Ayah 13:1حقانیت قرآن کریم
قال اللہ تعالیٰ المرٰ تلک ایت الکتاب .... الیٰ .... ولکن اکثر الناس لا یؤمنون
(ربط) سورة یوسف کے اخیر میں قرآن کریم کی صفت میں یہ فرمایا ما کان حدیثا یفتری ولکن تصدیق الذی بین یدیہ و تفصیل کل شیء وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون : اسی مناسبت سے اس سورت کا آغاز قرآن کریم کی حقانیت سے فرمایا المر واللہ اعلم بمراد بذالک یہ آیتیں کتاب الٰہی کی آیتیں ہیں اور اسے اکمل الرسل جو کتاب کامل آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی سو وہ بالکل حق اور درست ہے لوگوں کو چاہئے کہ بےدغدغہ اس کتاب پر ایمان لائیں لیکن جائے تعجب ہے کہ اکثر لوگ اس جامع اور کامل کتاب کو بھی نہیں مانتے اور جو ایسی صاف اور واضح حقیقت کو بھی نہ مانے تو یہ اس کی کج طبعی کی دلیل ہے اور جو اس کتاب کو نہیں مانتا آخر وہ پھر کس کتاب کو مانے گا اور اگر ان کو یہ شبہ ہے کہ ہم اپنے جیسے بشر کے سامنے کیوں سر تسلیم خم کریں تو آئندہ آیت میں اس کا جواب ہے کہ جسمانیت کے اعتبار سے آسمان اور زمین برابر ہیں یہ بھی جسم ہے اور وہ بھی مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور حکمت سے آسمان کو زمین پر بلندی عطا کی اسی طرح سمجھو کہ اللہ کو یہ بھی قدرت ہے کہ ایک بشر کو زمین اور دوسرے بشر کو علم اور حکمت کا آسمان بنا دے خدا کی قدرت سب جگہ یکساں ہے۔
Ayah 13:2ذکر دلائل توحید و اثبات مبدأ ومعاد
قال اللہ تعالیٰ : اللہ الذی رفع السموت بغیر عمد .... الیٰ .... ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون
(ربط) گزشتہ آیت میں قرآن مجید کا منزل من اللہ ہونا اور اسکا حق اور صدق ہونا اور کافروں کا اس پر ایمان نہ لانا بیان کیا گیا اب آئندہ آیات میں دلائل توحید والوہیت اور قرآن کے نازل کرنے والے خدا کی کمال قدرت کا ذکر کرتے ہیں اور آخرت کا اثبات فرماتے ہیں جو اعظم مقاصد قرآن میں سے ہے اور چونکہ اکثر لوگ خدا تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کے منکر ہیں اس لیے اثبات توحید و الوہیت کے لیے آسمانوں کے حالات اور آفتاب و ماہتاب کی حرکات اور زمین کے مختلف قطعات اور زمین کی پیداوار کی کیفیات کو ذکر کرتے ہیں تاکہ منکرین اور مشرکین پر حجت قائم ہو اور ان سب دلائل کا مطلب یہ ہے کہ زمین سے لے کر آسمان تک تمام کائنات اس کی الوہیت اور وحدانیت کے دلائل اور براہین ہیں۔
استدلال باحال عالم علوی
اللہ الذی رفع السموت بغیر عمد ترونھا ثم استوی علی العرش۔
اثبات توحید کے لئے اللہ تعالیٰ نے اول آسمانوں کے حالات سے استدلال کیا چناچہ فرماتے ہیں اللہ وہ ہے جس نے بلند کیا آسمانوں کو بغیر ستونوں کے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ بلا عمود کے قائم ہیں نیچے کوئی ستون نہیں کہ جس کے سہارے سے آسمان ٹھہرے ہوئے ہوں اور اوپر کوئی زنجیر نہیں کہ جو اوپر سے آسمان کو روکے ہوئے ہے بلاستون کے معلق ہیں انسان ایک ذرہ کو بھی اس طرح معلق نہیں رکھ سکتا پس سمجھ لو کہ کسی قادر مختار ہی نے اس کو اپنی قدرت سے روکا ہوا ہے اور خدائے تعالیٰ نے اپنی قدرت سے آسمان کو اتنا اونچا بنایا کہ جہاں تمہاری نظر بھی کام نہیں کرتی اور ظاہر ہے کہ آسمان جیسے عظیم الشان جسم کا معلق رہنا ازخود نہیں اور نہ بتقاضائے طبیعت جسمانیہ ہے، ورنہ کوئی نیچر اور ایتھر اس کو تھامے ہوئے ہے معلوم ہوا کہ کسی قادر و قوی نے اس کو اس طرح معلق رکھا ہوا ہے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ ترونھا، عمد کی صفت ہے اور معنی یہ ہیں کہ بلند کیا اس نے آسمانوں کو بغیر ایسے ستون کے جس کو تم نہیں دیکھتے مطلب یہ ہے کہ آسمانوں کے ستون تو ہیں مگر وہ ایسے ہیں جو تم کو نظر نہیں آتے پھر وہ اپنی قدرت اور قہر سے اور تدبیر اور تصرف سے عرش عظیم پر قائم ہوا جو قیام اس کی شان کے لائق ہے عرش پر قائم ہونے سے اس کی جلوہ ہونا آسمانوں کے بلند کرنے سے کہیں زیادہ بلند اور برتر ہے اس لیے لفظ ثم ان دونوں میں تفاضل اور تفاوت کے بیان کرنے کے لیے لایا گیا کہ استوی علی العرش ” رفع السموت “ سے زیادہ اعلیٰ اور ارفع ہے کیونکہ عرش عظیم تجلیات خداوندی اور احکام الٰہیہ کا مصدر اور مرکز ہے تمام عالم کی تدبیر اور تصرف کے احکام عرش عظیم ہی سے نازل ہوتے ہیں اور عرش پر قائم ہونے کے یہ معنی نہیں کہ وہ خداوند قدوس بادشاہ کی طرح تخت پر برابر بیٹھا ہوا ہے کیونکہ یہ صفت تو جسم کی ہے جو وضع اور ہیبت کے ساتھ موصوف ہو اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک اور منزہ ہے فرقہ مجسمہ اللہ تعالیٰ کی جسم گمان کرتا ہے اور استوا کے معنی بیٹھنے کے کرتا ہے اہل سنت والجماعت یہ کہتے ہیں کہ استوی علی العرش کے معنی یہ ہیں کہ اللہ عرش پر قائم ہوا جو اس کی شان عظمت و جلال اور اس کی شان قدو سیت کے شایان ہے اور ہم اس کے استوا علی العرش پر ایمان لاتے ہیں جو اس کی شان کے لائق ہے اور اس کی تنزیہ و تقدیس پر بھی ایمان رکھتے ہیں اس لیے ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خداوند قدوس مکان اور جہت سے اور تمکن اور استقرار سے اور اتصال اور انفعال سے سب سے پاک ہے مکان اور جہت سب اسی کی مخلوق ہے وہ خداوند قدوس مکان اور زمان کے پیدا کرنے سے پہلے جس شان پر تھا اسی شان پر زمان و مکان پیدا کرنے کے بعد بھی ہے معاذ اللہ یہ خیال نہ کرنا کہ عرش تخت شاہی کی طرح خدا کو تھامے ہوئے عرش خدا کو تھامے ہوئے اور اٹھائے ہوئے ہیں بلکہ خدا کی قدرت ہی عرش کو اٹھائے ہوئے اور تھامے ہوئے ہے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ عرش پر قائم ہونے یا قرار پکڑنے سے یہ مراد ہے کہ عرش سے لے کر فرش تک اور فرش سے لے کر تحت الثری تک سب اسی کے قبضہ قدرت و تصرف میں ہے اور تمام کائنات پر وہی حکمران ہے جیسے تخت نشینی سے حکمرانی کے معانی مراد ہوتے ہیں اسی طرح استواء علی العرش سے حق جل شانہ کی حکمرانی اور تدابیر اور تصرف کو بیان کرنا مقصود ہے کہ عرش سے فرش تک اس کی حکمرانی ہے باقی اس آیت کی مفصل تفسیر سورة اعراف میں گزر چکی ہے وہاں دیکھ لی جائے۔
استدلال بہ تسخیر شمس و قمر
وسخر الشمس والقمر کل یجری لاجل مسمی یدبر الامر یفصل الایت لعلکم بلقاء ربکم توقنون
