14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 14:1–4

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

الر (یہ) ایک (پرنور) کتاب (ہے) اس کو ہم نے تم پر اس لئے نازل کیا ہے کہ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لیجاؤ۔ (یعنی) انکے پروردگار کے حکم سے غالب اور قابل تعریف (خدا) کے راستے کی طرف۔

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

وہ خدا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور کافروں کے لیے عذاب سخت (کی وجہ) سے خرابی ہے۔

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں) خدا کے راستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے سرے کی گمراہی میں ہیں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انھیں (احکام خدا) کھول کھول کر بتادے۔ پھر خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔

آغاز سورت بہ بیان مقصد بعثت قال اللہ تعالیٰ الرٰ کتب انزلنہ الیک لتخرج الناس من الظلمت الی النور ... الیٰ ... وھو العزیز الحکیم گزشتہ سورت کی طرح اس سورت کا آغاز بھی قرآن کریم کی عظمت سے کیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بتلا دیا گیا کہ قرآن کے نازل کرنے اور نبی کریم (علیہ السلام) کی بعثت سے مقصد یہ ہے کہ آپ ﷺ اس کتاب کے ذریعے سے لوگوں کو اندھیرے سے روشنی کی طرف نکالیں اور جو لوگ دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں ان کو آخرت کا راستہ بتلائیں دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے اور ” ظلمات “ یعنی اندھیروں سے کفر اور شرک اور معصیت کے انواع و اقسام مراد ہیں چناچہ فرماتے ہیں الرٰ اس کے معنی اللہ ہی کو معلوم ہیں یہ کتاب ایک قرآن ہے جو ہم نے تجھ پر اتاری ہے تاکہ تو اس کے ذریعہ سے لوگوں کو کفر اور معصیت کی تاریکیوں سے ایمان اور ہدایت کی روشنی کی طرف نکالے ان کے پروردگار کے حکم سے یعنی خدا کی توفیق اور ہدایت سے جس کے لیے ہدایت مقدر کی ہے وہ رسول ﷺ کی دعوت سے ہدایت قبول کرے گا کیونکہ اصل ہادی اللہ تعالیٰ ہیں اور رسول داعی ہیں اپنی دعوت کے ذریعہ ظلمتوں سے نکال کر روشنی کی طرف یعنی ایسے خدا کے راستہ کی طرف لے جاتے ہیں جو غالب اور ستودہ ہے اور وہ راہ دین اسلام ہے اس اللہ کے راستہ کی طرف کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کی ملک ہے اور خرابی اور بربادی ہے کافروں کے لیے کہ جو راہ کج کی طرف مائل ہیں اور اس سیدھی راہ میں حائل ہیں ایسوں کے لیے بڑا سخت عذاب ہے کیونکہ یہ لوگ اپنی جہالت کی وجہ سے دنیاوی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں محبوب رکھتے ہیں ان کی تمام جدوجہد صرف دنیا کے لیے ہے اور آخرت کو طاق نسیان میں رکھ دیا ہے خود کا تو یہ حال ہے اور دوسروں کو بھی راہ خدا سے روکتے ہیں اور راہ حق میں کجی کے متلاشی رہتے ہیں یعنی دین اسلام میں طرح طرح کے عین نکالتے رہتے ہیں تاکہ اس سیدھے راستے کو ٹیڑھا ثابت کرسکیں ایسے ہی لوگ ایسی گمراہی میں جا پڑے ہیں جو حق اور نور ہدایت سے بہت دور ہے بظاہر اب راہ ہدایت کی طرف آنے کی کوئی امید نہیں۔ کفار کا ایک شبہ اور اس کا جواب کفار کہتے تھے کہ یہ قرآن تو آپ ﷺ کی زبان میں اترا اگر کسی اور زبان میں ہوتا تو ہم یقین کرتے کہ یہ منزل من اللہ ہے یہ قرآن تو آپ ہی کی زبان میں ہے اس لیے یہ احتمال ہے کہ شاید یہ قرآن خود آپ ﷺ ہی کا بنایا ہوا ہے اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اسی قوم کی بولی اور زبان میں تاکہ احکام الٰہیہ کو بخوبی ان کی زبان میں بیان کرسکے اور قوم اس کی بات کو بآسانی سمجھ سکے اور وہ نبی ان کو خدا کا راستہ بتائے اور ظلمت سے ان کو نور کی طرف نکالے، پھر اس انداز اور بیان کے بعد جب ان پر حجت الٰہیہ قائم ہوجاتی ہے تو اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے کہ اس کے دل میں نور پیدا کرتا ہے اور وہ ایسا غالب اور زبردست ہے کہ کوئی اس کی مشیت کو روک نہیں سکتا بڑا حکمت والا ہے کسی کو ہدایت دینا اور کسی کو گمراہ کرنا یہ اس کی حکمت ہے جہاں عقل کی رسائی نہیں۔ فائدہ جلیلہ : بعض لوگوں کو بلسان قومہ کے لفظ سے خصوص بعثت کا شبہ ہوگیا اور یہ وہم ہوگیا کہ آپ ﷺ کی نبوت صرف عرب کے لیے تھی جیسا کہ بعض یہود کہتے تھے کہ آپ ﷺ فقط قوم عرب کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ یہ بیان اور خیال قطعا غلط ہے اس لئے کہ بیشمار آیات قرآنیہ اور احادیث متواترہ سے یہ امر ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ عرب اور عجم اور تمام عالم کی طرف مبعوث ہوئے اور اس آیت میں قوم سے شہر اور قبیلہ اور خاندان کے لوگ مراد ہیں نہ کہ امت مراد ہے اور قوم اور امت میں زمین و آسمان کا فرق ہے قوم خاص ہے اور امت عام ہے قوم تو اس قبیلہ اور خاندان کو کہتے ہیں جس میں آپ ﷺ پیدا ہوئے اور عرب اور عجم اور کل عالم آپ ﷺ کی امت سے جن کی ہدایت کے لیے آپ ﷺ مبعوث ہوئے پہلے زمانہ میں ہر نبی صرف اپنی قوم کے لیے مبعوث ہوتا تھا اس لئے انبیاء سابقین (علیہم السلام) میں قوم اور امت کا مصداق ایک ہی تھا اور آنحضرت ﷺ کی بعثت چونکہ عام ہے اس لیے آپ ﷺ کی قوم کا مصداق تو خاص ہے اور امت کا مصداق عام ہے اور آیت میں جو قصر ہے وہ فقط باعتبار لسان اور زبان کے ہے یعنی ارسال بزبان قوم مخصوص ہے اور مطلب یہ ہے کہ نبی کی زبان وہی ہوتی ہے جس قوم میں نبی پیدا ہوا اور یہ مطلب نہیں کہ نبی کی امت صرف وہی قوم ہے اور جو اس کی ہم زبان ہے اور آنحضرت ﷺ چونکہ تمام اقوام عالم کی طرف مبعوث ہوئے اس لیے یہ تو مناسب نہ تھا کہ ہر قوم کی زبان میں علیحدہ علیحدہ قرآن اترتا اس صورت میں نزاع اور اختلاف کا دروازہ کھل جاتا اور ہر قوم اپنی زبان کے اعتبار سے ایسے معنی کی مدعی بنتی جیسے دوسری قوم نہ سمجھ سکتی اور آنحضرت ﷺ چونکہ قوم عرب میں مبعوث ہوئے اور لغت عرب تمام لغات عالم میں سب سے اشرف، اور اکمل اور افصح اور ابلغ ہے اس لئے آپ ﷺ پر عربی زبان میں کتاب الٰہی کا نزول اولیٰ اور انسب ہوا اور حضور پرنور چونکہ اشرف الرسل اور اکمل الرسل ہیں اس لیے آپ ﷺ پر کتاب اسی زبان میں نازل کی گئی کہ جو تمام لغات میں سب سے اشرف اور اکمل ہے کسی زبان میں عربی زبان جیسی نہ لغت تھی اور نہ صرف و نحو اور نہ بلاغت ہے کافیہ اور شافیہ اور تلخیص المفتاح کا تو کیا ذکر کروں امریکہ اور برطانیہ کے پاس انگریزی زبان کے قواعد کی میزان منشعب اور پنج گنج اور نحو میر بھی نہیں اگر ہے تو لائے اور دکھلائے۔
Ayahs 14:5–8

