نے نہیں جنا اس وقت یوسف (علیہ السلام) نے کہا میں تیرا بھائی یوسف ہوں سو یہ لوگ جو تیرے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں اس کی وجہ سے غمگین نہ ہو اللہ نے بھائی کو بھائی سے ملا دیا سب غم غلط ہوگئے اللہ کی رحمت نے اور پھر ان کے حسد نے ہم کو اس منزل پر پہنچایا یہ وقت نہ رنج کا ہے اور نہ شکوہ اور شکایت کا ہے بلکہ حق تعالیٰ کے شکر کا وقت ہے بنیامین نے جب یہ سنا تو خوشی کی کوئی حد نہ رہی اور بنزبان حال یہ کہنے لگے۔
آنچہ می بینم بہ بیداری است یا رب یا بخواب خویشتن رادر چنیں راحت پس از چندیں عذاب
یوسف (علیہ السلام) نے بنیامین کو تسلی دی اور کہا کہ اب ہم تمہیں اپنے پاس رکھنے کی تدبیر کریں گے مگر اس میں ذرا تمہاری بدنامی ہوگی بنیامین نے کہا کچھ پرواہ نہیں پس جب یوسف (علیہ السلام) نے ان کا سامان روانگی تیار کردیا تو پانی پینے کا برتن کہ وہی غلہ دینے کا پیمانہ بھی تھا اپنے بھائی کے سامان میں خود رکھ دیا یا کسی راز دار خادم سے رکھوا دیا اور کسی کو خبر نہ ہوئی اور ظاہر یہ ہے کہ خود یوسف (علیہ السلام) نے رکھا تاکہ کسی کو خبر نہ ہو اور وہ سب خوش و خرم غلہ لے کر روانہ ہوئے پھر جب وہاں سے روانہ ہوئے اور شہر سے باہر نکلے تو ایک پکارنے والے نے پکارا اے قافلہ والو ! تم چور ہو چونکہ برادران یوسف (علیہ السلام) کا قیام خاص مہمان خانہ میں تھا جس میں شاہی پیمانہ رکھا ہوا تھا۔ جب قافلہ روانہ ہوگیا تو کار پردازان مہمان خانہ نے سامان کی خبر گیری کی تو دیکھا کہ شاہی پیمانہ اپنی جگہ پر نہیں تو تلاشی شروع کی۔ جب نہ ملا تو گمان یہ ہوا کہ اس مہمان خانہ میں سوائے اس قافلہ کے کوئی نہ تھا اس لیے منادی نے جاکر آواز دی۔
اے قافلہ والو ! ! ! ٹھہرو ہمارے گمان میں تم چور معلوم ہوئے ہو بظاہر یہ منادی یوسف (علیہ السلام) کے حکم سے نہ تھی بلکہ مہمان خانہ کے خادموں کی طرف سے تھی جب انہوں نے مکان میں وہ پیالہ نہ دیکھا تو ان کا گمان یہ ہوا کہ اس مکان میں ان کے سوا کوئی نہ تھا اس لیے خدام نے اپنے گمان کے مطابق کہا : انکم لسادقون۔ (دیکھو تفسیر کبیر نمبر 2 ص 154 جلد 5، و روح البیان ص 299 جلد 4)
امام رازی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں کہ اگر بالفرض یہ آواز اور منادی یوسف (علیہ السلام) کے حکم سے تھی تو یہ کلام بطریق توریہ اور اشارہ تھا اور مطلب یہ تھا کہ کوئی تو مال چراتا ہے اور چھپاتا ہے تاکہ آئندہ چل کر اس سے فائدہ اٹھائے اور تم تو وہ ہو کہ جنہوں نے بیٹے کو باپ سے چرا لیا اور لے جا کر سستے داموں بیچ ڈالا۔
اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ انکم لسارقون میں ہمزہ استفہام مقدر ہے یعنی ائنکم لسارقون اور مطلب یہ ہے کہ کیا تم چور ہو یہ کلام بطور خبر نہ تھا بلکہ بطور استفہام تھا (تفسیر کبیر ص 154 جلد 5)
اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے حکم سے تھا لا یسئل عما یفعل وھم یسئلون اور حکمت اس میں یہ تھی کہ یوسف (علیہ السلام) کے بعد بنیامین کی مفارقت سے یعقوب (علیہ السلام) کے ابتلاء کی تکمیل ہوجائے۔ (دیکھو تفسیر مظہری ص 49 جلد 5 اور تفسیر قرطبی ص 235 جلد 9)
القصہ جب یہ آواز یعنی ایتھا العیر انکم لسارقون یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے سنی تو گھبرا کر بولے اور ان تلاش کرنے والوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تم نے کیا گم کیا ہے جس کو تم ڈھونڈھتے ہو تو تلاش کرنے والے بولے ہم بادشاہ کا پیالہ گم پاتے ہیں اس کو تلاش کرتے ہیں اور جو اس کو لاکر حاضر کرے اس کے لیے ایک بار شتر غلہ انعام ہے اور میں اس کے دلوانے کا ضامن اور کفیل ہوں غالبا انعام کا یہ اعلان یوسف (علیہ السلام) کے حکم سے ہوا ہوگا اہل قافلہ نہ کہا اے لوگو بخدا تم جان چکے ہو کہ اس ملک میں ہم فساد کرنے نہیں آئے فقط قحط کی وجہ سے غلہ لینے کے لیے آئے ہیں ہماری حالت اور دیانت تم دیکھ چکے ہو اور ہم کبھی چور نہ تھے یہ انہوں نے اس لیے کہا کہ ان کی امانت و دیانت اہل مصر دیکھ چکے تھے کیونکہ بعض روایات میں آیا ہے کہ انہوں نے مصر میں داخل ہوتے وقت اپنے جانوروں کے منہ پر تو برے چڑھا دئیے تھے تاکہ کسی کے کھیت میں منہ نہ ڈال سکیں (دیکھو تفسیر قرطبی ص 234 جلد 9)
