10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 10:15–17

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اسکو بدل دو ۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دوں۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے۔

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ تو) میں ہی یہ (کتاب) تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی) ایک کلمہ بھی اس طرح کا نہیں کہا بھلا تم سمجھتے نہیں ؟

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر چھوٹ افترا کرے اور اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بیشک گنہگار فلاح نہیں بائیں گے۔

کفار عرب کی ایک ہر زہ سرائی کا جواب باصواب قال اللہ تعالیٰ واذا تتلی علیھم ایاتنا بینات۔۔ الی۔۔ لایفلح المجرمن۔ (ربط) اس آیت میں منکرین نبوت کے ایک تیسرے شبہ کو ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں وہ یہ کہ آپ جب کافروں کو آیات ِ قرآنی پڑھ کر سناتے تو اس کا اعجاز ان کے دل پر اثر کرتا اور اس کی پند ونصیحت کو پسند کرتے۔ لیکن جب شرک اور ان کی بت پرستی اور ان کی جاہلانہ رسمون کی مذمت کا ذکر آتا تو ناک منہ چڑھا کر رسول خدا سے درخواست کرتے کہ ان کو قرآن سے نکال دیجئے اور اس کے بدلے میں دوسرے مضامین بنا دیجئے جن میں بت پرستی کی مذمت اور شرک کی برائیں نہ ہوں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے تعنت اور عناد کی خبر دی اور ان کی اس ہر زہ سرائی اور بیہودہ بات کو ذکر کرکے اس کا جواب دیا گیا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے میرا کلام نہین۔ نبی کو یہ اختیار نہیں کہ اللہ کے کلام اور اس کی وحی میں کوئی تغیر اور تبدل یا کوئی ترمیم کرسکے۔ امام رازی فرماتے ہیں۔ ممکن ہے ان کی یہ فرمائش بطور تمسخر اور استہزاء ہو اور ممکن ہے کہ بطریق تجربہ اور امتحان ہو کہ اگر آپ اسی کلام میں کوئی تبدیلی کردیں تو ہم جان لیں کہ آپ اس دعوے میں کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جھوٹے ہیں بلکہ یہ کلام آپ کا ہے آپ لوگوں کی فرمائش سے اس میں تغیر وتبدل کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ جواب میں یہ کہہ دیں کہ کلام میرا ساختہ ور پر اختہ نہیں کہ میں اس میں کسی قسم کا کوئی ردو بد یا ترمیم کرسکوں بلکہ یہ اللہ کا کلام ہے جس میں کوئی تصرف نہیں کرسکتا۔ (انتہی کلامہ) نیز تم کو میری عادت مستمرہ صدق وامانت معلوم ہے میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور نہ کبھی کسی امانت میں خیانت کی۔ پس میں نے اللہ تعالیٰ امانت میں کیسے تصرف کرسکتا ہوں۔ امانت میں تغیر وتبدل ظلم ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ اور جب ان مشرکوں پر ہماری صاف اور واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں۔ صاف اور واضح آیتوں سے مراد یہ ہے کہ ان کی حقانیت اور ان کا صدق اور ان کا اعجاز صاف ظاہر ہے تو جو لوگ ہمارے پاس آنے کی امید نہیں رکھتے یا نہیں ڈرتے تو آیات توحید اور آیات وعید کو سن کر ہمارے رسول سے یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کے سوا دوسرا قرآن لا۔ یعنی ایسی کتاب لا جس میں حشر ونشر اور ثواب و عذاب کا ذکر اور ہمارے بتوں کی مذمت نہ ہو۔ اس قرآن کے مضامین کو بدل دے یعنی عذاب کی آیت کی جگہ رحمت کی آیت لکھ دو ۔ مطلب یہ تھا کہ اس قرآن سے وعدہ اور وعید اور حلال و حرام اور شرک اور بت پرستی کی مذمت اور حشر نشر کے مضامین نکال دو غرض یہ کہ اس قرآن کو ہماری خواہش کے موافق بنا دو ۔ خدا تعالیٰ نے ان کے اس سوال کے جواب میں اپنے رسول کو حکم دیا کہ آپ ان ضدی اور کج فہم لوگوگوں سے کہہ دیجئے کہ میرے لیے یہ روا نہیں کہ میں اس میں اپنی طرف سے کوئی تغیر وتبدل کر ڈالوں یہ اللہ کی وحی ہے۔ میں اس میں کوئی تصرف نہیں کرسکتا۔ میں صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جس کی منجانب اللہ میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے بلا کمی اور زیادتی اور بلا ترمیم اس تنسیخ میں وحی کا اتباع کرتا ہوں اور اگر بالفرض والتقدیر خدانخواستہ میں وحی کا اتباع نہ کروں اور قرآن میں کسی قسم کی تبدیلی کر کے خدا کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے خوفناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ نیز اے نبی ! آپ ان مشرکوں سے جو آپ سے قرآن کی تبدیلی کی درخواست کرتے ہیں یہ کہہ دیجئے کہ اگر اللہ چاہتا تو میں اس قرآن کو تمہارے سامنے نہ پڑھتا اور نہ خدا تعالیٰ تم کو میرے ذریعے اس کے مضامین سے آگاہ اور خبردار کرتا یعنی خدا چاہتا تو اس قرآن کو نازل نہ کرتا اور نہ مجھے تم پر پڑھنے کا حکم دیتا اور نہ تم کو میرے واسطے سے ان مضامین سے اطلاع دیتا یہ سب کچھ اس کی طرف سے ہے۔ میں اس کے حکم کا تابع ہوں پس تمہارا مجھے اس کے بدلنے کی درخواست کرنا فضول ہے۔ پس تحقیق اس سے پہلے میں تم میں ایک بڑی عمر تک رہ چکا ہوں یعنی نبوت سے پہلے چالیس برس کی عمر تمہارے ہی ساتھ گزری تم میرے حالات سے بخوبی واقف ہو کہ میں نے کسی سے نہ پڑھا لکھا اور نہ کمال حاصل کیا اور نہ کسی استاد کے پاس جا کر بیٹھا اور میرا چال چلن بھی تمہیں خوب معلوم ہے اور اس عرصۂ دراز میں تم نے میرا تجربہ کرلیا کہ میں کبھی جھوٹ نہیں بولا اور نہ کسی کی امانت میں خیانت کی پھر دفعۃً جو قرآن تمہارے سامنے پیش کیا جو عجیب و غریب علوم اور معارف اور اخبار ماضیہ اور آداب اور حکم اور مکارم اخلاق اور محاسن اعمال پر مشتمل ہے اور ایسا فصیح وبلیغ ہے کہ جس کی فصاحت و بلاغت نے جملہ فصحاء اور بلغاء کو عاجز کردیا اور باوجود بار بار تحدی کے کوئی شخص اس کے مقابلہ میں ایک آیت بھی بنا کر نہ لاسکا۔ کیا پس تم سمجھتے نہیں یعنی میرا امی (میرا ناخواندہ) ہونا اور ایک بڑی عمر تک تمہارے درمیان رہنا اور اس عرصہ دراز میں کبھی وحی اور الہام کا نام بھی نہ لینا پھر یکبارگی ایک معجز کتاب کو تمہارے پاس لانا جس کے معارضہ سے تم عاجز ہو اور ایک آیت بھی اس کے مثل بنا کر نہیں لاسکتے حالانکہ تم فصاحت وبلاغت میں شہرۂ آفاق ہو۔ اور میں امی ہوں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ میں دعویٰ نبوت اور رسالت اور دعوی وحی میں صادق اور امین ہوں اور یہ قرآن میرا کلام نہیں۔ اللہ کا کلام ہے کیا تم ایسی موٹی بات کو نہیں سمجھتے۔ میرے ذاتی کلام اور قرآن میں فرق عیاں اور نمایاں ہے۔ قرآن معجز ہے اور میرا کلام معجز نہیں پس جب تم نے چالیس برس تک میرا تجربہ کرلیا کہ میں نے کسی دنیوی معاملہ میں جھوٹ نہیں بولا۔ تو چالیس برس کے بعد یک لخت خدا پر کیسے بہتان باندھ سکتا ہوں۔ پس تبلاؤ کہ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیتوں کو جھٹلایا مطلب یہ ہے کہ میں تو اللہ تعالیٰ پر افتراء نہیں کرتا البتہ مشرکین جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور جو لوگ خدا کے لیے بیٹی اور بیٹا ٹھہراتے ہیں وہ سب خدا پر بہتان باندھتے ہیں اور خدا پر جھوٹ باندھنے والے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں اسی طرح جو شخص خدا کی آیتوں کو جھٹلائے اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظالم نہیں بلاشبہ جرم کرنے والے کامیاب نہ ہوں گے بلکہ عذاب ابدی میں گرفتار ہوں گے۔ فائدہ : اللہ پر جھوٹ باندھنے والے ظالموں میں مدعیان نبوت بھی داخل ہیں۔ جیسے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی اور سجاح وغیرہ وغیرہ جن لوگوں نے اس زمانہ میں ان کو اور آنحضرت ﷺ کو دیکھا ان پر روز روشن کی طرح دونوں کے خصائل و افعال میں فرق واضح ہوگیا۔
Ayahs 10:18–19