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دیکر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ۔ اور انکو خدا کے دن یاد دلاؤ۔ اور اس میں ان لوگوں کے لئے جو صابر و شاکر ہیں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں۔

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا نے جو تم پر مہربانیاں کی ہیں ان کو یاد کرو جبکہ تم کو فرعون کی قوم (کے ہاتھ) سے مخلصی دی۔ وہ لوگ تمہیں بڑے عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے تھے اور عورت ذات یعنی تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی۔

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے (تم کو) آگاہ کیا کہ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دونگا اور اگر ناشکری کرو گے تو (یاد رکھو کے) میرا عذاب (بھی) سخت ہے۔

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے (صاف صاف) کہہ دیا کہ اگر تم اور جتنے اور لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ناشکری کرو تو خدا بھی بےنیاز (اور) قابل تعریف ہے۔

ذکر موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ : ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا .... الیٰ .... فان اللہ لغنی حمید۔ (ربط) گزشتہ آیت میں آنحضرت ﷺ کی بعثت کی غرض وغایت کو ذکر کیا اب آگے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کرام (علیہم السلام) کے کچھ واقعات ذکر کرکے بتلاتے ہیں کہ اور انبیاء کی بعثت سے بھی یہی مقصود تھا کہ وہ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائیں اور ان کو آخرت کا بھولا ہوا سبق یاد دلائیں اور اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں کہ انسان ظلمت سے نکل کر نور میں آجائے اور اس کو خدا کا راستہ نظر آنے لگے اور جس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی زبان عبرانی میں کتاب دی اسی طرح ہم نے آپ ﷺ کو قرآن آپ کی قوم کی زبان عربی میں دیا چناچہ فرماتے ہیں۔ اور البتہ بھیجا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر کہ اپنی قوم کو کفر کی تاریکیوں سے نور ایمان کی طرف نکال اور ان کو یاد دلا کہ وہ دن جس میں اللہ نے قوم نوح اور قوم عاد اور قوم ثمود سے اپنے پیغمبروں کا بدلہ لیا یا یہ مطلب ہے کہ ان کو اللہ کے انعام اور انتقام کے واقعات اور معاملات یاد دلاؤ بیشک اس قسم کے معاملہ میں ہر صابر و شاکر کے لیے نشانیاں ہیں اور یاد کرو اس وقت کو جب کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے اے میری قوم ! یاد کرو اللہ کے انعامات اور احسانات کو جو تم پر ہوئے خاص کر جب کہ اس نے رہائی دی تم کو آل فرعون کے ظلم وستم سے، وہ تم کو بری طرح عذاب دیتے اور تمہارے بیتوں کو ذبح کرتے اور تمہاری لڑکیوں، بیٹیوں کو عورتوں کو زندہ چھوڑتے بلکہ چاہتے تھے کہ لڑکیاں زندہ رہیں تاکہ ان کو باندیاں بنا کر ان سے خدمت لیں اور اس معاملہ میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی یا یہ معنی ہیں کہ ایسی بلا سے نجات دینا اور پھر اسے عروج میں بدلنا حق تعالیٰ کی بڑی نعمت تھی اور موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ اے میری قوم وہ وقت یاد کرو جب میرے پروردگار نے میرے ذریعہ تم کو خبردار اور آگاہ کردیا تھا کہ اگر تم میری نعمتوں کا شکر کرو گے تو البتہ میں تم کو اور زیادہ دوں گا اور اگر تم نے میری ناشکری کی تو سمجھ رکھو بیشک میرا عذاب سخت ہے تو تم کو ڈرنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ ناراض ہو کر اپنی نعمت نہ واپس لے لے شیخ عطار (رح) فرماتے ہیں۔ شکر نعمت نعمتت افزوں کند کفر نعمت نعمتت بیروں کند اس لیے بعض بزرگوں کا قول ہے کہ اگر اسلام اور ایمان کی نعمت کا شکر کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس میں زیادتی فرمائے گا اور مقام احسان اور مشاہدہ تک پہنچا دے گا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی کہا اے قوم اگر تم اور تمام روئے زمین کے باشندے مل کر بھی خدا کی ناشکری سے اس کا کوئی ضرر ہے اور وہ ستودہ ہے اور کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی تسبیح وتحمید میں غرق ہے۔
Ayahs 14:9–17

