13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 13:18–25

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ ہی اتنے اور (نجات کے) بدلے میں صرف کر ڈالیں (مگر نجات کہاں ؟ ) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانہ بھی دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا حق ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے ؟ اور سمجھتے تو وہی ہیں جو عقلمند ہیں۔

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

جو خدا کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اقرار کو نہیں توڑتے۔

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کا جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور جو پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (مصائب پر) صبر کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں اور نیکی سے برائی کو دور کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے لئے عاقبت کا گھر ہے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

(یعنی) جو ہمیشہ رہنے کے باغات جن میں وہ داخل ہونگے اور ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں سے جو نیکوکار ہوں گے وہ بھی (بہشت میں جائیں گے) اور فرشتے (بہشت کے) ہر ایک دروازے سے انکے پاس آئینگے

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

(اور کہیں گے) تم پر رحمت ہو (یہ) تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے اور عاقبت کا گھر خوب (گھر) ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا سے عہد واثق کر کے اسکو توڑ ڈالتے اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو قطع کردیتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں ایسوں پر لعنت ہے۔ اور انکے لئے گھر بھی برا ہے

ذکر حال و مآل محقین و مبطلین قال اللہ تعالیٰ للذین استجابوا لربھم الحسنی .... الیٰ .... اولئک لہم اللعنۃ ولہم سوء الدار۔ (ربط) گزشتہ آیات میں حق اور باطل کی مثال بیان فرمائی اب ان آیات میں اہل حق اور اہل باطل کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں ایک گروہ وہ ہے جس نے دعوت کو قبول کیا یہ گروہ سعداء کا ہے اور ایک گروہ وہ ہے جس نے دعوت حق کو قبول نہیں کیا یہ گروہ اشقیاء کا ہے ان آیات میں اخلاق و اعمال کے اعتبار سے سعداء اور اشقیاء کے فرق کو بیان کرتے ہیں تاکہ دونوں گروہوں کا فرق معلوم ہوجائے مبادا کوئی نادان دونوں کو یکساں قرار دے اس لیے اول اہل حق کے فضائل و شمائل اور ان کے اخروی نتائج بیان کیے کہ وہ دل میں خوف خدا رکھتے ہیں اور اس کے اوامرو نواہی کے پابند ہیں اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی رعایت رکھتے ہیں یہ گروہ اہل علم کا ہے اس کے بعد ان کے مقابل اہل باطل کی خرابیان اور ان کے برے اعمال کا نتیجہ بیان کیا جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل حق اور اہل سعادت نے ہدایت سے حصہ حاصل کیا اور ان کے اعمال ظاہری و باطنی ان کے لیے نافع اور باقی رہے اور اہل باطل نے ہدایت سے حصہ نہ پایا اور ان کے سارے اعمال مثل جھاگ کے باطل اور بےکار گئے اور مرتے ہی دنیا کے تمام منافع اور فوائد زائل ہوگئے چناچہ فرماتے ہیں جن لوگوں نے اپنے پروردگار کی دعوت کو قبول کیا اور جو آب ہدایت اللہ تعالیٰ نے آسمان سے نازل کیا تھا اس کو نوش جان کیا اور شبہات اور وسواس کا جو میل و کچیل اور خس و خاشاک اس میں باہر سے آلگا تھا اب اس کو ہدایت کے اوپر سے اتار پھینک دیا ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں بھلائی یعنی جنت مقرر ہے کما قال تعالیٰ للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ اور جن لوگوں نے اللہ کی دعوت کو قبول نہیں کیا اور اس نے آسمان سے ہدایت کا جو آب حیات نازل کیا تھا اس کو استعمال کرنے سے اعراض کیا قیامت کے دن اگر ان کے پاس وہ سب کچھ مال و متاع بھی ہو جو روئے زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی ہو تو اس سب کو آخرت کے عذاب سے جان چھڑانے کے لیے دے ڈالیں۔ یعنی کافروں کے پاس قیامت کے دن اگر تمام روئے زمین کا خزانہ اور اتنا ہی اور بھی ہو تو وہ عذاب سے رہائی کے بدلے اس سب کو دے ڈالیں مگر وہاں ان کے پاس مال کہاں دھرا ہے اور اگر بفرض محال ہو بھی تو قبول کہا ہوسکتا ہے آخرت کے عذاب سے رہائی کا ذریعہ صرف یہ ہے کہ اس دنیا میں دعوت حق کو قبول کریں اور ان کے عقائد فاسدہ اور اعمال کا سدہ پانی کے جھاگ کی طرح سب اڑ جائیں گے اور علاوہ ازیں قیامت کے دن ایسے لوگوں کے لئے برا حساب ہوگا یعنی سختی سے ان کے اعمال کا محاسبہ اور مناقشہ ہوگا اور ذرہ ذرہ پر مؤاخذہ اور باز پرس ہوگی جس کو دوسری آیت میں حساب عیر فرمایا اور حساب کے بعد ان کا ٹھکانا ہمیشہ کیلئے دوزخ ہے اور وہ بہت بری خواب گاہ ہے مگر کافر چونکہ چشم بصیرت سے عاری اور کو را ہے اس لیے اس کو راہ ہدایت نظر نہیں آتی اور مومن بینا اور عاقل ہے وہ اپنی عقل سے حق اور باطل کا فرق سمجھتا ہے اور چشم بصیرت سے آیات بینات کو دیکھتا ہے اس لیے اب آئندہ بینا ( مومن) اور نابینا (کافر) کے فرق کو واضح فرماتے ہیں۔ کیا تم کو ہدایت اور ضلالت کا فرق نظر نہیں آتا پس کیا وہ شخص جو یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تیرے پروردگار کی طرف سے اتارا گیا ہے وہ حق ہے کیا ایسا شخص اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے جا نابینا ہو اور اسے حق نظر نہ آتا ہو کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ہرگز نہیں، ہرگز نہیں اسی طرح سمجھو کہ مومن اور کافر برابر نہیں ہوسکتے لایستوی اصحب النار واصحب الجنۃ الایۃ جزایں نیست کہ نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جن کی عقلیں خالص ہیں اور شوائیب وہم اور نفسیات سے پاک ہیں جن کی عقلیں خالص اور صاف ہیں وہی نور بصیرت سے اشیاء کے حقائق اور دقائق کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں اولو الالباب وہ لوگ ہیں جو پند پذیر اور عبرت گیر ہوں۔ صفات اہل عقل اب آئندہ آیات میں اہل عقل کی صفات کو ذکر کرتے ہیں کیونکہ عقل تو دل کے اندر چھپی ہوتی ہے اس کا اندازہ صفات ہی سے ہوسکتا ہے کہ اندر عقل ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کس درجہ کی ہے۔ (وصف اول) ” اولوا الالباب “ وہ لوگ ہیں کہ جو اللہ کے عہد ربوبیت کو پورا کرتے ہیں جو انہوں نے روز میثاق اللہ سے باندھا تھا (وصف دوم) اور عہد کو توڑتے نہیں یعنی نافرمانی سے باز رہتے ہیں۔ (وصف سوم) اور جن علاقوں کا اللہ نے ملانے کا حکم دیا ہے ان کو ملاتے اور جوڑتے ہیں یعنی صلہ رحمی کرتے ہیں اور اپنے عزیز و اقارب اور رشتہ داروں کے ساتھ احسان اور نیک سلوک کرتے ہیں۔ (وصف چہارم) اور اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں کہ کوئی فعل ہم سے خلاف عہد سرزد نہ ہوجائے۔ (وصف پنجم) اور ڈرتے ہیں حساب کی سختی سے یعنی محاسبہ سے ڈرتے ہیں اس لیے کہ جس سے حساب میں مناقشہ اور چھان بین ہوئی وہ ہلاک ہوا۔ (وصف ششم) اور جن لوگوں نے محض اپنے پروردگار کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے جادہ طاعت پر قائم رہنے میں صبر کیا یعنی شرائع عبودیت کی پابندی کی اور بوجہ مخالفت نفس جو مشقت پیش آتی اس کا تحمل کیا۔ (وصف ہفتم) اور ٹھیک وقت اور ٹھیک آداب کے ساتھ نماز کو ادا کیا۔ (وصف ہشتم و نہم) اور جو مال و منال اور علم اور فضل و کمال ہم نے انکو دیا اس میں سے کبھی پوشیدہ اور کبھی ظاہر جیسا موقع ہوا خرچ کیا (وصف دہم) اور وہ بدی کو نیکی سے دفع کرتے ہیں یعنی برائی کا بدلہ بھلائی سے ریتے ہیں اور سیۂ کی ظلمت کو حسنہ کے نور سے زائل کردیتے ہیں دیکھ لو عقلمند ایسے ہوتے ہیں۔ بدی رابدی سہل باشد جزاء اگر مردی احسن الیٰ من اساء ایسے ہی عقل مندوں کے لیے دار آخرت ہے یعنی ان کے لیے خلود اور بقاء کے باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے آباء و اجداد اور ان کی بیویاں اور ان کی اولاد جو نیک ہیں وہ بھی ان کے ساتھ ان باغات میں داخل ہوں گے اگرچہ ان کے اعمال اولوالالباب جیسے نہ ہوں مگر معاملہ ان کے ساتھ ویسا ہی ہوگا۔ یہ اولوا الالباب کی خاص کرامت ہے کہ ان کے طفیل میں ان کے قریبی رشتہ دار بھی ان کے ساتھ ہوں گے اگرچہ ان کے اعمال ان جیسے نہ ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ ان کا ایمان اور ایقان ٹھیک ہو اور درست ہو جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنابھم ذریتھم اور فرشتے ان پر جنت کے ہر دروازے سے مبارک باد دینے کے لیے یہ کہتے ہوئے داخل ہوں گے سلامتی ہو تم پر اس لیے کہ تم نے صبر کیا یعنی دین حق پر قائم رہے اور ثابت قدم رہے پس کیا ہی اچھا ہے دار آخرت جو تمام آفات ظاہری اور باطنی سے سالم اور محفوظ ہے یہ جملہ دار آخرت کی ترغیب اور تشویق کے لیے ذکر فرمایا ہے یہاں تک تو اہل جنت اور سعداء کی صفت و کرامت کا بیان ہوا سب اس کے بالمقابل اشقیاء اور کافروں کی خرابیاں اور ان کے برے اعمال کا نتیجہ بیان فرماتے ہیں۔ اور جو لوگ نابینا اور نادان اور عقل سے کورے ہیں ان کا حال یہ ہے کہ اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں بعد اس کی مضبوطی کے اور جن رشتوں کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے ان کو توڑتے ہیں اور ملک میں فساد پھیلاتے ہیں ہر معصیت فتنہ اور فساد ہے اور سب سے بڑا فساد کفر اور شرک ہے۔ ایسے ہی بدعقلوں پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے جس کے مقابلہ میں یہ دنیا ان کے لیے بہشت ہے حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ جب قبور شہداء پر جاتے تو یہ کہتے سلام علیکم بما صبرتم نفعم عقبی الدار، اور اسی طرح حضرت ابوبکر اور عمر و عثمان ؓ بھی کہا کرتے تھے بہرحال ان آیات میں بدبختوں کا حال بیان کیا اور ان کے انجام سے خبر دی کہ ان کا حال اور مال اہل ایمان کے بالکل برعکس ہے۔
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

