Hud 11:92

Hud · from ayah 92

11:92

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ ؕ— وَاتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا ؕ— اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ ۟قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِىۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ ؕ وَ اتَّخَذۡتُمُوۡهُ وَرَآءَكُمۡ ظِهۡرِيًّا‌ ؕ اِنَّ رَبِّىۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ

انہوں نے کہا کہ قوم! کیا میرے بھائی بندوں کا دباؤ تم پر خدا سے زیادہ ہے۔ اور اس کو تم نے پیٹھ پیچھے ڈال رکھا ہے۔ میرا پروردگار تو تمہارے سب اعمال پر احاطہ کیے ہوئے ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "O my people, is my family more respected for power by you than Allah? But you put Him behind your backs [in neglect]. Indeed, my Lord is encompassing of what you do.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 8 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:92

شعیبؑ نے کہا "بھائیو، کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ تم نے (برادری کا تو خوف کیا اور) اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا؟ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا کہ قوم! کیا میرے بھائی بندوں کا دباؤ تم پر خدا سے زیادہ ہے۔ اور اس کو تم نے پیٹھ پیچھے ڈال رکھا ہے۔ میرا پروردگار تو تمہارے سب اعمال پر احاطہ کیے ہوئے ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے جواب دیا کہ اے میری قوم کے لوگو! کیا تمہارے نزدیک میرے قبیلے کے لوگ اللہ سے بھی زیاده ذی عزت ہیں کہ تم نے اسے پس پشت ڈال دیا ہے یقیناً میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو سب کو گھیرے ہوئے ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

شعیب نے کہا : اے میری قوم ! کیا تم پر میرے خاندان کا دباؤ اللہ سے زیادہ ہے ؟ اور اس کو تم نے بالکل ہی پس پشت ڈال رکھا ہے۔ یقین جانو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو، میرا پروردگار اس سب کا پورا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا اے میری قوم کیا تم پر میرے کنبہ کا دباؤ اللہ سے زیادہ ہے اور اسے تم نے اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال رکھا بیشک جو کچھ تم کرتے ہو سب میرے رب کے بس میں ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

شعیب ؑ نے کہا: اے میری قوم! کیا میرا کنبہ تمہارے نزدیک اﷲ سے زیادہ معزز ہے، اور تم نے اسے (یعنی اللہ تعالیٰ کو گویا) اپنے پس پشت ڈال رکھا ہے۔ بیشک میرا رب تمہارے (سب) کاموں کو احاطہ میں لئے ہوئے ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا اے میری قوم ! کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ غالب ہے اور اسے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے پھینکا ہوا بنا رکھا ہے، بیشک میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو، اس کا احاطہ کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

شعیب نے کہا : اے قوم ! کیا تم پر میری برادری کا دباؤ اللہ سے زیادہ ہے جسے تم نے بالکل پس پشت ڈال دیا ہے۔ یہ جو کچھ تم کر رہے ہو میرا پروردگار یقینا اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا اے میری قوم، کیا میرا خاندان تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے اور اس کو تو تم نے پس پشت ڈال رکھا ہے۔ میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو سب کا احاطہ کیے ہوئے ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

شعیب نے فرمایا اے میری قوم ! کیا میرا خاندان تم لوگوں پر اللہ سے بھی زیادہ بھاری ہے ؟ (کہ اس کا تو تمہیں خوف ہے مگر میرے) اللہ کو تم نے بالکل پس پشت ڈال دیا ہے ؟ یقین رکھو کہ میرا رب ان سب کاموں کو پوری طرح قابو میں رکھے ہوئے ہے جو تم لوگ کر رہے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

شعیب ؑ نے کہا اے میری قوم کیا میرے کنبہ کا حق تم پر اللہ سے غالب تر ہے ؟ درآنحالیکہ اسی کو تم نے پس پشت ڈال دیا ہے بیشک میرا پروردگار احاطہ میں اس سب کو لئے ہوئے ہے جو تم کررہے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ نے فرمایا : اے میری قوم کے لوگو ! کیا میرا خاندان تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے اور اس (اللہ) کو تو تم نے اپنی پیٹھوں کے پیچھے ڈال رکھا ہے یقیناً میرا رب تو اس سب کا احاطہ کیے ہوئے ہے جو کچھ تم کر رہے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے کہا کہ قوم ! کیا میرے بھائی بندوں کا دبائو تم پر اللہ سے زیادہ ہے ؟ اور اس کو تم نے پیٹھ پیچھے ڈال رکھا ہے۔ میرا رب تو تمہارے سب اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Shu'ayb said: 'My people! Are my kinsmen mightier with you than Allah that you (hold the kinsmen in awe while) you cast Allah behind your back? Surely my Lord encompasses all what you do.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :O my people, is my clan more respectable to you than Allah, as you have taken Him as something thrown behind your backs? Surely, my Lord encompasses all that you do.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :O my people, is my clan more respectable to you than Allah, as you have taken Him as something thrown behind your backs? Surely, my Lord encompasses all that you do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "O my people! Is then my family of more weight with you than Allah And you have cast Him away behind your backs. Verily, my Lord is surrounding all that you do."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: O my people! Is my family more to be honoured by you than Allah? and ye put Him behind you, neglected! Lo! my Lord surroundeth what ye do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "O my people, is my family more respected for power by you than Allah? But you put Him behind your backs [in neglect]. Indeed, my Lord is encompassing of what you do.

