14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 14:24–27

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (اور ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں۔

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا (اور میوے دیتا) ہو اور خدا لوگوں کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے (نہ جڑ مستحکم نہ شاخیں بلند) زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے اسکو ذرا بھی قرار (وثبات) نہیں۔

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

خدا مومنوں (کے دلوں) کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی (رکھے گا) اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کردیتا ہے۔ اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

مثال کلمہ ایمان و کلمہ کفر، و ذکر سوال قبر قال اللہ تعالیٰ : الم ترکیف ضرب اللہ مثلا کلمۃ طیبۃ .... الیٰ .... ویفعل اللہ ما یشاء۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کافروں اور مومنوں کے اخروی نتائج کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں کلمہ ایمان اور کلمہ کفر کی مثال بیان فرماتے ہیں اور عالم برزخ میں اس کا اثر اور ثمر بیان کرتے ہیں تاکہ کلمہ توحید کی فضیلت اور کلمہ کفر کی قباحت ظاہر ہو۔ اس آیت میں کلمہ طیبہ سے کلمہ لا الہ الا اللہ مراد ہے۔ جیسا کہ حدیث میں اس کی تصریح ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اس کے تابع ہے وہ بھی مراد ہے کیوں کہ ملزوم کے ساتھ لوازم کا ہونا ضروری ہے مگر چونکہ اہل ایمان اس امت سے پہلے بھی گزرے ہیں جو ایمان اور فضائل ایمان میں ان کے ساتھ شریک ہیں سب لا الہ الا اللہ کہتے تھے مگر لا الہ الا اللہ کا قرین ہر امت میں بدلتا رہا ہے کوئی لا الہ الا اللہ کے ساتھ نوح نبی اللہ کہتا تھا کوئی ابراہیم خلیل اللہ کہتا تھا اور کوئی موسیٰ کلیم اللہ کہتا تھا اور کوئی عیسیٰ روح اللہ کہتا تھا اور ہم محمد رسول اللہ کہتے ہیں۔ غرض یہ کہ کلمہ رسالت جملہ متبدلہ ہے ہر امت میں بدلتا رہا ہے اور کلمہ لا الہ الا اللہ غیر متبدل ہے جس میں تمام اہل ایمان واہل ملل وادیان مشترک ہیں اس لیے اکثر احادیث میں لا الہ الا اللہ پر اکتفا کیا گیا باقی مراد وہی پورا کلمہ ہے یعنی مع اپنی قرین اور لازم کے مراد ہے لا الہ الا اللہ تو سب میں مشترک ہے مگر لا الہ الا اللہ کا قرین ہر امت مسلمہ کا الگ الگ ہے اور چونکہ اصل کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ ہے اور محمد رسول اللہ اس کا قرین ہے اس لیے حضرات صوفیہ جب ذکر کی تلقین کرتے ہیں تو یہ فرماتے ہیں کہ لا الہ الا اللہ کا ذکر مثلا ان کی مقدار میں کیا کرو اور کبھی کبھی محمد رسول اللہ بھی کہہ لیا کرو تاکہ تابع اور متبوح کا فرق اور حق ادا ہوجائے اور وجہ یہ ہے کہ ذکر تو اللہ کا حق ہے اور نبی کا حق درود ہے جس کا قرآن میں حکم آیا ہے لہٰذا لا الہ الا اللہ تو ذکر ہے اور محمد رسول اللہ کلمہ تجدید ایمان کے لیے ہے اب آیت کی تفسیر پڑھئے۔ کیا نہیں دیکھا تو نے اے سیکھنے والے ؟ اور کیا نہیں جانا تو نے اے جاننے والے ؟ کہ اللہ نے کلمہ توحید اور کلمہ شرک کی کیسی عجیب اور عمدہ مثال بیان کی ہے کلمہ طیبہ یعنی کلمہ توحید و اسلام ایک نہایت ہی پاکیزہ درخت کے مشابہ ہے جس کا پھل نہایت درجہ لذیذ اور مفید ہے شجرہ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو اپنے بیشمار منافع کی وجہ سے اطیب الاشجار ہے اور وہ پاکیزہ درخت ایسا ہے کہ اس کی جڑ مضبوط ہے یعنی اس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے پس مومن کا قلب بمنزلہ زمین کے ہے اور ایمان اور اعتقاد توحید جو اس میں راسخ ہے وہ کلمہ ایمان کی جڑ ہے اور اعمال صالحہ اس شجرہ طیبہ کی شاخیں ہیں جو آسمان قبولیت تک پہنچ رہی ہیں اور اس معتقد کے لیے بلندی اور رفعت کا سبب بن رہی ہیں اور انہی اعمال صالحہ کو حدیث میں ایمان کے شعبوں سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ پاکیزہ درخت ہر وقت اپنے پروردگار کے حکم سے پھل دیتا رہتا ہے یعنی دن رات ہر موسم میں قسم قسم کے پھل دیتا رہتا ہے کبھی اس کا پھل منقطع نہیں ہوتا اسی طرح مومن کا عمل ہے کہ آسمان پر چڑھتا ہے یعنی قبول ہوتا ہے اور اس کی برکتیں ہر وقت حاصل ہوتی رہتی ہیں۔ اور اس کا ثواب کبھی منقطع نہیں ہوتا اس کا ثواب ہر وقت مومن کو پہنچتا ہے اس ناچیز کا گمان یہ ہے کہ اصلہا ثابت سے ایمان کی طرف اشارہ ہے اور فرعھا فی السماء سے سلام کی طرف اشارہ ہے اور تؤتی اکلہا کل حین سے مقام احسان اور اخلاص کی طرف اشارہ ہے یعنی ان انوار و برکات کی طرف اشارہ ہے جو صدق ایمان اور اعمال صالحہ سے حاصل ہوتے ہیں یہ انواروبرکات شجرہ ایمان کے ثمرات طیبہ ہیں جو عالم غیب سے ہر وقت اس کو پہنچتے رہتے ہیں اور عجب نہیں کہ تأتی اکلہا سے وہ فواکہ اور ثمرات مراد ہیں جو جنت میں اعمال صالحہ پر مرتب ہوں گے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ غراسھا الجنۃ یا تؤتی الکلہا سے قرب خداوندی اور رضائے الٰہی کے ثمرات مراد لیے جائیں جو دائمی ہیں اور انقطاع کا ان میں احتمال نہیں اور اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو سمجھانے کے لئے مثالیں بیان کی ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں کیونکہ مثال امر متصور کو محسوس کے قریب بنا دیتی ہے اور صورت کے آئینہ میں معنی کا سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ یہ تو کلمہ طیبہ کی مثال ہوتی جو عقل کا درخت ہے اب آگے کلمہ خبیشہ کی مثال بیان فرماتے ہیں کو نفسانی شہوات و لذات کا خبیث اور گندہ اور بدبو دار درخت ہے اور کلمہ خبیثہ یعنی کلمہ کفر کی مثال ایسی ہے جیسے ایک نہایت خراب اور گندہ درخت ہو اور ایسا کمزور ہو کہ وہ ذرا سی حرکت میں زمین کے اوپر سے اکھاڑ لیا جائے اور اس کے لیے زمین میں کچھ قرار اور ثبات نہیں اس لیے شاخوں اور پھلوں کا ذکر تو فضول ہے کلمہ کفر کو شجرہ خبیثہ کے ساتھ تشبیہ دینے میں اشارہ اس طرف ہے کہ کفر کا وجود تو ہے مگر معتدبہ اور پائیدار وجود نہیں اس لیے کہ کفر کا دعویٰ کسی صحیح دلیل سے ثابت نہیں۔ دعویٰ بےدلیل ہے اس کی کوئی جڑ اور بنیاد نہیں اسی وجہ سے اس کی شاخوں اور پھلوں کا ذکر نہیں فرمایا کفار کا کوئی عقیدہ دینا میں مضبوط دلیل سے قایم نہیں تھوڑا سا دھیان کرنے سے غلط معلوم ہونے لگتا ہے عجب نہیں کہ اشارہ اس طرف ہو کہ کافر کا کوئی عمل معتبر نہیں اس لیے کہ اس کی کوئی بنیاد نہیں اور نہ اس پر کوئی اخروی ثمرہ مرتب ہوگا۔ نہ بیخ کزاں باشد اور امدار نہ شاخ کہ گردو بداں سایہ دار گیا ہیست افتادہ بر روئے خاک پریشان و بےحاصل و خور ناک کافروں کے دعوے کی کوئی جڑ نہیں ہوتی ذرا دھیان کرو تو اس کا غلط ہونا معلوم ہوجائے گا اور یہی وجہ ہے کہ اس کے دل میں کوئی نور پیدا نہیں ہوتا اور نہ دل کو سکون اور اطمینان ہوتا ہے۔ خلاصہ کلام : یہ کہ پہلی آیت میں کلمہ طیبہ کو شجرہ طیبہ یعنی پاکیزہ درخت سے تشبیہ دی ہے جس میں یہ چار وصف پائے جائیں۔ (1) پاکیزہ ہو، یعنی دیکھنے میں خوبصورت اور خوشبودار اور خوش مزہ ہو اس کا پھل شیریں اور لذیز ہو۔ (2) جڑ اس کی مضبوط ہو اکھڑنے اور گرنے سے بالکل محفوظ ہو۔ (3) شاخیں اس کی اونچائی میں آسمان کو جا رہی ہوں یعنی بہت بلند ہوں اور ظاہر ہے کہ درخت جس قدر زیادہ لمبا ہوگا اسی قدر اس کا پھل بھی پاکیزہ اور لذیز ہوگا اور زمین کی کدورتوں سے محفوظ ہوگا اور زیادہ بھی ہوگا۔ (4) ہر وقت وہ پھل دیتا ہو اس کے پھل کے لیے کوئی زمانہ خاص نہ ہو کہ اس زمانہ کے سوا کسی دوسرے وقت میں اس کو پھل نہ آتا ہو جو درخت ان صفات کے ساتھ موصوف ہوگا وہ نہایت عمدہ درخت ہوگا اور ہر عاقل اس کے حصول کی کوشش کرے گا۔ پس یہی حال شجرہ ایمان و اسلام کا ہے کہ وہ دیکھنے میں اور سونگھنے میں نہایت پاکیزہ ہے اس درخت کے اصول و فروع کو دیکھ کر آدمی حیران اور ششدر رہ جاتا ہے کہ مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کا عجیب پاکیزہ درخت ہے۔ اور اس کی جڑ نہایت مضبوط ہے کہ جو اللہ کی معرفت اور محبت اور دلائل عقل و فطرت پر قائم ہے اسی وجہ سے دین اسلام مومن کے دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔ اور پھر اس اعتقاد جازم سے جو اعمال صالحہ کی شاخیں نکلتی ہیں وہ آسمان قبول تک پہنچ جاتی ہیں کما قال اللہ تعالیٰ : الیہ یععد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ وقال النبی ﷺ الایمان بضع وسبعون شعبۃ اور شعبہ اصل میں درخت کی شاخ کو کہتے ہیں۔ اور مومن اس پاکیزہ درخت کے ثمرات طیبہ اور انوار الٰہیہ اور برکات ربانیہ سے ہر وقت بہرہ ور اور لذت اندوز ہوتا رہتا ہے شجرہ ایمان کے ثمرات کبھی منقطع نہیں ہوتے۔ لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ۔ لہٰذا عاقل کو چاہئے کہ ایسے درخت کے حاصل کرنے سے غفلت نہ برتے جو ہر وقت پھل دیتا رہتا ہے اور حصول کے بعد اس کی آبیاری اور خبر گیری سے غافل نہ ہو ایسے درخت کا میسر آنا نعمت عظمیٰ ہے اور باذن ربھا میں اشارہ اس طرف ہے کہ ان ثمرات و برکات کا حصول خدا تعالیٰ کے حکم پر موقوف ہے یہ کلمہ طیبہ کی مثال کا بیان ہوا۔ اور اس کے برخلاف کلمہ خبیثہ یعنی کلمہ کفر اس خبیث اور گندہ درخت کے مشابہ ہے جس میں یہ تین باتیں پائی جائیں۔ (1) برا اور گندہ ہو یعنی بدصورت اور بدبودار اور بدمزہ ہودینی اور دنیوی، روحانی اور جسمانی مضر توں کا حامل ہو اور طرح طرح کی خباثتوں اور کر اہتوں کو اپنے اندرلیے ہوئے ہو جس کی وجہ سے وہ غایت درجہ قابل نفرت ہو۔ (2) جڑ اس کی مضبوط نہ ہو زمین کے اوپر ہی رکھی ہوئی ہو ذرا سی ہوا تیز چلے یا کوئی حرکت دے تو گر پڑے۔ (3) اس کو مضبوطی نہ ہو یعنی بہت کمزور درخت ہو جس کو ثبات اور قرار نہ ہو یہی حال ملت کفر کا ہے کہ ایک خبیث درخت کی طرح ملت کفر بد صورت اور بدبودار اور بدمزہ ہے اس لیے کہ شجرہ کفر بےحیا ئیوں اور بےغیرتیوں اور طرح طرح کی بد اخلاقیوں اور قسم قسم کی بد اعمالیوں کا ایک گندہ درخت ہے جس کا پھل سوائے شقاوت اور خسران کے کچھ نہیں امریکہ اور برطانیہ اسی قسم کے اشجار خبیثہ کے جنگل اور دنگل ہیں اور اس شجرہ کفر کی کوئی جڑ اور بنیاد نہیں ہوا کے ایک جھٹکے میں اکھڑ کر گر پڑتا ہے یہ درخت صرف نفسانی شہوتوں اور لذتوں پر قائم ہے جو سراسر عقل اور فطرت اور غیرت کے خلاف ہے کفر و شرک کے جس قدر اصول و فروع ہیں وہ سب باطل و بےبنیاد ہیں جن کے لئے دلیل اور برہان نہیں حجتھم داحضۃ اکثر مفسرین کا قول ہے کہ شجرہ خبیثہ سے اندراین کا درخت مراد ہے جس کا پھل نہایت زہریلا اور کڑوا ہوتا ہے اور نہایت بدبودار ہوتا ہے اور اس کی جڑ پھیلی ہوئی ہوتی ہے اس کو ثبات اور استحکام نہیں ہوتا بآسانی زمین کے اوپر سے اکھاڑا جاسکتا ہے کفر کا یہ خبیث درخت عقل اور فطرت کے جھونکے سے اکھڑ کر گر جاتا ہے اسی لیے مثل مشہور ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے یعنی جھوٹ سچ کی طرح اپنے پاؤں سے نہیں چلتا بلکہ زن اور زد کے زور سے چلتا ہے (جیسا کہ نصرانی مذہب) مگر دل میں نہیں اترتا اس کی جڑ نہیں ہوتی یعنی دل اس سے مطمئن نہیں (جیسا کہ نصرانیوں کی تثلیث فی التوحید اور مسئلہ کفارہ) جس کو شہوت پرست ان اور زر کے طمع سے محض زبان سے مان لیتے ہیں مگر دل میں نہیں اترنا کسی بڑے سے بڑے پادری کا دل مسئلہ تثلیث پر مطمئن نہیں۔ غرض یہ کہ کفر کی نہ تو کوئی اصل اور بنیاد ہے اور نہ کافر کے پاس اپنے کفر اور شرک کی کوئی دلیل اور برہان ہے اور نہ اس شجرہ کفر کی کوئی فرع اور شاخ ہے اور نہ کفر کا کوئی عمل اوپر چڑھتا ہے اور نہ کوئی شئے اس کی قبول ہے اور ایسے خبیث اور گندے درخت کے پھل کا کیا تصور ہوسکتا ہے اور اتنا کمزور ہے کہ دلائل کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ ایسے بدمزہ اور زہریلے اور بدبودار اور قابل نفرت درخت سے احتراز کریں اور ایسے پاکیزہ درخت کے حاصل کرنے کی کوشش کریں جو پاکیزہ اور خوشبودار ہو اور اس کی جڑ مضبوط اور مستحکم ہو وہ شجرہ اسلام ہے جو غایت درجہ معقول اور نہایت درجہ مستحکم ہے۔ اور حدیث میں جو شجرہ طیبہ کی تفسیر کھجور کے درخت سے اور شجرہ خبیثہ کی تفسیر منظل اور کثوث کے درخت سے آئی ہے وہ بطور تمثیل ہے نہ کہ بطور تخصیص، اور مقصود یہ ہے کہ کلمہ طیبہ ایک شجرہ طیبہ کے مشابہ ہے کہ اوصاف مذکورہ کا جامع ہو خواہ وہ کھجور کا درخت ہو یا اور کوئی پاکیزہ درخت ہو اور شجرہ خبیثہ سے بھی کوئی معین درخت مراد نہیں جو خبیث اور گندہ اور بدبودار اور بدمزہ ہو وہ سب شجرہ خبیثہ کے عموم میں داخل ہے۔ اس لیے زجاج (رح) کہتے ہیں کہ کفر اور ضلالت کا کوئی فرقہ لہسن کے درخت کے مشابہ ہے اور کوئی کانٹوں کے جھاڑ کے مشابہ ہے اور کوئی کسی کے اور کوئی کسی کے یہ تو اہل سنت والجماعت کی تفسیر ہوئی اور حضرات شیعہ یہ کہتے ہیں کہ شجرہ طیبہ سے آنحضرت ﷺ حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ اور امام حسن ؓ اور امام حسین ؓ مراد ہیں اور شجرہ خبیثہ سے بنی امیہ مراد ہیں (دیکھو روح المعانی ص 192 جلد 13) یہاں تک کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کی مثال بیان فرمائی اب آئندہ آیت میں ہر ایک کے اثر اور ثمر کو بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو اس پکی بات کی برکت سے یعنی کلمہ طیبہ کی برکت سے جس کی جڑ مضبوط ہے دونوں جگہوں میں یعنی دنیا اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے دنیا میں تو اس طرح کہ مومن کلمہ طیبہ کی برکت سے شیاطین الانس والجن کے اغواء سے محفوظ رہتا ہے اور اصحاب اخدود کی طرح جب کفار کی طرف سے کوئی فتنہ اور ابتلا پیش آتا ہے تو بتوفیق خداوندی ایمان پر ثابت قدم رہتا ہے اور جادہ توحید سے اس کا قدم نہیں پھسلتا اور کوئی فتنہ پیش آئے تو اس کے پائے استقامت میں تزلزل نہیں آتا اور اسی طرح مرنے تک ایمان پر قائم رہتا ہے اور اسی کلمہ پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور آخرت میں اس طرح کہ قبر میں جو آخرت کی پہلی منزل ہے نکیرین کے سوالات کا صحیح جواب دیتا ہے اور قیامت کے ہوشربا دن حساب و کتاب کے وقت اس کو کوئی اندیشہ نہیں غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ مومنین کو دنیا اور آخرت میں حق پر مضبوط اور ثابت قدم رکھتا ہے غرض یہ کہ فی الآخرۃ سے قبر اور عالم برزخ مراد ہے جیسا کہ احادیث مرفوعہ اوراقوال صحابہ سے ثابت ہے کہ فی الآخرۃ سے قبر اور عالم برزخ مراد ہے جیسا کہ احادیث مرفوعہ اوراقول صحابہ سے ثابت ہے کہ فی الآخرۃ سے قبر مراد ہے جو آخرت کی پہلی منزل ہے جہاں حق تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو جواب کی تلقین اور حق اور ثواب پر تمکین عطا فرماتا ہے اور امتحان قبر میں اس کو ثابت قدم رکھتا ہے اور لفظ یثبت اللہ (اللہ ثابت قدم رکھتا ہے) میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ ثبات اور استقامت اللہ کی توفیق اور تثبیت اور اس کے فضل و عنایت سے ہے اگر اللہ کی تثبیت اور تائید نہ ہو تو مومن کے ایمان کے آسمان اور زمین اپنی جگہ سے ہٹ جائیں کما قال اللہ تعالیٰ ولولا ان ربتنک لقد کدت ترکن الیہم شیئا قلیلا، وقال اللہ تعالیٰ نقص علیک من انباء الرسل ما نثبت بہ فوادک۔ وقال اللہ تعالیٰ اذ یوحی ربک الی الملئکۃ انی معکم فثبتوا الذین امنوا۔ : آیت میں قول حق اور قول صدق مراد ہے جو قول باطل اور قول کاذب کی نقیض ہے اور قول ثابت کا اولین مصداق کلمہ ایمان اور اس کے لوازم ہیں یہ تو کلمہ طیبہ کے اثر کا بیان تھا۔ اب آگے کلمہ خبیثہ کے اثر کو بیان کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کلمہ خبیثہ کی نحوست سے ظالموں کو یعنی کافروں کو جنہوں نے کفر کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا دنیا اور آخرت دونوں جگہوں میں بچلا دیتے ہیں دنیا میں تو ان کا بچلنا ظاہر ہے کہ حق اور صدق سے منحرف رہے اور آخرت بچلنا یہ ہے کہ قبر میں جو آخرت کی پہلی منزل ہے ان سے نکیرین کے سوال کا جواب نہ بن پڑے گا بلکہ حیرت زدہ ہو کر یہ کہیں گے ہاہ۔۔۔۔ ہاہ۔۔۔ لا ادری افسوس افسوس میں کچھ نہیں جانتا جو اور لوگ کہتے تھے وہی میں بھی کہہ دیتا تھا جو سنا وہی کہہ دیا اس پر فرشتے اس کے گرر ماریں گے اور کہیں گے لا دریت ولا تلیت کہ نہ تو نے خود سمجھا اور نہ کسی سمجھنے والے کا اتباع کیا اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کی دو قسمیں ہیں ایک۔ ایک تحقیقی اور ایک تقلیدی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان تحقیقی کی طرح ایمان تقلیدی بھی معتبر ہے جیسے بعض عوام کو ایمان کی پوری حقیقت معلوم نہیں ہوتی صرف اتنا جانتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور دین ہمارا سلام ہے یہ ایمان تقلیدی ہے اور عند اللہ یہ بھی معتبر ہے یہاں بظاہر یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ ہی ثابت قدم رکھتے ہیں اور وہی بچلاتے ہیں تو پھر بچلنے والے پر کیا الزام اس کا ایک جواب تو لفظ یضل اللہ الظلمین سے ہوگیا کہ انہوں نے ظلم کیا تھا اس کی نحوست سے بچل گئے یہ حکیمانہ جواب ہے اب آگے حاکمانہ جواب ارشاد فرماتے ہیں۔ ویفعل اللہ ما یشاء۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں وہ جس کو چاہے ہدایت دے اور ثابت قدم رکھے اور جس کو چاہے ہدایت دے اور ثابت قدم رکھے اور جس کو چاہے گمراہ کرے اور بچلائے اس کی بارگاہ میں یہ سوال نہیں ہوسکتا کہ مومنوں کو کیوں ثابت قدم رکھا اور ظالموں کو کیوں بچلایا اور گمراہ کیا وہ علیم و حکیم ہے وہ اپنی حکمت و مشیت سے جس کے ساتھ جو مناسب ہوتا ہے وہی معاملہ کرتا ہے۔ (1): یثبت اللہ الذین امنوا۔ یہ جملہ شجرہ طیبہ کی مثال سے متعلق ہے اور ویضل اللہ الظلمین کلمہ خبیثہ کی مثال سے متعلق ہے اور ویفعل اللہ ما یشاء دونوں سے متعلق ہے واللہ یحکم لا معقب لحکمہ۔ ایک شبہ : یہاں ایک اشکال یہ ہے کہ سورت مکی ہے اور حدیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو عذاب قبر کا علم مدینہ منورہ میں ہوا لہٰذا یہ ہوتا تو مکہ ہی میں حضور ﷺ کو اس کا علم ہوجاتا۔ جواب : اس اشکال کا ایک جواب تو یہ ہے کہ اس سورت کی اس خاص آیت کو مدنی مانا جائے مگر یہ کہیں ثابت اور منقول نہیں دوسرا جواب یہ ہے کہ آیت میں لفظ فی الاخرۃ وارد ہوا ہے اور آخرت دو ہیں اور ایک مجازی اور آیت میں لفظ آخرت دونوں کو شامل ہے اور اپنے عموم کی وجہ سے دونوں کو متناول ہے اور حضور پرنور ﷺ کو تثبیت اور اضلال کا دوسرا جز یعنی تثبیت اور اضلال فی القبریہ مدینہ منورہ میں منکشف ہوا خلاصہ یہ کہ تثبیت اور اضلال فی الآخرۃ کا وہ حصہ جو قیامت سے متعلق تھا ظاہر اور متبادر ہونے کی وجہ سے مکہ ہی میں منکشف ہوگیا اور دوسرا جز یعنی عذاب قبر اور نعیم قبر یہ مدینہ میں منکشف ہوا پس آیت کے مکی ہونے میں اور آیت کے عذاب قبر کے باعے میں نازل ہونے میں کوئی تنافی نہیں رہی۔ (2): آیت میں مومن صالح اور کافر کے ثواب اور عذاب قبر کا ذکر ہے مومن فاسق کا صراحتا کوئی ذکر نہیں اب یا تو قیاس کیا جائے کہ جس طرح اس کی حالت بین بین ہے اعتقاد میں مومن کے مشابہ ہے اور عمل میں کافر کے مشابہ ہے اس طرح اس کے ساتھ معاملہ بھی بین بین ہوگا۔ (ھذا کلمہ ملحض من الثبیت بمراقبۃ التبییت وغط نمبر 122 از سلسلہ تبلیغ) یہ ناچیز کہتا ہے کہ شاید گناہ گار مومن کے ذکر سے اس لیے سکوت کیا گیا کہ اس کا معاملہ مشیت خداوندی میں مستور ہے کما قال تعالیٰ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک من یشاء۔ (3): جب مردہ قبر میں دفن کردیا جاتا ہے تو اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جو سیاہ رنگ اور نیلی آنکھوں والے ہوتے ہیں ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہتے ہیں اور اس سے سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے اور تیرا دین کیا ہے اور اس شخص (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں تو کیا کہتا ہے سوال کے ان دو فرشتوں میں سے ایک کا نام منکر بفتح کاف بصیغہ اسم مفعول ہے اور دوسرے کا نام نکیر بر وزن فصیل ہے چوں کہ ان کی صورت اور شکل بالکل اوپری ہے نہ تو آدمیوں کے مشابہ ہے اور نہ فرشتوں کے اور نہ حیوانوں کے بالکل نئی مخلوق ہے اس لیے ان فرشتوں کا نام منکر اور نکیر ہے۔ اہل سنت والجماعت کے اجتماعی عقیدوں میں ایک عقیدہ یہ ہے کہ قبر (یعنی عالم برزخ) میں مومن و کافر سب سے سوال ہوگا اور کافر اور فاسق کو عذاب ہوگا قبر سے مراد برزخ ہے جو دنیا اور آخرت کے درمیان واسطہ ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے کیونکہ یہ امر فی نفسہٖ ممکن ہے اور نصوص شریعت سے باجماع امت ثابت ہے اور سوال و جواب کے معنی سمجھنے اور سمجھانے کے ہیں خواہ وہ آواز سے ہوں یا غیر آواز سے ہوں اور سمجھنے کے لیے مطلق زندگی کا ہونا ضروری ہے جو انسان کے کسی جز سے متعلق ہوسکتی ہے لہٰذا منکرین کا یہ کہنا کہ ہم میت کو دیکھتے ہیں مگر منکر نکیر کو نہیں دیکھتے اور نہ ہی میت کی اور ان کی گفتگو کو سنتے ہیں اور نہ میت کے بدن پر کوئی علامت عذاب کی دیکھتے ہیں اور نہ میت کے بدن میں کسی قسم کی جنبش یا کوئی اور علامت ہی دیکھنے میں آتی ہے منکرین کا یہ قول صحیح نہیں منکرین کے اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ وہ عالم ہی دوسرا ہے اس عالم کے احوال کے مشاہدے کے لیے اس عالم کی آنکھیں چاہئیں آنحضرت ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی اور آنحضرت ﷺ جبریل امین (علیہ السلام) کا کلام سنتے تھے اور جبرئیل (علیہ السلام) کو دیکھتے تھے مگر حاضرین میں یہ استعداد نہ تھی کہ وہ جبرئیل (علیہ السلام) کو دیکھ سکیں اور ان کا کلام سن سکیں۔ بسا اوقات انسان کو خواب میں شدید الم لاحق ہوتا ہے اور کبھی اس کو مسرت لاحق ہوتی ہے مگر پاس والے آدمیوں کو یہ بات محسوس نہیں ہوتی اور خواب دیکھنے والا یہی سمجھتا ہے کہ میں بیداری کی حالت میں یہ چیزیں دیکھ رہا ہوں حالانکہ وہ واقع میں سویا ہوا ہے اور اگر کوئی شخص اپنا خواب بیان کرے تو اس سے دلیل عقلی کا مطالبہ نہیں ہوسکتا بعینہٖ یہی کیفیت منکر نکیر کے سوال کی ہے مردہ ان کا کلام سنتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے مگر پاس کے لوگوں کو اس کی مطلق خبر نہیں ہوتی ابھی سمجھ میں نہیں آتا جب مرو گے معلوم ہوجائے گا حیرت کا مقام ہے کہ لوگ منکر نکیر اور میت کے سوال و جواب کا انکار کرتے ہیں اور یہ خیال نہیں کرتے کہ ایک سمیع وبصیر انسان کا ایک قطرہ آب سے پیدا ہوجانا اور اس سے ہزاروں درجہ عجیب و غریب ہے مگر چونکہ روزمرہ اس کا مشاہدہ کرتے ہیں اس لیے اس کے انکار پر قدرت نہیں اور جس امر ممکن کی قرآن اور حدیث نے خبر دی ہو مگر ان سائنس دانوں کی آنکھوں نے اس کا مشاہدہ نہ کیا تو بےدھڑک اس کا انکار کر بیٹھتے ہیں گویا کہ ان کی آنکھوں نے جس چیز کو دیکھا نہ ہو وہ ناممکن اور محال ہے نابینا کو یہ حق نہیں کہ وہ بینا کے مشاہدہ کا انکار کردے۔ خلاصہ تفسیر آیت مذکورہ : حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ فرماتے ہیں حق جل شانہ نے اس آیت میں ایک خاص اسلوب سے ایمان و کفر کے فرق کو بتلایا ہے وہ یہ کہ دین اسلام کی مثال ایک نہایت عمدہ و شیریں و نہایت نفع بخش پھل دار درخت جیسی ہے جو عالم ملکوت سے اتار کر مکہ میں نصیب کیا گیا جو بوجہ علوو رفعت یہ کہلانے کا مستحق ہے کہ اس کی جڑ زمین میں قائم ہوتی اور پھر اس کی جڑیں اور شاخیں پھوٹنی شروع ہوئیں اور اطراف عالم میں پھیلتی گئیں اور کلمہ ناپاک کی مثال ایک ناپاک و خراب درخت جیسی ہے جسے لوگ بوجہ گندگی کے اکھاڑ کر پھینک دیتے ہیں اور وہ سرسبز نہیں ہونے پاتا اسی طرح جو کفر و شرک عالم میں پھیلا ہوا تھا اسلام نے اسے مٹایا اور مٹاتا رہا اس تمثیل کے بعد اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کا حال بیان فرمایا ایک گروہ وہ تھا جو اعلاء کلمہ حق میں ساعی و کوشاں تھا۔ اور دوسرا گروہ وہ تھا، جو کفر کا پیشوا تھا اور کفر اور شرک کی ترویج میں ساعی و کوشاں تھا گروہ اول کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انہیں دین اسلام پر ثابت قدم رکھے گا اور آخرت میں ان کے درجات بلند کرے گا اور دوسرے گروہ کی جس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت یعنی دین حق کو کفر اور ضلالت سے تبدیل کر رکھا تھا مذمت کی اور آخرت میں ان کا برا ٹھکانا قراردیا گروہ اول کے مصداق اولین، مہاجرین ہیں جن کے سردفتر ابوبکر صدیق ؓ تھے جن کی وجہ سے دین اسلام نے رواج پایا اور گروہ ثانی جہلائے قریش تھا اس گروہ کا سردفتر ابوجہل تھا گروہ اول کے بالمقابل گروہ ثانی والے ذلیل و خوار اور گرفتار مصیبت و بلا ہوئے اور آیت میں جس تثبیت کا ذکر ہے اس سے توفیق الٰہی مراد ہے جو بندہ کو قبر میں عطا کی جاتی ہے اور جس وقت منکر نکیر اس سے آکر سوال کرتے ہیں تو وہ بتوفیق الٰہی راست جواب دیتا ہے (ازالۃ الخفاء) ۔
Ayahs 14:28–34