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ انکا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کرسکتی ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں ؟ وہ پاک ہے اور (اسکی شان) انکے شرک کرنے سے بہت بلند ہے۔

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور (سب) لوگ پہلے ایک ہی امت (یعنی ایک ہی ملت پر) تھے۔ پھر جدا جدا ہوگئے اور اگر ایک بات جو تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے ہوچکی ہے نہ ہوتی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔

ابطال شرک اور مشرکین کے ایک شبہ کا ازالہ قال اللہ تعالی۔ ویعبدون من دون اللہ مالا یضرھم ولا ینفعہم۔۔۔ الی۔۔۔ فیما فیہ یختلفون۔ (ربط): ان آیات میں بھی مشرکین کی جہالت اور گمراہی کا بیان ہے کہ غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہماری سفارش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ ان کا یہ دعوی بالکل غلط اور بےاصل ہے جس پر کوئی دلیل نہیں اگر اس چیز کا کوئی وجود ہوتا تو ضرور اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتا یہ ناممکن ہے کہ کوئی چیز ہو اور اللہ تعالیٰ کو اس کا علم نہ ہو نیز اس سے بڑھ کر کیا حماقت ہوگی کہ ایسی چیز کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں کہ اگر یہ ان کی عبادت کریں تو وہ ان کو کوئی نفع نہ پہنچائیں۔ اور اگر ان کی عبادت چھوڑدیں تو وہ ان کو کوئی ضرر نہ پہنچا سکیں اور اخیر آیت میں یہ بتلا کہ بت پرستی ابتداء میں نہ تھی بلکہ بعد میں حادث ہوئی جس پر کوئی دلیل نہیں اور اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوگا کہ یہ مشرک اللہ کے سوا ایسی حقیر چیز کی پرستش کرتے ہیں جو ان کو نہ ضرر دیتی ہے اور نہ نفع دیتی ہے یعنی اگر یہ اس کی پرستش چھوڑ دیں تو ان کو کوئی ضرر نہیں اور اگر تمام اوقات اس کی عبادت میں صرف کریں تو کوئی نفع نہیں۔ اور یہ کہتے ہیں کہ یہ بت جن کا عاجز یا لاچار ہونا ان کے سامنے ہے اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ اس لیے ہم ان کی عبادت کرتے ہیں یہ ان کا خیال خام ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔ اے نبی ! آپ ان مشرکین سے کہہ دیجئے کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جس کا اللہ کو علم نہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔ یعنی گویا کہ تم اللہ تعالیٰ کو بتلاتے ہو کہ اس کا شریک موجود ہے اگر کوئی اللہ کا شریک ہوتا تو اللہ کو اس کا ضرور علم ہوتا۔ مقصود یہ ہے کہ تم جھوٹے ہو وہ پاک ہے اور بلندو برتر ہے اس چیز سے جس کو یہ خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں اس کا نہ کوئی ہمسر ہے اور نہ اس کی کوئی ضد ہے اور شروع میں آدم کے وقت سب لوگ ایک ہی امت تھے اور سب توحید اور دین اسلام پر تھے کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) موحد تھے اور ان کی تمام اولاد ان کے طریقہ پر موحد تھی پھر ایک زمانہ کے بعد لوگ مختلف ہوگئے۔ بعض توحید پر قائم رہے اور بعض اپنی کج راہی کی بنا پر توحید سے منحرف ہوئے اور شرک اور گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ توحید اور دین اسلام قدیم ہے ہمیشہ سے چلا آتا ہے ابتداء میں تمام لوگ دین حق پر تھے۔ ایک عرصہ کے بعد لوگوں نے دین حق میں اختلاف کیا اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے نبیوں کو بھیجا۔ کما قال تعالیٰ فبعث اللہ النبیین مبرشرین ومنذرین انبیاء (علیہم السلام) نے دین حق اور توحید کی دعوت دی اور شرک سے ڈرایا غرض یہ کہ کسی ملت میں شرک کو جائز نہیں کہا گیا۔ انبیاء شرک سے منع کرنے کے لیے مبعوث ہوتے ہیں۔ اور اگر تیرے پروردگار کی طرف سے یہ حکم ازلی جاری نہ ہوچکا ہوتا کہ یہ دنیا دار العمل ہے دار ِ جزاء نہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کرتے۔ فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر اور ولکل امۃ اجل ہر امت کے لیے ایک میعاد مقرر ہے تو جس چیز کے درمیان یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں تو اس کا قطعی فیصلہ بھی اسی دنیا میں ہوچکا ہوتا یعنی دنیا میں ہی مشرکین اور مکذبین کو ہلاک کردیتے اور اہل حق کو بچا لیتے۔ اور عذاب کے ذریعے حق اور باطل میں امتیاز ہوجاتا مگر اس نے اپنی حکمت سے فیصلہ کے لیے قیامت کا دن مقرر کیا ہے اس لیے کافروں پر دنیا میں عذاب نازل نہیں ہوتا۔ جس کو اپنی نادانی سے یہ سمجھتے ہیں کہ خدا ہم سے اور ہمارے دین سے راضی اور خوش ہے۔
Ayahs 10:20–21

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ کہہ دو کہ غیب (کا علم) تو خدا ہی کو ہے۔ سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں۔