— Saheeh International

He asked them, "My people, is my tribe more respectable to you than God whom you have completely ignored? My Lord certainly has full control over your deeds.

— Muhammad Sarwar

He said: O my people! is my family more esteemed by you than Allah? And you neglect Him as a thing cast behind your back; surely my Lord encompasses what you do:

— Muhammad Habib Shakir

He said: O my people! is my company mightier with you than Allah? Him ye have cast behind your backs neglected; verily my Lord is of that which ye work Encompasser.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "O my people! is then my family of more consideration with you than Allah? For ye cast Him away behind your backs (with contempt). But verily my Lord encompasseth on all sides all that ye do!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:92

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 91–92

قوم مدین کا جواب اور اللہ کا عتاب قوم مدین کے کہا کہ اے شعیب آپ کی اکثر باتیں ہماری سمجھ میں تو آتی نہیں۔ اور خود آپ بھی ہم میں بےانتہا کمزور ہیں۔ سعید وغیرہ کا قول ہے کہ آپ کی نگاہ کم تھی۔ مگر آپ بہت ہی صاف گو تھے، یہاں تک کہ آپ کو خطیب الانبیاء کا لقب حاصل تھا۔ سدی کہتے ہیں اس وجہ سے کمزور کہا گیا ہے کہ آپ اکیلے تھے۔ مراد اس سے آپ کی حقارت تھی۔ اس لیے کہ آپ کے کنبے والے بھی آپ کے دین پر نہ تھے۔ کہتے ہیں کہ اگر تیری برادری کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم تو پتھر مار مار کر تیرا قصہ ہی ختم کردیتے۔ یا یہ کہ تجھے دل کھول کر برا کہتے۔ ہم میں تیری کوئی قدر و منزلت، رفعت وعزت نہیں۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 91–97

سورة هُوْد 102 یہ سمجھ میں نہ آنا کچھ اس بنا پر نہ تھا کہ حضر شعیبؑ کسی غیر زبان میں کلام کرتے تھے، یا ان کی باتیں بہت مُغلق اور پیچیدہ ہوتی تھیں۔ باتیں تو سب صاف اور سیدھی ہی تھیں اور اُسی زبان میں کی جاتی تھیں جو یہ لوگ بولتے تھے، لیکن ان کے ذہن کا سانچا اس قدر ٹیڑھا ہو چاک تھا کہ حضرت شعیبؑ کی سیدھی باتیں کسی طرح اس میں نہ اُتر سکتی تھیں۔ قاعدے کی بات ہے کہ جو لوگ تعصبات اور خواہش نفس کی بندگی میں شدت کے ساتھ مبتلا ہوتے ہیں اور کسی خاص طرزِ خیال پر جامد ہو چکے ہوتے ہیں، وہ اوّل تو کوئی ایسی بات سن ہی نہیں سکتے جو ان کے خیالات سے مختلف ہو، اور اگر سُن بھی لیں تو ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 89–95

اس پند و نصیحت کے بعد پھر ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا، (آیت) وَيٰقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِيْٓ اَنْ يُّصِيْبَكُمْ مِّثْلُ مَآ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ ۭ وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ ، یعنی تم سوچو سمجھو، ایسا نہ ہو کہ میری مخالفت اور عداوت تم پر کوئی ایسا عذاب لا ڈالے جیسا تم سے پہلے قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح (علیہم السلام) پر آچکا ہے، او لوط ؑ کی قوم اور ان کا عبرتناک عذاب تو تم سے کچھ دور بھی نہیں، یعنی مقامی اعتبار سے بھی قوم لوط کی الٹی ہوئی بستیاں مدین کے قریب ہی ہیں اور زمانہ کے اعتبار سے بھی تم سے بہت قریب زمانہ میں ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَهْطِيْٓ اَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَاتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَاۗءَكُمْ ظِهْرِيًّا ۭ اِنَّ رَبِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ۔ حضرت شعیب کا توکل علی اللہ : حضرت شعیب نے اس دھمکی کے جواب میں فرمایا کہ اے میرے ہم قومو، کیا میرے کنبہ و قبیلہ کا خوف ولحاظ تمہیں اللہ سے زیادہ ہے کہ تم کنبہ و قبیلہ کو تو اہمیت دیتے ہو جب کہ خدا کو تم نے پس پشت ڈال رکھا ہے ان ربی بما تعملون محیط، یاد رکھو میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو یا کرنے والے ہو سب کا احاطہ کیے ہئے ہے۔ مجال نہیں ہے کہ تم کوئی قدم اس کے اذن کے بغیر اٹھا سکو۔ مطلب یہ کہ میرا بھروسہ میرے رب پر ہے، تم جو کرنا چاہتے ہو کرو۔ "…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