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

بھلا تم کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے (یعنی) نوح (علیہ السلام) اور عاد وثمود کی قوم ؟ اور جو ان کے بعد تھے جن کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں (جب) ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیے (کہ خاموش رہو) اور کہنے لگے کہ ہم تو تمہاری رسالت کو تسلیم نہیں کرتے۔ اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے قوی شک ہیں۔

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے پیغمبروں نے کہا کیا (تم کو) خدا (کے بارے) میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنیوالا ہے ؟ اور تمہیں اس لئے بلاتا ہے کہ تمہارے گناہ بخشے اور (فائدہ پہنچانے کیلئے) ایک مدت مقرر تک تم کو مہلت دے۔ وہ بولے تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تمہارا منشاء ہے کہ جن چیزوں کو ہمارے بڑے پوچتے ہیں ان (کے پوجنے) سے ہم کو بند کردو تو (اچھا) کوئی دلیل لاؤ (یعنی معجزہ دکھاؤ)

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ہاں ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے (نبوت کا) احسان کرتا ہے۔ اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم خدا کے حکم کے بغیر تم کو (تمہاری فرمائش کے مطابق) معجزہ دکھائیں۔ اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے۔

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

ہم کیونکر خدا پر بھروسا نہ رکھیں حالانکہ اس نے ہم کو ہمارے (دین کے سیدھے) راستے بتائے ہیں جو تکلیفیں تم ہم کو دیتے ہو اس پر صبر کریں گے۔ اور اہل توکل کو خدا ہی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور جو کافر تھے انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ (یا تو) ہم تم کو اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے یا (ہمارے) مذہب میں داخل ہوجاؤ۔ تو پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کر دینگے

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور ان کے بعد تم کو اس زمین میں آباد کریں گے۔ یہ اس شخص کے لئے ہے جو (قیامت کے روز) میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے۔ اور میرے عذاب سے خوف کرے

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور پیغمبروں نے (خدا سے اپنی) فتح چاہی تو سرکش ضدی نامراد رہ گیا۔

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پئے گا اور گلے سے نہیں اتار سکے گا اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا۔ اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا۔