اور یہ بھی بیان کی جاتا ہے کہ انہوں نے اس قیمت کو جس کو انہوں نے اسباب میں پایا تھا واپس کردیا تھا (واللہ اعلم بحال اسنادہ) القصہ جب منادی کرنے والوں نے دیکھا کہ باوجود اس تہدید و علامت کے اور باوجود اس انعام اور کفالت کے کسی نے کوئی اقرار نہ کیا تو منادی کرنے والے بولے اچھا بتلاؤ اگر تم جھوٹے نکلے اور تم میں سے کسی کے سامان میں وہ مال برآمد ہوا تو اس کی کیا سزا ہوگی کہنے لگے ہماری شریعت میں اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں وہ مال برآمد ہو وہی شخص اس کی سزا ہے یعنی تم اس کو اپنا غلام بنا لینا ہم ظالموں کو یعنی چوروں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں یعنی ہماری شریعت میں چور کی سزا یہ ہے کہ چور کو اس شخص کے حوالہ کردیا جاتا ہے جس کا مال اس نے چرایا ہو وہ سال بھر تک اس کا غلام رہتا ہے یوسف (علیہ السلام) بھی یہی چاہتے تھے تاکہ ان کے قول کے مطابق حجت قائم ہو اور یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو روک لیں اور بھائیوں کو عذر کی گنجائش نہ رہے انہوں نے خود اقرار کرلیا کہ شریعت ابراہیمی میں چور کی سزا یہ ہے۔
اس طرح اپنے اقرار سے خود پکڑے گئے جب یہ طے ہوگیا کہ چور کی سزا کا طریقہ یہ ہے تو قافلہ کو مصر واپس لائے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے ان کا مقدمہ پیش ہوا۔ یوسف (علیہ السلام) نے تفتیش کا حکم دیا پس یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کی بوری سے پہلے دوسرے بھائیوں کی تلاشی لی اور اپنے بھائی کی بوری سے وہ پیمانہ نکال لیا اور شرط کے مطابق بنیامین کو غلام بنا لیا اس طرح سے ہم نے یوسف (علیہ السلام) کی خاطر بنیامین کے رکھنے کی یہ تدبیر کی کہ بھائیوں ہی کی زبان سے یہ نکلوا دیا کہ جس کے پاس سے مال برآمد ہو اس کو اپنا غلام بنا لو اس طرح وہ اپنے اقرار سے پکڑے گئے اور کوئی عذر نہ کرسکے اور وجہ اس تدبیر کی یہ تھی کہ یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو شاہی قانون کے مطابق نہیں لے سکتے تھے کیونکہ شاہی قانون میں چور کی سزا یہ نہ تھی کہ اس کو غلام بنا لیا جائے۔ بلکہ چور سے مال مسروقہ کی دو چند قیمت لی جاتی تھی اور یہ سزا یوسف (علیہ السلام) کے نزدیک پسندیدہ نہ تھی بہرحال یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو بادشاہ مصر کے قانون کے مطابق نہیں لے سکتے تھے۔ مگر یہ کہ اللہ ہی چاہے تو وہ جس صورت سے چاہے دلا سکتا ہے ہم جس کو چاہتے ہیں علم و حکمت دے کر اس کے درجے بلند کرتے ہیں جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) کو علم اور معرفت عطا کرکے ان کو بلند کیا اور بھائی کو روکنے کا یہ حیلہ اور طریقہ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو بتایا اور ہر ذی علم کے اوپر ایک علم والا ہے یہاں تک کہ اس کی انتہاء اللہ تعالیٰ پر ہے لہٰذا کسی عالم کے لیے یہ زیبا نہیں کہ وہ اپنے علم پر ناز کرے ایک سے ایک بڑھ کر ہے وان الیٰ ربک المنتھی۔
فائدہ جلیلہ در تحقیق مسئلہ جلیلہ
حق تعالیٰ کا یہ ارشاد جعل السقایۃ فی رحل اخیہ اس امر کی دلیل ہے کہ کسی جائز غرض کے حصول کے لیے حیلہ کرنا جائز ہے البتہ ابطال حق یا احقاق باطل کے لیے حیلہ ناجائز ہے اور یہی فقہاء حنفیہ کا مذہب ہے مضائق اور تنگی کے مواقع سے نکلنے کے لیے حضرات انبیاء سے توریہ کرنا ثابت ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا توریہ بل فعلہ کبیرھم قرآن کریم میں مذکور ہے اور نبی اکرم ﷺ کا غزوات میں توریہ فرمانا اور اعداء اللہ کے قتل کرنے کے لئے صحابہ کو توریہ کی اجازت دینا کتب صحاح میں مذکور ہے حالانکہ توریہ بھی ایک قسم کا حیلہ ہی ہے فرق اتنا ہے کہ توریہ حیلہ قولی ہے اور حیلہ میں فعل ہوتا ہے اور یوسف (علیہ السلام) کا یہ حیلہ یعنی بھائی کے سامان میں سقابہ کا رکھ دینا بظاہر حکم خداوندی سے تھا۔ جیسا کہ کذلک کدنا یوسف صراحۃ اس پر دلالت کرتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا یہ کید اور یہ حیلہ بحکم خداوندی تھا اور اس کی مرضی کے مطابق تھا اور اس کے بعد حق تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ نرفع درجت من یشاء وفوق کل ذی علم علیم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس قسم کا حیلہ اور کید وہی شخص کرتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص علم و معرفت عطا ہوا ہو اور ایسا علم موجب رفع درجات ہے اور قرآن کریم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا وخذ بیدک ضغتا فاضرب بہ ولا تحنت یعنی اے ایوب (علیہ السلام) ! تم اپنے ہاتھ میں سینکوں کا ایک مٹھا اٹھا لو اور اس سے کار لو اور قسم نہ توڑدو۔ یہ بھی ایک قسم کا حیلہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی بیوی کے متعلق فرمایا ھذہ اختی یہ میری بہن ہے تاکہ کافر کے شر سے محفوظ رہیں معلوم ہوا کہ مضرت سے بچنے کے لیے حیلہ کا استعمال شرعا محمود ہے اور اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہے اور اس مقام پر حق جل شانہ نے یوسف (علیہ السلام) کے اس حیلہ کو بطریق استحسان ذکر فرمایا ہے :۔