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا۔ اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا ؟

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

(وہ گھر) دوزخ ہے۔ (سب ناشکرے) اس میں داخل ہونگے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کئے کہ (لوگوں کو) اسکے راستے سے گمراہ کریں۔ کہہ دو کہ (چند روز) فائدے اٹھالو آخر تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ نماز پڑھا کریں اور اس دن کے آنے سے پیشتر جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہوگا اور نہ دوستی (کام آئے گی) ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے درپردہ اور ظاہر خرچ کرتے رہیں۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے مینہ برسایا۔ پھر اس سے تمہارے کھانے کے لئے پھل پیدا کئے۔ اور کشتیوں ( اور جہازوں) کو تمہارے زیر فرمان کیا تاکہ دریا (اور سمندر) میں اسکے حکم سے چلیں۔ اور نہروں کو بھی تمہارے زیرفرمان کیا۔

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور سورج اور چاند کو تمہارے لئے کام میں لگا دیا کہ دونوں (دن رات) ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ اور رات اور دن کو بھی تمہاری خاطر کام میں لگا دیا۔

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سے تم کو عنایت کیا۔ اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو۔ (مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے۔

مذمت کفار و مشرکین و مدح مومنین صالحین قال اللہ تعالیٰ الم تر الی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا .... الیٰ .... ان الانسان لظلوم کفار یہ آیت کفار مکہ کے حق میں نازل ہوئی جن پر اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کے انعامات کیے اور ان کی ہدایت کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث کیا جنہوں نے شجرہ طیبہ کی دعوت دی اور شجرہ خبیثہ کی مضرتوں سے آگاہ فرمایا مگر ان لوگوں نے اس نعمت کی ناشکری کا اور بجائے اس کے کہ منعم حقیقی کی شکر گزاری اور اطاعت شعاری کرتے اس کی ناشکری پر کمر بستہ ہوگئے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قل لعبادی الذین امنوا میں اپنے خاص بندوں کو مراہم عبودیت بجا لانے کی تلقین فرمائی کہ تم اپنے منعم حقیقی کی اطاعت اور عبادت میں لگے رہو اور ان کفار ناہنجار کی طرح ناشکرے نہ بنو کیا اے دیکھنے والے تو نے ان ظالموں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے احسان کو ناشکری سے بدل ڈالا کہ اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے ایک رسول ﷺ کو مبعوث فرمایا جس نے ان کو شجرہ طیبہ کی دعوت دی اور شجرہ خبیثہ کو اختیار کیا خود بھی تباہ ہوئے اور اپنی قوم کو بھی تباہی کے گھر میں جا اتارا۔ یعنی شجرہ طیبہ کے بدلے شجرہ خبیثہ کھلایا جسے کھا کر وہ جہنم میں داخل ہوں گے اور وہ بہت بری قرار گاہ ہے اور ان ظالموں نے تبدیل نعمت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ منعم کو بھی بدل ڈالا کہ اللہ جو منعم حقیقی تھا اس کے ہم سر بنائے اور اس کے شریک ٹھہرائے تاکہ لوگوں کو خدا کی راہ سے بھٹکا دیں اے نبی ﷺ ! آپ ان سے یہ کہہ دیجئے کہ اچھا چند روز فائدہ اٹھا لو اور دنیا میں خوب مزے اڑا لو۔ پس تمہارا آخری ٹھکانہ جہنم ہے۔ یہ تہدید اور وعید ہے اور یہ ایسا ہے جیسے کوئی طبیب کسی بدپرہیز سے کہے کل ما شئت فانہ جاءک الموت (اچھا تو جو چاہے کھا تیرا انجام موت اور ہلاکت ہے) کفار و فجار کی اس تہدید و وعید کے بعد اپنے خاص بندوں کو ہدایت فرماتے ہیں اے نبی آپ میرے بندوں سے کہہ دیجئے جو میرے خاص بندے ہیں درہم و دینا کے بندے نہیں جو مجھ پر ایمان لائے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ دنیا فانی ہے اور چند روزہ ہے ان سے کہہ دیجئے کہ وہ نعمت الٰہی کی شکر گزاری میں لگے رہیں کہ نماز پڑھتے رہیں جو دین کا ستون ہے اور کفرو اسلام کے درمیان فارق ہے اور جو روزی ہم نے ان کو دی ہے اس میں سے کچھ راہ خدا میں خرچ کرتے رہیں پوشیدہ اور ظاہر خدا کی راہ میں خیرات کرنا یہ مالی شکر ہے بہر حال جان اور مال سے اللہ کی نعمت کے شکر میں لگے ہیں ایسے دن کے آنے سے پہلے کہ جس میں نہ خریدو فروخت ہو سکے گی اور نہ کوئی دوستی چل سکے گی یعنی آخرت میں کوئی فدیہ قبول نہ ہوگا اور نہ کسی کی دوستی کام آوے گی اس دن کے آنے سے پہلے جو کچھ کرنا ہے وہ کرلو یہاں تک ان لوگوں کا ذکر تھا جنہوں نے خدا کی نعمت کی ناشکری کی اور اس کے لئے شرکاء تجویز کیے اب آئندہ آیت میں منعم حقیقی کے اوصاف بیان کرتے ہیں کیونکہ سب سے بڑی نعمت منعم حقیقی کی معرفت ہے اور منعم حقیقی کی ذات وصفات کی معرفت ہی سعادت کبریٰ ہے اس لیے آئندہ آیات میں منعم حقیقی کے دس اوصاف بیان کرتے ہیں۔ (1) اللہ پاک وہ ہے جس نے آسمانوں کو پیدا کیا۔ (2) اور زمین کو پیدا کیا اور آسمانوں کو تمہارے لیے چھت بنایا اور زمین کو تمہارے لیے فرش بنایا۔ (3) اور آسمان سے پانی اتارا جو تمہاری زندگی کا سامان ہے کما قال تعالیٰ وجعلنا من الماء کل شیء حتی پھر اس سے تمہارے کھانے کے لیے پھل نکالے۔ (4) اور پھر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے لیے تمہارے لیے کشتیوں کو مسخر کیا تاکہ وہ تم کو اللہ کے حکم سے دریا میں لے کر چلیں جن کے ذریعہ تم تجارت وغیرہ کرسکو۔ (5) اور تمہارے نفع کے لیے نہروں کو مسخر کیا کہ جس طرح چاہو ان سے فائدہ حاصل کرو۔ (6) اور مسخر کیا تمہارے لیے آفتاب کو۔ (7) اور مسخر کیا تمہارے لیے چاند کو کہ دونوں ایک طریقہ پر برابر چلتے ہیں اور دونوں سے تم کو ہزاروں فوائد حاصل ہوتے ہیں کھیتوں اور پھلوں کا پکنا اور حساب وغیرہ کا تعلق انہی دونوں سے ہے۔ (8) اور مسخر کیا تمہارے لیے رات کو تاکہ تم آرام کرو۔ (9) اور مسخر کیا تمہارے لیے دن کو تاکہ تم اپنے کاروبار کرو۔ (10) اور ان کے علاوہ دیا تم کو اس قدر بیشمار ہیں کہ اگر تم ان کو شمار کرنا چاہو تو شمار میں نہیں لاسکتے اگر اپنے اعصاب و ماغیہ میں اور ان کے آثار میں غور کرے کہ ہر ایک میں کیا کیا نعمتیں مضمر ہیں تو شمار نہیں کرسکتا بلکہ ایک ہی لقمہ میں اگر غور کرے کہ کس طرح حلق سے نیچے اترا اور کس طرح خون بنا اور کس طرح پاخانہ بنا تو اس کی حقیقت اور کنہ کو نہیں پہنچ سکتا ہے بیشک انسان بڑا ہی ظالم اور بڑا ہی ناشکرا ہے کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو بےمحل استعمال کرتا ہے نعمت دینے والے کے حق کو نہیں پہچانتا اور نعمت کا شکر تو کیا کرتا بلکہ اس کے ساتھ دشمنی کا معاملہ کرتا ہے آنحضرت ﷺ کا وجود باجود کمال درجہ کی نعمت تھا اس کی دشمنی میں لگے ہوئے ہیں۔
Ayahs 14:35–41

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ میرے پروردگار اس شہر کو (لوگوں کے لئے) امن کی جگہ بنا دے اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ بتوں کی پرستش کرنے لگیں بچائے رکھ۔

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

اے پروردگار انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سو جس شخص نے میرا کہا مانا وہ میرا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے پروردگار ! میں نے اپنی اولاد میدان (مکّہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت (وادب) والے گھر کے پاس لا بسائی ہے۔ اے پروردگار تاکہ یہ نماز پڑھیں۔ تو لوگوں کے دلوں کے ایسا کردیں کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میووں سے روزی دے تاکہ (تیرا) شکر کریں۔

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

اے پروردگار جو بات ہم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہیں تو سب جانتا ہے۔ اور خدا سے کوئی چیز مخفی نہیں (نہ) زمین میں نہ آسمان میں۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

خدا کا شکر ہے جس نے مجھ کو بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے۔ بیشک میرا پروردگار دعا سننے والا ہے۔

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے پروردگار مجھ کو ایسی (توفیق عنایت) کر کہ نماز پڑھتا رہوں۔ اور میری اولاد کو بھی (یہ توفیق بخش) اے پروردگار میری دعا قبول فرما۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ Open ayah 14:41 in the Quran reader

اے پروردگار حساب (کتاب) کے دن مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو مغفرت کیجئیو۔

