10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 10:83–87

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے اور فرعون ملک میں متکبر اور متغلب اور (کبر و کفر میں) حد سے بڑھا ہوا تھا۔

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ اے قوم اگر تم خدا پر ایمان لائے ہو تو اگر (دل سے) فرمانبردار ہو تو اسی پر بھروسا رکھو۔

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسا رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال۔

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور اپنی رحمت سے قوم کفار سے ہمیں نجات بخش۔

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لئے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھیراؤ اور نماز پڑھو۔ اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔

اسباب نجات از فرعون وقوم او قال اللہ تعالیٰ ٰ فما امن لموسی الا ذریۃ من قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ وبشر ال مومن ین پس باوجود ان زبردست معجزات دیکھنے کے بھی ابتداء میں موسیٰ پر سوائے چند آدمیوں کے جو اس کی قوم سے تھے کوئی ایمان نہ لایا یعنی شروع شروع میں جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر آئے اور حق کی دعوت دینے لگے تو اس وقت ان کی قوم میں سے قدر قلیل لوگ ان پر ایمان لائے اور وہ بھی فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں مبادا فرعون ان کے ایمان کی خبر پا کر ان کو مبتلائے مصیبت نہ کردے یعنی جو قدرے قلیل لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ابتداء میں ایمان لائے وہ فرعون اور اپنے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے ایمان لائے اطمینان اور امن ان کو بھی نہ تھا اور ان کا خوف بیجا بھی نہ تھا اس لیے کہ : تحقیقی فرعون اس زمین میں بڑا زور آور تھا اور اس میں شک نہیں کہ وہ بڑے بیباکوں اور حد سے گزرنے والوں میں سے تھا۔ کہ اس کا ظلم حد سے گزر چکا تھا یا یہ معنی ہیں کہ تکبر اور غرور میں حد سے گزر گیا اور خدائی کا دعوی کیا۔ مقصود اس سے آں حضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ یہی حال آپ ﷺ کے متبعین کا ہے قدر قلیل ہیں اور فرعون کی طرح کفار قریش مسلمانوں کو طرح طرح سے ستا رہے ہیں یہ سب تکبر اور غرور کا نشہ ہے لہذا آپ مسلمانون کی قلت سے رنجیدہ نہ ہوں منکروں کا دل مشکل سے پھرتا ہے۔ : تمام بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کو اگرچہ نعمت عظمی جانتے تھے اور دل سے ان کو سچا مانتے تھے مگر ابتداء میں ان کو غلبہ اور شوکت حاصل نہ تھی۔ فرعونیوں کا زور تھا۔ اس لیے لوگ ان سے خوفزدہ تھے اس بنا پر ابتداء بعثت میں چند نوجوانوں نے ہمت کی اور باوجود فرعون کے ڈر کے اپنے ایمان اور اسلام کا اعلان کردیا باقی لوگ منتظر رہے کہ جب حق کو غلبہ اور عزت حاصل ہوگی۔ اس وقت مسلمان ہوجائیں گے جیسا کہ بہت سے کفار قریش فتح مکہ کے منتظر تھے۔ پس جب آخر میں موسیٰ (علیہ السلام) کو غلبہ نصیب ہوا اور حق کا کلمہ بلند ہوا تب پوری قوم بنی اسرائیل کی ایمان لے آئی جو چھ لاکھ بالغ مردوں پر مشتمل تھی۔ اس آیت میں شروع شروع کا قصہ بیان کیا گیا ہے کہ ابتداء میں قدرے قلیل آدمی موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے باقی آخر میں تمام بنی اسرائیل مسلمان ہوگئے تھے اور بعض علماء تفسیر اس طرف گئے ہیں کہ من قومہ کی ضمیر فرعون کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات قاہرہ دیکھنے کے موسیٰ (علیہ السلام) پر قوم فرعون میں سے صرف چند آدمی ایمان لائے اور باقی سب نے تکذیب کی پس اے نبی ! اگر آپ کی قوم یہی معجزات قاھرہ دیکھنے کے بعد آپ ﷺ کی تکذیب کرے تو رنجیدہ نہ ہوں۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اسی قول کو اختیار کیا کہ من قومہ کی ضمیر فرعون کی طرف راجع ہے۔ اور امام ابن جریر نے قول اول کو اختیار کیا کہ من قومہ کی ضمیر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے جب ان اہل ایمان کو فرعون سے خائف دیکھا تو ان سے یہ کہا کہ اے میری قوم ! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو اور یہ جانتے ہو کہ نفع اور ضرر سب اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے تو اسی پر بھروسہ کرو۔ وہ تم کو دشمن کے فتنہ سے بچائے گا۔ اگر تم اللہ کے فرمانبردار ہو۔ اور تم نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالہ اور سپرد کردیا ہے تو پھر گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔ زندہ کنی عطائے تو دربکشی خدائے تو جاں شدہ مبتلائے تو ہر چہ کنی رضائے تو ایمان واسلام اور توکل صادق اگر جمع ہوگئے تو دیکھ لینا کہ تمہاری ذلت مبدل بہ عذت ہوجائے گی اور فرعون کی عزت مبدل بہ ذلت ہوجائے گی۔ ایمان کے معنی تصدیق اور یقین کے ہیں اور توکل کے معنی اعتماد اور بھروسہ کے ہیں اور اسلام کے معنی سپرد کردینے کے ہیں۔ سپردم تبومایہ خویش را تو دانی حساب کم وبیش را اور مطلب یہ ہے کہ اگر ایمان وایقان میں سچے ہو تو تم پر توکل (یعنی اللہ پر اعتماد کرنا) واجب ہے اور توکل کی علامت یہ ہے کہ اپنے آپ کو خدا کے حوالہ اور سپرد کرو اور اسباب ظاہری سے نظر کو ہٹا لواس لیے اس آیت میں ایک حکم (یعنی حکم توکل) کو دو شرطوں پر معلق فرمایا اور ایک حکم کو دو شرطوں کے درمیان میں اس لیے ذکر کیا کہ نفس توکل کا وجوب نفس ایمان پر موقوف اور معلق ہے اور صدق توکل کا ظہور اسلام یعنی تفویض و تسلیم پر موقوف اور معلق ہے خوب سمجھ لو۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی یہ کہے اگر تھے زید بلاوے تو چلاجان اگر ممکن ہو۔ پس انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے اس موعظت بلیغہ کے جواب میں عرض کی اے موسیٰ ہم نے اللہ پر بھروسہ کرلیا۔ وہی دشمن سے حفاظت کرے گا۔ اب ہماری نظر صرف پروردگار پر ہے۔ اور دعا کرتے ہیں اے پروردگا ہم کو ان ظالم لوگوں کے ظلم کا تختہ مشق نہ بنا تاکہ ایمان کی عزت ظاہر ہو اور ہم کو اپنی رحمت سے اس کافر قوم کے فتنہ کی ذلت سے نجات دے۔ یعنی کفر کا غلبہ ہم اٹھا لے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے ان کی دعا قبول کی اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون کی طرف وحی بھیجی کہ فتنہ کفر سے نکلنے کا سامان اس طرح کرو کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ کہ وہی گھر تمہارے جائے سکونت ہوں اور ہی گھر تمہارے لیے جائے عبات ہوں۔ مطلب یہ ہے 1 کہ اندرون شہر گھر بناؤ بیرون شہر گھر نہ بناؤ تاکہ کسی عبادت یا اجتماع کے لیے تم کو بیرو شہر جانے کی ضرورت پڑے اور پھر مبادا تمہاری بات کی خبر تمہارے دشمن کو پہنچے یا یہ مطلب ہے کہ تم بدستور مکانوں میں ٹھہرے رہو اور قبطیوں کے خوف سے اپنے گھروں کو نہ چھوڑو ہم ان کے محافظ ہیں۔ بہرحال آیت میں دو احتمال ہیں یا تو مطلب یہ ہے کہ گذشتہ گھروں کو برقرار رکھو اور بدستور اپنے مکانوں میں ٹھہرے رہو۔ فرعون کے ڈر سے اپنے گھروں کو نہ چھوڑو اللہ تمہارا محافظ اور نگہبان ہے یا مطلب ہے کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں نئے مکان تیار کرو جو قبلہ رخ ہو تاکہ سکونت اور عبادت دونوں کے لیے کام دے سکیں اور بیوتا چونکہ نکرہ ہے اس لیے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ نئے گھروں کے بنانے کا حکم دینا مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم دونوں مصر میں اپنی قوم کے لیے کچھ اور مکان تیار کرو اور پنے ان گھروں کا رخ قبلہ کی طرف کرو یعنی ان گھروں کو قبلہ رخ بناؤ۔ بیت المقدس کے رخ پر یا کعبہ کے رخ پر کیونکہ ابن عباس اور مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھا کرتے تھے اور انہی گھروں میں نماز قائم رکھو۔ خوف کی وجہ سے مسجد کی حاضری معاف کردی گئی۔ لہذا اپنے گھروں ہی میں خفیہ نماز پڑھ لیا کرو۔ جیسے ابتداء اسلام میں مومنوں کو حکم ہوا۔ فرعونی بنی اسرائیل کو مساجد میں نماز پڑھنے سے روکتے تھے اس لیے بحالت مجبوری ان کو حکم دیا گیا کہ اپنے گھروں کو قبلہ کے رخ بنا لو اور انہی میں نماز پڑھ لیا کرو تاکہ فرعونیوں کو تمہاری نماز اور عبادت کی خبر نہ ہو اور جب بنی اسرائیل کو فرعونیوں کی طرف سے سخت بلائیں پہنچیں تو حکم ہو کہ کثرت سے نمازیں پڑھا کرو۔ اللہ تعالیٰ نماز کی برکت سے تمہاری یہ بلا اور مصیبت دور کردے گا۔ (1 ۔ آیت کا یہ مطلب ملا مخدوم مہایمی (رح) نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے۔ اصل عبارت یہ ہے۔ واوحینا الی موسیٰ واخیلہ لحفظ قومھما من فتنۃ العدوان تبوا ای اتخذا مبارۃ لقومکمابمصر لا خارجہ لئلا یواخذکم بالخروج عن دینہ بیوتا۔ لئلا زموھا فلا تخرجوا عنھا لجتتمعوا للحکایات فیصل خبرھم الی العدو وتبصیر الرحمن ص 334 ج 1 اور دوسرا مطلب معروف ومشہور ہے۔ اور تبؤ کے معنی قرار پکڑنے کے ہیں۔ کما قال تعالیٰ ۔ والذین تبوء و الدار الزموھا۔ ) کما قال تعالیی۔ قال موسیٰ لقمہ استعینوا باللہ واصبرا۔ وقال اللہ تعالی۔ یا ایہا الذین انموا استعینوا بالصبر والصلوۃ۔ اور حدیث میں ہے کہ آں حضرت ﷺ کو جب کوئی پریشانی پیش آتی تو نماز پڑھتے (رواہ ابو داود کثر سے نمازیں پڑھنے سے بلائیں دور ہوتی ہیں) اور اہل ایمان کو بشارت سنا دیجئے کہ عنقریب تمہارا دشمن تباہ وبرباد ہوجائے گا اور تم کو اس مصیبت سے نجات ملے گی۔ حضرت شاہ عبدالقادر قدس اللہ سرہ اس آیت کا ایک اور مطلب یہ بیان فرماتے ہیں جو نہایت لطیف ہے فرماتے ہیں " جب فرعون کی ہلاکت کا وقت قریب آیا تو حکم ہوا کہ اپنی قوم یعنی بنی اسرائیل کو ان میں شامل نہ رکھو اپنا محلہ جدا بساؤ کہ آگے ان پر آفتیں آنے والی ہیں اس وقت تمہاری قوم ظاہری طور پر بھی ان آفتوں سے الگ تھلگ رہے اور آپ کی قوم ان کی آفت میں شریک نہ ہو " انتہی۔ موضح القرآن مطلب یہ ہے کہ جب فرعون اور اس کی قوم پر نزول عذاب کا زمانہ نزدیک آپہنچا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی یہ حکم دیا کہ اپنی قوم سمیت ان کفار ناہنجار سے علیحدہ ہوجاؤ اور مصر میں اپنی قوم کے لیے علیحدہ اور الگ گھر بناؤ اور اپنا محلہ ہی الگ اور جدا بسا لو اور اپنی قوم کو فرعونیوں میں شامل نہ رکھو تاکہ قوم فرعون پر جب کوئی آفت اور بلا نازل ہو تو تم اس میں شریک نہ ہو اور اپنے گھروں کو قبلہ رخ بنا لو تو قبلہ رخ ہونے سے قبلہ کے انوار وبرکات تمہارے گھروں میں پہنچیں گے۔ اور ان ہی میں کثرت سے نماز پڑھا کرو۔ نماز کی کثرت سے بلائیں دفع ہوتی ہیں۔ لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنا محلہ جدا رکھیں اور اپنے مکانات قبلہ رخ بنائیں قبلہ رخ بیٹھنا بھی عبادت ہے۔ محاذات قبلہ، قبلہ کے انوار و تجلیات کو خوب جذب کرتی ہے جمہور مفسرین نے واجعلوا بیوتکم قبلۃ کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ اپنے گھروں کو قبلہ رخ بناؤ اور ابن عباس اور سعید بن جبیر اور قتادہ اور ضحاک فرماتے ہیں کہ اس آیت میں قبلۃ سے متقابلۃ کے معنی مراد ہیں۔ یعنی مسلمانوں کا ایک ایسا جدا محلہ بناؤ جن کے گھر ایک دوسرے کے مقابل یعنی آمنے سامنے ہوں۔ مسلمان کے سامنے مسلمان ہی کا گھر ہو تاکہ مسلمان کے گھر میں سامنے سے کفر اور شرک کی نجاست کی بدبو نہ آجائے اور اس گھر کی ایمانی آب وہوا کو خراب نہ کرے۔ قال اللہ تعالیٰ انما المشرکون نجس وقال النبی ﷺ ان ال مومن لاینجس جسمانی طبیب ظاہری نجاست کے جراثیم سے تحفظ اور احتیاط کا حکم دیتے ہیں کوڑی کے سامنے گھر بنانے کی اجازت نہیں اور روحانی طبیب یعنی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام معنوی نجاست (کفر اور معصیت) کے جراثیم سے تحفظ کا حکم دیتے ہیں۔
Ayahs 10:88–89