منجملہ افعال خداوندی کے کید اور مکر بھی ہے کما قال اللہ تعالیٰ انھم یکیدون کیدا واکید کیدا۔ ومکروا ومکر اللہ خیر المکرین اور کید اور مکر کی حقیقت خفی ہے اور اللہ تعالیٰ مدبر السموت الارض ہے بعض مرتبہ حق جل شانہ کسی حکمت کی بناء پر اپنے خاص بندوں پر اس قسم کے حیل اور مکائد اور تدابیر منکشف فرماتے ہیں جو بظاہر شریعت کے خلاف معلوم ہوتی ہیں مگر در حقیقت وہ عین حکمت اور عین مصلحت ہوتی ہیں جیسے خضر (علیہ السلام) کا کشتی کو توڑنا اور کم سن لڑکے کو قتل کرنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نظر میں محل تعجب ہوا مگر یہ تمام اموار غیبی حکمتوں اور مصلحتوں پر مبنی تھے فقہاء حنفیہ نے جن حیلوں کی اجازت دی ہے وہ اسی قسم کے حیلے ہیں جن کو حق تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے اور اپنے پیغمبروں کو اس کا حکم دیا ہے باقی ایسا حیلہ جو کسی حکم قطعی سے گریز کے لیے کیا جائے (جیسے اصحاب سبت کا حیلہ) سو ایسا حیلہ فقہاء حنفیہ کے نزدیک قطعا حرام ہے۔
القصہ جب بنیامین اس حیلہ اور تدبیر سے لے لیے گئے تو وہ سب بھائی بہت شرمندہ ہوئے اور غصہ میں آکر کہنے لگے کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں اس سے پہلے اس کا بھائی چوری کرچکا ہے ہم کو معلوم نہ تھا کہ یہ چوری کرے گا بالآخر یہ بھی اپنے بھائی کی طرح نکلا بھائیوں نے جو یوسف (علیہ السلام) کی طرف سرقہ کو منسوب کیا اس کے بارے میں مفسرین (رح) نے کئی قصے بیان کیے ہیں مجاہد (رح) وغیرہ سے یہ منقول ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) کی والدہ کا انتقال ہوگیا تو ان کی پھوپھی نے ان کو پالا وہ یوسف (علیہ السلام) سے بہت محبت کرتے تھیں جب یوسف (علیہ السلام) کسی قدر بڑے ہوگئے تو یعقوب (علیہ السلام) نے چاہا کہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنے پاس رکھیں پھوپھی نے جب ان کو رخصت کیا تو ان کے پاس اسحاق (علیہ السلام) کا ایک پٹکا تھا چھپا کر اس کو یوسف (علیہ السلام) کی کمر میں باندھ دیا پھر اس پٹکے کو ڈھونڈھنا شروع کیا اور یہ ظاہر کیا کہ وہ پٹکا جو مجھ کو اسحاق (علیہ السلام) سے وراثت میں ملا تھا وہ گم ہوگیا ہے تمام گھر والوں کی تلاشی لی آخر یوسف (علیہ السلام) سے وہ پٹکا برآمد ہوا تو پھوپھی نے یعقوب (علیہ السلام) سے کہا دیکھو یوسف (علیہ السلام) نے میری چوری کی ہے لہٰذا دین ابراہیمی کے موافق اس کو میرے حوالہ کرو تاکہ ایک سال تک میں اس سے خدمت کرواؤں یعقوب (علیہ السلام) مجبور ہوئے اور ایک سال کے لیے انہیں یوسف (علیہ السلام) کو اپنی بہن کے پاس چھوڑنا پڑا پس بنیامین کے معاملہ میں برادران یوسف (علیہ السلام) نے اسی قصہ کی طرف اشارہ کیا (تفسیر قرطبی ص 293 جلد 9)
اور بعض کہتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے نانا کا ایک بت چرا کر توڑ ڈالا تھا اور کہتے ہیں کہ گھر کا کھانا چھپا کر فقیروں کو دے دیا کرتے تھے وغیرہ وغیرہ اس قسم کے تمام افعال محمود اور پسندیدہ ہیں ان میں سے کوئی فعل حقیقتاً سرقہ نہیں۔
ابن انصاری (رح) کہتے ہیں کہ یہ جتنے افعال ہیں ان میں کوئی بھی چوری نہیں ہاں ظاہر میں چوری کے مثابہ ہیں جب بھائیوں کو بنیامین کی چوری سے شرمندگی لاحق ہوئی تو غصہ میں آکر یوسف (علیہ السلام) کے اور افعال کو بھی سرقہ قرار دے دیا۔ پس یوسف (علیہ السلام) نے ان کی اس طعن آمیز بات کو دل میں چھپایا اور ان پر ظاہر نہ کیا ان کا یہ طعن آمیز لفظ سن لیا مگر اس کا کوئی رد نہیں کیا زبان سے تو کچھ نہ کہا مگر دل میں یہ کہا تم بہت بدتر ہو اور خدا اس کی حقیقت سے خوب واقف ہے جو تم بیان کر رہے ہو چور تو تم خود ہو بیٹے کو باپ سے چرا کر بیچ ڈالا اور دوسروں کو چور کہتے ہو کوئی تو مال غائب کرتا ہے تم نے تو آدمی غائب کردیا تم غلط کہتے ہو نہ میں چورہوں نہ میرا بھائی چور ہے اس کے بعد یوسف (علیہ السلام) نے بنیامین کو اپنے لوگوں کے سپرد کردیا بھائیوں نے جب یہ دیکھا تو اب فکر ہوئی کہ جا کر باپ کو کیا جواب دیں گے تو منت و خوشامد کرنے لگے اور بولے اے عزیز مصر بنیامین کا ایک بہت بوڑھا باپ ہے اپنے بڑے بیٹے یوسف (علیہ السلام) کے ہلاک ہونے کے بعد اس سے محبت رکھتا ہے اندیشہ ہے کہ وہ اس غم میں مر نہ جائے پس آپ اس کے بوڑھے باپ پر رحم کیجئے اور اس کی نجائے ہم میں سے ایک کو لے لیجئے تحقیق ہم آپ کو احسان کرنے والوں میں دیکھتے ہیں اور آپ سے احسان کی امید رکھتے ہیں بیشک چور کی سزا یہی ہے کہ اس کو روک لیا جائے لیکن ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس کو چھوڑ دیجئے اور اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو روک لیجئے آپ کا احسان ہوگا۔
یوسف (علیہ السلام) نے کہا خدا کی پناہ ! خدا بےانصافی سے بچائے کہ ہم اس شخص کے سوا جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے کسی دوسرے شخص کو پکڑیں اگر ہم ایسا کریں تو ہمارے ظالم ہونے میں کوئی شک نہیں کہ جس کے پاس سے مال برآمد ہوا اس کو تو چھوڑ دیں اور اس کی جگہ دوسرے کو بےوجہ پکڑ لیں تو تمہارے دین کے اعتبار سے بھی یہ صریح ظلم اور بےانصافی ہے جاننا چاہئے کہ یوسف (علیہ السلام) کی یہ تمام کاروائی خداوند تعالیٰ کے حکم سے تھی بھائی کو روکنے کے لیے خدائے تعالیٰ نے یہ حیلہ بتلایا۔
چوں طمع خواہد زمن شلطان دیں خاک بر فرق قناعت بعد ازیں
اس لیے یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر میں اللہ کی وحی اور اس کے حکم کے خلاف کروں تو ظالم ٹھہروں اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی کے مجھ کو بنیامین کے روکنے کا حکم دیا ہے میں اگر اس کو چھوڑ دوں اور اس کے بدلہ دوسرے کو لے لوں تو اللہ کے نزدیک ظالم ٹھہروں گا نبی (علیہ السلام) پر یہ فرض ہے کہ اپنی وحی اور الہام کا اتباع کرے اگرچہ بظاہر وہ شریعت کے خلاف نظر آئے جیسا کہ قرآن کریم میں حضرت خضر (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو افعال خضر (علیہ السلام) سے سرزد ہوئے ان میں اللہ کی مخفی حکمتیں تھیں اور خوب سمجھ لو کہ یہ حکم ان لوگوں کی وحی اور الہام کا ہے جن کا مقبول خداوندی ہونا کسی نص قطعی سے ثابت ہوچکا ہو اور اب قیامت تک کسی کا الہام کتاب و سنت کے خلاف حجت تو کیا ہوتا قابل التفات بھی نہیں۔
Ayahs 12:88–93بار سوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام) بحکم یعقوب (علیہ السلام) برائے تفحص یوسف و بنیامین
قال اللہ تعالیٰ فاما دخلوا علیہ قالوا یایھا العزیز .... الیٰ .... واتونی باہلکم اجمعین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ ذکر تھا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو تاکید اکید کی کہ خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہوں اور یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی تلاش میں نکلیں چناچہ یہ لوگ مصر روانہ ہوئے کہ اول تو اس بھائی کو لانے کی کوشش کریں جس کا نشان معلوم تھا اس کے بعد دوسرے بےنشان بھائی یعنی یوسف (علیہ السلام) کی تلاش شروع کریں اب آئندہ آیات میں یہ ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ یعقوب (علیہ السلام) کی ہدایت کے مطابق پھر مصر روانہ ہوئے اور اناج کے لیے بھی کچھ خفیف سی بضاعت ساتھ لیتے گئے پس جب یہ لوگ یعقوب (علیہ السلام) کے حکم کے مطابق مصر روانہ ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو بولے اے عزیز مصر ! ہم کو اور ہمارے گھر والوں کو قحط کی وجہ سے سخت تکلیف پہنچی ہے اس مرتبہ اے عزیز کے لفظ سے خطاب کیا جس کا مقصود یہ تھا کہ آپ ہماری شکستہ حالی پر رحم فرمائیں ہم قحط زرہ ہیں اور مصیبت میں مبتلا ہیں اور غلہ خریدنے کے لئے ہمارے پاس پوری قیمت نہیں اس لئے ناقص اور ناقابل قبول پونجی لے کر حاضر ہوئے ہیں پس آپ (علیہ السلام) مہربانی سے ہم کو پورا پیمانہ دے دیجئے تحقیق اللہ تعالیٰ خیرات کرنے والوں کو اچھا بدلہ دیتا ہے یوسف (علیہ السلام) نے جب بھائیوں کی یہ نیاز مندی اور درد مندی دیکھی تو آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور ضبط نہ ہوسکا اور حق جل شانہ کی طرف سے اجازت ملی کہ اب اپنے آپ کو ظاہر کردیں اب زمانہ مفارقت کا ختم ہوا چناچہ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا بھال بتاؤ تم کو یاد ہے کہ جو تم نے یوسف اور اس کے بھائی سے برتاؤ کیا جب کہ تمہارا زمانہ جہالت کا تھا اس وقت تم کو برے بھلے کی خبر نہ تھی اس وقت تم جوش میں کر گزرے