12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 12:102–111

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ اخبار غیب میں سے ہیں۔ جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادارن یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے۔

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے ہیں۔

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلہ بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ (قرآن) اور کچھ نہیں ' تمام عالم کے لئے نصیحت ہے۔

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں۔ اور ان سے اعراض کرتے ہیں۔

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں۔

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انھیں خبر بھی نہ ہو ؟

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

کہہ دو میرا راستہ تو یہ ہے۔ میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (ازروئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر۔ میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا ؟ اور متقیوں کے لئے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں۔

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ (اپنی نصرت) کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی اس میں وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آپہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگاروں سے پھرا نہیں کرتا۔

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

ان کے قصے میں عقلمندوں کے لئے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں ہے۔ جو (اپنے دل سے) بنائی گئی ہو بلکہ جو (کتابیں) اس سے پہلے (نازل ہوئی) ہیں ان کی تصدیق (کرنے والا) ہے اور ہر چیز کی تفصیل (کرنے والا) اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

خاتمہ سورت بر اثبات رسالت محمدیہ ﷺ وتہدید منکرین وبیان حقانیت کتاب مبین قال اللہ تعالیٰ ذلک من انبیاء الغیب نوحیہ الیک .... الیٰ .... وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون (ربط) یہ سورت ان سائلین کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے آپ ع صلی اللہ علیہ سے بغرض امتحان یوسف (علیہ السلام) کا قصہ دریافت کیا تھا اب خاتمہ سورت پر یہ بتلاتے ہیں کہ یہ قصہ آپ ﷺ کی نبوت کی کس طرح دلیل بنا چناچہ فرماتے ہیں کہ احسن القصص یعنی یوسف (علیہ السلام) کا قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جس کے علم کا سوائے وحی خداوندی کے کوئی ذریعہ نہیں ہم صرف وحی کے ذریعہ سے آپ ﷺ کو یہ قصہ بتلاتے ہیں اور یہ آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل قاطع ہے کیونکہ آپ ﷺ تو امی ہیں کتابیں پڑھنا نہیں جانتے اور نہ آپ ﷺ نے یہ قصہ کسی سے سنا ہے پس آپ ﷺ کے پاس اس قصہ کے معلوم ہونے کا سوائے وحی الٰہی کے کوئی ذریعہ نہیں لہٰذا اس قصہ کو اس حسن ترتیب اور فصاحت و بلاغت کے ساتھ بیان کرنا یہ آپ ﷺ کا کھلا معجزہ ہے۔ اور آپ ﷺ کی نبوت کی شافی اور کافی دلیل ہے اور اے نبی ! آپ ﷺ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے پاس موجود نہ تھے جب وہ یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈالنے کے متعلق پختہ ارادہ کر رہے تھے اور وہ اس کی تدبیریں کر رہے تھے پس آپ ﷺ نے جب یہ واقعہ نہ خود دیکھا اور نہ کسی سے سنا تو معلوم ہوا کہ آپ ﷺ صاحب وحی اور صاحب نبوت ہیں اور باوجود ان شواہد اور دلائل کے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں اگرچہ آپ ﷺ کتنی ہی حرص کریں کہ وہ ایمان لے آئیں کیونکہ وہ اللہ کے علم میں ازلی شقی ٹھہر چکے ہیں یہود اور قریش نے امتحانا آپ ﷺ سے یہ قصہ دریافت کیا تھا آپ ﷺ نے وحی الٰہی کی مدد سے اس کو صحیح صحیح بیان کردیا اس پر بھی ایمان نہ لائے تو آپ ﷺ کو رنج ہوا اور اے نبی ! آپ ان سے اس تبلیغ اور نصیحت پر کوئی معاوضہ نہیں چاہتے کہ اس کے نہ ملنے سے آپ کا نقصان ہوتا یہ قرآن تو دنیا جہان کے لیے نصیحت ہے جس کا جی چاہے مانے اور جس کا جی چاہے نہ مانے یہ قرآن تو دلائل نبوت اور دلائل توحید سے بھرا پڑا ہے اگر نظر انصاف سے اس قرآن کو دیکھیں تو ان پر مبداء اور نبوت اور معاد سب منکشف ہوجائے اور آسمانوں اور زمین میں ہماری قدرت اور وحدانیت کی کتنی ہی نشانیاں موجود ہیں جن پر یہ لوگ گزرتے ہیں یعنی ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور وہ ان سے اعراض کرتے ہیں اگر ان کی طرف التفات کرتے تو ایمان لے آتے اور اکثر لوگ جو خدا کو مانتے بھء ہیں تو وہ اس طرح مانتے ہیں کہ دوسروں کو بھی خدا کے ساتھ شریک گردانتے ہیں ایسا ماننا نہ ماننے کے حکم میں ہے مطلب یہ ہے کہ نہ توحید کے قائل اور نہ رسالت کے قائل سو کیا یہ توحید و رسالت کے منکر اس بات سے مطمئن ہوگئے ہیں کہ ان پر عذاب خداوندی سے کوئی ایسی آفت آئے جو ان کو اپنے اندر چھپائے اور الحاف کی طرح ان کو ہر طرف سے چھپالے یا ناگہاں ان پر قیامت کی گھڑی آجائے جس کے آنے سے ان کو خبر بھی نہ ہو۔ اے نبی ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ یہ دین اسلام اور توحید میری راہ ہے میں تم کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں بصیرت پر ہوں میں اور میرے پیرو یعنی میرے پاس ایسے دلائل ہیں کہ جن کو دیکھ کر دل کی آنکھیں کھل جائیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ میں تم کو ایک اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں مطلب یہ ہے کہ میں تم کو اپنا بندہ نہیں بناتا بلکہ خدا کی بندگی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اگر کسی کو میری نبوت کے بارے میں یہ شبہ ہو کہ نبی اور رسول تو فرشتہ ہونا چاہئے تو یہ شبہ مہمل ہے اس لئے کہ ہم نے آپ سے پہلے جس قدر رسول بھیجے وہ سب مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے کوئی فرشتہ نہیں تھا اور نہ کوئی عورت نبی بنا کر بھیجی گئی اور وہ انبیاء سابقین بستیوں کے رہنے والے تھے اصحاب علم اور فہم اور حلم تھے کیونکہ جنگل کے لوگ اکثر سخت دل اور تندخو اور جفا پیشہ ہوتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے بستی کے رہنے والوں کو نبی بنا کر بھیجا پھر دیکھ لو کہ ان کے جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ حسن بصری (رح) سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بادیہ میں سے کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا اور نہ عورتوں میں سے اور نہ جنات میں سے کسی کو رسول بنا کر بھیجا۔ (دیکھو تفسیر قرطبی ص 274 جلد 9) سو کیا ان مشرکین نے ملک کی سیر نہیں کی کہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے کہ ان منکرین اور مکذبین کا انجام کیسا خراب ہوا جو ان سے پہلے گزرے ہیں جب انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو سب کے سب عذاب سے ہلاک ہوئے اس زمانہ کے کافروں کو چاہئے کہ ان کے حال سے عبرت پکڑیں اور البتہ آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو شرک اور معصیت سے بچتے ہیں۔ سو کیا تم نہیں سمجھتے کہ پہلی قومیں کس طرح ہلاک ہوئیں وجہ اس کی یہ ہوئی کہ ان لوگوں نے آخرت کی پرواہ نہ کی اور مال اور دولت نے نشہ میں خدا کے رسولوں کا مقابلہ کرتے رہے اللہ تعالیٰ حلیم و کریم ہے اس نے ان کو فورا عذاب میں نہ پکڑا بلکہ ان کو لمبی لمبی مہلتیں دیں اور وہ جتنا کفر میں ترقی کرتے گئے اتنی ہی نعمتوں کے دروازے ان پر کھلتے گئے جس سے یہ منکرین بےفکر اور نڈر ہوگئے بالآخر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور سب ہلاک و برباد ہوئے پس کفار عرب فی الحال عذاب کے نازل ہونے سے دھوکہ میں نہ پڑیں اگلی امتوں کو بھی اس طرح طویل مہلتیں دی گئیں۔ یہاں تک کہ جب مہلت کی مدت طویل ہوئی اور عذاب موعود کے نازل ہونے میں دیر ہوئی اور اندازہ اور تخمینہ کے مطابق عذاب نہ آیا تو پیغمبر مایوس ہونے لگے اور گمان کرنے لگے کہ ہم سے جو ہماری نصرت اور دشمنوں کی ہلاکت کا وعدہ کیا گیا تھا جو اب تک ہمارے اندازہ اور تخمینہ کے مطابق پورا نہیں ہوا شاید وہ عذاب ہماری زندگی میں نہ آوے بلکہ ہمارے پیچھے آوے یا ہماری کسی غلطی کی وجہ سے کوئی غلط فہمی ہوئی کہ ہم نے اپنے خیال سے نزول عذاب کا وقت مقرر کرلیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے جو نزول عذاب کا وعدہ کیا تھا وہ مطلق تھا اس میں کسی وقت اور زمانہ کا تعین نہ تھی حضرات انبیاء نے اپنی رائے اور اجتہاد سے اور اپنے اندازہ اور تخمینہ سے نزول عزاب کا وقت متعین کرلیا جیسا کہ آنحضرت ﷺ کو خواب دکھلایا گیا کہ آپ ﷺ مکہ میں داخل ہو رہے ہیں خواب مطلق تھا اس میں کوئی وقت معین نہ تھا مگر آپ پر طواف کعبہ کا شوق غالب ہوا اس لیے آپ ﷺ اسی سال عمرہ کی نیت سے روانہ ہوئے اور کامیاب نہ ہوئے اور اس خواب کی تعبیر سال آئندہ ظاہر ہوئی اس وقت تنبہ ہوا کہ وعدہ خداوندی تو صدق اور حق تھا مگر ہم سے غلط فہمی ہوئی کہ ہم نے اپنے خیال سے اس کی مدر متعین کرلی کہ وہ وعدہ اسی سال پورا ہوگا حضرات انبیاء کرام (علیہم السلام) سے خطاء اجتہادی کا واقع ہونا عصمت کے منافی نہیں وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطن فی امنیتہ میں اس کی تفصیل آئے گی غرض یہ کہ جب عذاب کے نازل ہونے میں دیر ہوئی اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کے اندازہ اور تخمینہ کے مطابق عذاب نہ آیا تو انبیاء (علیہ السلام) یہ گمان کرنے لگے کہ وعدہ عذاب کو جس رنگ میں ہم نے سمجھا تھا وہ صحیح نہ تھا تو جب رسولوں کی نا امیدی اور پیشانی اس حد کو پہنچ گئی تو اس وقت حسب وعدہ یکایک اور ناگہاں ان کی مدد پہنچی اور وہ مدد یہ آئی کہ کافروں پر عذاب آیا اور لوگوں پر پیغمبروں کا صدق ظاہر ہوا کہ انبیاء نے جو نصر و ظفر کی خبر دی تھی وہ سچی تھی مطلب یہ ہے کہ خداوند کریم کی انبیاء ومرسلین اور اولیاء اور محبین کے ساتھ سنت قدیمہ ہے کہ جب ابتلاء اور امتحان اس حد کو پہنچ جائے کہ کلیجہ منہ کو آجائے تب ان کو فتح اور ظفر کا منہ دکھلاتے ہیں اور ان کے دشمنوں کو جو ان کو برملا چھوٹا بتلا رہے تھے زیر و زبر اور تہ وبالا کرتے ہیں اس طرح سے اپنے دوستوں کی عزت اور دشمنوں کی ذلت کا تماشا دنیا کو دکھاتے ہیں پھر اس عذاب سے جو کافروں پر نازل ہوا جس کو ہم نے چاہا بچا لیا گیا یعنی اہل ایمان عذاب سے محفوظ رہے اور ہمارا عذاب جب آتا ہے تو مجرموں سے ہٹایا نہیں جاتا بلکہ وہ ضرور واقع ہو کر رہتا ہے اس آیت کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ حق تعالیٰ دشمنوں پر عذاب نازل کرنے میں جلدی نہیں فرماتے بلکہ ان کو مہلت دیتے ہیں اور اپنے دوستوں کو یعنی پیغمبروں کو اور ان کے پیروؤں کا طرح طرح کی بلاؤں اور مصیبتوں سے ہلاتے ہیں یہاں تک کہ یہ عرض کرنے لگتے ہیں متی نصر اللہ اے اللہ ہماری مدد اور دشمنوں پر ہماری فتح کب ہوگی تب حق تعالیٰ کی طرف سے بشارت آتی ہے الا ان نصر اللہ قریب جیسا کہ سورة بقرہ میں گزرا۔ ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یاتکم مثل الذین خلوا من قبلکم مستھم الباساء والضراء وزلذلوا حتی یقول الرسول والذین امنوا معہ متی نصر اللہ الا ان نصر اللہ قریب : خلاصہ کلام یہ کہ امتحان اور ابتلاء عظیم کے بعد اللہ کی مدد آتی ہے۔ زاں بلاہا کہ، انبیاء برداشتند سربچرخ چار می افراشتند ہر کہ در راہ محبت، بیش تر بر دل اور بار محنت بیشتر : اس آیت میں جو لفظ کذبوا واقع ہوا ہے اس میں دو قراتیں ہیں ایک یہ کہ کذبوا کو تشدید ذال کے ساتھ پڑھا جائے جو تکذیب سے مشتق ہے اور دوسری قرأت یہ ہے کہ کذبوا کو تخفیف ذال کے ساتھ پڑھا جائے جو کذب سے مشتق ہے تشدید ذال کی قرأت میں آیت کے معنی واضح ہیں کہ تاخیر عذاب سے رسولوں کو یہ گمان ہوا کہ ان کی قوم ان کی تکذیب کرے گی اور نزول عذاب کے وعدہ میں ان کو جھوٹا بتلائے گی کہ تم جو ہم سے وعدہ کرتے تھے کہ کافروں پر عذاب نازل ہوگا وہ عذاب کہاں ہے۔ عائشہ صدیقہ ؓ رنہا فرماتی ہیں کہ کافروں کو تو انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جھوٹے ہونے کا یقین تھا اور کفار انبیاء (علیہم السلام) اور اہل ایمان کی ایذاء رسانی پر تلے ہوئے تھے جب اہل ایمان کو کفار سے اذیتیں پہنچیں تو انبیاء (علیہ السلام) نے اس سے نصرت کا وعدہ کیا لیکن جب نصرت الٰہی کے آنے میں تاخیر ہوئی تو انبیاء کرام (علیہم السلام) کو یہ اندیشہ اور خطرہ ہوا کہ کافر تو ہم کو پہلے ہی سے جھوٹا سمجھتے ہیں اور کاذب ہونے کا یقین رکھتے ہیں مبادا ہمارے مومنین اور متبعین بھی وعدہ عذاب میں تاخیر ہونے کی وجہ سے ہم کو جھوٹا نہ سمجھنے لگیں اور جو لوگ ہم پر ایمان لائے ہیں وہ بھی کہیں پھسل نہ جائیں اور دین سے مرتد نہ ہوجائیں تو ایسے اضطراب کے وقت میں خدا کی مدد آپہنچی اور یہ سارے خیالات غلط طابت ہوئے کذب وعدہ کا گمان معاذ اللہ رسولوں کو نہ تھا بلکہ منکرین اور اشقیاء کو تھا اور انبیاء کو اہل ایمان کے ارتداد کا خطرہ تھا رسولوں کو یہ خیال ہوا کہ مبادا اہل ایمان بھی ہماری طرف سے شک میں نہ پڑجائیں۔ عائشہ صدیقہ ؓ اس (ذال) کو تشدید ذال کے ساتھ پڑھتی تھیں اور آیت کا یہ مطلب بیان فرماتی ہیں جو ہم نے ذکر کیا اور قرأت تخفیف کا انکار فرماتی تھیں اور اس کو عصمت انبیاء کے منافی سمجھتی تھیں۔ اور حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ لفظ کذبوا کو تخفیف ذال کے ساتھ پڑھتے تھے اس قرأت پر بظاہر آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ جب حسب وعدہ کافروں پر عذاب نازل ہونے سے رسول ناامید ہوگئے اور یہ گمان کرنے لگے کہ (معاذ اللہ) خدا کی طرف سے ان سے فتح و ظفر اور غلبہ و نصرت کا جھوٹا وعدہ کیا گیا تھا کہ نصر و ظفر کے بارے میں جو وحی ہم پر آئی تھی وہ کذب تھی اور ہم مکذوب ہیں اس قرأت کی بناء پر آیت کا یہ مطلب نہایت مشکل نظر آتا ہے اس لیے کہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے نفوس قدسیہ اس سے پاک اور منزہ ہیں کہ ایک لمحہ کے لیے ان کے دل میں یہ خطرہ بھی گزرے کہ معاذ اللہ معاذ اللہ خدا نے ہم سے چھوٹا وعدہ کیا تھا یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کا نبی اللہ کی وحی کو غلط اور جھوٹا جانے قطعا ناممکن اور محال ہے اس اشکال کی بناء پر علماء محققین نے قرأت تخفیف کی مختلف تفسیریں کی ہیں۔ تفسیر اول : بعض علماء اس طرف گئے ہیں وظنوا اور انھم اور قد کذبوا کی تینوں ضمیریں رسل کی طرف راجع نہیں بلکہ تینوں ضمیریں بقرینہ مقام مرسل الیہم یعنی قوم کی طرف راجع ہیں اور مطلب یہ ہے کہ جب پیغمبر قوم کے ایمان لانے سے ناامید ہوگئے اور قوم کے لوگ یہ گمان کرنے لگے کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) نے ہم کو جو عذاب کی دھمکیاں دی تھیں وہ سب ڈھکوسلے تھے اور صرف ہمارے ڈرانے کے لیے تھے اور پیغمبر جو اپنی نصرت اور ہماری ہلاکت کے وعدوں کا ذکر کرتے تھے اور جو یہ کہتے تھے کہ ہم پیغمبر ہیں اور اگر تم ہمارا کہنا نہ مانو گے تو تم پر عذاب آئے گا وہ سب جھوٹی باتیں تھیں جب نوبت بہ اینجا رسید تو اس نا امیدی کی حالت میں پیغمبروں کو ہماری مدد پہنچی اور لوگوں پر ظاہر ہوگیا کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) صادق تھے۔ حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ نے یہ تفسیر اختیار فرمائی چناچہ فرماتے ہیں ” مہلت دادیم تاوقتیکہ ناامید شد نذ پیغمبران و گمان کروند قوم ایشاں کہ بدروغ وعدہ کردہ شد بابشاں آمد بایشاں نصر “ (فتح الرحمان) اور اسی طرح طبری (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کی ہے کہ سچا جانیں اور مرسل الیھم (یعنی قوم) نے گمان کیا کہ رسولوں نے ان سے جھوٹ کہا تھا یعنی تاخیر عذاب سے قوم کو یہ گمان ہوا کہ رسولوں نے ہم سے جھوٹ کہا تھا کہ عذاب آئے گا وہ عذاب اب تک تو آیا نہیں آخر کب آئے گا۔ (دیکھو روح المعانی ص 64 جلد 13) تفسیر دوم : اور بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ قرأت تخفیف میں ظنوا اور انھم اور قد کذبوا کی تینوں ضمیریں رسل کی طرف راجع ہیں اور مطلب یہ ہے کہ جب وعدہ عذاب کے ظہور میں دیر ہوئی تو انبیاء کرام (علیہم السلام) ناامید ہوئے اور یہ خیال کرنے لگے کہ شاید یہ عذاب ہماری زندگی میں نہ آئے اور ہمارے بعد آئے اللہ کا وعدہ تو حق اور صدق ہے مگر مطلق ہے جس کی مدت اور وقت کی تعیین نہیں کہ وہ کب ہوگا لہٰذا ضروری نہیں کہ وہ نبی ہی کی زندگی میں پورا ہو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نبی کے بعد خلفاء اور جانشینوں کے ہاتھوں یہ وعدہ پورا ہو جیسے خلافت ارضی اور تمکین دین کا وعدہ حضور پر نور ﷺ کے خلفاء کے ہاتھوں پر پورا ہوا اور حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی ناامیدی ظاہری اسباب اور ظاہری حالات کی بنا پر تھی معاذ اللہ خدا کی رحمت کاملہ سے مایوسی اور ناامیدی نہ تھی حق جل شانہ کا معاملہ انبیاء ومرسلین اور ان کے احباء اور مخلصین کے ساتھ یہ ہے کہ مصائب کے پہاڑ ان پر نازل ہوتے ہیں حتی کہ جب اسباب ظاہری سے وہ بالکل ناامید ہوجاتے ہیں اور سوائے حق تعالیٰ کی رحمت اور عنایت کے کسی چیز پر ان کی نظر نہیں رہتی تب اللہ کی طرف سے ان کو مدد پہنچتی ہے کما قال تعالیٰ وھو الذی ینزل الغیث من بعد ما قنطوا وینشر رحمتہ وھو الولی الحمید اس لیے اسی آیت میں یہ بیان کیا گیا کہ حق تعالیٰ کا معاملہ کافروں کے ساتھ یہ ہے کہ ان کو فورا نہیں پکڑتے بلکہ ان کو اتنی مہلت اور ڈھیل دیتے ہیں کہ وہ خوب دل کھول کر کفر کرلیں اور اعلانیہ طور پر انبیاء (علیہ السلام) کو جھوٹا بتلانے لگیں اور تکبر اور غرور سے کودنے اور چھلنے لگیں اس طرح سے ادھر تو جرم کا پیمانہ لبریز ہوجائے اور ادھر انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ابتلاء کی منزلیں پوری ہوجائیں حتی کہ انبیاء ومرسلین انتظار کرتے کرتے تھک جاتے ہیں اور ناامید ہوجاتے ہیں گویا کہ یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ ہم سے نصر و ظفر کا وعدہ غلط کیا گیا۔ یعنی یہ کلام بطور تشبیہ و تمثیل ہے بطور مبالغہ ایسا کہا گیا کہ عذاب میں اتنی تاخیر ہوئی کہ یہ گمان ہونے لگا کہ وہ وعدہ غلط تھا تو اس پریشانی اور بےسروسامانی کی حالت میں ناگاہ رسولوں کو ہماری مدد پہنچی اور ان سے نصرت اور مدد کا جو وعدہ کیا تھا وہ اس وقت پورا ہوا اور ان کو اور ان کے متبعین کو نجات دی اور ان کے دشمنوں کو تباہ اور برباد کیا دیکھ لو کہ اللہ کے وعدے اس طرح پورے ہوتے ہیں لہٰذا کفار مکہ کو چاہئے کہ امم سابقہ کے واقعات سے عبرت پکڑیں اور تاخیر عذاب سے دھوکہ میں نہ پڑیں پہلی قوموں کو بھی اس قسم کی مہلتیں مل چکی ہیں اور اتنی طویل مہلتیں ملیں کہ رسول بھی ناامید ہوگئے تب تک ایک اللہ کا قہر نازل ہوا اور کفار مغلوب اور مقہور ہوئے اور رسول مظفر و منصور ہوئے۔ قال الترمذی الحکیم وجھہ عندنا ان الرسل کانت تخاف بعد ما وعد اللہ النصر لا من تھمۃ لوعد اللہ ولا کن قد احدثت حدثا ینقض ذلک الشرط والعھد الذی عھد الیہم وکانت اذا طالت المدۃ دخلہم الایاس والظنون من ھذا الوجہ (تفسیر قرطبی ص 276 جلد 9) حکیم ترمذی (رح) فرماتے ہیں کہ رسولوں کی نا امیدی اور گمان کی وجہ ہماری نزدیک یہ ہے کہ اللہ کے وعدہ کے بعد معاذ اللہ انبیاء کو یہ ڈر نہ تھا کہ خدا کا وعدہ پورا نہ ہوگا اور نہ معاذ اللہ رسولوں کو حق تعالیٰ کی طرف سے کوئی بدگمانی تھی بلکہ انبیاء کرام کو اپنے نفسوں کی طرف سے بدگمانی تھی کہ خدانخوستہ ہماری جانب سے کوئی ایسی بات سرزد تو نہیں ہوگئی کہ جو اس وعدہ کے منافی اور مناقض ہو اور وعدہ خداوندی جس شرط کے ساتھ مشروط ہو خدانخواسہ ہم سے بربنائے غفلت اس شرط کی خلاف ورزی نہ ہوگئی ہو جب شرط پوری نہ ہوگی تو اس وعدہ کا پورا ہونا بھی ضروری نہ ہوگا جو اس شرط کے ساتھ مشروط ہو پس جب وعدہ خداوندی کی مدت طویل ہوجاتی ہے تو انبیاء کرام کو اس راہ سے یعنی نفس کی راہ سے ناامیدی اور بدگمانی لاحق ہے نہ کہ خدائے تعالیٰ کی جانب سے۔ پس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ کافروں کو اتنی طویل مہلت اور لمبی ڈھیل ملی کہ رسول عذاب کے آنے سے ناامید ہونے لگے اور ان کو یہ گمان ہونے لگا کہ ہماری کس لغزش اور خطا کی بناء پر وعدہ پورا نہیں کیا گیا شاید کہ ہم سے ان امور کی بجا آوری میں کہ جو ایفاء وعدہ کے لیے شرط تھے کوئی کوتاہی واقع ہوئی ہے اس لئے وعدہ پورا نہیں کیا گیا لہٰذا کذبوا کے معنی یہ نہیں کہ پیغمبروں سے جھوٹ کہا گیا بلکہ معنی یہ ہیں کہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا جیسا کہ من ال مومنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ میں صدق وعدہ سے ایفائے وعدہ اور ایفائے عہد مراد ہے اسی طرح کذب سے جو صدق کی نقیض ہے اس سے مراد یہ ہوگی کہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا جس کی وجہ یہ نہیں کہ معاذ اللہ خدا تعالیٰ وعدہ خلاقی کرتا ہے فلا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ۔ ان اللہ لا یخلف المیعاد۔ بلکہ وجہ یہ ہے کہ ہمارے نفس کی کسی غلطی اور کوتاہی کی وجہ سے وعدہ پورا نہیں کیا گیا پس اگر کوئی شخص یہ گمان کرے کہ میرے نفس کی تقصیر کی وجہ سے وعدہ خداوندی روک لیا گیا تو اس میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں۔ یا یوں کہو کہ اس ہو شربا پریشانی میں اس گمان کے قریب قریب پہنچ گئے جیسے کہا جاتا ہے بلغت المنزل میں منزل کو پہنچ گیا یعنی پہنچنے کے قریب ہوگیا۔ (دیکھو تفسیر قرطبی ص 276 جلد 9) اور یا پھر یوں کہو کہ وظنو ابھم قد کذبوا کا یہ مطلب نہیں کہ معاذ اللہ خدا نے ان سے جھوٹا وعدہ کیا تھا بلکہ کذب سے کذب رجاء مراد ہے یعنی جب ان کی امید کے مطابق عذاب نہ آیا تو گمان کیا کہ ہماری امید غلط نکلی اور لفظ کذب بمعنی خطاء اور غلطی بکثرت شائع ہے جیسے ما کذب الفؤاد ما رای میں کذب سے خطا اور غلطی کے معنی مراد ہیں (دیکھو تفسیر ابو السعود ص 254 جلد 5 برحاشیہ تفسیر کبیر) تفسیر سوم : حضرت مولٰنا محمد قاسم نانوتوی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں کہ آیت حتی اذا استائیس الرسل وظنوا انھم قد کذبوا جاء ھم نصرنا۔ کے بظاہر یہ معنی ہیں یہاں تک کہ جب رسولوں کو ناامیدی ہونے لگی اور وہ یہ خیال کرنے لگے کہ ان سے جو کچھ امداد کے بارے میں خدا کی طرف سے وعدہ عہد تھے وہ سب جھوٹے تھے اس وقت ہماری مدد آپہنچی یہ تو ظاہری اور سرسری مطلب ہوا مگر سب اہل ایمان جانتے ہیں کہ انبیاء (علیہ السلام) کی شان سے بہت بعید ہے کہ وہ ناامید ہوں خود اسی سورت میں ہے انہ لایا یسر من روح اللہ الا القوم الکفرون سو جاننا چاہئے کہ حضرات انبیاء کو تہ دل سے یقین تھا کہ وعدہ ہائے الٰہی صادق اور برحق ہیں ایک نہ ایک روز بیشک امداد الٰہی ضرور آنے والی ہے لیکن بمقتضائے بشریت قلب میں اضطراب اور پریشانی کا آنا یہ منافی عصمت نہیں حق تعالیٰ نے اس غیر اختیاری پریشانی کو بطور شکایت اس طرح بیان فرمایا کہ کیا تمہارا گمان اور خیال تھا کہ ہم نے جو تم سے نصرت کے وعدے کیے ہیں وہ سچے نہیں یعنی جب ہم تمہارے معین اور مددگار ہیں اور ہم تم سے وعدہ کرچکے ہیں اور ہماری نظر عنایت ہر وقت تمہارے ساتھ ہے تو پھر یہ اضطراب اور پریشانی کیسی برعایت ظاہر بطور مبالغہ اس قسم کی پریشانی اور بےقراری بمقتضائے بشریت بےچینی اور بےتابی کو مجازا لفظ ظن اور لفظ یأس سے تعبیر فرمایا (دیکھو ہدیہ الشیعہ ص 332) ۔ اور قرآن کریم میں ہے اولم نؤمن قال بلیٰ ولکن لیطمئن قلبی اور حدیث میں ہے نحن بحق بالشک من ابراہیم سو اس جگہ شک اور ظن کے حقیقی معنی مراد نہیں بلکہ مجازی مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ بمقتضائے بشریت حضرات انبیاء کو جو اضطراب پیش آیا تو اس اضطراب کو ظن اور شک سے تعبیر کردیا گیا اس لیے کہ اضطرابی حالت شک اور تردد کے مشابہ ہوتی ہے اور بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ گویا کہ مضطرب، شک اور گمان میں پڑا ہوا ہے عارف رومی قدس سرہ السانی فرماتے ہیں۔ ہیں بخواں استیاس الرسل ای عمو تابہ ظنوا انھم قد کذبوا ! ! ایں قرأت خواں بہ تخفیف کذب ایں بود کہ خویش بیند محتجب درگماں افتاد جان انبیاء زاتفاق منکری اشقیاء (دیکھو مثنوی مولانا روم، دفتر سوم ص 175 جلد 3 مع حاشیہ و شرح بحر العلوم ص 90 جلد 2) حضرت شاہ ولی اللہ (رح) اپنی ایک کتاب میں لکھتے ہیں مولوی (معنوی) قرأت ابن عباس ؓ اختیارمی کنندہ توجیہ می فرمایند کہ احوال انبیاء مختلف است در بعض اوقات رفع حجاب می شود واحوال بندہ برأی العین می بینند و در بعض اوقات حجاب بشریت مانع می گردد واز حالت رای العین فردومی آیند وضیق خاطر و اضطراب بشریت رومی وہد ہمیں حالت احتجاب رابطریق مجاز بظن تعبیر واقع شد خلاصہ کلام آنکہ لفظ ظن و شک در آیت و حدیث اینجا مجاز است بمعنی آں کہ خاطر ایشاں۔ بحسب جبلت بشریت مضطرب شد مانند اضطراب شک کنندہ درحقیقت وحی یا مانند اضطراب کنندہ کذب وحی الکلمات طیبات ص 167) خلاصہ کلام یہ کہ تشدید ذال یعنی قد کذبوا کی قراءت میں تینوں ضمیریں یعنی وظنوا، انھم، کذبوا کے ضمائر رسل کی طرف راجع ہیں اور مطلب آیت کا واضح ہے اور تخفیف ذال یعنی قد کذبوا کی قرأت میں اشکال ہے جس کی تفسیر میں دونوں قول نقل کیے ایک یہ کہ تینوں ضمیریں رسل کی طرف راجع ہیں اس صورت میں شدید اشکال ہے جس کے حل کے لیے علماء زبانیین کی تفسیریں ناظرین کے سامنے کردی گئیں انشاء اللہ تعالیٰ وہ شافی اور کافی ہیں اس جگہ ایک تیسرا قول اور بھی ہے وہ یہ کہ ظنوا کی ضمیر تو قوم کی طرف راجع ہے اور انھم اور قد کذبوا کی ضمیریں رسل کی طرف راجع ہیں اور مطلب یہ ہے کہ قوم نے یہ گمان کیا کہ رسل سے جھوٹا وعدہ کیا گیا اور اس بارے میں پیغمبروں پر جو وحی آئی وہ جھوٹ تھی یہ کافروں کا گمان تھا اس وقت اللہ نے اپنے رسولوں کی مدد کی جس سے ظاہر ہوگیا کہ انبیاء کی وحی سچی تھی اور ان کا گمان جھوٹا تھا۔ (دیکھو حاشیہ مثنوی مولینا روم ص 175 دفتر سوئم ) ایک اور قرأت شاذہ سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ مجاہد (رح) اور حمید (رح) کے قرأت میں۔ وظنوا انھم قد کذبوا بصیغہ معلوم آیا ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ قوم نے یہ گمان کیا کہ رسولوں نے ان سے جھوٹ بولا (دیکھو تفسیر قرطبی ص 276 جلد 9 روح المعانی ص 64 جلد 13) البتہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں یا انبیاء سابقین اور امم سابقہ کے قصوں میں عبرت اور نصیحت ہے ان عقل مندوں کے لیے جن کی عقل خالص ہے اہل عقل کو چاہئے کہ اس قصہ سے عبرت پکڑیں کہ جس طرح یوسف (علیہ السلام) کے بھائی یوسف (علیہ السلام) کے مقابلہ میں ناکام رہے اسی طرح قریش محمد رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں ناکام رہیں گے یا یہ مطلب ہے کہ امم سابقہ کے قصوں میں سے عبرت حاصل کریں کہ اطاعت اور معصیت کا کیا انجام ہوتا ہے جس کی عقل خالص ہوتی ہے وہی ان واقعات سے عبرت پکڑتا ہے۔ ولے در باید اسرار معانی کہ روشن شد بنور جاودانی نہیں ہے یہ قرآن جس میں یہ عبرت انگیز قصے مذکور ہیں کوئی بنائی ہوئی بات یعنی یہ کتاب کوئی ناول یا افسانہ نہیں بلکہ کتاب ہدایت اور درس معرفت ہے جس سے اہل نصیرت کو سبق حاصل کرنا چاہئے یہ اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے کسی بشر کی بنائی ہوئی نہیں بلکہ ان کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے کی ہیں اور یہ اس کی حقانیت اور صداقت کی دلیل ہے کیونکہ یہ کتاب بذاتہ معجزہ ہے اور کتب سابقہ معجز نہ تھیں ان کو شہادت اور تصدیق کی ضرورت تھی اور جو شئے خود حجت اور دلیل ہو اس کو کسی دلیل کی حاجت نہیں اور یہ کتاب تمام امور دین کی تفصیل کرنے والی ہے مبداء اور معاد حلال اور حرام اور حدود اور احکام اور مواعظ اور امثال وغیرہ جملہ ضروری امور کی اس میں تفصیل موجود ہے اور مومنوں کے لیے ذریعہ ہدایت اور رحمت ہے پس ایسی کتاب کے کلمات کی تلاوت اور اس کے معنی سے عبرت حاصل کرنا اہل عقل کے لئے ضروری ہے اللہم اجعلنا من اہل الھدی والرحمۃ فانک اہل التقویٰ والمغفرۃ آمین یا رب العلمین۔ الحمد للہ آج بروز شنبہ دہم رجب الحرام 1388 ہجری کو غروب آفتاب سے کچھ پہلے سورة یوسف کی تفسیر سے فراغت ہوئی۔ فاللہ الحمد والمنتہ