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے پروردگار ! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (بہت سا) ساز وبرگ اور مال وزر دے رکھا ہے۔ اے پروردگار ان کا مآل یہ ہے کہ تیرے راستے سے گمراہ کردیں۔ اے پروردگار ! ان کے مال کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں۔

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے راستے نہ چلنا۔

بقیہ قصہ موسویہ قال اللہ تعالیٰ ٰ وقال موسیٰ ربنا انک اتیت۔۔۔ الی۔۔۔۔ الذین لایعلمون اور موسیٰ (علیہ السلام) جب قوم فرعون کے ایمان سے ناامید ہوئے اور بذریعہ وحی ای نور نبوت سے ان کو معلوم ہوگیا کہ ان میں کوئی خیر نہیں تو یہ بد دعا کی۔ اے پروردگا کیا آپ نے فرعون کو اور اس کے گروہ کو سامان آرائش اور قسم قسم کے مال دنیاوی زندگی میں اس لیے عطا کیے ہیں تاکہ عالم کو تیرے راستہ سے گمراہ کریں۔ یعنی اے پروردگار تو نے ان کو یہ مال و دولت اس لیے عطا کیا تھا کہ تیرے نعمت کا شکر کریں اور اس کو آخرت کی عزت کا ذریعہ بنائیں مگر ان لوگوں نے تیری ناشکری کی اور تیرے دئیے مال پر اتنے مغرور ہوئے کہ تیرے احکام کا مقابلہ کرنے لگے اس لیے یہ اس قابل نہیں رہے کہ ان کے اموال اور نفوس کو باقی رکھا جائے اس لیے یہ درخواست کرتا ہوں کہ اے پروردگار ان کے مالوں کو مل یا میٹ کردیجئے تاکہ غرور اور تکبر کا سامان ہی ختم ہو اور ان کے دلوں کو ایسا سخت کردیجئے کہ ایمان اور ہدایت کو قبول کرنے کے لیے ان کے دل نرم نہ پڑیں بلکہ روز بروز ان کا کفر اور عناد بڑھتا ہی چلا جائے یہاں تک کہ جب جرم کا پیمانہ لبریز ہوجائے اور درد ناک عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں تب مجبور ہو کر ایمان کا کلمہ پڑھیں۔ مطلب یہ ہے کہ مرنے سے پہلے یہ لوگ عذاب الیم کو دیکھ لیں اور عذاب الیم کو دیکھ کر جبراً وقہراً کلمہ ایمان کا پڑھیں جس سے ساری عمر ناک چڑھاتے رہے اور ظاہر ہے کہ عذاب کو دیکھ کر ایمان لانا نافع اور مفید نہیں کیونکہ یہ وقت ایمان کا نہیں۔ ایمان کا وقت پہلے تھا جو گزر گیا۔ جو وقت ایمان لانے کا تھا وہ تو سارا کفر اور تکذیب میں گزر ا جب قدرت واختیار ختم ہوا تب ایمان کا کلمہ پڑھا۔ وقت ہر کار نگہدار کہ نافع نبود نوشدارو کہ پس از مرگ بہ بیمار دہند خدا نے فرمایا اے موسیٰ وہارون۔ تحقیق تم دونوں کی دعا قبول ہوئی۔ دعا مانگنے والے تو صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تھے چونکہ حضرت ہارون (علیہ السلام) ان کی دعا پر آمین کہتے جاتے تھے اور آمین بھی حقیقت میں دعا ہے اس لیے دعا کی نسبت دونوں کیطرف کی گئی کہ تم دونوں کی دعا قبول ہوئی۔ ہم عنقریب ان کے امول اور نفوس کی ہلاکت کرنے والے ہیں۔ سو تم دونوں بےفکر ہو کر منصبی کام یعنی دعوت وتبلیغ پر جمے رہو اور تاخیر عذاب سے غمگین نہ ہو تمہاری دعا قبول ہوچکی ہے۔ مگر اس کا ظہور اپنے وقت پر ہوگا اور تم نادانوں کی راہ پر نہ چلنا جو جلدی چاہتے ہیں یا جن کو وعدہ الٰہی پر اطمینان نہیں ہوا۔ سو تم یقین جانو کہ تمہاری دعا قبول ہوچکی ہے اور ان پر عذاب ضرور نازل ہوگا۔ مگر بمقتضائے حکمت ومشیت اس میں کچھ توقف ہوگا اور اپنے وقت مقررہ پر اس کا ظہور ہوگا۔ جلد بازی اور بےاطمینانی یہ کام نادانوں کا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو فرمایا۔ انی اعظک ان تکون من الجھلین۔ : شاہ صاحب فرماتے ہیں " سچے ایمان کی ان سے امید نہ تھی مگر جب کچھ آفت پڑتی تو جھوٹی زبان سے کہتے کہ اب ہم مانیں گے۔ اس میں عذاب تھم جاتا کام فیصل نہ ہوتا دعا اس لیے مانگی کہ یہ جھوٹا ایمان نہ لائیں دل ان کے سخت رہیں تا عذاب بڑھ کے اور کام فیصل ہو پھر فرمایا کہ شتابی نہ کرو حکم کی راہ دیکھو " (موضح القرآن) ایک شبہ : رسول تو اپنی قوم کے لیے ہدایت اور ایمان چاہتا ہے نہ کہ گمراہی اور کفر۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بددعا کیسے فرمائی۔ جواب : جب ان کا کفر اور عناد حد سے گزر گیا اور وحی الہی کے ذریعے سے معلوم ہوگیا کہ ایمان لانے والے نہیں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی نوح (علیہ السلام) کی طرح بد دعا کی کما قال اللہ تعالیٰ واوحی الی نوح انہ لن یؤمن من قومک الا من قدامن۔ تب نوح (علیہ السلام) نے بد دعی رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا۔ انک ان تذرھم یضلوا عبادت ولا یلدو الا فاجرا کفارا۔ ایسے ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے بعد علم کے یہ دعا فرمائی۔ نکتہ : غیر کے کفر پر راضی ہونا تو جب کفر ہے کہ جب کفر کو جائز اور مستحسن سمجھے اور اگر کسی ظالم اور موذی اور معاند کے حق میں یہ بد دعا کرے کہ اللہ اس ظالم اور موذی سے انتقام لے اور کفر پر اسے موت دے تو اس میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں بعض فی اللہ کی وجہ سے کسی عدو اللہ کی دینی اور دنیاوہی تباہی کی بد دعا کرنا عین ایمان ہے خصوصاً جب کہ وحی یا الہام صحیح کے ذریعہ معلوم ہوجائے کہ خبیث اپنی خباثت سے باز نہیں آئے گا یا یہ معلوم ہوجائے کہ قضاء وقدر میں یہ طے ہوچکا ہے کہ یہ شخص راہ راست پر نہیں آئے گا۔ تو ایسے شخص کے حق میں موت علی الکفر اور سلب ایمان کی دعا جائز ہے جیسے خضر (علیہ السلام) کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ نابالغ بچہ کفر ہی پر مرے گا تو اس کو قتل کردیا (روح المعانی وشیخ زادہ ص 56 ج 5)
Ayahs 10:90–92