بذکرش جملہ موجودات گویا ہمہ اور از روئے شوق جویا تذکیر با یام اللہ قال اللہ تعالیٰ : الم یاتکم نبؤا الذین من قبلکم .... الیٰ .... ومن وراۂ عذاب غلیظ۔ (ربط) گزشتہ آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم تھا کہ وذکرھم بایام اللہ۔ کہ لوگوں کو اللہ کے دین یعنی اس کے معاملات کی یاد دلاؤ کہ کسی طرح اللہ نے انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے مکذبین اور منکرین کو ہلاک کیا تاکہ یہ منکرین ان سے عبرت پکڑیں ان آیات میں پہلی امتوں کا حال اور مآل یاد دلاتے ہیں کہ انہوں نے انبیاء کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور پھر خدا نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا گزشتہ قوموں نے اپنے مال و دولت پر بھروسہ کرتے پوئے انبیاء (علیہم السلام) کی تحقیر و تذلیل میں کوئی دقیقہ اٹھانہ رکھا اور انبیاء کرام (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار پر بھروسہ کیا جس کا انجام یہ ہوا کہ انبیاء کرام اور ان کے اصحاب و احباب نے بجات پائی اور ان کے دشمن عذاب خداوندی سے ہلاک ہوئے چناچہ فرماتے ہیں کیا تم کو ان لوگوں کی ہلاکت کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے یعنی قوم نوح اور عاد قوم ہود اور ثمود قوم صالح کی اور ان قوموں کی جو ان تینوں قوموں کے بعد گزریں جن کے مفصل حالات اور تعداد کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا مطلب یہ ہے کہ تم کو ان کے حال سے عبرت پکڑنی چاہئے یہ کلام یا تو موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام کا تتمہ ہے یا آنحضرت ﷺ کے زمانے کے لوگوں کو خطاب ہے اور ان قوموں کی خبر ان لوگوں میں معروف اور متواتر تھی اور ان کا آغاز اور انجام ان کو معلوم تھا اس لیے ان کو یاد دلایا تاکہ عبرت پکڑیں اللہ تعالیٰ نے ان کا عبرت ناک حال اس طرح بیان کیا کہ ان کے رسول ان کے پاس اپنی رسالت کے کھلے ثبوت لے کر آئے پس ان کی قوموں نے ان کے ساتھ یہ معاملہ کیا۔ (1) کہ اپنے ہاتھ ان پیغمبروں کے منہ میں دے دیئے کے چپ رہو اور کوئی حرف اس قسم کا منہ سے نہ نکالویا یہ معنی ہیں کہ قوموں نے تعجب سے اپنے منہ میں دے دیئے یعنی انگشت بدنداں ہوگئے کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ (2) اور یہ کہا کہ ہم اس پیغام کو نہیں مانتے جو تم دے کر بھیجے گئے ہو یعنی جس چیز کو تم اپنے زعم میں پیغام خداوندی بتلاتے ہو ہم اس کو نہیں مانتے۔ (3) اور جس راہ کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو اس کے بارے میں ہم شک میں ہیں جس نے ہم کو قلق اور اضطراب میں ڈال دیا ہے اور اس شک کا منشاء صرف ان جہالت اور بیخبر ی اور اغراض فاسدہ تھیں اس لیے رسولوں نے ان کے جواب میں کہا، کیا تم کو اللہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے یعنی یہ آسمان اور زمین تمہاری نظروں کے سامنے ہیں جو اس امر کی روشن دلیل ہے کہ یہ اتنی بڑی عمارت خودبخود توبن کر کھڑی نہیں ہوگئی یہ عجیب و غریب آفرینش اس کے صانع کی ہستی پر شاہد ہے پس جس خدا وندذوالجلال کا وجود اور ہستی اس قدر بدیہی ہر اس کا کیوں انکار کرتے ہو اب اس کے بعد اس کی کمال رحمت کا بیان کرتے ہیں وہ خدا تم کو ایمان اور ہدایت کی طرف اس لیے بلاتا ہے تاکہ تمہارے کچھ گناہ معاف کرے اور تاکہ تمہیں ایک مدت معینہ تک مہلت دے اور دنیا میں تم پر عذاب نہ کرے اس جواب پر قوم کفار کے لوگ بولے اور تین شبہ پیش کیئے۔ پہلا شبہ تو یہ کیا کہ تم ہم جیسے ایک آدمی ہو اور تمام انسان ماہیت انسانیہ اور حقیقت بشریہ میں مساوی اور برابر ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک انسان تو اللہ کا رسول ہوجائے اور دوسرا اس پر ایمان لائے اور اس کا پیرو بنے تم صورت اور ہیت میں ہم جیسے ہو تم کو ہم پر کیا فضیلت اور برتری ہے جو ہم تمہاری پیروی کریں۔ دوسراشبہ ٍ یہ کیا کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اسی طریقہ پر پایا اور تم یہ چاہتے ہو کہ ہم کو ان چیزوں کی پرستش سے روک دو جن کو ہمارے آباؤ اجداد پوجتے تھے ہم تمہارے کہنے سے اپنے آبائی طریقہ کو کیسے چھوڑیں۔ تیسرا شبہ یہ تھا کہ اگر تم دعوائے نبوت و رسالت میں سچے ہو تو ہمارے سامنے ایسی روشن دلیل لاؤ جس کو ہم بھی تسلیم کریں مطلب یہ تھا کہ تم نے جو معجزات ہم کو دکھلائے ہیں ان پر ہم مطمئن نہیں ایسے معجزات قاہرہ دکھلاؤ جن کو دیکھ کو آدمی ایمان لانے پر مجبور ہوجائے۔ رسولوں کا جواب ان کے رسولوں نے ان کے جواب میں ان سے کہا کہ تمہارے یہ تینوں شبہ مہمل ہیں۔ پہلے شبہ کا جواب بیشک ہم تم جیسے بشر ہیں یعنی صورت اور ہیئت میں بلاشبہ تمہاری طرح ہیں اس سے ہم انکار نہیں کرتے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے اور نبوت و رسالت سے اس کو سرفراز کرتا ہے جنس انسانیت میں شریک ہونے سے یہ لازم نہیں کہ اس جنس کے تمام افراد فضائل و کمالات میں برابر ہوجائیں صورت اور ہیئت کے اعتبار سے عاقل اور غافل، جاہل اور فاضل سب برابر ہیں پس جس طرح ایک جنس کے افراد میں فضائل جسمانیہ کے اعتبار سے تفاوت ممکن ہے اس طرح فضائل روحانیہ میں بھی تفاوت ممکن ہے جاہلوں نے انبیاء (علیہم السلام) کی صورت و شکل دیکھ کر یہ خیال کرلیا کہ ہم اور وہ یکساں ہیں حالانکہ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ دوسرے شبہ کا جواب اور اسی سے دوسرے شبہ کا بھی جواب ہوگیا کہ حق و باطل کی تمیز اور صدق و کذب کا فرق یہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ اور اس کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے اس کو عطا کرتا ہے اور ایک کثیر جماعت کو اس سے محروم کرتا ہے تمہارے آباؤ اجداد جاہل اور نادان تھے اور بےبصیرت تھے ان کو حق و باطل کی تمیز نہ تھی اور جاہلوں کا اتفاق کسی عاقل پر حجت نہیں۔ (تفسیر کبیر ص 234 ج 5) تیسرے شبہ کا جواب کفار کا تیسرا شبہ یہ تھا کہ ہم تمہارے ان پیش کردہ معجزات پر مطمئن نہیں ہماری خواہش کے مطابق معجزات لاؤ اس کا جواب دیتے ہیں اور ہماری طاقت نہیں کہ ہم بغیر اللہ کے حکم کے تمہارے پاس کوئی دلیل اور برہان لے آئیں یعنی تمہاری فرمائشیں پوری کرنا ہماری قدرت اور اختیار میں نہیں۔ باقی ہم اپنی نبوت کی سند اور روشن نشان پہلے دکھلا چکے ہیں وہ اطمینان کے لیے کافی اور وافی ہیں ضد اور عناد کا علاج ہمارے پاس نہیں حضرات انبیاء (علیہم السلام) نے جب کفار کو ان کے شبہات کے شافی اور کافی جواب دے دئیے اور کفار ان کے جواب باصواب سے لاجواب ہوگئے تو جہالت اور نادانی پر اتر آئے اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ڈرانے دھمکانے لگے تو حضرت انبیاء کرام (علیہم السلام) نے کہا کہ ہم تمہاری تخویف سے خائف نہیں تم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہمارا بھروسہ اللہ پر ہے اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے اور ہم کو کیا ہوا کہ اللہ پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ اس نے ہم کو نجات اور ہدایت کی راہیں بتلائیں وہی ہم کو تمہارے شر سے بچائے گا اور خدا کی قسم ہم ضرور صبر کریں گے اس ایذاء پر جو تم ہم کو پہنچاتے ہو۔ اور توکل کرنے والوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے سب کچھ اسی کے ہاتھ میں ہے اس تمام تر اتمام حجت کے بعد بھی کفار نرم نہ ہوئے بلکہ اور گرم ہوگئے اور کفار اپنی طاقت کے غرور میں رسولوں سے یہ کہنے لگے کہ اپنے توکل کو تو رہنے دو اور سن لو کہ البتہ ہم تم کو اپنے ملک سے نکال باہر کریں گے یا تو تم ہمارے مذہب میں واپس آجاؤ۔ جاننا چاہئے کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) نبوت سے پہلے کبھی اپنی قوم کے دن پر قائم نہیں ہوئے جن کو یہ کہا جاسکے کہ تم ہمارے مذہب میں واپس آجاؤ۔ انبیاء کرام شروع ولادت سے لے کر شرک اور کفر کی آلودگی سے ہمیشہ پاک رہے ہیں بلکہ اصل یہ ہے کہ انبیاء کرام نبوت سے پہلے انہی کے ساتھ رہتے تھے اور قبل از بعثت ان کو تبلیغ و دعوت نہیں کرتے تھے اس لیے وہ لوگ انبیاء کو اپنا ہم مذہب جانتے تھے اور بعثت کے بعد جب انبیاء قوم کو اللہ کے احکام سناتے تو وہ لوگ یہ سمجھتے کہ اب یہ ہمارے دین سے پھرگئے اور ان کو دھمکی دیتے کہ یا تو ہمارے مذہب میں آجاؤ ورنہ ہم تم کو اپنے ملک سے نکال دیں گے جس طرح قوم شعیب نے کہا تھا لنخرجنک یشعیب والذین امنوا معک من قریتنا۔ اور جس طرح قوم لوط نے کہا تھا اخرجوا ال لوط من قریتکم اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے قریش مکہ کے حال سے خبر دی ہے وان کا دو الیستفزونک من الارض لیخرجوک منھا واذا لا یلبثون خلفک الا قلیلا۔ واذ یمکربک الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک او یخرجوک ویمکرون ویفکر اللہ واللہ خیر الماکرین کفار مکہ آنحضرت ﷺ کو قبل از بعثت اپنی ملت پر سمجھتے تھے اسی وجہ سے آپ ﷺ کو ” صابی “ کہتے تھے یعنی آبائی دین سے پھرجانے والا کہتے تھے اور آپ ﷺ کے قتل کے درپے تھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قتل مرتد کا مسئلہ کافروں کے نزدیک بھی مسلم ہے۔ خداوند عالم کی طرف سے جواب کافر جب خدا کے پیغمبروں کو اس قسم کی دھکمیاں دینے لگے تو وحی بھیجی رسولوں کے رب نے کہ تم کافروں کے اس کہنے سے کہ ہم تم کو اپنی زمین سے نکال دیں گے خوف مت کرو البتہ تحقیق ہم انہی ظالموں کو ہلاک اور تباہ کریں گے اور ان کے ہلاک کرنے کے بعد تمہارے متبعین کو اسی زمین میں بسائیں گے۔ کما قال اللہ تعالیٰ : ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکران الارض یرثھا عبادی الصلضون۔ استعینوا باللہ واصبروا۔ ان الارض للہ یورثھا من یشاء من عبادہ والعاقبۃ للمتقین و اور ثنا القوم الذین کانوا یستضعفون مشارق الارض ومغاربھا التی برکنا فیہا وتمت کلہ ربک الحسنی علی بنی اسراء یل بما صبروا فدمرنا ما کان یصنع فرون وقومہ وما کانوا یعرشون۔ آگے فرماتے ہیں میری طرف سے یہ عودہ اس شخص کے لیے ہے جو قیامت کے دن میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرے کہ اپنے پروردگار کو کیا منہ دکھاؤں گا اور میرے عذاب سے بھی ڈرے اس قسم کا خوف دینی اور دنیوی کامیابی کی علامت ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قومیں خدا سے فیصلہ چاہنے لگے انبیاء اپنی فتح کے طلب گار ہوئے اور کافر اپنی فتح کے طلب گار ہوئے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے دعا مانگی فافتح بینی وینھم فتحا ونجنی اور لوط (علیہ السلام) نے یہ دعا مانگی، رب نجنی واہلی مما یعملون اور شعیب (علیہ السلام) نے یہ دعا مانگی ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وغیرہ وغیرہ غرض یہ کہ انبیاء (علیہم السلام) نے اپنی فتح کی دعا مانگی اور کافروں نے اپنی فتح کی دعا مانگی اللہم ان کان ھذا ھو ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوائتنا بعذاب الیم۔ غرض یہ کہ دونوں طرف سے فیصلہ کی جلدی ہونے لگی اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کن عذاب نازل کردیا اور جب وہ فیصلہ کن عذاب آیا تو انبیاء و رسل تو کامیاب ہوئے اور ہر سرکش معاند نامراد ہوا یہ تو دنیا میں ہوا اور اس کے علاوہ اس کے آگے دوزخ ہے اور وہاں اس کو پینے کے لیے پیپ لہو دیا جائے گا جو کافروں کی کھال وغیرہ سے بہہ کر جمع ہوگا جب وہ پیاس سے بےتاب ہوگا تو یہی کج لہو اس کو پینے کو دیا جائے گا وہ اسے بدمزگی اور بدبو اور حرارت کی وجہ سے گھونٹ گھونٹ کرکے پیئے گا اور بآسانی اس کو گلے سے نہیں اتار سکے گا لیکن چارونا چار شدت پیاس کی وجہ سے بمشکل اس کا اتارے گا ترمذی میں ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کافر کے آگے صدید (پیپ) پیش کی جائے گی وہ اس سے کراہت کرے گا جب اس کے منہ کے قریب کی جائے گی تو اس کا چہرہ جھلس جائے گا اور سر کی کھال اتر کر گر پڑے گی اور جب پی جائے گا تو اس کی آنتیں کٹ کر پاخانہ کی راہ سے نکل پڑیں گی اور پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی وان یستغیثوا یغاثوا بماء کالمہل یشوی الوجوہ بئس الشراب و ساءت موتفقا (رواہ احمد وسأل ایضا) اور دوسری جگہ ہے وسقوا ماء حمیما فقطع امعاء ھم غرض یہ کہ جب کافر جہنم میں پیاس سے بےتاب ہوگا تو اس کو پیپ جیسا پانی پلایا جائے گا اور ہر طرف سے اس کو موت آگھیرے گی یعنی موت کی کوئی نوع ایسی باقی نہ رہے گی جو اس کو نہ آوے مگر وہ مرنے والا نہیں کہ مر کر ان تکالیف اور شدائد سے نجات پا جائے کما قال اللہ تعالیٰ لایقضی علیہم فیمولوا ولا یخفف عنھم من عذابھا۔ آنتیں بھی کٹ کر گریں گی اور کھال بھی سڑ کر گرے گے مگر موت نہیں آئے گی بلکہ بدستور کھال اور آنتیں بحال کردی جائیں گی تاکہ ہر بار اس کو نیا عذاب دیا جاسکے اور جس عذاب کا وہ دنیا میں منکر تھا ابد الآباد تک مزہ چکھتا رہے اور اس کے آگے اور سخت عذاب ہے جو ہر لحظہ شدید اور حدید ہوتا رہے گا جس کی کوئی انتہا نہیں۔
Ayahs 14:18–20

