Ayahs 10:45–56تحقیق معاد مع جوابات شبہات کفار وزکر حسرت مکذبین رسالت در روز قیامت
قال اللہ تعالی۔ ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا۔۔۔ الی۔۔۔ ھو یحییٰ ویمیت والیہ ترجعون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مکذبین رسالت کی تکذیب اور ان کی قلت تفکر اور عدم تدبر کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں ان مکذبین کی حسرت کا بیان ہے جو ان کو روز قیامت میں پیش آئے گی۔ اور مطلب یہ ہے کہ یہ کافر جس چند روزہ ناز ونعمت پر اترا رہے ہیں اور اس کے نشہ میں نعیم ابدی اور عیش جاودانی پر لات مار رہے ہیں جب یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو اس وقت ان کو اپنا خسارہ نظر آجائے گا۔ جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں اور قیامت کے دن ان کو اپنی طویل زندگی ایک گھڑی سے بھی کم معلوم ہوگی اور سوائے حسرت وندامت کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا اور یہ مال واسباب جس پر آج ان کو ناز ہے وہ آخرت میں ان کے کچھ کام نہ آئے گا اور اگر بالفرض عذاب الہی کے بدلہ میں کچھ فدیہ دینا چاہیں گے تو ہرگز قبول نہ ہوگا اور عذاب الٰہی سے کسی طرح رہائی نہ ہوگی۔ نیز ان آیات میں منکرین نبوت کے پانچویں شبہ کا جواب دیا گیا ہے وہ یہ کہ جب آنحضرت ﷺ ان کو عذاب الٰہی سے ڈراتے اور ایک زمانہ گزر جاتا کہ وہ عذاب نازل نہ ہوتا تو یہ کہتے متی ھذا الوعد (وہ عذاب کا وعدہ کب پورا ہوگا) اس شبہ کے دو جواب دئیے اول یہ کہ اے نبی ! آپ یہ کہہ دیجئے کہ عذاب کا نازل کرنا میرے اختیار میں نہیں کہ وہ اللہ کی حکتم اور مشیت کے تابع ہے اللہ نے جس کام کے لیے جو وقت مقرر کیا ہے وہ اس سے پہلے نہیں ہوسکتا۔
دوم یہ کہ بالفرض اگر وہ عذاب تمہاری فرمائش کے مطابق جلدی نازل ہوجائے تو تم کو کیا فائدہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے تم کوئی بچاؤ تو کر نہیں سکتے۔ اور اگر یہ کہو کہ عذاب دیکھ کر ہم ایمان لے آئیں گے تو اس وقت کا ایمان معتبر اور مفید نہیں۔ وہ ایمان اضطراری ہے کہ اختیاری نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین جو عذاب کے بارے میں جلدی کرتے ہیں اور اس کا وقت پوچھتے ہیں یہ سب عبث اور بیکار ہے۔ عذاب الٰہی کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ ناگہاں آیا کرتا ہے کبھی دن میں کبھی رات میں چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو کہ جب کہ سب لوگوں کو میدان حشر میں جمع کرے اور اس دن ایسا معلوم ہوگا کہ گویا وہ دنیا میں یا برزخ میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے قیامت کی شدت اور ہول سے گزشتہ زندگی ایک ساعت معلوم ہوگی۔ اور جب قبر سے اٹھیں گے تو ایک دوسرے کو پہچانیں گے گویا کہ مفارقت کو زیادہ زمانہ نہیں گزرا تھوڑی دیر کی جدائی میں آدمی بھولتا نہیں مگر یہ حال ابتداء حشر میں ہوگا اس کے بعد جب قیامت کی شدت اور دہشت ہوگی تو یہ جان پہچان جاتی رہے گی اور ایک دوسرے کو بھول جائیں گے بیشک گھاٹے میں رہیں گے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے سامنے پیش ہونے کا انکار کیا۔ یعنی حساب و کتاب اور جزا وسزا کے منکر ہوئے اور نہ تھے وہ دنیا میں راہ پانے والے بہت تھوڑی سی زندگی کے لیے غیر متناہی زمانہ کی مصیبت مول لے لی اس سے بڑھ کر کیا خسارہ ہوگا۔ حق تعالیٰ نے دنیا میں ان کو اپنی معرفت اور اطاعت کا سامان دیا یعنی عقل و شعور اور قدرت واختیار دیا مگ سب کا سب اپنی جہالتوں میں ضائع کردیا اور اے نبی ! اگر ہم اس عذاب اور وعید میں کا کچھ حصہ جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں آپ کی زندگی ہی میں آپ کو دکھلا دیں یا دنیا میں اس عذاب کو دکھلانے سے پہلے ہی آپ کو وفات دے دیں تو بہرحال ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ نے کافروں سے جو وعدہ عذاب کا کیا ہے وہ ضرور واقع ہوگا۔ کچھ عذاب تو آپ کی زندگی میں ہوگا اور کچھ آپ کے بعد اور آخرت کا عذاب آخرت میں چناچہ حق جل شانہ نے فتوحات اور غلبۂ اسلام کے جو وعدے کیے تھے ان میں سے بعض کا ظہور تو حضور پر نور ﷺ کی زندگی میں ہوگی اور واقعہ کا باقی ماندہ حصہ خلفاء راشدین کے دور خلافت میں پورا ہوا اور آخرت کا عذاب قیامت کو ہوگا معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ بہرحال پورا ہوتا ہے۔ ان اللہ لا یخلف المیعاد۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے غلبۂ اسلام اور فتوحات کا وعدہ فرمایا مگر اس کا کوئی وقت معین نہیں فرمایا۔ اور آپ کی تسلی کے لیے یہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے جو فتوحات اور غلبہ اسلام کا غیر موقت وعدہ کیا ہے وہ ضرور اپنے وقت پر پورا ہوگا ان میں سے بعض فتوحات آپ ﷺ کے زمانہ میں ہوں گی، جیسے بدر وغیرہ میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کی ذلت آپ ﷺ کو دکھلا دی اور اور بعض فتوحات آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے خلفاء کے ہاتھ پر واقع ہوں گی۔ اس طرح بتدریج اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوگا آپ ﷺ مطمئن اور بےفکر رہیں پھر اللہ تعالیٰ مطلع ہے ان اعمال پر جو وہ کر رہے ہیں۔ ان کو ان کی سزا دے گا۔ حضرت شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں یعنی غلبۂ اسلام کچھ حضرت کے روبرو ہوا اور باقی آپ ﷺ کی وفات کے بعد خلفاء کے ہاتھوں سے گویا کہ نتوفینک میں اس طرف اشارہ ہے واللہ اعلم۔
اور ہر امت کے لیے ایک رسول ہوا ہے سو جب ان کا رسول ان کے پاس آگیا یعنی معجزات اور آیات لے کر آیا اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوگئی۔ مگر انہوں نے اس رسول کو جھٹلایا تو وہ لوگ مبتلائے عذاب ہے اور ان کے درمیان فیصلہ کردیا گیا یعنی رسول جھٹلانے والوں کے درمیان عدل اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا کہ رسول اور اس کے متبعین کو نجات ہوئی اور جھٹلانے والے ہلاک ہوئے اور اس فیصلہ میں ان پر ظلم نہیں کیا جاتا کیونکہ ظلم جب ہوتا کہ جب ان کو بےقصور عذاب دیا جاتا۔ حجت پوری ہونے کے بعد مواخذہ ظلم نہیں بلکہ عین عدل ہے اور یہ لوگ عذاب کی وعیدیں سن کر استہزاءً یہ کہتے ہیں اے نبی ! اور اے مسلمانو ! یہ نزول عذاب کا وعدہ اور وعید کب پورا ہوگا۔ اگر تم اپنے وعدے میں سچے ہو تو وہ عذاب لا کر دکھلاؤ (اے نبی ! ) آپ ﷺ جواب میں کہہ دیجئے کہ مجھے عذاب نازل کرنے کا تو کیا اختیار ہوتا میں تو اپنی ذات کے لیے نقصان اور نفع کا مالک نہیں یعنی میں تو بشر ہوں مجھ میں یہ قدرت نہیں کہ اپنی ذات کے لیے کوئی نفع حاصل کرسکوں یا اپنے سے کسی ضرر کو دور کرسکوں جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے پھر میں تم پر عذاب کیسے نازل کرسکتا ہوں اللہ نے عذاب کا وعدہ کیا ہے مگر اس کا وقت نہیں بتلا یا کہ کب آئے گا جب اللہ کو منظور ہوگا وہ نازل کردے گا۔ جلدی کیوں مچاتے ہو ہر امت کے لیے ایک وقت مقرر ہے تمہارے لیے بھی ایک وقت مقرر ہے۔ پس جب ان کا وقت معین آ پہنچتا ہے تو وہ اپنے وقت معین سے نہ ایک گھڑی پیچھے رہ سکتے اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح تم اپنے وقت مقررہ پر غارت ہوگے اے نبی ! آپ کافروں سے کہہ دیجئے بتلاؤ تو سہی کہ اگر وہ عذاب جس کے نازل کرنے کی جلدی کر رہے ہو رات کو یا دن کو ناگہانی طور پر وہ عذاب آجائے بہرحال وہ عذاب ہی تو ہوگا تو یہ مجرم کس چیز کو جلدی مانگ رہے ہیں یعنی عذاب میں کوئی خوبی اور لذت نہیں جس کے لیے تم اس قدر بےتاب ہو رہے ہو اور اگر یہ کہو کہ اگر ہم پر عذاب نازل ہوا تو ہم اس کو دیکھ کر ایمان لے آئیں گے تو اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتے ہیں تو کیا پھر جب وہ عذاب واقع ہوجائے گا اور تم اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب ہی تم اس پر ایمان لاؤ گے۔ جب ایمان لانا کوئی مفید نہیں اس وقت ہم کہیں گے کہ اب تم نے اس کا یقین کیا اور اس سے پہلے تم بطور مذاق اس کے نزول میں جلدی مچایا کرتے تھے سو اب اس کا مزہ چکھو اس وقت کے ایمان اور یقین سے تم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ پھر ان ظالموں سے جنہوں نے رسول کی تکذیب کی کہا جائے گا کہ ہمیشہ کا عذاب چکھو جو کبھی منقطع نہ ہوگا۔ نہیں جزاء دئیے جا رہے۔ تم مگر اس کفر اور معصیت کی جسے تم ساری عمر کماتے رہے اور دنیا کی محبت میں آخرت سے اندھے بنے رہے
اور یہ کافر بطور تعجب اور بطریق دل لگی آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا وہ عذاب جس کا آپ ﷺ ہم سے وعدہ کرتے ہیں یا بعث اور قیامت اور معاد جس سے آپ ﷺ ہم کو ڈراتے ہیں حق ہے یعنی واقعی آنے والا ہے۔ آپ ﷺ کہہ دیجئے ہاں قسم ہے میرے پروردگار کی البتہ تحقیق وہ عذاب موجود یا بعث اور معاد بلاشبہ حق ہے یعنی واقعی آنے والا ہے اور تم میں اتنی قدرت نہیں کہ تم خدا کو اپنے پکڑنے سے عاجز کرسکو۔ اور اس کے عذاب اور قہر کو روک سکو۔ تمہارا مر کر مٹی میں مل جانا اور ریزہ ریزہ ہوجانا خدا کو اس سے عاجز نہیں کرسکتا کہ وہ تم کو دوبارہ زندہ کرسکے اور تمہیں کفر وشرک کے عذاب کا مزہ چکھائے اور آپ ﷺ ان سے یہ بھی کہہ دیجئے کہ کفر وشرک کا جرم اس قدر عظیم ہے کہ اگر ہر نفس کے پاس جس نے کفر اور شرک کر کے اپنی جان پر ظلم کیا ہے روئے زمین کا مال ومتاع ہو تو وہ قیامت کے دن اپنے آپ کو عذاب سے چھڑانے کے لیے یہہ سب کچھ فدیہ دینے کے لیے تیار ہوگا مگر قبول نہ ہوگا۔ پس اے انسان ! آج جس دنیا کے پیچھے تو دیوانہ بنا ہوا ہے اور آخرت سے منہ موڑے ہوئے کل کو عذاب آخرت سے رہائی کے لیے تو ہی تمام خزائن واموال کو فدیہ میں دینے کے لیے تیار ہوگا اللہ تو دنیا میں تجھ سے کچھ مال نہیں مانگتا صرف ایک آسان بات چاہتا ہے کہ تو خدا کے ساتھ کسی کو شریک مت کر اور جب وہ آخرت میں عذاب کو دیکھیں گے تو ندامت اور شرمندگی کو اپنے یاروں اور ہوا خواہوں سے چھپائیں گے۔ تاکہ دوسرے لوگ ان کو ملامت نہ کریں اور سب کے سامنے فضیحت نہ اور دیکھنے والے اور زیادہ نہ ہنسیں۔ اور بعض علماء نے کہا کہ اسرار کے معنی اظہار کے ہیں۔ یہ لغات متضادہ میں سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ مشرکین عذاب آخرت کو دیکھ کر اپنے اعمال پر اظہار ندامت کریں گے شاید اظہار ندامت سے کچھ کام چل جائے اور ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جائے گا یعنی ان کو اتنی ہی سزا دی جائے گی جتنا ان کا قصور ہوگا آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کی ملک ہے اس کو کسی کے فدیہ کی حاجت نہیں آگاہ ہوجاؤ کہ خدا کا وعدہ ثواب اور عذاب کے بارے میں حق ہے۔ اس کے وقوع پر کوئی شک نہیں لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے ہیں اس لیے وہ دنیا پر مغرور ہیں اور آخرت سے دور ہیں اور قصور عقل سے فقط دنیاوی زندگانی کو حیات سمجھتے ہوئے ہیں وہی جلاتا اور مارتا ہے پس اسے دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے اور مرنے کے بعد تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور حساب و کتاب ہوگا لہذا آخرت کو حق سمجھو اور اس کے لیے تیاری کرو۔
Ayahs 10:57–58ذکر محاسن قرآن برائے ترغیب ایمان
قال اللہ تعالی۔ یا ایہا الناس قد جاء تکم موعظۃ من ربکم۔۔۔ الی۔۔۔ ھو خیر ممایجمعون
(ربط): اوپر کی آیتوں میں قرآن کے اعجاز کا بیان تھا اب ان آیات میں قرآن کی شان اور صفت اور فضیلت کو بیان کرتے ہیں کہ اے لوگو ! ہم نے تمہارے لیے ایسی چیز بھیجی ہے جو تمہارے لیے موعظیت اور حکمت بھی ہے اور سر تا سر پند ونصیحت بھی ہے جو تم کو بری باتوں سے روکتی ہے اور شکوک و شبہات کی بیماری سے دل کو شفا بخشنے والی بھی ہے اور حق کا راستہ بتاتی ہے اور گمراہی سے بچاتی ہے اور خدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہے اور باعتبار نتیجہ اور ثمرہ اہل ایمان کے لیے رحمت ہے جس کے اتباع کی برکت سے ظاہر و باطن اللہ کی رحمت و عنایت کا مورد بنتا ہے پس افسوس ہے کہ تم اس نسخۂ شفا اور اس اکسیر اور کیمیا سے انحراف کرتے ہو تم کو چاہئے کہ فوراً اس پر ایمان لاؤ۔ اور ایسی کتاب مستطاب کو حرز جان بناؤ۔ یہ قرآن آپ کی نبوت و رسالت کی دلیل اور برہان ہے لہذا تم آں حضرت ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لاؤ۔ جس طرح " قانون " شیخ بو علی سینا کے طبیب ہونے کی دلیل ہے اسی طرح یہ قرآن آں حضرت ﷺ کے طبیب روحانی ہونے کی دلیل ہے غرض یہ کہ قرآن کریم کی صفت اور فضیلت بیان کرنے سے آں حضرت ق کی نبوت و رسالت کا اثبات ہے اور لوگوں کو اس طب روحانی کی طرف رجوع کرنے کی دعوت اور ترغیب ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ اے لوگو تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک نصیحت آچکی ہے۔ یعنی قرآن جو تم کو برے کاموں سے روکتا اور نفرت دلاتا ہے اور ان کے برے انجام سے تم کو ڈراتا ہے اور اچھے کاموں کی ترغیب دلاتا ہے اور ایک شفا اور دوا آئی ہے جو سینوں کی بیماریون کو دور کرنے کے لیے از حد مفید ہے۔ یعنی قرآن دلوں کی مہلک بیماریوں، جہالت اور ضلالت اور عقائد فاسدہ اور شکوک و شبہات اور اخلاق ذمیمہ سے جو روح کے لیے مہلک ہیں شفاء بخشتا ہے اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت آچ کی ہے۔ یعنی یہ قرآن اہل ایمان کے لیے ہدای ت ہے کہ ان کو خدا تک پہنچنے کا راستہ بتاتا ہے اور اپنے پیروؤں کو خدا کی رحمت اور عنایت کا مورد بناتا ہے اور بقدر اتباع کے رحمت الٰہیہ کے انوار وبرکات کا نزول ہوتا ہے۔ دنیا کو قرآن کے آنے سے ظلمات کفر وضلالت سے نجات ملی اور آخرت میں ظلمات نار سے نجات ملے گی۔