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہنے لگا میں ایمان لایا کہ جس (خدا) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں۔

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

(جواب ملا) کہ اب (ایمان لاتا ہے) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا ؟

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

تو آج ہم تیرے بدن کو (دریا سے) نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کیلئے عبرت ہو۔ اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بیخبر ہیں۔

بقیہ قصہ موسویہ و غرقابی فرعون قال اللہ تعالیٰ ٰ ۔ وجوزنا ببنی اسرائیل۔۔۔ الی۔۔ عن ایتنا لغفلون اور جب قبولیت دعاء موسوی کا وقت آپہنچا اور ہم نے فرعون کی ہلاکت اور بنی اسرائیل کی نجات کا ارادہ کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر نکل جائیں کہ قبطیوں پر عذاب نازل ہونے کا وقت قریب آگیا ہے چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کی غفلت میں چھ لاکھ بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر مصر سے روانہ ہوئے فرعون کو جب خبر لگی تو اس نے اپنے لشکر سمیت ان کا پیچھا کیا اور ایسے موقعہ پر ان کو جالیا کہ دریائے قلزم ان کے آگے تھا۔ جب بنی اسرائیل نے یہ دیکھا کہ سمندر تو آگے ہے اور دشمن پیچھے ہے اور ہم درمیان میں گھرے ہوئے ہیں ایسی حالت میں سمندر سے کیسے پار ہوں گے تو اس وقت ہم نے اپنی قدرت اور حکمت سے بنی اسرائیل کو دریائے قلزم سے صحیح سلامت پار اتار دیا جس کی صورت یہ ہوئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے خدا تعالیٰ سے دعا کی خدا تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی بھیجی کہ اے موسیٰ ! اپنا عصا سمندر پر مارو موسیٰ (علیہ السلام) نے سمندر پر لاٹھی ماری سمندر بیچ سے پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا اور سمندر کا پانی ادھر ادھر کھڑا ہوگیا اور درمیان خدا تعالیٰ نے بارہ راستے پیدا کردئیے ہر سبط کے لیے ایک راستہ ہوگیا بنی اسرائیل ان خشک راستوں سے پار ہوگئے اور سرحد کنعان میں داخل ہوگئے اور فرعون اور اس کا لشکر۔ سمندر کے دوسرے کنارے کھڑا دیکھ رہا ہے۔ پھر فرعون اور اس کا لشکر ظلم اور زیاتی کے ارادے ان کے پیچھے پیچھے چلا اور خشک راستے دیکھ کر دریا میں داخل ہوا کہ دریا سے پار ہو کر ان سب کو قتل کردوں گا۔ یہاں تک کہ جب فرعون اور اس کا لشکر ایک ایک کر کے سمندر کے بیچ پہنچ گیا تو پانی کو حکم ہوا کہ مل جائے۔ پانی فوراً مل گیا اور راستے ختم ہوگئے اور سمندر رواں ہوگیا اور موجیں مارنے لگا فرعون اور اس کا لشکر غرق ہوگیا۔ اور فرعون کو جب غرقابی نے پکڑا اور اس کو اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا اس وقت گھبرا کر ایمان اور اسلام کا لفظ زبان پر لایا اور یہ کہا کہ میں ایمان لایا اور یقین کیا کہ اس خدا کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت سے بنی اسرائیل ایمان لائے اور بنی اسرائیل کی طرح میں بھی مسلمانوں میں سے ایک مسلمان ہوں جس طرح بنی اسرائیل حق تعالیٰ کی وحدانیت اور موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت پر ایمان لا کر مسلمان بنے تھے اسی طرح میں بھی مسلمانوں کے زمرہ میں داخل ہوتا ہوں۔ نکتہ : خدا تعالیٰ کی قدرت اور موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا کرشمہ دیکھئے کہ خدائے تعالیٰ آخروقت میں فرعون کے منہ سے لفظ امنت نکلوا کر موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا فلا یؤمنوا حتی یروا العذاب الالیم کی قبولیت کا مشاہدہ کرادیا کہ ان کی دعا لفظ بہ لفظ قبول ہوئی کہ عذاب کو دیکھ کر ہی ایمان لایا اس سے پہلے ایمان نہ لایا۔ اور اس وقت جب ڈوبنے لگا تو اظہار ایمان میں خوب مبالغہ کیا تین طرح اظہار ایمان کیا ایک تو آمنت کا لفظ کہا دوم لا الہ الا الذی امنت بہ بنو اسرائیل کہا اور سوم وانا من المسلمین کہا۔ حالانکہ ایمان کے لیے ایک بار کہنا ہی کافی تھا۔ حق تعالیٰ کی طرف سے جواب میں کہا گیا اب ایمان کا کلمہ پڑھنے لگا جب اپنی جان سے ناامید ہوا تاکہ غرق سے نجات پائے اور پہلے تو نافرمانی کرتا رہا اور تو مفسدوں میں سے تھا۔ یعنی اب ایمان لانے سے کیا فائدہ جب ایمان لانے کا وقت تھا تو نافرمان اور سرکش بنا رہا۔ اور اس وقت بھی جو کلمہ ایمان پڑھ رہا ہے وہ دنیاوی ذلت اور مصیبت سے نجات پانے کے لیے پڑھ رہا ہے اور ایسے وقت کا ایمان کہ جب موت سر پر آگئی ہو معتبر نہیں ایمان وہ معتبر ہے جو اپنے اختیار سے ہو اور جب انسان اپنی جان سے ناامید ہوجائے اور کوئی اختیار اس کا باقی نہ رہے ایسے وقت کا ایمان معتبر نہیں کما قال تعالیٰ فلما راو باسنا قالوا امنا باللہ وحدہ وکفرنا بما کنا بہ مشرکین فلم یک ینفعھم ایمانھم لما راو باسنا سنۃ اللہ التی قد خلت فی عبادہ وخسر ھنالک الکفرون۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھ سے یہ بیان کیا کہ جب فرعون نے امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنواسرائیل کا اس وقت میرا حال عجیب تھا۔ کاش آپ مجھے اس وقت دیکھتے کہ میں سمندر سے کیچڑ لے کر فرعون کے منہ میں ٹھونستا تھا کہ کہیں (کلمہ ایمان کی برکت سے) اس کو اللہ کی رحمت نہ پہنچ جائے (رواہ الترمذی) کیونکہ اللہ کی رحمت اس کے غضب پر سابق ہے جبرئیل امین کو اندیشہ ہوا کہ اگر رحمت خداوندی سے اس وقت یہ عدو اللہ غرقابی سے بچ گیا تو پھر کفر کا جھنڈا بلند کرے گا۔ اس لیے اس کا غرق ہونا ہی بہتر ہے اور بعض روایات میں یہ لفظ آئے ہیں۔ مخافتہ ان تدرکہ رحمۃ اللہ فیغفرلہ۔ مجھے ڈر ہوا کہ اس کو اللہ کی رحمت پکڑ لے۔ اور اس کی مغفرت ہوجائے یعنی اس وقت غرق سے بچ جائے اور بچ کر راہ راست پر آجائے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے اور حسب قاعدہ شریعت الاسلام یھدم ما کان قبلہ ایمان لانے سے اس کے گناہوں کی مغفرت ہوجائے۔ اگر دردہد یک صلائے کرم عزازیل گوید نصیبے برم جبریل امین کو معلوم تھا کہ ایسے وقت کا ایمان مقبول نہیں مگر یہ بھی جانتے تھے کہ خدائے تعالیٰ قادر مطلب ہے بڑے سے بڑے مجرم کو معاف کرسکتا ہے۔ حکایت : بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ جبرائیل امین فرعون کے پاس ایک استفتاء لے کرا آئے جس کا مضمون یہ تھا کہ امیر کا اس غلام کے بارے میں کیا فتوی ہے جو آقا کے مال ونعمت میں پلا پھر اس غلام نے اپنے آقا کی نعمت کا کفران کیا اور اس کا حق نہ مانا اور خود آقا ہونے کا دعویٰ کیا تو ایسے غلام کا کیا حکم ہے۔ فرعون نے اپنے ہاتھ سے اس کا جواب لکھا کہ ایسے غلام کی سزا یہ ہے کہ اس کو سمندر میں ڈبو دیا جائے اور اس فتوی پر جبریل امین نے فرعون سے دستخط بھی لے لیے فرعون نے اپنے قلم سے لکھ دیا کہ یہ وہ جواب ہے کہ جو ابوالعباس ولید بن مصعب یعنی فرعون نے لکھا ہے جب فرعون غرق ہونے لگا اور ایمان ظاہر کرنے لگا تو جبریل امین نے اس کے ہاتھ کا لکھا ہوا فتوی اس کو دکھلایا اور کہا کہ فتوے کے بموجب تیرے ساتھ یہ ہورہا ہے۔ پس آج ہم تیرے بےجان بدن کو سمندر سے نکال کر کسی اونچی جگہ پر ڈال دیں گے۔ تاکہ تیری یہ لاش تیرے پچھلوں کے لے نشانی بنے۔ لوگ تیرے مردہ بدن کو دیکھ کر یہ سمجھ جائیں کہ انسان خدا نہیں ہوسکتا۔ جب فرعون کا لشکر غرق ہوا تو بنی اسرائیل کو فرعون کے غرق ہونے کا یقین نہ آیا۔ اس لیے اللہ جل شانہ نے اس کے مردہ جسم کو دریا کے کنارے پر ڈال دیا۔ جب لوگوں نے اس کی لاش کو دیکھ لیا تب ان کو اس کی موت کا یقین آیا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ ہمارے دلائل قدرت اور نشانات عبرت سے اب بھی غافل ہیں کفر کی ذلت کے واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور پھر بھی عبرت نہیں پکڑتے۔
Ayah 10:93

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کو عمدہ جگہ دی اور کھانے کو پاکیزہ چیزیں عطا کیں لیکن وہ باوجود علم حاصل ہونے کے اختلاف کرتے رہے۔ بیشک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا۔

تتمہ قصہ موسویہ وتذکری انعام خداوند جلیل وشکایت بنی اسرائیل قال اللہ تعالی۔ ولقد بوانا بنی اسرائیل۔۔۔ الی۔۔۔ فیما کانوا فیہ یختلفون۔ (ربط): یہ قصہ موسویہ کا تتمہ اور خاتمہ ہے جس میں اول اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنی نعمت عظمی یاد دلائی کہ ہم نے تم کو کیسے موذی سے نجات دی اور ملک مصر اور ملک شام کا تم کو وارث بنایا اور پھر بنی اسرائیل کی شکایت کی کہ تم نے کفران نعمت کیا اور علم آجانے کے بعد تم نے اختلاف کیا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار اتارنے اور فرعون کے غرق کرنے کے بعد ایک اچھے ٹھکانہ پر جا بٹھایا یعنی ان کو ملک شام میں آباد کردیا اور سرزمین مصر کا مالک بنا دیا اور ہم نے پاکیزہ چیزیں ان کو کھانے کو دیں۔ یعنی ہم نے بنی اسرائیل کی ذلت کو عزت میں بدل دیا۔ اور ان کے فقر و تنگدستی کو مال و دولت سے بدل دیا ان کو چاہئے تھا کہ سب مل کر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی محبت اور اطاعت میں غرق ہوجاتے کہ اس نے دشمن کی عزت و دولت اس سے چھین کر تم کو دے دی لیکن یہ تو اختلاف میں پڑھ گئے پس انہوں نے نہیں اختلاف ڈالا دین حق میں یعنی اپنے دین کے بارے میں یا آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بارے میں یہاں تک کہ ان کے پاس احکام توریت کا علم پہنچ گیا اور ان کو یقین ہوگیا کہ اصل عزت وہدایت اتباع شریعت میں ہے مال و دولت کی عزت چند روزہ اور فانی ہے۔ چاہئے تھا کہ سب اتباع شریعت پر متفق ہوجاتے۔ جس کے ذریعے یہ عزت ملی لیکن افسوس کہ مختلف ہوگئے یا یہ معنی ہیں کہ بنی اسرائیل کو علم تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ وہی نبی آخر الزمان ہیں جن کی نعتیں اور صفتیں توریت اور انجیل میں مذکور ہیں اور بنی اسرایئل آں حضرت ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے آپ کی نبوت پر ایمان رکھتے تھے اور آپ کی آمد اور ظہور کے منتظر تھے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا تو ازراہ حسد وعداوت آپ کے بارے میں اختلاف کیا بعض آپ پر ایمان لائے اور بعض نے انکار کیا (اے نبی) کچھ شک نہیں کہ تیرا پرورداگا قیامت کے دن ظاہر ہوجائے گا کہ ان کا یہ اختلاف حسد اور عداوت اور جہالت پر مبنی تھا۔
Ayahs 10:94–100