دعاء ابراہیمی کا ذکر قال اللہ تعالیٰ : واذ قال ابراہیم رب اجعل ھذا البلد امنا .... الیٰ .... یوم یقوم الحساب۔ (ربط) گزشتہ آیات میں توحید و نعم الٰہیہ کا ذکر تھا اب ان آیات میں دعاء ابراہیمی کا ذکر کرتے ہیں چونکہ اہل مکہ کو یہ زعم تھا کہ ہم ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور ان کے طریقہ پر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا نقل فرمائی تاکہ معلوم ہوجائے کہ وہ بڑے مؤحد تھے اور شرک سے متنفر تھے۔ اور اپنی اولاد کے لیے یہی دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ان سب کو شرک اور بتوں سے دور رکھنا لہٰذا ان کی نسل کو چاہئے کہ ان کے طریقہ پر چلے اور انہیں کی دعاؤں سے یہ ریگستانی خطہ ایک پرامن اور آباد شہر بنا لہٰذا تم کو چاہئے کہ ان احسانات کو دیکھ کر خدا کے شکر گزار بنو خانہ کعبہ کے اہل وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو ایک خدا کی عبادت کریں یہ گھر ابراہیم (علیہ السلام) نے خدا کی عبادت کے لیے بنایا تھا اسی وجہ سے اس گھر کو بیت اللہ کہا جاتا ہے اور چونکہ ابراہیم (علیہ السلام) توحید اسلام کی دعوت دیتے تھے اور عبادت اصنام سے منع کرتے تھے اس لیے ان کا قصہ کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کی تشریح ہے اس لیے کہ توحید بمنزلہ شجرہ طیبہ کے ہے اور شرک بمنزلہ شجرہ خبیثہ کے ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس وقت کو جب ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا کی کہ اے پروردگار اس شہر کو مقام امن اور مقام محفوظ بنا دیجئے کہ جو اس میں داخل ہو وہ آفات ظاہری و باطنی سے مامون و محفوظ ہوجائے یعنی اس کو حرم محترم بنا دیجئے اور مجھ کو اور میری صلبی اولاد کو اور اس اولاد کو جو میری زندگی میں پیدا ہو سب کو بت پرستی سے دور رکھ خواہ وہ بت ظاہری ہوں یا باطنی کیوں کہ نفس باطنی بت ہے کما قال افوء یت من اتخذ الہہ ھواہ مطلب یہ تھا کہ اے اللہ تعالیٰ مجھ کو اور میری اولاد کو شرک جلی اور شرک خفی سے محفوظ رکھنا کیوں کہ ہوائے نفس کا اتباع یہ بھی ایک قسم کا شرک ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا بھی قبول فرمائی کہ ان کے صلبی بیٹوں میں سے کسی نے بت کو نہیں پوجا کیوں کہ اس دعا میں وبنی سے عام اولاد مراد نہیں بلکہ ان کے خاص صلبی فرزند ہیں اور وہ اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو اور میری صلبی اولاد کو بت پرستی سے محفوظ رکھے گا مگر یہ دعا اس لیے فرمائی کہ ہماری معصومیت اور محفوظیت ہمارا طبعی اور ذاقی امر نہیں بلکہ اللہ کی عصمت اور اس کی حفاظت اور اس کی تائید و توفیق پر ہے اور مطلب یہ تھا کہ اے اللہ مجھ کو توحید خالص پر قائم اور ثابت قدم رکھ اور براہ لطف و کرم شرک جلی اور شرک خفی سے محفوظ رکھ چناچہ ان کے صلبی بیٹے یا جو بیٹے اس دعا کے وقت موجود تھے وہ سب شرک سے محفوظ رہے (تفصیل کے لیے تفسیر کبیر ص 205 جلد 5 و تفسیر روح المعانی ص 210 جلد 13 کو دیکھیں) لہٰذا قریش مکہ کا غیر اللہ کو پوجنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کے منافی نہیں کیونکہ وہ ان کی صلبی اولاد نہیں اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا قریش کے حق میں قبول نہیں ہوئی تو اس سے ابراہیم (علیہ السلام) کی منقصت لازم نہیں آیے یہ ضروری نہیں کہ نبی کی دعا بتمام و کمال قبول ہوجائے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا ان کے صلبی بیٹوں کے حق میں یا اس اولاد کے حق میں جو اس وقت موجود تھی قبول ہوئی ساری نسل کے حق میں قبول نہیں ہوئی نیز قرآن کریم میں صرف ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہے اور اس کی قبولیت اور عدم قبولیت کا کوئی ذکر نہیں کہ یہ دعا قبول ہوئی یا نہیں اور ظاہر ہے کہ یہ دعا ان بیٹوں کے ساتھ مخصوص تھی جن سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خاص محبت تھی قیامت تک آنے والی نسل کے لیے نہ تھی۔ اور ابراہیم (علیہ السلام) کی پہلی دعا بھی قبول ہوئی کہ مکہ ایک مامون اور محفوظ شہر بن گیا اور حبابرہ کے تسلط اور ظالموں کی غارت گری سے محفوظ رہا۔ خلاصہ کلام یہ کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے لئے اور اپنے بیٹوں کیلئے یہ دعا مانگی کہ اے اللہ مجھ کو اور میرے بیٹوں کو بتوں سے دور رکھ اس لیے کہ مجھ کو ڈر ہے کہ میری اولاد شیطانی کرشموں کو دیکھ کر کہیں گمراہ نہ ہوجائے اے میرے پروردگار تحقیق ان بتوں نے بہت سے آدمیوں کو گمراہ کردیا ہے یعنی ان کی گمراہی کا سبب بنے ہیں بغیر آپ کی عصمت اور حفاظت کے ان کے فتنہ سے بچنا بہت مشکل ہے اس لیے آپ سے یہ دعا مانگ رہا ہوں پس جس نے میری پیروی کی اور میرے پیچھے چلا یعنی مسلمان اور موحد ہوا تو وہ مجھ سے ہے یعنی میرے ساتھ وابستہ ہے اور نجات اور رفع درجات میں میرے ساتھ ہے اور جس نے میری نافرمانی کی یعنی میرے دین کا تابع نہ ہو اور میری ملت میں داخل نہ ہوا تو اے رب بلاشبہ تو بخشنے والا مہربان ہے یعنی تو مغفرت اور رحمت پر قادر ہے کہ ان نافرمانوں کو تو بہ کی توفیق دے دے اور کفر سے نکال کر اسلام میں داخل کر دے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق کا اختیار ہے وہ اگر چاہے تو کافروں کو بھی بخش دے لیکن اس نے خبر دے دی ہے کہ مشرک اور کافر اور منافق کو نہیں بخشے گا اس کی قدرت اور اختیار ویسا ہی ہے۔ اے پروردگار تحقیق میں نے بسایا ہے اپنی بعض اولاد کو ایسے میدان میں جو ریگستان ہے اور ناقابل زراعت نہیں ان کو تیرے محترم گھر کے قریب لاکر بسایا ہے اور زراعت وغیرہ کے لیے نہیں بسایا بلکہ اے ہمارے پر ورفگار تحقیق میں نے ان کو اس لیے بسایا ہے تاکہ نماز کو قائم رکھیں اور تیری عبادت کریں اور تیری طرف متوجہ رہیں اور تیرے گھر سے برکت حاصل کریں۔ جب میری اولاد تیرے محترم گھر کے پاس آباد ہوگی تو بحق جوار (پڑوس) ان پر تیری خاص الخاص رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی رہیں گی پڑوسی کا بھی حق ہوتا ہے اور چونکہ یہ وادی غیر زی زرع بےآب وگیاہ ہے جس میں ظاہری طور پر زندگی کا کوئی سامان نہیں اس لیے کچھ انسانوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے کہ جن سے یہ انس حاصل کرسکیں اور کچھ انسانوں سے مسلمان مراد ہیں۔ اور ایک دعا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ فرمائی کہ اے اللہ ان کو قسم قسم کے پھلوں سے رزق تیری اطاعت اور عبادت میں ان کو مدد دے اور تاکہ یہ تیری نعمتوں کا شکر کریں اور مزید نعمت کے مستحق بنیں پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اے ہمارے پروردگار ! تحقیق آپ ہماری تمام حاجتوں کو خوب جانتے ہیں جو ہم دل میں پوشیدہ رکھیں اور جو ہم زبان سے ظاہر کریں میری یہ عرض و معروض بحق عبودیت و افتقار و حاجت ہے آپ کی اطلاع کے لیے نہیں آپ کو ہمارا سارا ظاہر و طابن معلوم ہے آپ کو خوب معلوم ہے کہ اس وادی غیر ذی زرع میں اپنی اولاد کو بسانے میں میری کیا نیت ہے اور میری یہ والہانہ عرض و معروض کس لیے ہے آئندہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی تصدیق فرمائی اور بیشک اللہ پر آسمان اور زمین کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور التجا بھی اللہ پر پوشیدہ نہیں پھر ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے شکر کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا شکر ہے اس اللہ کا جس نے بڑھاپے میں مجھ کو اسماعیل اور اسحاق جیسے دو بیٹے عطا کیے جو ہر ایک ملت اسلام کا اور توحید کا شجرہ طیبہ ہے بیشک میرا پروردگار دعا کا سننے والا ہے یعنی وہ بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور قبول کرتا ہے اس لیے اور دعا میں اضافہ کیا اور کہا اے میرے پروردگار مجھ کو نماز کا قائم رکھنے والا کر دے کہ ٹھیک ٹھیک تیرے آداب عبودیت کو بجا لاؤں اور میری بعض اولاد کو بھی کل اولاد کو اس لیے نہ کہا کہ ان کو بذریعہ وحی معلوم تھا کہ سب اولاد مسلمان نہ ہوگی یا مسلمان ہوگی مگر نماز کی پابند نہ ہوگی اے ہمارے پروردگار میری مغفرت فرما اور میرے والدین کی اور تمام اہل ایمان کی جس دن حساب قائم ہوگا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے والدین کے لیے دعائے مغفرت اس وقت تھی جب کہ وہ زندہ تھے کہ شاید وہ ایمان لے آئیں اور خدا کی مغفرت اور رحمت میں داخل ہوجائیں اور جب ان کا خاتمہ کفر اور گمراہی پر ہوگیا تو ابراہیم (علیہ السلام) ان سے بری ہوگئے۔ کما قال تعالیٰ : وما کان استغفار ابرہیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ فلما تبین لہ انہ عدو للہ تبرا منہ
Ayahs 14:42–52