اب آفتاب و ماہتاب کے احوال سے اپنی الوہیت اور وحدانیت پر استدلال فرماتے ہیں اور مسخر کیا یعنی کام پر لگایا اس نے سورج کو اور چاند کو، دونوں اسی کے زیر حکم ہیں دونوں کی حرکت اللہ کے حکم سے ہے جس سے بندوں کی مصلحتیں وابستہ ہیں نور اور ظلمت کی آمدورفت سے زمین اور اجسام اور اشجار و نباتات نشوونما پاتے ہیں جس قسم کی حرکت اللہ نے ان کے لیے معین کردی ہے اس میں سرمو فرق نہیں آتا حق تعالیٰ نے شمس و قمر کی حرکت کے لیے جو سمت اور جہت اور جو مسافت اور جو مقدار اور کیفیت مقرر فرما دی ہے اس کے خلاف شمس و قمر حرکت نہیں کرسکتے ہر ایک کی حرکت جاری ہے ایک مدت معینہ تک یعنی جب تک دنیا قائم ہے چاند اور سورج طلوع و غروب ہوتے رہیں گے اور اس رفتار سے حرکت کرتے رہیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر کردی ہے یا یہ معنی ہیں کہ ہر ایک اپنے اپنے مدار پر چلتا رہے گا اور اپنی منزلوں کو طے کرتا رہے گا چناچہ سورج اپنے مدار کو سال بھر میں قطع کرتا ہے اور چاند ایک مہینہ میں مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس طرح اور جس جانب ان کی حرکت مقرر کردی ہے اس میں سرمو فرق نہیں آتا اگر کوئی قادر و قوی اس کا منتظم نہیں تو اس نظام میں خلل کیوں نہیں آتا غرض یہ کہ ان تمام دلائل سے یہ امر بخوبی واضح ہوگیا کہ عالم کے یہ تمام انتظامات مادہ اور ایتھر سے نہیں چل رہے ہیں بلکہ کسی بلیک مقتدر کے ارادہ اور اختیار سے چل رہے ہیں وہی عالم علوی اور عالم سفلی کے ہر کام کی تدبیر اور انتظام کرتا ہے اور وہ ذات والا صفات ایسی ہے کہ اس کی تدبیر اور تصرف کے اعتبار سے عرش اور فرش پہاڑ اور ذرہ سب برابر ہیں وہ اپنی قدرت کی نشانیاں بہ تفصیل بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے پروردگار کے ملنے کا یقین کرو یعنی مرنے کے بعد جینے کا یقین کرو کہ جس ذات نے یہ کارخانہ بنایا ہے اور جس نے اجرام فلکیہ اور اجسام عظمیہ کو پیدا کیا ہے وہ انسان کے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے اور مجز صادق ﷺ نے اس کے وقوع کی خبر دی ہے اور امر ممکن الوقوع کے وقوع کی اگر مجز صادق خبر دے تو عقلا اس کا قبول کرنا لازم اور ضروری ہے۔
آسمانوں کے بارے میں فلسفہ جدیدہ کا نظریہ
قرآن اور حدیث اور تمام کتب سماویہ سے ثابت ہے کہ آسمانوں کو وجود حق اور ثابت ہے فلسفہ جدیدہ کے انکشافات یہ کہتے ہیں کہ آسمان ایک بےمعنی لفظ ہے جو معنی سے یکسر خالی ہے آسمان کوئی چیز نہیں یہ نیلگوں چیز جو ہم کو اوپر سے نظر آتی ہے وہ محض ایک حد بصر اور حد نظر ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ نیلگوں رنگ جو ہم کو دکھائی دیتا ہے وہ آسمان دنیا کا پلستر ہو دیکھنے والوں کو عمارت کا پلستر تو نظر آتا ہے مگر اصل عمارت نظر نہیں آتی۔
نیز عقلا اور حسا محض حدبصر اور حد نظر کا کوئی رنگ نہیں ہوتا رنگگ تو جسم ہی کا ہوتا ہے۔
Ayahs 13:3–4استدلال باحوال عالم سلفی
قال اللہ تعالیٰ وہوالذی مد الارض۔۔۔۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔۔۔۔ ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون
(ربط) اوپر کی آیتوں میں عالم علوی کی چیزوں سے اس کی وحدانیت اور الوہیت پر استدلال تھا یعنی آسمانوں اور چاند اور سورج کے احوال سے استدلال کا ذکر تھا ان عالم سفلی کے چیزوں کے احوال سے یعنی زمین سے اور اس کی پیداوار سے اور لیل ونہار کے اختلاف سے استدلال فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور وہ اللہ وہی ہے جس نے زمین کو اتناپھیلایا کہ بیشمار مخلوق اس پر چل سکے اور اتنا وسیع بنایا کہ آج تک اس کے مبداء اور انتہاء کا علم نہ ہوسکا اور اس پر بسنے والی مخلوق کا زرق اور سامان معیشت سب اسی میں ودیعت رکھ دیا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ زمین کو پانی پر بجھایا (زادالمسیر ص 302 جلد 4) وقال اللہ تعالیٰ وجعلنامن المآء کل شیء حتی اور پھر اس زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ وہ زمین کی میخیں ہوجائیں۔
زمین ازتپ ولر زہ آمدستوہ فردکوفت بردامنش میخ کوہ
اور زمین میں نہریں جاری کیں اور ہر قسم کے پھلوں سے خدائے زمین میں دو دو قسمیں بنائیں مثلا سرخ اور زرد، شیریں اور ترش، خشک اور تر، گرم اور سرد وغیرہ وغیرہ۔
نیز اس خدا کی صفت یہ ہے کہ وہ ڈھانک دیتا ہے رات کو دن سے مطلب یہ ہے کہ کسی وقت دن کا ہونا اور کسی وقت رات کا ہونا یہ کسی مادہ اور طبیعت کا اقتضاء نہیں بلکہ کسی قادر حکیم کی قدرت اور اس کی تسخیر ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین کی حالت سے استدلال کیا ہے کہ زمین کی یہ وسعت اور اس پر جابجا پہاڑوں اور نہروں کا ہونا بغیر کسی خالق کے نہیں ہوسکتا اور دن اور رات کے بدلنے میں اور زمین کی پیداوار میں اس کی قدرت کے عجیب عجیب کرشمے ہیں بیشک ان چیزوں میں خدا کی کمال قدرت کی نشانیاں ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں ان نشانیوں میں غور کرنے سے اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے ایک زمین پر نظر ڈال لو کہ اس کا کوئی حصہ نزم ہے اور کوئی حصہ نہایت سخت ہے جیس پہاڑ حالانکہ طبیعت ارضیہ سب کی ایک ہے معلوم ہوا کہ زمین کے قطعات میں یہ تفاوت مادہ اور طبیعت کا اقتضاء نہیں بلکہ کسی علیم و قدیر کے علم وقدرت کا کرشمہ ہے پھر زمینوں اور پہاڑوں کی رنگتیں اور کیفیتیں مختلف اور پہاڑ میں سے کو کانیں نکلتی ہیں وہ بےانتہاء مختلف کوئی کان سونے اور چاندی کی اور کوئی لوہے اور تانبے کی اور کوئی نمک اور گندھک کی وغیرہ وغیرہ۔ یہ اختلافات نہ اتفاقی ہیں اور نہ بےشعور اور بےحس مادہ کا اقتضاء ہیں بلکہ سب خداوند عظیم و قدیر کی قدرت کے کرشمے ہیں مطلب یہ ہے کہ جس طرح عالم علوی کا کارخانہ اس کی تدبیر اور تصرف سے چل رہا ہے اسی طرح عالم سفلی کا کارخانہ بھی اسی کی تدبیر اور تصرف سے چل رہا ہے سب جگہ اسی کا دست قدرت کار فرما ہے اور جن فلاسفہ کا یہ گمان ہے کہ عالم سفلی کا کارخانہ عالم علوی کی تاثیر سے چل رہا ہے وہ سب غلط ہے اور دعویٰ بلا دلیل ہے اور یہ نادان اپنی الٹی سلٹی باتوں پر بڑے خوش ہیں فرحوا بما عندھم من العلم۔
استدلال دیگر