92۔ 1 کہ تم مجھے تو میرے قبیلے کی وجہ سے نظر انداز کر رہے ہو۔ لیکن جس اللہ نے مجھے منصب نبوت سے نوازا ہے اس کی کوئی عظمت نہیں اور اس منصب کا کوئی احترام تمہارے دلوں میں نہیں ہے اور اسے تم نے پس پشت ڈال دیا ہے۔ یہاں حضرت شعیب ؑ نے اعز علیکم منی (مجھ سے زیادہ ذی عزت) کی بجائے اعز علیکم من اللہ اللہ سے زیادہ ذی عزت کہا جس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ نبی کی توہین یہ دراصل اللہ کی توہین ہے۔ اس لیے کہ نبی اللہ کا مبعوث ہوتا ہے۔ اور اسی اعتبار سے اب علمائے حق کی توہین اور ان کو حقیر سمجھنا یہ اللہ کے دین کی توہین اور اس کا استخفاف ہے، اس لیے کہ وہ اللہ کے دین کے نمائندے ہیں۔ واتخذتموہ میں ھا کا مرجع…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 88–92

56: اس رزق سے مراد کھانے پینے وغیرہ کا سامان بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدھے سیدھے طریقے سے مجھے رزق عطا فرمایا ہے تو میں اس کے حصول کے لیے وہ غلط طریقے کیوں اختیار کروں جو تم کرتے ہو ؟ اور رزق سے یہاں مراد نبوت بھی ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ (92 : 11) “ شعیب (علیہ السلام) نے کہا “ بھائیو ، کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے۔ ” میری برادری تو انسانوں کا فقط ایک مجموعہ ہے۔ جس قدر بھی وہ قوی ہوں بہرحال وہ انسان ہی تو ہیں ، ضعیف مخلوق ہی تو ہیں۔ اللہ کے تو بہرحال وہ بندے اور غلام ہیں ، کیا چند لوگوں سے تم ڈرتے ہو اور اللہ سے نہیں ڈرتے ہو ، کس قدر بودی سوچ ہے تمہاری۔ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا (92 : 11) “ اور اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا۔ ” کسی کو چھوڑ دیتے اور کسی سے منہ پھیر دینے کا یہ نہایت ہی مخصوص انداز بیان ہے ، واضع تصویر کے انداز میں۔ چونکہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی افسوس اور تعجب ہے کہ خاندان کی وجہ سے میری رعایت کرتے ہو اس وجہ سے نہیں کرتے کہ میں خدا کا بھیجا ہوا ہوں اور صاف وصریح نشانات اپنی سچائی کے دکھلا رہا ہوں گویا تمہاری نگاہ میں میرے خاندان کی عزت اور اس کا دباؤ خدا وند قدوس سے زیادہ ہے۔ خدا کی عظمت و جلال کو ایسا بھلا دیا کہ کبھی تمہیں تصور بھی نہیں آتا۔ جو قوم خدا تعالیٰ کو بھلا کر (معاذاللہ) پس پشت ڈال دے اسے یاد رکھنا چاہیے۔ کہ اس کے تمامی افعال و اعمال خدا تعالیٰ کے علم وقدرت کے احاطہ میں ہیں۔ تم کوئی کام کرو اور کسی حالت میں ہو، ایک آن کے لیے بھی اس کے قابو سے باہر نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 92 قَالَ يٰقَوْمِ اَرَهْطِيْٓ اَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ حقیقت میں میرا پشت پناہ تو اللہ ہے۔ تم اللہ سے نہیں ڈرتے لیکن میرے خاندان سے ڈرتے ہو۔ کیا تمہارے نزدیک میرا خاندان اللہ سے زیادہ طاقتور ہے ؟ وَاتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَاۗءَكُمْ ظِهْرِيًّا یعنی اللہ کو تو تم لوگوں نے بالکل ہی بھلا چھوڑا ہے پس پشت ڈال دیا ہے۔ یہ انسانی نفسیات کا ایک اہم پہلو ہے۔ اگرچہ آج ہم بھی اللہ کو اپنا خالق مالک اور معبود ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ساتھ ہی دنیا اور اس کے جھمیلوں میں اس قدر مگن رہتے ہیں کہ اللہ کا تصور مستحضر نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کاروبار دنیا میں حقیقی مسبب الاسباب کو بھلا کر اسباب و…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 92–93