اے نبی ! آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ جب یہ قرآن ایسا ہے تو لوگوں کو چاہئے کہ اللہ کے فضل و رحمت پر خوش ہوں۔ خوش ہونے کی چیز اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے دنیاوی متاع حقیر اور حیات و دولت خوش ہونے کی چیز نہیں اس لیے کہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت دنیا کے اس مال ومتاع سے کہیں بہتر ہے جس کو وہ جمع کر رہے ہیں دنیا اور اس کا نفع قلیل اور فانی ہے اور قرآن اور اس کا نفع کثیر اور باقی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب قرآن ایسی عظیم نعمت ہے تو تم ایسی چیز سے کیوں انحراف کرتے ہو۔
1 ۔ ابن عباس اور ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ فضل سے قرآن مراد ہے اور رحمت سے اللہ کی توفیق مراد ہے کہ اس نے اہل قرآن اور اہل ایمان میں سے بنایا۔ (تفسیر قرطبی ص 353 ج 8)
زہے کلام تو محض ہدایت و حکمت زہے پیام تو عین عنایت ورحمت
کشد کمند کلام تو اہل عرفاں را زشور زار خساست بہ گلشن ہمت
2: بعض اہل بدعت اس آیت سے مروجہ میلاد کے ہونے پر استدلال کرتے ہیں سو یہ بالکل مہمہل ہے اس آیت کا تعلق نزول قرآن سے ہے نہ کہ محفل میلاد سے اور خوش ہونے سے جشن کرنا یا جلسہ کرنا مراد نہیں بلکہ اس کو نعمت خداوندی سمجھ کر اس کی قدر کرنا اور اس کو قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا مراد ہے۔
Ayahs 10:59–60تقبیح بعض رسوم جاہلیت
قال اللہ تعالی۔ ق ل ارءیتم ما انزل اللہ لکم من رزق۔۔۔ الی۔۔۔ لا یشکرون
(ربط): گزشتہ آیات میں شرک کا ابطال تھا اب اس آیت میں ایک مشرکانہ رسم کی قباحت کا بیان ہے وہ یہ کہ جاہل تحرم حلال کے رسم بد میں مبتلا ہیں۔ خلاف عقل بےسند باتوں پر چلتے ہیں کسی بات میں احتیاط نہیں حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنا ان کے نزدیک ایک آسان بات ہے خوب سمجھ لو کہ یہ سب اللہ تعالیٰ پر افتراء ہے حلال و حرام اور احکام خداوندی کا علم بدون نبی کے نہیں ہوسکتا لہذا نبی پر ایمان لانا ضروری ہوا تاکہ اس کے واسطے سے احکام خداوندی کا علم ہوسکے۔
(ربط دوم): کہ جب گزشتہ آیات میں توحید اور رسالت اور قیامت پر دلائل قائم کر دئیے گئے اور ان کے سوالات اور شبہات کے جوابات دیدئیے گئے تو اب یہ بتلاتے ہیں کہ مشرکین کا طریقہ بالکل لغو اور مہمل ہے اور بےاصل اور بےسند اور خلاف عقل باتوں پر مبنی ہے جس کی حقیقت سوائے افتراء کے اور کچھ نہیں۔
(ربط سوم): کہ قرآن تو ہدایت اور شفاء ہے اور شرک اور مشرکانہ رسوم سراسر ضلالت اور مصیبت اور مرض اور بیماری ہیں جس کے لیے ہادی مشفق اور طبیب حاذق کی ضرورت ہے۔ اے نبی آپ ان کفار مکہ سے کہیے کہ یہ تو بتلاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے فائدے کے لیے جو رزق اتارا ہے جیسے کھیتی اور مویشی کہ سب کا وجود بارش پر موقوف ہے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے پھر ٹھہرا لیا تم نے اس میں بعض روزی کو حرام اور بعض کو حلال اور بعض کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ یہ بعض کے واسطے حلال ہے اور بعض کے لیے حرام ہے جیسا کہ سورة انعام میں گذرا۔ وقالوا ما فی بطون ھذہ الانعام خالصہ لذکورنا و محرم علی ازواجنا۔ کیا بعض کو حلال اور بعض کو حرام کرنے کا حکم تم کو اللہ نے دیا ہے یا تم اللہ پر بہتان باندھتے ہو۔ مشرکین عرب اپنی کھیتی اور موشی ٰں سے ایک حصہ بتوں کے نام مخصوص کردیتے تھے۔ اور اس سے انتفاع کو حرام جانتے تھے۔ یہ سب ان کی من گھڑت تھی اور اللہ پر تمہمت تھی۔
اور جو لوگ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں قیامت کے دن کی نسبت ان کا کیا گمان کہ قیامت ہی نہ ہوگی۔ یا قائم تو ہوگی مگر ان سے کوئی باز پرس نہ ہوگی۔ تحقیق اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ اس کا شکر نہیں کرتے اس نے اپنی رحمت سے طرح طرح رزق دئیے مگر لوگ ان کو خلاف حکم استعمال کرتے ہیں یا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فورا سزا نہیں دیتا بلکہ جرم کے بعد بھی مہلت دیتا ہے اور بغیر اتمام حجت کے کسی کو سزا نہیں دیتا۔
Ayah 10:61بیان احاطہ علم خداوندی برائے تہدید مشرکین
قال اللہ تعالیٰ وما تکون فی شان۔۔۔ الی۔۔۔ الی فی کتب مبین
(ربط): اوپر سے حق تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے علم وقدرت کا ذکر چلا آرہا ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علمی کو بیان کرتے ہیں۔ کہ اس کا علم تمام کائنات کو محیط ہے آسمان اور زمین کا کوئی ذرہ اس سے پوشیدہ نہیں
برو علم یک ذرہ پوشیدہ نیست