خدا جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کا چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ اور (کافر لوگ) دنیا کی زندگی پر خوش ہو رہے ہیں۔ اور دنیا کی زندگی آخرت (کے مقابلے) میں (بہت) تھوڑا فائدہ ہے۔

جواب از سبہ عدم مبغوضیت کفار بنا بر وسعت رزق دنیاوی قال اللہ تعالیٰ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر .... الیٰ .... الا متاع (ربط) گزشتہ آیات میں کافروں کا ملعون و مغضوب ہونا بیان کیا چونکہ اکثر کفار دنیوی مال و دولت اور ظاہری عزت و راحت کے اعتبار سے خوش حال تھے اس لیے دیکھنے والوں کو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ اگر خدا کے نزدیک ملعون و مبغوض ہوتے تو ان پر دنیا میں رزق کی وسعت کیوں ہوتی تو اس آیت میں اس شبہ کا جواب دیتے ہیں کہ رزق کا کم یا زیادہ ہونا ایمان اور کفر پر موقوف نہیں ہم جسے چاہتے ہیں زیادہ رزق دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں کم دیتے ہیں اور دنیاوی زندگی کی عیش و عشرت کا کوئی اعتبار نہیں یہ تو چند روزہ ہے آخرت کا عیش جو ابدی ہے کافر اس سے محروم رکھے جائیں گے سعادت اور شقاوت کا فیصلہ آخرت میں ہوگا دنیا، دار امتحان ہے نہ کہ دار جزاء۔ دنیا کی تنگی اور فراخی مقبول اور مردود ہونے کی دلیل نہیں بہت سے نیک اشخاص تنگدست ہوتے ہیں اور بہت سے اوباش عیش و عشرت میں ہیں رزق کی فراخی اور تنگی ازراہ حکمت و مصلحت ہے اور یہ کافر جس عیش و عشرت پر خوش ہو رہے ہیں وہ استدراج اور امہال ہے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے ایحسبون انما نمدھم بہ من مال وبنین نسارع لہم فی الخیرت بل لا یشعرون لہٰذا کافروں کو چاہئے کہ اپنے مال و جاہ کو دیکھ کر مغرور نہ ہوں مال و دولت کی کثرت مقبولیت کی دلیل نہیں بلکہ یہ من جانب اللہ امتدراج اور ڈھیل ہے کہ جرم کا پیمانہ خوب لبریز ہوجائے اور جو کرنا ہے وہ دل کھول کر کرلیں پھر یک لخت ان کو گرفتار کرکے تختہ دار پر لٹکا دیا جائے۔ بنا داں آں چناں روزی رساند کہ دانا اندراں حیراں بمانند اللہ تعالیٰ وسعت کے ساتھ رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے رزق کا کم اور زیادہ ہونا کفر اور ایمان پر موقوف نہیں اور کفار اترائے ہوئے ہیں دنیاوی زندگی پر اور اس کی عیش و عشرت پر اور ان کا یہ اترانا بالکل فضول ہے اس لیے کہ دنیاوی زندگی آخرت کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں مگر بہت تھوڑا سامان حدیث میں ہے کہ دنیا آخرت کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈبو کر نکالے اور دیکھے کہ کیا لائی رواہ الامام احمد وقال اللہ تعالیٰ قد متاع الدنیا قلیل والاخرۃ خیر لمن اتقی ولا تظلمون فتیلا۔
Ayahs 13:27–32

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی کہہ دو کہ خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ اور جو (اسکی طرف) رجوع ہوتا ہے اسکو اپنی طرف کا راستہ دکھاتا ہے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

(یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یاد خدا سے آرام پاتے ہیں (انکو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لئے خوش حالی اور عمدہ ٹھکانا ہے۔

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

(جس طرح ہم اور پیغمبر بھیجتے رہے ہیں) اسی طرح (اے محمد ﷺ ہم نے تم کو اس امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں بھیجا ہے تاکہ ان کو وہ (کتاب) جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے پڑھ کر سنا دو ۔ اور یہ لوگ رحمن کو نہیں مانتے۔ کہہ دو وہی تو میرا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اسی پر بھروسا رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کی تاثیر) سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے کلام کرسکتے۔ (تو یہی قرآن ان اوصاف سے متصف ہوتا مگر) بات یہ ہے کہ سب باتیں خدا کے اختیار میں ہیں تو کیا مومنوں کو اس سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے راستے پر چلا دیتا۔ اور کافروں پر ہمشہ ان کے اعمال کے بدلے بلا آتی رہے گی یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ خدا کا وعدہ آپہنچے۔ بیشک خدا وعدہ خلاف نہیں کرتا۔

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں تو ہم نے کافروں کو مہلت دی پھر پکڑ لیا۔ سو (دیکھ لو کہ) ہمارا عذاب کیسا تھا ؟