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا انکے اعمال کی مثال راکھ کی سی ہے کہ آندھی کے دن اس پر زور کی ہوا چلے (اور) اسے اڑا لے جائے (اسی طرح) جو کام وہ کرتے رہے ان پر ان کو کچھ دسترس نہ ہوگی یہی تو پرلے سرے کی گمراہی ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے ؟ اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق پیدا کردے۔

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور یہ خدا کو کچھ بھی مشکل نہیں۔

مثال اعمال کفار قال اللہ تعالیٰ : مثل الذین کفروا بربھم اعمالہم کرماد۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز۔ (ربط) اوپر کافروں کے انواع کا ذکر تھا اب ان کے اعمال کے ضائع ہونے کی ایک مثال بیان فرماتے ہیں کہ جس طرح آندھی والے دن تیز آندھی سے راکھ اڑ جاتی ہے اور اس کا کچھ نام و نشان باقی نہیں رہتا اسی طرح کافروں کے اچھے اعمال جیسے صدقات جو انہوں نے بحالت کفر دئیے وہ قیامت کے دن کفر کی تیز آندھیوں سے سب اڑ جائیں گے اور کسی عمل کا نام و نشان نہ رہے گا اس وقت ان کی حسرت کی حالت ناگفتہ بہ ہوگی چناچہ فرماتے ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا ان کے اعمال صالحہ خیرات و صدقات مثل اس راکھ کے ہیں جس پر سخت آندگی کے دن تیز ہوا چلی اور اس راکھ کو اڑا کر ادھر ادھر منتشر کردیا اسی طرھ قیامت میں کفران کے نیک عملوں کو اڑا کر پراگندہ کر دے گا اور جس طرح کوئی شخص اس پراگندہ راکھ کو دوبارہ جمع نہیں کرسکتا اسی طرح قیامت کے دن یہ کافر قادر نہ ہوں گے کہ دنیا میں جو کمایا ہے اس میں سے کچھ حاصل کرسکیں راکھ کی طرح سب اڑ جائیں گے کسی کا کہیں نام و نشان نظر نہ آئے گا یہی وہ گمراہی ہے جو حق سے بہت دور ہے اور حددرجہ کا خسارہ ہے کہ جن اعمال کو ذریعہ قرب و نجات سمجھتے تھے وہ راکج کی طرح اڑ گئے کیا تو نے نہیں دیکھا اے دیکھنے والے یا نہیں جانا تو نے اے جاننے والے کہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے کسی حکمت کے لیے بنایا ہے بےکار نہیں بنایا کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ خدا نے آسمان و زمین اور کواکب کو تیرے چند روزہ فائدہ اٹھانے کے لیے بنایا ہے ہرگز نہیں۔ بلکہ بیشمار حکمتوں پر مشتمل ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ تو آسمان و زمین دیکھ کر اس کی قدرت اور عظمت و جلال کا اندازہ لگالے اور اس کے نظام کو دیکھ کر سمجھ لے کہ یہ سارا کارخانہ کسی قادر قیوم کے حکم اور قیومی سے چل رہا ہے جب چاہے فنا کر دے وہ اگر چاہے تو تمام بنی آدم کو فنا کردے اور تمہاری جگہ زمین پر دوسری نئی مخلوق لے آئے جو تمہاری جیسی مشرک اور نافرمان نہ ہو۔ یہ امر اللہ پر کچھ مشکل نہیں اور جب وہ ایسا قادر مطلق ہے تو اسے قیامت قائم کرنا اور تم کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے لہٰذا سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ تم کو ہلاک کر دے اور تمہاری زمین اور ملک پر انبیاء اور ان کے متبعین کو قابض اور متصرف بنا دے۔
Ayah 14:21