کہ پیدا وپنہاں بنزدش یکے نیست
اور اس احاطۂ علمی کے بیان سے دوچیزیں مقصود ہیں۔ ایک تو کفار کی تہدید مقصود ہے کہ تم ہمارے نبی اور رسول اور دین کی عداوت میں جو کچھ کر رہے ہو وہ ہم پر پوشیدہ نہیں تمہاری سازشوں اور تدبیروں سے کچھ نہیں بنتا اللہ تعالیٰ اپنے نبی کا محافظ اور نگہبان ہے اور اللہ تعالیٰ تم سے ذرہ ذرہ کا حساب لے گا دوسرا مقصود آں حضرت ﷺ کی تسلی ہے کہ آپ ﷺ گھبرائیے نہیں ان کی حرکات و سکنات اللہ تعالیٰ پر مخفی نہیں اور مثقال ذرۃ کے لفظ سے اشارہ اس طرف ہے کہ کوئی حقیر چیز بھی اس سے مخفی نہیں نیز اشارہ اس طرف بھی ہے کہ اللہ کا علم جزئیات کو محیط ہے بخلاف فلاسفۂ یونان کے کہ ان کا گمان یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو جزائیات کا علم نہیں چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ! نہیں ہوتے آپ کسی حال میں اور نہیں پڑھتے آپ قرآن کی کوئی آیت یا سورت اے لوگو نہیں کرتے تم کوئی کام مگر ہوتے ہیں ہم پاسبان اور نگہبان تم پر جب تم اس کام میں لگے ہوئے ہوتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہم پر تمہارا کوئی عمل مخفی اور پوشیدہ نہیں اور اے نبی ! تیرے پروردگار سے ایک ذرہ برابر چیز بھی غائب نہیں رہتی نہ زمین میں اور نہ آسمان میں بلکہ سب اس کے سامنے حاضر ہیں اور نہ ذرہ سے چھوٹی اور نہ بڑی کوئی چیز بھی ایس نہیں جو لوح محفوظ میں مندرج نہ ہو مطلب یہ ہے کہ کوئی بات اور کوئی اللہ تعالیٰ کے علم سے غائب نہیں قیامت کے دن ہر کام کے مناسب اس کی جزا دے گا۔
Ayahs 10:62–64بیان حال و مآل اولیاء اللہ
قال اللہ تعالی۔ الا ان اولیاء اللہ۔۔ الی۔۔۔ ھو الفوز العظیم
(ربط): گزشتہ آیات میں اعداء اللہ یعنی فاسقین اور معاندین کا حال اور مآل بیان کیا اب اس آیت میں اولیاء اللہ یعنی خدا کے محبین وصادقین کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں کہ اولیاء اللہ (یعنی خدا کے دوست) وہ لوگ ہیں جو ایمان اور تقویٰ کے ساتھ موصوف ہوں جس درجہ کا ایمان اور تقوی ہوگا اسی درجہ کی ولایت ہوگی۔ اس اعتبار سے ہر مومن ولی ہے کتاب وسنت کے عرف میں ولی اس شخص کو کہتے ہیں جس میں ایک خاص اور ممتاز درجہ کا ایمان اور تقوی پایا جاتا ہو وہ یہ کہ اللہ کی عظمت اور اس کا جلال ہر وقت اس کی نظروں کے سامنے ہو اور اس کا قلب اللہ کی محبت اور اس کی خشیت سے لبریز ہو اور لفظ الذین امنوا وکانوا یتقون اولیاء اللہ کی تعریف ہے کہ اللہ کا ولی اور مکمل ہو یا بالفاظ دیگر ولی وہ ہے جو ایمان میں کامل ہو اور حتی الوسع حق عبودیت میں مقصر نہ ہو۔
(ربط دیگر): کہ گزشتہ آیات میں اعداء اللہ کی تہدید اور وعید کا بیان تھا۔ اور اس آیت میں اولیاء اللہ کی تسلی اور بشارت کا مضمون ہے کہ خدا کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی غم ہے ان کے لیے تو دنیا اور آخرت کی بشارت ہے اور یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے اور اللہ پر دوست اور دشمن مخفی نہیں آگاہ ہوجاؤ۔ اچھی طرح سن لو تحقیق اللہ کے دوستوں پر نہ آئندہ کا کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ کسی مطلوب کے فوت ہونے سے غمگین ہوں گے
اور خدا کے دوست اور ولی وہ لوگ ہیں جو ایمان لے آئے اور اس پر ایسے مستقیم اور ثابت قدم ہوگئے کہ تزلزل کا نام ونشان نہ رہا اور تقویٰ اور پرہیزگاری کو لازم پکڑے ہوئے ہیں کہ ہر وقت خدا کی معصیت اور اس کی ناراضی سے لرزاں اور ترساں رہتے ہیں حاصل یہ کہ اولیاء اللہ وہ لوگ ہیں جو ایمان اور تقویٰ کے جامع ہوں اس لیے کہ جب ایمان کامل ہوتا ہے اور خدا سے جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے ڈرتا ہے تب خدا کا ولی اور دوست ہوجاتا ہے۔
ان کے لیے خوشخبری ہے دنیاوی زندگانی میں اور آخرت میں اولیاء اللہ کے لیے دنیا میں کئی طرح کی بشارتیں ہیں ایک بشارت تو یہی لاخوف علیھم ولاھم یحزنون کی ہے اور ایک بشارت وہ ہے جو ملائکہ ان کو موت کے وقت دیں گے۔ الا تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم تو عدون۔ الآیات اور ترمذی میں عبادۃ بن الصامت ؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ حق تعالیٰ کے قول لھم البشریٰ فی الحیوۃ الدنیا سے کیا مراد ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا اس سے مراد وہ رویائے صالحہ یعنی وہ سچا خواب ہے جو خود مومن دیکھتا ہے یا اس کے متعلق کسی دوسرے مومن کو دکھلایا جاتا ہے اور بعض علماء کا قول ہے کہ دنیا کی بشارت سے مراد ذکر جمیل اور ثناء حسن ہے اور آخرت کی بشارت سے جنت کی بشارت مراد ہے۔ کما قال تعالیٰ بشراکم المیوم جنت تجری من تحتھا الانہر۔
اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں اللہ کے سب وعدے اٹل ہیں خدا نے اپنے دوستوں سے جو وعدے کیے ہیں وہ ضروری پورے ہوں گے۔ یہ بشارت دارین بھی بڑی کامیابی ہے جس کے بعد کامیابی کا کوئی درجہ ہی نہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولیاء اللہ کی فضیلت بیان فرمائی اور بتلایا کہ اولیاء اللہ کا مصداق کون لوگ ہیں اور ولایت کی حقیت کیا ہے۔ اولیاء اللہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ پر پورے طور پر ایمان لائے۔ اور ہمیشہ اس سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اور حقیقت ایمان کی تشریح سورة انفال میں اس طرح فرمائی۔ انما المومنون الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم الایۃ۔
فائدہ : حدیث میں ہے کہ نبوت تو ختم ہوئی البتہ نبوت کا ایک جزء یعنی رویائے صالحہ باقی رہ گیا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی تو نہیں مگر خدا کے دوستوں کے لیے وحی کا ایک نمونہ یعنی سچا خواب باقی رہ گیا ہے کہ قیامت تک آنے والے مومنین صالحین کو سچے خوابوں سے بشارتیں ملتی رہیں گی۔
مرزا غلام احمد قادیانی اس آیت سے یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد بھی نبوت کا سلسلہ باقی ہے اس لیے کہ رویائے صالحہ نبوت کا ایک جزو ہے جو ہنوز باقی ہے تو معلوم ہوا کہ نبوت الٰہی باقی ہے۔ مگر مرزائے قادیان کا یہ گمان استدلال نہیں بلکہ صریح جہالت اور ہذیان ہے حدیث میں ہے کہ رویائے صالحہ نبوت کا چالیسواں جزء ہے۔ معلوم ہوا کہ نبوت چالیس اجزاء کے مجموعہ کا نام ہے۔ لہذا ایک جزء کے پائے جانے سے کیسے نبوت حاصل ہوسکتی ہے۔
شریعت کی نظر میں دو سو درہم کا مالک ہونے غنی اور صاحب نصاب ہوتا ہے اور اس پر زکوٰۃ واجب ہوجاتی ہے۔ اگر دوسود رہم میں سے ایک درہم بھی کم ہوجائے تو وہ غنی نہیں رہتا۔ چہ جائیکہ کسی کے پاس دو سو درہم کا چھیالیسواں حصہ یعنی چار درہم پورے ہوں تو شریعت کی نظر میں وہ غنی نہیں بلکہ فقیر اور مفلس ہے۔ نیز مرزا غلام احمد کے قول پر لازم آتا ہے کہ جس فاسق وفاجر کو رویائے صالحہ نظر آجائے وہ نبی ہوجائے کیونکہ مرزا لکھتا ہے کہ :
جبرئیلی نور یعنی نبوت کا چھیالیسواں حصہ یعنی سچا خواب تمام جہان میں پھیلا ہوا ہے جس سے کوئی فاسق وفاجر اور پرلے درجہ کا بدکار بھی باہر نہیں بلکہ یہاں تک مانتا ہوں کہ تجربہ میں آچکا ہے بعض اوقات ایک نہایت درجہ کی فاسقہ عورت جو کنجریوں کے گروہ میں سے ہو جس کی تمام جوانی بدکاری میں گزری ہے کبھی سچا خواب دیکھ لیتی ہے۔ (توضیح المرام ص 38، 37)
پس مرزا کے اس قول کی بنا پر کہ سچا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے اور جس کو یہ چھیالیسواں حصہ حاصل ہو وہ نبی ہے تو اب تمام فاسق وفاجر اور پرلے درجہ کی بدکار رنڈیوں کا مرزا کے قول پر نبی ہونا جائز ہوگا۔ اور مرزائے غلام احمد اور اس کی امت پر اس کنجری کی نبوت پر ایمان لانا فرض ہوگا جس کو کوئی سچا خواب نظر آگیا۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔
نیز مرزائے قادیان کے بہت سے پیروؤں نے مرزا کے بعد رویائے صالحہ اور نبوت کا دعوی کیا ہے مگر مرزا نے ان کی نبوت کو تسلیم نہیں کیا۔ اور نبی کی نبوت کو نہ تسلیم کرنا یہ کفر ہے۔ پس مرزا صاحب خاتم الانبیاء ﷺ کی نبوت کے انکار سے بھی کافر ہوئے اور اپنے بعد مدعیان نبوت کی نبوت کے انکار سے بھی کافر ہوئے۔
Ayahs 10:65–70تسلی نبی اکرم ﷺ از سخنہائے دلخراش دشمناں
قال اللہ تعالی۔ ولا یحزنک قولھم۔۔۔ الی۔۔۔ وان ھم الا یخرصون
(ربط): گزشتہ آیت میں حق تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو تسلی دی اب اس آیت میں اپنے نبی کو تسلی دیتے ہیں۔ کفار آں حضرت ﷺ کو اپنی قوت اور شوکت سے ڈراتے تھے اور طرح طرح کی دلخراش باتیں کہتے تھے سو آپ کی تسلی کے لیے ارشاد ہوا کہ آپ ﷺ ان کی باتوں سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہوں عزت اور غلبہ تو اللہ ہی کے لیے ہے وہی آسمانوں اور زمینوں کا بادشاہ ہے اور یہ کافر صرف خیالی اور فرضی چیزوں کی پیروی کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ ان کی پرواہ نہ کریں۔
غرض یہ کہ ان آیات میں آپ کو دشمنوں کی ایذا رسانی پر تسلی دی گئی اور اشارۃ ً آپ کو عزت اور نصرت کی بشارت سنائی گئی کہ آپ عنقریب اپنے دشمنوں پر غلبہ پائیں گے اور اس درمیان میں جو کسی وقت کوئی ہزیمت اور شکست پیش آئیگی تو وہ ایک عارضی اور وقتی ہوگی۔ اعتبار خاتمہ اور انجام کا ہے۔ والعاقبۃ للمتقین۔