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

اگر تم کو اس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اتری ہوئی) کتابیں پڑھ تے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں میں ہونا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں نہیں تو نقصان اٹھاؤ گے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

جن لوگوں کے بارے میں خدا کا حکم (عذاب) قرار پا چکا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے۔

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں خواہ ان کے پاس ہر (طرح کی) نشانی آجائے۔

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

تو کوئی بستی ایسی نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا۔ ہاں یونس کی قوم ' کہ جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک (فوائد دنیاوی سے) ان کو بہرہ مند رکھا۔

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو کہ وہ مومن ہوجائیں ؟

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں کہ خدا کے حکم بغیر ایمان لائے۔ اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ (کفر وذلت کی) نجاست ڈالتا ہے۔

اثبات حقانیت قرآن بطرز خاص قال اللہ تعالی۔ فان کنت فی شک مما انزلناالیک۔۔۔ الی۔۔ یروا العذاب الالیم (ربط) انبیاء سابقین کے واقعات بیان کرنے کے بعد قرآن کریم اوردین اسلام کی حقانیت معلوم کرنے کا ایک طریقہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر کفار قریش کو اس بارے میں شک ہے تو علماء اہل کتاب سے پوچھ لیں جن کے علم وفضل کا خود ان کو اقرار ہے چناچہ فرماتے ہیں سو اے انسان ! اگر تو اس قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی طرف سے شک میں ہے جو ہم نے بواسطہ محمد رسول اللہ ﷺ تیری طرف اتارا ہے تو اس شک کے دفع کرنے کا سہل طریقہ یہ ہے کہ تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تجھ سے پہلے کتاب الہی پڑھتے ہیں یعنی توریت اور انجیل کے عالم ہیں مطلب یہ ہے کہ اے منکر قرآن اگر تجھے قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں شک ہے تو منصف مزاج اہل کتاب سے تحقیق کرلے۔ وہ تجھے اس کے کلام الہی ہونے سے آگاہ کردیں گے۔ کیونکہ ان کی کتابوں میں اس کتاب الہی کی پیشین گوئی موجود ہے اور وہ اس کی حقانیت سے واقف ہیں۔ البتہ تحقیق تیرے پروردگار کی طرف سے تیرے پاس دین حق آچکا ہے۔ جو کتب سابقہ کے مطابق ہے پس ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ۔ بظاہر خطاب آں حضرت ﷺ کو ہے لیکن درحقیقت مخاطب دوسرے ہیں اس لیے کہ جس پر اللہ کی وحی نازل ہورہی ہے اس کو شک اور شبہ ہو ہی نہیں سکتا اس خطاب کے اصل مخاطب وہ لوگ ہیں جو شک اور شبہ میں پڑے ہوئے تھے اسی بنا پر حدیث میں آیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے یہ فرمایا لا اشک ولا اسال۔ یعنی میں نہ شک کرتا ہوں نہ سوال کرتا ہوں (اخرجہ عبدالرزاق) اشارہ اس طرف تھا کہ ان خطابات کا مخاطب میں نہیں۔ اور نہ ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا جن کے مثل لانے سے شیطان بھی عاجز ہے اور نہ تو گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوجائے گا۔ گزشتہ آیت کی طرح اس آیت میں بھی مخاطب دوسرے ہی اشخاص ہیں۔ اور ان لوگوں کے شک اور تکذیب کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ ﷺ کی کتاب میں کوئی خلل ہے بلکہ اس کی اندرونی وجہ یہ ہے کہ تحقیق جن لوگوں کے متعلق تیرے پروردگار کا حکم ازل میں جاری ہوچکا ہے۔ یعنی جن کی تقدیر میں شقاوت لکھی جا چکی ہے اور علم الہی میں دوزخی ٹھہر چکے ہیں وہ ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ خدا نے ان کو ددوزخ کے لیے پیدا کیا ہے۔ ولقد ذرانا لجھنم کثیرا من الجن والانس۔ اگرچہ ان کے پاس آپ کی صداقت کی ہر قسم کی نشانیاں آجائیں جب بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ یہاں تک کہ دردناک عذاب کو دیکھ لیں اور عذاب دیکھنے کے بعد ایمان لانا مفید نہیں جیسے فرعون اور اگلی امتوں کو مفید نہ ہوا۔
Ayahs 10:101–103

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

(ان کفار سے) کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے۔ مگر جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ان کے نشانیاں اور ڈراوے کچھ کام نہیں آتے۔

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

سو جیسے (برے) دن ان سے پہلے لوگوں پر گزر چکے ہیں۔ اسی طرح کے (دنوں کے) یہ منتظر ہیں۔ کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

اور ہم اپنے پیغمبروں کو اور مومنوں کو نجات دیتے رہے ہیں۔ اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ مسلمانوں کو نجات دیں۔