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف العقل متبع اپنے (رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو ؟ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لئے نہیں ہے۔

قیامت کے دن کی باہم گفتگو اور پیشوایان کفر کی ذلت اور ندامت کا ذکر قال اللہ تعالیٰ : وبرزوا للہ جمیعا .... الیٰ .... ام صبرنا مالنا من محیص۔ (ربط) گزشتہ آیات میں پیغمبروں کے انکار کی سزا کا ذکر تھا اب قیامت کے دن کافروں کی باہم گفتگو کو ذکر ہے کہ قیامت کے دن کفار اپنے پیشواؤں سے کہیں گے کہ ہم دنیا میں تمہارے پیرو تھے کیا آج کے دن تم ہم کو عذاب سے بچا سکتے ہو وہ انکار کریں گے کہ آج ہم تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتے اور یہ عذر کریں گے کہ ہم خود گمراہ تھے اگر ہم راہ راست پر ہوتے تو تمہیں کیوں گمراہ کرتے چناچہ فرماتے ہیں، اور سب مومن اور کافر اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور قبروں سے نکل کر خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تب کمزور اور کم درجے کے کافر ان لوگوں سے جو دنیا میں بڑے سمجھے جاتے تھ یہ کہیں گے کہ تحقیق ہم دنیا میں تمہارے تابع تھے تمہارے کہنے سے ہم نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو کیا تم ہم سے اللہ کے عذاب میں سے کسی چیز کو دفع کرسکتے ہو اور اس مصیبت کی گھڑی میں ہمارے کچھ کام آسکتے ہو تو وہ پیشوا یان کفر عذر خواہی کے طور پر جواب میں یہ کہیں گے کہ اگر اللہ ہم کو ہدایت اور توفیق دیتا تو ہم تم کو بھی سیدھے راستے پر لے چلتے چونکہ ہم خود گمراہ تھے اس لیے ہم نے تم کو گمراہی کی طرف بلایا اب یہ تمہارا قصور ہے کہ تم نے آنکھ بند کرکے ہمارا کہنا مانا اور اللہ کے رسولوں کو نہ مانا اور اب ہم اور تم سب مبتلائے بلا ہیں ہم سب کے حق میں برابر ہے کہ ہم خواہ اضطراب اور بےقراری ظاہر کریں یا صبر کریں دونوں حالتوں میں ہمارے لیے عذاب سے جھٹکارا نہیں یہ دار جزاء ہے یہاں رنج و غم سے کچھ نہیں ہوتا۔ جو فیصلہ ہوچکا ہے وہ اٹل ہے اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ گفتگو جہنم میں جانے کے بعد ہوگی جیسا کہ دوسری آیت میں اس کی تصریح آتی ہے واذ یتحاجون فی النار فیقول الضعفؤ اللذین استکبروا انا لنا لکم تبعا فہل انتم مغنون عنا نصیبا من النار قال الذین استکبروا انا کل فیہا ان اللہ قد حکم بین العباد۔ اور میدان حشر میں باہمی مخاصمت کا ذکر ان آیتوں میں ہے :۔ ولو تریٰ اذ الظلمون موقوفون عند ربھم یرجع بعضھم الیٰ بعض القول یقول الذین استضعفوا للذین استکبروا لولا انتم لکنا مومنین قال الذین استکبروا للذین استعفوا انحن صددنکم عن الھدیٰ بعد اذ جاء کم بل کنتم مجرمین وقال الذین استعفوا للذین استکبروا بل مکر الیل والنھار اذ تامروننا ان نکفر باللہ ونجعل لہ اندادا واسرو الندامۃ لما راؤ العذاب وجعلنا الاغلل فی اعناق الذین کفروا، ہل یجزون الا ما کانوا یعمدن۔
Ayah 14:22

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

جب (حساب کتاب کا) کام فیصل ہوچکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اور بےدلیل) میرا کہنا مان لیا۔ (آج) مجھے ملامت نہ کرو اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے۔ بیشک جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے۔

