10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 10:1–2

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

الرا، یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیتیں ہیں۔

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں انکا سچا درجہ ہے (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگر ہے۔

اظہار عظمت قرآن و اثبات رسالت محمدیہ ﷺ قال اللہ تعالیٰ الر۔ تلک ایت الکتب الحکیم۔۔۔ الی۔۔۔ لسحرم مبین (ربط): گزشتہ سورت کی آخری آیتوں میں دو باتوں کا ذکر تھا۔ اول : نزول وحی کے وقت مضامین قرآن پر ہنسنا اور ازراہ حقارت ایک کا دوسرے کی طرف آنکھوں سے اشارہ کرنا جس سے ان کا مقصود وحی کے ساتھ استہزاء کرنا ہوتا تھا۔ واذا ما انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض میں اسی امر کا ذکر تھا۔ دوسری بات یہ تھی کہ ان لوگوں کو آپ کی نبوت و رسالت پر تعجب تھا کہ یہ شخص ہم جیسا ایک بشر اور انسان ہے یہ کیسے نبی ہوسکتا ہے لقد جاء کم رسول من انفسکم میں اس کا جواب دیا گیا۔ یہ شخص اگرچہ تمہاری ہی جنس سے ہے مگر فضائل و کمالات کے اعتبار سے سب سے افضل اور اکمل ہے۔ پس اس سورت کے آغاز میں بھی انہی دو باتوں کو بیان کرتے ہیں۔ اول قرآن کی عظمت اور جلالت شان کو بیان کرتے ہیں کہ وہ سراپا نور حکمت ہے اور چشمۂ ہدایت ہے اور اس کے دلائل وبراہیں نہایت قوی ہیں۔ دوم : نبی کریم کی عظمت و جلالت قدر بیان کرتے ہیں ہ وہ کوئی معمولی انسان نہیں بلکہ ایک عجیب مرد کامل ہے جس کو خدا تعالیٰ نے نبی بنا کر بھیجا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں الرا اس قسم کے الفاظ کو جو بعض سورتوں کے شروع میں آئے ہیں حروف مقطعۃ کہتے ہیں جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ اس قسم کے حروف کتاب خداوندی کے رموز ہیں جن کی مراد کلام خداوندی سمجھے اور ان کے معنی اور تاویل کی فکر میں نہ پڑے بلکہ ان کی مراد کو اللہ تعالیٰ کے سرد کرے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کی طرف اشارہ ہے۔ تفصیل سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ یہ سورت آیتیں ہیں پر حکمت کتاب کی جو سراپا نور اور حکمت اور منبع ہدایت وموعظت اور نسخہ شفا ہے یا " حکیم " کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں کہ اس کی ہر بات پکی ہے ہر قسم کے عیب اور ظل سے پاک ہے جس میں غلطی اور خطاء کا امکان نہیں اس کے الفاظ تحریف وتبدیل سے محفوظ ہیں اور اس کے علوم ومعارف عقل اور حکمت کے مطابق ہیں اور اس کے احکام نسخ سے محفوظ ہیں۔ اس لیے کہ یہ اللہ کی آخری کتاب ہے اس کے بعد کوئی دوسری ناسخ کتاب آنے والی نہیں اور اس کے تمام اخبار اور قصص ٹھیک اور واقع کے مطابق ہیں خلاصۂ کلام یہ کہ یہ آیتیں ایک باحکم ت اور محکم اور مضبوط کتاب کی ہیں جس سے تم کو تنفر ہے اور جب اس کتاب حکیم کی کوئی سورت نازل ہوئی ہے تو تم اس کی سراپا حکمت وموعظت باتوں کا تمسخر کرتے ہو اور جس مرد کامل اور مرد حکیم پر یہ کتاب حکیم نازل ہورہی ہے اس کی نبوت و رسالت پر تم تعجب کرتے ہو حالانکہ یہ کتاب مستطاب اس مرد کامل کی نبوت اور رسالت کی روشن دلیل ہے۔ کیا لوگوں کے لیے یہ بات باعث تعجب ہوئی کہ ہم نے لوگوں کی اصلاح اور ہدایت کے لیے انہیں میں کے ایک مرد کامل کی طرف وحی بھیجی جس کے حسب اور نسب اور امانت ودیانت سے یہ لوگ بخوبی واقف ہیں اور اس وحی کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں کو خدا کی نافرمانی سے ڈرائے اور جو لوگ ایمان لے آتے ہیں ان کو خوشخبری سنائے کہ ان کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں پایہ صدق یعنی بہت بلند مرتبہ ہے اور کیسی سعادت اور فلاح ازل میں ان کے لیے لکھی جا چکی ہے اور بشارت ونذارت کوئی امر تعجب نہیں بلکہ لوگوں کو حیوانات کی طرف مہمل چھوڑ دینا کہ انسان ہو کر شتر بےمہار کی طرح پھر کرے جہاں چاہے منہ مارے اور جس مادہ سے چاہے جفتی کرے (جیسا کہ یورپ میں ہورہا ہے) یہ امر سراسر خلاف حکمت اور لائق تعجب ہے ایحسب الانسان ان یترک سدی۔ بشارت اور نذارت سے انسان کی تکمیل اور اصلاح ہوتی ہے مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے کسی برگزیدہ بندہ اور مرد کامل پر لوگوں کی ہدایت اور ان کی بشارت ونذارت کا مضمون بذریعہ وحی نازل فرمائے تو کوئی تعجب کی وجہ نہیں مگر یہ کافر تعجب سے گزر کر طعن وتشنیع تک پہنچ گئے اور آپ کے معجزات کو دیکھ کافر یہ کہنے لگے کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے وحی قرآن کی تاثیر بلیغ کو دیکھ کر قرآن کو جادو بتلایا اور یہ بالکل غلط ہے ایسی سراپا حکمت وموعظت کتاب کا جادو ہونا اور ایسے صاحب کرامات ومعجزات کا جادوگر ہونا ناممکن اور محال ہے آپ تو خدا کے رسول ہیں خدا کی صفات و کمالات کو بیان کرتے ہیں جیسا کہ آئندہ آیت ان ربکم اللہ الذی خلق السموات والارض الخ میں آتا ہے اور یہ معجزات آپ کی نبوت و رسالت کے دلائل اور براہین ہیں کفار عرب اللہ کے رسول کو جادوگر بتلاتے تھے اور یہ نہیں سمجھتے تھے کہ در اصل ان کا متکبر اور مغرور نس جو صفات فرعونیہ کا حامل ہے اصل جادوگر وہ ہے جس نے تمہاری عقل کو مسحور کردیا ہے فرعون کی طرح علو اور استکبار کا طالب ہے خدا کے برگزیدہ بندے کے سامنے تواضع اور انکساری کو اپنے لیے عار سمجھتا ہے مشرکین عرب کا عقیدہ یہ تھا کہ بشر کے لیے نبوت ممکن نہیں لوگ انی جہالت سے بلا دلیل بشریت کو نبوت کے منافی سمجھتے تھے ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے آں حضرت کو رسول بنا کر بھیجا تو اہل عرب نے اس کو ایک تعجب انگیز امر سمجھا اور کہا کہ اللہ کی شان اس سے بالا اور برتر ہے کہ محمد ﷺ جیسے انسان کو رسول بنا کر بھیجے اس پر حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بشر اور تمہارے ہم جنس انسان پر وحی کا نازل ہونا قابل تعجب نہیں اور نہ یتیم اور فقیر ہونے کے اعتبار سے قابل تعجب ہے اس لیے کہ نبوت کے لیے مالدار ہونا شرط نہیں بلکہ مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کے اعتبار سے چیدہ اور برگزیدہ ہونا شرط ہے اور یہ صفت آپ میں علی وجہ الکمال موجود ہے آپ کی ذات بابرکت ماکرم اخلاق اور محاسن کا منبع اور سرچشمہ ہے اور نبی اء سابقین کی طرح آپ بھی خدا کی طرف سے بشیر ونذیر بن کر آئے ہیں اور تمام انبیاء سابقین جنس بشر سے تھے۔ فرشتہ نہ تھے۔ معلوم ہوا کہ نبوت کے لیے فرشتہ ہونا ضروری نہیں اور فقیری اور درویشی نبوت و رسالت میں قادح نہیں آپ سے پہلے بھی جنس بشر سے بہت سے نبی گزر چکے ہیں جن پر اللہ کی وحی نازل ہوتی رہی اس لیے نبوت اور وحی کوئی عجیب چیز نہیں جب کبھی خدا کی طرف سے کوئی نبی آیا تو ان کے ہم جنس معاندین نے اس وقت بھی تعجب سے یہی کہا جو اس وقت کے معاندین کہہ رہے ہیں کما قال تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا۔ والی ثمود اخاھم صالحا۔ الی۔ او عجبتم ان جاء کم ذکر من ربکم علی رجل منکم اور جس طرح گزشتہ قرون کے لوگ۔ ابشر یھدوننا کہتے تھے اسی طرح کفار قریش کو رسول بشری پر تعجب ہوا اور اس کی نبوت کا انکار کیا اور جس طرح ان کے ہم جنس معاندین نے انبیاء سابقین کے معجزات دیکھ کر انبیاء کو جادوگر بتلایا اور سطرح اس زمانہ کے معاندین اور کفار مکہ آں حضرت ﷺ کے معجزات کو دیکھ کر یہ کہتے ہیں ان ہذا لساحر مبین اور ان کا یہ قول بالکل غلط ہے اور ظاہر البطلان ہے اس یے کہ جو شخص مکارم اخلاق اور محاسن اعمال اور حکمت نظریہ اور حکمت عملیہ کے حاقئق اور معارف بیان کرتا ہو اور حلال و حرام کی تفصیل کرتا ہو وہ کہاں سے جادوگر ہوسکتا ہے اور کتاب حکیم جو اس پر نازل ہورہی ہے وہ کہاں سے جادو ہوسکتی ہے اس لیے کہ سحر تو محض ایک ملمع کاری ہوتی ہے اور یہ کتاب حکیم تو حکمت نظریہ اور حکمت عملیہ کی ہدایت اور رہنمائی کرتی ہے۔ قدم صدق کی تفسیر : قدم صدق کے معنی میں اہل تفسیر کے کئی قول ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وقل رب ادخلنی مدخل صدق اور ایک روایت ابن عباس ؓ سے یہ ہے کہ اس سے مراد سعادت ازلیہ ہے اور زجاج کہتے ہیں کہ اس سے مراد درجہ عالیہ اور مجاہد کہتے ہیں کہ اعمال صالحہ مراد ہے اور زید بن اسلم اور قتادہ کہتے ہیں کہ اس سے آں حضرت ﷺ کی شفاعت مراد ہے اور قدم کی اضافت صدق کی طرف۔ موصوف کی صفت کی طرف ہے چونکہ وہ مرتبہ عالیہ اور سعادت ازلیہ صدق واخلاص کے بدولت ملے گا یا اس کا وقوع حق اور صدق یعنی قطعی اور یقینی ہے اس لیے قدم کو صدق کی طرف مضاف کردیا گیا۔
Ayah 10:3