105 گویا تم میری برادری کے دباؤ کے تحت میرا لحاظ کر رہے ہو جو ابھی تک مجھے سنگسار نہیں کیا حالانکہ حقیقت میں اصل دباؤ تو اس اللہ کا سمجھنا چاہیے جس کے قبضہ قدرت میں کائنات کی ایک ایک چیز ہے اور تم خود بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہو جس کا تمہیں کبھی بھولے سے بھی خیال نہیں آتا۔ اور اگر تمہیں میری باتیں اتنی ہی ناگوار معلوم ہوتی ہیں تو جو کچھ کر رہے ہو کیے جاؤ بہرحال میں تو اپنا کام جاری رکھوں گا۔ تاآنکہ اللہ تعالیٰ خود ہی کوئی فیصلہ کی ایسی صورت پیدا کردے جس سے ہر ایک کو معلوم ہوجائے کہ ہم میں راہ راست پر کون تھا اور غلط کار کون ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

136۔ اور تمہارا چھوٹا بڑا ایک ایک عمل اس کے علم میں ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کی غیرت اور شعور دینی کو بیدار کررہے ہیں کہ خدا کی عظمت و جلال کی بس اچھی قدر تم نے کی کہ قبیلہ اور کنبہ تک کی رعایت کرتے ہو لیکن ایک نہیں خیال کرتے تو بس خدائے تعالیٰ کے حقوق کا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 84–95

آیت نمبر 84 تا 95 ترجمہ : اور ہم نے اہل مدین کی جانب ان کے بھائی شعیب کو بھیجا انہوں نے کہا میرے برادران قوم اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کو ایک سمجھو، اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں، اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو، میں تم کو خوش حالی میں دیکھ رہا ہوں جس کی وجہ سے تم کو تولنے اور کم ناپنے سے مستغنی ہو، اگر تم ایمان نہ لائے تو مجھے تمہارے بارے میں تم کو گھیرنے والے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جو تم کو ہلاک کر دے گا، اور یوم کی صفت محیط مجاز ہے عذاب کے اس میں واقع ہونے کی وجہ سے، اور اے میرے برادران قوم تم انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ پہنچاؤ، (یعنی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال یقوم ارھطی اعز علیکم من اللہ واتخذتموہ ورآء کم ظھریا حضرت شعیب نے کہا : اے میری قوم : کیا میرا خاندان تمہارے نزدیک اللہ سے بھی زیادہ عزت والا ہے اور تم نے اس کو پس پشت ڈال دیا ہے ؟ یعنی میرے خاندان کی رعایت سے تم نے مجھے قتل نہیں کیا اور اللہ کی طرف سے جو مجھے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے ‘ اس خداداد رسالت کا تم نے کوئی لحاظ نہیں کیا اور اللہ کو بالکل فراموش کردیا۔ نہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے تم کو کوئی اندیشہ ہوا ‘ نہ اس کے رسول کی توہین کرنے سے کوئی باک۔ اَرَھْطِی میں ہمزہ استفہام انکاری کی بھی ہوسکتی ہے اور زجر و تہدید کی بھی۔ ظِہریَّا، ظَھر (پشت) سے بنایا گیا ہے۔ یائے نسبت کی وجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(92) حضرت شعیب ؑ نے فرمایا کیا میرا خاندان نعوذ باللہ تمہارے نزدیک اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی کتاب سے بھی زیادہ صاحب توقیر ہے یا یہ کہ کیا میرے خاندان کی سزا تمہارے نزدیک اللہ کی سزا سے زیادہ بڑی ہے۔ اور میں تمہارے پاس جو کتاب لے کر آیا ہوں اسے تم نے بھلا دیا ہے میرا پروردگار تمہارے اعمال کی سزا سے اچھی طرح واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَهْطِيْٓ اَعَزُّ عَلَيْكُمْ۔۔ :”ظِهْرِيًّا“ ”ظَھْرٌ“ کی طرف منسوب ہے، نسبت کی وجہ سے ظاء پر کسرہ آگیا ہے۔ یہاں سے شعیب ؑ کا لہجہ کچھ سختی میں بدل جاتا ہے، فرماتے ہیں، کیا میری برادری تمہارے نزدیک اللہ سے بھی زیادہ معزز اور قوی ہے، جس نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ اس ہر شے کے مالک کو تو تم نے ایسے سمجھ رکھا ہے جیسے کوئی بےوقعت چیز پیٹھ پیچھے پھینک دی گئی ہوتی ہے۔ مقصد یہ کہ اللہ کے بھیجے ہوئے کی پروا نہ کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کی بےوقعتی اور بےقدری کرنا ہے۔ اِنَّ رَبِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ : وہ تمہارے تمام اعمال (جن میں ان کے اقوال، ارادے، سازشیں اور وہ سب کچھ شامل…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 84–95