رجوع بہ مبحت نبوت وبیان حال اہل سعادت و ایل شقاوت قال اللہ تعالیٰ ویقول اللذین کفروا ولا انزل علیہ ایۃ .... الیٰ .... فکیف کان عقاب۔ (ربط) اوپر سلسلہ کلام اہل حق اور اہل باطل کے بارے میں چلا آرہا ہے اور اس سے قبل وان تعجب فعجب قولہم میں نبوت کے متعلق مضمون تھا اب پھر اسی مضمون کی طرف رجوع کرتے ہیں اور کافروں کا وہی سابق قول کہ محمد ﷺ پر ہماری فرمائش کے مطابق معجزہ نازل کیوں نہیں ہوتا پھر نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہیں کہ اللہ نے آپ ﷺ پر بہت سی آیات ظاہرہ اور معجزات قاہرہ نازل کی ہیں لیکن ہدایت اور ضلال سب اللہ کے قبضہ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ نے معجزات اور بینات تو بہت نازل کئے ہیں مگر تمہیں اللہ کی طرف سے ہدایت اور توفیق نہیں ہوتی تو میں کیا کروں باقی یہ ناممکن ہے کہ معجزات کا نازل ہونا تمہاری خواہشوں کے تابع ہوجائے بعد ازاں اہل سعادت اور اہل شقاوت کا حال بیان فرمایا۔ اور یہ کافر لوگ آپ ﷺ کی نبوت پر طعن اور اعتراض کے لیے یہ کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی ایسی نشانی جیسی ہم چاہتے ہیں کیوں نہیں اتاری گئی فلیاتنا بایۃ کما ارسل الاولون اے نبی ! آپ ﷺ ان کے جواب میں کہہ دیجئے کہ اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے اور راہ بتاتا ہے اس کو جو اس کی طرف رجوع کرے یعنی نشانیاں تو بہت اتاری گئی ہیں مگر خدا نے تم کو گمراہ کردیا ہے کہ معجزات تمہارے سامنے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے جو شخص ان نشانیوں کو دیکھ کر بھی راہ راست پر نہ آئے تو سمجھ لو کہ اللہ کی مشیت یہی ہے کہ وہ راہ راست پر نہ آئے۔ اللہ کی ہدایت اور توفیق اسی شخص کو نصیب ہوتی ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرے اور حق کا طالب ہو ایسا شخص بلا معجزہ دیکھے ہوئے بھی ایمان لے آتا ہے کیونکہ خدا کی طرف رجوع کرنے والوں کا حال یہ ہے کہ یہ لوگ صدق دل سے اللہ پر ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے تسلی اور آرام پاتے ہیں آگاہ ہوجاؤ کہ جو دل حقیقت میں دل ہیں وہ اللہ ہی کی یاد سے مطمئن ہوتے ہیں۔ اللہ کے ذکر کی خاصیت ہی یہ ہے کہ اس سے دل کو سکون اور اطمینان حاصل ہو یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ کئے ان کے لیے پاکیزہ زندگی اور اچھا ٹھکانا ہے سکون اور اطمینان دنیاوی مال و دولت سے حاصل نہیں بلکہ تعلق مع اللہ سے حاصل ہوتا ہے۔ : لغت عرب میں طوبیٰ کے معنی نہایت درجہ کی خوشی اور شادمانی کے ہیں اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ طوبیٰ جنت میں ایک درخت ہے۔ شاہ عبد القادر (رح) لکھتے ہیں ” یعنی حق تعالیٰ کو ضرور نہیں کہ سب کو راہ پر لادے یا نشانیاں بھیج کر ہر طرح ہدایت دے بلکہ یہی منظور ہے کہ کوئی بچلے کوئی راہ پاوے سو جس کے دل میں رجوع آئے نشان ہے کہ اس کو سوجھانا چاہا “ (انت ہے) اب آگے ان لوگوں کا رد فرماتے ہیں کہ جو نبوت و رسالت کو انوکھی چیز سمجھتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اے نبی ﷺ ! جس طرح ہم نے آپ ﷺ سے پہلے پیغمبروں کو ان کی امتوں کی طرف بھیجا اسی طرح ہم نے تجھ کو ایک امت میں بھیجا ہے جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں تاکہ تو ان کو وہ کتاب پڑھ کر سنا وے کہ جو ہم نے تیری طرف وحی کے ذریعے بھیجی ہے جو آپ ﷺ کی نبوت کی سب سے بڑی نشانی ہے اور اللہ کی عظیم رحمت ہے ان کو چاہئے تھا کہ اس نعمت عظمیٰ کی قدر کرتے اور اس پر ایمان لاتے مگر ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ رحمن کے منکر ہیں اس لیے قرآن پر ایمان نہیں لاتے ان جاہلوں کو اللہ کا نام ” رحمن “ معلوم نہیں چناچہ ابو جہل ملعون نے آنحضرت ﷺ کو اس طرح دعا کرتے سنا یا اللہ، یا رحمان ! تو اپنی قوم سے جاکر کہنے لگا کہ اب تو محمد ﷺ دو خدا کو پکارنے لگا ایک معبود کو چھوڑ کر دوسرا معبود پکڑ لیا ایک تو اللہ کو پکارتا ہے اور ایک رحمن کو پکارتا ہے ہم تو سوائے رحمان یمامہ (مسیلمہ کذاب) کے علاوہ اور کسی رحمن کو نہیں جانتے اے نبی آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ وہ رحمن جس کے تم منکر ہو وہی میرا پروردگار ہے اور وہی اللہ ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں کبھی کسی نام سے اور کبھی کسی نام سے اسی ایک رب کو پکاتا ہوں۔ قل ادعوا اللہ اوادعو الرحمان۔ ایاما تدعوا فللہ الاسماء الحسنی اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے اور اگر کوئی کتاب الٰہی اس عالم میں ایسی ہوتی کہ جس کے سبب پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹا دئیے جاتے اور زمین ہموار کردی جاتی یا اس کے ذریعہ سے زمین شق کردی جاتی کہ اس سے نہریں جاری ہوجاتیں یا اس کے ذریعے مردوں سے بائیں کرائی جائیں کہ مردے اپنی قبروں میں بولتے یا اٹھ کر قبر سے باہر آئے اور لوگوں سے باتیں کرتے تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے۔ کفار آنحضرت ﷺ سے اس قسم کے معجزات کی فرمائش کیا کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر قرآن کے ذریعے ان کے یہ فرمائشی معجزات بھی دے دئیے جائیں تب بھی ایمان نہ لائیں گے خوب سمجھ لو کہ ایمان اور ہدایت کسی کے اختیار میں نہیں بلکہ سب اختیار اللہ ہی کو ہے جس کو چاہے ہدایت دے اور جس کو چاہے گمراہ کرے۔ : اس آیت میں قرآن سے مطلق کتاب الٰہی مراد ہے جیسا کہ ایک حدیث میں زبور پر بھی لفظ قرآن کا اطلاق کیا ہے۔ بعض مسلمانوں کو ازراہ شفقت و ترجم یہ خیال ہوا کہ کاش کہ کوئی بڑی نشانی اور یہ معجزات ظاہر ہوجائے تو شاید یہ لوگ ایمان لے آتے اس لیے ان کے جواب اور تسلی کے لیے آئندہ آیت نازل ہوئی کیا مسلمان ان کافروں کے ایمان سے ناامید نہیں ہوئے جو ایسے معجزات مانگتے ہیں جب کہ وہ جان چکے ہیں کہ سب اختیار اللہ ہی کو ہے اگر اللہ چاہے تو سب لوگوں کو ہدایت دیدے تو اے مسلمانو ! تم ان کے ایمان سے مایوس ہوجاؤ یہ کسی طرح ایمان نہیں لائیں گے اللہ ہی کو ان کی ہدایت منظور نہیں پھر تم ان معاندین کی فکر میں کیوں لگے ہو اور ہمیشہ پہنچتی رہے گی ان کافروں کو ان کی کرتوتوں کی سزا میں ایک نہ ایک مصیبت جو ان کو ہلاتی رہے اور دھمکاتی رہے یا ان کے گھروں کے قریب ان کے گردونواح والوں پر کوئی مصیبت نازل ہوتی رہے جسے دیکھ کر یہ لوگ عبرت پکڑیں اور نصیحت پاویں اسی طرح مسلمانوں کے جہاد اور غزوات کا اور کافروں پر مصیبتوں اور آفات کا سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آپہنچے اور اسلام تمام دینوں پر غالب آجائے جس کا خدائے تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے بیشک اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا اور آپ ﷺ ان کافروں کے استہزاء اور تمسخر سے رنجیدہ نہ ہوں یہ آپ ﷺ کے ساتھ خاص نہیں اس لیے کہ تحقیق آپ ﷺ سے پہلے بہت سے رسولوں کے ساتھ تمسخر کیا گیا پس میں نے ان مسخروں کو فورا نہیں پکڑا بلکہ ان منکروں کو مہلت دی تاکہ دل کھول کر انبیاء (علیہم السلام) کا مذاق اڑالیں پھر جب ان کے جرم کا پیمانہ لبریز ہوگیا تب میں نے ان کو اچانک پکڑ لیا پس سمجھ لو کہ میرا غذاب کیا ہوتا ہے اور کس طرح آتا ہے۔ اس دنیاوی عذاب پر اخروی عذاب کو قیاس کرلو جو دار جزاء ہے جس درجہ کا عناد ہوگا اسی درجہ کی سزا ملے گی حضرت شاہ عبد القادر (رح) لکھتے ہیں کہ مسلمان چاہتے ہوں گے کہ ایک نشانی بڑی سی آوے تو کافر مسلمان ہوجاویں سو فرمایا اگر کسی قرآن سے یہ کام ہوتے تو البتہ اس سے پہلے ہوتے لیکن اختیار اللہ کا ہے اور خاطر جمع اسی پر چاہئے کہ اللہ نے نہیں چاہا اگر وہ چاہتا تو حکم کافر تھا لیکن کافر مسلمان یوں ہوں گے کہ ان پر آفت پڑتی رہے گی ان پر پڑے یا ہمسایہ پر جب تک سارے عرب ایمان میں آجاویں وہ آفت یہ ہی تھی جہاد مسلمانوں کے ہاتھ سے۔ (انت ہے)
Ayahs 13:33–35

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

تو کیا جو (خدا) ہر متنفس کے اعمال کا نگراں (ونگہبان) ہے (وہ بتوں کی طرح) بےعلم و بیخبر ہوسکتا ہے ؟ اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں۔ ان سے کہو کہ (ذرا) انکے نام تو لو۔ کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں (کہیں بھی) معلوم نہیں کرتا ؟ یا (محض) ظاہری (باطل اور جھوٹی) بات کی (تقلید کرتے ہو ؟ ) اصل بات یہ ہے کہ کافروں کو ان کے فریب خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ اور وہ (ہدایت کے) راستے سے روک لئے گئے ہیں۔ اور جسے خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنیوالا نہیں۔