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش (تخت شاہی) پر قائم ہوا وہی ہر ایک کام کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی (اس کے پاس) اس کا اذن حاصل کئے بغیر (کسی کی) سفارش نہیں کرسکتا۔ یہی خدا تمہارا پروردگار ہے تو تم اسی کی عبادت کرو۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

ذکر تکوین عالم برائے اثبات ربوبیت رب اکرم قال اللہ تعالیٰ ۔ ان ربکم اللہ الذی خلق السموات۔۔ الی۔۔ افلا تذکرون۔ (ربط) اوپر قرآن کریم کی عظمت اور نبوت و رسالت کی حقانیت کا ذکر تھا اب ان آیات میں تکوین عالم کو بیان کرتے تاکہ اس سے اللہ کی معرفت اور اس کی ربوبیت کا علم حاصل ہو جو بعثت کا اولین مقصد ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کیا کہ تمہارا پروردگار اور تمہارا معبود وہ ذات بابرکات ہے جس نے چھ دن میں عرش سے لے کر فرش تک تمام کائنات کو پیدا کی اور یہ تمام کارخانہ اسی کی تدبیر اور حکمت سے چل رہا ہے اسی پروردگار عالم نے تمہاری ہدایت اور تربیت کے لیے ایک مرد کامل کو مبعوث کیا ہے اور اس مرد کامل پر جو کتاب بذریعہ وحی نازل ہورہی ہے وہ سحر نہیں بلکہ کیمیائے سعادت اور نسخۂ ہدایت ہے جس سے مقصود تمہاری اصلاح اور تربیت ہے پس اگر تمہارا پروردگار تمہاری تربیت اور ہدایت کے لیے کسی برگزیدہ بندہ پر وحی کے ذریعے کوئی کتاب نازل کرے تو کیوں تعجب کرتے ہو۔ اس کتاب کے نازل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ لوگ اپنے پروردگار کے احکام پر عمل کریں جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور یقین رکھیں کہ ایک دن ان اعمال پر جزاء سزا بھی ضرور ملنی ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق تمہارا مربی اور مدبر امور وہ اللہ ہے جس نے محض اپنی قدرت سے آسمانوں کو اور زمین کو چھ دن کی مقدار میں پیدا کیا ہے اگر وہ چاہتا تو ایک لمحہ میں بنا دیتا اس نے کسی حکمت سے جتنی دیر چھ دن میں لگتی ہے اتنی دیر میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا جن سے بڑھ کر دنیا کا کوئی جسم طویل عریض نہیں تم اگر ایک معمولی مکان بنانا چاہو تو مہینے اور سال خرچ ہوجاتے ہیں اور آسمان اور زمین کو پیدا کرنا یہ اس کے کمال قدرت کی روشن دلیل ہے اور تمام عقلاء کی عقلیں اس اقتدار عظیم کو دیکھ کر حیران اور انگشت بدنداں ہیں اور کیوں نہ ہو ایسا اقتدار عظیم اندازہ فہم اور ادراک بشری سے کہیں بالا اور برتر ہے پس اگر ملیک مقتدر نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے تمہاری جنس میں سے ایک رسول تمہاری طرف بھیجدیا تو کیوں تعجب کرتے ہو اور آسمان سے زمین پر نزول وحی کا کیوں انکار کرتے ہو پھر آسمان اور زمین کی پیدائش سے بڑھ کر عجیب امر یہ ہے کہ واحکم الحاکمین اپنی شان کے مطابق عرش پر قائم ہوا۔ یعنی جلوہ فرما ہوا جو سب مخلوقات میں سب سے بڑا ہے اور اتنا بڑا ہے کہ آسمان اور زمین بھی اس کے سامنے ہیچ ہیں اور اللہ تعالیٰ کا عرش پر قائم ہونا اس بناء پر نہیں کہ وہ کسی عرش یا فرش کا محتاج ہے اس لیے کہ وہ کون ومکان اور زمین وزماں کے پیدا کرنے سے پہلے تھا۔ اسی طرح وہ مکان وزمان کے پیدا کرنے کے بعد بھی اسی شان سے موجود ہے معاذ اللہ عرش اللہ تعالیٰ کا مکان اور اس کی نشست گاہ نہیں کیونکہ جس چیز کے لیے مکان اور چھت ہو وہ متناہی اور محدود ہوتی ہے اور جو محدود ہے وہ مخلوق ہے اور اللہ پاک خالق ہے مخلوق نہیں غرض حق جل شانہ کے عرش پر قائم ہونے کے یہ معنی نہیں کہ وہ عرش پر بیٹھا ہوا ہے اور عرش اس کا مکان ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ بلا شبہ اور تمثیل کے یوں سمجھو کہ عرش عظیم بمنزلہ سریر سلطنت اور تخت شاہی کے ہے جس پر رب کریم اپنی شان کے مطابق بلا تمکن اور استقرار کے جلوہ فرما ہے اور عرش عظیم معاذ اللہ اس کا مکان نہیں بلکہ اس کی شان احکم الحاکمینی کی جلوہ گاہ ہے جہاں سے احکام خداوندی کا صدور ہوتا ہے۔ اور کائنات کے ہر امر کی بلاشرت غیرے وہ تدبیر کرتا ہے کسی سفارش کرنے والے کی مجال نہیں کہ بغیر اس کی اجات کے سفارش کا کوئی حرف اپنی زبان سے نکال سکے۔ پس جو ذات اس خلق اور تقدیر اور تدبیر اور عظمت اور حکمت کے ساتھ موصوف ہے وہی اللہ ہے جو تمہارا پروردگار ہے اور تم کو معلوم ہے کہ ان صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ پس تم اسی کی عبادت کرو اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرو پھر کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے یا اپنے دل میں فکر نہیں کرتے کہ عبادت اسی ذات کا حق ہے جو اس قدرت اور حکمت اور عظمت کے ساتھ موصوف ہو یا یہ مطلب ہے کہ تم اس کے دلائل وحدانیت میں غور نہیں کرتے کہ وہ آسمان و زمین کی تخلیق وتکوین میں اور اسکی تدبیر اور تصرف میں مستقل ہے وہ کسی کے اذن کا محتاج نہیں۔ معلوم ہوا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکین کا یہ زعم کہ بت خدا کے یہاں ہماری شفاعت کریں گے یہ ان کا خیال خام ہے۔ لطائف ومعارف 1 ۔ حق جل شانہ نے ان آیات میں عالم علوی اور عالم سفلی کی تخلیق وتکوین کو بیان کیا تاکہ تم کو صانع عالم کی معرفت حاصل ہو اس لیے کہ آسمان و زمین کا اجسام عظیمہ ہونا اور بیشمار اجزاء سے انکا مرکب ہونا اور مختلف صفات اور مختلف حالات اور مختلف کیفیات کے ساتھ ان کا موصوف ہونا اور قسم قسم کے تغیرات اور انقلابات ان میں واقع ہونا یہ سب اس امر کی دلیل ہے کہ اجرام علویہ و اجسام سفلیہ کی یہ حرکات و سکنات خود ان کے اختیار میں نہیں اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مادہ اس کے ذرات بسیطہ کی حرکت قدیم ان تغیرات اور تنوعات کی علت ہے اس لیے کہ باتفاق فلاسۂ جدید وقدیم مادہ میں نہ کوئی ادراک اور شعور ہے اور نہ کسی قسم کا ارادہ اور اختیار ہے۔ مادہ میں یہ قدرت نہیں کہ وہ کسی جسم کو حرکت دے سکے یا کسی کو کب اور سیارہ کی حرکت کی جہت اور سمت کو بدل سکے یا اس کی روشنی میں کوئی کمی اور زیادتی کرسکے یا ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھر سکے پس جس مادہ کی مجبوری اور لاچارگی اور درماندگی کا یہ حال ہے کہ اپنی ذات سے وہ اندھا اور گونگا اور بہرا اور ایک اپاہج سب کچھ ہے و ان اجرام علیہ اور اجسام سفلیہ کے تغیرات اور انتقالات کی علت کیسے ہوسکتا ہے معلوم ہوا کہ یہ کون ومکان اور زمین و آسمان کسی قادر حکیم اور صناع علیم کی صنعت کا کرشمہ ہیں۔ اور سب اس کی تدبیر محکم کے تابع ہیں کہ وہ اپنی حکمت کے مطابق ان میں تصرف کرتا ہے۔ مادہ عالم کے ذرات بسیط ملکر کتنی ہی کانفرنسیں کریں اور کتنی ہی کیٹیاں بنائیں اور زمین آسمان کے قلابے بھی ملائیں مگر یہ دریافت کرنے سے عاجز اور درماندہ ہیں کہ یہ کارخانہ عالم کس طرح چل رہا ہے۔ خلاصۂ کلام یہ کہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام کائنات اپنی ذات کے اعتبار سے ممکن بھی ہیں اور حادث بھی ہیں۔ عدم کے بعد وجود میں آئی ہیں اور ہر لمحہ اور ہر لحظہ اس کا امکان ہے کہ یہ ذات یا یہ صفت معدوم ہوجائے یا اس میں کوئی تغیر اور تبدل ہوجائے اور عقلا یہ امر بدیہی ہے کہ کوئی ممکن اور حادث بغیر واجب قدیم کے سہارے کے قائم نہیں رہ سکتا۔ پس یہ تمام ممکنات خداوند حی وقیوم کے سہارے قائم ہیں خوب سمجھ کہ کائنات عالم کا امکان ذاتی اور امکان صفاتی اور حدوث ذاتی اور حدوث صفاتی ان میں سے ہر ایک وجود صانع کی دلیل قطعی ہے اس اجمال کی تفصیل کے لیے امام رازی کی تفسیر کبیر دیکھیں۔ جزاہ اللہ تعالیٰ عن الاسلام والمسملین خیرا۔ آمین۔ 2 ۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو چھ دن میں اس لیے پیدا کیا تاکہ معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہر چیز کی ایک مدت مقرر ہے اور تاکہ وقتا فوقتا اللہ کی قدرت کے کرشمے ظاہر ہوں اور کل یوم ھو فی شان کا جلوہ نظر آئے۔ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ انسان کو ایک لمحہ میں پیدا کردے مگر اس نے انسان کی پیدائش کے لیے مدت مقرر کردی ہے جن میں اس کی حکمتیں ہیں جن کا علم سوائے اس کے کسی کو نہیں اسی طرح آسمان و زمین کو چھ دن میں پیدا کرنے کو سمجھو اہل ظاہر اور حشویہ استوی علی العرش کے یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھا ہوا ہے اور وہیں بیٹھے بیٹھے ساری دنیا کا انتظام کر رہا ہے۔ (دیکھو تفسیر وحیدی صفحہ 207) اہل حق یہ کہتے ہیں کہ کتاب وسنت میں حق جل شانہ کے لیے جو صفات وافعال ثابت کیے گئے ہیں۔ ہم ان پر بلا تشبیہ و تمثیل کے اور بلا جمود اور بلا تعطیل کے ایمان لاتے ہیں اور حسب ارشاد باری تعالیٰ لیس کمثلہ شیئ اور لم یکن لہ کفوا احد۔ ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ سبحانہ کو نہ کوئی مکان گھیرے ہوئے۔ اور نہ کوئی زمانہ اس پر گزرتا ہے اور نہ اس کے لیے کوئی ھد ہے اور نہ نہایت اور نہ اس کے لیے کوئی جہت اور سمت ہے اس کی ذات بابرکت۔ مخلوقات کی مشابہت اور مماثلت سے پاک اور منزہ ہے اس بنا پر اہل حق یہ کہتے ہیں کہ استوی علی العرش سے معاذ اللہ یہ مراد نہیں کہ خداوند ذوالجلال۔ بادشاہوں کی طرح تخت سلطنت پر بیٹھا ہوا ہے۔ بلکہ یہ کلام خداوند ذوالجلال والاکرام کی حکمرانی سے کنایہ 1 ہے چونکہ سلاطین عالم۔ عرش (تخت) پر بیٹھ کر حکمرانی کرتے ہیں اس لیے سمجھانے کے لیے اللہ کی حکومت اور حکمرانی کو استوی علی العرش سے تعبیر کردیا گیا اہل عرب اپنے محاورات میں بولتے۔ فلان استوی علی العرش یعنی فلاں اپنے عرش (یعنی سریر سلطنت) پر متمکن ہوگیا اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ فلاں کو سلطنت حاصل ہوگئی اسی طرح اس آیت میں سمجھو کہ استوی علی اعرش سے تمکن اور استقرار اور بیٹھنے کے معنی مراد نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسمان اور زمین کو اور کائنات عالم کو پیدا کیا اور پیدا کرنے کے بعد سریر سلطنت پر قائم ہوا اور مخلوقات پر حکمرانی کرنے لگا کیونکہ حکمرانی کے لیے محکوم چاہئے۔ اس لیے اس احکم الحاکمین نے اپنی قدرت ازلیہ سے اول محکوم کو پیدا کیا اور پھر حکمرانی اور تدبیر کرنے لگا۔ اس کی حاکمیت اور مالکیت اور رزاقیت وغیرہ وغیرہ قدیم اور ازلی ہے مخلوقات کو اس لیے پیدا کیا کہ اس کی صفات کمالیہ کا ظہور ہو۔ جود محتاج گدایاں چوں گدا آب می گوید کہ ای طالب بیا یہ قفال مروزی کا قول ہے جس کا امام رازی نے تفسیر کبیر میں ذکر کیا ہے اور سورة اعراف میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے غرض یہ کہ استوی علی العرش سے ظاہری اور حسی معنی یعنی تخت پر بیٹھنا مراد نہیں بلکہ حکمرانی اور تدبیر سے کنایہ ہے۔ اور چونکہ عرش آسمانوں اور زمینوں کو محیط ہے اس لیے حکمرانی سے کنایہ کے لیے استواء کے ساتھ علی العرش کا لفظ ذکر کیا۔ امام ابو الحسن اشعری فرماتے ہیں کہ استواء سے اللہ تعالیٰ کا کوئی خاص فعل مراد ہے جو اس نے عرش میں کیا۔ اور صوفیائے کرام یہ فرماتے ہیں کہ استواء سے اللہ تعالیٰ کی کوئی خاص تجلی مراد ہے اور امام ابوبکر بن فورک کہتے ہیں کہ استواء سے علو اور رفعت کے معنی مراد ہیں اور امام بخاری نے بھی اسی معنی کو اختیار فرمایا ہے۔ باقی اس آیت کی مفصل تفسیر سورة اعراف میں گزر چکی ہے وہاں دوبارہ دیکھ لی جائے۔ لفظ ثم کلام عرب میں متعدد معنی کے لیے آتا ہے۔ اول : تراخئ رتبہ بیان کرنے کے لیے جیسے ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا۔ یعنی استقامت کا مرتبہ ربنا اللہ کہنے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ دوم : بمعنی قبل جیسے ثم استوی علی العرش معناہ قبل ذلک استوی علی العرش کیونکہ حق تعالیٰ کا یہ قول وکان عرشہ علی الماء اس پر دلالت کرتا ہے کہ عرش کا وجود آسمان و زمین کی پیدائش سے مقدم ہے۔ سوم : بمعنی واؤ۔ جیسے ثم کان من الذین امنوا ومعناہ ومع ذلک کان من الذین امنوا۔ چہارم : بمعنی ابتداء واستیناف جیسے الم نھلک الاولین ثم نتبعھم الاخرین۔ معناہ نحن نتبعھم۔ پنجم : بمعنی تعجب جیسے الحمد للہ الذی خلق السموات والارض وجعل الظلمات والنور۔ ثم الذین کفروا بربھم یعدلون۔ معناہ تعجبوا منھم کیف یکفرون بربھم اور آیت ہذ یعنی ثم استوی علی العرش۔ میں لفظ ثم تفخیم شان کے لیے یعنی عرش کا مرتبہ آسمان و زمین سے بڑھ کر ہے پس لفظ ثم اس جگہ تراخی رتبہ کے لیے ہے نہ کہ تراخی وقت کے لیے۔ 5 ۔ اہل اسلام یہ کہتے ہیں کہ تمام کائنات عالم قادر مختار اور صانع کردگار کی صنعت ہیں فلاسفہ اور دھریین کہتے ہیں کہ یہ سب اقتضاء طبیعت ہے۔ جواب : یہ ہے کہ اگر طبیعت کا وجود تسلیم کرلیا جائے تو ہم یہ کہیں گے کہ طبیعت سے جو شیئ حاصل اور موجود ہوتی وہ بقدر حاجت اور بقدر ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بقدر طاقت اور قوت ہوتی ہے۔ آگ جس چیز کو جلاتی ہے وہ اپنی قوت اور طاقت کے بمقدار جلاتی ہے نہ بمقدار ضرورت و حاجت۔ عاقل اور دانا کا کام ہے کہ آگ کو بقدر ضرور استعمال کرے۔ پانی اپنی طاقت اور قوت کے بمقدار بہے گا اور بہائے گا اور حکیم اور دانا پانی کو بقدر ضرورت اور بقدر ھاجت استعمال کرے گا۔ عمارت کی بلندی پانی اور قلعی اور چونہ کی طبیعت پر موقوف نہیں بلکہ معمار کے اختیار اور اس کے تصر پر موقوف ہے اور اس کی مصلحت کے تابع ہے اسی طرح سمجھو کہ اس سرائے فانی کی تمام عمارت اس کے بنانے والے کی قدرت اور اختیار اور اس کی حکمت اور مصلحت کے تابع ہے اس میں آسمان و زمین کی طبعت اور مزاج کو دخل نہیں۔
Ayah 10:4