آیت نمبر 84 تا 95 اللہ تعالیٰ کا ارشاد والیٰ مدین اخاھم شعیبا یعنی وارسلناإلی مدینہم نے مدین کی طرف بھیجا، مدین حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ ان کی وجہ تسمیہ کے متعلق دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ وہ مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ مدین کہا گیا ہے جب کہ مراد بنو مدین ہیں۔ جس طرح مضر کہا جاتا ہے اور مراد بنومضر ہوتے ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ان کے شہر کا نام ہے اس لیے اس کی طرف ان کو منسوب کردیا گیا۔ نحاس نے کہا : مدین غیر منصرف ہئ، کیونکہ یہ شہر کا نام ہے، سورة اعراف میں یہ معنی گزرچکا ہے اور کچھ اس سے زیادہ بھی۔ قال یٰقوم اعبدوا اللہ مالکم من الٰہٍ غیرہ (اس کی تفسیر) گزر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 89–97

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقوم لا یجرمنکم شقاقی “ یعنی تم کو نہ آمادہ کرے میری جدائی۔ 2:۔ ابن منذر (رح) نے مجاہد رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” شقاقی “ سے مراد ہے میری دشمنی۔ 3:۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر (رح) نے جوہر کے راستہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اے میری قوم ! یاد کروتم قوم نوح کو قوم عاد کو اور قوم ثمود کو (آیت) ” وما قوم لوط منکم ببعید “ اور لوط کی قوم ان سے زیادہ قریب تھی شعیب تک اور ان کا ہلاکت کا زمانہ ان سے زیادہ قریب تھا۔ (آیت) ” واستغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ ان ربی رحیم “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] اَ : کیا ] [رَهْطِيْٓ : میرا قبیلہ ] [ اَعَزُّ : زیادہ سخت ہے ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے ] [وَاتَّخَذْتموْهُ : اور تم نے بنایا اس کو (یعنی اللہ کوٌ] [وَرَاۗءَكُمْ : اپنے پیچھے ] [ظِهْرِيًّا : پیٹھ پیچھے ڈالا ہوا (یعنی بھلایا ہوا)] [ ان : بیشک ] [رَبِيْ : میرا رب ] [بِمَا : اس کا جو ] [ تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو ] [ مُحِيْطٌ: احاطہ کرنے والا ہے ] رھـ ط [رَھْطًا : (ف) بڑا لقمہ لینا۔ بہت کھانا۔] [اِرْتِھَاطًا : (افتعال) قوم کا جمع ہونا۔ اکٹھا ہونا۔] [رَھْطٌ: افراد کا گروہ۔ جتھ۔ برادری۔ زیر مطالعہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 91–95

اہل مدین کا بری طرح جواب دینا اور ہلاک ہونا حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت برابر جاری رہی ‘ قوم کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ لوگ اپنے کفر و شرک پر جمے رہے انہوں نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو جو جواب دئیے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ یہ بات انہوں نے استہزاءً یا تحقیراً کہی جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہاری باتیں سمجھنے کے قابل نہیں ہیں۔ اور ممکن ہے کہ بعض باتیں نہ سمجھتے ہوں کیونکہ توجہ کے ساتھ سنتے ہی نہ تھے۔ اپنی اس بےہودہ بات کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تم ہماری جماعت کے سامنے کمزور آدمی ہو لیکن تمہارے خاندان کے لوگ جو ہمارے ہم مذہب ہیں ان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 84–95

قصہ شعیب (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ والی مدین اخاھم شعیبا .... الیٰ .... الا بعدا لمدین کما بعدت ثمود۔ (ربط) یہ چھٹا قصہ شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو خطیب الانبیاء کے لقب سے معروف ہیں اور مدین کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ لوگ بڑے سرمایہ دار تھے انکا مذہب یہ تھا کہ ہم اپنے مالوں کے تصرف میں آزاد اور مختار ہیں ( جیسا کہ آج کل کے سرمایہ دار کہتے ہیں) جس طرح چاہیں ان میں تصرف کریں حضرت شعیب (علیہ السلام) یہ فرماتے تھے کہ یہ اموال اگرچہ تمہارے مملوک ہیں مگر تمہاری ملکیت مالک حقیقی کی ملکیت اور اس کے حکم کے ماتحت ہے۔ امانت اور دیانت کے ساتھ اور صحیح کمیل اور وزن کے ساتھ تم اس میں تصرف کرسکتے ہو یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 92–93

80:۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم کے جواب میں فرمایا میری قوم ! یہ کس قدر نادانی کی بات ہے کہ میرا قبیلہ تمہارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ معزز و محترم ہے۔ تم میرے قبیلے کا لحاظ کرتے ہو مگر اللہ تعالیٰ کا لحاظ نہیں کرتے ہو جس کا میں پیغمبر ہوں اور تم نے اللہ کے احکام کو کمال بےاعتنائی سے پس پشت ڈال دیا ہے۔ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ: مگر یاد رکھو تمہارا کوئی فعل اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں اس لیے وہ تمہیں ہر ہر فعل کی پوری پوری سزا دے گا۔ وَیٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلیٰ مَکَانَتِکُمْ : اچھا تم اپنے موقف پر قائم رہ کر اس کا نتیجہ دیکھ لو میں بھی اپنے موقف پر قائم رہ کر اس کا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 91–95

ربط آیات گزشتہ آیات میں شعیب (علیہ السلام) نے قوم کی طرف سے کئے گئے بیہودہ اعتراض کا جواب دیا تھا۔ انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی نماز کو طعن کی بنیاد بنایا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم تمہارے کہنے سے اپنے آبائو اجدا کے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے اور نہ ہی اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے تصرف سے باز آسکتے ہیں۔ شعیب (علیہ السلام) نے اچھے طریقے سے سمجھایا کہ دیکھو ! کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت اور پاکیزہ روزی عطا فرمائی ہے۔ میں جو بات تم سے کہتا ہوں ، اس پر خود بھی عمل کرتا ہوں یعنی میرے قول و فعل میں تضاد نہیں ہے ، میں حسب استطاعت اصلاح کی کوشش کر رہا ہوں اور میرا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَہْطِيْٓ اَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِّنَ اللہِ۝ 0 ۭ وَاتَّخَذْتُمُوْہُ وَرَاۗءَكُمْ ظِہْرِيًّا۝ 0ۭ اِنَّ رَبِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ۝ 92 عز العِزَّةُ : حالةٌ مانعة للإنسان من أن يغلب . من قولهم : أرضٌ عَزَازٌ. أي : صُلْبةٌ. قال تعالی: أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً [ النساء/ 139] ( ع ز ز ) العزۃ اس حالت کو کہتے ہیں جو انسان کو مغلوب ہونے سے محفوظ رکھے یہ ارض عزاز سے ماخوذ ہے جس کے معنی سخت زمین کے ہیں۔ قرآن میں ہے : ۔ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً [ النساء/ 139] کیا یہ ان کے ہاں عزت حاصل کرنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 84–93

تفسیر : اس کے بعد پانچواں واقعہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بیان فرماتا ہے جو اہل مدین کی طرف رسول بنا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں بھیجے گئے تھے۔ اس قوم کی عادت بت پرستی اور بدکاری کے علاوہ کم تولنا ‘ خیانت ‘ دغابازی کرنے کی بھی تھی جس کو وہ اپنے مال میں تصرف جائز سمجھ کر طعن کی راہ سے کہتے تھے کہ ایک آپ ہی تو بڑے اچھے شخص ہیں اور ان کی نماز پر طعن کرکے کہتے تھے کہ کیا آپ کی نماز ہم کو بت پرستی سے منع کرتی ہے ؟ باقی قصہ صاف ہے۔ یہ مدین وہی جگہ ہے کہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے بھاگ کر آئے تھے اور یہ وہی شعیب (علیہ السلام) ہیں کہ جن کی ایک صاحبزادی سے آپ کی شادی ہوئی تھی۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ یٰـقَوْمِ اَرَھْطِیْ ٓ اَعَزُّ عَلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ ط وَاتَّخَذْتُمُوْہُ وَرَآئَ کُمْ ظِھْرٍیًّا ط اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۔ (سورۃ ہود : 92) (حضرت شعیب نے فرمایا : اے میری قوم ! کیا میرا کنبہ زیادہ بھاری ہے تم پر اللہ تعالیٰ سے، اور اس کو تو تم نے پس پشت ڈال رکھا ہے۔ میرا رب جو کچھ تم کررہے ہو سب کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ) نبی کا سہارا خاندان نہیں، خدا ہے سابقہ آیت کریمہ میں جو کچھ قوم نے حضرت شعیب سے کہا وہ انتہائی ناگوار اور ناقابل برداشت تھا۔ لیکن حضرت شعیب نے نہ جانے اسے کس طرح برداشت کیا اور نہایت ٹھنڈے انداز میں اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم تم یہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 91–92