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ Open ayah 14:42 in the Quran reader

اور (مومنو ! ) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں خدا ان سے بیخبر ہے۔ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ (دہشت کے سبب) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ Open ayah 14:43 in the Quran reader

(اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے۔ ان کی نگاہیں انکی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور انکے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہونگے۔

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ Open ayah 14:44 in the Quran reader

اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کردو جب ان پر عذاب آجائے گا۔ تب ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مدت مہلت عطا کر تاکہ ہم تیری دعوت (توحید) قبول کریں اور تیرے پیغمبروں کے پیچھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے ؟ تم کو (اس حال سے جس میں تم ہو) زوال (اور قیامت کو حساب اعمال) نہیں ہوگا۔

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ Open ayah 14:45 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کیلئے مثالیں بھی بیان کردی تھیں۔

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ Open ayah 14:46 in the Quran reader

اور انہوں نے (بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور انکی (سب) تدبیریں خدا کے ہاں (لکھی ہوئی) ہیں۔ گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ Open ayah 14:47 in the Quran reader

تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے۔ اسکے خلاف کریگا۔ بیشک خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے۔

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 14:48 in the Quran reader

جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی (بدل دئیے جائیں گے) اور سب لوگ خدائے یگانہ و زبردست کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ Open ayah 14:49 in the Quran reader

اور اس دن تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ Open ayah 14:50 in the Quran reader

ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے اور انکے من ہوں کو آگ لپٹ رہی ہوگی۔

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 14:51 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا ہر شخص کو اسکے اعمال کا بدلہ دے۔ بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے۔

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 14:52 in the Quran reader

یہ (قرآن) لوگوں کے نام (خدا کا پیغام) ہے تاکہ ان کو اس سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں۔