اور اب تم ہوش میں آرہے ہو یوسف (علیہ السلام) نے اس طرح سے اپنے آپ کو ظاہر کیا کہ بھائیوں کو شرمندگی سے بچانے کے لیے ایک عذر بھی بیان کردیا کہ تم سے نادانی کی حالت میں یہ بات سرزد ہوئی تم کو معلوم نہ تھا کہ یوسف (علیہ السلام) کا خواب اس طرح پورا ہو کر رہے گا بھائیوں نے جب یہ سنا تو فوراً یہ خیال آیا کہ یہ بولنے والا کہیں وہی یوسف (علیہ السلام) تو نہیں جس کا ہم نے مصر قافلہ کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا پھر یوسف (علیہ السلام) کی صورت اور شکل کی طرف نظر کی تو بولے کہ کیا یقیناً تو ہی یوسف (علیہ السلام) ہے یہ جمال اور کمال سوائے یوسف (علیہ السلام) کے کسی میں نہیں کیا تو ہی یوسف (علیہ السلام) ہے ؟
فرمایا کہ ہاں میں یوسف ہی ہوں اور یہ بنیامین میرا حقیقی بھائی ہے ہم دونوں ایک جگہ جمع ہیں جن کے تجسس اور تحسس کے لیے بحکم پدر تم نکلے ہو بیشک اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا کہ دونوں کو جدائی کے بعد یکجا کردیا اور ہماری مصیبت کو مبدل بہ راحت کردیا اور جس کو غلام بنا کر دراھم معدودہ میں فروخت کیا گیا تھا اللہ نے اسے مصر کی حکومت عطا کی بیشک خدا سے ڈرے اور مصائب پر صبر کرے تو اللہ تعالیٰ نیکوں کے ثواب کو ضائع نہیں کرتا بھائی بولے بخدا اللہ نے آپ کو ہم پر وہ فضیلت دی ہے جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھی اور بیشک ہم خطا وار ہیں للہ معاف کردو یوسف (علیہ السلام) نے کہا آج تم پر کوئی ملامت نہیں میں کبھی اس بات کو زبان پر نہ لاؤں گا بہر حال میں نے تمہارا قصور معاف کردیا اللہ بھی تمہارا قصور معاف کرے اور وہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے پس جب میں نے تم پر رحم کیا تو وہ کیوں رحم نہ کرے گا پھر یوسف (علیہ السلام) نے ان سے اپنے باپ کا حال دریافت کیا انہوں نے کہا کہ روتے روتے ان کی آنکھیں جاتی رہیں یہ سن کر اپنا پیراہن ان کو دیا اور کہا کہ میرا یہ کرتہ لے جاؤ اور اس کو میرے باپ کے منہ پر ڈال دو اور وہ بینا ہو کر میرے پاس آئیں گے اس کرتہ کے ڈالنے سے ان کی آنکھیں روشن ہوجائیں گی اور ان کے ساتھ باقی سب گھر والوں کو بھی میرے پاس لے کر آؤ مطلب یہ ہے کہ بحالت موجودہ میں تو شام کا سفر نہیں کرسکتا تم جاؤ اور والدین کو اور اب اہل خانہ کو لے کر آؤ اور یہ سب بحکم الٰہی تھا اور اپنی قمیص سے کر یہ فرمانا کہ باپ کی آنکھوں کو لگا دینا یہ بھی بحکم خداوندی تھا اور من جانب اللہ معجزہ اور کرامت تھی کہ ایک نبی اور صدیق کے کرتہ کو چہرہ ڈال دینے سے بینائی واپس آگئی جیسے آنحضرت ﷺ کے دست مبارک اور لعاب دہن لگانے سے ایک صحابی ؓ کی آنکھ درست ہوگئی اور بہت سے بیمار آپ صلی اللہ کے ہاتھ پھیرنے سے اچھے ہوگئے چناچہ بھائی اس قمیص کو لے کر مصر سے کنعان کو روانہ ہوئے۔
فائدہ : غالبا یوسف (علیہ السلام) نے اپنے اس حال کی اپنے باپ کو اس لئے اطلاع نہ دہی ہو کہ بذریعہ وحی ان کو منع کردیا گیا تھا کہ باپ کو اپنے مصر میں ہونے کی اطلاع نہ دیں تاکہ مزید گریہ و بکا سے ان کے درجات اور بلندہوں یا اس میں اللہ کی کوئی اور حکمت ہو۔
Ayahs 12:94–98باز گشتن برادران یوسف (علیہ السلام) از سفر سوم و بشارت بردن
قال اللہ تعالیٰ علما فصلت العیر قال ابوہم .... الیٰ .... انہ ھو الغفور الرحیم
(ربط) جب یوسف (علیہ السلام) نے باپ کی بینائی کے لیے قمیص عطا کی اور کہا کہ سب اہل و عیال کو لے کر آؤ تو سب بھائی پیراہن یوسفی لے کر شاداں وفرحاں مصر سے کنعان کی طرف روانہ ہوئے اور جب قافلہ مصر سے کنعان روانہ ہوا یعنی مصر کی آبادی سے باہر نکل گیا تو یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا جو اس وقت ان کے پاس تھے تحقیق میں یوسف (علیہ السلام) کی بو محسوس کرتا ہوں اگر تم مجھ کو مخبوط الحواس نہ کہو کہ بڑھاپے کی وجہ سے بہک گیا اور بہکی ہوئی باتیں کر رہا ہے۔ جب تک خدا تعالیٰ کو ابتلاء منظور تھا اس وقت تک یوسف (علیہ السلام) کی کوئی خبر معلوم نہ تھی حالانکہ مصر کنعان سے بہت دور تھا مصر سے کنعان میں اور کنعان سے مصر مصر میں ہمیشہ قافلے آتے جاتے رہتے تھے پھر جب خدائے تعالیٰ کو ان کی مصیبت کا دور کرنا منظور ہوا تو باد صبائے بحکم خداوندی خلاف عادت یوسف (علیہ السلام) کی بو حضرت یعقوب (علیہ السلام) تک پہنچا دی اور اتنی دور سے خوشبو کا پہنچنا بطور معجزہ اور خرق عادت تھا۔