اور من جملہ دلائل توحید کے ایک دلیل یہ ہے کہ زمین میں مختلف قسم کے قطعے ہیں جو ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور بایں ہمہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں حالانکہ سب پر ایک ہی آفتاب کی شعاعیں پڑ رہی ہیں اور ایک ہی قسم کی ہوا ان پر چل رہی ہے کوئی قطعہ قابل زراعت ہے اور کوئی بنجر ہے اور کوئی کسی میوے کے قابل ہے اور کوئی کسی دوسرے میوہ کے قابل ہے حالانکہ سب کو ایک ہوا اور ایک پانی پہنچ رہا ہے اور اب پر ایک ہی آفتاب کی شعاعیں پڑ رہی ہیں عجیب بات ہے کہ باوجود اس اتصال کے اور اتحاد کے آثار مختلف ہیں اور پھر زمین کے ہر قطعہ میں مختلف قسم کے باغات ہیں کہیں انگوروں کے باغ ہیں اور کہیں کھیتی ہے اور کہیں کھجور کے درخت ہیں بعضے دو شاخے بعضے غیر دو شاخے یعنی بعضے ایسے ہیں کہ ایک ہی جڑ سے کئی شاخیں اگیں اور بعضے متفرق جڑوں کے ہیں یعنی ہر شاخ علیحدہ جڑ سے اگی ہے یہ سب باغات ایک ہی پانی سے سینچے جاتے ہیں اور باوجود اس کے ہم بعض کو بعض پر فضیلت دیتے ہیں کوئی شیریں ہے اور کوئی ترش اور کوئی پھیکا کوئی کیسا اور کوئی کیسا بیشک ان امور مذکورہ میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں کہ ایک ہی قسم کی زمین ہے اور ایک ہی قسم کا پانی ہے اور ایک ہی ہوا ہے پھر پھلوں کا مزہ بھی مختلف اور ہیئت اور شکل بھی مختلف اور طاہر ہے کہ یہ امور نہ تو خود بخود حادث ہوگئے ہیں اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ کسی نیچر اور ایتھر کا اقتضاء ہے کیونکہ ایتھر اور نیچر میں کسی شعور اور ارادہ اور اختیار کا نام و نشان نہیں بلکہ یہ سب خدائے علیم و قدیر کے علم اور قدرت کے کرشمے ہیں جو خاص خاص اوقات میں اس کے ارادہ اور مشیت کے مطابق نمودار ہو رہے ہیں معلوم ہوا کہ پس پردہ کوئی دست قدرت ہے جو یہ گل کاریاں کر رہا ہے زمین بھی ایک ہے اور پانی بھی ایک ہے تو پھر باوجود اسباب اور اصول کے متحد ہونے کے یہ امتیاز اور اختلاف کیسا یہ سب کسی قادر مختار کی صنعت اور کاریگری ہے فلاسفہ کا گمان یہ ہے کہ درختوں اور پھلوں کا اختلاف اتصالات فلکیہ اور کواکب اور نجوم کی تاثیر سے ہے فلاسفہ عالم سفلی کے حوادث کو حرکات کواکب اور نجوم کا اثر بتاتے ہیں یہ سب غلط ہے اس لیے کہ اول تو گزشتہ آیات میں افلاک اور کواکب اور نجوم کا حادث ہونا اور ان کا مسخر بامر الٰہی ہونا ثابت ہوچکا ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنی قدرت سے شمس و قمر اور کواکب کی خاص وضع اور ہیبت اور حرکت کی مقدار اور اس کی ساخت متعین کردی ہے اس سے باہر قدم نہیں نکال سکتے لہٰذا احوال فلکیہ کو حوادث ارضیہ کی علت قرار دینا صحیح نہیں۔
دوم یہ کہ اتصالات فلکیہ اور حرکات کا کبیہ کو عالم سفلی سے مؤثر قرار دینا محض ایک دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔
سوم یہ کہ ایک ہی باغ ہے اور ایک ہی درخت ہے اور ایک ہی قسم کی شعاع شمسی ہے اور ایک ہی قسم کی ہوا ہے اور ایک ہی قسم کا پانی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ پھلوں کا مزہ مختلف ہے جب علت اور سبب ایک ہے تو معلول اور مسبب بھی ایک ہی ہونا چاہئے علت اور سبب میں شعور اور ارادہ اور اختیار نہیں ہوتا اس لیے اس کی تاثیر میں فرق نہیں ہوتا۔
بےشعور مشین سے جو چیز تیار ہوگی اس میں تفاوت نہ ہوگا انسان اپنے ہاتھ سے جو چیز بنائے گا اس میں اس کے اختیار اور ارادہ کے موافق اور تفاوت ہوگا پس ثابت ہوا کہ پھلوں کی پیدائش میں نہ تو زمین کی طبیعت اور مادہ کو دخل ہے اور نہ ہوا اور پانی کی طبیعت اور مادہ کو دخل ہے بلکہ کسی قادر حکیم کے ارادہ اور مشیت سے ہے فلاسفہ جدید و قدیم جس قدر چاہیں اسباب و علل بیان کریں مگر سب کی انتہا کسی ملیک مقتدر پر ماننی پڑے گی۔ وان الیٰ ربک المنتہی۔
امام رازی (رح) نے ان آیات کی تفسیر میں دلائل علویہ اور سفلیہ کو نہایت بسط کے ساتھ بیان کیا ہے حضرات اہل علم تفسیر کبیر کی مراجعت کریں ان مادہ پرستوں کی رد میں کسی عالم نے خوب کہا ہے۔
والارض فیہا عبرۃ للمعتبر تخبر عن صنع ملیک مقتدر
(ترجمہ) اور زمین میں عبرتیں ہیں عبرت حاصل کرنے والے کے لیے زمین کی ساخت خبر دے رہی ہے کہ کسی ملیک مقتدر نے اس کو بنایا ہے۔
تسقی بماء واحد اشجارھا وبقعۃ واحدۃ قرارھا
(ترجمہ) ایک پانی سے سب درختوں کو سیراب کیا جاتا ہے اور ایک قطعہ زمین پر سب کا قرار ہے مگر باوجود اس کے پھل مختلف ہیں کسی کا کیا مزہ اور کسی کا کیا۔
والشمس والھواء لیس یختلف واکلہا مختلف لا یاتلف
(ترجمہ) جو دھوپ اور ہوا ان درختوں پر پڑ رہی ہے اس میں تو کوئی اختلاف نہیں مگر پھل مختلف ہیں ایک ہی درخت کے پھلوں کا مزہ یکساں نہیں ہوتا۔
لو ان ذامن عمل الطبائع اوانہ صنعۃ غیر صانع ! !
لم یختلف وکان شیئا واحدا ہل یشبہ الا والاد الا والدا
اگر یہ طبیعت اور مادہ کا تحمل ہوتا یا بغیر کسی کاریگر کے صنعت کا ہوتا تو پھلوں میں اور ان کے مزوں میں تفاوت اور فرق نہ ہوتا بلکہ سب کا مزہ ایک ہوتا (جیسے اولاد والد کے مشابہ ہوتی ہے)
الشمس والھواء یا معاند والماء والتراب شیء واحد
فما الذی اوجب ذا التفاضلا الا حکیم لم یردہ باطلا
جب دھوپ اور ہوا اور پانی اور مٹی ایک ہے تو پھر یہ تفاوت اور فرق کہاں سے آیا معلوم ہوا کہ یہ تفاوت کسی قادر حکیم کے ارادہ اور اختیار سے ہوا ہے جو کبھی خلاف حکمت کا ارادہ نہیں کرتا۔ (دیکھو روح المعانی ص 93 جلد 13)
نکتہ : بعض علماء تابعین (رح) سے منقول ہے کہ یہی مثال بنی آدم کی ہے باوجود یکہ سب کی اصل ایک ہے مگر خیرو شر ایمان و کفر میں مختلف ہیں کوئی خبیث ہے اور کوئی طیب اور جس طرح پانی زمین کے مختلف قطعات میں مختلف اثر پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح کلام الٰہی مختلف قلوب میں مختلف اثر پیدا کرتا ہے جیسا کہ فرماتے ہیں وننزل من القران ما ھو شفاء ورحمۃ لل مومنین ولا یزید الظلمین الاخسارا (یعنی یہ قرآن مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے اور یہی قرآن ظالموں کو خسارہ میں بڑھاتا ہے)
Ayahs 13:5–7منکرین نبوت کے شبہات اور ان کے جوابات
قال اللہ تعالیٰ : وان تعجب فعجب قولہم .... الیٰ .... انما انت منذر ولکل قوم ھاد
(ربط) اوپر کی آیتوں میں توحید کا مضمون تھا اب ان آیات میں منکرین نبوت کے تین شبہات کے جوابات مع وعید و تبدید ذکر کرتے تھے کہ یہ کیسے نبی ہیں جو ایک محال اور ناممکن کی خبر دیتے ہیں اور اس پر ایمان لانے کا حکم دیتے ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں ہے ہل ندلکم علی رجل تنبئکم اذا مذقتم کل ممزق انکم لفی خلق جدید افتری علی اللہ کذبا ام بہ جنۃ (دوسرا) شبہ یہ تھا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں تو آپ کے منکرین اور مکذبین پر عذاب کیوں نازل نہیں ہوتا کما قال اللہ تعالیٰ واذ قالوا اللہم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوائتنا بعذاب الیم (تیسرا) شبہ یہ تھا کہ بن معجزات کی ہم فرمائش کرتے ہیں وہ معجزات کیوں ظاہر نہیں کرتے حق تعالیٰ نے ان آیات میں کفار کے ان تینوں شبہات کا جواب دیا ہے جو نبوت کے متعلق تھے پہلے شبہ کا جواب وان تعجب فعجب قولہم سے دیا گیا جس کا حاصل یہ ہے کہ کیا یہ لوگ مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو خدا کی قدرت سے باہر سمجھتے ہیں اور اتنا نہیں سمجھتے کہ جس پروردگار کی قدرت اس قدر بڑی ہے کہ وہ اتنی بڑی بڑی چیزوں کو پیدا کرنے پر قادر ہے جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے اس کے لیے مردہ کا دوبارہ پیدا کرنا کیا بڑی بات ہے حشر و نشر کے منکر خدا کے باغی ہیں ان باغیوں کا انجام یہ ہوگا کہ گلے میں طوق اور ہاتھ پاؤں میں ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا کر ابدی جیل خانہ میں ڈال دئیے جائیں گے۔