اہل رجس یعنی معاندین کو خطاب تہدید قال اللہ تعالیٰ ۔ قل انظرو ماذا فی السموات والارض۔۔۔ الی۔۔۔ ننج ال مومن ین (ربط): گزشتہ آیت یعنی وجعل الرجس علی الذین لا یعقلون۔ میں اہل رجس یعنی معاندین کا ذکر تھا کہ لوگ کفر اور عناد کی گندگی میں ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بےعقل ہیں ہوائے نفسانی کے تابع ہیں اب اس آیت میں انہیں اہل رجس یعنی معاندین کو خدا کی نشانیوں میں غور وفکر کا حکم ہے اور تہدید بھی ہے کہ کیا یہ معاندین اسی قسم کے عذابوں کا انتظار کر رہے ہیں جو پہلی امتوں پر نازل ہوچکے ہیں خوب سمجھ لیں کہ یہ لوگ بھی عناد کی وجہ سے اسی قسم کے عذاب کے مستحق ہیں اللہ تعالیٰ نے تم کو غور وفکر کرنے کے لیے عقل عطا کی اور اعمال خیر کے بجالانے کے لیے قدرت اور اختیار عطا کیا اب اس کا صحیح استعمال تمہارے اختیار میں ہے۔ نبی کا کام فقط بشارت ونذارت ہے خدا کی مہلت کو غنیمت جانو۔ چناچہ فرماتے ہیں آپ اہل رجس سے کہہ دیجئے کہ اگر تم میری آیات نبوت و رسالت میں نظر نہیں کرتے تو آسمانوں اور زمین کے عجائبات کی طرف نطر کرو تاکہ تم کو کمال صنعت ربانی اور منتہائے علم و حکمت یزدانی معلوم ہو آسمان و زمین میں اس کی قدرت کی لاکھوں نشانیاں موجود ہیں تم ان کے تغیرات و انقلابات میں غور کرو تاکہ تم پر اس کی خالقیت عیاں ہوجائے۔ اور کچھ کام نہیں آتیں نشانیاں اور ڈرانے والے یعنی انبیاء ورسل اس قوم کو جو ایمان نہیں لائی۔ نشانیوں اور پیغمبروں کی ہدایت سے بغیر ایمان لائے نفع نہیں پہنچ سکتا۔ جیسے مشرکین مکہ شق القمر کا معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائے۔ اور اس کو جادو کہہ کر ٹلا دیا۔ پس کیا یہ منکریں اور معاندین ویسے ہی برے دنوں کے منتظر ہیں۔ جیسے ان لوگوں پر آئے تھے جو ان سے پہلے گذرے۔ یعنی کیا یہ لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ جیسے عذاب قوم نوح اور عاد اور ثمود اور قوم صالح وغیرہ امم سابقہ پر آئے تھے ویسے ہی ان پر بھی نازل ہوں اور جو زہ انہوں نے اپنے کفر کا چکھا تھا ویسا ہی مزہ یہ بھی اپنے کفر کا چکھیں۔ پس آپ کہہ دیجئے کہ اچھا آئندہ واقعات کا تم انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔ آئندہ جو واقعات رونما ہوں گے ان سے صادق اور کاذب کا فیصلہ ہوجائے گا پھر ہم بتلائے دیتے ہیں کہ وہ فیصلہ کس طرح ہوگا۔ اس طرح ہوگا کہ عذاب آئے گا اور اس سے صرف منکرین ہلاک ہوں گے۔ اور اس وقت ہم اپنے رسولوں کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو عذاب سے نجات دیں گے۔ تاکہ دنیا دیکھ لے کہ انبیاء کی پیروی اور ایمان کی برکت سے نجات ملی۔ حقیقۃ الامر یوں ہی ہے ہمارے ذمہ کہ دوستوں کو نجات دیں اور دشمنوں کو تباہ وبرباد کریں۔
Ayahs 10:104–107

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کہہ دو کہ لوگو ! اگر تم کو میرے دین میں کسی طرح کا شک ہو تو (سن رکھو کہ) جن لوگوں کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔ بلکہ میں خدا کی عبادت کرتا ہوں۔ جو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے اور مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ ایمان لانے والوں میں ہوں ؟

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور یہ کہ (اے محمد ﷺ سب سے) یکسو ہو کر دین (اسلام) کی پیروی کئے جاؤ۔ اور مشرکوں میں ہرگز نہ ہونا۔

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارنا جو نہ تمہارا کچھ بھلا کرسکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے۔ اگر ایسا کرو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے۔

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر خدا تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں۔ اور اگر تم سے بھلائی کرنی چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔ اور اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

اثنات توحید وحقانیت دین اسلام قال اللہ تعالیٰ ۔ قل یا ایھا الناس ان کنتم فی شک من دینی۔۔ الی۔۔ وھو الغفور الرحیم (ربط): ابتداء سورت سے یہاں تک اصول دین۔ توحید و رسالت اور حشر نشر اور قیامت اور دین اسلام کی حقانیت کو روشن دلیلوں سے واضح کیا گیا اور یہ ثابت کردیا گیا کہ کفار کا دین اٹکل کے تابع ہے۔ اور حق سے دور ہے۔ اور اس کی ہر بات مشکوک اور مشتبہ ہے۔ اب آں حضرت ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان منکرین اور مرتابین سے علی الاعلان یہ کہہ دیں کہ اگر اب بھی تم کو میرے اس روشن دین کے بارے میں شک اور تردد ہے تو خیر ہو مگر تم اس خیال خام میں نہ رہنا کہ میں تمہارے مہمل اور باطل دین کو قبول کرلوں گا۔ میں تمہارے اس مہمل اور شکی اور وہمی دین سے بیزار ہوں مجھے اللہ کی طرف صراط مستقیم پر قائم رہنے کا حکم دیا گیا ہے جس کا اصل اصول توحید اور توکل ہے میں تمہارے ان فرضی معبودوں سے سخت نفور اور بیزار ہوں جو کسی نفع اور ضرر کے مالک نہیں میں تو اس خداوند قدوس کا پرستار ہوں جس کے قبضہ قدرت میں تمہاری جان ہے۔ اور جو تمہاری موت وحیات کا ملک ہے۔ یہ میرے دین کا خلاصہ ہے جس میں ذرہ برابر مجھے شک نہیں۔ آپ ﷺ ان لوگوں سے جو آپ کے دین کے بارے میں شک میں ڑے ہوئے ہیں یہ کہہ دیجئے اے لوگو ! اگر تم میرے دین کی طرف شک میں پڑے ہوئے ہو تو میں تمہارے سامنے اپنے دین کا خلاصہ بیان کیے دیتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ میں خدا کے سوا ان چیزوں کو نہیں پوجتا جن کو تم پوجتے ہو کیونکہ وہ کسی نفع وضرر کے مالک نہیں۔ لیکن میں اس قادر مطلق کی پرستش کرتا ہوں جو تم کو موت دیتا ہے۔ یعنی جو تمہاری موت وحیات کا مالک ہے اور تمہارا وجود اور عدم وجود اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اور مجھ کو منجانب اللہ یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس خدا کے ماننے والوں میں سے ہوں جو موت وحیات اور نفع اور ضرر کا مالک ہے۔ اور نیز مجھ کو یہ حکم دیا گیا کہ تو اپنا رخ سیدھا دین اسلام کی طرف رکھ یک سو ہو کر۔ یعنی دین اسلام اور توحید خالص پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہ در آنحالیکہ تو اور تیرا چہرہ حنیف ہو یعنی صرف ایک خدا کی طرف متوجہ ہو اور تیرا رخ سوائے خدا کے کسی طرف نہ ہو اور نیز مجھ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ تو شرک کرنے والوں میں سے ہرگز نہ ہو۔ ظاہر و باطن توحید کے رنگ میں ایسا رنگا ہوا ہو کہ شرک جلی یا خفی کا کوئی شائبہ بھی نہ آنے پائے۔ اور نیز مجھ کو یہ حکم دیا ہے کہ اللہ کے سوا ایسی چیز کو مت پکار کہ جو نہ تجھے کچھ نفع ہی پہنچا سکے اور نہ کچھ نقصان ہی پہنچاسکے۔ پس اگر تو نے ایسا کیا یعنی ایسی چیز کو پکارا تو اس میں شک نہیں کہ تو اس وقت ظالموں میں سے ہوگا یعنی یہ تیرا پکارنا بےمحل ہوگا۔ اور خوب جان لے کہ نفع وضرر کا مالک سوائے خدا کے کوئی نہیں کیونکہ اگر اللہ تجھ کو کوئی تکلیف پہنچائے۔ بیماری یا محتاجگی میں مبتلا کرے تو اس کے سوا کوئی اس تکلیف کو دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تجھ کو کوئی بھلائی پہنچانا چاہے تو کوئی اس کے فضل کو روکنے والا نہیں۔ پہنچاتا ہے اپنا فضل جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور وہی کوتاہیوں کو بخشنے والا مہربان ہے۔ بندوں کی کوتاہیوں کی وجہ سے فضل کور وکتا نہیں۔
Ayahs 10:108–109

