12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 12:21–29

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہ اس کو عزت و اکرام سے رکھو ' عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سر زمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکو کاروں کو ہم اسی طرح بدلا دیا کرتے ہیں۔

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے انکو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یو سف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے وہ (یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے۔

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور اس عورت نے انکا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا اور اگر وہ پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لئے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بیشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے۔

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتہ پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا۔ تو عورت بو لی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اسکی اسکے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے ؟

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنیوالے نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹاہو تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا ہے۔

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر کرتہ پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

جب اس کا کرتہ دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے (اور) کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں۔

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

یوسف اس بات کا خیال نہ کر اور (زلیخا) تو اپنے گناہ کی بخشش مانگ بیشک خطا تیری ہی ہے۔

ذکر الطاف و عنایات خداوندی با یوسف صدیق (علیہ السلام) و قصہ او بازن عزیز مصر قال اللہ تعالیٰ وقال الذی اشترہ من مصر ..... الیٰ .... انک کنت من الخطئین۔ (ربط) آغاز سورت میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ارادہ خداوندی یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنا برگزیدہ بندہ بنائے اور علم تعبیران کو سکھائے اور ان کے آباؤ اجداد کی طرح ان پر اپنی نعمتیں پوری کرے بعد ازاں بھائیوں کا ماجرا ذکر کیا کہ بھائی کو لے جا کر کنوئیں میں ڈالا اور غلام بن اکر گنتی کے دراہم میں فروخت کردیا۔ اب ان آیات میں حق جل شانہ اپنے الطاف و عنایات کا ذکر کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی رحمت سے یوسف (علیہ السلام) کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ زندان چاہ سے نکال کر قصر شاہی میں پہنچایا تاکہ شہزادوں کی طرح ناز و نعم میں پلیں۔ او نتخذہ ولدا اور وزیر اعظم کے گھر میں رہ کر سلطنت کے رموز اور اشاروں کو سمجھیں۔ (1) اس دوران میں ایک ابتلا پیش آیا کہ عزیز مصر کی بیوی نے ان کے دامن عصمت کو داغدار کرنا چاہا مگر یوسف (علیہ السلام) اس کی طرف مائل نہ ہوئے اور عفت و نزاہت میں نمونہ ملائکہ ثابت ہوئے۔ ما ھذا بشرا ان ھذا الا ملک کریم۔ (2) اس کے بعد جیل خانہ کا ابتلا پیش آیا جس میں پہنچ کر ولنعلمہ من تاویل الاحادیث۔ کا جلوہ نمودار ہوا۔ (3) پھر جیل خانہ سے رہائی کے بعد عزیز مصر بنے اس وقت انبیاء اور صدیقین کا سازہد۔ ظاہر ہوا کہ مصر کے خزائن یوسف صدیق (علیہ السلام) کے ہاتھ میں ہیں اور زندگی فقیرانہ اور درویشانہ تھی۔ (4) پھر سلطنت پر قحط سالی کا دور آیا جس کا انتقام پہلے ہی سے رویا کے ذریعے بتلا دیا گیا۔ (5) پھر آخروی بھائی جنہوں نے کنوئیں میں ڈالا تھا اور غلام بنا کر دراہم معدودہ میں فروخت کیا تھا یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں غلبہ لینے کے لیے آئے تو ایک نے دوسرے کو پہچان لیا اور یوسف (علیہ السلام) نے اس وقت بھائیوں کی گذشتہ بیوفائیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ بلکہ مدارات اور احسان اور تواضع میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا یہ بھی ایک عظیم ابتلاء کا وقت تھا۔ ممکن تھا کہ طبیعت بشریہ اگر انتقام پر آمادہ نہ ہوتی تو شکوہ شکایت سے تو گریز نہ کرتی مگر پیغمبر انہ اور صدیقانہ حلم اور کرم نے اس وقت زبان سے لاتثرب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم وھو ارحم الراحمین نکلوایا۔ اب اس تمہید کے بعد آیات کی تفسیر پڑھئے۔ اور قافلہ والے یوسف (علیہ السلام) کو بھائیوں سے خرید کر مصر لے گئے اور فروخت کرنے کے لئے ان کو بازار میں کھڑا کردیا۔ اس بےمثال حسن و جمال کو دیکھ کر دنیا حیران رہ گئی۔ آراستہ آں یار بہازار برآمد فریاد و فغاں ازدر ودیوار برآمد خریدار قیمت بڑھانے لگے نوبت باینجا رسید کو یوسف (علیہ السلام) کے برابر تول کر سونا اور چاندی اور مشک و دیبا دینے پر تیار ہوئے عزیز مصر نے بیش بہا قیمت دے کر ان کو خرید لیا یہ عزیز مصر کے تمام خزانوں کا مالک تھا اور بادشاہ مصر کا بہت مقرب تھا اس کا نام قطفیر تھا اور اس کی بی بی کا نام زلیخا تھا اور بعض کہتے ہیں کہ اس کا نام راعیل تھا۔ خرید کر یوسف (علیہ السلام) کو گھر لے گیا اور اہل مصر میں سے جس شخص نے ان کو خریدا یعنی عزیز مصر نے۔ اس لیے ان کو اپنے ساتھ لاکر اپنی بیوی کے سپرد کیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ اس کا ٹھکانا اچھا کرنا۔ یعنی عزت و حرمت کیساتھ رکھنا غلام کی طرح اس کو نہ رکھنا شاہد یہ ہم کو نفع پہنچا دے یا ہم اس کو اپنا بیٹا بنا لیں یہ لڑکا بڑا ہونہار معلوم ہوتا ہے۔ جب اولاد نہیں تو اس کو بیٹا بنا لیں گے۔ عزیز مصر لاولد تھا اس لیے یہ خواہش ظاہر کی کہ ہم یوسف (علیہ السلام) کو اپنا بیٹا بنا لیں گے اس لئے کہ فہم و فراست کے آثار یوسف (علیہ السلام) کے چہرے سے نمایاں تھے۔ نفع پہنچانے سے مراد یہ ہے کہ امور سلطنت میں ہمارا معین و مددگار بنے، عبد اللہ بن مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں سب سے زیادہ صاحب فراست تین شخص گزرے ہیں اول عزیز مصر جس نے یوسف (علیہ السلام) کو دیکھتے ہی تاڑ لیا اور ان کی فہم و فراست کا اندازہ لگا لیا اور اپنی بیوی سے کہا اکرمی مثوہ عسی ان تنفعنا او نتخذہ ولدا۔ دوئم حضرت شعیب (علیہ السلام) کی صاحبزادی جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوت و امانت کو دیکھ کر اپنے باپ کو یہ مشورہ دیا یابت استاجرہ ان خیر من استاجرت القوی الامین۔ اے باپ ان کو نوکر رکھ لیجئے۔ بہترین شخص جس کو نوکر رکھا جائے وہ وہ ہے کہ جو صاحب وقت اور صاحب امانت ہو۔ سوئم حضرت ابوبکر صدیق ؓ جنہوں نے حضرت عمر ؓ کی فہم و فراست کا اندازہ لگا لیا اور اپنے بعد ان کو اپنا جانشین بنایا۔ اور اسی طرح ہم نے رفتہ رفتہ یوسف (علیہ السلام) کو زمین مصر میں جمایا اور اس ملک میں ان کے قدم جمائے یعنی جس طرح ہم نے ان کو قتل اور کنوئیں سے نجات دی اور عزیز کے دل میں ان کی محبت ڈالی اسی طرح ہم نے ان کو عزت اور کرامت کی جگہ دی اور عزت کے بلند مقام تک ان کو پہنچایا تاکہ ہم ان کو خوابوں کی تعبیر سکھلائیں۔ مطلب یہ ہے کہ نجات دینے سے مقصد یہ تھا کہ ظاہری عزت و رفعت کے ساتھ علم تعبیر کی دولت سے بھی نوازیں کیونکہ رؤیائے صالحہ مبادی نبوت میں سے ہیں جو امور غیبیہ اور اسرار الٰہیہ کے انکشاف کا ذریعہ ہیں جس سے آئندہ واقعات کا علم ہوتا ہے پس علم تعبیر کے ذریعہ سے وہ آئندہ پیش آنے والے واقعات و حوادث کا پیش آنے سے پہلے انتقام سوچ لیں چناچہ یہی علم تعبیر جیل خانہ سے نکلنے کا ذریعہ بنا۔ اور اللہ تعالیٰ غالب ہے اپنے کام اور ارادہ میں کوئی اس کے ارادہ کو روک نہیں سکتا و لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں کہ اللہ کا ارادہ کیا ہے اور وہ کس طرح پورا ہوگا۔ بھائیوں نے ان کی ذلت کا ارادہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی عزت و رفعت کا ارادہ کیا اور ان کو خوابوں کی تعبیر سکھائی اور اس علم کا ظہور جیل خانہ میں ہوا۔ جبکہ ساقی نے رہائی کے بعد بادشاہ سے یوسف (علیہ السلام) کے تعبیر خواب کا حال بیان کیا اور یہی علم تعبیر بادشاہ کے تقرب کا ذریعہ بنا نکتہ : کمالات حقیقیہ دو ہیں ایک علم اور ایک قدرت اور ولنعلمہ من تاویل الاحادیث سے کمال علم کی طرف اشارہ ہے وکذلک مکنا لیوسف سے صفت قدرت و مکنت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو صفت علم اور صفت قدرت سے خاص طور پر نوازا اور جب یوسف (علیہ السلام) اپنی پوری جوانی کو پہنچے یعنی قوائے جسمانیہ و روحانیہ کے اعتبار سے حد کمال کو پہنچے تو ہم نے بلا کسی استاد اور معلم کے خاص علم و حکمت عطا کیا۔ اور حکمت سے مراد یا تو نبوت ہے یا وہ علم صحیح مراد ہے کہ جو انسان کو جہالت اور خطاء سے اور نفس کو شہوات سے محفوظ رکھے۔ (زاد المسیر لابن الجوزی ص 200 ج 4) اصطلاح شریعت میں حکمت اس علم صحیح کو کہتے ہیں جس کے ساتھ عمل صالح بھی مقرون ہو ورنہ وہ علم نہیں بلکہ جہالت ہے (روح المعانی ص 187 جلد 12) اور بعض کہتے ہیں کہ عالم وہ ہے جو جانتا ہو اور حکیم وہ ہے جو مقتضائے علم پر چلتا ہو اور اسی طرح ہم نیکو کاروں کو انعام اور جزاء دیتے ہیں۔ جو صدق اور اخلاص کے ساتھ اللہ کی اس طرح عبادت کرتے ہوں گویا کہ وہ اللہ کو دیکھ رہے ہیں یعنی جس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو علم اور حکمت اور ظاہری عزت و رفعت سے نوازا اسی طرح ہم دیگر محسنین کو اپنی نعمتوں سے نوازتے ہیں معلوم ہوا کہ یوسف (علیہ السلام) کو اس وقت مقام احسان یعنی مقام ان تعبد اللہ کانک تراہ حاصل تھا اور اللہ کا یہ احسان ان کے اس احسان کی جزاء تھی (بعد ازاں ایک ابتلاء پیش آیا) اور اس عزت و کرامت اور عطاء علم و حکمت کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ایک ابتلا پیش آیا جس سے یوسف (علیہ السلام) کی کمال عفت و عصمت اور کمال تقویٰ اور نزاہت روز روشن کی طرح واضح ہوگئی ایک طرف تو الطاف ربانیہ سے ان کی تربیت ہو رہی تھی اور دوسری طرف عزیز مصر کی بیوی زلیخا نے ان کے سامنے ایک نہایت مزلتہ الاقدام موقع امتحان و آزمائش کھڑا کردیا۔ یعنی زلیخا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال پر مفتون ہوگئی اور جس عورت کے گھر میں یوسف (علیہ السلام) رہتے تھے۔ یعنی زلیخا۔ عزیز مصر کی بیوی جو ہر وقت ان کے حسن و جمال کو دیکھتی تھی۔ بالآخر ان پر فریفتہ ہوگئی اس نے اپنا مطلب حاصل کرنے کے لئے یوسف (علیہ السلام) کو پھسلانا چاہا کہ وہ مقام عفت و نزاہت سے پھسل کر زلیخا کی طرف مائل ہوجائیں۔ بہرحال زلیخا کا مقصد یہ تھا کہ یوسف (علیہ السلام) کو ان کی ذات سے ہٹا دے اور پھسلا دے اور سب دروازے بند کر دئیے کہ یوسف کہیں نکل کر بھاگ نہ جائیں۔ اور اس کے بعد بولی ادھر آجا میں تجھ ہی کو کہہ رہی ہوں یوسف (علیہ السلام) نے جب یہ حال دیکھا کہ بھاگنے کے لیے راستہ ہی نظر نہیں آتا تو گھبرا کر (اول) تو یہ کہا کہ خدا کی پناہ۔ اللہ مجھے اس کام سے پناہ دے جس کی طرف تو مجھے بلاتی ہے جس کی قباحت اور شناعت میں کوئی شبہ نہیں (دوم) یہ کہ بیشک وہ شخص جس نے مجھے خریدا ہے یعنی تیرا شوہر وہ میرا مربی اور محسن ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا اس کے احسان کے بدلہ میں میں اس سے برائی نہیں کرسکتا۔ ولی نعمت کے حق نعمت کی رعایت عقائد و شرعا فرض اور لازم ہے اس لیے میں اس کے حرم میں خیانت کے ساتھ دست درازی نہیں کرسکتا۔ (سوم) یہ کہ ظالم لوگ یعنی جو لوگ حق کو نہ پہچانیں اور نیکی کے بدلہ بدی کریں وہ فلاح نہیں پاتے پس اگر معاذ اللہ میں بھی ایسا کروں تو ظالم ٹھہروں گا اور فلاح نہ پاؤں گا۔ لہٰذا تجھ کو بھی چاہئے کہ اس برے کام سے بھاگ کر اللہ کی پناہ میں داخل ہوجا اور سمجھ لے کہ زنا اپنے اوپر بھی ظلم ہے اور شوہر پر بھی ظلم ہے۔ ناظرین کرام نے ان آیات سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگا لیا ہوگا کہ اگر زلیخا پر فطرت بشری اور نفس امارہ کا غلبہ تھا تو یوسف (علیہ السلام) پر خداداد علم و حکمت اور پیغمبرانہ عصمت و نزاہت کا غلبہ تھا۔ خود بھی اس برائی سے محفوظ ہیں اور اس کو بھی وعظ و نصیحت فرما رہے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا کہ زلیخا نے تو جال ہی بچھا ڈالا ہے تو گھبرا کر معاذ اللہ کہا اور اللہ کی پناہ میں داخل ہوگئے اور جس نے خدا کی پناہ لی اس پر کس کا وار چل سکتا ہے۔ اور پھر یہ فرمایا۔ انہ ربی احسن مثوای اور پھر یہ فرمایا انہ لا یفلح الظالمون۔ ناظرین غور فرمائیں کہ دلائل یوسفی کی یہ ترتیب بھی یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال کا ایک نمونہ ہے دلائل کی یہ ترتیب غایت درجہ مستحن ہے اب آگے پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی کمال عفت کا بیان ہے اور البتہ تحقیق فکر کی اس عورت نے یوسف (علیہ السلام) کو پھانسنے کی۔ اور یوسف (علیہ السلام) نے فکر کی اس کے دفع کرنے کی اور اپنے سے ہٹانے کی اور وہاں سے بھاگنے اور اس کے جال سے نکلنے کی۔ اگر یوسف (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کی دلیل اور حجت کو اور اپنے رب کریم کی عظمت اور کبریائی کو نہ دیکھا ہوتا تو ایسے وقت میں ثابت قدم رہنا بہت مشکل تھا کیونکہ اسباب اور دواعی سب موجود تھے اور مانع کوئی موجود نہ تھا مگر جس نے خدا کی حجت اور دلیل کو دیکھ لیا ہو اور زنا اور بدکاری کی قباحت اور شناعت اس پر روز روشن کی طرح واضح ہو اور خدا کی عظمت اور جلال اس کے سامنے ہو وہ نفس اور شیطان کے جال میں کہاں پھنس سکتا ہے جس پر خدا کی دلیل اور برہان سے زنا کی حرمت اور شناعت منکشف ہوجائے وہ برے کام سے متنفر اور بیزار ہو کر اسی طرح بھاگتا ہے۔ دیکھ لو اسی طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنی برہان دکھلائی اور اپنی پناہ میں لے لیا۔ تاکہ ہم اس سے برائی اور بےحیائی کو پھیر دیں یعنی جو برائی اور بےحیائی یوسف (علیہ السلام) کے پاس آنا چاہتی ہے ہم اس کو یوسف (علیہ السلام) کے قریب بھی نہ آنے دیں تاکہ اس کء دامن عفت و عصمت پر کوئی دھبہ نہ لگ جائے کیونکہ وہ بلاشبہ ہمارے ان معصوم اور مخلص بندوں میں سے ہیں جن پر شیطان کا قابو نہیں چلتا اور دوسری جگہ اس طرح آیا ہے فبعزتک لاغوینھم اجمعین الا عبادک منھم المخلصین اس آیت میں شیطان کے اقرار کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے یہ اعتراف کیا کہ اس کے لیے خدائے تعالیٰ کے عباد مخلصین کا اغواء ممکن نہ ہوگا اور یوسف (علیہ السلام) بھی خدا کے مخلصین میں سے ہیں اصطلاح قرآن میں عباد مخلصین خدا کے ان چیدہ اور برگزیدہ بندوں کا کہا جاتا ہے کہ جو خالص اللہ اور آخرت کے ہوگئے ہوں اور نفس اور شیطان کا کوئی شائبہ ان میں باقی نہ رہا ہو کما قال تعالیٰ واذکر عبدنا ابراہیم واسحاق ویعقوب اولی الایدی والابصارنا اخلصناہم بخالصۃ ذکری الدادو انھم عندنا لمن المصطفین الاخیار یہ آیت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) کے حق میں ہے اور زیر تفسیر آیت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے ابراہیم اور اسحاق (علیہ السلام) کی طرح عباد مخلصین میں شمار فرمایا ہے۔ پس صاف ظاہر ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) نے کسی سوء اور فحشاء کا قطعا کوئی ارادہ نہیں فرمایا تھا وہ اللہ کے عباد مخلصین میں سے تھے جس پر نفس اور شیطان کا کوئی حربہ کارگر نہیں ہوتا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو عباد مخلصین میں اور اس سے پہلے ان کو عباد مخلصین میں سے فرمایا۔ اس قسم کے تمام اوصاف مدح یوسف (علیہ السلام) کی عصمت کے دلائل ہیں معلوم ہوا کہ یوسف (علیہ السلام) ہر گناہ سے پاک اور بری رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعہ میں یوسف (علیہ السلام) سے کوئی کلمہ توبہ اور استغفار کا منقول نہیں یہ ناممکن ہے کہ نبی اور صدیق سے کوئی امر خلاف اولیٰ سرزد ہو اور وہ توبہ اور استغفار نہ کرے اور لولا ان را برھان ربہ۔ کے بعد حق تعالیٰ شانہ کا یہ فرمانا لنصرف عنہ السوء والفحشاء تاکہ ہم یوسف (علیہ السلام) سے سوء اور فحشاء کو دور رکھیں یہ اس امر کی دلیل ہے کہ سوء اور فحشاء یوسف (علیہ السلام) کی طرف آنا چاہتے تھے اللہ نے سوء کو دور رکھا اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس نہ آنے دیا۔ معاذ اللہ یوسف (علیہ السلام) سوء اور فحشاء کی طرف مائل نہ تھے ورنہ اس طرح فرماتے لنصرفہ عن السوء والفحشاء۔ کہ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو سوء اور فحشاء سے دور رکھا اور یوسف (علیہ السلام) کو سوء اور فحشاء کے پاس جانے سے باز رکھا۔ پس یہ تعبیر اس امر کی صریح دلیل ہے کہ سوء اور فحشاء چل کر یوسف (علیہ السلام) کی طرف آنا چاہتے تھے معاذ اللہ یوسف (علیہ السلام) سوء اور فحشاء کی طرف نہیں جا رہے تھے جو کسی کی طرف ناجائز قدم اٹھائے اس کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اس کو آنے سے اور اندر داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے پس خوب سمجھ لو کہ سوء اور فحشاء یوسف صدیق (علیہ السلام) کی بارگاہ عفت و عصمت کی طرف قدم اٹھانا چاہتا تھا خداوند قدوس نے ان کو آنے سے روک دیا معاذ اللہ اگر یوسف (علیہ السلام) صدیق کے ارادہ میں کوئی حرکت ہوتی تو یوں فرماتے کہ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو سوء اور فحشاء کی طرف جانے سے روک دیا پس یہ آیت اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے کسی سوء اور فحشاء کا قصد نہیں کیا اس لیے کہ برے کام کا ہم اور قصد بھی سوء اور فحشاء ہے اور اس آیت میں یہ بتلا دیا کہ اللہ کریم نے سوء اور فحشاء کو یوسف (علیہ السلام) سے دور رکھا۔ اور علیٰ ہذا شروع آیت میں یہ فرمایا کہ ورا ودتہ التی ھو فی بیتھا عن نفسہ۔ یہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا ارادہ امراۃ العزیز کے ارادہ سے مختلف تھا کیونکہ مراودت۔ باب مفاعلت کا صیغہ ماضی ہے جس کا مصدر مراودت ہے بروزن مقاتلت اور مضاریت اور تمام کتب لغت اور صرف میں یہ تصریح ہے کہ باب مفاعلت مقابلہ اور مشارکت کے لیے آتا ہے مقاتلت کے معنی قتل میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا اور مفاریت کے معنی ضرب میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا مخادعت ایک دوسرے کو دھوکہ دینا اور اسی طرح مراودت کے معنی سمجھو کہ جو ” رود “ بمعنی طلب سے مشتق ہے کہ طلب اور ارادہ میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا یک طرفہ طلب کا نام ارادہ ہے جب طلب اور خواہش میں دو طرفہ مقابلہ ہو تو لغت میں اس کا نام مراودت ہے تو لفظ ” راودتنی “ خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دونوں کی طلب مختلف تھی۔ طلب اور خواہش میں دونوں کا مقابلہ شروع ہوا۔ یوسف (علیہ السلام) کی طلب اور تھی اور زلیخا کی طلب اور تھی۔ زلیخا یہ چاہتی تھی کہ یوسف (علیہ السلام) کو پھسلا کر اس کی ذات قدسی صفات سے ہٹا کر اپنی طرف کھینچ لے۔ کما قال اللہ تعالیٰ سنراود عنہ اباہ۔ اس آیت میں صاف ظاہر ہے کہ باپ کی طلب سے مختلف تھی۔ اور ولقد ھمت بہ وھم بھا۔ کا لفظ بھی اس پر دلالت کرتا ہے۔ کہ امرأت العزیز اور یوسف (علیہ السلام) دونوں کا فکر اور ھم بالکل ایک دوسرے سے مختلف اور جدا تھا ہر ایک کو اپنی اپنی فکر تھی۔ امرأت العزیز کو اپنے مطلب کی فکر تھی اور یوسف (علیہ السلام) صدیق کو اس کے دفعیہ کا فکر تھا حق جل شانہ نے امرأۃ العزیز کے ھم کو علیحدہ ذکر فرمایا۔ ولقد ھمت بہ وھم بھا۔ فرمایا اور یہ نہیں فرمایا کہ ولقد ھما کہ دونوں نے قصد اور ارادہ کیا معلوم ہوا کہ دونوں کا قصد اور ارادہ ایک دوسرے سے مختلف تھا۔ قرآن کریم میں ہے۔ ومکروا ومکر اللہ۔ ومکروا مکرا ومکرنا مکرا۔ انھم یکیدون کیدا واکید کیدا۔ ان آیات میں حق تعالیٰ نے کافروں کے مکروکید کو علیحدہ ذکر فرمایا ہے اور کید ایک قسم کے نہ تھے اسی طرح یہاں سمجھو کہ ولقد ھمت بہ وہم بھا۔ کا مطلب یہ ہے کہ زلیخا نے اپنے مطلب کی فکر کی اور یوسف (علیہ السلام) نے اس کے مقابلہ اور دفع کی فکر کی ہے ہر ایک کا ھم دوسرے سے مختلف اور جدا تھا۔ چناچہ شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ روحانی اور کشفی طور پر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے قصہ میں یہ فرمایا ہے ولقد ھمت بہ وہم بھا اور اس ھم کی کوئی تعین نہیں فرمائی بظاہر اشتراک معلوم ہوتا ہے یوسف (علیہ السلام) نے جواب میں یہ فرمایا۔ نعم صدقت لکن فی اللفظ دون المعنی فانھا ھمت بی فتعمدنی علی ما کانت ارادت منی وھمت انا بھا لا قھرھا بالدفع عن ذالک فالاشتراک فی طلب القھر منی و منھا۔ ہاں تو نے سچ کہا لیکن وہ اشتراک صرف لفظ میں ہے نہ کہ معنی میں اس نے یہ ارادہ کیا کہ مجھے اپنے مطلب پر مجبور کرے اور میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اسکے دفع کرنے میں غالب آجاؤں پس اشتراک طلب قہر اور غلبہ میں ہے مگر ہر ایک کا مقصد اور مطلب الگ الگ اور جدا جدا ہے۔ اور فرمایا کہ دلیل اس کی یہ ہے کہ خود امرأۃ العزیز نے اقرار کیا الان حصحص الحق انا راودتہ عن نفسہ۔ اور میرے قصہ میں کسی جگہ قرآن میں یہ نہیں آیا کہ انا راود تھا عن نفسھا۔ اور یہ فرمایا کہ میں کیسے اس کا ارادہ کرتا اللہ نے مجھے اپنی برہان دکھلائی۔ (دیکھو۔ الیواقیت والجواہر ص 13 جلد 2) نیز انبیاء کرام سے اگر ذرا بھی بھول چوک ہوجاتی ہے تو اس کو اتنا عظیم سمجھتے ہیں کہ سالہا سال تک توبہ استغفار میں لگے رہتے ہیں اور اس واقعہ میں حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ایک لفظ توبہ استغفار کا منقول نہیں ہوا کیونکہ اس واقعہ میں ان سے کوئی غلطی اور لغزش ظہور میں نہیں آئی۔ امام رازی (رح) تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ یہ تو ناممکن ہے کہ دونوں کا ھم اور قصد ایک ہی قسم کا ہو لہٰذا ضروری ہوا کہ ہر ایک کے ھم کو اس کے قصد پر محمول کیا جائے جو اس کے مناسب ہو پس عورت کے لائق یہ ہے کہ لقد ھمت بہ میں اس کے قصد کو تحصیل لذت پر محمول کیا جائے اور ھم بھا میں خدا کے برگزیدہ بندہ کے ھم کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور دفع مصیبت کے ھم پر محمول کیا جائے۔ لہٰذا وھم بھا۔ کے معنی یہ ہونگے کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے نفس سے اس امر قبیح کے دفع کرنے کا ارادہ فرمایا۔ (تفسیر کبیر ص 122 ج 5) اور اسی کے قریب قریب ابن انباری (رح) کا قول ہے جس کو ابن جوزی (رح) نے نقل کیا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے اس کے مارنے اور دفع کرنے کا ارادہ فرمایا۔ مگر اللہ کریم کی برہان کو دیکھ کر خیال آیا کہ مارنا مناسب نہیں ورنہ زلیخا ان پر یہ الزام قائم کرے گی کہ اس نے مجھے اس لیے مارا تھا۔ (دیکھو زاد المسیر ص 206 جلد 4) اور بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ وھم بھا لولا ان را برھان ربہ۔ کا جواب مقدم ہے جس سے آیت کا مطلب یہ ہوجاتا ہے کہ اگر وہ اپنے پروردگار کی برہان نہ دیکھ لیتے۔ تو وہ بھی ارادہ کرلیتے مگر چونکہ انہوں نے خدا کی برہان کو دیکھ لیا تھا اس لیے ارادہ بھی نہیں کیا جیسا کہ ان کا دت لتندی بہ لولا ان ربطنا میں جواب لولا مقدم ہے اور ان کاد لیضلنا عن الھتنا لولا ان صبرنا علیہا میں بھی لولا کا جواب مقدم ہے اور بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ ھم کے معنی قصہ اور ارادہ کے نہیں مگر محض خیال آجانے کے معنی مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ بمقتضائے بشریت دل میں بےاختیار خیال آیا مگر انہوں نے خدا کی برہان دیکھ کر اس پر عمل نہیں کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بالکل یہ محفوظ رکھا۔ جیسے روزہ دار کو گرمی میں بےاختیار پانی کا خیال آجاتا ہے مگر وہ پانی پیتا نہیں اسی طرح سمجھو کہ یوسف (علیہ السلام) کے دل میں اگر ایسا خیال آیا تو وہ خیال محض غیر اختیاری خطرہ کے درجہ میں تھا عزم کے درجہ میں نہ تھا اس لیے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) اس بات سے قطعا معصوم ہیں کہ وہ معصیت کا عزم کریں اور اسی قول کو عامہ مفسرین نے اختیار کیا ہے۔ (زاد المسیر ص 203 ج 4) اور بعض مفسرین نے جو اس بارے میں نازیبا واقعات نقل کیے ہیں وہ سب قطعا غلط ہیں اور آیت کے سیاق وسباق کے بالکل خلاف ہیں کیونکہ قصہ کا تمام سیاق وسباق حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مدح اور منقبت اور ان کی کمال عفت وعصمت کے بیان سے بھرا پڑا ہے اور قرآن کریم کی آیات خود اس کی تکذیب و تردید کے لیے کافی ہیں۔ بالآخر جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ حال دیکھا تو جان بچا کر بھاگنے کا ارادہ کیا فمروا الی اللہ زلیخا ان کے پیچھے دوڑی اور اس طرح آگے پیچھے دونوں دروازے کی طرف دوڑے یوسف (علیہ السلام) اپنے آپ کو معصیت سے بچانے کو دوڑے اور زلیخا ان کو پکڑنے کے لیے بھاگی اور ان کے کرتے کا پیچھے کا دامن اس کے ہاتھ میں آگیا اور پیچھے کی جانب سے ان کا کرتہ چیر ڈالا۔ آگے آگے یوسف (علیہ السلام) تھے اور پیچھے پیچھے زلیخا تھی مگر یوسف (علیہ السلام) کسی طرح دروازے سے باہر نکل گئے اور جوں توں کرکے مکان سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ ادھر یہ دونوں دروازہ پر پہنچے اور ادھر اتفاق سے دونوں نے عورت کے آقا یعنی شوہر کو دروازہ میں کھڑے پایا۔ زلیخا شوہر کو دیکھ کر بہت شرمندہ ہوئی معلوم نہیں کہ بند دروازہ کس طرح کھل گیا بعض کہتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کے کھولنے سے کھل گیا اور بعض کہتے ہیں کہ خود بخود کھل گیا۔ پس جب عورت نے شوہر کو دوازے میں کھڑا پایا تو حقیقت کو چھپانے کے لیے اور فضیحت سے بچنے کے لیے اور اپنے کو بےگناہ ثابت کرنے کے لیے ایک مکر بنایا اور الٹا الزام یوسف (علیہ السلام) پر لگا دیا اور اپنے شوہر سے کہنے لگی کہ کیا سزا ہے اس شخص کی جو تیرے اہل خانہ کے ساتھ بدی کا تصور کرے اور تیری اہلیہ کو بےآبرو کرے یہ کہہ کر اس کو غصہ دلایا مگر یہی کہ ایک دو روز کے لیے اس کو جیل خانہ میں ڈال دیا جائے یا کوئی اور دکھ کی ماد ری جائے۔ عذاب الیم سے دردشدید مراد ہے جس سے تکلیف اور درد ہو زلیخا نے قید اور تکلیف کا تو ذکر کیا مگر یہ نہ کہا کہ اس کو قتل کردیا جائے اس لیے کہ اس کا دل قتل پر آمادہ نہ تھا اور مستقل قیدی بنانے پر بھی آمادہ نہ تھا بلکہ یہ چاہتی تھی کہ صرف دو تین دن کے لیے اس کو جیل خانہ بھیج دیا جائے۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ جو کچھ بطور تعریض میری طرف منسوب کر رہی ہے وہ بالکل جھوٹ ہے بلکہ معاملہ برعکس ہے خود اسی عورت نے مجھ سے خواہش کی اور مجھے پھسلایا اور بہلایا اور اسی نے جبرا وقہرا مجھ کو میرے نفس سے ہٹانا چاہا اور میں نے انکار کیا اور اس کے فتنہ سے اپنی جان بچانے کے لیے بےتحاشا بھاگا اور یہ میرے پیچھے لگی چلی آئی یہاں تک کہ جب میرے اوپر بس نہ چلا تو پیچھے سے میرا کرتہ کھینچا جو اس کھینچا تانی میں پھٹ گیا۔ یہ خواہش تو اس کی تھی۔ معاذ اللہ میری خواہش ہرگز ہرگز نہ تھی۔ زلیخا ہرچہ می گوید دروغ است دروغ او چراغ بےفروغ است یہ جواب سن کر عزیز مصر کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاکی اور طہارت کا یقین واثق ہوگیا اور سمجھ گیا کہ یوسف (علیہ السلام) بالکل بےقصور ہیں سارا قصور اس کی بیوی کا ہے مگر باجود اس کے حق تعالیٰ نے اتمام حجت کے لیے ایک ظاہری شہادت بھی پیدا فرما دی جو پردہ غیب سے ظاہر ہوئی اور اس کی صورت یہ ہوئی کہ اسی عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اگر یوسف (علیہ السلام) کا پیراہن آگے سے پھٹا ہے تو زلیخا سچ کہتی ہے اور یوسف (علیہ السلام) جھوٹوں میں سے ہے اس لیے کہ یہ صورت اس بات کی علامت ہے کہ زلیخا نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے سے دفع کرنے کا قصد کیا تو آگے سے انکا پیراہن پھٹ گیا اور اگر یوسف (علیہ السلام) کا پیراہن پیچھے کی جانب سے پھٹا ہے تو زلیخا جھوٹ کہتی ہے اور یوسف (علیہ السلام) سچوں میں ہے اس لیے کہ یہ حالت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) تو اس سے بھاگنا چاہتے تھے اور زلیخا نے پیچھے سے آکر ان کو اپنی طرف کھینچنا چاہا اس لیے کرتہ پیچھے کی جانب سے پھٹ گیا۔ اور روایات حدیث اوراقوال صحابہ وتابعین سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی ہے کہ گواہی دینے والا ایک شیر خوار بچہ تھا جس نے بطور معجزہ اور خرق عادت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح گہوارہ میں کلام کیا۔ اللہ کی قدرت سے وہ شیر خوار بچہ بولا۔ جس سے یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور نزاہت روز روشن کی طرح واضح ہوگئی اور عزیز مصر کو یقین آگیا کہ یوسف (علیہ السلام) سچے ہیں اور زلیخا جھوٹی ہے اس لئے اب عزیز مصر زلیخا کی طرف متوجہ ہوا اور غصہ میں آکر بولا کہ تحقیق بلاشبہ تم عورتوں کا ایک مکر اور حیلہ ہے اور بیشک تمہارا مکر بہت بڑا ہے بلاشبہ عورتوں کی چالاکیاں غضب کی ہوتی ہیں۔ حکایت : کسی عالم کا قول ہے کہ میں شیطان سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا کہ عورتوں سے ڈرتا ہوں۔ عورتوں کا کید عظیم ہے اور شیطان کا کید ضعیف ہے۔ ان کید الشیطن کان ضعفا۔ نیز شیطان چوروں کی طرح چھپ کر مکر کرتا ہے اور عورت سامنے آکر مکر کرتی ہے پھر یوسف (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا اے یوسف جو ہوتا تھا وہ ہوچکا اب آئندہ کے لیے اس بات سے درگزر کرو اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرو۔ عزیز مصر کا منشاء یہ تھا کہ کسی کو خبر نہ ہو۔ تاکہ میری رسوائی نہ ہو۔ مگر قضاء و قدر نے اس کو ایسا مشہور کیا کہ ہر ایک گھر میں اس کا چرچا ہونے لگا۔ اور عزیز مصر نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو اللہ سے اپنے گناہ کی معافی مانگ یا یہ معنی ہیں کہ تو یوسف (علیہ السلام) سے معانی مانگ کہ تو نے اس کو متہم کرکے ایذاء پہنچائی بیشک تو ہی خطا کاروں میں سے ہے سارا قصہ تیرا ہی ہے اس طرح سے یہ قصہ بظاہر ختم ہوا مگر مخفی نہ رہ سکا۔ خلاصہ کلام یہ کہ یوسف (علیہ السلام) نے کسی سوء اور فحشاء کا ھم اور عزم نہیں فرمایا جیسا کہ آیات ذیل سے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کیونکہ جن جن افراد اور اشخاص کا اس واقعہ سے تعلق ہے وہ حسب ذیل ہیں (1) یوسف (علیہ السلام) (2) زلیخا (3) عزیز مصر (4) زنان مصر (5) شاہد از اہل زلیخا (6) ابلیس لعین (7) خداوند رب العالمین۔ ان میں سے ہر ایک نے یوسف (علیہ السلام) کی برات و نزاہت کی شہادت دی اور اس کا اقرار و اعتراف کیا۔ اب ان ثہادتوں کے بعد ان کی براءت و نزاہت میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔ دعائے یوسف (علیہ السلام) : یوسف (علیہ السلام) نے اپنی براءت و نزاہت کا اس طرح دعوی کیا۔ ہی راودتنی عن نفسی۔ رب السجن احب الی مما یدعونی الیہ۔ اعتراف زلیخا : اور زلیخا نے یوسف (علیہ السلام) کی براءت و نزاہت کا ان لفظوں میں اقرار کیا۔ ولقد راودتہ عن نفسہ فاستعصم۔ الئن حصحص الحق انا راودتہ عن نفسہ وانہ لمن الصدقین۔ عزیز مصر کا اعتراف : قال انہ من کیدکن ان کیدکن عظیم یوسف اعرض عن ھذا واستغفری لذنبک انک کنت من الخطئین۔ شہادت شاہد : وشھد شاھد من اہلہا ان کان قمیصہ قد من قبل فصدقت وھو من الکذبین وان کان قمیصہ قد من دبر فکذبت وھو من الصدقین۔ شہادت زنان مصر : قلن حاش للہ ما علینا علیہ من سوء۔ وقلن حاش للہ ما ھذا بشرا ان ھذا الا ملک کریم شہادت رب العالمین وراودتہ التی ھو فی بیتھا۔ کذالک لنصرف عنہ السوء و الفحشاء انہ من عبادنا المخلصین۔ شہادت ابلیس لعین فبعزتک لاغوینھم اجمعین الا عبادک منھم المخلصین۔ الغرض یہ دس آیتیں ہیں جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی براءت کی شاہد ہیں اب ان دس شہادتوں کے بعد ان کی نزاہت و عصمت میں کوئی شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ (تفسیر کبیر ص 121 جلد 5) ذکر الطاف و عنایات خداوندی علاوہ ازیں حق جل شانہ نے اس قصہ میں یوسف (علیہ السلام) پر جن خصوصی عنایات و الطاف کا ذکر فرمایا ہے وہ بھی دس سے کم نہیں مثلاً (1) رؤیائے صادقہ (2) اور اجتباء (3) اور علم تاویل (4) اور اتمام نعمت (5) اور تمکین زمین مصر (6) اور ایتائے علم و حکمت اور ان کا (7) عباد محسنین (8) اور عباد مخلصین (9) اور صادقین میں سے ہونا (10) اور شھد شاھد من اہلہا۔ یعنی ایک شیر خوار بچہ کا شہادت دینا۔ فتلک عشرۃ کاملۃ۔ یہ دس امور بھی اس امر کی قطعی دلیل ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) نے کسی سوء اور فحشاء کا ھم نہیں فرمایا۔ ضمیمہ متعلقہ بہ تفسیر وشھد شاھد من اہلہا اس شاہد (گواہ) کے بارے میں علماء کے دو قول ہیں ایک قول تو یہ ہے کہ وہ کوئی مرد دانشمند تھا اور زلیخا کا رشتہ دار تھ اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ گہوارہ کا شیرخوار بچہ تھا اور یہی صحیح ہے کیونکہ اس بارے میں ایک صریح حدیث بھی آئی ہے جس کو ابن جریر (رح) وغیرہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بچپن میں چار افراد نے کلام کیا۔ اول فرزند ماشطہ دختر فرعون۔ دوم یوسف (علیہ السلام) کی سچائی کا گواہ۔ سوام جریج راہب کی پاکی کی گواہی دینے والا بچہ۔ چہارم عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) اور اس حدیث کو امام احمد (رح) نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور ابن عباس ؓ اور ابوہریرہ ؓ اور حسن بصری (رح) اور سعید بن جبیر ؓ اور ضحاک ؓ اور ہلال بن لساف (رح) وغیرہم سے بھی یہ منقول ہے کہ وہ شیرخوار بچہ تھا۔ (دیکھو تفسیر قرطبی ص 192 جلد 9 و تفسیر ابن کثیر ص 475 جلد 2) خلاصہ کلام یہ کہ صحیح قول یہ ہے کہ وہ شاہد ایک شیرخوار بچہ تھا اور عورت کا قریبی رشتہ دار تھا اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے اس کو گویا کردیا تاکہ یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور پاکدامنی ظاہر ہوجائے۔
Ayahs 12:30–35