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لئے پینے کو نہایت گرم پانی اور درد دینے والا عذاب ہوگا کیونکہ (خدا سے) انکار کرتے تھے۔

حقیقت معاد وذکر جزائے اعمال قال اللہ تعالی۔ الیہ مرجعکم میعا۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانوا یکفرون۔ (ربط ): اوپر کی آیتوں میں مبدا اور توحید کا ذکر تھا اب معاد اور جزاء اعمال کو ذکر کرتے ہیں جو اصول دین میں سے ایک عظیم اصل ہے (یا یوں کہو) کہ گزشتہ آیت میں فاعل حقیقی کی صفات کو بیان کیا اب یہ بتلاتے ہیں کہ تمہارا مرجع اور مآل اسی فاعل حقیقی کی طرف ہے جس نے تم کو ابتداء پیدا کیا۔ پس کیا تم اس کے دلائل وحدانیت اور براہین ربوبیت میں غور نہیں کرتے۔ اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے نہ کہ کسی اور کی طرف۔ یہ اللہ تعالیٰ نے تم سے سچا وعدہ کیا ہے اور اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا محال اور ناممکن ہے سو یہ تم کو مغالطہ لگا ہے بیشک وہی خدا مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر مرنے کے بعد بھی وہی دوبارہ زندہ کرے گا۔ لہذا تم کو چاہئے کہ اس دوسری زندگی کے لیے کچھ توشہ تیار کرلو یہ خدا تعالیٰ نے امکان اور ثبوت حشر کی دلیل بیان فرمائی۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا نے پہلی بار بغیر نمونہ اور مثال مخلوق کو پیدا کیا وہ اس کے دوبارہ پیدا کرنے پر بدرجہ اولے قادر ہے۔ افععینا بالخلق الال بل ھم فی لبس م خلق جدید۔ لہذا اے منکرو ! قیامت کے بارے میں کوئی شک نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور قیامت قائم کرنے سے خدا تعالیٰ کا مقصود یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور ہوں نے نیک کام کئے اللہ ان کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہے بسبب اس کے کہ خدا اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرتے تھے اندرونی عقائد فاسدہ کی سزا میں ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا اور ظاہری اعمال فاسدہ کی بنا پر ان کو دردناک عذاب دیا جائے گا۔ تحقیق مسئلہ معاد یعنی ایمان بالبعث بعد الموت مرنے کے بعد زندہ ہونا یہ ایسا مسئلہ ہے کہ جو صرف مذہب اسلام کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام کتب سماویہ بعث بعد الموت اور جزاء اعمال پر متفق ہیں البتہ اس کے وقوع کی کیفیت میں کچھ اختلاف ہے ہر مذہب میں حشرنشر کی علیحدہ علیحدہ صورت بیان کی گئی مذہب اسلام یہ کہتا ہے کہ انسان مرنے کے بعد ایک بار دوبارہ جسمانی طور پر زندہ ہو کر خاک سے اٹھے گا اور اپنے اعمال کے مطابق جزا پائے گا فلاسفہ اور دہریہ تو سرے ہی سے معاد کے قائل نہیں اور ملاحدہ اور نیچریہ جس کے عقائد کی بنیا عموما فلسفہ اور طبیعات کے اصول پر ہے وہ ظاہرا تو معاد کا اقرار کرتے ہیں مگر جسمانی معاد کے قائل نہیں۔ روحانی معاد کے قائل ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ جزاء وسزا روحانی طور پر واقع ہوگی جسم مبعوث نہ ہوگا قرآن کریم نے معاد جسمانی کو اس کثرت اور صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ جس میں نہ انکار کی گنجائش ہے اور نہ تاویل کی گنجائش ہے۔ اکثر اہل عرب معاد جسمانی کو محال سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ گلی سڑی ہڈیوں کا دوبارہ زندہ ہونا ناممکن اور محال ہے۔ حق جل شانہ قرآن کریم میں معاد اور حشر ونشر کے امکان کو مختلف مثالوں کے ذریعہ واضح فرمایا ہے۔ مثال اول : جس طرح مردہ زمین بارش سے زندہ ہوجاتی ہے اسی طرح مردہ انسان بھی دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ مثال دوم : جس طرح ایک قطرہ منی سے ایک سمیع وبصیر انسان کا پیدا ہونا ممکن ہے اسی طرح انسان کے متفرق اور منتشر ذرات کو جمع کر کے دوبارہ اس کو پہلی ہیئت پر پیدا کرنا بھی ممکن ہے۔ مثال سوم : جو خدا انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ مثال چہارم : جو خدا زمین و آسمان کے پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ سات بالشت کے انسان پیدا کرنے پر کیوں قادر نہیں مثال پنجم : نیند موت کی بہن ہے پس جو خدا سلانے کے بعد بیدار کرسکتا ہے وہ موت کے بعد بھی دوبارہ زندگی عطا کرسکتا ہے۔ (تفصیل کے لیے امام رازی کی تفسیر کبیر از صفحہ 548 تا صفحہ 455 ج 4 دیکھئے۔ )؎ قفال مروزی (رح) کہتے ہیں کہ جو شخص احوال عالم میں غور کرے گا۔ وہ بالبداہت جان لے گا کہ یہ دنیا لوگوں کے امتحان اور آزمائش کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ اور دنیا کے خالق نے لوگوں کو آزاد اور مطلق العنان نہیں چھوڑا ہے بلکہ اس دنیا کو ان کے لیے دار العمل بنایا ہے پس ضروری ہے کہ خالق کی جانب سے امر بھی ہو اور نہی بھی ہو اور پھر اس دارالعمل کے گزر جانے کے بعد ایک دار الجزاء بھی ہو جس میں نیکو کاروں کو ثواب اور بدکاروں کو عذاب ملے تاکہ اچھے اور برے میں امتیاز ہوجائے نیک اور بد میں فرق اور امتیاز عقلاً ضروری ہے پس اس دنیا کے احوال مبدا اور معاد دونوں کی صحت کے لیے دلائل اور براہین ہیں۔ (غرائب القرآن ص 56 ج 11) شبہات وجوابات فلاسفہ اور دہریہ اور مادہ پرست جو معاد جسمانی کو محال سمجھتے ہیں اور گلی سڑی ہڈیوں سے پھر دوبارہ جسم انسانی کا زندہ ہونا ناممکن جانتے ہیں ان کا خیال یہ ہے کہ انسان صرف مادہ کا نام نہیں بلکہ مادہ مع صورت انسان کہلاتا ہے۔ جب موت آنے سے صورت باطل ہوجاتی ہے اور اجزائے مادہ باقی رہ جاتے ہیں اور ہر جز اپنے اصلی مرکز کی طرف رجوع کرتا ہے تو اگر اس مادہ معینہ میں دوبارہ حیات پیدا کی جائے تو وہ پہلی صورت نہ ہوگی بلکہ ایک نئی صورت ہوگی اور ایک نیا شخص ہوگا سو جزا وسزا ایک نئے شخص پر عائد ہوگی نہ پہلے شخص پر۔ علاوہ ازیں منکرین معاد یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ جب ایک انسان دوسرے انسان کو کھاجائے تو وہ غذا ہو کر کھانے والے کا جزوبدن ہوجاتا ہے تو بعثت کے وقت دو روحیں ایک انسان کے جسم سے کس طرح متعلق ہوسکتی ہیں۔ جواب : انسان کے جسم میں دو قسم کے اجزاء پائے جاتے ہیں ایک اجزاء اصلیہ جو انسان کی پیدائش سے اخیر تک اس کے جسم میں موجود رہتے ہیں دوم اجزائے فضلیہ یعنی وہ اجزاء جو بذریعہ غذا جزو بدن بنتے رہتے ہیں اور یہ کھایا ہوا حیوان اس کے اجزاء اصلیہ میں داخل نہیں پس اس کو اپنے اجزاء اصلیہ کے ساتھ اور اس کو اس کے اجزاء اصلیہ کے ساتھ جدا جدا اٹھائیں گے اور دوبارہ انہی اجزاء اصلیہ کے ساتھ روح کا تعلق قائم کردیا جائے گا جس سے دوبارہ زندگی حاصل ہوجائے گی اور رنج اور خوشی کا احساس صرف روح اور اجزاء اصلیہ کے ساتھ ہوگا اور انسان درا صل روح اور اجزاء اصلیہ کا نام ہے اور انہی اجزاء اصلیہ کو پشت آدم سے نکال کر عہد الست لیا گیا ہے اور یہی اجزاء اصلیہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر آج تک پشت بہ پشت منتقل ہوتے ارہے ہیں اور قیامت کے دن انہی اجزاء اصلیہ کا اعادہ ہوگا اور روح کو ان کے متعلق کردیا جائے گا۔ تو ان میں از سر نو حیات عود کر آئے گی اور انسان اصلی اور پہلی صورت پر عود کر آئے گا اور انسانی زندگی میں جو تغیر پیش آتے ہیں وہ اجزائے فضلیہ پر وارد ہوتے ہیں اجزاء اصلیہ بدستور محفوظ رہتے ہیں وہ کسی صورت میں زائل نہیں ہوتے اور ابتداء پیدائش سے لے کر مرنے تک جو تغیر وتبدل کا سلسلہ جاری رہتا ہے اس کا تعلق صرف ہیکل انسانی کے ساتھ ہے جو اجزاء فضلیہ کا مجموعہ ہے۔ زمانہ حال کے محققین نے خور بین کے ذریعے مشاہدی کیا ہے کہ ایک قطرہ پانی میں کئی لاکھ حیوانات موجود ہوتے ہیں پس جب کہ ان مادہ پرستوں کے نزدیک قطرۂ آب میں لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں اجرام صغیرہ تمام حیوانی لوازم کے ساتھ موجود ہوسکتے ہیں تو پھر پشت آدم سے ذریت کا نکالنا کیوں بعید از عقل سمجھتے ہیں اور امام رازی وعارف شعرانی وغیرھم نے اس بات کی تصریح کی ہے ہم اجزاء اصلیہ سے وہ مراد لے سکتے ہیں جو آیت واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظھورھم ذریتھم الخ میں بموجب تفسیر نبوی مذکور ہوئے ہیں اور جن کو ذریت آدم کہا گیا ہے۔ بہر حال بعث بعد الموت کا عقیدہ نہ عقل کے منافی ہے اور نہ علوم جدیدہ کے فلاسفہ نے اگرچہ حشر اجسام کے محال ہونے کا دعوی تو کردیا مگر آج تک اس کے محال ہونے پر کوئی عقلی دلیل نہیں پیش کرسکے۔
Ayahs 10:5–6

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔ یہ (سب کچھ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لئے وہ (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

رات اور دن کے (ایک دوسرے کے) پیچھے آنے جانے میں اور جو چیزیں خدا نے آسمان اور زمین میں پیدا کی ہیں (سب میں) ڈرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