جو شخص حشر اجساد کا قائل نہیں وہ درحقیقت خدا کی ربوبیت اور قدرت کا منکر ہے کما قال اللہ تعالیٰ اولئک الذین کفروا بربھم فلاسفہ حق تعالیٰ کو فاعل بالاختیار اور قادر مختار نہیں سمجھتے بلکہ خدا کا واجب بالذات اور موجب بالذات سمجھتے ہیں ان کے نزدیک خدا تعالیٰ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں اور اگر قادر بھی ہے تو اس کی قدرت ناقص اور ناتمام ہے فلاسفہ کے نزدیک خدا کے لئے یہ ممکن نہیں کہ بلاواسطہ والدین کے کسی حیوان کو پیدا کرسکے ان کے نزدیک ایجاد کے لیے تاثیر طبیعت اور تاثیر افلاک اور تاثیر کواکب و نجوم ضروری ہے اور فلاسفہ تو خدا کے علم کے بھی قائل نہیں ان کا مذہب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلیات کا تو علم ہوتا ہے مگر جزئیات کا علم نہیں معاذ اللہ فلاسفہ کے نزدیک خدا کو معلوم نہیں کہ کون اس کا مطیع و فرمانبردار ہے اور کون نافرمان ہے۔
غرض یہ کہ فلاسفہ بھی حشر و نشر کے قائل نہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ فلاسفہ خدا کی قدرت اور علم کے قائل نہیں اولئک الذین کفروا بربھم کا یہ مطلب ہوا۔
اور دوسرے شبہ کا جواب ویستعجلونک بالسیءۃ قبل الحسنۃ میں دیا گیا جواب کا حاصل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ حلیم و کریم ہے عذاب اور مؤاخذہ میں جلدی نہیں کرتا مگر جب عذاب آتا ہے تو ٹلتا نہیں پہلی امتوں کے حال سے عبرت پکڑیں اور عذاب کی تاخیر سے دھوکہ میں نہ پڑیں عذاب کی تاخیر عجز کی وجہ سے نہیں بلکہ علم و کرم کی وجہ سے ہے۔
اور تیسرے شبہ کا جواب ویقول الذین کفروا (الخ) میں دیا گیا جواب کا حاصل یہ ہے کہ یہ شبہ لغو اور مہمل ہے، محض عناد پر مبنی ہے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی نبوت کو ثابت کرنے کے لیے صدہا معجزات ظاہر فرمائے مگر یہ لوگ عنادی اور ضدی ہیں جو معجزہ دکھانا بالکل عبث ہے اب آیات کی تفسیر پڑھئے۔
پہلے شبہ کا جواب
وان تعجب فعجب قولہم .... الیٰ .... ہم فیہا خلدون۔
اور اگر آپ ﷺ کسی شئے سے تعجب کریں یا ان کے انکار اور ایمان نہ لانے سے تعجب کریں تو سب سے زیادہ عجیب ان کا یہ قول ہے کہ بھلا جب ہم مرنے کے بعد گل سڑ کر مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر نئی پیدائش میں آئیں گے حق تعالیٰ کی قدرت کو اور غرائب حکمت کو دیکھ کر یہ کہنا کہ ہم ازسرنو کیسے پیدا ہوں گے نہایت ہی عجیب ہے جو قادر وقیوم ان اجرام عظیمہ علویہ و سفلیہ کو پیدا کرنے پر قادر ہے کہ وہ ایک انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں۔
آنکہ پیدا ساختن کارش بود زندگی دادن چہ و شوارش بود
یہ ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے دلائل ربوبیت کا انکار کیا ہر لمحہ اور ہر لحظہ اس کی ربوبیت کے دلائل کا مشاہدہ کرتے ہیں اور پھر بھی حشر اجساد کو ناممکن اور محال سمجھتے ہیں اور یہ ہی وہ لوگ ہیں جن کے گلوں میں قیامت کے دن طوق ہوں گے اور یہی دوزخی لوگ ہیں جو ہمیشہ اسی دوزخ میں رہیں گے۔
دوسرے شبہ کا جواب
ویستعجلونک بالسیءۃ قبل الحسنۃ .... الیٰ .... وان ربک لشدید العقاب
اور اے نبی یہ کفار مکہ تجھ سے بھلائی اور عافیت کی میعاد ختم ہونے سے پہلے برائی یعنی عذاب کے نازل ہونے کا تقاضا کرتے ہیں کہ اگر تو واقع میں نبی ہے اور ہم تجھ کو نہیں مانتے تو تو ہم پر عذاب کیوں نہیں نازل کرا دیتا حالانکہ ان سے پہلے گزشتہ امتوں پر کفر اور تکذیب ہی کے بناء پر عقوبتیں اور طرح طرح کے عذاب نازل ہوچکے ہیں اسی طرح تم پر بھی عذاب نازل ہوسکتا ہے تم کو چاہئے کہ پہلی امتوں کے حال بد سے عبرت پکڑو اور اس خیال میں نہ رہو کہ عذاب کو دیکھ کر ایمان لے آئیں گے اس وقت کا ایمان معتبر نہیں ایمان وہ معتبر ہے جو اختیاری ہو اضطراری ایمان معتبر نہیں اور اللہ عذاب کے نازل کرنے میں اس لیے جلدی نہیں کرتا کہ بیشک تیرا پروردگار لوگوں کے حق میں باوجود ان کے ظلم و ستم کے بڑی بخشش والا اور پردہ پوشی کرنے والا ہے وہ حلیم و کرم ہے فورا نہیں پکڑتا۔
نہ گردن کشاں رابگیرد بفور
اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ تیرا پروردگار سخت عذاب دینے والا بھی ہے اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے لیکن مجرم جب حد سے گزر جاتا ہے تو پھر اس کو سخت پکڑتا ہے۔
تیسرے شبہ کا جواب
ویقول الذین کفروا لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ انما انت منذر ولکل قوم عاد۔
اور یہ کفار یہ بھی کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی ایسی نشانی کیوں نہیں نازل ہوتی جو ہم چاہتے ہیں جو نشانیاں یہ دکھاتا ہے وہ کچھ نشانیاں نہیں ان سے ہماری تسکین نہیں ہوتی اے نبی آپ ﷺ تو صرف عذاب الٰہی سے ڈرانے والے ہیں معجزات کے مالک اور مختار نہیں۔ آپ ﷺ کا کام تو کافروں کو عذاب الٰہی سے ڈرانا ہے اور ڈرانے والی نشانیاں آپ ﷺ سے بہت سی ظاہر ہوچکی ہیں اور یہ معاندین تو شق القمر جیسی نشانیاں کا بھی انکار کرچکے ہیں تو ان کو دوسری نشانیاں دکھانے سے کیا فائدہ اور ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہوتا ہے اس طرح آپ ﷺ بھی اس زمانہ میں ہادی بنا کر بھیجے گئے ہیں اور ہادی کا کام راہنمائی اور خدا کی نافرمانی کے برے نتائج سے ڈرانا ہے اور خدا نے آپ ﷺ کو بڑے بڑے نشانات دئیے ہیں اور دعویٰ نبوت کے اثبات کے لیے مطلق دلیل اور مطلق معجزہ کافی ہے فرمائشی معجزہ ضروری نہیں کفار ایسی نشانی مانگتے ہیں جسے دیکھ کر آدمی ایمان لانے پر مجبور ہوجائے حق تعالیٰ نے ایسے معجزات دینے سے انکار فرما دیا کفار کے شبہ کا منشاء یہ تھا کہ وہ قرآن کو معجزہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ قرآن کریم کو آنحضرت ﷺ کی تصنیف سمجھتے تھے ان کا گمان یہ تھا کہ معجزات تو وہ ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئے اسلئے کافر یہ کہتے تھے کہ آپ پر ایسا معجزہ کیوں نازل نہیں ہوتا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوا تھا