(ربط): گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں سے دنیا اور آخرت کے خوف اور حزن کی نفی فرمائی اور ان کی حفاظت کا وعدہ فرمایا اب اس آیت میں اپنے رسول سے حزن کی نفی فرماتے ہیں اور تسلی دیتے ہیں کہ جب آپ نے اپنے دوستوں کی حفاظت کا وعدہ سن لیا اور ان کے لیے دنیا اور آخرت کی بشارت کا مژدہ بھی سن لیا تو پھر آپ ﷺ کو ان کی کفریات اور ان کی دھمیوں اور دلخراش باتوں سے مغموم اور رنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں یہ ان متکبرین کی چند روزہ لن ترانیاں ہیں اور یہ عنقریب ختم ہوجائیں گی۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اس بشارت دارین کے سن لینے کے بعد اے نبی ! آپ ﷺ کو ان کی بات غم میں نہ ڈالے یعنی آپ ﷺ ان کی نازیبا باتوں سے آزردہ خاطر نہ ہوں اور نہ کچھ غم کریں وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ تحقیق عزت اور غلبہ سب کا سب اللہ ہی کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کے قتل کرنے کی کتنی ہی تدبیریں کریں اور آپ کو ڈرائیں مگر وہ آپ پر غالب نہیں آئیں گے۔ اللہ آپ کو غلبہ دے گا اور آپ کے دشمنوں کو ذلیل کرے گا۔ وہی سب کی باتوں کا سننے والا اور سب کے احوال کو جاننے والا ہے۔ وہ آپ کا بدلہ خود ان سے لے لے گا۔
آگاہ ہوجاؤ کہ تحقیق آسمانوں میں جو فرشتے ہیں اور زمین میں جو جن اور انس ہیں وہ سب اللہ ہی کی ملک ہیں اور سب اس کے بندے ہیں۔ کسی میں ربوبیت کی لیاقت اور ہلیت نہیں۔ پس کسی چیز کو خدا کا شریک ٹھہرانا نہایت نادانی اور گمراہی ہے۔ اور جو لوگ اللہ کے سوا اپنے مقرر کیے ہوئے شریکوں کو پکارتے ہیں وہ کس چیز کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں وہ بلادلیل محض اپنے وہم اور گمان کے پیچھے پڑے ہوئے اور وہ نرا جھوٹ بولتے ہیں کہ قیامت کے دن یہ بت اللہ کے یہاں ہماری سفارش کریں گے لہذا آپ ان کی باتوں سے بالکل رنج نہ کیجئے غلبہ تو اللہ ہی کو ہے جو آسمان اور زمین کا بادشاہ ہے۔
Ayahs 10:71–73قصۂ نوح (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالی۔ واتل علیھم نبا نوح۔۔۔ الی۔۔۔ فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین
(ربط): یہاں تک اصول دین توحید اور رسالت اور قیامت کو دلائل وبراہین سے بیان کیا اور منکرین کے شبہات اور سوالات کے جوابات دئیے۔ اب آں حضرت ﷺ کی تسلی کے لیے اور متکبرین اور منکرین نبوت کی تہدید اور عبرت کے لیے انبیاء سابقین کے چند واقعات ذکر کرتے ہیں۔ تاکہ کفار عرب ان واقعات سے عبرت پکڑیں کہ انبیاء اللہ کے مقابلے میں قوت و شوکت کام نہیں دیتی اور باوجود قوت و شوکت کے مکذبین اور مفترین کو کامیابی حاصل نہیں ہوتی سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا جو سب کے جد امجد اور آدم ثانی ہیں اور کفار کے مقابلے میں پہلے رسول ہیں جو کفر کے مقابلے کے لیے مبعوچ ہوئے اس معنی کر ان کو حدیث میں اول رسول الی اھل الارض کہا گیا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) بلاشبہ اللہ کے سب سے پہلے رسول مکلم تھے جن سے خدا تعالیٰ نے بلا واسطہ کلام فرمایا اور ان سے سلسلہ نبوت و رسالت کا آغاز فرمایا مگر ان کے زمانہ میں کفر کا نام ونشان نہ تھا۔ حضرت آدم کے دس قرن بعد کفر کا آغاز ہوا اس وقت نوح (علیہ السلام) بھیجے گئے تاکہ کافروں کو ایمان کی دعوت دیں جب قوم نے نافرمانی کی تو ان پر طوفان آیا اور سب غرق کیے گئے۔ قوم نوح دنیا میں پہلی قوم تھی جو عذاب خداوندی سے ہلاک ہوئی حق تعالیٰ نے آں حضرت ﷺ کو حضرت نوح کا قصہ سنایا تاکہ ان کے ایک ہزار سالہ طویل صبر کو دیکھ کر اپنے دل کو تسلی دیں اور کفار مکہ کو یہ قصہ سنائیں کہ ان کو معلوم ہو کہ دنیا کی عزت ووجاہت قہر خداوندی کے مقابلہ میں کچھ کام نہیں دیتی۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ! آپ ان لوگوں کے سامنے جو اپنی مال و دولت اور عزت ووجاہت پر مغرور ہیں نوح (علیہ السلام) کا قصہ پڑھ کر سنائیے تاکہ اہل عرب ان سے عبرت حاصل کریں کیونکہ قوم نوح بلحاظ زمانہ سب سے پہلے اور کفر وعناد میں سب سے بڑھ کر تھی۔ جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم اگر میرا تم میں رہنا اور میرا وعظ ونصیحت کرنا اللہ کی آیتوں کے ساتھ تم پر شاق اور گراں گزرتا ہے اور تم میری نصیحت سننے سے تنگ ہو اور میرے قتل اور جلاوطن کرنے کے درپے ہو تو مجھے پرواہ نہیں تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ کیونکہ میں نے اللہ پر بھروسہ کرلیا ہے وہ تمہارے کید اور مکر کے دفع پر قادر ہے پس تم سب مل کر میرے ضرر پہنچانے کے لیے اپنا کام مضبوط کرلو اور اپنے شریکوں کو بھی جمع کرلو تاکہ وہ بھی تمہارے کام میں تمہاری مدد کریں مطلب یہ ہے کہ میری ضرررسانی کے لیے اپنے دل کے ارمان نکال لو۔ پھر نہ ہو تم پر تمہارا کام کٹھن یعنی میرے مقابلہ میں جو کچھ کرنا ہے وہ کرلو۔ دل میں کوئی حسرت باقی نہ رہے۔ پھر کر گززرو میرے ساتھ جو کچھ کرنا چاہتے ہو اور مجھ کو ایک دم کی مہلت بھی نہ دو ۔ عنقریب تم کو تمہاری عجز اور درماندگی اور باوجود بےسروسامانی کے میری عزت اور کامیابی تمہاری نظروں کے سامنے آجائے گی۔ حق تعالیٰ کا مقصود، نوح (علیہ السلام) کے قول کو نقل کرنے سے یہ ہے کہ دیکھ لو کہ نبی کا توکل ایسا ہوتا ہے کہ سوائے خدا کے کسی سے نہیں ڈرتا یہاں تک کہ خوف کی نفی فرمائی کہ نبی سوائے خدا کے کسی سے نہیں ڈرتا۔ اب آگے حرص وطمع کی نفی فرماتے ہیں کہ نبی کا دل حرص وطمع سے بالکلیہ پاک ہوتا ہے
پس اگر تم میری نصیحت سے منہ موڑتے ہو تو میں نے اس نصیحت و دعوت پر تم سے کوئی اجرت تو نہیں مانگی جس سے تمہارے مال و دولت میں کوئی کمی واقع ہو میری اجرت تو اللہ کے ذمہ ہے وہ بہرحال مجھ کو ملے گی۔ چاہے تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ۔ غرض کہ میں نہ تم سے کوئی خوف وہراس رکھتا ہوں اور نہ کوئی خواہش وطلب رکھتا ہوں اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کے فرمانبرداروں میں سے بنا رہوں اس کو میں عزت و دولت سمجھتا ہوں اور اس کے مقابلہ میں دنیاوی مال و دولت اور عزت ووجاہت کو ہیچ سمجھتا ہوں۔
پس باوجود اس موعظمت بلیغ کے وہ نوح (علیہ السلام) کی تکذیب پر اڑے رہے۔ جب حجت پوری ہوگئی تو ہم نے ان پر طوفان نوح بھیجا پس ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور ان کے ساتھ جو مسلمان کشتی میں سوار تھے غرق ہونے سے بچا لیا۔ اور ان کو ہلاک ہونے والوں کا جانشین بنایا اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو ہم نے غرق کردیا۔ پس اے دیکھنے والے ذرا عبرت سے دیکھ لے کہ ان لوگوں کا جو عذاب الہی سے ڈرائے گئے تھے۔ کیسا برا انجام ہوا۔ اور خدا کے نبی کے مقابلہ میں مال و دولت اور عزت ووجاہت اور غرورونخوت ذرہ برابر کام نہ آئی۔
Ayahs 10:74–82قال اللہ تعالی۔ ثم بعثنا من بعدہ رسلا۔۔۔ الی۔۔۔ علی قلوب المعتدین
(ربط): اوپر کی آیات میں نوح (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں اجمالاً ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا قصہ ذکر ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے اس آیت میں ان کا نام ظاہر نہیں فرمایا مگر دوسری جگہ ان کا نام ذکر کیا گیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے اس آیت میں ان کا نام ظاہر نہیں فرمایا مگر دوسری جگہ ان کا نام ذکر کیا گیا ہے کہ نوح علیہ السلا کے بعد ہود اور صالح اور ابراہیم اور لوط اور شعیب (علیہم السلام) مبعوث ہوئے پھر ان کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جن جن لوگوں نے انبیاء (علیہم السلام) کا مقابلہ کیا وہ سب تباہ وبرباد ہوئے۔ پھر ہم نے نوح (علیہ السلام) کے بعد ہود اور صالح وغیرہ دوسرے رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا سو وہ ان کے پاس اپنی پیغمبری کے کھلے نشانات لے کر آئے پس نہ ہوئے وہ ایمان لانے والے اس چیز پر کہ جس کو وہ پہلی ہی مرتبہ جھٹلا چکے تھے۔ مال و دولت کے نشہ میں نبی اء کو حقیر سمجھا حق اور ہدایت کی عزت کو نہ سمجھ سکے۔ اپنی جاہلیت اور ہٹ دھرمی پر پختہ تھے حق کے جھٹلانے کے خوگر تھے انبیاء کے آنے سے پہلے حق کے منکر تھے۔ اور رسولوں کے آنے اور ان کے سمجھانے کے بعد بھی حق کے منکر رہے ان کی سنگ دلی کو دیکھ لو اسی طرح ہم حد سے گذرنے والوں کے دلوں پر مہر لگادیتے ہیں۔ کہ وہ عزت کو ذلت، سمجھنے لگتے ہیں۔ اللہ کی مہر تو نظر نہیں آتی مگر مہرا والے تو تمہارے سامنے ہیں بےعقلی آج تک کسی کو نظر تو نہیں آئی۔ مگر بےعقلی کی حرکات و سکنات کو دیکھ کر لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ بےعقلی ایسی ہوتی ہے۔ اسی طرح ان کو دیکھ کر سمجھ لو کہ سنگدلی ایسی ہوتی ہے اور جس کے دل پر خدا کی مہر لگ جاتی ہے اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ دین کی باتوں کو حقیر اور ذلیل سمجھنے لگتا ہے۔ اور فرعون اور قارون کے طوروطریق اس کو عزت نظرآنے لگتے ہیں۔
اے اللہ تو ہم کو اپنی اطاعت کی عزت بخش اور اپنی معصیت کی ذلت سے بچا۔ آمین یا رب العالمین۔