ذکر دلائل قدرت مقرون بتذکیر نعمت قال اللہ تعالی۔ ھو الذی جعل الشمس ضیاء۔۔۔ الی۔۔۔ لایت لقوم یتقون۔ (ربط): اوپر توحید کا ذکر تھا اب مزید دلائل قدرت کو بیان کرتے ہیں کہ جو شخص ان عجائب قدرت میں ذرا غور کرے گا تو سمجھ جائے گا کہ اس کارخانہ عالم کا کوئی صانع اور کاریگر ضرور ہے جس کی قدرت و حکمت کا اندازہ حیطۂ عقل سے باہر ہے اور یہ آیت درحقیقت گزشتہ آیت کی تفصیل ہے جس میں تخلیق سموات والارض کا ذکر فرمای تھا۔ مزید اتمام حجت کے لیے ان دلائل کو بیان فرمایا اور یہ امور علاوہ دلائل قدرت کے اس کی بےمثال نعمتیں بھی ہیں۔ جن میں غور کرنے سے صانع کی معرفت بھی حاصل ہوتی ہے اور اس کی محبت بھی حاصل ہوتی ہے اور دل اس صانع کی عظمت اور جلال سے پر ہوجاتا ہے کیونکہ شمس وقمر کی روشنی اس کی عظیم نعمت بھی ہے اور اس کی عظیم قدرت کی دلیل بھی ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ وہ اللہ وہی ہے جس کی الوہیت اور ربوبیت اور قدرت کے دلائل تم سن چکے ہو۔ مزید برآں یہ کہ جس نے سورج کو جگمگاتا ہوا بنایا اور چاند کو روشن اور اجالا بنایا اور چاند کی حال کے لیے منزلیں مقرر کیں۔ کما قال تعالیٰ والقمر قدرناہ منازل حتی عاد کالعرجون القدیم۔ تاکہ تم ان اجرام کے ذریعے برسوں کا شمار اور مہینوں اور دنوں اور ساعات کا حساب معلوم کرو۔ یعنی تاکہ تم کو ماہ وسال کا گزرنا معلوم ہو کیونکہ شریعت میں ماہ وسال کا مدار قمری حساب پر ہے نہ کہ شمسی حساب پر۔ غرض یہ کہ شمس وقمر کا یہ تفاوت اس کی قدرت کی نشانی نہیں اس لیے کہ مادہ میں نہ ادراک شعور ہے اور نہ اس میں ارادہ اور اختیار ہے اور نہ اس میں تدبیر اور تصرف ہے پس معلوم ہوا کہ ان خصوصیات کا فاعل مادہ نہیں بلکہ ان کا فاعل وہ ذات اقدس ہے جو کمال علم اور کمال قدرت اور کمال حکمت کے ساتھ موصوف ہے نہیں پیدا کیا اللہ نے ان سب چیزوں کو مگر حکمت اور مصلحت کے لیے یعنی اللہ تعالیٰ نے چیزوں کو عبث اور بیکار پیدا نہیں کیا۔ بلکہ ان کے پیدا کرنے سے مقصود اپنی قدرت اور وحدانیت کے دلائل کا اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ دلائل قدرت جاننے والوں کے لیے تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے تاکہ اہل علم ان سے اللہ کی وحدانیت پر استدلال کریں۔ تحقیق رات اور دن کے یکے بعد یگرے آنے میں اور ظلمت اور نور کی کمی و زیادتی میں اور ان قسم قسم کی چیزوں میں جو اللہ نے اسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہیں البتہ نشانیاں ہیں جو موجودہ صانع اور اس کی وحدانیت اور کمال علم اور کمال قدرت اور کمال حکمت پر دلالت کرتی ہیں اس گروہ کے لیے جو برے انجام سے اور حشر کی رسوائی سے ڈرتے ہیں جن کو آخرت کا اندیشہ اور ڈر لگا ہوا ہے وہی ہماری نشانیوں میں غور وفکر کرتے ہیں اور جو لوگ دنیاوی زندگی پر راضی اور مطمئن ہیں وہ ہماری آیتوں سے غافل ہیں اس کا ذکر آئندہ آیت میں آرہا ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ شمس قمر اور لیل ونہار کے احوال اثبات مبداء ومعاد پر دال ہیں جو شخص اس عجیب و غریب نظام پر عالم پر نظر ڈالے گا وہ ایک قدر حکیم کی ہستی کا سراغ لگائے گا اور سمجھ جائے گا کہ یہ عجیب و غریب اختلافات اور قسم قسم کے تغیرات کسی بےشعور مادہ کے رہین منت نہیں اور نہ یہ حکیمانہ نظام کسی بخت واتفاق کا نتیجہ ہے اور ان اختلافات اور تٖغیرات میں خدا کی قدرت اور اس کی وحدانیت کی نشانیاں ان لوگوں کے لیے ہیں جو برے انجام سے ڈرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نے ہم کو عقل اور قدرت اس لیے عطا کی ہیں کہ عقل سے حق اور باطل کا فرق پہچانیں اور خداداد طاقت سے اعمال خیر بجا لائیں اور سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو جانوروں کی طرح بےقید نہیں بنایا ہے یہ دنیا دار العمل ہے اس دار العمل سے گذرنے کے بعد ایک دار الجزاء کا آنا ضروری ہے تاکہ خیر وشر پر جزا وسزا مرتب ہوسکے۔ اور آج کل سائنس دان جو سرے سے خدا تعالیٰ کے قائل نہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ دنیا کا کارخانہ اور اس کے تمام کام مادۂ قدیمہ اور اس کے ذرات بسیط کی حرکت قدیمہ اور موجودات کی باہمی کششوں اور طبعی خواص سے چل رہا ہے اس کے علاوہ اس کے لیے کسی مدبر اور متصرف کی ضرورت نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب مادہ میں کوئی شعور اور ادراک نہیں اور اس میں کسی قسم کی قدرت اور ارادہ نہیں ہے اور مادہ کو اور اس کے ذرات بسیط کو اپنے وجود کا بھی علم نہیں اور نہ ان کو اپنی حرکت کا علم۔ مادہ کے ذرات بسیط کی تمام حرکت اضطراری ہے۔ اختیاری نہیں تو اس جاہل اور گونگے اور بہرے اور اندھے اور اپاہج مادہ سے یہ عجیب و غریب عالم کس طرح وجود میں آگیا۔ جس کو دیکھ کر حکماء اور عقلاء حیران اور سرگرداں ہیں ان سائنس دانوں کا گمان یہ ہے کہ تمام تنوعات اور تطورات مادہ کے ذرات بسیط کی حرکت سے حاصل ہوتے ہیں جو خاص خاص قوانین فطرت کے مطابق دی جارہی ہے معلوم نہیں کہ وہ کون سے قوانین فطرت ہیں جن کے ماتحت مادہ کے ذرات بسیط کی حرکت جارہی ہے اور ان فلاسفۂ عظام کو ان قوانین فطرت کا علم کہاں سے ہوا اور کس طرح ہوا ذرا کچھ بتلائیں اور سمجھائیں تو سہی۔
Ayahs 10:7–10

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطمئن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ان کا ٹھکانا ان (اعمال) کے سبب جو وہ کرتے ہیں دوزخ ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو پروردگار ان کے ایمان کی وجہ سے (ایسے محلوں کی) راہ دکھائے گا (کہ) ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہ رہی ہوں گی۔

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

(جب وہ) ان میں (ان کی نعمتوں کو دیکھیں گے تو بےساختہ) کہیں گے سبحان اللہ اور آپس میں انکی دعا سلام علیکم ہوگی اور ان کا آخری قول (یہ ہوگا) کہ خدائے رب العالمین کی حمد (اور اس کا شکر) ہے۔