کفار کا یہ شبہ لغو اور مہمل تھا اس لیے کہ ہر زمانہ میں اثبات نبوت کیلئے ایسے معجزات عطا کیے گئے جو اس زمانہ کے مناسب تھے اور ان کی نبوت کے اثبات کے لیے کافی اور وافی تھے موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں سحر کا زور تھا اس لیے ان کو عصا اور یدبیضاء کا معجزہ عطا کیا گیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طب کا زور تھا اس لیے ان کو احیاء مولیٰ اور ابراء اکمہ وابرص کا معجزہ عطا کیا گیا جس سے تمام اطباء عالم عاجز ہونے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں فصاحت و بلاغت کا زور تھا اس لیے آپ ﷺ کو علمی معجزہ تھا اور علاوہ زایں آپ ﷺ سے صدہا معجزات صادر ہوئے جو عصا اور یدبیضاء کے مثل یا اس سے بڑھ کر تھے مثلا شق القمر اور عروج سموات اور سقون حنانہ کا رونا اور انگشتان مبارک سے پانی کا جاری ہونا اور تھوڑی چیز سے ایک لشکر عظیم اور جماعت عظیمہ کا سیر اور سیراب ہونا۔
اس قسم کے بیشمار معجزات آپ ﷺ سے ظاہر ہوئے اور کفار نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا مگر عناد کی بناء پر ان سب کو جادو کہہ دیتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے فرمائشی معجزات ظاہر کرنے سے انکار فرما دیا اور بتلا دیا کہ جو معجزات آنحضرت ﷺ کو من جانب اللہ دئیے گئے وہ آپ ﷺ کی نبوت کے ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں تمہاری منہ مانگی نشانیوں کا ظاہر کرنا ضروری نہیں اس لیے کہ ممکن ہے کہ آئندہ جو معجزہ ظاہر کیا جائے اس کو بھی جادو کہہ کر ٹلا دیں جیسا کہ اب تک کرتے چلے آرہے ہیں۔
Ayahs 13:8–16رجوع برائے مضمون توحید
قال اللہ تعالیٰ : اللہ یعلم ما تحمل کل انثی .... الیٰ .... وھو الواحد القھار۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منکرین نبوت اور منکرین بعث بعد الموت کے شبہات کا جواب تھا اور اس سے قبل توحید کا مضمون تھا اب پھر توحید ہی کا مضمون بیان فرماتے ہیں اس ذیل میں اول حق تعالیٰ نے اپنا عالم بجمیع معلومات ہونا بیان کیا چناچہ اللہ یعلم الخ سے اپنا وسیع العلم ہونا بیان کیا کہ اللہ کا علم تمام کائنات کو محیط ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں بعد اذاں اپنا حافظ خلق اور رقیب ہونا بیان کیا چناچہ لہ معقبات سے یہ بتلا دیا کہ وہی تمام مخلوق کا محافظ اور نگہبان ہے بعد ازاں ھو الذی یریکم البرق الخ سے اپنی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں بیان کیں تاکہ اس کا عظیم الشان ہونا ظاہر ہو اور اس آیت ھو الذی یریکم البرق میں ایسے دلائل قدرت اور حکمت کا ذکر فرمایا کہ جو من وجہ نعمت اور رحمت ہیں اور من وجہ نقمت اور زحمت ہیں تاکہ رغبت اور رہبت دونوں ہی میں معین اور مددگار ہوں پھر قدرت کی ان بڑی بڑی نشانیوں کے بعد فرمایا لہ دعوۃ الحق یعنی وہی معبود برحق ہے جس کی یہ قدرت ہے اور وہی لائق عبادت ہے کیونکہ وہی نفع اور ضرر کا مالک ہے اس کے سوا کسی کی پرستش سے نفع اور ضرر کی امید رکھنا بےکار ہے غیر اللہ کو مدد کے لیے پکارنا اور بلانا ایسا ہے جیسے کوئی پیاسا کنوئیں کے من پر کھڑا ہو کر پانی کی طرف ہاتھ پھیلائے اور خوشامد کرے کہ اے پانی کسی طرح تو میرے منہ میں پہنچ جا پھر یہ بتایا کہ بینا اور نابینا اور ظلمت اور نور برابر نہیں ہوسکتے۔
خلاصہ کلام یہ کہ گزشتہ آیات میں مشرکین کے انکار بعث اور انکار حشر و نشر کا ذکر تھا جس کا منشاء یہ تھا کہ جب انسان مر کر ریزہ ریزہ ہوگیا اور اس کے اجزاء منتشر اور متفرق ہوگئے اور ایک دوسرے سے رل مل گئے اور باہمی امتیاز بھی ختم ہوگیا تو اب دوبارہ زندہ ہونا ناممکن اور محال ہوگیا حق تعالیٰ نے اس کی تردید کے لیے ان آیات میں اپنے احاطہ علمی اور کمال قدرت کو بیان کیا تاکہ عقلی طور پر حشر و نشر کا امکان واضح ہوجائے کہ جس کے علم اور قدرت کی کوئی حد نہیں اس کے لیے دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے اللہ تعالیٰ تمام جزئیات کو اور تمام اجزاء اور ذرات کو خوب جانتا ہے اس کو معلوم ہے کہ یہ اجزاء کسی جسم اور کس بدن کے ہیں اس کو زید اور عمرو ہر ایک کے اجزاء الگ الگ معلوم ہیں وہ اپنے علم اور قدرت سے ان اجزاء کو پھر اسی طرح جوڑ سکتا ہے جس طرح اس نے پہلے جوڑا تھا۔ (دیکھو البحر المحیط ص 328 جلد 5)
اللہ ہی خوب جانتا ہے جو ہر مادہ اپنے پیٹ میں اٹھائے ہوئے ہے یعنی یہ بات کہ پیٹ میں نر ہے یا مادہ، وہ ایک ہے یا دو یا اس سے زیادہ، ناقص ہے یا کامل اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے اور حالت حمل میں یہ بھی مقدر ہوجاتا ہے کہ کون ایمان لائے گا اور کون کفر کرے گا اور باوجود معجزات کے دیکھنے کے پھر بھی اپنے کفر پر قائم رہے گا اس تقریر سے آیت کا ماقبل سے ارتباط ظاہر ہوجائے گا اور رحموں کے گھٹنے اور بڑھنے کو بھی وہی جانتا ہے کہ رحم میں کتنے بچے ہیں اور بچہ کتنے دنوں میں پیدا ہوگا اور ہر شے اس کے یہاں مقدار معین کے ساتھ ہے نہ اس سے کم ہوسکتی ہے اور نہ زیادہ اور ہر شے کی کمیت اور کیفیت اسی کو پورے طور پر معلوم ہے کسی کو معلوم نہیں کہ اس نے کیا مقدر کیا ہے اور ہر امر کے لیے ایک وقت مقرر ہے اس سے پہلے اس کا ظہور میں آنا ناممکن ہے اور ہر چیز کی عدم سے وجود میں آنے سے پہلے اللہ کے علم میں مقدار معین ہے وہ جاننے والا ہے۔ چھپے اور کھلے کا کوئی چیز اس کے علم سے غائب نہیں وہ سب سے بڑا اور بلند ہے ہر شے اس کے مقابلہ میں حقیر اور صغیر ہے اس تک کسی کے خیال اور قیاس کی بھی رسائی نہیں تم میں سے جو شخص چھپا کر اپنے دل میں بات کہے اور جو اس کو پکار کر کہے اور جو شخص رات کے اندھیرے میں چھپا ہوا ہے اور جو دن میں چل رہا ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں برابر ہیں رات دن اس کے حضور میں یکساں ہیں اللہ کا علم تمام کائنات کو محیط ہے اس کو ہر جسم اور ہر بدن کے اجزاء کا پورا پورا اور علیحدہ علیحدہ علم ہے مرنے کے بعد جب اجزائے بدن متفرق اور منتشر ہوگئے تو تمہاری نظر میں اگرچہ ان اجزائے متفرقہ میں امتیاز نہ رہا مگر اللہ تعالیٰ کے علم میں سب ممتاز اور ایک دوسرے سے جدا ہیں اس کو معلوم ہے کہ یہ مذکر کا جزو ہے یا مؤنث کا جزو ہے اور اجزاء منی کے متعلق اس کو پورا علم ہے کہ یہ جزو سر کا ہے یا پیر کا ہے حالت حمل میں بھی بچہ کے تمام اجزاء کا اس کو علم ہے اسی طرح سمجھو کہ مرنے اور گلنے اور سڑنے کے بعد بھی اس پر کسی جزو کا علم پوشیدہ نہیں جس طرح اس نے اپنے علم وقدرت سے پانی اور مٹی کے متفرق اجزاء کو جوڑ کر انسان پیدا کیا اسی طرح