رسالت محمدیہ کے متعلق مشرکین کے ایک معاندانہ سوال کا جواب قال اللہ تعالی۔ ویقولون لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ۔۔۔ الی۔۔۔ یکتبون ما تمکرون (ربط): اس آیت میں منکرین نبوت کے چوتھے شبہ کو ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں۔ مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ جب تک آپ ہماری فرمائش کے مطابق معجزہ نہ دکھائیں گے اس وقت تک ہم آپ کی نبوت کو نہ مانیں گے حالانکہ قرآن خود ایک معجزہ تھا جسے وہ دیکھ چکے تھے تو اس کے بعد یہ کہنا کہ فلاں قسم کا معجزہ دکھلاؤ گے تو ایمان لائیں گے۔ یہ خود اس کے معاند اور ضدی ہونے کی دلیل ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کا جواب دیا حاصل جواب یہ ہے کہ میری نبوت کے دلائل اور براہین کا تم بار بار مشاہدہ کرچکے ہو اور میری صداقت کا نشان دیکھ چکے ہو۔ تمہاری فرمائش کے مطابق نشان دکھانا ضروری نہیں اور نہ مفید ہے اور نہ مصلحت ہے یہ دنیا دار العمل اور دار الامتحان ہے۔ مجرموں کو مہلت دینا ضروری ہے تم جیسے معاندین کا جواب صرف اتنا ہے کہ نتیجہ کا انتظار کرو کہ تمہاری اس تکذیب کا کیا نتیجہ تمہارے سامنے آتا ہے (یہ فرمانا کہ نتیجہ کا انتظار کرو یہ بھی ایک دلیل تھی) باقی معجزہ کا ظاہر کرنا میرے اختیار میں نہیں وہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہی جانے کہ کب ظاہر کرے۔ یہ غیب کی بات ہے مجھے اس کا علم نہیں اور کفار مکہ یہ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی جیسے ہم چاہتے ہیں کیوں نہیں نازل کی گئی۔ سو آپ جواب میں کہہ دیجئے کہ تمہارا یہ سوال معاندانہ ہے تم میری صداقت کے بہت سے نشان دیکھ چکے ہو۔ باقی ایسا نشان جسے دیکھ کر لوگ ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں اس عالم شہادت میں نہیں دکھلایا جاسکتا۔ یہ امر مصلحت کے خلاف ہے باقی رہا یہ امر کہ آئندہ کیا ہوگا۔ سو کہہ دیجئے کہ غیب کی خبر صرف اللہ کو ہے بس تم انتظار کرو تحقیق میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ یعنی عنقریب دیکھ لوگے کہ خدائے تعالیٰ میرے اور تمہارے درمیان کیا فیصلہ کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ حق کو باطل پر غلبہ دے گا۔ میری صداقت اور میرے دین کی حقانیت تم پر ظاہر ہوجائے گی۔ شاہ عبدالقادر (رح) موضح القرآن میں فرماتے ہیں کہ اگر کہیں کہ ہم کہاں سے جانیں کہ تمہارے بات سچ ہے فرمایا آگے دیکھو حق تعالیٰ اس دین کو روشن کرے گا اور مخالف ذلیل ہوں گے اور برباد ہوجائیں گے سو ویسا ہی ہوا۔ سچ کی نشانی ایک بار کافی ہے اور ہر بار مخالف ذلیل ہوں تو فیصلہ ہوجائے حالانکہ اصل فیصلہ کا دن دنیا میں نہیں ہے۔ انتہی۔ آگے یہ بیان کرتے کہ ہیں کہ ان مشرکوں کی عادت یہ ہے کہ جب اللہ کی قدرت کی نشانیاں دیکھتے ہیں تو مجبور ہو کر حق کی طرف جھکتے ہیں اور جب مصیبت ٹل جاتی ہے تو پھر اپنی سابقہ شرارت کی طرف لوٹ جاتے ہیں یہ معجزہ دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائیں گے۔ اور جب ہم ان لوگوں کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں بعد اس مصیبت اور تکلیف کے جو ان کو پہنچی ہے تو فورا ہی ہماری قدرت کی نشانیوں میں حیلے بہانے شروع کردیتے ہیں۔ کفار مکہ پر اللہ تعالیٰ نے قحط ایسا مسلط کیا جس میں وہ سات برس متواتر مبتلا رہے یہاں تک کہ وہ بھوک کی وجہ سے مرنے لگے اور انہوں نے مرداروں کی ہڈیاں پیس کر کھائیں تو گھبرا کر حضور پرنور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کی درخواست کی اور وعدہ کیا کہ اگر یہ عذاب ہم سے اٹھ جائے تو ہم ایمان لے آئیں گے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی دعا سے ان کا قحط دور کردیا۔ بلا کا دور ہونا تھا کہ پھر وہی شرارتیں کرنے لگے۔ بجائے اس کے کہ آپ کی دعا سے سات سالہ قحط کے دور ہنے کو خدا کی قدرت اور نعمت کا کرشمہ اور آپ کی نبوت وصداقت کا نشان جان کر ایمان لاتے۔ اپنی سابقہ سرکشی اور عناد کی طرف رجع کر کے اللہ کی آیتوں کو جھٹلانے لگے بلکہ اس انعام الٰہی کی نسبت کواکب اور نجوم کی طرف کرنے لگے کہ یہ بارش فلاں ستارہ اور فلاں برج کی تاثیر سے ہوئی ہے۔ اے نبی آپ ان مکاروں سے کہہ دیجئے کہ اللہ حیلہ اور تدبیر میں تم سے زیادہ جلدی کرنے ولا ہے۔ تمہارے حیلہ اور بہانے کی خدا کی تدبیر کے سامنے کیا حقیقت ہے اور تحقیق ہمارے فرشتے یعنی کراماً کاتبین تمہارے مکر اور حیلے لکھتے رہتے ہیں تاکہ قیامت کے دن تم کو اس کی پوری سزا ملے جب تمہاری تدبیر ہمارے فرشتوں پر پوشیدہ نہیں تو ہم پر کیسے پوشیدہ رہ سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے مکر سے اللہ تعالیٰ کا استدراج اور امہال مراد ہے کہ مجرم کی باگ ڈھیلی چھوڑتا ہے یہاں تک کہ مجرم نشۂ غفلت میں چور ہو کر یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ کوئی عذاب نہیں آئے گا اور اس کو یہ خیال ہی نہیں آتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف مہلت ہے پس جب کفر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے تو غفلت اور بیخبر میں اس کو پکڑ لیتا ہے " اللہ تعالیٰ کے مکر سے " مہلت دینا اور اور غفلت اور بیخبر ی کی حالت میں یکایک پکڑ لینا مراد ہے لہذا عاقل کو چاہئے کہ خدا کے حلم اور بردباری سے مغرور نہ ہو۔ معلم نہیں کہ کب پکڑ لے۔ اب آگے دریائی سفر کی مثال بیان فرماتے ہیں۔
Ayahs 10:22–23

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے ہو اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں سے) سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کر کے اس سے دعا مانگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں۔

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں لوگو ! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا۔ (تم) دنیا کی زندگی کے فائدے (اُٹھالو) پھر تم کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

بیان توحید مقرون بہ وعید قال اللہ تعالی۔ ھو الذی یسیرکم فی البر والبحر۔۔۔ الی۔۔۔ فننبئکم بما کنتم تعملون۔ (ربط اوپر توحید کا بیان تھا۔ اب پھر توحید کا مضمون بیان ہوتا ہے جو زجر اور وعید کو بھی متضمن ہے اور اثبات صانع کی دلیل بھی ہے اور یہ آیت درحقیت گزشتہ آیت واذا اذقنا الناس رحمۃ من بعد ضراء مستھم اذا لھم مکر فی آیاتنا کی تفسیر اور تشریح ہے جس میں ضراء کے بعد رحمت پہنچنے کی اور پھر رحمت اور نعمت ملنے کے بعد ان کے مکر فی الآیات کی مثال بیان کی گئی ہے کیونکہ مثال سے شئے کی حقیقت اور کیفیت واضح ہوجاتی ہے۔ حکایت : امام جعفر صادق سے کسی نے سوال کیا کہ میرے لیے اثبات صانع کی کوئی دلیل ذکر کیجئے تو فرمایا کہ بتلا تو کیا پیشہ کرتا ہے اس نے کہا میں بحری تجارت کرتا ہوں کشتیوں پر سامان لادتا ہوں اور لے جاتا ہوں۔ فرمایا کبھی ایسی صورت بھی پیش آئی ہے کہ کشتی ٹوٹ گئی ہو اور تو ایک تختہ پر بیٹھا رہ گیا ہو اور ہر طرف سے تیز ہوائیں آرہی ہوں۔ اس نے کہا ہاں ایک مرتبہ ایسا بھی پیش آیا ہے تو امام جعفر نے کہا اس وقت تو نے کیا کیا۔ اس نے کہا گریہ وزاری کی اور دعا مانگی تو امام جعفر نے فرمایا۔ پس تیرا خدا وہ ہے جس سے تو اس وقت دعا مانگ رہا تھا۔ (دیکھو تفسیر کبیر صفحہ 576 ج 4) غرض یہ کہ گزشتہ آیات کی طرح آئندہ آیات میں بھی توحید کا مضمون مع الزام اور مع زجر ووعید کے بیان ہوتا ہے چناچہ فرماتے ہیں وہ اللہ وہی ہے جو تم کو خشکی اور تری یعنی جنگل اور دریا میں پیدل اور سواریوں پر پھراتا ہے۔ یعنی تم پیدل اور سواریوں پر خشکی میں اور کشتیوں اور جہازوں میں سوار ہو کر سمندروں میں پھرتے ہو تاکہ اپنی معاش پیدا کرو تم کو چاہئے کہ اللہ کے اس احسان کا شکر ادا کرو۔ یہاں تک کہ بعض اوقات جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو اور وہ کشتیاں اپنی سواریوں کو یعنی تم کو لے کر موافق ہوا کے ساتھ روانہ ہوتی ہیں اور وہ کشتیوں کے سوار اس ہوا سے خوش ہوتے ہیں اور اس قدرت خوش ہوتے ہیں کہ گویا مقصد حاصل ہوگیا۔ ناگہاں اس حالت میں دفعۃً ان پر ایک تندوتیز ہوا آئی اور ہر طرف سے موج ان پر چڑھ اتی ہے اور دریا کے تلاطم سے کشتی ڈانواں ڈول ہونے لگتی ہے اور گمان کرنے لگتے ہیں کہ ہم بلاؤں میں گھر گئے۔ یعن اب کوئی دم میں کشتی ڈوبی اور وہ ہلاک ہوئے تو اس وقت اللہ کو اپنے اوپر سے بلا دفع کرنے کو پکارنے لگتے ہیں در آنحالیکہ وہ خالص اللہ کی عبادت کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس وقت اس میں کوئی آمیزش شرک کی نہیں ہوتی۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک اللہ رحمت سے نعمت میں رہے تو مست رہے اور جب خدا کی رحمت مبدل بہ زحمت ہوگئی تو اخلاص کے ساتھ اللہ کو پکارنے لگے۔ اس لیے کہ جانتے ہیں کہ مصیبت سے بچانے والا صرف اللہ ہے اس لیے ایسے وقت میں صرف اللہ کو پکارتے ہیں اور بتوں کو بھول جاتے ہیں اور اس وقت یہ کہتے ہیں اے اللہ اگر تو نے ہم کو اس ڈوبنے کی مصیبت سے بچا لیا تو ہم تیرے شکر گزار بندوں میں سے ہوجائیں گے۔ اور ہمیشہ ہمیشہ تیری توحید پر قائم رہیں گے۔ پھر جب اللہ نے ان کی دعا قبول کی تو فعل شاکرین کا کرتے مگر بجائے اس کے فعل مشرکین کرنے لگے۔ اے لوگو ! تمہاری سرکشی کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہے تمہاری یہ سرکشی دنیاوی زندگی کا چند روزہ فائدہ ہے آخرت میں تمہارے کچھ کام نہ آئے گی پھر اس چند روزہ زندگی کے بعد تم سب کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے سو اس وقت ہم تم کو تمہارے اعمال سے خبر دار کریں گے۔ اور ان کے مناسب تم کو جزا دیں گے اس تمام بحری سفر کی مثال کا خلاصۂ مطلب وہ ہے جو حضرت شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں کہ " سختی کے وقت آدمی کی نظر اسباب سے اٹھ کر صرف اللہ پر رہتی ہے جہاں سخت گھڑی گزری اور کام بن گیا۔ پھر خدا کو بھول کر اسباب پر آجاتا ہے۔ ڈرتا نہیں کہ خدا پھر ویسی ہی تکلیف اور سختی کا سبب کھڑا کردے اسی کے ہاتھ میں سب اسباب کی باگ ہے " انتہی کلامہ۔
Ayahs 10:24–26