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے۔

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لئے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور انکے لئے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لئے) ہر ایک کو ایک ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو انکا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور بیساختہ بول اٹھیں کہ سبحان اللہ (یہ حسن) یہ آدمی نہیں بزرگ فرشتہ ہے۔

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

تب (زلیخا نے) کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بیشک میں نے اسکو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کریگا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا۔

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

(یوسف نے) دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے انکے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں انکی طرف مائل ہوجاؤ نگا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا۔

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

تو خدا نے انکی دعا قبول کرلی اور ان سے عورتوں کا مکر دفع کردیا۔ بیشک وہ سننے (اور) جاننے والا ہے۔

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر باوجود اسکے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے انکی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصے کے لئے ان کو قید ہی کردیں۔

قصی دعوت زلیخا زنان مصر رامشتمل بر اعتراف عصمت و عفت یوسف (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ وقال نسوۃ فی المدینۃ امرات العزیز .... الیٰ .... لیسجننہ حتی حین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان فرمایا کہ جب عزیز مصر پر یہ واضح ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) بالکل بےقصود ہیں اور یہ سب اس کی بیوی کا خود ساختہ مکر اور فریب ہے تو عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ اعرض عن ھذا۔ کہ اے یوسف (علیہ السلام) اس بات سے درگزر کر اور کسی سے اس کا ذکر نہ کر اور بیوی سے کہا کہ واستغفری لذنبک۔ کہ یوسف (علیہ السلام) سے اپنے قصور کی معافی مانگ۔ عزیز مصر کا مقصود یہ تھا کہ یہ قصہ پوشیدہ رہے اور اس کا چرچا نہ ہو مگر ” نہاں کے ماندآں رازے کزوسازند محفلہا “ بالآخر یہ خبر فاش ہوگئی اور رؤسائے شہر کی بیگمات میں اس کا تذکرہ ہونے لگا کہ عزیز مصر کی بیوی اپنے نوجوان غلام پر مفتون ہوگئی ہے زلیخا کو جب یہ خبر ہوئی کی زنان مصر میرے بارے میں یہ کہتی ہیں تو اس نے عورتوں کی دعوت کرکے ان کو بلا بھیجا تاکہ یہ بھی ایک مرتبہ یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال کو دیکھ لیں۔ اور مجھ کو معذور جانیں۔ محتسب گرمی خورد معذور دارومست را حق جل شانہ نے پہلے واقعہ میں ایک شیر خوار بچہ کی گواہی سے یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور طہارت ظاہر فرمائی اس کے بعد اب دوسرا واقعہ زنان مصر کی دعوت کا پیش آیا۔ اس واقعہ میں عزیز مصر کی بیوی نے سب کے سامنے اس کا صاف اعتراف کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کی مراودت اور طلب میری طرف سے تھی اور یوسف (علیہ السلام) اس بارے میں بالکل معصوم ہے۔ ولقد راودتہ عن نفسہ فاستعصم۔ شیر خوار بچہ کی شہادت کے بعد زنان مصر کی دعوت کا واقعہ قضا و قدر سے ان کی براءت کی مزید شہادت بن گیا کہ خود زلیخا نے اعتراف و اقعار کیا کہ یوسف (علیہ السلام) اس قصہ میں بالکل بری اور بےقصور ہے اور جس عورت نے کود ابتداء میں یوسف (علیہ السلام) پر الزام لگایا تھا۔ ما جزاء من اراد باہلک سوء اب اخیر میں اسی عورت نے سب عورتوں کے سامنے اقرار کرلیا کہ میں نے ہی اس کو پھسلانا چاہا تھا مگر یہ تو فرشتہ کی طرح معصوم نکلا۔ (فاستعصم) عزیز مصر کی بیوی کا مقصد تو دعوت سے دفع ملامت و ندامت تھا مگر قضاء وقدر نے اس کو یوسف (علیہ السلام) صدیق کی مزید براءت و نزاہت کا ذریعہ بنا دیا اور ایسا ذریعہ بنایا کہ حجت پوری ہوگئی اور زلیخا نے سب کے سامنے صاف لفظوں میں اعتراف حقیقت کرلیا چناچہ فرماتے ہیں اور شہر مصر کی رہنے والی چند عورتوں نے یہ بات کہی کہ عزیز مصر کی بیوی یعنی زلیخا اپنے نوجوان غلام کو پھسلاتی ہے اور چاہتی ہے کہ اس کو اس کے نفس قدسی صفات اور ملکی سمات سے ہٹا کر اپنی طرف مائل کرے تحقیق اس کی محبت نے اس کے دل میں جگہ کرلی۔ یعنی اس غلام کی محبت اس عورت کے شقاق قلب (پردہ دل) کے اندر پہنچ گئی۔ بیشک ہم اس کو کھلی گمراہی کے اندر دیکھتے ہیں یعنی عزیز جیسے شوہر کو چھوڑ کر اپنے زرخرید غلام پر فریفتہ ہونا کھلی نادانی ہے آخر وہ کیسا خوبصورت ہے جس پر وہ اس قدر بچھی پڑی ہے۔ پس جب زلیخا نے ان عورتوں کے پر فریب اور مکر آمیز باتوں کو سنا تو اس نے بھی ان کے ساتھ مکر و فریب کیا کہ دعوت کے بہانہ سے ان عورتوں کو بلا بھیجا۔ زنان مصر کا زلیخا کو ملامت کرنا یہ مکر تھا کہ ان عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال کی خبر سنی تو چاہا کہ یوسف (علیہ السلام) کو دیکھیں اس لیے زلیخا کو یہ طعنہ دیا کہ اس حیلہ اور بہانہ سے یوسف (علیہ السلام) کو دیکھنا نصیب ہو زلیخا نے جب ان کی ملامت سنی تو اس نے چاہا کہ اپنی معذوری ان پر ظاہر کرے اس لیے دعوت کے حیلہ سے ان کو مدعو کیا اور ان کے لئے مسندیں تیار کیں قسم قسم کے فرش اور تکیوں سے مجلس کو آراستہ کیا اور قسم قسم کے کھانے اور میوہ جات تیار کیے اور گوشت کے پارچوں اور پھلوں کے کاٹنے کے لیے ہر ایک کو ایک ایک چھری دے دی مصر میں یہ دستور تھا کہ گوشت اور میوؤں کو چھری سے کاٹ کر کھایا کرتے تھے یہ تمام انتظام زلیخا کی طرف سے ان عورتوں کے ساتھ ایک قسم کا مکر تھا اور اس طرح سے جب مجلس آراستہ ہوگئی اور بیگمات نے کھانا شروع کردیا اس وقت زلیخا نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ جو اس وقت کسی دوسرے کمرہ میں تھے اے یوسف ذرا ان عورتوں کے سامنے باہر آجاؤ۔ یوسف (علیہ السلام) نے یہ خیال کیا کہ شاید مجھے کسی کام یا ضرورت کے لیے بلایا جا رہا ہے اور وہ باہر آگئے۔ زخلوت خانہ آں گنج نہفتہ بروں آمد جو گلزار شگفتہ پس جب ان عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا تو ان کو بزرگ شان والا جانا اور ان کے ظاہری اور باطنی حسن و جمال کی ان پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ وہ بےخود ہوگئیں اور اسی بےخوری میں اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے نہ خون بہتے دیکھا اور نہ زخم کا درد و الم محسوس ہوا اور جب ذرا ہوش میں آئیں تو کہنے لگیں ” حاش للہ “ خدا پاک ہے یہ غلامی تو آدمی نہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہی ہے یعنی یہ بےمثال حسن و جمال اور یہ عظمت و جلال انسان میں کہاں یہ تو فرشتوں کے اوصاف ہیں یعنی در حقیقت یہ کوئی فرشتہ ہے جو صورت انسانی میں نمودار ہوا ہے۔ چوں دید ندش کہ جز والا گہر نیست برآمد بانگ بر ایشاں کیں بشر نیست نہ چوں آدم زاب و گل سرشتہ است زبالا آمدہ قدسی فرشتہ است اور اس ظاہری حسن و جمال کے علاوہ چہرہ منور پر تقویٰ اور تقدس اور معصومیت کے آثار نمایاں تھے کہ ان حسین و جمیل عورتوں کے سامنے سے گزرے چلے جا رہے تھے کہ ذرا برابر کسی مہ جبیں کی طرف التفات بھی نہیں گویا کہ فرشتہ سامنے سے گزر رہا ہے اس معصومانہ رفتار نے ان کو اور زیادہ مرعوب کردیا کہ آدمی تو اس حال اور چال کا نہیں ہوسکتا۔ یہ تو کوئی فرشتہ معلوم ہوتا ہے جس میں شہوت نفسانی کا کوئی شائبہ دکھلائی نہیں دیتا۔ اس وقت زلیخا نے ان عورتوں سے کہا کہ پس یہی وہ شخص ہے جس کی محبت میں تم نے مجھ کو طعنہ دیا ایک ہی نظر میں تم پر یہ حال گزرا تو مجھ پر ملامت کیسی۔ زلیخا نے عورتوں پر یہ واضح کردیا کہ میں اس کی محبت میں معذور ہوں اس کے بعد زلیخا نے واقعہ کی حقیقت کو بتلایا جس سے مقصود زنان مصر کے اس قول کی یعنی ان ھذا الا ملک کریم کی تائید تھی کہ تم جو کہتی ہو کہ یہ شخص بشر نہیں بلکہ فرشتہ ہے بالکل حق اور درست ہے اور بیشک میں نے اس کو اس کے نفس سے ہٹانا اور پھسلانا چاہا لیکن وہ معصوم اور فرشتہ کی طرح بالکل محفوظ رہا اور میرے پھسلانے میں نہ آیا اور اس اعتراف حقیقت کے بعد زلیخا نے یوسف (علیہ السلام) کو دھمکی دی اور یہ کہا کہ خیر اب تو جو ہوا سو ہوا البتہ اگر آئندہ اس نے میرے حکم کے موافق کام نہ کیا تو ضرور جیل بھیج دیا جائے گا۔ اور البتہ ہوگا ذلت اٹھانے والوں میں سے اول تو قیدی ذلت ہے پھر امیری اور وزیری محل سرائے سے نکل کر جیل خانہ میں جانا اور بھی ذلت ہے یہ بات زلیخا نے عورتوں کے سامنے کہی عورتوں نے بھی یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ اپنی سیدہ کا حکم مان۔ غلام کے لائق نہیں کہ وہ اپنی سیدہ کی نافرمانی کرے اور جیل میں جائے۔ چناچہ یوسف (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا کہ صورت حال یہ ہے اور ہر طرف سے جال بچھا ہوا ہے تو یوسف (علیہ السلام) نے گھبرا کر یہ دعا کی اے میرے پروردگار مجھ کو اس جال سے نکال وہ جیل خانہ جس کی مجھ کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ مجھے زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ عورتیں مجھ کو بلاتی ہیں کہ زلیخا کو خوش کروں اگر جیل خانہ چلا گیا تو تیری نافرمانی کا اندیشہ اور خطرہ تو نہ رہے گا۔ عجب در ماندہ ام درکار ایشاں مراد زنداں بہ از دیدار ایشاں چونکہ ان عورتوں نے زلیخا کی سفارش کی تھی کہ یوسف (علیہ السلام) کو چاہئے کہ اپنی سیدہ کے حکم کو مانے اس لیے صیغہ جمع مؤنث کا لایا گیا اور یدعونی کہا گیا جس کی ضمیر ان عورتوں کی طرف راجع ہے اور اے پروردگار اگر تو نے مجھ سے ان عورتوں کے مکرو فریب کو دور نہ کیا تو مجھ کو ڈر ہے کہ کہیں میں ان کی طرف جھک نہ جاؤں اور نادزنوں میں سے ہوجاؤں۔ عورتوں کی طرف تھوڑا سا میلان اور جھکاؤ بھی نادانی ہے۔ دانائی اور عقلمندی یہ ہے کہ عورتوں سے دور رہے پس ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول کی پس اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کا مکر و فریب ان سے دفع کیا۔ بیشک خدا ہی سننے والا جاننے والا ہے یہ دونوں آیتیں صراحتاً اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) ذرہ برابر بھی ان کی طرف مائل نہ ہوئے اور انہوں نے خدائے تعالیٰ سے جو دعا مانگی اللہ نے وہ دعا ان کی قبول کی۔ یوسف (علیہ السلام) کی اس دعا کا مطلب یہ تھا کہ اے پروردگار مجھے اپنے نفس پر بھروسہ نہیں تیری تائید اور حفاظت کی درخواست کرتا ہوں کہ مجھے ان کے مکرو فریب سے دور رکھ اور جیل خانہ کی درخواست اس لیے کرتا ہوں کہ ان کے فتنہ سے نجات ملے۔ اور ان کی مراودت سے بالکل محفوظ ہوجاؤں اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی چناچہ پھر اس کا اثر اس طرح ظاہر ہوا کہ یوسف (علیہ السلام) کی براءت و نزاہت کی نشانیاں دیکھنے کے بعد ان کی رائے ہوئی کہ اس عبرانی غلام کو ایک مدت کے لیے قید میں رکھیں کہ لوگوں میں یہ چرچا ختم ہوجائے اور لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ اگر زلیخا اس پر عاشق ہوتی تو اسے قید کیوں ہونے دیتی اور عزیز مصر کو بھی یہی مصلحت نظر آئی کہ ایک خاص مدت تک ان کو قید میں رکھ دیا جائے تاکہ زن عزیز بدنامی اور رسوائی سے محفوظ ہوجائے اور اس ناشائستہ فعل پر پردہ پڑجائے اس بناء پر عزیز نے یوسف (علیہ السلام) کو جیل خانہ بھیج دیا اور پانچ یا سات برس تک یوسف (علیہ السلام) قید میں رہے غرض یہ کہ یوسف (علیہ السلام) جیل خانہ بھیج دئیے گئے ایوان سے زنداں میں پہنچے قدم رکھتے ہی وہ زندان رشک گلستاں بن گیا۔ یوسف (علیہ السلام) کے داخل ہونے کے بعد وہ جیل خانہ جیل نہ رہا بلکہ عبارت خانہ اور خلوت خانہ اور خانقاہ اور درسگاہ بن گیا۔ چوں آں دل زندہ در زنداں درآمد بجسم مردہ گوئی جاں درآمد ! ! درآں محنت سر افتادہ جو شے برآمد زاں گرفتاں خروشے