اس سے ثابت ہوا کہ ہر ایک بات خدا کی قدرت میں ہے ادھر قافلہ یوسف (علیہ السلام) کی قمیص لے کر مصر سے نکلا اور ادھر اس کی خوشبو یعقوب (علیہ السلام) کو محسوس ہونے لگی یہ یعقوب (علیہ السلام) کا معجزہ تھا اور معجزہ نبی کا اختیاری فعل نہیں ہوتا کہ جب چاہے اس کو کرسکے وہ اللہ کا فعل ہوتا ہے خدا جب چاہتا ہے جب اعجاز کا ظہور ہوتا ہے انبیاء کرام (علیہما السلام) ظاہر صورت کے اعتبار سے عام مخلوق سے ممتاز نہیں ہوتے اور جب کسی اعجاز کا ظہور ہوتا ہے تب ان کا امتیاز ظاہر ہوتا ہے اسی مضمون کو شیخ سعدی علیہ الرحمہ نے یوں ادا کیا ہے :
یکے پرسید ازاں گم کردہ فرزند کہ اے عاقل گہر پیر خرد مندا !
زمصرش بوئے پیراہن شمیدی چرا درچاہ کنعانش نہ دیدی
بگفت احوال ما برق جہانست دمے پیداو دیگر دم نہانست
گہے برطام اعلیٰ نشینم ! گہے برپشت پائے خود نہ بینم
فاروق اعظم ؓ مسجد نبوی ﷺ میں خطبہ دے رہے تھے اور مجاہدین کا لشکر نہاوند میں مشغول جہاد تھا یکایک اثناء خطبہ میں فاروق اعظم ؓ نے سردار لشکر ساریہ ؓ کو آواز دی یا ساریۃ الجبل۔ اے ساریہ پہاڑ کے پیچھے مقام نہاوند میں تمام لشکر نے حضرت عمر ؓ کی آواز سنی یہ حضرت عمر ؓ کی کرامت تھی کہ بلا اسباب ظاہری حضرت عمر ؓ کی آواز مدینہ کے منبر سے نہاوند پہنچا دی ایسی کرامتوں کا ظہور کبھی کبھی ہوتا ہے ہمیشہ نہیں کیونکہ کرامت ولی کا اختیاری فعل نہیں بلکہ اللہ کا فعل ہے اسی طرح معجزہ بھی اللہ کا فعل ہے نبی کا فعل نہیں اس کا ظہور اللہ کے ارادہ اور مشیت پر موقوف ہے پس جو خدا اپنے مقبول بندہ کی آواز اتنی دور تک پہنچا سکتا ہے اور سنا سکتا ہے تو وہی خدا اپنے برگزیدہ بندہ کے پیراہن کی خوشبو کسی دوسرے برگزیدہ بندہ کو صدہا میل دور کے فاصلہ پر سونگھا سکتا ہے اور سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا مسخر تھی۔ ولسلیمن الریض عاصفۃ تجری بامرہ۔ فسخرنا لہ الریح الی آخر الآیات پس اگر اسی طرح کسی وقت بادصبا بحکم خداوندی کسی برگزیدہ صفت کے خلعت کی خوشبو کسی دوسرے برگزیدہ تک پہنچا دے تو کوئی محال نہیں اس کو قبول کرو اور اپنے وسوسوں سے اس کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہ کرو۔
الغرض جب یعقوب (علیہ السلام) نے یہ کہا کہ میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کرتا ہوں تو حاضرین مجلس بولے تحقیق آپ تو اپنی اسی پرانی گمراہی میں مبتلا ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) ابھی زندہ ہیں اور آپ (علیہ السلام) سے ملیں گے اسی خیال کے غلبہ سے آپ کو خوشبو کا وہم ہوگیا ہے ورنہ واقع میں کوئی خوشبو نہیں کیونکہ یوسف (علیہ السلام) کو مرے ہوئے ایک مدت ہوگئی پھر جب مصر سے بشارت دینے والا آیا تو اس نے آکر یہ خبر دی کہ یوسف (علیہ السلام) صحیح سالم زندہ ہیں اور انہوں نے یہ پیراہن دے کر مجھے بھیجا ہے تو اس بشیر نے اس کرتہ کو ان کے منہ پر ڈالا تو اسی وقت یعقوب (علیہ السلام) بینا ہوگئے اور پھر اس نے سارا ماجرا بیان کیا اس وقت یعقوب (علیہ السلام) نے گھر والوں سے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے یعنی مجھے تو اول ہی سے یقین تھا کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہے اور ایک روز مجھے ضرور ملے گا۔
بیان کیا جاتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اس بشارت دہندہ سے پوچھا کہ تو نے یوسف (علیہ السلام) کو کس حال میں چھوڑا اس نے کہا کہ میں نے اس حال میں چھوڑا کہ وہ مصر کا بادشاہ ہے یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا بادشاہت سے مجھے کیا مطلب یہ بتلا کہ تو نے اسے کون سے دین پر چھوڑا اس نے کہا دین اسلام پر یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اب نعمت پوری ہوئی (تفسیر قرطبی ص 261 جلد 9)
یعقوب (علیہ السلام) کا یہ جواب سن کر سارے بیٹے والد بزرگوار کے قدموں پر گرے اور بولے اے ہمارے باپ آپ خدا تعالیٰ سے ہمارے لیے دعائے مغفرت کیجئے بیشک ہم خطا وار ہیں ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں آپ کو جو تکلیف پہنچائی اس پر نادم اور شرمسار ہیں یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا میں عنقریب تمہارے لیے دعائے مغفرت کروں گا بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔ عنقریب سے مراد یہ ہے کہ سحر میں دعا کروں گا وہ وقت دعا کی قبولیت کا ہے بیٹوں کا مطلب یہ تھا کہ آپ خود ہی ہمارا قصور معاف فرما دیں اور خدائے تعالیٰ سے بھی دعائے مغفرت کریں حتیٰ کہ آپ کا دل صاف ہوجائے اور قلب مبارک میں ہماری طرف سے کوئی کدورت باقی نہ رہے۔