جہنم میں شیطان کی تقریر قال اللہ تعالیٰ : وقال الشیطن لما قضی الامر .... الیٰ .... لہم عذاب الیم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ضعفاء کفار کی اپنے رئیسوں اور سرداروں سے باہم گفتگو کا ذکر تھا اس آیت میں شیطان کی گفتگو کا ذکر ہے جو تمام کافروں کا رئیس اور سردار ہے شیطان اس وقت جو تقریر کرے گا حق تعالیٰ نے اس آیت میں اس کا ذکر کیا ہے جب اہل جنت جنت میں اور اہل نار دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو تمام اہل دوزخ جمع ہو کر متفقہ طور پر ابلیس کو لعنت ملامت کریں گے کہ تو نے ہم کو تباہ و برباد کیا تو اس وقت ابلیس کھڑا ہوگا اور الزام دفع کرنے کے لیے (آگ کے ایک منبر پر کھڑا ہو کر خطبہ دے گا) ۔ یہ وقت کافروں پر عیب مصیبت کا ہوگا ان کا سردار ہی ان کو صاف جواب دے دے گا۔ کافروں کے اس حال بدمال کے بعد حق تعالیٰ ، واذخل الذین امنوا وعملوا الصلحت میں بطور مقابلہ اہل ایمان کی نعمتوں کا ذکر فرماتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم کا طریقہ ہے کہ اشقیاء کے بعد سعداء کا حال ومآل ذکر کرتے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جب حساب و کتاب کے بعد کام فیصل ہوچکے گا یعنی دوزخی دوزخ میں اور جنتی جنت میں داخل ہوچکے ہوں گے تو سب دوزخی جمع ہو کر شیطان کو لعنت ملامت کریں گے تو اس وقت ابلیس آگ کے ایک منبر پر کھڑا ہو کر کہے گا اے بدبختو ! اور مجھے ملامت کرنے والو تحقیق اللہ تعالیٰ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا کہ قیامت اور حشر و نشر اور حساب و کتاب اور جزاء و سزا حق ہے اور جو کفر کرے گا وہ ہلاک ہوگا اور جو ایمان لائے گا وہ فلاح پائے گا پس خدا کے اس سچے وعدہ کا تم نے آنکھوں سے مشاہدہ کرلیا اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا کہ اس حیات دنیوی کے بعد کوئی حیات اور حساب و کتاب نہیں پس میں نے تم کو الٹا وعدہ دیا تھا یعنی میں نے جو تم کو وعدہ دیا تھا آج بالکل اس کا الٹ نکلا اور میرا تمہارے اوپر کوئی زور نہ تھا یعنی تم مجھے کس لیے ملامت کرتے ہو تم پر میرا کوئی زور اور زبردستی نہ تھی کہ جبراً و قہراً میرے حکم پر چلو۔ اگر تم میرا کہا نہ مانتے تو میں تمہارا کیا کرسکتا تھا تم نے میرا حکم اپنے مزہ کے لئے مانا۔ اب عذاب بھی بھگتو میری طرف سے صرف اتنی بات ہوئی کہ میں نے تم کو بطریق و سوسہ اپنی طرف بلایا نہ میرے پاس کوئی دلیل اور حجت تھی اور نہ کوئی طاقت و قوت تھی کہ تم کو بزور منوا تا بغیر کسی قہر اور غلبہ کے اور بغیر کسی حجت اور دلیل کے محض بطریق و سوسہ دنیا کی ظاہری آرائش اور زیبائش تمہاری نظروں کے سامنے کردی پس تم نادانوں نے فورا میرا کہنا مان لیا اور انبیاء ورسل جنہوں نے طرح طرح کے حجج وبراہین تمہارے سامنے پیش کئے اور طرح طرح کی آیات بینات تم کو دکھائیں تم نے ان کا کہنا نہ مانا پس آخر تمہارا یہ انجام ہوا پس تم مجھے ملامت نہ کرو اور اپنی جانوں کو ملامت کرو کہ تم نے دلیل اور برہان کو چھوڑ کر میری بےدلیل باتوں کو مان لیا اس وقت تم ایسے اندھے کیوں ہوگئے تھے کہ بےدلیل میرے پیچھے لگ لیے حماقت تمہاری ہے مجھے کیوں ملامت کرتے ہو میری طرف سے تو فقط دعوت تھی اور اصل علت عذاب ارتکاب معصیت ہے جو تمہارا اختیاری فعل ہے لہٰذا آج نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو ہم تم دونوں عذاب دائمی میں رہیں گے تحقیق میں بری اور بےزار ہوں اس سے کہ تم نے پہلے دنیا میں مجھے اللہ کا شریک قرار دیا میں اللہ کا شریک نہیں مطلب یہ ہے کہ تم جو دنیا میں اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے آج میں تمہارے اس اعتقاد سے بری اور بےزاد ہوں میرا تم سے کوئی تعلق نہیں بیشک جو ظالم یعنی مشرک ہیں ان کے لیے آخرت میں دردناک عذاب ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ آیات کے ظاہر سیاق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس کا یہ خطبہ کافروں کے جہنم میں داخل ہونے کے بعد ہوگا لیکن بعض احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ میدان حشر میں فیصلہ ہوجانے کے بعد اور اہل ایمان کے جنت میں جانے اور کافروں کے دوزخ میں داخل ہونے سے پہلے ہوگا اور وہ حدیث یہ ہے کہ عقبہ بن عامر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو جمع کرکے فیصلہ کر دے گا اور خدا کے رسول ﷺ شفاعت سے فارغ ہوجائیں گے تو کفار کہیں گے کہ مومنوں نے تو اپنا شفیع پا لیا یعنی آنحضرت ﷺ کو پالیا جو ان کے لیے بارگاہ خداوندی میں شفاعت کریں گے کاش ہمارا کوئی سفارشی ہوجاتا کفار کہیں گے سوائے ابلیس کے کون ہے جو ہماری سفارش کرے جس نے ہم کو گمراہ کیا پس کفار جمع ہو کر ابلیس کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم ہمارے پیشوا ہو تم ہمارے واسطے اٹھو کیونکہ تمہیں نے ہم کو یہ راہ بتلائی تھی پس وہ اپنے مقام سے اٹھے گا اور اس کی مجلس سے ایسی سخت بدبو اٹھے گی جو کسی نے اس سے پہلے نہ سونگھی ہوگی اور پھر گریہ زاری اور چیخ و پکار بلند ہوگی اس وقت شیطان اٹھے گا اور یہ کہے گا ان اللہ وعدکم وعد الحق اور اس طرح ان سے اپنی بیزاری ظاہر کرے گا ابلیس کے اس خطبہ سے کفار کی کمر ٹوٹ جائے گی اور دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے۔ (دیکھو تفسیر قرطبی ص 256 جلد 9 و تفسیر ابن کثیر ص 529 جلد 2)
Ayah 14:23

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کئے وہ بہشتوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں انکی صاحب سلامت سلام ہوگا۔

اہل سعادت کے حال اور مآل کا ذکر وادخل الذین امنوا .... الیٰ .... تحیتھم فیہا سلام۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں اشقیاء کا حال اور مآل بیان کیا اب اہل سعادت کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے وہ ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے درختوں اور مکانوں کے نیچے نہریں جارہی ہوں گے اور وہ ان میں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں ان کی آپس کی دعاء ملاقات سلام ہوگی جس سے اس امر کا اظہار مطلوب ہوگا کہ وہ ہمیشہ ہر آفت سے سلامت رہیں گے۔