وہ توڑنے کے بعد پھر بھی جوڑنے پر قادر ہے یہاں تک اللہ تعالیٰ کے احاطہ علمی کو بیان کیا کہ وہ عالم الغیب ہے اور ذرہ ذرہ کو اس کا علم محیط ہے اب آگے یہ بتلاتے ہیں کہ وہ خداوند ذوالجلال حفیظ و رقیب بھی ہے تمام عالم کا محافظ اور نگہبان ہے چناچہ ہر آدمی کے لیے خواہ مومن ہو یا کافر اللہ کی طرف سے پہرہ دار فرشتے مقرر ہیں جو باری باری سے آنے والے ہیں اور بندہ کے آگے اور پیچھے سے اللہ کے حکم کے مطابق آفتوں اور بلاؤں سے حفاظت کرتے ہیں یہ فرشتے چونکہ یکے بعد دیگرے آتے ہیں اس لیے ان کو معقبات کہتے ہیں یہ فرشتے انسان کی ہر درندہ اور موذی جانور سے حفاظت کرتے ہیں اور جب اللہ کی تقدیر آتی ہے کہ آدمی کو کوئی گزند پہنچے تو یہ فرشتے تھوڑی دیر کے لیے اس سے علیحدہ ہوجاتے ہیں پھر بدستور اس کی حفاظت میں لگ جاتے ہیں ان فرشتوں کو حفظۃ بھی کہتے ہیں اور بظاہر یہ فرشتے کراما کاتبین کے سوا ہیں جن کا کام بندہ کے اقوال و افعال کو لکھنا ہے کتابت اعمال کے لیے ہر انسان پر دو فرشتے مقرر ہیں یہ ساری عمر بندہ کے ساتھ رہتے ہیں بدلتے نہیں اور کراما کاتبین کے علاوہ کچھ فرشتے انسان کی حفاظت کے لیے مقرر ہیں وہ بدلتے رہتے ہیں دن کے محافظ علیحدہ ہیں اور رات کے محافظ علیحدہ ہیں جو انسان کی سانپ بچھو اور کیڑے مکوڑے سے حفاظت کرتے ہیں (تفسیر روح المعانی ص 101 جلد 13 و روح البیان ص 350 جلد 4)
کراما کاتبین بندہ کے اعمال کے نگہبان ہیں اور وہ دو ہیں ایک دائیں اور ایک بائیں عن الیمین وعن الشمال قعید یہ دو فرشتے انسان سے کبھی جدا نہیں ہوتے ان دو کے علاوہ کچھ فرشتے انسان کی حفاظت کے لیے مقرر ہیں آگے اور پیچھے سے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور بدلتے رہتے ہیں ان کی تعداد میں روایتیں مختلف ہیں بعض نے کہا کہ پانچ فرشتے ہیں اور بعض نے کہا دس اور بعض نے کہا بیس۔ (واللہ اعلم)
فائدہ : حق جل شانہ نے اس عالم کو عالم اسباب بنایا ہے ہر چیز کے لئے ظاہر میں ایک سبب ظاہری پیدا کیا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کچھ باطنی اسباب و ذرائع بھی پیدا کئے ہیں جن کو ہماری آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں انہی باطنی اسباب میں یہ ملائکہ و معقبات ہیں جو ہماری حفاظت کا ایک باطنی سبب ہیں غیبی طور پر اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو ہم سے بلائیں دفع کرنے کا ایک سبب اور ذریعہ بنایا ہے مومن کا کام یہ ہے کہ ان کے وجود پر ایمان لائے جیسے کہ ہم کراما کاتبین کے وجود مجھ پر ایمان رکھتے رہیں اگرچہ ہمیں ان کے قلم اور کاغذ اور روشنائی اور کتابت کی حقیقت اور کیفیت معلوم نہیں کہ وہ کیا ہے اور کیسی ہے (روح المعانی ص 102 جلد 13)
یہ تو بندوں کے سامان حفاظت کا ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کی حفاظت کے لیے کچھ فرشتے مقرر کیے ہیں جو ان سے بلائیں دفع کرتے ہیں اب آگے ان آفتوں اور بلاؤں اور مصیبتوں کا ذکر کرتے ہیں جو بد اعمالیوں کی وجہ سے بندوں پر نازل ہوتی ہیں چناچہ فرماتے ہیں تحقیق اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا اس معاملہ کو جو کسی قوم کے ساتھ ہو جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت کو نہ بدلیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی عطا کردہ مہربانی اور نگہبانی اور نعمت اور عافیت سے کسی قوم کو محروم نہیں کرتا جب تک وہ اپنی چال کو اللہ کے ساتھ نہ بدلیں جب وہ اپنی روش اللہ کے ساتھ بدل دیتے ہیں اور بجائے شکر نعمت کے کفران نعمت اور غفلت میں مبتلا ہوجاتے ہیں تب اللہ کی طرف سے آفت اور مصیبت آتی ہے جب تم اللہ کے ساتھ غیروں کا سا معاملہ کرنے لگتے ہو تو اللہ بھی غیروں کا سا معاملہ کرنے لگتے ہیں بندے جب اپنی حالت بدل دیتے ہیں کہ بجائے طاعت کے معصیت کرنے لگتے ہیں تو اللہ بھی ان سے اپنے فضل اور عنایت کو اٹھا لیتا ہے۔
جب کسی قوم میں علانیہ طور پر فسق وفجور اور بدکاری شائع ہوجاتے تو وہ قوم چند روز میں تباہ ہوجاتی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے اور تاریخ اس کی گواہ ہے اور جب اللہ ارادہ کرے کسی قوم کے ساتھ برائی کا یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی قوم سے بوجہ بدنیتی اور بداعمالی اپنی نعمت چھین کر ان کی ذلت و خواری کا ارادہ فرمائیں تو پھر وہ برئی اور بلا کسی کے ٹالے نہیں ٹلتی اور ایسے وقت میں سوائے خدا کے کوئی مددگار نہیں ہوتا جو بلا کو دفع کرسکے حتیٰ کہ وہ فرشتے جو ان کی حفاظت کے لیے مقرر ہیں وہ بھی تھوڑی دیر کے لیے علیحدہ ہوجاتے ہیں اور برائی سے ہلاکت اور آفت مراد ہے وہ وہ ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کے لیے بجلی دکھاتا ہے بجلی جب چمکتی ہے تو لوگ اس سے بارش کی امید کرتے ہیں اور اس کے گرنے سے ڈرتے بھی ہیں ایک ہی چیز میں دو متضاد صفتوں کا جمع ہونا خدا کا کمال قدرت کی دلیل ہے گویا کہ ایک ہی شئے نعمت بھی ہے اور عذاب اور مصیبت بھی اس طرح خدا تعالیٰ نے ایک ہی شئی میں اپنا لطف اور قہر دو متضاد چیزوں کو جمع کردیا اور ” برق “ اس نور لامع اور ساطع کو کہتے ہیں جو ابر کے درمیان سے چمکتا ہے اور وہ ہی اپنی قدرت سے ہوا میں بوجھل بادلوں کو اٹھاتا ہے جو ہزاروں ٹن پانی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں اور مجال نہیں کہ بغیر اس کے حکم کے کسی جگہ برس جائیں اور نہ کسی کی یہ مجال کہ ان بادلوں میں سے اپنی ضرورت کے موافق پانی کا ایک قطرہ لے سکے اور گرج حمد و ثنا کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے اس کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں فرشتوں کا تسبیح وتحمید کرنا اور خدا کی عظمت و جلال کو بیان کرنا بظاہر ایک معقول امر ہے مگر رعد یعنی (گرج) کا بظاہر تسبیح وتحمید کرنا قابل غور معلوم ہوتا ہے اس سے بعض علماء اس طرف چلے گئے کہ گرج کی تسبیح وتحمید کا مطلب یہ ہے کہ گرج سے خدا کی کمال قدرت ظاہر ہوتی ہے جس کو سن کر اہل عرفان کی زبان سے بےساختہ سبحان اللہ اور الحمدللہ نکل جاتا ہے اس مطلب کا حاصل یہ ہے کہ تسبیح کی اسناد رعد کی طرف مجازی ہے اور مفسرین کی ایک جماعت کے نزدیک رعد ایک فرشتہ کا نام ہے جو سحاب (بادل) پر مقرر ہے پس اگر رعد ایک فرشتہ کا نام ہے تو پھر اس کی تسبیح وتحمید میں کوئی استبعاد نہیں جیسا کہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک فرشتہ کی تسبیح پڑھنے کی آواز ہے جو بادلوں کو چلاتا ہے اور اس وقت تسبیح پڑھتا ہے جسے عوام الناس بادل کی آواز سمجھتے ہیں ورنہ حقیقت یہ آواز اس کی تسبیح کی ہے اور اس فرشتہ کے ہاتھ میں آتشی تازیانہ ہوتا ہے جس سے وہ بادلوں کو ہنکاتا ہے اس سے جو چمک ظاہر ہوتی ہے وہ برق (بجلی) ہے اور وہ کوڑا جس سے ابر کو مارتا ہے اس کی آواز رعد ہے اور صاعقہ ایک آگ ہے جو بادلوں میں پیدا ہوتی ہے جب نیچے آتی ہے تو جس چیز پر گرتی ہے تو اس کو جلا کر بھسم کردیتی ہے اور محققین یہ فرماتے ہیں کہ اگر رعد محض آواز کا نام بھی ہو تب بھی تسبیح وتحمید کی اسناد اس طرف حقیقی ہے اگرچہ وہ ہمارے فہم میں نہ آئے حق تعالیٰ کا ارشاد وان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحھم۔ یعنی کوئی شے ایسی نہیں جو اللہ کی تسبیح وتحمید نہ کرتی ہو مگر اے بنی آدم تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) پرندوں کی بولی سمجھتے تھے اور باقی لوگ نہیں سمجھتے تھے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ بارگاہ خداوندی میں ہر چیز کی ایک خاص حقیقت ہے جیسے نماز اور روزہ اور قراءت قرآن اور سورة بقرہ آل عمران وغیرہ وغیرہ ہمارے اعتبار سے یہ تمام چیزیں اعراض اور غیر قائم بنفسہ ہیں لیکن اصل حقیقت ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہے اسی طرح سمجھو کہ رعد ہمارے اعتبار سے اگرچہ محض ایک آواز ہو لیکن بارگاہ خداوندی میں اس کی کوئی پوشیدہ حقیقت ہو فرشتہ ہو یا کوئی شے ہو اور وہ حقیقتاً خدا کی تسبیح وتحمید کرتی ہو تو اللہ تعالیٰ کی خبر کے مطابق اس کی تصدیق واجب اور لازم ہے گو ہماری فہم میں نہ آئے پس جان لینا چاہئے کہ گرج کی یہ آواز جو ہماری سمجھ میں خالی آواز معلوم ہوتی ہے وہ درحقیقت سبحان اللہ وبحمدہ کے معنی رکھتی ہے اور تسبیح پڑھنے والی چیز درحقیقت رعد ہے پس مسلمان کا کام یہ ہے کہ زیادہ تحقیق میں نہ پڑے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو فرما دیا اس کو تسلیم کرے اور جو غیر مسلم ہے وہ ان باتوں کو کسی طرح بھی ماننے والا نہیں اس عالم کے احوال کو اس عالم کے احوال پر قیاس کرنا سراسر نادانی ہے اور جس خبر اور اثر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رعد ایک فرشتہ کا نام ہے جو بادلوں پر مقرر ہے اور جو آواز سنائی دیتی ہے وہ فرشتہ کی آواز ہوتی ہے سو یہ خبر اگرچہ آحاد میں سے ہے متواتر اور قطعی نہیں لیکن احوط یہ ہے کہ حدیث کی مخالفت نہ کی جائے اگرچہ وہ آحاد ہی کیوں نہ ہو جب تک اس کے خلاف کوئی قطعی دلیل قائم نہ ہوجائے عقلا یہ بات جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کرکے بارش کا انتظام اس کے سپرد کیا ہو اور اس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہو جس سے وہ بادلوں کو ہانکتا ہو اور یہ رعد اس فرشتہ کی آواز ہو اور یہ برق اس کے کوڑے کی شراروں کی چمک ہو (واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم) غرض یہ کہ رعد اور برق اس کے قہر کی نشانیاں ہیں جس سے بندوں کو ڈراتا ہے اور ان سے بڑھ کر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں گرنے والی بجلیاں بھیجتا ہے پھر ان کو جس پر چاہتا ہے گراتا ہے اور اس کو ہلاک کردیتا ہے اور یہ کافر لوگ اللہ کے قہر کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ یہ لوگ اللہ کی قدرت اور قہر کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ وہ سخت قوت والا ہے دشمن اس کے قبضہ قدرت سے نکل نہیں سکتے۔
حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عرب کے ایک متکبر رئیس کے پاس دعوت اسلام کا پیغام بھیجا وہ متکبر بولا کہ اللہ کا رسول کون ہے ؟ اور اللہ کیا چیز ہے ؟ سونے کا ہے یا چاندی کا یا تانبے کا ؟ تیسری مرتبہ جب اس نے یہ گستاخانہ الفاظ بکے تو فورا ایک بادل اٹھا اور اس پر بجلی گری جس سے اس کی کھوپڑی اڑ گئی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
اب قدرت کی ان بڑی بڑی نشانیوں کو بطور نتیجہ ارشاد فرماتے ہیں خدائے برحق ہی کے لیے سزاوار ہے سچی دعا اور پکار یعنی اس سے دعا مانگنا اور اسی کا یاد رکھنا اور اسی کی طرف رجوع کرنا صحیح اور درست ہے کیونکہ وہ دعاؤں کو سنتا ہے اور حاجت روا ہے اور جو لوگ اس کے سوا اور معبودوں کو پکارتے ہیں کیونکہ وہ دعاؤں کو سنتا ہے اور حاجت روا ہے اور جو لوگ اس کے سوا اور معبودوں کو پکارتے ہیں وہ معبود ان کو ان کی پکار کا کچھ جواب نہیں دے سکتے ان کا پکارنا ایسا ہے جیسے کوئی پیاسا شخص اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے تاکہ وہ پانی آپ سے آپ اس کے منہ تک پہنچ جائے اور وہ پانی اس تک پہنچنے والا نہیں کیونکہ پانی جما د ہے بےحس ہے اور بےشعور ہے اور نہ اسے ہاتھ پھیلانے والے کی خبر، نہ اس کی پیاس کی خبر اور نہ اس میں یہ قدرت کہ پکارنے والے کی پکار کا جواب دے سکے، بعینہٖ یہ مثال مشرکوں کو بتوں کو پکارنا محض بےسود ہے اور کافروں کی اپنے بتوں کو جس قدر بھی پکار ہے وہ سب بےکار ہے بتوں کو پکارنا یہ دعوت جہالت و ضلالت ہے جو مفضی الی الہلاکت ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ خدا ہی کی پرستش ٹھیک ہے اور اس کے غیر کی پرستش بالکل رائیگاں ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی پیاسا پانی کے پاس جاکر اس بات کا منتظر رہے کہ یہ پانی میرے منہ میں آجائے حالانکہ وہ کبھی آپ سے آنے والا نہیں اس طرح غیر اللہ کی پرستش سے جو لوگ نفع کے امیدوار ہیں ان کی امید کبھی برآنے والی نہیں۔
حضرت شاہ عبد القادر (رح) فرماتے ہیں کافر جن کو پکارتے ہیں بعضے خیال ہیں اور بعضے جن ہیں اور بعض ایسی چیزیں ہیں کہ ان میں کچھ خواص ہیں لیکن اپنے خواص کے مالک نہیں پھر کیا حاصل ان کا پکارنا جیسے آگ یا پانی اور شاید ستارے بھی اسی قسم میں ہوں یہ اس کی مثال فرمائی (انتہیٰ )
اس کے بعد پھر حق تعالیٰ اپنی عظمت اور کبریائی کو بیان فرماتے ہیں کہ تمام مخلوق اس کی مسخر ہے اور اس کے سامنے ذلیل و خوار ہے اور غیر اللہ کی پرستش عقلا اس لیے بھی بےکار ہے کہ تمام کائنات اللہ کے سامنے سربسجود ہے کیونکہ اللہ ہی کو سجدہ کرتا ہے جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے کوئی خوشی سے اور کوئی ناخوشی سے کوئی خوشی سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو بجالاتا ہے اور جو خدا پر یقین نہیں رکھتا اس پر اللہ تعالیٰ کا حکم جاری ہوتا ہے اس کے خلاف نہیں کرسکتا اور ان زمین والوں کے سائے بھی صبح اور شام کے اوقات میں سجدہ کرتے ہیں یعنی سائے بھی خدا کے حکم بردار ہیں جب گھٹاتا ہے گھٹ جاتے ہیں اور جب بڑھاتا ہے تو بڑھ جاتے ہیں اور سایوں کا گھٹنا اور بڑھنا صبح اور شام کے اوقات میں زیادہ ہوتا ہے اور کائنات کا یہ سجدہ اللہ کی عظمت اور جلال کی خبر دیتا ہے۔ زجاج (رح) کہتے ہیں کہ کافر تو غیر اللہ کو سجدہ کرتے ہیں مگر ان کا سایہ اللہ کو سکدہ کرتا ہے۔ ابن انباری (رح) کہتے ہیں کہ عجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ ظلال کے لیے عقول اور افہام پیدا کر دے جس سے وہ اللہ کو سجدہ کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو فہم دیا اور وہ اللہ کی تسبیح میں مشغول ہیں اسی طرح سمجھو کہ مومن کا سایہ اللہ کو طوعا سجدہ کرتا ہے اور کافر کا سایہ کرہا سجدہ کرتا ہے (تفسیر کبیر ص 198 جلد 5)