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

دنیا کی زندگی کی مثال مینہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی۔ اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں۔ ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لئے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے نیکو کاری کی انکے لئے بھلائی ہے اور (مزید برآں) اور بھی اور انکے مونہوں پر نہ تو سیاہی چھائے گی اور نہ رسوائی۔ یہی جنتی ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

دنیا کا فنا اور زوال اور اس کی ناپائیداری کی مثال اور ذکر جزائے اعمال قال اللہ تعالی۔ انما مثل الحیوۃ الدنیا۔۔۔ الی۔۔۔ ھم فیھا خلدون (ربط) گزشتہ آیت میں لوگوں کی سرکشی کا بیان تھا جس کا سبب دنیا کی ظاہری زیبائش و عیش و عشرت تھا جس کی وجہ سے یہ لوگ دنیاوی زندگانی کے نشہ میں سر شار ہیں اب اس آیت میں دنیا کی ناپائیدار زندگی کی ایک لطیف مثال بیان کرتے ہیں جس میں غور کرنے سے دنیا کی بےثباتی اور عمر کی ناپائیدار دل پر نقش ہوجاتی ہے اور بغی اور فساد فی الارض کا جو منشاء اور اصل سبب تھا (یعنی دنیاوی عیش و عشرت) اس کی حقیقت واضح ہوجانے سے مزاج اعتدال پر آجائے گا۔ دنیا کی چند روزہ زندگی کو پانی اور مٹی سے تشبیہ دی یعنی جس طرح پانی زمین پر برستا ہے اور اس سے کھیتی پیدا ہوتی ہے اور کسان اسے دیکھ کر خوش ہوتا ہے کہ اب کھیتی تیار ہوگئی ہے اور اب ہم اس سے کھائیں گے کہ ناگہاں اس پر کوئی آسمانی آفت آجاتی ہے کہیں اولے پڑجاتے ہیں کہیں آگ لگ جاتی ہے اور وہ کھیتی نیست ونابود ہوجاتی ہے اور کسان کی امیدیں حسرت سے بدل جاتی ہیں۔ اور سوائے افسوس کے کچھ ہاتھ نہیں لگتا اسی طرح انسان کا حال ہے کہ مطفہ مثل پانی کے ہے اور رحم مثل زمین کے ہے۔ نطفہ کے رحم میں جانے سے آدمی پیدا ہوتا ہے۔ اور بڑھتا ہے اور طرح طرح کی آرزوئیں اور خواہشیں اپنے دل میں رکھتا ہے کہ ناگہاں موت کا پیغام آجاتا ہے اور سب حسرتیں اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ ایسی ناپائیدار چیز کے لیے تم جاودانی عیش کو کیوں چھوڑ دیتے ہو اور نبی کا اتباع کیوں نہیں کرتے کہ تم کو عیش جاودانی ملے اور حسرتوں سے محفوظ ہوجاؤ۔ اور اس مثال میں ان لوگوں کا جواب بھی ہے جو حشر ونشر کے منکر ہیں اور دنیا کے زوال کی مثال بیان کرنے کے بعد جنت کی رغبت دلائی اور دار السلام کی دعوت دی جو کہ تمام بلاؤں اور آفتوں اور کدورتوں سے سالم ہے اور بتلا یا کہ یہ گھر سعداء کا ٹھکانہ ہے۔ اور اس کے بعد اشقیاء کا حال اور ان کا انجام اور ان کا ٹھکانہ بیان کیا اور بتلا دیا کہ دار آخرت دار دنیا سے کہیں بہتر ہے لہذا اس کی فکر کرو۔ فانی اور مکدر کے عاشق نہ بنو ان آیات میں مجرمین کے چار حال بیان کیے۔ 1 ۔ جزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا۔ 2 ۔ ترھقھم ذلۃ 3 ۔ مالھم من اللہ من عاصم۔ 4 کانما اغشیت وجوھھم قطعا من الیل مظلما تاکہ اس حال ومآل کو معلوم کر کے دنیا کے دیوانے ہوش میں آجائیں اور اس ذلت سے بچنے کی فکر کریں۔ چناچہ فرماتے ہیں جزایں نیست کہ دنیاوی زندگی کی مثال فنا وزوال اور چند روزہ فائدہ اور ناپائیداری میں ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس پانی کی وجہ سے مختلف قسم کا گنجان سبزہ اگا جس میں سے بعض کو چوپائے کھاتے ہیں۔ یعنی ہر قسم کی پیداوار خوب ہوئی اور خوب خوشنما تیار ہوئی۔ یہاں تک کہ جب زمین نے اپنے بناؤ سنگار کو حاصل کرلیا۔ اور خوب آراستہ اور پررونق ہوگئی اور دیکھنے والوں کو خوشنما معلوم ہونے لگی۔ اور اس کے مالکوں نے جان لیا کہ ہم اس کھیتی کے کاٹنے اور سمیٹنے پر پوری طرح قادر ہیں تو اس وقت یکایک اس زراعت کی ہلاکت اور بربادی کے متعلق رات میں یا دن میں ہمارا حکم آپہنچا یعنی اولا اور پالا اور آندھی وغیرہ وغیرہ آپہنچی۔ پس ہم نے اس زراعت کو بیخ وبن سے کٹا ہوا ڈھیر کر ڈالا۔ گویا کہ کل تھی ہی نہیں۔ یعنی اس کھیتی کو ایسا نیست ونابود کردیا کہ ویا کہ اس زمین میں ان چیزوں کا وجود ہی نہ تھا۔ اسی طرح سمجھو کہ دنیا کی زندگی بھی اسی طرح یکایک جاتی رہے گی اور تم دیکھتے اور ہاتھ ملتے رہ جاؤ گے۔ اسی طرح ہم مفصل بیان کرتے ہیں اپنی نشانیوں کو ان لوگوں کے لیے جو غور وفکر کرتے ہیں۔ تاکہ سمجھیں کہ اس دار فانی کے چند روزہ آرائش وزیبائش پر غرہ کرنا تو ایسی ہی حماقت ہے جیسا کہ کوئی کاشتکار اور باغبان کھیتی کی سرسبزی کو دیکھ کر غرہ کرنے لگے کہ اب ہم اس پر پورے قادر اور قابو یافتہ ہوچکے ہیں اور یہ نہ سمجھے کہ یہ دار انی محل آفات ہے کاشتکار اور باغبان اسی غرہ میں تھا کہ یکایک بجلی گری اور سرد ہوا چلی یا آندھی آئی رات میں یا دن میں اور دم کے دم میں ساری ہری بھری اور تروتازہ کھیتی ایس برباد ہوگئی کہ گویا اس سے پہلے کبھی اس کا وجود ہی نہ تھا پس خوب سمجھ لو کہ یہ دار فانی محل آفات ہے اس پر بھروسہ کرنا محض حماقت ہے۔ حضرت شاہ عبدالقادر صاحب نے اس مثال کو نہایت لطیف طرز میں خاص انسانی حیات پر منطبق کیا ہے " فرماتے ہیں یعنی پانی کی طرح روح آسمان (عالم بالا) سے آئی اور اس جسم خاکی میں مل کر اس نے قوت پکڑی دونوں کے ملنے سے آدمی بنا پھر کام کیے انسانی اور حیونی دونوں طرح کے جب ہر ہنر میں پورا ہوا اور اس کے متعلقین کو اس پر بھروسہ ہوگیا ناگہاں موت آپہنچی جس نے ایک دم میں سارا بنابنایا کھیل ختم کردیا پھر ایسا بےنام ونشان ہوا کہ گویا زمین پر آباد ہی نہ ہو اتھا " انتہی کلامہ وللہ درہ (رح) رحمۃ واسعۃ۔ اب اس دار فنا وزوال کی مثال بیان کرنے بعد دار بقاء کی دعوت دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ لوگو تم نے اس دار فانی کے محل آفات ہونے کو سمجھ لیا اور دیکھ لیا۔ اور اللہ تم کو اس دار آفات سے ہٹا کر سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے جو ہر قسم کی آفات اور رنج وغم اور فنا وزوال سے سالم ہے۔ اور دائم اور باقی ہے۔ اور جس میں داخل ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور فرشتوں کی طرف سے سلام ہے تم کو چاہئے کہ اس کی دعوت کو قبول کرو اور اللہ ہی راہ دکھاتا ہے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف جو اس کو سیدھا دار السلام میں پہنچا دے " صراط مستقیم " سے راہ سلام مراد ہے اور امام قرطبی فرماتے ہیں کہ صراط مستقیم سے آنحضرت ﷺ اور ابوبکر وعمر ؓ کا طریقہ اور راستہ مراد ہے۔ (دیکھو تفسیر قرطبی ص 329 ج 8) خلاف پیمبر کسے رہ گزید کہ ہرگز بمنزل نخواہد رسید فائدہ : جاننا چاہئے کہ اللہ کی دعوت تو عام ہے مگر اس کی ہدایت یعنی اس کی توفیق اور عنایت خاص ہے جس کو چاہے مسند قبول پر بٹھائے۔ جن لوگوں نے نیکی کی یعنی ایمان لائے اور حضور پر نور کا اتباع کیا ان کے لیے آخرت کی بھلائی اور نیکی ہے یعنی بہشت اور مزید برآں خدا کا دیدار بھی ہے جیسا کہ احادیث میں ہے کہ آں حضرت ق نے ارشاد فرمایا کہ حسنی سے جنت مراد ہے اور زیادۃ سے مراد دیدار خداوندی اور اس کے ساتھ حق تعالیٰ کی رضا مندی اور خوشنودی کا بھی پروانہ ملے گا۔ جنت اعمال حسنہ کی جزاء میں ملے گی اور دیدار خداوندی محض فضل وکرم ہوگا اس لیے دیدار خداوندی کو زیادۃ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ وہ علاوہ جزا وعمل کے مزید انعام ہے معتزلہ جو دیدار خداوندی کے منکر ہیں وہ زیادت کی تفسیر اللہ تعالیٰ کی مغفرت یا اس کی رضا سے کرتے ہیں مگر یہ تفسیر تمام روایات صحیحہ کے خلاف ہے بیشمار اخبار اور آثار سے یہ امر ثابت ہے کہ آیت میں زیادتی سے مراد دیدار خداوندی ہے اور قیامت کے دن ان محسنین کے چہرے سپید اور روشن ہوں گے ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ رسوائی یہ لوگ اہل جنت ہیں ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں یعنی کفر وشرک کیا ان کی برائی کی جزاء مثل ان کی برائی کے ہے اس پر زیادتی نہ ہوگی۔ بخلاف نیکی کے کہ اس کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے۔ سزا میں اضافہ عدل و انصاف کے خلاف ہے اور انعام میں اضافہ جودو کرم ہے۔ اور ان کے چہروں پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی ان کو اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ ان کے چہروں کی ذلت اور کدورت کی حالت یہ ہوگی کہ گویا ان کے چہروں پر تاریک رات کے ٹکڑے چڑھا دئیے گئے یعنی ان کے چہرے رات کی طرح کالے سیاہ ہوں گے۔ یہ لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں۔ وہ ہمیشہ دوزخ ہی میں رہیں گے۔ کبھی ان کو عذاب سے رہائی نہ ہوگی۔
Ayahs 10:27–30

