12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 12:36–42

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زنداں ہوئے۔ ایک نے دن میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا کیا ہوں کہ شراب (کے لئے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے ہیں (تو) ہمیں انکی تعبیر بتا دیجئے کہ ہم تمہیں نیکو کار دیکھتے ہیں۔

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان (باتوں) میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں۔ جو لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں میں انکا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں۔

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں۔ ہمیں شایان نہیں ہے کہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک بنائیں۔ یہ خدا کا فضل ہے ہم پر بھی اور لوگوں پر بھی لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

میرے جیل خانے کے رفیقو ! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) خدائے یکتا و غالب ؟

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں خدا نے انکی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نہ ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جا نتے۔

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

میرے جیل خانے کے رفیقو ! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصل ہوچکا ہے۔

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائیگا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے ہی میں رہے۔

قصہ یوسف (علیہ السلام) باساقی و خباز درجیل خانہ بر تبلیغ و دعوت اظہار نبوت قال اللہ تعالیٰ ودخل معہ السجن فتین .... الیٰ .... فلبث فی السجن یضع سنین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یوسف (علیہ السلام) کی دعا رب السجن احب الی مما یدعونی الیہ اور اس کی قبولیت و استجابت کا ذکر کیا ہے دعا میں یہ درخواست تھی کہ اے پروردگار ایسے زنانخانہ اور محل سرائے سے تو جیل بہتر ہے بارگاہ خداوندی میں یوسف علیہا لسلام کی دعا بلفظہ قول ہوئی کہ زنان خانہ سے نکال کر جیل خانہ بھیج دئیے گئے اب وقت آیا کہ ولنعلمہ من تاویل الاحادیث۔ کا ظہور ہو کہ جیل خانہ میں پہنچ کر لوگوں کے خوابوں کی تعبیریں دیں اور ان کو توحید اور اسلام کی دعوت دیں اور خداداد معجزہ اور کرامت کو ان پر ظاہر کریں تاکہ قبول حق میں معین اور مددگار ہو۔ ولی پر اپنی کرامت کا اظہار ضروری نہیں مگر نبی پر اپنے معجزہ اور کرامت کا اظہار ضرورت ہے کیونکہ معجزہ اور کرامت نبوت کی دلیل ہے اور جس طرح نبوت کا اعلان ضروری ہے اسی طرح دلائل نبوت کا اظہار اور اعلان بھی واجب اور ضروری ہے اس لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی تعبیر سے پہلے اپنے معجزہ اور کرامت کو اس طرح بیان فرمایا۔ لا یاتیکما طعام ترزقنہ الا نباتکما بتاویلہ قبل ان یاتیکما تاکہ دلیل نبوت بیان کرنے کے بعد ان کو توحید اور ملت ابراہیمی کے اتباع کی دعوت دے سکیں چناچہ فرماتے ہیں اور اسی زمانہ میں یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ دو اور جوان جیل خانہ میں داخل ہوئے ان دو نوجوانوں میں ایک بادشاہ کا نانبائی تھا اور دوسرا ساتی (شراب پلانے والا) یہ دونوں بادشاہ کے کھانے میں زہر ملانے کی تہمت میں ماخوذ تھے مقدمہ زیر تحقیق تھا اس لیے دونوں جیل بھیج دئیے گئے چونکہ قید خانہ میں یوسف (علیہ السلام) کے حسن خلق اور مروت اور صدق و امانت اور زہد و ذکر اور ربادت مشہور ہوچکی تھی اور سب لوگوں کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ یہ بڑے عابد و زاہد ہیں اور خوابوں کی تعبیریں خوب بتاتے ہیں اس لیے جب یہ دونوں قیدی جیل خانہ میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کا یہ حال دیکھا تو ان کے گرویدہ اور دلدادہ ہوگئے ان میں سے ایک نے یعنی ساتی نے کہا کہ میں اپنے آپ کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں انگور نچوڑ رہا ہوں اور بادشاہ کو شراب پلا رہا ہوں اور دوسرے نے یعنی نانبائی نے کہا کہ میں اپنے آپ کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور اس میں سے پرندے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ آپ ہم کو اس خواب کی تعبیر بتلائیں۔ تحقیق ہم آپ کو نیک و کاروں میں دیکھتے ہیں۔ یعنی مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کے ساتھ موصوف پاتے ہیں اور چونکہ ایک کے خواب کی تعبیر مضر تھی اس لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے سردست تعبیر دینے سے اعراض فرمایا اور یہ سمجھا کہ یہ ایک دن مرنے والا ہے بہتر یہ ہے کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہوجائے۔ اول ان کو نصیحت کرنا شروع کی اور دعوت ایمان اور توحید سے پہلے اپنا ایک معجزہ ذکر کیا تاکہ اس سے انکا نبی ہونا معلوم ہوجائے ان دو جوانوں نے آپ سے خواب کی تعبیر پوچھی تو آپ نے اول ان پر یہ ظاہر فرمایا کہ میرا علم۔ تعبیر خواب میں ہی منحصر نہیں۔ میں اللہ کا نبی (علیہ السلام) ہوں اور اللہ کی وحی سے غیب کی باتیں صحیح صحیح بنا سکتا ہوں۔ چناچہ یوسف (علیہ السلام) نے کہا جو کھانا تم کو دیا جاتا ہے میں تم کو اس کے آنے سے پہلے اس کے حال اور مآل سے آگاہ کردوں گا کہ فلاں چیز تمہارے پاس آئے گی اور اس کی کیفیت اور کمیت یہ ہوگی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تھا۔ انبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم۔ یعنی میں تم کو آگاہ کردوں گا اس کھانے سے جو تم کھاتے ہو اور جو جمع رکھتے ہو اپنے گھروں میں مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے تمہارے گھر سے جو کھانا آئے گا میں اس کے آنے سے پہلے ہی تم کو اس کی صفت اور کیفیت سے آگاہ کر دوں گا۔ قیدیوں نے پوچھا کہ تم نہ تو نجومی ہو اور نہ کاہن پو پھر تمہیں یہ علم کہاں سے حاصل ہوا تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ علم منجملہ اس علم کے ہے جو مجھے میرے پروردگار نے سکھایا ہے یعنی یہ کوئی کہانت اور نجوم نہیں بلکہ سب وحی اور الہام ہے اور میرا معجزہ ہے جو میری نبوت کی دلیل ہے۔ اب اثبات نبوت کے بعد اثبات توحید کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔ تحقیق میں شروع ہی سے اس قوم کی ملت کو چھوڑے ہوئے ہوں کہ جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے اور خاص طور پر آخرت کے تو بالکل ہی منکر ہیں چھوڑ دینے کا یہ مطلب نہیں کہ پہلے میں اس ملت پر تھا پھر چھوڑ کر مومن ہوگیا بلکہ مطلب یہ ہے کہ میں شروع ہی سے ملت کفر سے بری اور بیزار ہوں اور میں تو خاندان نبوت سے ہوں اور شروع ہی سے اپنے باپ دادوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کی ملت کا پیرو ہوں ان باپ دادوں کے ذکر سے یوسف (علیہ السلام) کا مقصود یہ تھا کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ یہ شخص خاندان نبوت سے ہے تاکہ لوگ ان کی نصیحت اور دعوت کو غور اور توجہ سے سنیں اور توحید پر یقین لائیں اور سمجھ جائیں کہ توحید سب پیغمبروں کی یکساں ملت ہے ہم کو کسی طرح یہ سزا وار نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کریں غرض یہ کہ توحید تمام انبیاء کرام کی ملت کا رکن اعظم ہے یہ توحید اور شرک سے بیزاری ہم پر اور لوگوں پر اللہ کا فضل ہے کہ موحد بنے اس سے بڑھ کر اور کوئی فضل نہیں اس لیے کہ دنیا اور آخرت کی صلاح اور فلاح کا سارا دارومدار اللہ کی معرفت اور اس کی اطاعت پر ہے لیکن اکثر آدمی اس نعمت کا شکر نہیں کرتے بجائے توحید کے شرک میں مبتلا ہیں دہری تو خدا ہی کے منکر ہیں اور نیچری تعلیم انبیاء سے متنفر اور بیزار ہیں۔ دعوت توحید اب آگے توحید کی دعوت اور شرک کا ابطال فرماتے ہیں۔ اے میرے جیل خانہ کے رفیقو ! بتلاؤ تو سہی کہ کیا جدا جدا اور متفرق معبود بہتر ہیں یا اللہ جو اکیلا اور زبردست ہے اور سب پر غالب ہے اور معبود برحق تو وہی ہے جو سب پر غالب ہو اور یہ بت جن کی تم پرستش کرتے ہو یہ سب عاجز اور مغلوب ہیں۔ نہیں پوجتے تم اللہ کے سوا مگر نرے ناموں کو جو تم نے اور تمہارے بڑوں نے رکھ دئیے ہیں حقیقت میں معبود نہیں گویا کہ تم محض ناموں کی پرستش کرتے ہو تم نے ان بتوں کا نام معبود رکھ لیا۔ محض نام رکھ لینے سے کوئی شے معبود نہیں ہوجاتی اللہ نے ان کے معبود ہونے کے بارے میں کوئی حجت نازل نہیں کی بلا دلیل تم نے ان بتوں کو اور کواکب کو اور نجوم کو خدا ٹھہرا لیا ہے تمہارے پاس نہ کوئی دلیل عقلی ہے اور نہ دلیل نقلی حکم سوائے اللہ کے اور کسی کا نہیں چلتا اور اس نے حکم دیا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو بس اسی حکم پر عمل کرو یہی توحید سیدھا دین ہے جس میں کسی قسم کی کجی نہیں لیکن اکثر آدمی اس بات کو جانتے نہیں اس لیے وہ کج راہ کو اختیار کرتے ہیں۔ تعبیر خواب یہاں تک یوسف (علیہ السلام) کی نصیحت اور اثبات نبوت اور دعوت توحید کا بیان تھا کہ یوسف (علیہ السلام) نے ان کو نصیحت کی اور توحید کی دعوت دی اب آگے ان کے خوابوں کی تعبیر بیان فرماتے ہیں۔ اے میرے دونوں قید خانہ کے ساتھیو تم دونوں کے خوابوں کی تعبیر یہ ہے کہ تم میں ایک تو یعنی ساقی اپنے آقا کو بدستور شراب پلایا کریگا یعنی وہ جرم سے بری ہوجائے گا اور پھر اپنے عہدہ پر بحال ہوجائیگا اور دوسرا یعنی نابنائی مجرم قرار پاکر سولی دیا جائیگا پھر پرندے اس کے سر سے گوشت نوچ نوچ کر کھائیں گے ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے یہ تعبیر سنی تو کہا کہ ہم نے کچھ نہیں دیکھا ہم تو دل لگی کرتے تھے یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا فیصل ہوچکا وہ امر جس میں تم فتویٰ پوچھتے تھے کہ خواہ تم نے دیکھا یا نہیں دیکھا اب تو یونہی ہوگا جو اللہ کے نبی نے کہہ دیا یہ حکم قضا و قدر ہے جو کسی حیلہ و بہانہ سے بدل اور ٹل نہیں سکتا چناچہ ایسا ہی ہوا مقدمہ میں ایک بری ثابت ہوا اور دوسرا مجرم دونوں کو جیل خانہ سے بلایا گیا اور جب وہ جیل خانہ سے جانے لگے تو یوسف (علیہ السلام) نے دونوں قیدیوں میں سے فقط اس شخص سے جس کے حق میں ان کو گمان تھا کہ رہائی پائے گا یعنی ساقی سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر کرنا یعنی بادشاہ سے میری بیگناہی کا حال ذکر کرنا اور کہنا کہ ایک بےگناہ عرصہ سے جیل خانہ میں پڑا ہوا ہے۔ بگو ہست اندراں زنداں غری بےزعدل شاہ دوراں بےنصیبے اس نے وعدہ کرلیا۔ پھر جب ساقی اپنے عہدہ پر بحال ہوگیا تو شیطان نے اس کو اپنے آقا کے سامنے یوسف (علیہ السلام) کا ذکر کرنا بھلا دیا جب ساقی کو شاہی تقرب حاصل ہوگیا تو جیل خانہ کے وعدہ کو بھول گیا۔ حق جل شانہ کو یوسف (علیہ السلام) صدیق کا اس طرح درخواست کرنا ناپسند ہوا اس لیے شیطان کو ساقی کی یاد پر مسلط کردیا کہ مدت تک اس کو یوسف (علیہ السلام) کا ذکر کرنا یاد نہ آیا پس اس وجہ سے یوسف (علیہ السلام) اور چند سال قیدخانہ میں رہے کہ صدیق کے شایان شان نہ تھا کہ وہ رہائی کے ایک ظاہری سبب پر نظر رکھے۔ اس کو تو چاہئے تھا کہ ہمہ تن مسبب الاسباب پر نظر رکھتا اس کے بعد سات برس اور قید میں رہے اور اول و آخر مل کر بارہ برس تک رہے اس طویل خلوت سے مقام تفویض و توکل کی تکمیل ہوگئی مخلوق سے دفع ضرر کی درخواست کرنا اگرچہ شرعا جائز ہے مگر انبیاء اور صدیقین کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سوائے خدا کے کسی کی مدد پر نظر رکھیں۔
Ayahs 12:43–49

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور اور (سات) خشک۔ اے سردارو ! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ۔

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی۔

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اب وہ شخص جو دونوں قید یوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں۔ مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دیجئے۔

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف ! اے بڑے سچے (یوسف ! ) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتائیے کے سات موٹی گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا کر (تعبیر بتاؤں) عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں۔