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت سی سخت ہے۔ اور ان کو خدا (کے عذاب سے) کوئی بھی بچانے والا نہیں۔

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

جس باغ کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف یہ ہیں کہ اس کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ہمیشہ (قائم رہنے والے) ہیں اور اس کے سائے بھی۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو متقی ہیں اور کافروں کا انجام دوزخ ہے۔

تقبیح وتشنیع اہل باطل و سزائے معاندین وجزائے مطیعین قال اللہ تعالیٰ افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت .... الیٰ .... وعقبی الکفرین النار (ربط) اوپر کی آیتوں میں توحید کا ذکر تھا اب ان آیات میں اہل شرک کی تقبیح وتشنیع اور اہل ایمان اور اہل کفر کی جزاء و سزا کا ذکر فرماتے ہیں۔ پس کیا وہ ذات جو ہر شخص کے سر پر قائم ہے اور اس کی قیوم ہے اور اس کے تمام اعمال پر مطلع ہے ان کے بتوں کی مثل ہوسکتی ہے ہرگز نہیں یعنی کیا وہ ذات پاک جو ہر ایک کی حافظ اور نگہبان ہے اور لوگوں کے نیک اور بدعمل سے باخبر ہے کیا وہ ان بتوں کے برابر ہوسکتی ہے جو محض عاجز اور بیخبر ہیں۔ ہرگز نہیں اور ان لوگوں نے اللہ کے شریک ٹھہراتے ہیں اے نبی ! آپ ﷺ ان سے کہئے کہ ذرا ان شرکاء کا نام تو لو، دیکھیں کیسے ہیں ان میں کوئی صفت الوہیت کی بھی ہے یا نہیں اور اوپر جو خداوند قدوس کی صفات بیان کی گئی ہیں کیا کوئی حیا دار ان پتھروں میں ان کا کوئی نام و نشان بتا سکتا ہے یا تم خدا کو اس چیز کے وجود سے مطلع کرتے ہو جس کی زمین میں ہونے کی اس کی خبر نہیں بفرض محال اگر زمین میں کوئی اس کا شریک ہوتا تو اس کو ضرور معلوم ہوتا یہ ناممکن ہے کہ کوئی چیز واقع میں موجود ہو اور اللہ کو اس کا علم نہ ہو اور زمین کی قید اس لیے لگائی کہ بت پرستوں نے جس قدر شرکاء ٹھہرائے ہوئے تھے وہ سب زمین میں ہی کے تھے یا بےسوچے سمجھے اور بےدلیل محض سرسری اور ظاہری بات کہتے ہو جس کی واقع میں کوئی حقیقت اور مصداق نہیں جیسے حبشی کا نام کافور رکھ لیا جائے اس طرح تمام بتوں کو الٰہی کہنا بےمعنی الفاظ ہیں تم نے محض اپنے خیال سے ان کو معبود ٹھہرا لیا ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ان ہی الا اسماء سمیتموھا انتم واباؤکم ما انزل اللہ بھا من سلطن ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس۔ ولقد جاء ھم من ربھم الھدی۔ بلکہ حق یہ ہے کہ کچھ بھی نہیں کافروں کے لیے ان کا مکرو فریب ان کی نظروں میں آراستہ کردیا گیا یعنی ان کا کفرو شرک محض ایک ملمع کاری ہے جس کو شیطان نے ان کی نظروں میں خوب صورت کرکے دکھلایا ہے، سب دھوکہ اور فریب ہے اور اسی ملع کاری کی وجہ سے یہ لوگ سیدھے راستے سے روک دیئے گئے ہیں۔ شیطان نے ان کو غلط راستے پر ڈال دیا اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی راہ دکھلانے والا نہیں ایسے شیطان نے ان کو غلط راستے پر ڈال دیا اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی راہ دکھلانے والا نہیں ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی عذاب ہے مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل اور قید یا طرح طرح کی ذلتیں اور مصیبتیں اور البتہ آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے کیونکہ وہ شدید بھی ہے اور دائم و مدید بھی ہے اور ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں جس جنت کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اللہ کے درختوں اور مکانوں کے نیچے نہریں جاری ہیں میوہ اس کا دائم ہے کبھی منقطع نہ ہوگا اور اس کا سایہ بھی دائم ہے وہ بھی منقطع نہ ہوگا جنت میں نہ سورج ہے نہ چاند اور نہ تاریکی لیکن دور دور تک سایہ پھیلا ہوا ہے یہ جنت جزاء ہے متقیوں کے لئے اور کافروں کی جزاء آگ ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگی۔
Ayahs 13:36–39

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس (کتاب) سے جو تم پر نازل ہوئی ہے خوش ہوتے ہیں اور بعض فرقے اس کی بعض باتیں نہیں بھی مانتے۔ کہہ دو کہ مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ خدا ہی کی عبادت کروں اور اسکے ساتھ (کسی کو) شریک نہ بناؤں۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹنا ہے۔

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان نازل کیا ہے۔ اور اگر تم علم (ودانش) آنے کے بعد ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو خدا کے سامنے کوئی نہ تمہارا مدرگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تھے اور ان کو بیبیاں اور اولاد بھی دی تھی۔ اور کسی پیغمبر کے اخیتار کی بات نہ تھی کہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی نشانی لائے۔ ہر (حکم) قضاُ (کتاب میں) مرقوم ہے۔

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

خدا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جسکو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے۔ اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔

خطاب بہ اہل کتاب دربارہ نبوت قال اللہ تعالیٰ والذین اتینھم الکتب یفرحون .... الیٰ .... ومن عندہ علم الکتب (ربط) اوپر کی آیتوں یعنی وان تعجب فعجب قولہم (الخ) ویقول الذین کفروا میں نبوت کی بحث گزری، اب ان آیات میں اہل کتاب کی حالت اور منکرین نبوت کے چند شبہات کا جواب دیتے ہیں کفار عرب آنحضرت ﷺ کی نبوت میں زیادہ یہ شبہات کیا کرتے تھے ایک شبہ یہ تھا کہ پیغمبر کو تو فرشتوں کی طرح زن و فرزند سے اور علائق بشر یہ سے پہلے جو نبی بھیجے گئے اور جن کی نبوت کو اہل کتاب بھی مانتے ہیں جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وغیرہ وہ بھی اہل و عیال والے تھے دوسرا شبہ یہ کرتے تھے کہ یہ کیسے نبی ہیں کہ جو ہماری خواہش کے مطابق معجزات نہیں دکھلا سکتے وما کان لرسول ان یاتی بایۃ میں اس شبہ کا جواب دیا گیا کہ یہ بات رسول کے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ تیسرا شبہ ان کا یہ تھا کہ ہماری تکذیب اور مخالفت پر جن مصائب اور آفات سے ہم کو ڈراتے ہیں وہ ہم پر نازل کیوں نہیں ہوتیں۔ لکل اجل کتاب سے اس شبہ کا جواب دیا کہ خدا کے یہاں ہر شے کا وقت مقرر ہے جو پہلے سے لکھا جا چکا ہے اور اس لفظ سے ان کے ایک اور شبہ کا اجمالا جواب ہوگیا کہ یہ کیسے نبی ہیں کہ تورات و انجیل کے احکام کا اور خود اپنی شریعت کے احکام کا نسخ جائز رکھتے ہیں معلوم ہوا کہ یہ قرآن خدائی کلام نہیں پھر آئندہ آیت میں اسی جواب کی تفصیل فرمائی یمحوا اللہ ما یشاء ویثبت۔ کہ حسب مصلحت احکام بدلتے رہتے ہیں ان شبہات کا جواب دیتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔ اور جن لوگوں کو ہم نے آسمانی کتاب دی یعنی توریت و انجیل جیسے عبد اللہ بن سلام ؓ اور نصارائے نجران و یمن۔ مراد اس سے وہ اہل کتاب ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس عطیہ کو قبول کیا اور اس سے منتفع ہوئے ایسے لوگ خوش ہوتے ہیں اس کتاب سے جو آپ کی طرف نازل کی گئی کیونکہ نور عقل سے قرآن کو علم و معرفت کا منبع پاتے اور اس کی خبر اپنی کتابوں میں پاتے ہیں اور بعضے فرقے اس قرآن کی بعض باتوں کو نہیں مانتے جو ان کی دنیوی اغراض و منافع میں حائل اور مانع بنتی ہیں آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تمہیں اپنا اختیار ہے کہ تم اپنے احمقانہ عقائد تثلیث اور کفارہ پر قائم رہو جزایں نیست کہ مجھ کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں صرف ایک اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں کسی کو خدا کا بیٹا ماننا یا جورو بنانا یہ شرک ہے اور میں لوگوں کو صرف اللہ ہی کی طرف بلاتا ہوں نہ کسی غیر کی جانب کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں اور اسی کی طرف دعوت دینے کے لیے مبعوث ہوا ہوں اور اس کی طرف مجھے واپس جانا ہے اس سرائے فانی کا قیام چند روزہ ہے مطلب یہ ہے کہ قیامت حق ہے اور اس پر میرا ایمان ہے اور یہ امور اہل کتاب کے نزدیک بھی مسلم ہیں اس لیے کہ اصولا اہل کتاب توحید اور رسالت اور قیامت کے قائل ہیں اور جس طرح ہم نے قرآن سے پہلی کتابوں کو صاحب کتاب کی زبان میں اتارا اسی طرح ہم نے اس کتاب کو حکم عربی بنا کر آپ کی زبان میں اتارا جو حد اعجاز کو پہنچا ہوا ہے اور پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور یہ قرآن اللہ کی آخری کتاب ہدایت ہے۔ اس لیے اہل کتاب پر اسی کا اتباع واجب ہے کیونکہ یہ آخری کتاب ہونے کی وجہ سے تمام پہلی کتابوں کی نسخ ہے اور ناسخ کے بعد منسوخ کا اتباع ھدی نہیں بلکہ ہوائے نفس ہے اس لیے اے نبی ﷺ ! اگر بفرض محال آپ نے اس علم الٰہی کے آجانے کے بعد ان کی خواہشوں کا اتباع کیا تو اللہ کے مقابلہ میں آپ کا کوئی مددگار اور عذاب الٰہی سے بچانے والا نہیں مطلب یہ کہ اللہ کے احکام کو صاف صاف بیان کرو کسی بات میں ان کی پیروی اور رعایت نہ کرو اور ان سے نہ ڈرو ظاہر میں یہ خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ کو ہے مگر اصل مقصود اہل کتاب مشرکین اور منکرین کو سنانا ہے اور اگر کوئی آپ ﷺ کی نبوت میں یہ طعن کرے کہ رسول کو نکاح اور بیوی بچوں اور کھانے پینے سے کیا مطلب، نبی کو ان دنیوی مرغوبات اور لذات سے کیا تعلق تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات نبوت کے منافی نہیں اس لیے کہ تحقیق ہم نے آپ سے پہلے کتنے ہی رسول بھیجے جو کھاتے اور پیتے تھے اور ہم نے ان کی بیبیاں اور اولاد بھی دی نکاح اور اولاد سے نبوت میں کوئی فرق نہیں آتا بلکہ اس سے بشریت کی تکمیل اور تنزیہ ہوجاتی ہے اسلام ہمیں رہبانیت نہیں سکھاتا حضرات انبیاء (علیہ السلام) جسمانیت اور روحانیت دونوں اعتبار سے کامل ہوتے ہیں اس لیے اہل و عیال ان کے فرائض رسالت کی ادائیگی میں حارج اور مزاحم نہیں ہوتے اور اگر کوئی آپ ﷺ کی نبوت میں یہ شبہ کرے کہ اگر آپ ﷺ اللہ کے نبی ہیں تو ہماری خواہش کے مطابق معجزات کیوں نہیں دکھلاتے تو اس کا جواب یہ ہے کہ کسی رسول کے امکان میں یہ نہیں کہ بغیر حکم خداوندی اپنی طرف سے کوئی معجزہ اور نشانی لاسکے بغیر خدا کی مرضی کے پیغمبر معجزہ نہیں دکھا سکتا معجزہ کا ظہور اللہ کے ارادہ اور مشیت اور اس کی حکمت اور مصلحت پر موقوف ہے نہ کسی خواہش اور رغبت پر وجہ اس کی یہ ہے کہ ہر وقت موعود اور موت معینہ کے لیے ایک خاص حکم لکھا ہوا ہے اور ہر دور دورہ کے لیے اس کے یہاں ایک کتاب اور خاص تحریر ہوتی ہے جو مقتضائے حکمت و مصلحت اس مدت اور قرن کے لیے مناسب ہوتی ہے اور وہ کتاب کارکنان قضاء وقدر یعنی ملائکہ مدبرات کو دے دی جاتی ہے۔ جب تک اس کی میعاد باقی رہتی ہے اس وقت تک وہ حکم جاری رہتا ہے جب اس کی میعاد ختم ہوجاتی ہے تب دوسرے زمانہ اور قرن کے مناسب دوسرا حکم آتا ہے اس جگہ اجل سے ازمنۂ موجودات مراد ہیں ہر موجود کے لیے ایک محدود اور معین زمان چاہئے جس میں وہ محدود ہو کر پایا جائے نہ بڑھے نہ گھٹے، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو وقت کسی کام کے لیے مقرر کردیا ہے وہ اس کے یہاں لکھا ہوا جب وہ وقت آتا ہے تو جو حکم اس وقت کے مناسب ہوتا ہے وہ ظاہر ہوتا ہے ہر زمانہ کے لئے اس کے یہاں ایک مخصوص کتاب ہے اس نے کمال علم و حکمت سے ہر زمانہ کے لئے ایک حکم معین اور مقدر فرما دیا ہے جو ان پر اپنے وقت پر ظاہر ہوتا ہے اسی طرح سمجھو کہ کوئی نشان اپنے لکھے ہوئے وقت سے پہلے ظاہر نہیں ہوسکتا اللہ کا کارخانہ لوگوں کی فرمائشوں اور پبلک کے مطالبات پر نہیں چلتا اللہ نے اپنی حکمت اور مصلحت سے ہر کام کے لیے وقت مقرر کر کے لکھ دیا ہے جب تک وہ مقرر وقت نہ آجائے وہ کام نہیں ہوسکتا مطالبہ اور جلد بازی سے کچھ نہیں ہوتا اس ارشاد سراپا رشاد سے مقصود یہ بتلانا ہے کہ ہر قضائے الٰہی اور وعدہ خداوندی کا وقت لکھا ہوا ہے اور ہر قرن اور زمانہ کے لیے جدا حکم ہے جو اس کے مناسب ہے اور ہر حکم اپنے لکھے ہوئے کے مطابق اپنے وقت پر ظاہر ہوتا ہے۔ اس آیت سے مشرکین کے اس شبہ کا جواب ہوگیا جو مشرکین کہتے تھے کہ آپ اپنے کفر اور تکذیب کی بناء پر جن بلاؤں اور عذابوں سے ہم کو ڈراتے ہیں وہ کہاں ہیں اس کے جواب میں فرمایا کہ ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر ہے اور معین ہے جو اللہ کے یہاں لکھا ہوا ہے اپنے اپنے وقت پر اس کا ظہور ہوتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ لکل اجل کتاب میں اجل سے وقت موعود اور مدت معینہ مراد ہے اور کتاب سے نامہ خداوندی اور نشوتہ خداوندی مراد ہے اور آیت اپنے طاہر پر ہے جمہور مفسرین نے اسی کا اختیار فرمایا ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہر وہ وقت جس میں اللہ نے کسی امر کے وقوع کو مقدر کیا ہے اللہ کے یہاں اس کے جاری ہونے کا وقت لکھا ہوا ہے اسی لکھے ہوئے کے مطابق اس کا وقوع اور ظہور ہوتا ہے اور فتراء نحوی (رح) یہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اور اصل کلام اس طرح ہے لکل کتاب اجل، یعنی امر جس کو خدا تعالیٰ نے لکھ رکھا ہے اس کے لیے ایک اجل مؤجل اور وقت معلوم ہے کما قال اللہ تعالیٰ لکل نباء مستقر (دیکھو تفسیر قرطبی ص 328 نیز تفصیل کے لیے تفسیر کبیر ص 215 جلد 5 دیکھیں) اب آگے ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مالک و مختار ہے اس نے اپنی حکمت اور ارادہ اور مشیت سے ہر چیز کا ایک وقت مقرر کردیا ہے مگر وہ اس پر لازم نہیں اس میں جس طرح چاہے تغیر و تبدل کرسکتا ہے اس لیے کہ اللہ اپنی قدرت اور حکمت سے جو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جو چاہتا ہے اس کو ثابت اور برقرار رکھتا ہے وہ لکھے ہوئے ہیں تغیر و تبدل پر قادر ہے اس کو اختیار ہے کہ جس حکم کو چاہے منسوخ کر دے اور جس کو چاہے باقی رکھے یہ اس لیے فرمایا کہ یہود یہ کہتے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے کہ جو توریت اور انجیل میں اور اپنی شریعت کے احکام میں نسخ کو جائز رکھتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ اللہ اپنی حکمت اور مصلحت کے موافق نازل کرتا ہے اور جب وہ مصلحت نہیں رہتی تو اس حکم کو محو کردیتا ہے یعنی منسوخ کردیتا ہے اس سے یہود و نصاری کے اس شبہ کا جواب ہوگیا جو وہ نسخ احکام کے متعلق کرتے تھے۔ جاننا چاہئے کہ اس آیت میں جو محوو اثبات کا ذکر کیا گیا اس میں ہر قسم کی تغیر و تبدیل داخل ہے مثلا حکومتوں کا فناء وزوال اور قوموں کا ادبار واقبال اور سعادت و شقاوت کا بدلنا اور رزق میں فراخی اور تنگی ہونا اور عالم سفلی میں کون و فساد کا ہونا اس قسم کے تمام تغیرات اور انقلابات، محوواثبات کے عموم میں داخل ہیں اور مطلب یہ ہے کہ وہ مالک و مختار ہے کبھی موجود کرتا ہے اور کبھی معدوم کبھی زندہ کرتا ہے اور کبھی مارتا ہے کبھی مالدار بناتا ہے اور کبھی فقیر وغیرہ وغیرہ۔ پس اسی طرح اس کا اختیار ہے کہ جس حکم کو چاہے کسی وقت منسوخ کرے اور جس حکم کو چاہے برقرار رکھے وہ علیم و حکیم ہے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں غرض یہ کہ ہر قسم کی تغیر و تبدیل اور ہر قسم کا محوو اثبات اور نسخ احکام سب اس کے ہاتھ میں ہے اور محو و اثبات اور تغیر و تبدیل ” بدا “ نہیں (جیسا کہ رو افض کا گمان ہے) بلکہ بطریق حکمت و مصلحت ہے اس لیے کہ اس کے پاس اصل کتاب ہے جس کا نام لوح محفوظ ہے جس میں اس محوو اثبات و تغیر و تبدیل کی تمام تفصیل درج ہے اور یہ لوح محفوظ قضا وقدر کے تمام دفاتر کی جڑ ہے اور تغیر و تبدیل اور محوواثبات سے منزہ اور مبریٰ ہے۔ حضرت شاہ عبد القادر محدث دہلوی قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں ” دنیا میں ہر چیز اسباب سے ہے بعضے اسباب ظاہر ہیں بعضے اسباب کی تاثیر کا ایک اندازہ ہے جب اللہ چاہے اس کی تاثیر اندازہ سے کم یا زیادہ کر دے جب چاہے ویسی ہی رکھے آدمی کبھی کنکر سے مرتا ہے اور کبھی گولی سے بچتا ہے اور ایک اندازہ ہر چیز کا اللہ کے علم میں ہے وہ ہرگز نہیں بدلتا اندازے کو تقدیر کہتے ہیں یہ دو تقدیریں ہیں ایک بدلتی ہے ایک نہیں بدلتی۔ جو تقدیر بدلتی ہے اس کو معلق کہتے ہیں اور جو نہیں بدلتی اس کو مبرم کہتے ہیں “۔ اھ (کذانی موضح القرآن) حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ ان آیات کے ترجمہ میں تحریر فرماتے ہیں ” ہر قضائے موقت رانامہ ہست یعنی چوں قضائے الٰہی بوج ہے متحقق شود آنرا در عالم ملکوت ثبت می کنند نا بودمی سازد۔ خدا ہر چہ می خواہد و ثابت می کند ہرچہ خواہد و نزدیک اوست ام الکتاب یعنی لوح محفوظ مترجم گوید صورت حادثہ در عالم ملکوت خلق می فرماید بعد ازاں اگر خواہد خوکند و ثابت دار دوشاید کہ معنی چنیں باشد ہر زمانے را شریعت، ہست نسخ می کند، خدائے تعالیٰ آنچہ خواہد و ثابت می گذارد آنچہ خواہد و نزدیک اوست لوح محفوظ “ واللہ اعلم (فتح الرحمن) حاصل کلام یہ کہ ان آیات میں حق تعالیٰ نے اپنی صفت تقدیر اور علم ازلی کو بیان کیا کہ حق تعالیٰ نے حوادث اور واقعات کے لیے ایک وقت مقدر اور مقرر فرمایا ہے ان میں خدا کی مرضی سے ردوبدل بھی ہوتا رہتا ہے اور ایک حکم قطعی ہے وہ کبھی نہیں بدلتا پہلے کو قضاء معلق اور دوسرے کو مبرم کہتے ہیں۔ مسئلہ بدا کی مختصر تشریح شیعہ آیت مذکورہ یعنی یمحو اللہ ما یشاء ویثبت سے بدا ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آیت مذکورہ میں جس محو اور اثبات کا ذکر ہے اس سے بطریق بدا محو اور اثبات مراد ہے اللہ تعالیٰ ان کو عقل اور فہم دے اہل سنت کہتے ہیں کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی تغیر و تبدیل اور محو اور اثبات سب اللہ کے ہاتھ میں ہے عالم میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ سب اس کے علم ازلی اور ارادہ اور مشیت سے ہو رہا ہے اور اللہ کا علم اور ارادہ بدا سے پاک اور منزہ ہے شیعوں کے اس خیال سراپا خیال کے اختلال ظاہر کرنے کے لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ بدا کی مختصر سی تشریح کردی جائے۔ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بدا جائز نہیں اس لیے کہ بدا کا حاصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ ایک چیز کا ارادہ فرمائے پھر اس کو کسی دوسری چیز میں مصلحت ظاہر ہو جو اس سے قبل ظاہر نہ تھی پس ارادہ اول کو فتح کرکے دوسری چیز کا ارادہ کرلے تو یہ بدا ہے شیعہ کہتے ہیں کہ اللہ کے لیے بدا جائز ہے اور واقع ہے اور آیت مذکورہ یمحوا اللہ ما یشاء ویثبت کو استدلال میں پیش کرتے ہیں۔ یعنی اللہ مٹاتا ہے جو چاہتا ہے۔ اور جو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے شیعہ کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ کو دوسری مصلحت ظاہر ہوتی ہے تو پہلے ارادہ کو بدل دیتا ہے اور یہ ہی معنی بدا کے ہیں علماء شیعہ اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں ان معنی قولنا بدالہ تعالیٰ انہ ظھر لہ مالم یکن ظاھعا یعنی ہمارے اس قول کہ اللہ تعالیٰ کو بدا واقع ہوا اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کو ایسی بات ظاہر اور معلوم ہوئی جو پہلے ظاہر نہ ہوئی تھی۔ اہل سنت کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بدا کا واقع ہونا ناممکن اور محال ہے کیونکہ نصوص متواترہ سے یہ امر قطعی طور پر ثابت ہے کہ اللہ کا علم ازل تمام کائنات کو محیط ہے ازل سے ابد تک تمام کائنات اور ممکنات کو برابر اور یکساں جانتا ہے کوئی چیز ایسی نہیں کہ جس کو پہلے سے نہ جانتا ہو اور بعد میں اس کو جانے عقلا یہ بات محال ہے کہ اللہ پر کوئی ایسی چیز اور منکشف ہو جو پہلے اس پر ظاہر اور منکشف نہ تھی اور سورة طہ میں ہے لایضل ربی ولا ینسی، اللہ کا علم غلطی اور نسیان سے پاک ہے معاذ اللہ اگر حق تعالیٰ کے لیے بدا جائز ہے۔ تو لازم آئے گا کہ حق تعالیٰ نا عاقبت اندیش ہے اور اس کو انجام کا علم نہیں تعالیٰ اللہ عن ذالک علوا کبیرا۔ عجیب بات ہے کہ شیعوں کے نزدیک ایمہ کو تو علم ماکان وما یکون ہو اور خداوند علام الغیوب کو نہ ہو کہ جس کو بدا کی ضرورت لاحق ہو کہ مصلحت ظاہر ہونے پر پہلے ارادہ کو فسخ کرے اور دوسری چیز کا ارادہ کرے۔ شیعہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں خلفاء ثلاثہ اور مہاجرین اور انصار کی مدح کی مگر بعد میں بدا واقع ہوا کہ یہ ساعی تعریفیں اور سارے وعدے غلطی سے اول ظہور میں آئے اور بعد میں حقیقتہ الامر صحابہ کی جناب باری کو معلوم اور ظاہر ہوگئی مگر حق تعالیٰ نے قرآن کریم میں کسی جگہ بھی اشارتا اور کنایۃ یہ نہیں بتلایا کہ صحابہ کے بارے میں مجھے بدا واقع ہوگیا ہے شیعوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کو صحابہ کے بارے میں قدر قلیل بدا واقع نہیں ہوا بلکہ بمقدار عظیم و کثیر بدا واقع ہوا کہ بیشمار آیتوں میں صحابہ کی مدح فرما گئے اور بعد میں ظاہر ہوا کہ یہ سب خلاف مصلحت تھا اور معاذ اللہ نبی اکرم ﷺ تو ساری ہی عمر اسی غلطی میں مبتلا رہے جس سے خداوند کریم کو بدا واقع ہوا شاید حسب زعم شیعہ جو قرآن امام غائب کے پاس ہے اس میں کوئی آیت ایسی ہو جو اس بات پر دلالت کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ کو صحابہ ؓ کے بارے میں بدا واقع ہوا۔ بدا کی اقسام شیعوں کی کتابوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بدا کی تین قسمیں ہیں۔ قسم اول : بدا فی العلم : وھو ان یظھر لہ خلاف ماعلم، یعنی بدا در علم یہ ہے کہ پہلے علم کے خلاف کوئی چیز ظاہر ہو یعنی خدا تعالیٰ نے پہلے سے جو جان رکھا تھا بعد میں حقیقۃ الامر اس کے خلاف معلوم ہوئی اور منکشف ہوئی۔ قسم دوم : بدا فی الارادہ : وھو ان یظھرلہ علی خلاف ما ارادہ، یعنی بدا در ارادہ یہ ہے کہ پہلے کچھ ارادہ تھا پھر بعد میں یوں معلوم ہوا کہ یہ ارادہ ٹھیک نہیں تھا۔ قسم سوم : بدافی الامر : وھو ان یامر بشیء ثم یامر بشیء بعدہ، یعنی بدا فی الامر یہ ہے کہ پہلے کچھ حکم دیا پھر بعد ازاں یہ معلوم ہوا کہ پہلے حکم میں کچھ غلطی تھی اس حکم کو بدل کر دوسرا حکم ایسا دیا کہ جس میں یہ غلطی نہ ہو بلکہ مصلحت وقت کے مطابق ہو۔ اور شیعہ ان تینوں معنی پر خدا تعالیٰ کی بدا کو جائز قرار دیتا ہیں اور بدا کی پہلی قسم کو شیعہ اپنے عرف میں بدا در اخبار کہتے ہیں اور دوسری قسم کو بدا درتکوین کہتے ہیں اور تیسری قسم کو بدا در تکلیف کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اہل سنت نے بھی بدا کی اس تیسری قسم کو جائز رکھا ہے چونکہ بدا کی تیسری قسم یعنی بدا فی الحکم اور بدا فی التکلیف بظاہر نسخ کے مشابہ معلوم ہوتی ہے جس کے اہل سنت قائل ہیں اور بدا کو جائز نہیں رکھتے اور نسخ اور بدا فی الامر میں فرق ہے اور ہر ایک کی حقیقت دوسرے سے مغایر اور جدا ہے۔ نسخ اور بدافی الحکم میں فرق : اہل سنت کہتے ہیں کہ نسخ کی حقیقت اور ہے اور بدا کی حقیقت اور ہے نسخ کی حقیقت یہ ہے کہ ایک حکم کا زمانہ ختم ہوجائے اور دوسرے حکم کا زمانہ آجائے معاذ اللہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ پہلے حکم میں کچھ غلطی تھی اس لیے وہ حکم موقوف ہوگیا بلکہ وہ حکم اسی زمانہ تک تھا اس کے بعد دوسرے حکم کا زمانہ آگیا چاہے بندوں میں سے کسی کو پہلے سے زمانہ حکم اول کی مقدار اور مدت معلوم ہو یا نہ ہو اللہ کے یہاں ہر حکم کی ایک میعاد اور وقت مقرر ہے وہ حکم اس میعاد اور مدت تک برقرار رہتا ہے اور یہ سب کچھ اس حکم ازلی میں ہوتا ہے اور ہر حکم اپنے اپنے وقت میں عین حکمت اور عین مصلحت ہوتا ہے اور غلطی اور خطاء سے پاک اور مبرا ہوتا ہے اور بدا کی حقیقت یہ ہے کہ پہلے ایک حکم دیا پھر جب اس میں کوئی نقصان معلوم ہوا تو اس کو بدل دیا تو خطا اور غلطی بدا کے مفہوم اور اس کی حقیقت میں داخل ہے ورنہ پھر وہ بدا نہیں تمام کتب شیعہ سے یہ ہی ظاہر ہوتا ہے کہ بدا کی حقیقت یہ ہی ہے کہ پہلی بات میں کوئی غلطی اور چوک ظاہر ہوجائے اور نیا علم پیدا ہو۔ اہل سنت اس کو محال اور ناممکن قرار دیتے ہیں کہ اللہ کے علم میں اور اس کے ارادہ میں اور اس کے حکم میں کسی خطا اور نسیان کا ذرہ برابر امکان نہیں اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے علیم اور حکیم ہے اس کو کوئی نیا علم ظاہر نہیں ہوتا اور لا یضل ربی ولا ینسی اس کی شان ہے اس کے علم میں کسی غلطی اور بھول چوک کا امکان نہیں اور اللہ تعالیٰ کا بندوں کی مصلحت اور ان کے فائدہ اور منفعت کے لیے احکام کو بدلنا یہ نسخ ہے بدا نہیں اللہ تعالیٰ کا ہر حکم ہر زمان اور مکان میں حق اور درست ہے اور اس کے علم قدیم اور حکمت ازلیہ پر مبنی ہے اور خطاء اور نسیان سے پاک اور منزہ ہے نسخ میں حکم اول کی تبدیلی اس بنا پر نہیں کہ کوئی جدید مصلحت ظاہر ہوئی جو پہلے ظاہر نہ تھی بلکہ مصالح مکلفین کی تبدیلی کی بنا پر احکام میں تبدیلی ہوئی ہے اور اللہ کے علم ازلی میں پہلے سے تھا کہ یہ حکم فلاں وقت تک رہے گا اس لیے اہل سنت نسخ کے قائل ہیں اور بدا کے قائل نہیں کیونکہ بدا کے معنی یہ ہیں کہ جب غلطی معلوم ہو تو اس کو بدل دیا جائے یہ اہل سنت کہتے ہیں کہ اللہ کا علم محیط ہے اور کوئی چیز ایسی نہیں کہ جس کو حق تعالیٰ قبل ہونے کے اور بعد ہونے کے برابر نہ جانتا ہو۔ برو علم یک ذرہ پوشیدہ نیست کہ پیداؤ پنہاں بنزدش یکیست اور آیت یمحوا اللہ ما یشاء ویثبت میں محو اور اثبات سے نا مہائے اعمال سے حسنات اور سیئات کا محوواثبات مراد ہے یا احکام اور شرائع میں تغیر و تبدل مراد ہے علم الٰہی میں محو اور اثبات مراد نہیں کیونکہ اسی آیت کے بعد متصلا یہ وارد ہے وعندہ ام الکتاب اور اللہ کے پاس اصل کتاب ہے یعنی لوح محفوظ ہے اس میں نہ تغیر ہے اور نہ تبدل ہے اور علم الٰہی میں محو اور اثبات اور تغیر و تبدل عقلا محال ہے عالم میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ سب اس کے علم ازلی کے مطابق اور موافق ہو رہا ہے۔ اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ کے یہاں دو دفتر ہیں ایک بڑا دفتر ہے جس کی طرف امام الکتاب کا لفظ اشارہ کرتا ہے دوسرا چھوٹا دفتر ہے اور لکل اجل کتاب سے چھوٹے دفتر کی طرف اشارہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کے یہاں ہر دور اور مدت کے لیے ایک جدا کتاب ہے اس میں سے ہو چاہے مٹادے اور جو چاہے باقی رکھے اور یہ محوواثبات اس چھوٹے دفتر میں ہوتا ہے بڑے دفتر میں نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ جملہ یمحوا اللہ ما یشاء ویثبت چھوٹے دفتر یعنی لکل اجل کتاب کے بعد واقع ہے اور یہ ہی مذہب اہل سنت کا ہے وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ بڑا دفتر علم خداوندی کے موافق ہے یا خود علم خداوندی ہے اس میں گھٹاؤ بڑھاؤ نہیں ہوتا پھر شیعہ کس خوبی پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بدا کلام اللہ سے ثابت ہے۔ مسئلہ بدا کے متعلق ہم نے بقدر ضرورت یہ مختصر کلام ہدیہ ناظرین کیا ہے جو تحفۃ اثنا عشریہ مصنفہ حضرت شاہ عبد العزیز قدس سرہ اور ہدیتہ الشیعہ مصنفہ حضرت مولینا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ سے ماخوذ ہے حضرات اہل علم اصل کی مراجعت فرمائیں۔
Ayahs 13:40–43