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

کہہ دو کہ لوگو ! تمہارے پروردگار کے ہاں سے تمہارے پاس حق آچکا ہے۔ تو جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلا کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں۔

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ تم کو جو حکم بھیجا جاتا ہے اس کی پیروی کئے جاؤ اور (تکلیفوں پر) صبر کرو۔ یہاں تک کہ خدا فیصلہ کردے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

خاتمہ سورت بر اتمام حجت اور تبلیغ دعوت قال اللہ تعالی۔ قل یا ایہا الناس قد جاء کم الحق۔۔۔ الی۔۔۔ وھو خیر الحکمین (ربط): جب دین اسلام اور اس کے اصول کی حقانیت ظاہر ہوگئی تو بطور اتمام حجت کافروں سے خطاب ہوتا ہے کہ دیکھو تمہارے پاس دین حق آگیا اور نبی کے ذریعہ سے تم تک پہنچ گیا اور اللہ کی حجت تم پر پوری ہوگئی اب تم حق تعالیٰ کے سامنے اپنی گمراہی کا کوئی عذر اور حیلہ پیش نہیں کرسکتے۔ اب اگر اس سے ہدایت حاصل کرلو تو تمہارا ہی فائدہ ہے ورنہ تمہارا ہی نقصان ہے رسول کا کام خبر دے دینا ہے وہ کسی کا ذمہ دار نہیں اور اس کے بعد آپ کو صبر کرنے اور وحی کی پیروی کرنے کا حکم دیا جس سے مقصود آپ کی تسلی ہے کہ اگر یہ معاندین آپ کی دعوت کو قبول نہ کریں۔ اور برابر اسی سابقہ عداوت اور ایذا رسانی پر قائم رہیں تو آپ صبر کیجئے عنقریب اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمادے گا یعنی حسب وعدہ آپ ﷺ کو غالب اور منصور کرے گا۔ یہ مضمون گویا کہ تمام سورت کا خلاصہ اور اجمال ہے۔ ایسا اختتام بلاشبہ حسن اختتام اور مسک الخاتم کا مصداق ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ اے نبی آپ ﷺ کہہ دیجئے اے لوگو تحقیق تمہارے پاس حق آچکا ہے تمہارے پروردگار کی طرف سے اب تمہارے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ پروردگا کی طرف سے تم پر حجت پوری ہوچکی ہے اب تمہارے یے کوئی عذر لاعلمی اور بیخبر ی کا باقی نہیں رہا۔ پس جس نے ہدایت کی راہ اختیار کی یعنی ایمان لایا اور اطاعت کی۔ پس جز ایں نیست وہ اپنے ہی نفع کے لیے ہدایت اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوا یعنی کفر پر اڑا رہا۔ اور خدا اور اس کے رسول کو نہ مانا تو اس کی گمراہی کا وبا اس کی ذات پر ہوگا۔ ساری روئے زمین کے باشندے بھی اگر کفر کرنے لگیں تو خدا کی عظمت میں ذرہ برابر کمی نہیں آئے گی اور نہ رسول خدا کا کوئی نقصان ہوگا۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہارا نگہبان اور داروغہ نہیں کہ تمہارے کفر کے متعلق مجھ سے باز پرس ہو میں تو فقط پہنچانے والا ہوں۔ اور بس۔ اور اے نبی آپ تو اس چیز کی پیروی کیجئے جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے آپ لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا دیجئے چاہے کوئی مانے یا نہ مانے اور اگر تبلیغ اور دعوت اسلام پر یہ لوگ آپ کو ایذ ا پہنچائیں تو آپ صبر کیجئے یہاں تک کہ خود اللہ تعالیٰ فیصلہ کرے۔ کہ حق کو غلبہ دے اور کفر کو ذلیل و خوار کرے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس لیے کہ وہ ظاہر و باطن اور ماضی اور حال اور استقبال سب کو یکساں جانتا ہے اور اس کے حکم اور فیصلہ میں بھول چوک اور غلطی کا امکان نہیں۔ لہذا اے نبی کریم ! آپ ان دشمنوں کی ایذا رسانیوں پر صبر کیجئے۔ اور اللہ کے فیصلہ کا انتظار فرمائیے۔ وہ انشاء اللہ حسب وعدہ آپ کو فتح ونصر عطا کرے گا یا جہاد اور جزیہ کا حکم نازل کرے گا۔ الحمد للہ الذی ھدانا لہذا وما کنا لنھتدی لولا ان ھدانا اللہ۔ الحمد للہ۔ آج بروز چہار شنبہ بوقت عصر 2 صفر الخیر 1388 ھ سورة یونس کی تفسیر سے فراغت ہوئی۔ وللہ الحمد ولمنۃ۔