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہو گے تو جو (غلہ) کا ٹو تو تھوڑے سے غلے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سا ل) آئیں گے کہ جو (غلہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ سب کھا جائیں گیں پھر وہی تھوڑا سا رہ جائے جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے۔

شاہ مصر کا خواب دیکھنا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اس کی تعبیر بتانا قال اللہ تعالیٰ وقال الملک انی اری سبع بقرت .... الیٰ .... وفیہ یعصرون۔ (ربط) حو جل شانہ جب کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ایسے اسباب بھی پیدا فرما دیتے ہیں جن کی طرف آدمی کا خیال بھی نہیں جاتا چناچہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قید خانہ سے نجات دلانا منظور ہوا تو بادشاہ مصر ریان بن ولید کو ایک خواب دکھایا جو ان کی رہائی اور ظاہری عروج کا سبب بنا اور بادشاہ نے ایسا عجیب خواب دیکھا جس کی تعبیر سے تمام معتبر عاجز آگئے اس خواب کی تعبیر کسی کی سمجھ میں نہیں آئی تو اس وقت اس ساقی کو یوسف (علیہ السلام) یاد آئے اور اس نے بادشاہ سے درخواست کی کہ مجھے جیل خانہ جانے کی اجازت دیجئے۔ وہاں ایک مرد صالح زی علم محبوس ہیں۔ ان سے خواب کی تعبیر پوچھ آؤں چناچہ بادشاہ نے اجازت دی اور وہ ساقی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا اور خواب بیان کرکے اس کی تعبیر پوچھی اس طرح بادشاہ کا خواب اور یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر ان کی رہائی اور عروج اور بلندی کا سبب بنا کیونکہ خواب کی جو تعبیر دی وہ نہایت عجیب و غریب تھی اور پھر تعبیر کے ساتھ تدبیر بھی تھی اور پھر تدبیر کے ساتھ ایک تبشیر بھی تھی کہ قحط کے سات سال گزرنے کے بعد خوب بارش ہوگی اور پھل اور میوے افراط سے پیدا ہونگے چناچہ فرماتے ہیں اور بادشاہ مصر نے ایک خواب دیکھا بادشاہ کا نام ریان بن ولید تھا اور عزیز مصر اس کا وزیر تھا۔ بادشاہ نے اپنے وزراء اور ارکان دولت کو جمع کرکے جو خواب دیکھا تھا اس کو بیان کرنا شروع کیا۔ چناچہ بادشاہ نے کہا کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں سات گائیں فربہ موٹی تازی ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور دیکھتا ہوں سات سرسبز اور ہری بالیں اور دوسری بالیں خشک جو ان سات سبزبالوں پر لپیٹ گئیں اور ان کو خشک کردیا بادشاہ نے اپنا خواب بیان کرکے کہا۔ اے اہل دربار میرے کو اب کی تعبیر دو اگر تم خواب کی تعبیر جانتے ہو۔ اہل دربار نے کہا اول تو یہ کوئی خواب نہیں محض پریشان خیالات ہیں اور دماغی بخارات ہیں بسا اوقات انسان کو خواب میں ایسی خیالی صورتیں نظر آجاتی ہیں جو لائق التفات نہیں ہوتیں اور دوسرے یہ کہ ہم لوگ اگرچہ امور سلطنت سے واقف ہیں مگر خوابوں کی تعبیر سے واقف نہیں بادشاہ خواب سے مضطرب تھا اس جواب سے اس کو اطمینان نہ ہوا۔ ع یا رب ایں خواب پریشان مرا تعبیر چسیت اور اس وقت وہ شخص جس نے دونوں قیدیوں میں سے رہائی پائی تھی وہاں مجلس میں حاضر تھا وہ بولا اور ایک مدت کے بعد اس کو یوسف (علیہ السلام) کا پیغام یاد آیا تو اہل دربار سے کہا میں تم کو اس کی تعبیر سے آگاہ کروں گا تم مجھے جیل خانہ جانے کی اجازت دے دو ۔ بادشاہ نے اجازت سے سی اس نے جیل خانہ میں جاکر یوسف (علیہ السلام) سے کہا۔ اے یوسف (علیہ السلام) اے صدیق مجسم آپ (علیہ السلام) تو مجسم صدق ہیں سر سے پیر تک صدق اور سچائی آپ (علیہ السلام) کے ہر جز میں سرایت کیے ہوئے ہے آپ کا ظاہر و باطن صدق سے لبریز ہے جو بات آپ کی زبان سے نکلتی ہے وہ سچ ہوتی ہے اور ہوبہو پوری ہوتی ہے بادشاہ نے ایک خواب دیکھا ہے آپ ہم کو اس خواب کی تعبیر بتائیں کہ سات گائیں موٹی تازی ہیں ان کو سات دبلی گائیں کھائے جا رہی ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور ان کے علاوہ دوسری سات بالیں خشک ہیں جو ان سات سبز پر لپٹ کر ان کو بھی خشک کر رہی ہیں یہ خواب بادشاہ نے دیکھا ہے آپ اس کی تعبیر بتلائیے تاکہ یہ تعبیر لیکر لوگوں کے پاس جاؤں اور امید ہے وہ تعبیر سن کر تیرے مرتبہ اور فضیلت اور بزرگی کو جان لیں گے اور امید ہے کہ وہ تجھے بلائیں گے۔ یوسف صدیق نے کہا اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تم اپنی عادت کے مطابق سات سال تک متواتر کھیتی کرو گے یہ سات برس موٹی گائیں اور سات ہری بالیاں ہیں اور اس کے بعد سات دبلی گائیں اور سات خشک بالیاں نمودار ہوں گی یہ قحط کے سات سال ہیں جو گزشتہ سات سال کی تمام پیداوار کو کھا جائیں گے۔ بقرات کی تعبیر و تفسیر سنین سے اس لیے فرمائی کہ گایوں سے زمین کی کاشت کی جاتی ہے اور پھر اس سے کھیتی اور بالیں نمودار ہوتی ہیں۔ اور پھر اس تعبیر کے بعد اس آنے والے قحط کی ایک تدبیر ارشاد فرمائی اور کہا پس جو کھیتی تم کاٹو اس کو بالوں ہی میں چھوڑ دو تاکہ اس کو سرسری نہ لگ جائے یعنی غلہ کو صاف نہ کرو اور دانوں کو نہ نکالو غلہ کو دانوں سمیت ذخیرہ کرو تاکہ آفتوں سے محفوظ رہے مگر تھوڑا سا بقدر حاجت دانہ صاف کرلو اور باقی کو بالوں میں رہنے دو پھر تعبیر شروع فرمائی پھر ان سات برس بعد جن میں تم کھیتی کرو گے دوسرے سات برس سخت قحط اور خشک سالی کے آئیں گے جن میں سر سبزی اور شادابی نہ ہوگی۔ یہی سات سال خشک بالیں اور سات دبلی گائیں ہیں جو موٹیوں اور سبز بالوں کو کھا جائیں گی۔ یہ قحط کے سات سال کھا جاویں گے وہ سب جو تم نے ان سالوں کے لیے پہلے سے جمع کر رکھا تھا۔ مگر تھوڑا سا بچے گا جو تم بیج کی غرض سے محفوظ کرلو گے یعنی جس قدر تم تخم پاشی کے لیے بچا رکھو گے۔ وہ تو بچا رہے گا اور باقی ختم ہوجائے گا اور سات دبلی گایوں اور سات خشک بالوں سے قحط سالی کے ان سات سالوں کی طرف اشارہ ہے پھر اس قحط کے ساتھ سال بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگ غیث یعنی بارش یا غوث فریاد اور دستگیری دئیے جائیں گے غیث کے معنی باران کثیر کے ہیں یعنی خوب بارش ہوگی اور گوث کے معنی فریاد رسی کے ہیں یعنی قحط زدہ لوگوں کی باران رحمت سے دستگیری کی جائے گی اور اس سال میں پھل اور انگور اس کثرت سے ہوں گے کہ لوگ ان کا شیرہ نچوڑیں گے اور شراب بنا کر پئیں گے یوسف (علیہ السلام) نے اول خواب کی تعبیر بتائی پھر ازراہ شفقت و ہمدردی خلائق اس کی تدبیر بتلائی کہ اول کے سات سال ہیں جو غلہ پیدا ہو اس کو حفاظت سے رکھو اور کفایت شعاری سے خرچ کرو تاکہ آئندہ قحط کے سات سال میں گزارہ کرسکو اس طرح سات سال کی پیداوار سے چودہ سال کا کام چلاؤ پھر اس تعبیر و تدبیر کے بعد یوسف (علیہ السلام) نے ان کو ایک بشارت سنائی۔ ثم یاتی من بعد ذلک عام فیہ یغاث الناس وفیہ یعصرون۔ یعنی قحط کے ساتھ سال گزرنے کے بعد نہایت فراخی اور خوشحالی کا سال آئیگا۔ یہ بات آپ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی معلوم ہوئی ہوگی کہ قحط کے سات سال گزرنے کے بعد جو سال آئیگا اس میں خوب بارش ہوگی اور خوب پیداوار ہوگی یا یہ کہ سنت الہیہ یہ ہے ان مع العسر یسرا اب اس شدت کے بعد فراخی آئے گی۔ نکتہ : جب وہ ساقی یوسف (علیہ السلام) سے تعبیر پوچھنے آیا تو آپ نے تعبیر بتلانے میں کوئی شرط نہ لگائی اور نہ کوئی شکوہ کیا کہ اتنی مدت کے بعد تجھ کو میرا خیال آیا اور نہ آئندہ کے لیے اس سے کوئی درخواست کی اس سے حضرات انبیاء کرام (علیہما السلام) کی مروت اور اخلاق کا اندازہ کرلیا جائے اور ساقی کا یوسف (علیہ السلام) سے اس طرح خطاب کرنا ایھا الصدیق۔ اے صدیق مجسم یہ اس بات کو بتلا رہا ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی صداقت اور راست بازی اور دانشمندی اور دانائی کا سکہ کس طرح لوگوں کے دلوں پر بیٹھ جاتا ہے۔
Ayahs 12:50–52