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہیں دکھائیں (یعنی) تمہارے روبرو ان پر نازل کریں۔ یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں (یعنی تمہارے انتقال کے بعد عذاب بھیجیں) تو تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 13:41 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اسکے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں ؟ اور خدا (جیسا چاہتا ہے) حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کا رد کرنیوالا نہیں۔ اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔

وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًا١ؕ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ Open ayah 13:42 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی (بہتیری) چالیں چلتے رہے ہیں سو چال تو سب اللہ ہی کی ہے۔ ہر متنفس جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے۔ اور کافر جلد معلوم کریں گے کہ عاقبت کا گھر (یعنی انجام محمود) کس کے لئے ہے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا١ؕ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ۙ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠ Open ayah 13:43 in the Quran reader

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ تم (خدا) کے رسول نہیں ہو۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا اور وہ شخص جس کے پاس کتاب (آسمانی) کا علم ہے گواہ کافی ہے۔

کفر کا زوال اور اسلام کا اقبال قال اللہ تعالیٰ وان ما نرینک بعض الذی نعدھم .... الیٰ .... ومن عندہ علم الکتاب۔ (ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ نے اپنی شان محو و اثبات اور صفت تغیر و تبدیل کا ذکر فرمایا اب آئندہ آیات میں کفر کے زوال اور اسلام کے عروج اوراقبال کو بیان فرماتے ہیں کہ اس کے آثار شروع ہوگئے ہیں۔ نیز گزشتہ آیات میں کافروں پر دنیوی آفات اور مصائب کے نزول کی خبر دی تھی کام قال تعالیٰ ولا یزال الذین کفروا تصیبھم بما صنعوا قارعۃ او تحل قریبا من دارھم الخ اور فرمایا تھا لہم عذاب فی الحیوۃ الدنیا ولعذاب الاخرۃ اشق اب ان آیات میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ اب ان مواعید کے آثار ظاہر ہونے لگے ہیں ان منکرین نبوت کو چاہئے کہ کفر کے زوال اور اختلال کے اور اسلام کے عروج اوراقبال کے جو آثار من جانب اللہ نمودار ہو رہے ہیں نظر اٹھا کر ان کو دیکھیں چناچہ فرماتے ہیں اور اگر ان لوگوں کو آپ ﷺ کی نبوت میں اس بناء پر شبہ ہے کہ کفر و تکذیب کی بناء پر جس عذاب کی دھمکی دی جاتی ہے وہ نازل کیوں نہیں ہوتا تو اس کے متعلق سن لیجئے۔ اے نبی ﷺ ! اگر ہم آپ ﷺ کو اس عذاب میں سے جس کا کافروں کو وعدہ دیتے ہیں اس کا کچھ حصہ آپ کو آپ کی زندگی ہی میں دکھلا دیں یعنی آپ ﷺ کی زندگی ہی میں ان پر کوئی عذاب نازل ہوجائے اور اہل کفر کی ذلت و خواری آپ ﷺ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں یا ان وعدوں کے وقوع سے پہلے آپ کو دنیا سے اٹھا لیں اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کے جانشینوں اور خادموں کے ہاتھ پر باقی ماندہ وعدوں کو پورا کریں، بہرحال جو بھی صورت ہو آپ ﷺ فکر میں نہ پڑیں آپ ﷺ سے کوئی باز پرس نہ ہوگی بہرحال آپ کے ذمہ تو ہمارا پیغام پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمہ ہے ان سے حساب لینا اور ان کو سزا دینا خدا نے اسلام کی فتح و نصرت اور غلبہ کا اور کفر کی ذلت کا جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور پورا ہو کر رہے گا خواہ دیر سے ہو یا سویرے سے باقی ان منکرین کو تاخیر اور مہلت سے بیخبر نہیں ہونا چاہئے کفر کے زوال اور اسلام کے عروج کے آثار شروع ہوگئے ہیں کیا یہ منکرین نبوت اس بات کو نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کفر کو اطراف و جوانب سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں دن بدن ملک میں اسلام بڑھتا اور پھیلتا جا رہا ہے اور کفر گھٹتا جا رہا ہے اور سرداران کفر اسلام کے حلقہ بگوش بنتے جا رہے ہیں اور روز بروز اسلام کی شوکت بڑھ رہی ہے اور کفر و شرک ذلیل و خوار ہو رہا ہے تو اعدائے اسلام اس سے عبرت کیوں نہیں حاصل کرتے۔ بعض مفسرین نے اولم یروا انا ناتی الارض ننقصھا سے فتوحات اسلامیہ مراد لی ہیں اس بناء پر ان کو اشکال پیش آیا کہ یہ سورت تو مکی ہے ہجرت سے پہلے نازل ہوئی اور ہجرت سے پہلے فتوحات اسلامیہ نہ تھیں تو اس اعتراض سے بچنے کے لیے یہ کہہ دیا کہ یہ سورت مدنی ہے مگر آیت کا صحیح مطلب وہ ہے جو ہم نے عرض کیا اور اس پر یہ اشکال ہی وارد نہیں ہوتا کہ جواب کی ضرورت پیش آئے حضرت شاہ عبد القادر (رح) نے اپنے اردو فائدہ میں اور حضرت شاہ ولی اللہ (رح) نے اپنے فارسی فائدہ میں اسی مطلب کا اختیار کیا وہی راجح اور مختار ہے اور اشکال سے خالی ہے حضرت شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں۔ یعنی روز بروز شوکت اسلام بزمین عرب منتشرمی شودو دار الحرب ناقص می گردد ازاطراف آں عامہ مفسرین ایں آیت رامدنی دانند و نزدیک مترجم لازم نیست کہ مدنی باشد و مراد از نقصان دار الحرب اسلام اسلام و غفار وجہینہ ومزینہ و قبائل یمن است پیش از ہجرت، انتہٰی۔ اور شاہ عبد القادر صاحب (رح) لکھتے ہیں ” ہم چلے آتے ہیں زمین پر گھٹائے یعنی اسلام پھیلتا جا رہا ہے عرب کے ملک میں اور کفر گھٹتا ہے “ اھ۔ مقصود اس آیت سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ اگر یہ معاندین آپ ﷺ کی نبوت اور دعوت کو قبول نہ کریں تو رنجیدہ نہ ہوں آپ ﷺ کا جو کام تھا وہ آپ ﷺ نے کردیا اور آیت لہم عذاب فی الحیوۃ الدنیا لایزال الذین کفروا تصیبھم بما صنعوا قارعۃ میں ہم نے عذاب کا وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے وقت پر آئے گا اس کا کچھ حصہ آپ ﷺ کی زندگی میں آپ ﷺ کو دکھادیں گے اور باقی ماندہ حصہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد پورا ہوگا آپ بےفکر رہیں قضاء الٰہی میں بعض فتوحات آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ہی واقع ہونے والے تھے اور بعض آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کے خلفاء کے ہاتھ پر واقع ہونے والے تھے۔ اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے جو وعدہ فتوحات اور غلبہ اسلام کا کیا اس کا پورا کرنا ہمارے ذمہ ہے ان میں سے بعض دکھلا دیں گے اور بعض آپ ﷺ کے اٹھا لینے کے بعد آپ کے خادموں کے ہاتھ پورے ہوں گے کیا مسلمانوں کو معلوم نہیں ہے کہ ہم دن بدن کفار کی زمین اطراف و جوانب سے کم کرتے جاتے ہیں اور مسلمانوں کو اس کا وارث بناتے جاتے ہیں۔ اور اللہ حکم دیتا ہے جو چاہتا ہے کوئی اس کے حکم کو پیچھے ہٹانے والا نہیں اور وہ جلد حساب لینے والا ہے کافروں کو جلد سزا دے گا اور مومنوں کو جلد جزاء دے گا اور یہ لوگ جو نبی کریم ﷺ اور اسلام کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں تو خوب سمجھ لیں کہ تحقیق گزشتہ کافروں نے بھی اپنے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ مکرو فریب کیا مگر سب بےکار گیا اس لیے کہ سب مکرو فریب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ مکر کے معنی یہ ہیں کہ کسی کو ایسے طریقہ سے برائی پہنچانا کہ خبر نہ ہو سو یہ امر حقیقتاً اللہ ہی کے اختیار میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کافروں کے مکر کو چلنے نہیں دے گا ہر شخص جو بھی کام اور تدبیر کرتا ہے اللہ اس کو خوب جانتا ہے اور یہ مکر کرنے والے اللہ کی ڈھیل سے دھوکہ میں نہ پڑیں ان کافروں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ دار آخرت کا اچھا انجام کس کے لیے ہے۔ اور کافر یہ کہتے ہیں کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے نہیں آپ کہہ دیجئے کہ تمہارے انکار سے کیا ہوتا ہے میرے اور تمہارے درمیان اللہ کافر گواہ ہے خداوند قدوس نے میری صداقت کے بڑے بڑے نشانات تم کو دکھائے، شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کی گواہی کے معنی یہ ہیں کہ اللہ سچ کو بڑھاتا ہے اور جھوٹ کو مٹاتا ہے اور جس کے پاس کتاب الٰہی کا صحیح علم ہے۔ وہ بھی میری نبوت کا کوئی گواہ ہے یعنی جن یہودیوں اور عیسائیوں کو توریت اور انجیل کا صحیح اور واقعی علم ہے اور وہ طالب دنیا اور حق کو چھپانے والے نہیں تو وہ میری نبوت کو خوب جانتے ہیں چناچہ ایسے یہودیوں اور عیسائیوں نے آپ ﷺ کی نبوت کی شہادت دی قال اللہ تعالیٰ اولم یکن لہم ایۃ ان یعلمہ علموا بنی اسراء یل اللہم انی اشھد انک انت اللہ لا الہ الا انت وحدک لا شریک لک واشھد ان سیدنا ومولانا محمدا عبدک ورسولک ربنا اتنا بما انزلتنا واتبعنا الرسول فاکتبنا مع الشاھدین واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العلمین و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد وعلی الہ و اصحابہ اجمعین وعلینا معھم یا ارحم الراحیمن۔ خاتمہ الحمدللہ آج بتاریخ 15 شوال المکرم یوم یکشنبہ بوقت چاشت شورہ رعد کی تفسیر سے فراغت ہوئی فللّٰہ الحمد اولا وآخرا۔ اے اللہ اپنی رحمت کاملہ سے بقیہ تفسیر کے اتمام کی توفیق عطا فرما اور اس کو قبول فرما، ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔ وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