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جنہوں نے برے کام کئے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا۔ اور ان کے مونہوں پر ذلّت چھا جائے گی اور کوئی انکو خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ ان کے مونہوں (کی سیاہی کا یہ عالم ہوگا کہ ان) پر گویا اندھیری رات کے ٹکڑے اوڑھا دئیے گئے ہیں۔ یہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور انکے شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہم کو تو نہیں پوجا کرتے تھے۔

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

ہمارے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے۔ ہم تمہاری پرستش سے بالکل بیخبر تھے۔

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

وہاں ہر شخص (اپنے اعمال کی) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا اور وہ اپنے سچے مالک کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا۔

میدان حشر میں کافروں کی ذلت اور رسوائی کا بیان قال اللہ تعالیٰ ویوم نحشرھم جمیعا۔۔۔ الی۔۔۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل ایمان کے درجات اخروی اور نعیم ابدی اور کافروں کی ذلت اور رسوائی کا بیان تھا۔ اب اس آیت میں بھی کافروں کی ایک اور ذلت اور رسوائی کا بیان ہے وہ یہ کہ قیامت کے دن عابد اور معبود۔ دنوں ہی کا حشر ہوگا اور بعد ازاں وہ معبود جن کی یہ مشرکین دنیا میں پرستش کرتے تھے اور جن کو اپنا سفارشی سمجھتے تھے۔ قیامت کے دن۔ یہ معبودین اپنے عابدین سے بری اور بیزار ہوجائیں گے کہ تم لوگ ہماری پرستش نہیں کرتے تھے۔ بلکہ اپنی خواہش کی پرستش کرتے تھے ہمیں تو تمہاری پرستش کی خبر بھی نہیں جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے اذ تبرا الذین اتبعوا من الذین اتبعوا۔ وقا اللہ تعالیٰ ثم یقول للملئکۃ اھؤلاء ایاکم کانوا یعبدون۔ قالوا سبحانک انت ولینا من دونھم بل کانوا یعبدون الجن۔ جن کی شفاعت پر امید لگائے بیٹھے تھے ایسے نازک وقت میں ان کی براءت اور بیزاری موجب حسر بھی ہوگی اور موجب ذلت بھی ہوگی۔ سو اس آیت میں ان کی اس حسرت اور اس ذلت کا بیان ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں ڈرو اس دن سے جب ہم سب کو یعنی سب عابدوں اور سب معبودوں کو میدان حشر میں جمع کریں گے۔ پھر منجملہ خلائق کے مشرکین سے یہ کہیں گے کہ تم اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک یعنی معبود اپنی جگہ قائم رہو۔ یعنی تم اور تمہارے شریک جن کو تم نے ہماری جگہ پوجا ہے یعنی بت اپنی جگہ ٹھہرو اور دیکھو کہ تمہارے ساتھ ہم کیا کرتے ہیں پھر ہم ان کا ان عابدوں اور معبودوں تفرقہ ڈالیں گے یعنی ان کے درمیان جدائی ڈالیں گے اور باہمی رشتہ اتحاد والفت قطع کردیں گے جو ان کے درمیان دنیا میں تھا اور کافروں سے پوچھیں کہ تم نے ان کی کیوں کی ؟ کافر کہیں گے کہ ان بتوں نے ہم کو اپنی عبادت کا حکم دیا تھا حق تعالیٰ ان بتوں کو گویائی عطا کرے گا اور ان سے ان کی عبادت کے متعلق سوال کرے گا۔ اور وہ شرکاء یعنی وہ بت جن کو یہ خدا کا شریک ٹھہراتے تھے جواب میں یہ کہیں گے کہ تم دنیا میں ہم کو نہیں پوجتے تھے۔ بلکہ اپنی خواہش کی پرستش کرتے تھے۔ افرءیت من اتخذ الہہ ہواہ۔ ہم کو تمہارے پوجنے کی خبر بھی نہ تھی۔ عابدوں اور معبودوں میں جھگڑا شروع ہوجائے گا۔ کافر کہیں گے ایسا نہیں بلکہ تم نے ہمیں اپنی پرستش کا حکم دیا تھا پس بت اس وقت کہیں گے : اللہ ہمارے اور تمہارے در میان میں کافی گواہ ہے۔ یقینا ہم تمہاری پرستش سے بالکل بیخبر تھے اگر شرکاء سے بت مراد ہوں تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو گویائی عطا کردے گا اور اگر شرکاء سے صالحین مراد ہوں جن کی صورت پر انہوں نے بت بنا رکھے تھے تو وہ صالحین قیامت کے دن ان کی عبادت سے منکر ہوں گے اور ان سے اپنی بیزاری ظاہر کریں گے۔ اس مقام پر ہر شخص آزما لے گا اپنے گزشتہ کارنامہ کو یعنی اس کو معلوم ہوجائے گا کہ اس کا عمل از قسم خیر تھا یا از قسم شر اس کا نفع اور ضرر اس کے سامنے آجائے گا۔ پھر یہ لوگ مالک حقیقی کی طرف لوٹا دئیے جائیں۔ اور وہ ان کو ان کے عمل کے موافق جزا دے گا اور ان کا سارا افتراء گم ہوجائے گا۔ یعنی اس وقت یہ ظاہر ہوجائے گا کہ بت پرستوں کا یہ دعوی سراسر افتراء اور بہتان تھا۔
Ayahs 10:31–36