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میر پاس لے آؤ۔ جب قاصد انکے پاس گیا۔ تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔ بیشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے۔

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

بادشاہ نے (عورتوں سے) پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا ؟ سب بول اٹھیں کہ حاشا للہ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے) کہ میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور وہ بیشک سچا ہے۔

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لئے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں) خیانت نہیں کی اور خدا خیانت کرنیوالوں کے مکروں کو رو براہ نہیں کرتا۔

شاہ مصر کا یوسف (علیہ السلام) کو ملاقات کے لئے طلب کرنا قال اللہ تعالیٰ وقال الملک ائتونی بہ جاء ہ الرسول .... الیٰ .... لا یھدی کید الخائنین (ربط) یوسف (علیہ السلام) نے جب بادشاہ کے قاصد کو خواب کی تعبیر دے دی تو قاصد نے آکر بادشاہ سے خواب کی تعبیر بھی بیان کی اور یہ بھی بیان کیا کہ یوسف صدیق نے آنے والے قحط کی یہ تدبیر بتلائی ہے تو بادشاہ سن کر حیران رہ گیا اور اس حسن تعبیر اور حسن تدبیر سے یوسف (علیہ السلام) کی جلالت شان کا سکہ اس کے دل پر بیٹھ گیا۔ فورا حکم دیا کہ ایسے شخص کو میرے پاس لاؤ تاکہ میں اس کی دید اور لقاء سے بہرہ اندوز ہوں اور اس کی لیاقت اور قابلیت کے مطابق اس کا اعزازو اکرام کروں چناچہ قاصد پیغام شاہی لے کر یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مگر یوسف (علیہ السلام) نے حاضر ہونے سے انکار کردیا کہ میں اس وقت تک جیل خانہ سے نہ نکلوں گا جب تک لوگوں کے سامنے میری براءت اور نزاہت اور میری بےگناہی نہ ظاہر ہوجائے کہ میں بالکل بےقصور ہوں اور بےقصور مجھ کو قید میں ڈالا گیا ہے۔ اول عورتوں سے اس کی تحقیق کرلی جائے تاکہ آئندہ چل کر کوئی مجھ پر تہمت نہ لگا سکے اور نہ مجھ پر کسی قسم کی بدگمانی کرسکے یوسف (علیہ السلام) نے عورتوں کا نام تو لیا مگر احتراما زلیخا کا نام نہ لیا حالانکہ اصل وہی تھی۔ حق نمک اور حق تربیت کا خیال کیا اور شرم کے مارے اس کا نام نہ لیا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جب وہ قاصد تعبیر لے کر بادشاہ کی حضوری میں حاضر ہوا تو بادشاہ کی تعبیر نہایت پسند آئی۔ اس وقت بادشاہ نے کہا کہ اس شخص کو فورا میرے پاس لیکر آؤ دیکھوں تو سہی یہ کون شخص ہے خود اس کی زبان سے اپنے خواب کی تعبیر سنوں اور اس کے علم و فضل اور عقل و دانش کے موافق اس کا اکرام کروں۔ پس جب بادشاہ کا ایلچی خواہ وہ ساقی ہو یا کوئی اور ہو یوسف (علیہ السلام) کے پاس آیا کہ بادشاہ سلامت آپ کو فرما رہے ہیں چونکہ اس طرح بلانا یہ بھی ایک قسم کی رہائی تھی اس لیے یوسف (علیہ السلام) نے کہا اپنے آقا کے پاس لوٹ جا میں اس وقت تک جیل خانہ سے باہر قدم نہ نکالوں گا جب تک میرا اس تہمت سے بےقصور ہونا ثابت نہ ہوجائے کہ جس کی وجہ سے مجھ کو قید میں ڈالا گیا ہے پس بادشاہ سے درخواست کرو کہ وہ تحقیق کرے کہ کیا حقیقت حال ہے ؟ ان عورتوں کی جنہوں نے زلیخا کی مجلس میں مجھے دیکھ کر اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے یعنی میں ابھی جیل سے نکلنا پسند نہیں کرتا جب تک میری اس تہمت سے براءت ظاہر نہ ہوجائے جس کی بنا پر میں قید میں ڈالا گیا ہوں اور ان عورتوں کی تخصیص شاید اس لیے ہو کہ ان کے سامنے زلیخا نے یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور نزاہت کا اقرار کیا تھا اور سب کے سامنے یہ کہا تھا۔ ولقد راودتہ عن نفسہ فاستعصم تحقیق کے بعد جب میں بری ثابت ہوجاؤں گا تب یہاں سے نکلوں گا اس موقع پر یوسف (علیہ السلام) نے عزیز مصر کی عورت کا ذکر ادبا اور احتراما نہیں کیا کیونکہ وہ ان کی سیدہ تھی تحقیق میرا پروردگار عورتوں کے مکرو فریب کو خوب جانتا ہے ان عورتوں نے میرے ساتھ بڑے بڑے مکر کیے اور سب نے مل کر مجھ پر زور دیا کہ تجھے اپنی سیدہ کا کہنا ماننا چاہئے اور اس طرح مجھ کو قید ہونا پڑا۔ اللہ کو تو سب معلوم ہے تم بھی ذرا تحقیق کرلو تاکہ تم کو معلوم ہوجائے کہ خطاء کس کی ہے اصل مکرو فریب تو زلیخا کا تھا مگر چونکہ سب عورتیں ان کی حامی اور مددگار تھیں۔ اس لیے عام عنوان اختیار فرمایا اور گول مول فرمایا۔ اور حیا و شرم کی وجہ سے اصل فریب والی کا نام نہ لیا کہ جس کے گھر میں پرورش پائی تھی اس کا کیا نام لوں گول مول فرمایا اور سمجھا کہ اصل حقیقت بالآخر کھل کر رہے گی۔ غرض یہ کہ ایلچی واپس آیا اور یوسف (علیہ السلام) کا منشاء ظاہر کیا۔ بادشاہ نے ان تمام عورتوں کو جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے مع عزیز کی عورت کے طلب کیا جب وہ سب عورتیں مع زلیخا کے حاضر ہوگئیں تو بادشاہ نے کہا، اے عورتو ! تمہارا اس وقت کیا حال تھا جب کہ تم نے یوسف (علیہ السلام) کو اس کے نفس سے پھسلایا تھا۔ کیا یوسف (علیہ السلام) نے تمہاری طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھا تھا ؟ بادشاہ کے اس سوال سے ظاہر ہے کہ بادشاہ کو اس امر کا قطعی یقین تھا کہ پھسلانے والی اور اپنی طرف لبھانے والی عورتیں تھیں اور یوسف (علیہ السلام) نے ان کو نہیں پھسلایا تھا بادشاہ نے یہ سوال نہیں کیا کہ یوسف (علیہ السلام) تم سے کیا چاہتے تھے اور تم یوسف (علیہ السلام) سے کیا چاہتی تھیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ نے یہ سوال نہیں کیا کہ یوسف (علیہ السلام) تم سے کیا چاہتے تھے اور تم یوسف (علیہ السلام) سے کیا چاہتی تھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ کو اس بات کا علم یقینی تھا کہ یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے کوئی خواہش نہ تھی۔ ساری خواہش اور اصرار اور ڈرانا اور دھمکانا عورتوں کی طرف سے تھا اصل پھسلانے والی صرف زلیخا تھی مگر بادشاہ نے بلحاظ پردہ پوشی زلیخا کو مخاطب نہ کیا بلکہ ان عورتوں کو مخاطب کیا جنہوں نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ اپنی سیدہ کا حکم مانو۔ تمام عورتیں یک زبان ہو کر بولیں (حاشا اللہ) اللہ کی پناہ ہم کہ یوسف (علیہ السلام) پر کوئی تہمت لگائیں ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ برائی تو کیا ہمیں تو یہ معلوم ہوا کہ یہ کوئی فرشتہ ہے۔ عزیز کی عورت یعنی زلیخا جو اس وقت وہاں مجلس میں موجود تھی بولی کہ اب حق بات سب کے سامنے بالکل ظاہر ہوگئی اور چھپانا بیکار ہے بیشک حق یہی ہے کہ میں نے ہی یوسف (علیہ السلام) کو اس کے نفس سے پھسلایا تھا۔ میں نے ہی یوسف (علیہ السلام) کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ یوسف (علیہ السلام) تو مجھ سے نفور اور بیزار ہو کر بھاگا جا رہا تھا اور بلاشبہ وہ سچوں میں سے ہے یوسف (علیہ السلام) نے جو اپنی براءت کو ظاہر کرنے کے لیے یہ کہا کہ ہی راودثنی عن نفسی۔ بالکل حق اور صدق ہے۔ بجرم خویش کرد اقرار مطلق برآمد زو صدائے حصحص الحق بگفتا نیست یوسف راگنا ہے منم در عشق اور گم کردہ راہے نخست اور ابوصل خویش خواندم چو کا رمن نداد از پیش اندام بادشاہ نے یوسف (علیہ السلام) کے پاس پیغام بھیجا کہ عورتوں نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے لہٰذا آپ آئیے تاکہ آپ کے سامنے انہیں سزا دوں یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں نے یہ اہتمام اور درخواست اس لئے نہیں کی کہ عورتوں کو سزا دی جائے بلکہ میری غرض اس سے صرف یہ تھی کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کی آبرو میں کسی قسم کی خیانت نہیں کی جس شخص نے مجھ کو مثل فرزند کے پرورش کیا اس پر بات واضح ہوجائے کہ میں نے غائبانہ اس کی عزت و ناموس میں کوئی خیانت نہیں کہ اور تاکہ یہ بھی معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے خیانت کرنے والوں کے حیلہ اور بہانہ کو چلنے نہیں دیا۔ بلکہ اس کو ظاہر کرکے خیانت کرنے والوں کو رسوا کرتا ہے۔ چناچہ عورتوں کا فریب نہ چل سکا۔ آخر کار حق ظاہر ہو کر رہا اور خیانت کا پردہ فاش ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر مجھ سے کوئی خیانت ہوئی ہوتی تو مجھ کو کامیابی نہ ہوتی۔ زلیخا نے اپنے شوہر کے ساتھ خیانت کی تھی اللہ نے اس کی قلعی کھول دی جنہور مفسرین یہ فرماتے ہیں کہ ذلک لیعلم انی لم اخنہ الخ یوسف (علیہ السلام) کا کلام ہے اور مطلب یہ ہے کہ میں نے بادشاہ سے جو درخواست کی کہ پہلے عورتوں سے دریافت کرلیا جائے تب جیل خانہ سے باہر آؤں گا اس درخواست سے میری غرض یہ تھی کہ عزیز مصر کو معلوم ہوجائے کہ میں نے غائبانہ اس کے ناموس میں کسی قسم کی کوئی خیانت نہیں کی۔ اور بعض مفسرین نے ذلک لیعلم انی لم اخنہ۔ الخ کو زلیخا کا کلام قرار دیا ہے اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ زلیخا نے کہا کہ میں نے یہ سچی گواہی اس لیے دی کہ یوسف (علیہ السلام) کو معلوم ہوجائے کہ میں نے غائبانہ اس پر جھوٹ نہیں بولا اور اس کی خیانت نہیں کی اور میں نے یہ اقرار اس لیے بھی کیا کہ اللہ خیانت کرنے والوں کے مکرو فریب کو چلنے نہیں دیتا۔ چناچہ میں نے دیکھ لیا کہ میں نے خیانت کی تھی اور داؤ کھیلا تھا مگر اللہ نے میرا داؤ چلنے نہ دیا اور مجھ کو فضیحت کیا۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ جنہور مفسرین کے نزدیک مختار یہ ہے کہ ذلک لیعلم انی لم اخنہ الخ یوسف (علیہ السلام) کا قول ہے ماقبل میں اگرچہ زلیخا کا کلام تھا مگر زلیخا کے کلام کے بعد اگر یوسف (علیہ السلام) کا کلام ذکر کردیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں فرار کہتے ہیں کہ ایک انسان کے کلام کو دوسرے انسان کے کلام کے ساتھ ملا دینا جائز ہے اگر کوئی قرینہ موجود ہو جیسا کہ ان الملوک اذا دخلوا قریۃ افسدوھا وجعلوا اعزۃ اہلہا اذلۃ۔ بلقیس کا کلام ہے اور پھر اس کے بعد وکذلک یفعلون۔ حق تعالیٰ کا کلام ہے۔ (دیکھو تفسیر کبیر ص 141 جلد 5)
Ayah 12:53