: انسانی سجدہ کے معنی زمین پر پیشانی رکھ دینے کے ہیں اور انسان کے علاوہ دوسری چیزوں کا سجدہ ان کے لائق اور مناسب ہے۔
: یہ سجدہ عزائم سجود میں سے ہے اس آیت کو پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ واجب ہے۔
یہاں تک توحید کی حقانیت اور شرک کا بطلان واضح ہوگیا اب بطور اتمام حجت ان سے سوالات کا حکم دیا جاتا ہے اے نبی ﷺ آپ ان مشرکوں سے جو خدا کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں پوچھئے کون ہے رب آسمانوں اور زمین کا یعنی ان کا مدبر اور خالق کون ہے جو ان کو قائم رکھنے والا اور ان کے وجود کو تھامنے والا ہے اور چونکہ اس کا جواب متعین ہے اس لیے آپ جواب میں کہہ دیجئے کہ اللہ ہے یعنی آپ ان کے جواب کا انتظار فرمائیے خود ہی کہہ دیجئے کہ اللہ ہے اس سوال کا صرف یہ ایک ہی جواب ہوسکتا ہے اس لیے ان کے جواب کا آپ انتظار نہ کیجئے نیز وہ خود بھی خدا کے خالق اور مالک اور مدبر ہونے کے منکر نہیں اے نبی ﷺ ! ان مشرکوں سے پوچھئے کہ کیا پس اس اقرار و اعتراف کے بعد تم نے اللہ کے سوا کارساز پکڑے ہیں جو اپنی ذاتوں کے لیے بھی کسی نفع اور ضرر کے مالک نہیں تو غیر کی کیا مدد کریں گے پوچھئے کیا اندھا یعنی مشرک اور بینا یعنی مومن برابر ہے یا کفر و شرک کی تاریکیاں اور ایمان کی روشنی برابر ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح اندھا اور بینا اور اندھیرا اور اجالا برابر نہیں اسی طرح مومن اور کافر اور ایمان اور کفر برابر نہیں مومن بینا ہے وہ راہ ھق کو دیکھتا ہے اور کافر اندھا ہے اس کو راہ حق دکھائی نہیں دیتی کیا انہوں نے اللہ کے شریک ٹھہرائے ہیں کہ انہوں نے بھی کسی چیز کو پیدا کیا ہو جیسے خدا نے پیدا کیا پھر اس وجہ سے پیدائش ان کی نظر میں مشتبہ ہوگئی اور شبہ میں پڑگئے کہ یہ بھی خالق ہے اور وہ بھی خالق ہیں ہم کس کو معبود مانیں مطلب یہ ہے کہ کیا ان معبودوں نے بھی کوئی چیز پیدا کی ہے جس سے تم پر اللہ کی مخلوق اور غیر اللہ کی مخلوق مشتبہ ہوگئی ہے اس لیے تم نے ان کو اللہ کا شریک اور ساجھی بنا لیا اور اس اشتباہ کی وجہ سے تم نے غلطی سے کسی چیز کو خالق مان لیا اگر ایسا ہوتا تو ایک حد تک معذور ہوسکتے تھے لیکن جب یہ بات بھی نہیں تو پھر کیا آفت آئی کہ شرک کی بلا میں گرفتار ہوئے یعنی یہ بات تو نہیں پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود ٹھہرائے ہوئے ہیں اگر مخلوقات عالم میں ذرا غور کریں اور عقلوں سے کام لیں تو تمام اشیاء کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو پائیں گے اس لیے اے نبی ! آپ ﷺ ان مشرکوں سے کہہ دیجئے کہ اللہ ہی ہر شے کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی اپنی ذات صفات میں یکتا ہے اور سب پر غالب ہے اور اس کے سوا جو ہے وہ مغلوب ہے اور مغلوب خدا اور معبود نہیں ہوسکتا۔
Ayah 13:17مثال حق و باطل
قال اللہ تعالیٰ انزل من السماء ماء فسالت اودیۃ بقدرھا .... الیٰ .... یضرب اللہ الامثال
(ربط) گزشتہ آیت میں کافروں کو اندھوں سے اور مسلمانوں کو بینا سے اور کفر کو ظلمت سے اور اسلام کو نور سے تشبیہ دی اب ان آیات میں حق و باطل کی دو مثالیں بیان فرمائے ہیں ایک پانی کی اور ایک آگ کی چناچہ فرماتے ہیں۔
پہلی مثال
اس واحد قہار نے آسمان سے پانی اتارا پھر نالے اس پانی سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق بہہ پڑے یعنی پانی تو آسمان سے یکساں برسا مگر ہر نالے میں بقدر اس کی وسعت اور عمق کے سمایا اسی طرح آسمان سے قرآن کریم نازل ہوا اور قلوب کی زمینوں نے بقدر اپنی صلاحیت اور وسعت کے اس آسمانی باران رحمت کا اثر قبول کیا اور ہر ایک اپنی استعداد کے مطابق اور موافق فیض لیتا ہے جیسے ہر وادی اپنی وسعت کے مطابق پانی لیتی ہے پھر اٹھایا اس سیلاب کے پانی نے اپنے اوپر ایک پھولا ہوا جھاگ۔ سیلاب میں دو چیزیں ہوتی ہیں ایک خالص پانی اور دوسرا میل کچیل اور جھاگ یہ اوپر ہوتا ہے اور خالص پانی نیچے دبا ہوا ہوتا ہے پس اسی طرح سمجھو کہ حق خالص پانی کی طرف ہے جس پر زندگی کا دارومدار ہے اور باطل مثل جھاگ کے ہے کسی وقت باطل حق کو دبا بھی لیتا ہے لیکن باطل کا یہ ابال عارضی اور بےبنیاد ہوتا ہے تھوڑے سے جوش و خروش کے بعد اس کا نام و نشان بھی نہیں رہتا اور اصل کار آمد چیز یعنی حق اور صداقت کا آب حیات وہ باقی رہ جاتا ہے۔
دوسری مثال
اور حق و باطل کی دوسری مثال یہ ہے کہ جس دھات کو زیور بنانے کے لیے یا اور کوئی چیز بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں اور پگھلاتے ہیں تو اصلی دھات سونا اور چاندی تو نیچے رہ جاتا ہے اور رویسا ہی جھاگ اور میل کچیل اوپر آجاتا ہے جو محض بےکار ہے اور اصلی سونا چاندی اس جھاگ کے نیچے دبا ہوا ہے اس طرح حق تعالیٰ حق اور باطل کی مثال بیان کرتے ہیں بہرحال جو کف اور جھاگ ہے وہ تو خشک ہو کر چلا جاتا ہے اسی طرح باطل اگر کسی وقت حق پر غالب بھی آجائے تو اس کو ثبات اور قرار نہیں اور وہ چیز جو لوگوں کو نفع پہنچاتی ہے جیسے صاف پانی اور خالص جو ہر وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے یعنی اس کو قرار اور ثبات ہے اسی طرح دین حق کو قرار و ثبات ہے وہ باقی رہ جاتا ہے اور باطل جو مثل جھاگ کے ہے وہ مٹ جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ لوگ باطل کے ظاہری اور عارضی اور چند روز غلبہ سے شبہ میں نہ پڑیں حق صاف و شفاف پانی یا اصلی جوہر کے مشابہ ہے اور باطل مثل میل کچیل کے ہے اگرچہ ظاہر میں وہ اصلی جوہر سے اونچا نظر آتا ہے مگر بہت جلد فنا ہوجاتا ہے یا پھینک دیا جاتا ہے۔
گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ نے توحید اور شرک کا مقابلہ بیان کیا تھا اب ان آیات میں دو مثالوں سے حق اور باطل کے مقابلہ کی کیفیت بیان فرما دی اور آئندہ آیات میں دونوں کا انجام کھول کر بیان کرتے ہیں۔