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے ؟ یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے ؟ اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے ؟ اور جاندار سے بےجان کون پیدا کرتا ہے ؟ اور (دنیا کے) کاموں کا انتظام کون کرتا ہے ؟ جھٹ کہہ دیں گے کہ خدا تو کہو کہ پھر تم (خدا سے) ڈرتے کیوں نہیں ؟

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

یہی خدا تو تمہارا پروردگار برحق ہے اور حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا ؟ تو تم کہاں پھرے جاتے ہو ؟

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اسی طرح خدا کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں ثابت ہو کر رہا۔ کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے کہ مخلوقات کو ابتداًء پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے۔ کہہ دو کہ خدا ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اک سے جا رہے ہو ؟

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کون ایسا ہے کہ حق کا راستہ دکھائے ؟ کہہ دو کہ خدا ہی حق کا راستہ دکھاتا ہے بھلا جو حق کا راستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے راستہ نہ بتائے راستہ نہ پائے ؟ تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو ؟

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا۔ بیشک خدا تمہارے (سب) اعمال سے واقف ہے۔

احقاق توحید وابطال شرک قال اللہ تعالیٰ ۔ قل من یرزقکم من السماء والارض۔۔۔ الی۔۔۔ علیکم بما یفعلون (ربط): گزشتہ آیات میں بھی دلائل قاطعہ کے ساتھ اثبات توحید اور ابطال شرک کا بیان تھا۔ اب ان آیات میں پھر یہی ابطال شرک کا مضمون اس طرح بیان ہوتا ہے کہ مکر کو سوائے اعتراف اور اقرار کے کوئی چارہ نہ رہے۔ ان آیات میں حق تعالیٰ نے بطلان شرک پر دلیل یہ بیان فرمائی کہ قابل پرستش اور لائق عبادت وہ ذات ہے جس میں یہ اوصاپائے جاتے ہیں اور کافر بھی اس کا انکار نہیں کرسکتے۔ کہ یہ اوصاف بجز وحدہ لاشریک لہ کے کسی اور میں نہیں پائے جاتے تو پھر کیوں دوسروں کی پرستش کرتے ہیں۔ اور اس مقام پر الوہیت کے چار خواص ذکر کیے جن کو بت پرست بھی اللہ کے لیے مخصوص مانتے ہں۔ 1 ۔ قل من یرزقکم من السماء والارض۔ یعنی آسمان اور زمین سے مخلوق کو روزی دینا۔ 2 ۔ امن یملک السمع والابصار۔ یعنی حاسہ سمع وبصر کا مالک ہونا جس کو چاہا شنوا اور بینا بنایا اور جس کو چاہا بہرا اور نابینا بنایا۔ 3 ۔ ومن یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی۔ یعنی مردہ سے زندہ کو پیدا کرنا اور اس کے برعکس یعنی موت اور حیات کا اس کے اختیار میں ہونا۔ 4 ۔ ومن یدبر الامر۔ یعنی تدبیر عالم علوی وسفلی۔ جس کو چاہے بلند کرے اور جس کو چاہے پست کرے اور اس کے علاوہ اور بھی الوہیت کے خواص مختصر کا بیان فرمایا اور مطلب یہ ہے کہ قابل پرستش وہ ذات ہے جس میں یہ صفات پائی جائیں کہ وہ رزق کا۔ اور ارشاد کا مالک ہو ان دلائل کو بصورت استفہام وسوال پیش کیا اور جواب ان کے سپرد کیا تاکہ حجت اور الزام مکمل ہو۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ دلیل اول : اے نبی آپ ان مشرکوں سے پوچھیے کہ تم کو آسمان اور زمین سے کون روزی دیتا ہے یعنی آسمان سے کون مینہ برساتا ہے اور زمین سے کون اناج اور درخت اگاتا ہے جس پر تمہاری روزی کا دارومدار ہے مطلب یہ ہے کہ بتلاؤ کہ تمہارا رازق کون ہے۔ دلیل دوم : اور پوچھئے کہ وہ کون ہے کہ جو تمہاری شنوائی اور بینائی کا مالک ہے یعنی کون ہے جس نے تم کو سماعت اور بصارت عطا کی بتلاؤ تو سہی کہ سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں کس نے دی ہیں اور کون ان کا محافظ ہے۔ دلیل سوم : اور وہ کون ہے کہ جو زندہ کو مردہ سے نکالتا، اور مردہ کو زندہ سے نکالتا۔ جس کی صدہا مثالیں ہیں انسان جاندار ہے اور نطفہ بےجان ہے اللہ نطفہ سے انسان نکالتا ہے اور انسان میں سے نطفہ۔ پرندہ جاندار ہے اور انڈہ بےجان۔ اللہ پرندہ میں سے انڈہ نکالتا ہے اور انڈے میں سے پرندہ۔ مومن زندہ ہے اور کافر مردہ ہے۔ اللہ مومن سے کافر کو نکالتا ہے اور کافر سے مومن کو نکالتا ہے۔ دلیل چہارم : اور بتلاؤ کہ کون ہے جو آسمان اور زمین کی تدبیر کرتا ہے اور سارے عالم کا انتظام کرتا ہے پس کافر ان سوالات مذکورہ کے جواب میں مجبور ہو کر یہی کہیں گے کہ ایسی صفتوں والا تو اللہ ہی ہے کیونکہ اس میں انکار اور مکابرہ کی گنجائش ہیں اور عالم کے اس نظام محکم کو دہر یا مادہ کی طرف منسوب کرنا محض حماقت ہے بس ان کا یہ اقرار دلیل ہے اس بات پر کہ بت پرستی کا طریقہ باطل ہے پس اے نبی ! آپ ﷺ ان سے کہیے کہ جب تم یہ اقرار کرچکے کہ ایسی صفتوں والا صرف اللہ ہے تو پھر تم خدا کے قہر و عذاب سے ڈرتے کیوں نہیں۔ پس خوب سمجھ لو کہ اللہ ہی تمہارا حقیقی پروردگار ہے جس کی صفات اوپر مذکور ہوئی۔ وہ مستحق عبادت ہے۔ بت جو کسی چیز پر بھی قدرت نہیں رکھتے وہ مستحق عبادت نہیں ہوسکتے۔ پس اس صریح اور واضح حق کے بعد سوائے گمراہی کے اور کیا رہا۔ پھر تم حق کو چھوڑ کر باطل کی کہاں پھرے جا رہے ہو۔ یعنی جب کہ تم نے خدا کی ہستی اور اس کے مالک اور قادر اور نافع اور ضار ہونے کا اقرار کرلیا تو پھر وہ کیا چیز ہے جو تم کو حق سے باطل کی طرف مائل اور منحرف کر رہی ہے۔ اسی طرح تیرے پروردگار کی قضا ایسے بدکاروں پر ثابت ہوچکی ہے کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے اس لیے کہ جو دائرہ اصلاح سے نکل گیا اور اس نے تمرد اختیار کرلیا وہ کہاں سے ایمان لائے گا۔ یعنی اللہ کو ان کے عناد کا پہلے ہی سے علم تھا اس نے ان کی قسمت میں لکھ دیا تھا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ خدا کا نوشتہ ان کے حق میں پورا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کی وحدانیت کے انکار کی کوئی وجہ تو ہے نہیں اس پر اگر کوئی ایمان نہ لائے تو سمجھ کہ ان کی تقدر میں یہی لکھا ہوا تھا۔ دلیل دیگر (5) اب پھر اس مدعا یعنی ابطال شرک کی ایک اور دلیل بیان کرتے ہیں جس میں مشرکین کی غایت تقبیح اور غایت تفضیح ہے۔ اے نبی آپ ان مشرکین سے پوچئے کہ بھلا تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں سے جن کو تم شریک خدائی سمجھتے ہو کوئی ایسا بھی ہے جو پہلی بار مخلوق کو پیدا کرے پھر وہی مرنے کے بعد اس کو پہلی صورت پر دوبارہ پیدا کرے اور ظاہر ہے کہ ان شرکاء میں سے کوئی بھی یہ قدرت نہیں رکھتا۔ پس اگر وہ اپنی عار اور شرکاء کی توہین کی وجہ سے اس سوال کا جواب دینے میں تامل کریں تو آپ یہ کہہ دیجئے کہ تم ان دلائل قاطعہ کے ہوتے ہوئے کہاں راہ حق سے بہکے جار ہے ہو مطلب یہ ہے کہ جن کو تم شریک خدائی ٹھہراتے ہو نہ وہ کسی کو پیدا کرسکتے ہیں بلکہ یہ قصف سوائے ذات خداوندی کے کسی میں نہیں پایا جاتا پھر کسی اور کی کیوں عبادت کرتے ہو۔ اس سوال کا جواب ذکر نہیں فرمایا کیونکہ ایسا بدیہی امر ہے کہ کسی کو اس میں انکار کی مجال نہیں اور چونکہ مشرکین معاد اور حشر کے منکر ہیں اس لیے وہ اس کا جواب نہیں دیں گے کہ کہیں اقرار کر کے پکڑ میں نہ آجائیں۔ پس ثابت ہوا کہ معبود حقیق وہ ہے جو مبدئ اور معید ہو اور اس سوال سے مقصود ان کی جہالت اور حماقت کو ظاہر کرنا ہے۔ اور یہ دلیل جس طرح اثبات وحدانیت کے لیے کافی ہے۔ اسی طرح اثبات معاد کے لیے بھی کافی ہے۔ خلاصۂ کلام یہ کہ جب خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور بتوں کا عجز تم پر ظاہر ہوگیا تو پھر تعجب ہے کہ تم جان بوجھ کر خدائے قادر کی عبادت سے منہ موڑتے ہو اور عاجز بتوں کو پوجتے ہو۔ (6) دلیل دیگر بر ابطال شرک اے نبی ! آپ ان سے یہ بھی پوچھئے کہ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو لوگوں کو حق کا راستہ دکھائے اور حق اور باطل کے فرق کو بتلا سکے۔ ظاہر ہے کہ وہ بجز اس کے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے معبودوں میں کوئی بھی ایسا نہیں کیونکہ بت تو بینائی اور شنوائی اور گویائی سب سے کورے ہیں تو پھر آپ ﷺ ان سے یہ کہیے کہ اللہ ہی لوگوں کو حق کا راستہ دکھاتا ہے اب آپ ﷺ ان سے یہ سوال کیجئے کیا وہ شخص جو دوسروں کو حق کا راستہ دکھاتا ہو وہ پیروی کیے جانے کا زیادہ مستحق ہے یا وہ شخص کہ جس کو بیغیر کسی کی رہنمائی کے خود بھی راستہ دکھائی نہ دیتا ہو یعنی اللہ جو حق کی راہ دکھاتا ہے اور دلائل اور براہین سے حق اور باطل کے فرق کو تم پر واضح کرتا ہے وہی اتباع اور اطاعت کا زیادہ مستحق ہے۔ بت نہیں ہیں جو دوسروں کو ہدایت کرنا تو کجا ان کا حال تو یہ ہے کہ بغیر دوسرے کے بتلائے راہ نہیں پاسکتے۔ بتوں کو راہ دکھلانے کے معنی یہ ہیں کہ لوگ ان کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ لے جاتے ہیں اور اگر بت بہت بھاری اور وزنی ہو تو چوپایہ پر باندھ کر اور لاد کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے ہیں مگلب یہ ہے کہ بت ایسے عاجز ہیں کہ جب بھی کوئی ان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ کرے تو خود نقل و حرکت نہیں کرسکتے۔ پس تم کو کیا ہوگیا کیسا برا فیصلہ کرتے ہو۔ فیصلہ سے مراد ان کا یہ اعتقاد کہ بت اللہ کے شریک اور مستحق عبادت ہیں۔ ان آیات قل ھل من شرکاء کم من یھدی الی الحق الخ میں بھی اسی سابق مدعا یعنی ابطال شرک کی ایک دلیل کو بیان کیا گیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دیکھو تمہارے شرکاء کسی کو ہدایت نہیں کرسکتے یعنی دینی اور دنیوی منافع کی کسی کو تعلیم نہیں دے سکتے اور نہ کسی کو مضرت سے بچنے کی تدبیر بتا سکتے ہیں بلکہ یہ وصف اللہ ہی کی ذات میں پایا جاتا ہے پھر تم اسے چھوڑ کر دوسرے کی عبادت کیوں کرتے ہو۔ غرض یہ کہ اس تمام کلام سے مشرکین پر رد کرنا اور ان پر حجت قائم کرنا ہے جس نے ان باتوں کا اقرار کرلیا۔ اس پر الزام ظاہر ہے اور جس نے ازراہ عناد اقرار نہ کیا تو اس پر بالبداہت حجت قائم ہے۔ (دیکھو تفسیر قرطبی صفحہ 335 جلد 8) خاتمہ کلام یہاں تک ابطال شرک پر ایسے دلائل قائم فرمائے کہ جن کے جواب سے مشرکین بھی عاجز تھے۔ اب اخیر میں یہ بتلاتے ہیں کہ تم نے جو عقیدہ بنا رکھا ہے اس پر کوئی دلیل نہیں محض تمہارا گمان اور خیال ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اکثر ان میں سے صرف اٹکل پر چل رہے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ بےدلیل حق کو جھٹلا رہے ہیں اور بےاصل خیالات پر چل رہے ہیں۔ تحقیق بےدلیل گمان اور خیال علم حق اور اعتقاد حق کے مقابلہ میں ذرہ برابر کار آمد نہیں ان کا یہ گمان ہے کہ یہ بت ہماری شفاعت کریں گے انہیں عذاب حق سے نہیں بچا سکے گا۔ تحقیق اللہ کو خوب معلوم ہے کہ جو کچھ یہ کرتے ہیں ان کے جھوٹے دعوے اور بےدلیل اپنے گمان کی پیروی اور ان کی بد کرداریاں خدا سے مخفی نہیں۔
Ayahs 10:37–40