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امّارہ (انسان کو) برائی ہی سکھاتا رہتا ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے۔ بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

مشتمل بر تحدیث نعمت وبیان حقیقت عصمت قال اللہ تعالیٰ حا کیا عن یوسف (علیہ السلام) وما ابری نفسی .... الیٰ .... ان ربی غفور رحیم (ربط) جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنی براعت اور نزاہت ثابت کرنے کے لیے اتنا زور دیا اور فرمایا کہ ذالک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب الخ تو ممکن تھا کہ کوئی یہ شبہ کرے کہ یہ تو ایک قسم کا فخر اور ناز اور غرور و اعجاب اور خود پسندی اور تزکیہ نفس ہے جو عند اللہ ناپسند ہے کما قال اللہ تعالیٰ فلا تزکوا انفسکم اس لئے یوسف (علیہ السلام) نے اس شبہ کے ازالہ کے لیے فرمایا وما ابری نفسی الخ یعنی اس اظہار براءت سے میرا مقصود و اعجاب اور تزکیہ نفس نہیں بلکہ تحدیث بالنعمت مقصود ہے کہ میری یہ عصمت اور یہ عفت محض اللہ کے فضل اور اس کی رحمت اور اس کی توفیق سے ہے۔ (دیکھو تفسیر قرطبی ص 210 جلد 9 و تفسیر روح المعانی ص 2 جلد 13 و تفسیر کبیر ص 142 جلد 5 و تفسیر ابی السعود ص 223 جلد 5 برحاشیہ تفسیر کبیر و تفسیر مظہری ص 38 جلد 5) مطلب یہ ہے کہ معاذ اللہ میں بطور فخریہ نہیں کہہ سکتا کہ میرا نفس بالذات معصیت سے پاک اور بری ہے اور میں بالذات اس بات کا مدعی نہیں کہ بالذات مجھ سے معصیت اور برائی کا صدور ناممکن اور محال ہے کیونکہ برائی کا قصد نفس کی جبلت اور سرشت میں داخل ہے جو نفس بھی گناہ سے بچتا ہے وہ محض اللہ کی رحمت اور عنایت اور توفیق سے بچتا ہے نہ کہ اپنی حول اور قوت سے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ابتداء اپنی عفت اور عصمت کو بتایا تاکہ تہمت سے بالکل یہ بری ہوجائیں پھر اخیر میں غلبہ حیا اور تواضع اور ادب خداوندی کو ملحوظ رکھتے ہوئے عصمت کی حقیقت کو واضح کردیا کہ کسی کی عصمت اور نزاہت ذاتی نہیں بلکہ محض فضل خداوندی ہے اور اللہ کی توفیق و عنایت اور اس کی حفاظت و رحمت کے تابع ہے بغیر اس کی رحمت و عنایت کے کوئی فرد گناہ سے محفوظ نہیں رہ سکتا خوب سمجھ لو کہ عصمت کی حقیقت صرف اللہ کی حفاظت اور رحمت ہے لہٰذا اہل عصمت و عفت کو چاہئے کہ اپنی عفت اور عصمت پر نظر نہ کریں بلکہ اللہ کی رحمت اور حفاظت پر نظر کریں کہ اگر اللہ تعالیٰ حفاظت نہ فرماتے تو معصیت سے محفوظ رہنا ناممکن اور محال ہے لاعاصم الیوم من امر اللہ الا من رحم۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جب یوسف (علیہ السلام) نے خیانت سے اپنی براءت ظاہر فرمائی تو ممکن تھا کہ کسی کو یہ خیال ہو کہ یہ تو فخر اور ناز اور خود ستائی اور اپنے نفس کی پاکی اور صفائی بیان نہیں کرتا یعنی اس گزشتہ قول سے میری یہ غرض نہیں کہ میں اپنے نفس کی پاکیزگی ظاہر کروں کہ میرا نفس پاکیزہ ہے البتہ تحقیق میں خوب جانتا ہوں کہ نفس بالذات برائی کا حکم دینے والا ہے نفس کی طبیعت اور جبلت میں برائی کا میلان رکھا ہوا ہے ایک لمحہ کے لیے بھی نفس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا مگر جس وقت خدا مہربانی کرے تو اس وقت انسان نفس غدار کے شر اور فتنہ سے بچ سکتا ہے صرف اللہ کی رحمت اور عنایت ہی نفس اور شیطان سے حفاظت کرسکتی ہے بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے یوسف (علیہ السلام) نے اول خیانت اور تہمت سے اپنی براءت کو خوب اچھی طرح ثابت کیا اور بعد میں بطور تواضع اور خاکساری یہ فرمایا وما ابری نفسی الخ اشارہ اس طرف فرمایا کہ بندہ کی عصمت اور نزاہت سب اللہ کی رحمت اور عنایت پر موقوف ہے نفس کے جبلی اور ذاتی شر سے محفوظ رہنا بغیر اللہ کی رحمت اور بغیر اس کی حفاظت کے ممکن نہیں اور یہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں کہ میں نے کسی قسم کی خیانت نہیں کی اس سے مقصود اپنی پاکی اور صفائی اور خود ستائی نہیں بلکہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے اپنی رحمت اور توفیق سے مجھ کو نفس کے شر سے محفوظ رکھا میرا یہ فعل بطور تحدیث نعمت ہے واما بنعمت ربک فحدث لذت اور فرحت اور مسرت کے ساتھ اس کی نعمت حفاظت کا ذکر کر رہا ہوں کیونکہ خوب جانتا ہوں کہ آدمی اپنی ذاتی جبلت سے ہر وقت اللہ کی رحمت اور اس کی مغفرت کا محتاج ہے جس درجہ کی رحمت اور عنایت شامل حال ہوگیا اس درجہ کی عصمت اور حفاظت اس کی دستگیر ہوگی کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی عصمت یا عفت کو اپنے نفس کا ذاتی اقتضاء جانے نفس کا ذاتی اقتضاء تو بدی کی ہی طرف ہے اور برائی سے بچنا یہ اللہ کی رحمت اور توفیق سے ہے میں اپنی براءت کے بارے میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ بطور تحدیث نعمت کہہ رہا ہوں کہ اس نے اپنی رحمت سے مجھ کو سوء اور فحشاء سے بالکلیہ محفوظ رکھا اور فخر اور اعجاب یہ بھی ایک قسم کا سوء ہے اس سے بھی اللہ نے مجھ کو محفوظ رکھا اس کہنے میں میری نظر اپنی ذات پر نہیں بلکہ اس کی رحمت اور عنایت پر ہے کہ اگر وہ اپنی رحمت سے میری حفاظت نہ فرمایا تو اندیشہ تھا کہ میں ان کی طرف مائل ہوجاتا۔ ذکر اختلاف مفسرین در تفسیر ایں آیت : جمہور مفسرین نے پہلی آیت ذالک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب وان اللہ لایھدی کید الخائنین اور اس آیت کو یعنی وما ابری نفسی (الخ) کو یوسف (علیہ السلام) کا کلام قرار دیا ہے کیونکہ یہ جملہ غایت درجہ تواضع اور انکساری اور خدا پرستی پر دلالت کرتا ہے جو یوسف (علیہ السلام) ہی کے شایان شان ہے اور زلیخا اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتی تھی بت پرست تھی اور ظاہر ہے کہ ایسا کلام معرفت التیام تو خدا پرست ہی کی زبان سے نکل سکتا ہے اور بت پرست کی زبان سے ایسا کلام کہاں نکل سکتا ہے (دیکھو زاد المسیر لابن جوزی ص 242 جلد 4) اور بعض مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ یہ تمام کلام زلیخا کا ہے جس میں اس نے صراحت کے ساتھ کہہ دیا کہ قصور میرا ہی تھا اور یوسف (علیہ السلام) بری ہیں اور میں اپنے نفس کو بری نہیں بتلاتی بیشک نفس بری باتوں کا حکم دیتا ہے مگر جس پر خدا رحم کرے سو اس کا نفس اس کو بری بات کا حکم نہیں دیتا انہی میں یوسف (علیہ السلام) بھی ہے بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے یعنی گو میں نے گناہ کیا ہے مگر خدا غفور رحیم ہے مجھے امید ہے کہ وہ میرا گناہ معاف فرمائے گا اور میں نے اپنے قصور کا اعلانیہ اقرار اس لیے کرلیا کہ یوسف (علیہ السلام) سمجھ لے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس پر کوئی بہتان نہیں باندھا یہ قول بعض مفسرین کا ہے مگر راجح اور مختار قول یہی ہے کہ اس قسم کا کلام یعنی وما ابری نفسی الخ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کلام اس شخص کا ہے جو متقی اور پرہیزگار ہو اور گناہوں سے بچنے والا اور بھاگنے والا ہو اور پھر بطور تواضع اور خاکساری یہ کہتا ہو کہ میں اپنے آپ کو پاک اور بری نہیں بتلاتا جو کچھ ہوا وہ سب اللہ کی رحمت اور توفیق سے ہوا یہ کلام اس عورت کے مناسب نہیں جس نے اپنی جدوجہد کو اللہ کی معصیت اور شوہر کی خیانت میں خرچ کر ڈالا ہو (دیکھو تفسیر کبیر ص 143 جلد 5)
Ayahs 12:54–68

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤ نگا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحب اعتبار ہو۔

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

(یوسف علیہ السلام) نے کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں۔

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لئے آخرت کا اجرت بہت بہتر ہے۔

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلہ خریدنے کیلئے) آئے تو یوسف (علیہ السلام) نے پاس گئے تو یوسف (علیہ السلام) نے انکو پہچان لیا اور وہ انکو نہ پہچان سکے۔

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

جب یوسف (علیہ السلام) نے انکے لئے ان کا سامان تیار کردیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں۔ اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں ؟

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے۔

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے باپ سے تذکرہ کرینگے اور ہم (یہ کام) کر کے رہیں گے۔

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور (یوسف (علیہ السلام) نے) اپنے خدّام سے کہا کہ ان سرمایہ (یعنی غلہ کی قیمت) ان کے تھیلوں میں رکھدو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل و عیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ یہ پھر یہاں آئیں۔

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ (ابّا) جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لیجائیں ہمارے لئے غلے کی بندش کردی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجئے تاکہ ہم پھر غلہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں۔

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

(یعقوب) نے کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا۔ مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ ان کو واپس کردیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہئے ؟ (دیکھئے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کردی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل عیال کے لئے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کرینگے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ (جو ہم لائے ہیں) تھوڑا ہے۔

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

(یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا کہ جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کا میرے پاس (صحیح وسالم) لے آؤ گے میں اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لئے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے۔

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر تو تم سے روک نہیں سکتا۔ (بیشک) حکم اسی کا ہے۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہل توکل کو اسی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کیلئے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی ٹال نہیں سکتی تھی۔ ہاں وہ یعقوب (علیہ السلام) کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بیشک وہ صاحب علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