بیان حال ومآل منکرین معاد وبیان نعیم اہل ارشاد قال اللہ تعالی۔ ان الذین لا یرجون۔۔ الی۔۔۔ ان الحمد للہ رب العلمین (ربط): اوپر کی آیتوں میں مبداء اور معاد کا ذکر تھا اب ان آیات میں معاد کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کا حال ومآل بیان ہوتا ہے جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں ان کی تہدید ہے اور ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے اخروی نتائج کا بیان ہے اور یہ بتلاتے ہیں کہ جو لوگ آخرت کے منکر ہیں اور حیات فانیہ پر راضی اور مطمئن ہوگئے ہیں اور اس کو اپنا مقصود اور مطمح نظر سمجھ بیٹھے اور اس قدر غافل ہیں کہ دلائل قدرت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے وہ شقی اور بدبخت ہیں اور جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں اور اس کے لیے تیاری کرتے ہیں وہ سعید اور خوش نصیب ہیں ان کا عمل ان کے سامنے نور بن کے چلے گا اور جس درجہ کا ایمان ہوگا اسی درجہ کا نور ہوگا ان آیات میں اولاً منکرین آخرت کا حال اور مآل بیان کیا اور پھر مصدقین آخرت کا حال اور مآل بیان کیا تاکہ خوب فرق واضح ہوجائے۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جو لوگ قیامت کے دن ہمارے پیش ہونے کی امید نہیں رکھتے۔ یعنی آخرت اور جزاء کے منکر ہیں اور دنیاوی زندگی پر خوش ہیں اور اس پر ان کو اطمینان قلب ہے۔ یعنی اس میں ان کا جی لگا ہوا ہے۔ اور آخرت کی طلب سے خالی ہے دنیا ہی کو منتہائے مقصود سمجھے ہوئے ہیں جس کے مقابلے میں ان کو کسی چیز کی پرواہ نہیں اور وہ لوگ جو دنیاوی لذتوں میں اس قدر غرق ہیں کہ ہماری قدرت کی نشانیوں سے بالکل غافل ہیں۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ کی آگ ہے ظاہر میں تو آگ ہوگی ہی اور باطن میں بھی آگ ہوگی وہ یہ کہ وہاں پہنچ کر اپنی تمام مرغوب اور محبوب چیزوں سے محروم ہوجائیں یہ آتش فراق اور آتش حیرت اندر ہی اندر سوزاں ہوگی اور یہ آتش دوزخ بدلہ اور سزا ہوگی اس عمل کی جو دنیا میں کماتے تھے۔ یعنی یہ آتش دوزخ ان کے کفر اور شرک کی سزا ہوگی۔ اور اس میں شک نہیں کہ جو لوگ اللہ اور رسول ﷺ پر ایمان لائے اور جنت کے لیے انہوں نے نیک کام کیے ان کا پروردگار ان کے ایمان کے سبب ان کو جنت کی راہ دکھائے گا ان کے مکانوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ لوگ نعمت اور عیش و عشرت کے باغوں میں ہوں گے اور نعمت کے باغوں میں ان کا عجب حال ہوگا۔ اور وہاں ان کا قول یہ ہوگا سبحنک اللھم۔ اے اللہ تو پاک ہے وعدہ خلافی سے اور تمام نقائص سے یعنی جنت میں پہنچنے کے بعد ان کا شغل تسبیح و تقدیس ہوگا اور اسی میں ان کو لذت آئے گی کوئی لغو اور بیہودہ بات ان کی زبان سے نہیں نکلے گی۔ اور باہمی ملاقات کے وقت ان کی دعائے خیر سلام ہوگی۔ یعنی ملاقات کے وقت ایک دوسرے کو دعا سلام ہوگی۔ نیز فرشتے بھی ان کو سلام کریں گے اور سلامتی کی بشارت دیں گے اور ان کا اخیر قول یہ ہوگا الحمد للہ رب العلمین۔ یعنی سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے سارے جہانوں کا یعنی ان کے کلام کی ابتدا تسبیح سے ہوگی۔ اور اس کا اختتام تحمید پر ہوگا یعنی اخیر میں اللہ کی حمدوشکر کریں گے۔ کہ اس نے اپنے فضل وکرم سے یہ نعمتیں عطا کیں۔ حدیث میں ہے کہ اہل جنت کو تسبیح وتحمید کا اہتمام ہوگا اور سانس کی طرح ان کی زبان سے تسبیح وتحمید جاری ہوگی اور تحمید وتسبیح سے بڑھ کر اہل جنت کو کوئی چیز لذیذ معلوم نہ ہوگی۔ قطعہ ذوق نامش عاشق مشتاق را از بہشت جاودانی خوش تر است گرچہ در فردوس نعمتہائے است وصل او از ہر چہ دانی خوشتر ست زجاج کہتے ہیں کہ اہل جنت کے کلام کا آغاز تسبیح وتعظیم سے ہوگا اور اس کا اختتام خدا کے شکر اور ثنا پر ہوگا۔ (تفسیر کبیر صفہ 565 ج 4)
Ayahs 10:11–12

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی۔ سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کو توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کردیتے ہیں تو (بےلحاظ ہوجاتا اور) اس طرح گزر جاتا ہے کہ گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان کے اعمال آراستہ کر کے دکھائے گئے ہیں۔