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ خدا کے سوا کوئی اس کو اپنی طرف سے بنا لائے۔ ہاں (یہ خدا کا کلام ہے) جو (کتابیں) اس سے پہلے (کی) ہیں انکی تصدیق کرتا ہے اور انہی کتابوں کی (اس میں) تفصیل ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں (کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور خدا کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا بھی لو۔

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کے علم پر یہ قابو نہیں پاسکے اس کو (نادانی سے) جھٹلا دیا اور ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی ہی نہیں۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی سو دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ اور تمہارا پروردگار شریروں سے خوب واقف ہے۔

بیان اعجاز قرآن برائے اثبات نبوت قال اللہ تعالی۔ وما کان ھذا القرآن ان یفتری من دون اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ وربک اعلم بالمفسدین۔ (ربط): ان آیات میں قرآن کریم کے اعجاز کا بیان ہے۔ اور مشرکین کے ایک شبہ اور تعجب کو رفع کرنا ہے۔ جو ان کو قرآن کے کلام خداوندی اور اس کے من جانب اللہ ہونے پر تھا۔ مشرکین قرآن کو اللہ کا کلام نہیں سمجھتے تھے بلکہ آنحضرت ﷺ کا کلام سمجھتے تھے۔ ان کا اعتقاد یہ تھا کہ یہ قرآن آپ ﷺ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے وہ یہ کہتے تھے کہ ائت بقرآن غیر ھذا او بدلہ۔ حق جل شانہ نے ان آیات میں یہ بتایا کہ یہ قرآن غیر خدا کی بنائی ہوئی کتاب نہیں یہ تو اللہ رب العلمین کی طرف سے نازل ہوئی ہے یہ خدا کا کلام ہے بشر کا کلام نہیں اور یہ کتاب معجزہ ہے اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ یہ کسی بشر کی بنائی ہوئی ہے تو تم بھی اس کے مثل بنا سکتے ہو اس کی مثل بنا کر لاؤ اور دکھلاؤ آپ ﷺ نے اتنا بڑا قرآن بنا لیا تم ایک سورت ہی بنا لاؤ اور علاوہ اعجاز کے یہ کتاب، کتب سابقہ کی مصدق ہے۔ انبیاء سابقین کے واقعات کو صحیح صحیح بیان کرتی ہے اور حلال و حرام کے احکام تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ جہاں عقل بشری کی رسائی نہیں۔ غرض یہ کہ (1) یہ قرآن گزشتہ کتابوں کی تصدیق ہے۔ (2) اور علوم ہدایت کی تفصیل (3) اس کا رب العالمین کی طرف سے ہونا بدیہی ہے۔ جس میں کسی شک اور شبہ کی گنجائش نہیں اور تمہارا یہ دعوی کہ یہ کتاب آپ کی بنائی ہوئی ہے کسی دلیل پر مبنی نہیں بلکہ ضد اور عناد پر مبنی ہے بعد ازاں حق تعالیٰ نے ان آیات میں یہ بتلایا کہ اس قرآن کے سننے کے بعد لوگ دو قسم کے ہوں گے بعض اس پر ایمان لے آئیں گے اور بعض اپنے کفر پر قائم رہیں۔ (ربط دیگر): گزشتہ آیا میں یہ فرمایا تھا فانی تؤفکون۔ تم کہاں بہکے جارہے ہو اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ قرآن تمہاری ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے اس کی طرف آؤ جو تمہیں حق کی طرف ہدایت کرتا ہے اور بتوں کو چھوڑو، کہ جو تمہیں حق کی راہ تو درکنار کوئی راہ بھی نہیں دکھا سکتے۔ بہرحال مقصود اثبات نبوت ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اس قرآن کی پیروی اور اس کا اتباع کسی ظن اور گمان کا اتباع نہیں کیونکہ یہ قرآن جس کا اعجازروز روشن کی طرح نمایاں ہے۔ ایسا نہیں کہ اس کو اللہ کے سوا کوئی بنا سکے یعنی کسی بشر کی مجال نہیں کہ ایسا کلام معرفت التیام بنا سکے۔ لیکن یہ قرآن تصدیق ہے ان آسمانی کتابوں کی جو اس سے پہلے اتری ہیں۔ جس سے اس کا منزل من اللہ ہونا ظاہر ہے اور تفصیل ہے ان احکام الٰہیہ کی جو اللہ نے بندوں پر لکھے ہیں۔ یعنی جن کی تعلیم بندوں پر لازم کی ہے مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب شریعت الٰہیہ کی تفصیل ہے۔ جس میں ذرہ برابر شک نہیں رب العالمین کی طرف سے یہ نازل ہوئی مگر باوجود اس کے کافر اس میں شک کرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے اس کو بنا لیا ہے۔ اے نبی آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اگر بات یہ ہے تو تم بھی اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ جو فصاحت اور بلاغت اور علوم ہدایت میں اس کے مثل ہو اور پکار ومدد کے لیے جس کو تم اللہ کے سوا بلا سکتے ہو۔ اگر تم اپنی بات میں سچے ہو کہ محمد ﷺ نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے اگر تم سچے دل سے یہ عقیدہ رکھتے ہو اور ہٹ دھرمی نہیں کرتے تو تم بھی اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ۔ لیکن کافر ایک سورت بلکہ ایک آیت بھی نہ لاسکے۔ بلکہ حقیقت حال یہ ہے کہ جس چیز کو وہ سمجھے نہیں اس کی تکذیب میں جلدی کر بیٹھے حالانکہ ابھی تک ان کے پاس اس کی حقیقت نہیں آئی یعنی ان کو چاہئے تھا کہ قرآن نے جو خبریں دی ہیں ان کے ظہور کا انتظار کرتے جب وہ خبریں اپنے وقت مقرر ومعین پر واقع ہوتیں تو خود ان کی صداقت ظاہر ہوجاتی مگر انہوں نے ان کے جھٹلانے میں جلدی کی اور اپنے انجام کا انتظار نہ کیا سو جب قرآن کے وعدے وعید پورے ہوں گے اس وقت انہیں اپنی تکذیب کی حقیقت معلوم ہوگی ان لوگوں نے قرآن کی عظمت وشان کو اور اس کی دلیل وبرہان کو سمجھا نہیں اور اس کے علم تک ان کی رسائی نہیں ہوئی۔ قرآن کو سنتے ہی بجائے اس کے کہ اس کے معانی اور علوم کو سمجھیں اس کو جھٹلانے لگے۔ غرض یہ کہ انہوں نے قرآن کے علوم اور دلائل وبراہین میں غور وفکر سے کام نہ لیا اور بےسوچے سمجھے جلدی سے اس کو جھٹلا دیا۔ اسی طرح بےسوچے سمجھے ان لوگوں نے اپنے نبیوں کو جھٹلایا جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں۔ پس دیکھ لو ان ظالموں اور تکذیب کرنے والوں کا انجام کیا ہوا۔ پس تم کو چاہیے کہ ان کے انجام سے عبرت پکڑو۔ اور جب زمانہ آئندہ میں قرآن کی تاویل اپنے وقت مقرہ پر آوے گی۔ اور اس کی خبر کا مصداق ہوگا تو اس وقت ان مکذبین میں سے بعض تو ایمان لے آئیں گے اور بعض پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے بلکہ اپنے کفر پر مصر رہیں گے اور کفر پر ہی ان کا خاتمہ ہوگا۔ اور تیرا پروردگار ان مفسدین کے فتنہ و فساد اور شرارت اور عناد سے خوب واقف ہے۔ ان کو ان کے فعلِ بد کی سزا دے گا۔ فائدہ : ومنھم من یؤمن بہ ومنھم من لا یؤمن بہ کے بارے میں مفسرین کے دو قول ہیں ایک یہ کہ یہ مضارع بمعنی حال ہے یا بمعنی استقبال ہے ہم نے جو تفسیر کی وہ معنی استقبال لے کر کی اور اگر مضارع بمعنی حال لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ اہل مکہ میں سے فی الحال بعض تو ایسے ہیں کہ جو دل سے اس قرآن کی تصدیق کرتے ہیں اور دل سے جانتے ہیں کہ یہ قرآن حق ہے مگر عداوت کی وجہ سے تصدیق ظاہر نہیں کرتے اور بعض وہ ہیں کہ جو اس کی تصدیق نہیں کرتے کیونکہ انہوں نے اپنی جہالت سے اس میں غور نہیں کیا۔ اور تیرا پروردگار ان معاندین کو خوب جانتا ہے جو تکذیب پر اڑے ہوئے ہیں۔
Ayahs 10:41–44

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو کہ مجھ کو میرے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) تم میرے عملوں کے جوابدہ نہیں ہو اور میں تمہارے عملوں کا جوابدہ نہیں ہوں۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں۔ تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگرچہ کچھ بھی (سُنتے) سمجھتے نہ ہوں۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف دیکھتے ہیں۔ تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے اگرچہ کچھ بھی دیکھتے (بھالتے) نہ ہوں ؟

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

خدا تو لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔

تسلیۂ نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم و حکم اعراض از معاندین ومجادلین قال اللہ تعالی۔ وان کذبوک فقل لی عملی ولکم عملکم۔۔۔ الی۔۔۔ انفسہم یظلمون (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی تکذیب کا ذکر تھا جس کا مناظرانہ جواب دیا جاتا ہے کما قال اللہ تعالیٰ واعرض عن الجھلین۔ اور آنحضر ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کیونکہ جب طبیب مشفق کسی بیمار کو دیکھتا ہے کہ وہ قابل علاج نہیں رہا تو اس سے نامید ہوجاتا ہے اور اس ناامیدی اور اعراض سے اس طبیب مشفق کو راحت ملتی ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اگر حجت قائم ہوجانے کے بعد بھی یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں یعنی اپنی تکذیب پر اڑے رہے اور آپ ان کے قبول سے ناامید ہوجائیں تو آخری بات آپ ﷺ ان سے یہ کہہ دیجئے کہ میری قدرت میں جس قدر سمجھانا تھا وہ سمجھا چکا اب بھی اگر تم نہیں مانتے و نہ مانو میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے۔ تم میرے عمل سے بری الذمہ اور میں تمہارے عمل سے بری الذمہ ہوں۔ اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو بظاہر تیری طرف کان لگاتے ہیں اور توجہ سے آپ کی باتوں کو سنتے ہیں لیکن چونکہ ان کے سینوں میں آپ ﷺ کی عداوت بھری ہوئی ہے اس لیے ان کا سننا اور نہ سننا برابر ہے گویا کہ یہ لوگ در حقیقت بہرے ہیں پس بھلا کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں یعنی آپ ﷺ اس پر قادر نہیں اگرچہ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوں۔ یعنی بہرے پن کے ساتھ بےعقلی بھی مل گئی ہے اگر سمجھ ہو تو بہرا بھی اٹکل سے کچھ سمجھ لیتا ہے پس جب کہ سماعت اور عقل دونوں ہی گم ہوں تو ظاہر ہے کہ بےعقل بہرا کیسے سمجھے گا۔ اور اسی طرح بعض ان میں ایسے ہیں کہ جو بظاہر آپ کی طرف یعنی آپ کے شمائل و فضائل اور معجزات اور کمالات کو نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں اپنی ظاہر کی آنکھوں سے آپ ﷺ کی طرف دیکھتے ہیں۔ ظاہر میں آنکھیں ہیں مگر دل کے اندھے ہیں بصارت موجود ہے اور بصیرت مفقود ہے اس لیے باوجود بینا ہونے کے مثل اندھوں کے ہیں تو کیا آپ اندھوں کو راہ دکھا سکتے ہیں اگرچہ ان میں بصیرت نہ ہو۔ یعنی یہ لوگ درحقیقت بصارت اور بصیرت دونوں ہی سے محروم ہیں۔ ہاں اگر اندھا صاحب بصیرت ہو تو چشم دل سے کچھ سمجھ سکتا ہے۔ مگر جب اندھا بھی ہو اور احمق بھی تو اس کو کسی طرح راہ دکھائی جاسکتی ہے۔ مقصود یہ ہے کہ اے نبی ! ان کی ہدایت سے ناامید ہوجائیے اور ان کی گمراہی پر تاسف نہ فرمائیے۔ یہ کمبخت اب اس قابل ہی نہیں رہے کہ آپ ﷺ کی ہدایت ان پر کچھ اثر کرے۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ لیکن لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آنکھ بھی دی اور دل بھی دیا اور قبول حق کی صلاحیت اور قابلیت بھی دی۔ لیکن انہوں نے اس کو ضائع کردیا۔