Ayahs 12:99–100بار چہارم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام) مع والدین واہل خود
قال اللہ تعالیٰ فلما دخلوا علی یوسف اوی الیہ ابویہ .... الیٰ .... ھو العلیم الحکیم
(ربط) بعد ازاں یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے سارے کنبے سمیت مصر کو روانہ ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) خبر سن کر مصر سے باہر استقبال کے لیے نکلے پس جب یعقوب (علیہ السلام) مع خاندان کے یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ماں باپ کو اس خیمہ میں جگہ دی جس کو ان کے استقبال کے لیے آراستہ کیا تھا اور پھر ملاقات سے فراغت کے بعد سب سے کہا اب انشاء اللہ امن اور اطمینان کے ساتھ اندرون مصر تشریف لے چلئے اور پھر وہاں پہنچ کر اپنے والدین کو تخت شاہی پر بٹھایا اور اس پرشوکت منظر کو دیکھ کر سب پر یوسف (علیہ السلام) کی عظمت و جلال ایسی غالب آئی کہ سب کے سب سجدہ میں گر پڑے یہ سجدہ تعظیمی تھا جو حضرت آدم (علیہ السلام) کے وقت سے چلا آ رہا تھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے عہد تک جائز رہا اب شریعت محمدیہ ﷺ میں حرام اور ممنوع قرار دیا گیا والدین کا اور بھائیوں کا یہ سجدہ بطور تحیت وسلام اور بطریق تعظیم و اکرام تھا نہ کہ بطریق عبادت اس لیے کہ سجدہ عبادت اللہ کے لیے مخصوص ہے اور سجدہ تعظیمی پہلی شریعتوں میں غیر اللہ کے لیے جائز تھا اب ہماری شریعت میں اس کا جواز منسوخ ہوگیا اور ” ابوین “ جس کے معنی ماں باپ کے ہیں اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ اس سے حقیقی ماں باپ مراد ہیں یا باپ اور خالہ مراد ہیں اس لیے کہ بعض علماء کا قول یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی والدی اس واقعہ سے پیشتر وفات پاچکی تھیں اور یعقوب (علیہ السلام) کے ساتھ سجدہ کرنے والی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خالہ تھیں اور خالہ بھی بمنزلہ ماں ہوتی ہے اور محمد بن اسحاق (رح) اور ابن جریر (رح) وغیرہم یہ کہتے ہیں کہ یہ ان کی حقیقی ماں تھیں اس وقت وہ زندہ تھیں اور وہی ساتھ آئی تھیں اور کسی دلیل صحیح سے یہ ثابت نہیں کہ ان کی والدہ مرچکی تھیں اور ظاہر قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے وقت ماں باپ دونوں زندہ تھے (واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم)
اور جب سب یوسف (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ میں گرگئے تو یوسف (علیہ السلام) نے کہا اے میرے والد بزرگوار ! یہ ہے میرے اس خواب کی تعبیر جو میں نے پہلے زمانہ میں دیکھا تھا تحقیق میرے پروردگار نے اس کو پورا کرکے دکھلایا خدا نے جو خواب دکھلایا اب اس کی تعبیر دکھلا دی یہ سب میرے پروردگار کا فضل ہے اس میں میرا کوئی دخل نہیں اور یوسف (علیہ السلام) نے یابت سے صرف باپ کو خطاب کیا اور ماں کو خطاب نہ کیا کیونکہ ماں علم تعبیر کی عالم نہ تھیں علم تعبیر کے عالم صرف باپ تھے اس لیے کہا یابت اے باپ یہ میرے خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے دیکھا اور جس کے ظہور کے آپ منتظر تھے اور نور نبوت سے آپ کو معلوم تھا کہ یہ خواب ضرور پورا ہوگا اللہ نے اس کو سچ کردیا اور یہ اس کا فضل اور احسان ہے اور اس نے مجھ پر یہ احسان کیا کہ مجھے قید خانہ سے نکالا اور مجھ کو اس مرتبہ پر پہنچایا اور تم کو دیہات سے شہر میں لایا اور مجھ سے ملایا بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان اختلاف ڈال دیا تھا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے قید خانہ سے نکلنے کے احسان کا ذکر فرمایا اور کنوئیں سے نکلنے کے احسان کا ذکر نہ کیا تاکہ بھائی شرمندہ نہ ہوں اور ایک قسم کی معذرت بھی کردی کہ میرے اور بھائیوں کے درمیان جو جھگڑا پیدا ہوا وہ سب شیطان کا ڈالا ہوا تھا شیطان اگر درمیان میں نہ گھستا تو بھائی مجھ سے ہرگز نہ جھگڑتے۔ سبحان اللہ کیا حسن خلق ہے کہ بےقصور ہیں اور شرمندہ ہو رہے ہیں نہ گزشتہ مصائب کا کوئی ذکر کیا اور نہ کوئی حرف شکایت زبان پر ہے بھائیوں کو معذور قرار دے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احسانات کے بیان میں مشغول ہیں بیشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے اس کی عمدہ تدبیر کرتا ہے کام کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو اس کی لطف تدبیر سے سب آسان ہوجاتا ہے بیشک وہی علم والا اور حکمت والا ہے وہ ہر چیز کی مصلحت اور تدبیر کو جانتا ہے اور اس کا ہر فعل حکمت پر مبنی ہے چاہ کنعان سے لے کر اس وقت تک چالیس سال گزرے اور قسم قسم کے ابتلا پیش آئے اللہ ہی کو ان کی حکمتیں اور مصلحتیں معلوم ہیں امام قرطبی (رح) فرماتے ہیں کہ اہل تاریخ کا بیان ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) مصر میں یوسف (علیہ السلام) کے پاس 24 برس تک نہایت خوش حالی اور فارغ الباری اور کمال عیش و عشرت کے ساتھ رہے جب ان کی وفات کا وقت آیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کو وصیت کی کہ ان کے جسد مطہر کو شام کی مقدس زمین میں ان کے باپ اسحاق (علیہ السلام) کی قبر کے پاس دفن کرنا جب یعقوب (علیہ السلام) نے مصر میں وفات پائی تو یوسف (علیہ السلام) ان کی وصیت کے مطابق ساج کے ایک تابوت میں ان کے جسد کر رکھ کر شام لے گئے جس روز شام پہنچے اتفاق سے اسی روز یعقوب (علیہ السلام) کے بھائی عیص نے انتقال کیا دونوں بھائی ایک ہی قبر میں دفن کیے گئے اور ایک ہی ساتھ دونوں پیدا ہوئے تھے اور ہر ایک کی عمر ایک سو سینتالیس (147) برس ہوئی یوسف (علیہ السلام) اپنے باپ اور چچا کے دفن سے فارغ ہو کر مصر واپس آگئے (دیکھو تفسیر قرطبی صفحہ 228 جلد 9)
Ayah 12:101خاتمہ بردعائے یوسف (علیہ السلام) برائے خاتمہ بالخیر
قال اللہ تعالیٰ رب قد اتیتنی من الملک .... الیٰ .... والحقنی بالصلحین
(ربط) یوسف (علیہ السلام) باپ کے دفن کے بعد مصر واپس آگئے اور باپ کی وفات کے بعد تئیس 23 سال زندہ رہے اور باپ اور چچا کی وفات کے بعد آخرت کا شوق غالب ہوا اور یہی دعا شروع کی اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو دنیوی، دینی اور ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا ہے تو نے مجھے ملک مصر کی سلطنت عطا کی اور خوابوں کی تعبیر کا علم مجھ کو سکھایا اور نبوت اور صدیقیت عطا کی۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی میرا کارساز ہے دنیا اور آخرت میں پس جس طرح تو نے میری دنیا کو درست کیا اسی طرح میری آخرت کو بھی درست فرما اور اسلام کی حالت میں مجھے موت دے یعنی اپنی اطاعت اور فرماں برداری کی حالت میں مجھے وفات دے اور مجھ کو نیک بختوں کے ساتھ ملا دے یعنی میرے آباء و اجداد ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کے ساتھ ملا دے اور انبیاء کے زمرے میں مجھے پہنچا دے۔ جاننا چاہئے کہ یوسف (علیہ السلام) کی یہ دعا تمنائے موت نہ تھی کہ فی الحال مجھ کو موت آجائے بلکہ مطلب یہ تھا کہ جب وقت مقدر پر میری موت آئے تو وہ موت دین اسلام ہی پر آئے اور طوق صالحین مجھے میسر ہو بہرحال موت کی دعا نہیں بلکہ حسن خاتمہ کی دعا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اے پروردگار جب مجھ کو موت آئے تو اسلام پر آئے اور تیری اطاعت اور فرماں برداری کی حالت میں مروں یہی دعا ہر مسلمان کو مانگنی چاہئے حسن خانہ کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی دعا نہیں فاطر السموت والارض انت ولی فی الدنیا والاخرۃ توفنی مسلما والحقنی بالصلحین۔ (آمین یا رب العالمین)
امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ میں اکثر اسی دعا کا ورد رکھتا ہوں (دیکھو تفسیر کبیر جلد 5 ص 176)
اہل سیر نے لکھا ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کا وقت آیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ایک وقت آئے گا کہ بنی اسرائیل مصر سے نکلیں گے اس وقت میرا تابوت بھی اپنے ہمراہ لے جائیں گے۔
یوسف (علیہ السلام) نے ایک سو دس سال یا ایک سو سات سال کی عمر میں وفات پائی اور عزیز کی عورت کے بطن سے ان کے دو لڑکے پیدا ہوئے اور ایک لڑکی۔ لڑکوں کے نام افرایئم اور میشا تھے اور لڑکی کا نام رحمت تھا جو حضرت ایوب (علیہ السلام) کے عقد میں آئی جب آپ (علیہ السلام) نے وفات پائی تو اہل مصر نے آپ (علیہ السلام) کے دفن کے متعلق اختلاف کیا ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ میرے محلہ میں دفن ہوں تاکہ ان کی برکات سے مستفیض ہوں بالآخر ان کو سنگ مرمر یا سفید پتھر کے صندوق میں رکھ کر دریائے نیل کے قریب دفن کردیا اور یوسف (علیہ السلام) کے وصال کے بعد سلطنت مصر حسب سابق فراعنہ مصر کے ہاتھ میں منتقل ہوگئی یہاں تک کہ انہیں سلاطین مصر کے سلسلہ میں وہ فرعون ہوا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں تھا۔