یوسف (علیہ السلام) کی شاہ مصر سے ملاقات اور بالمشافہ گفتگو اور تفویض اختیارات سلطنت قال اللہ تعالیٰ وقال الملک ائتونی بہ۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ وکانوا یتقون اور جب بادشاہ کو یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور نزاہت کا کامل یقین ہوگیا اور یوسف (علیہ السلام) کی اس شرط نے کہ عورتوں سے بھی دریافت کرلیا جائے بادشاہ کو اور بھی اطمینان دلا دیا کہ تحقیقات کی شرط وہی آدمی لگا سکتا ہے جس کو اپنی براءت کا کامل یقین ہو اور خواب کی تعبیر اور پھر اس کے متعلق تدبیر سن کر تو بادشاہ حیران ہی رہ گیا اور کہنے لگا اس شخص کو فورا میرے پاس لے کر آؤ ایسے شخص کو تو میں خالص اپنے لیے مقرر کروں گا اور عزیز مصر سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ یعنی براہ راست مجھ سے وابستہ ہوں گے اور عزیز مصر کے ماتحت نہ ہوں گے چناچہ لوگ ان کو بادشاہ کے پاس لائے پس جب بادشاہ نے یوسف (علیہ السلام) سے بالمشافہ باتیں کیں تو ان کی فہم و فراست کو دیکھ کر بالکل ہی گرویدہ ہوگیا اور حکم دیا کہ تحقیق تو آج سے ہمارے یہاں بڑے مرتبہ والا اور بڑا معتبر ہے بعد ازاں خواب کی تعبیر کا ذکر آیا بادشاہ نے کہا کہ اتنے بڑے قحط کا انتظام بڑا بھاری کام ہے یوسف (علیہ السلام) نے اس کی تدبیر اور انتظام کا طریقہ بتلایا بادشاہ نے کہا کہ اس کار عظیم کا کون کفیل اور ذمے دار بنے گا یہ انتظام کس کے سپرد کیا جائے اے یوسف (علیہ السلام) ! میں دیکھتا ہوں کہ تم مجسم صدق اور امانت ہو تم سے کسی قسم کی خیانت کا اندیشہ نہیں صدق اور امانت اور فہم و فراست تمہارے چہرہ سے عیاں ہے دل تمہاری طرف مائل ہے جیسا اطمینان تم پر کیا جاسکتا ہے ویسا اطمینان دوسرے عمال اور حکام پر نہیں کیا جاسکتا یوسف (علیہ السلام) نے کہا اچھا مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجئے یعنی ملکی پیداوار اور اس کی آمدوخرچ کا افسر مجھے مقرر کر دیجئے تاکہ یہ خزانے صحیح حق داروں کو پہنچا سکوں اور اس طرح سے بندگان خدا کو آسانی کے ساتھ روزی پہنچا سکوں اور عجب نہیں کہ ساتھ ساتھ یہ بھی خیال کیا ہو کہ یہ عدل و انصاف دعوت حق کا ذریعہ اور وسیلہ بنے گا اور فرمایا کہ تحقیق میں خداداد علم اور فہم سے بڑا حفاظت کرنے والا ہوں بیت المال کو خیانت سے محفوظ رکھوں گا جن سے مال لینا ہے ان سے لیا جائے گا اور جن کو دینا چاہئے ان کو دیا جائے گا اور بڑا خبردار واقف کار ہوں یعنی حق تعالیٰ نے مجھ میں انتظام کی صلاحیت رکھی ہے اگر آپ نے مجھ کو مقرر کردیا تو انشاء اللہ ایسا انتظام کروں گا کہ خدا کے فضل سے کوئی بھوکا نہیں مرے گا چناچہ بادشاہ نے اس کو منظور کیا اور یوسف (علیہ السلام) کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوا اور ان کو اپنا وزیر باتدبیر بنایا اور سلطنت کا مختار کردیا اور عزیزی مصر کو معزول کرکے سلطنت کے تمام انتظامات ان کے سپرد کردیئے اور مصر کے تمام خزائن پر متصرف ہوگئے اور تمام قلمرو میں انہی کا حکم چلنے لگا چند روز کے بعد عزیز مصر کا انتقال ہوگیا اور یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کے لقب سے مشہور ہوئے کقولہ تعالیٰ فیما بعد قالوا یایھا العزیز الخ اور عزیز مصر کے بعد بادشاہ نے یوسف (علیہ السلام) کی عزیز مصر کی بیوی زلیخا سے شادی کردی جس سے دو لڑکے پیدا ہوئے ایک افرائیم اور دوسرا میشا (تفصیل کے لیے دیکھو تفسیر قرطبی ص 212 جلد 9 و زاد المسیر ص 244 جلد 4 و تفسیر ابن کثیر صفحہ 482 جلد 2) نکتہ : خوب سمجھ لو کہ خلیفہ راشد وہی ہے جو حفیظ وعلیم کا مصداق ہو پھر ابوبکر ؓ و عمر ؓ کے حال پر ایک نظر ڈالو ! یوسف صدیق (علیہ السلام) کا نمونہ نظروں کے سامنے آجائے گا۔ اور ہم نے ایسے ہی عجیب طور پر یوسف (علیہ السلام) کو زمین مصر میں جگہ دی یعنی اس ملک میں حکومت اور تمکنت عطا کی اور اقتدار اور اختیار دیا کہ اس زمین میں سے جہاں چاہیں رہیں۔ قید خانہ کی تنگی اور تکلیف کے بعد یہ وسعت اور فراخی عطا کی کہ جہاں چاہیں رہیں سارا ملک ان پر فریفتہ ہے اور یہ سب اللہ کی رحمت ہے اور ہم جس کو چاہیں اپنی رحمت پہنچائیں کوئی ہمارا ہاتھ پکڑنے والا نہیں اور ہم نیکو کاروں کے ثواب کو ضائع نہیں کرتے اور البتہ اہل ایمان اور اہل تقویٰ کو جو اجر آخرت میں ملے گا وہ اس دنیاوی اجر سے کہیں بہتر ہے جس کے سامنے دنیا کی دولت و ثروت سب ہیچ ہے یعنی یوسف (علیہ السلام) کو جو دنیاوی سلطنت ملی وہ اس کی رحمت کا ایک حصہ ہے یوسف (علیہ السلام) نیک و کاری اور پرہیزگاری کی بدولت قعر چاہ سے نکل کر تخت جاہ پر پہنچے اور آخرت میں جو اجر وثواب ان کے لیے مقدر ہے وہ رہم و گمان سے بالا اور برتر ہے۔ دنیا وعقبی کسے قدر یافت کہ او جانب صبر وتقویٰ شناخت خدا کی قدرت کا کرشمہ دیکھو کہ کہاں سے کہاں پہنچایا کنوئیں سے نکال کر مصر کا فرمانروا بنایا شاہ عبد القادر (رح) فرماتے ہیں یہ ” جواب ہوا ان کے سوال کا کہ اولاد ابراہیم (علیہ السلام) اس طرح شام سے مصر میں آئی اور بیان ہوا کہ بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کو گھر سے دور پھینکا تاکہ ذلیل ہوں اللہ نے عزت دی اور ملک پر اختیار دیا ایسا ہی ہوا حضرت محمد ﷺ کو “ (موضح القرآن)