منکرین نبوت کے شبہ کا جواب قال اللہ تعالی۔ ولو یعجل اللہ للناس الشر۔۔۔ الی۔۔۔ فی طغیانھم یعمہون (ربط): اس سورت کا آغاز منکرین نبوت کے شبہات کے جوابات سے ہوا ہے چناچہ منکرین نبوت کے ایک شبہ کا جواب شروع سورت میں ہوچکا ہے اب ان آیات میں ان کے ایک اور شبہ کا جواب دیتے ہیں کہ کفار اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر محمد ﷺ خدا کے سچے نبی ہیں تو ان کی مخالفت کرنے پر عذاب کیوں نہیں آتا اور ہم پر آسمان سے پتھر کیوں نہیں برستے۔ اور ہم ہلاک کیوں نہیں کردئیے جاتے لہذا حق سبحانہ ان کے اس شبہ کا جواب ارشاد فرماتے ہیں کہ منکرین اور مخالفین پر فورا عذاب نازل کرنا ہماری حکمت اور حمت کے خلاف ہے۔ ہم جیسا لوگوں پر رحمت اور نعمت نازل کرنے میں جلدی کرتے ہیں اگر ایسے ہی ان کے ہلاک کرنے میں جلدی کریں تو کام ہی تمام ہوجائے۔ اللہ کی حکمت اور رحمت یہی ہے کہ ان کے ہلاک کرنے میں جلدی نہ کی جائے ویسے خدا تعالیٰ کو ان کے پکڑنے پر ہر وقت قدرت ہے۔ وہ حلیم بھی ہے اور حکیم بھی ہے۔ شاید سنبھل جائیں۔ اور حق کو قبول کرلیں یہ اس کا فضل ہے کہ وہ شر کی دعا جلدی قبول نہیں کرتا نیز اس سے اہل ایمان کو ادب سکھانا ہے کہ شر کے مانگنے میں جلدی نہ کریں۔ (ربط دیگر): کہ گزشتہ آیات میں آں حضرت ﷺ کی نبوت و رسالت پر کفار مکہ کے استعجاب کو دفع فرمایا۔ اب ان آیات میں ان کے دوسرے تعجب کو دفع کرتے ہیں وہ اس بات پر تعجب کرتے تھے کہ باوجود ہماری مخالفت کے ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا۔ جواب یہ ہے کہ وہ حلیم کریم ہے فور انہیں پکڑتا بلکہ مہلت دیتا ہے۔ نہ گردن کشاں را بگیر بفور نہ عذر آوراں را براند بحور (ربط دیگر): گزشتہ آیات یعنی ان الذین لا یرجون لقاءنا الخ میں ان کی غفلت اور جہالت اور حماقت کو بیان کرتے ہیں وہ یہ کہ نزول عذاب کے بارے میں عجلت کے خواہاں ہیں جیسا کہ سورة ص میں ہے وقالو ربنا عجل لنا قطعنا قبل یوم الحساب چناچہ فرماتے ہیں کہ اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر برائی پہنچانے اور سختی کرنے میں جلدی کرتا اور نادانوں کی خواہش کے مطابق ان کی بد دعا قبول کرنے میں اور ان کی بداعمالیوں کی سزا میں جلدی کرتا جیسا کہ یہ لوگ دنیاوی فوائد کے حاصل کرنے میں دعائے خیر کے قبول ہونے میں جلدی کرتے ہیں تو البتہ کبھی کی ان کی موت آچکی ہوتی اور سب مرچکے ہوتے اور ان کا نام ونشان بھی نہ رہتا لیکن ہمارا حلم اور ہماری حکمت جلد بازی کی مقتضی نہیں۔ پس اس لیے کہ ہم ان لوگوں کو جن کو ہمارے سامنے پیش ہونے کی نہ امید ہے اور نہ ڈر ہے۔ ان کو ان کے حال پر بلا عذاب کے ان کی سر کشی اور بےراہی چھوڑ دیتے ہیں کہ بھٹکتے پھریں تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہوجائے یعنی ایسے سرکشوں کو مہلت دینا اور نہ پکڑنا بطور استدارج کے ہے کہ اللہ کی حجت ان پر پوری ہوجائے اور عجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے حلم اور اپنے لطرف وکرم سے ان نادانوں کی بد دعا قبول کرنے میں جلدی نہیں کرتا اور جو لوگ بعث اور جزا وسزا کے منکر ہیں وہ عذاب نہ ہونے سے یہ نہ سمجھیں کہ وہ حق پر ہیں بلکہ یہ سمجھیں کہ یہ مہلت ان کے حق میں استدراج اور خذلان ہے اور ایک قسم کی رحمت بھی ہے کہ فورا نہیں پکڑلیا۔ انسان کی طبعی کمزور اور اس کی ناسپاسی اور احسان فراموشی قال اللہ تعالی۔ واذا مس الانسان الضر دعانا۔۔۔ الی۔۔۔ ماکانوا یعملون۔ (ربط): حق تعالیٰ نے کفار پر نبی کریم ﷺ کی مخالفت کی وجہ سے کبھی کچھ تکلیفیں نازل کیں تاکہ متنبہ ہوجائیں اور سنبھل جائیں مگر ان کا حال یہ ہوا کہ جب مصیبت نے ان کو آپکڑا تو اس وقت خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ اور اپنے بتوں کو بھول گئے بلکہ ان کو چھوڑ بیٹھے۔ مصیبت کے ایک تازیانے سمجھا دیا کہ شرک سراسر باطل ہے پھر خدا تعالیٰ نے جب ان کی تکلیف دور کردی تو پھر خدا کو بالکل بھول گئے۔ اس آیت سے مقصود انسان کی بےصبری اور اس کے جزع وفزع کا حال بیان کرنا ہے کہ انسان بڑا ہی بےصبرا اور بڑا ہی ناشکرا ہے ذرا سی مصبت میں گھبرا جاتا ہے اور ذرا سی راحت ونعمت میں اترانے لگتا ہے اور منعم حقیقی کو بھول جاتا ہے۔ یہ آیت اگرچہ کفار کے بارے میں نازل ہوئی مگر جس حالت کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر کیا ہے وہ اہل کفر کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ بہت سے مسلمان بھی اس میں مبتلا ہیں سو جاننے چاہیے کہ حالت ضراء میں صبر اور رضا بالقضاء لازم ہے اور حالت سراء میں حمد وشکر اور ثناء لازم ہے ہر حالت کے احکام الگ الگ ہیں۔ (ربط دیگر): یہ کہ گزشتہ آیت میں کفار کی بےباکی اور سرکشی کو بیان کیا تھا کہ یہ بیباک خدا تعالیٰ کی معصیت کر کے سوال کرتے ہیں کہ خدا اپنے مجرموں کو فورا کیوں نہیں پکڑتا اب اس آیت میں یہ بیان کرتے ہیں کہ انسان اپنی بےباکی سے خود عذاب طلب کرتا ہے اور زبان سے برائی مانگتا ہے مگر اتنا کمزور اور بودا ہے کہ جہاں ذرا تکلیف پہنچی گھبراکر ہمیں پکارنا شروع کردیا۔ ذرا ایک مصیبت آئی تو غرور کا سارا نشہ کافور ہوا۔ (ربط دیگر): یہ کہ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا معاملہ اور برتاؤ انسان کے ساتھ بیان کیا اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ انسان کا معاملہ اور برتاؤ ہمارے ساتھ کیسا ہے نیز یہ بتلانا ہے کہ ان کا استعجال عذاب یعنی نزول عذاب کی طلب، طلب کا ذت تھی ذرا سی تکلیف پہنچی تو اسی وقت بارگاہ خداوندی میں عجز وزاری شروع کردی۔ چناچہ فرماتے ہیں اور انسان کا عجب حال یہ ہے کہ جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہم کو کروٹ پر لیٹا ہوا یا بیٹھا ہوا یا کھڑا ہوا یعنی جس حالت میں بھی ہو اس تکلیف کے دور کرنے کے لیے ہم کو پکارتا رہت ا ہے۔ پس جب ہم اس سے اس کی تکلیف کو دور کردیتے ہیں تو وہ بدستور اپنے پہلے طریق کفر اور غفلت پر چل دیتا ہے گویا کہ اس نے ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔ مطلب یہ ہے کہ تکلیف اور رنج کے وقت کچھ دل نرم ہوجاتا ہے اور ہماری طرف جھک جاتا ہے اور جب تکلیف دور ہوجاتی ہے تو اپنی اسی قدیم شق اور اور غفلت کی طرف لوٹ جاتا ہے اور جس تکلیف اور مصیبت کے وقت ہم کو پکارتا ہے وہ بھی بھول جاتا ہے۔ اسی طرح آراستہ کردئیے گئے۔ حد سے گزرنے والوں کے لیے ان کے اعمال۔ جو لوگ حد سے نکل گئے ان کو اپنے برے اعمال اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ مقصود آیت یہ ہے کہ کافر انسان نزول بلا کے وقت بےصبرا ہے اور حصول نعمت کے وقت ناشکرا ہے۔ تکلیف کے وقت اسے خدا یاد آتا ہے اور راحت کے وقت خدا کو بھول جاتا ہے اور یہ اس کے بےایمانی کی دلیل ہے اور مومن کامل وہ ہے جو کسی وقت خدا کو نہ بھولے۔ بلا اور مصیبت میں صابر رہے اور راحت ونعمت میں شاکر رہے ایک حدیث قدسی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے میرے بندے تو مجھے اپنی راحت میں یاد رکھ میں تجھے تیری مصیبت میں یاد رکھوں گا۔
Ayahs 10:13–14

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔

ذکر ہلاک مجرمین سابقین برائے عبرت مجرمین حاضرین قال اللہ تعالیٰ ولقد اھلکنا القرون من قبلکم۔۔۔ الی۔۔۔ لننظر کیف تعملون۔ (ربط): گزشتہ آیت میں کفار ومشرکین کا مستحق عذاب ہونا بیان کیا اب ان آیات میں کفار سابقین کا نافرمانی کے جرم میں ہلاک ہونا ذکر کرتے ہیں تاکہ حاضرین اور موجودین اور آں حضرت ﷺ ان سابقین کے حالات سے عبرت حاصل کریں اور نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی تکذیب اور مخالفت سے باز آجائیں اور سمجھ لیں کہ اللہ کی یہ قدیم سنت ہے کہ جو لوگ انبیاء ورمسلین کے کھلے نشانات دیکھنے کے بعد ان کی تکذیب پر کمر بستہ رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمانی عذاب سے ہلاک کر ڈالا مگر ایک زمانہ کے بعد ہلاک کیا فوراً نہیں نہیں ہلاک کیا۔ اللہ تعالیٰ حلیم ہے پکڑنے پر جلدی نہیں کرتا اس لیے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے حلم سے دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے اہل مکہ ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کیا جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا یعنی کفر اور شرک کیا اور انبیاء کرام کی تکذیب کی اور ان کی آیات بینات اور حجج واضحات کا انکار کیا اور ہم نے محض ان کے ظلم پر نہیں پکڑا بلکہ بعد اس کے کہ ان کے پاس ان کے رسول اپنی نبوت و رسالت کے روشن دلائل لے کر آئے اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ کی حجت ان پر پوری ہوگئی اور غایت عناد کی وجہ سے وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لے آتے جس طرح ہم نے ان کو ہلاک کیا اسی طرح ہم مجرم لوگوں کو سزا دیا کرتے ہیں۔ پھر ان کے ہلاک اور برباد کرنے کے بعد زمین میں تم کو ان کا جانشین کیا اور ان کے بجائے تم کو آباد کیا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسا عمل کرتے ہو ایمان لاتے ہو یا تکذیب کرتے ہو تمہار اعمال کے موافق ہم معاملہ کریں گے۔ عقل کا تقاضہ یہ ہے کہ انسان پچھلوں سے عبرت پکڑے اور بلاء اور قہر کے نازل ہونے سے پہلے اپنی حالت درست کرلے۔