تذکیر آخرت وتحذیر از غفلت قال اللہ تعالیٰ : ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظلمون .... الیٰ .... ولیذکر اولوا الباب۔ (ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا اور ظالموں یعنی مشرکوں کی وعید کا ذکر تھا جو آخرت کے منکر تھے اب آئندہ آیات میں آخرت کی یاد دہانی اور اس سے غفلت سے تنبیہ فرماتے ہیں کہ یہ ظالم یعنی منکرین آخرت قیامت کی تاخیر سے یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے غافل نہیں بلکہ حکمت اور مصلحت کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو رہی ہے اللہ تعالیٰ قادر اور حلیم ہیں فورا مجرم کو نہیں پکڑتے بلکہ اسے مہلت دیتے ہیں البتہ جب جرم میں حد سے گزر جاتا ہے تب اس کو پکڑتے ہیں لہٰذا کوئی ظالم سزا کی تاخیر سے یہ گمان نہ کرے کہ خدا تعالیٰ جرائم سے غافل اور بیخبر ہے وہ کیسے حساب لے گا۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ ان کافروں کو اس دن سے ڈرایئے جس دن ان پر عذاب آئے گا کما قال تعالیٰ وانذر الناس یوم یاتیھم العذاب بعد ازاں اس دن کے کچھ احوال اور کافروں کی حیرانی اور پریشانی کو بیان فرمایا اور پھر توحید پر اس سورت کو ختم فرمایا اور ولیذکر اولوا الباب سے یہ بتلا دیا کہ عاقل اور دانا وہی ہے کہ جو ایک خدائے وحدہ لاشریک لہ کو مانے اور اس کے حسان و کتاب و جزاء و سزا سے ڈرے اور وہاں کی کچھ فکر اور تیاری کرے اور اے غافل خدا کی ڈھیل سے یہ گمان ہرگز نہ کر کہ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے اعمال و افعال سے غافل ہے یعنی یہ خیال نہ کرو کہ اللہ نے جو ان ظالموں کی مہلت اور ڈھیل دے رکھی ہے اور کھلے بندوں ان کو چھوڑ رکھا ہے وہ ان سے غافل ہے سو خوب سمجھ لو کہ یہ مہلت اور مؤاخذہ میں تاخیر ایک امتحانی پردہ ہے جزایں نیست کو اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دے رہا ہے ایسے آنے والے دن کے لیے کہ حیرت اور دہشت کی وجہ سے ان دن نگاہیں پھٹی رہ جائیں گی یعنی اس دن کی شدت اور ہول کو دیکھ کر آنکھیں کھلی وہ جائیں گی اور یہ قیامت کا دن ہوگا اور اس دن جب قبروں سے اٹھیں گے تو حال یہ ہوگا کہ میدان حشر کی طرف دوڑتے ہوں گے کما قال تعالیٰ مھطعین الی الداع۔ یخرجونا من الاجداث۔ یومئذ یتبعون الداعی لاعوج لہ یعنی قبروں سے نکل کر پکارنے والی کی آواز کی طرف دوڑ رہے ہوں گے اور حیرت اور دہشت کی شدت کی وجہ سے اپنے سر اوپر کو اٹھائے ہوں گے جزع اور فزع کی وجہ سے کوئی کسی طرف نظر نہیں کرے گا ان کی نگاہ ان کی طرف واپس نہیں لوٹے گی یعنی شدت خوف و دہشت کی وجہ سے ایسی ٹکٹکی بندھے گی کہ پلک بھی نہ جھپکے گی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی اور ان کے دل اڑے ہوئے ہوں گے یعنی غلبہ دہشت و حیرت کی وجہ سے ان کے دل عقل اور فہم سے خالی ہوں گے اے ظالمو ! جس آخرت اور یوم قیامت کے تم منکر ہو اس کا حال یہ ہے ہوشیار ہوجاؤ اس دن تک تم کو اللہ نے ڈھیل دے رکھی ہے اور جب یہ دن آجائے گا تو پھر تم کو مہلت نہ ہوگی اور اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں کو اس دن سے ڈرائیے کہ جس دن ان پر عذاب آئے گا تو یہ ظالم لوگ جنہوں نے کفر و شرک کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا یہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! ہم کو تھوڑی مدت کے لیے مہلت دیجئے اور دوبارہ ہم کو دنیا میں بھی دیجئے تو ہم اس مدت میں تیری دعوت کو قبول کریں گے اور پیغمبروں کا اتباع کریں گے ان کو جواب ملے گا کیا ہم نے تم کو دنیا میں مہلت نہیں دی تھی اور کیا تم اس سے پہلے دنیا میں قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ تم کو زوال نہیں یعنی اس حالت سے پہلے تم کو اس درجہ یقین تھا کہ قسمیں کھا کر یہ کہا کرتے تھے کہ دنیا دائمی ہے قیامت اور آخرت کی جو باتیں پیغمبر بیان کرتے ہیں وہ سب افسانہ ہے اچھا اب تو اس قیامت کو دیکھ لیا اب تم اس کا مزہ چکھو اور علاوہ ازیں تم ان لوگوں کے گھروں میں رہے ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور رسولوں کا مقابلہ کیا جیسے قوم عاد اور قوم ثمود اور خبر متواتر سے تم پر ظاہر ہوچکا ہے کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا یعنی بالیقین تم سب پر بات کھل چکی ہے کہ یہ قوم عاد اور قوم عمود کی بستیاں ہیں جن کو اللہ نے پیغمبروں کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کر ڈالا وہ تو اس دارفانی کو چھوڑ گئے اور ان کی جگہ تم آباد ہو اور ان کی تباہی اور بربادی کے آثار اور نشان تمہاری نظروں کے سامنے ہیں غور کرلو جو انجام ان کا ہوا وہی تمہارا بھی ہوگا دیکھ لو کہ انعام کے بعد اللہ کا انتقام ایسا ہوتا ہے سمجھ جاؤ کہ کفر کا انجام یہ ہوتا ہے اور علاوہ ازیں یہ واقعات جو تم نے بیشمار لوگوں سے سنے عبرت کے لیے کافی تھے اور ان کے گھروں میں عذاب نازل ہونے کے جو آثار تم نے دیکھ لیے تھے وہ بھی عبرت کے لیے کافی تھے مگر ہم نے اس کے علاوہ تمہاری نصیحت کے لیے تمہارے لیے مثالیں بیان کیں تاکہ تم سمجھو مگر تم نے ان سے عبرت نہ پکڑی بلکہ اور الٹی ان کی ہنسی اڑائی اور دین حق کے مٹانے پر تل گئے اور اس کے لیے طرح طرح کے مکرو فریب کیے اور بیشک ان لوگوں نے دین حق کے مٹانے کے لیے جس قدر ان سے مکرو فریب ممکن تھا وہ چلا ڈالا یعنی حق کے رد کرنے میں اور کفر کے غالب کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا اور اللہ کے سامنے ہے ان کا مکر، ان کا کوئی مکرو فریب خدا تعالیٰ سے مخفی نہیں اور واقعی ظاہر نظر میں ان کی تدبیریں ایسی تھیں کہ عجب نہیں ان سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں مگر حق تو پہاڑوں سے کہیں زیادہ محکم اور مضبوط ہے وہ ان مکاروں کے مکرو فریب خدا تعالیٰ سے مخفی نہیں اور واقعی ظاہر نظر میں ان کی تدبیریں ایسی تھیں کہ عجب نہیں ان سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں مگر حق تو پہاڑوں سے کہیں زیادہ محکم اور مضبوط وہ ان مکاروں کے مکرو فریب سے کہاں ٹل سکتا ہے اللہ اپنے دین کا حافظ و ناصر ہے پس اے گمان کرنے والے تو اللہ کی نسبت یہ گمان نہ کر کہ وہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا خدا تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ مکذبین رسالت اور منکرین آخرت کو قیامت میں عذاب دے گا وہ وعدہ حق ہے ضرور پورا ہوگا اس میں جو تاخیر ہو رہی ہے وہ عجز کی وجہ سے نہیں اس لیے کہ بلاشبہ اللہ غالب ہے سب کچھ اس کے قبضہ قدرت میں ہے صاحب انتقام ہے اپنے دوستوں کا دشمنوں سے بدلہ لیتا ہے اس کو بدلہ لینے سے کوئی نہیں روک سکتا اور یہ بدلہ اس روز ہوگا جس دن اس زمین اور آسمان کے علاوہ دوسری زمین اور آسمان بدل دیئے جائیں گے جاننا چاہئے کہ تبدیل کبھی باعتبار ذات کے ہوتی ہے اور کبھی باعتبار صفات کے ہوتی ہے تبدیل ذات کے معنی یہ ہیں کہ پہلی ذات بالکل معدوم اور فنا کردی جائے اور اس کے بدلے دوسری ذات پیدا کردی جائے اور تبدیل صفات کے معنی یہ ہیں کہ پہلی ذات تو باقی رہے اور صفات سابقہ کے بدلہ میں دوسری صفات اس میں پیدا کردی جائیں اور چونکہ آیت میں جو لفظ تبدیل واقع ہوا ہے وہ دونوں معانی کا متحمل ہے اس لیے آیت میں مفسرین کے دو قول ہوگئے۔ پہلا قول : یہ ہے کہ آیت میں تبدیل صفات مراد ہے یعنی اصل زمین اور آسمان تو رہیں گے مگر ان کی حالت اور صفت بدل دی جائے گی مثلازمین کے ٹیلے اور پہاڑبرابر کر کے تمام زمین ایک ہمواردرمیان بنادی جائے گی اور کسی درخت اور عمارت کا اس پر نام نشان باقی نہ رہے گا اور آسمان کے ستارے جھڑپڑیں گے اور سورج اور چاند بےنورہوجائیں گے اور آسمان کی رنگت سرخ ہوجائے گی یہ ابن عباس ؓ کا قوال ہے۔ دوسرا قول : یہ ہے کہ زمین اور آسمان کی ذات میں تغیر و تبدل ہوگا یعنی یہ اصل زمین اور آسمان ہی بدل دئیے جائیں گے اور نئی زمین اور آسمان پیدا کردیا جائے گا اور وہ نئی زمین چاندی کی طرح سفید ہوگی اور اس پر کسی نے خون کا قطرہ نہ گرایا ہوگا اور نہ اس پر اللہ کی معصیت کی گئی ہوگی یہ قول عبد اللہ بن مسعود ؓ کا ہے اور بعض احادیث بھی مختلف ہیں بعض سے تبدیل ذات مفہوم ہوتا ہے اور بعض سے تبدیل صفات معلوم ہوتا ہے اس لیے بعض علماء نے پہلے قول کو اختیار کیا اور بعض نے دوسرے قول کو اور امام قرطبی (رح) وغیرہ نے ان روایات میں تطبیق دی کہ زمین و آسمان کی تبدیلی کئی بار ہوگی ایک تبدیلی نفخ صور کے وقت ہوگی اور اس وقت فقط صفات کی تبدیلی ہوگی کہ تمام زمین ہموار کردی جائے گی اور چاند اور سورج بےنور ہوجائیں گے اور ستارے گر پڑیں گے دوسری تبدیلی نفخہ اولیٰ اور نفخہ ثانیہ کے درمیان ہوگی کہ اس زمین اور آسمان کی بجائے نئے زمین اور آسمان پیدا کر دئیے جائیں گے اور بعض کہتے ہیں کہ ایک تبدیلی اس وقت ہوگی کہ جب لوگ پل صراب پر ہوں گے واللہ اعلم وعلمہ اتم و احکم۔ آگے پھر اس دن کی کیفیت بیان کرتے ہیں اور اس دن سب قبروں سے نکل کر حساب و کتاب کے لیے خدائے واحد قہار کے حضور حاضر ہوجائیں گے اور اس دن تو مجروموں کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھے گا پیروں میں بیڑیاں اور گردن میں طوق ہوں گے اور ان کے کرتے قطران کے ہوں گے قطران سیاہ روغن گندھگ کو کہتے ہیں جو نہایت بدبودار اور بدرنگ ہوتا ہے اور ایک دم آگ سے بھڑک اٹھتا ہے اور چھا جائے گی ان کے چہروں کو آگ اور یہ سب کچھ ان لوگوں کے ساتھ اس لیے ہوگا کہ اللہ جزاء دے ہر نفس کو جو اس نے کمایا ہے بیشک اللہ جلدی حساب والا ہے اس کو اولین اور آخرین کا حساب کوئی دشوار نہیں ایک سے حساب دوسرے سے حساب لینے کے لئے مانع نہیں یہ قرآن اللہ کا پیغام ہے تاکہ لوگ سعادت اور شقاوت کو پہچانیں اور ظلمتوں سے نکل کر نور کی طرف آئیں اور تاکہ لوگ اس سے چوکنے ہوجائیں اور تاکہ یقین کرلیں کہ معبود برحق وہی ایک ہے کسی صفت میں کوئی اس کا شریک نہیں اور تاکہ نصیحت پکڑیں عقل والے کیونکہ قرآن نے خدا کی وحدانیت کے اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کی صداقت اور حقانیت کے اور قیام قیامت کے ایسے صریح دلائل بتلائے ہیں کہ جن میں عقل والے کو شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ اللہم اخرجنا من الظلمت الی النور واجعلنا من اولی الالباب آمین یا رب العلمین : الحمد للہ آج بروز شنبہ بوقت 4 بجے دن کے بتاریخ 13 ذی قعدہ الحرام 1388 ھ سورة ابراہیم کی تفسیر سے فراغت ہوئی وللہ الحمد اولا وآخرا۔