فہم القرآن ربط کلام : قوم اور حضرت شعیب کے آپس میں سوال و جواب۔ توبہ استغفار کرنے کی بجائے قوم کے نمائندے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہنے لگے۔ اے شعیب تیری اکثر باتیں ہماری سمجھ سے بالا تر ہیں۔ آپ ہر روز ہمیں روکتے ٹوکتے ہیں۔ ہم آپ سے نمٹ لیتے اگر آپ کی برادری مضبوط نہ ہوتی ورنہ تیری تو ہم میں کوئی حیثیت نہیں۔ ہم تجھے اپنے میں نہایت کمزور سمجھتے ہیں۔ تو کسی طرح بھی ہم پر غالب نہیں آسکتا۔ حضرت نے اپنی قوم کو جواب دیتے ہوئے فرمایا۔ کیا تمہارے لیے میری برادری اللہ سے زیادہ طاقتور ہے ؟ جس اللہ کو تم نے میری برادری کے مقابلے میں پس پشت ڈال رکھا ہے۔ اگر تم باز نہیں آئے تو تم اپنا کام کرو اور مجھے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

92: قَالَ یٰـقَوْمِ اَرَھْطِیْ اَعَزُّ عَلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ (اے میری قوم کیا میرا خاندان وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تمہارے ہاں زیادہ عزت والا ہے) اگر ماعززت علینا کہا جاتا تو یہ جواب صحیح نہ بنتا۔ بلکہ اس طرح فرمایا ارھطی اعزعلیکم من اللہ اور کلام ان کے اور خاندان کے متعلق کیا جارہا ہے۔ کہ وہ خاندان ان کے ہاں معزز ہے نہ کہ شعیب، ان کا شعیب (علیہ السلام) کی توہین کرنا حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی توہین تھی اور جب ان کے ہاں ان کا خاندان زیادہ عزت والا تھا نہ کہ شعیب تو گویا انکا گروہ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزت والا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

92” قال یا قوم ارھطی اعز علیکم من اللہ “ کیا میرے قبیلے کا مرتبہ زیادہ بارعب ہے تمہارے نزدیک اللہ سے۔ یعنی اگر تم میرا قتل میرے قبیلے کی وجہ سے چھوڑ رہے ہیں تو اللہ کی وجہ سے زیادہ مناسب تھا کہ تم میری حفاظت کرتے ۔ ” واتخذتموہ وراء کم ظھریا “ تم نے اللہ کے حکم کو پس پشت ڈال دیا اور اس کو چھوڑ دیا ۔ ” ان ربی بما تعملون محیط “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 91–92

91۔ 92۔ جب شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کو سمجھاتے ہی گئے تو ان کی قوم کے لوگوں نے کہا کہ شعیب (علیہ السلام) تم جس قدر ہم لوگوں کو سمجھاتے ہو ہماری سمجھ میں ایک نہیں آتا اور تم ہم لوگوں سے بہت کمزور ہو ہمیں تمہارے بھائی بندوں کا خیال ہے نہیں تو مارے پتھروں کے تم کو سنگ سار کردیتے تم ان باتوں سے اب ہم کو اچھے نہیں لگتے بعضے مفسروں نے بیان کیا ہے کہ ضعیف کے معنے یہاں نابینا کے ہیں کیوں کہ شعیب (علیہ السلام) خدا کی محبت میں اتنا روئے تھے کہ ان کی آنکھیں جاتی رہی تھیں پھر شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ تمہیں میرے بھائی بندوں کا خیال ہے وہ کیا خدا سے بھی زیادہ تمہیں عزیز ہیں ان کی عزت کا خیال کر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو نرم کرنے کے لئے کہا : (آیت) ” اے میری قوم ! کیا میرا قبیلہ تمہارے ہاں اللہ سے زیادہ عزیز ہے ؟ “ یعنی تم میرے قبیلے کی خاطر کیسے میری رعایت کر رہے ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاطر میری کوئی رعایت نہیں کر رہے۔ گویا میرا قبیلہ تمہارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے۔ (آیت) ” اور اس کو ڈال دیا ہے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے بھلا کر “ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تم نے کوئی پروا نہ کی اللہ تعالیٰ کا خوف محسوس کیا۔ (آیت) ” بیشک میرا رب تمہارے عملوں کو گھیرنے والا ہے “ یعنی تمہارے اعمال زمین میں نہ آسمان میں ذرہ بھر بھی چھپے ہوئے نہیں، پس وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 87–112

حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

187 ۔ ڈرنے کا اصل حق صرف اللہ ہی سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ شعیب نے ان لوگوں سے کہا کہ کیا میرا خاندان تم پر اللہ سے بھی زیادہ بھاری ہے ؟ کہ اس کا تو تمہیں خوف اور ڈر ہے مگر میرے اللہ کو تم لوگوں نے پس پشت ڈال دیا ؟ سو اس سے آنجناب نے واضح فرما دیا کہ اللہ ہی اس کا حقدار ہے کہ اس کے بندے اس سے ڈریں اللہ کی کروڑوں رحمتیں اور برکتیں ہوں حضرت شعیب (علیہ السلام) پر اور تمام دعاۃ حق اور سارے انبیائے کرام پر۔ کیسے پرسوز انداز اور درد بھرے لہجے میں آپ نے کل کے ان مشرکوں کا نقشہ کھینچا ہے، جس کے آئینے میں آج کے کلمہ گو مشرکوں کا چہرہ بھی صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ بھی قوموں، قبیلوں، شرطیوں،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 84–95

سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی گمراہی اور عذاب تشریح : یہاں قوم مدین کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ قوم مدین اور اس کے نواحی علاقوں میں آباد تھی۔ بحر احمر کا وہ مقام جہاں جزیرہ نمائے عرب کی دو تجارتی شاہراہیں آکر ملتی تھیں یمن و شام اور عراق و مصر کے قافلے یہیں سے گزرتے تھے، یعنی مدین بہت بڑی تجارتی منڈی تھی اسی لیے وہاں کے لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ مگر ان میں بت پرستی، عیش پرستی اور ناپ تول میں بددیانتی کی عادت حد سے بڑھ چکی تھی اور اس حرام خوری کی وجہ سے ان میں تمام اخلاقی برائیاں، اللہ سے دوری اور حرص و لالچ پیدا ہوچکا تھا دیکھا جائے تو مال کی حرص بہت سی اخلاقی برائیوں کی جڑ ہے یہی حال ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 84–95

آیات 84 تا 95 اسرار و معارف شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا حال بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ مدین جو ملک شام کا مشہور شہر تھا اس کے رہنے والوں کی طرف ان ہی میں سے شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ شجرپرستی میں مبتلا تھے اور مختلف درختوں کی پوجا کرتے تھے جیسے ہندومت میں آج بھی یہ بات پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ان کا لین دین بھی ہندؤوں جیسا تھا ڈنڈی مارنے سے نہ چوکتے ناپ تول میں کمی کردیتے ۔ سونے کے سکوں میں سے تھوڑابہت سونا کاٹ لیتے اور سکہ پوری قیمت پر چلتا کردیتے۔ ناپ تول میں کمی چنانچہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی اور فرمایا اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ لہٰذا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 ۔ وہ تمہاری مکاریوں اور حیلہ سازیوں سے واقف ہے۔ اس لئے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:92) اعز۔ عز (بمعنی عزت) سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے زیادہ عزت والا۔ زیادہ طاقت ور۔ علیکم۔ ای عندکم۔ اتخذتموہ۔ اصل میں اتخذتم تھا۔ ضمیر ہ کے اتصال کی بنا پر واؤ لایا گیا ہے تم نے اس کو ٹھہرایا۔ تم نے اس کو ڈال دیا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ وراء کم۔ ورائ۔ مصدر ہے جس کا معنی آڑ۔ حد فاصل۔ کسی چیز کا آگے ہونا۔ پیچھے ہونا۔ علاوہ۔ اور سواء کے ہیں۔ فصل اور حد نبوی پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے سب معنی میں مستعمل ہے۔ ویکفرون بما وراء ہ (2:91) اور وہ انکار کرتے ہیں اس سے جو اس کے سوا ہے۔ نبذ فریق من الذین اوتوا الکتب کتب اللہ وراء ظھورہم (2:101) اہل کتاب میں سے ایک جماعت نے کتاب اللہ کو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 89–95

لغات القرآن آیت نمبر 89 تا 95 لایجرمن (مجرم نہ بنا دے) شقاق (ضد، ہٹ دھرمی) ان یصیب (یہ کہ پہنچے گی) ودود (محبت کرنے والا) مانفقہ (ہم نہیں سمجھتے ) ضعیف (کمزور) رھط (خاندان، قبیلہ) رجمنا (ہم رجم کرتے (پتھر مار مار کر ہلاک کرنا) عزیز (زبردست، قوت و طاقت والا) اعز (زیادہ طاقتور، زیادہ قوت والا) اعز (زیادہ، طاقتور، زیادہ قوت والا) ظھری (پشت، پیٹھ) محیط (گھیرنے والا) عامل (کام کرنے والا) مکان (جگہ) یخزی (رسوا کر دے گا) کاذب (جھوٹ بولنے والا) ارتقبوا (نگرانی کرو، انتظار کرو) رقیب نگران الصیحۃ (چنگھاڑ تیز آواز) اصبحوا (وہ رہ گئے) جثمین (اوندھے پڑے رہنے والے) لم یغنوا (آباد نہ تھے) بعدت (دور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 91–92

جب حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کو سمجھاتے ہی گئے تو ان کی قوم کے لوگوں نے کہا کہ شعیب (علیہ السلام) ! تم جس قدر ہم لوگوں کو سمجھاتے ہو ہماری سمجھ میں ایک نہیں آتا اور تم ہم لوگوں سے بہت کمزور ہو، ہمیں تمہارے بھائی بندوں کا خیال ہے نہیں تو تم کو سنگسار کردیتے تم ان باتوں سے اب ہم کو اچھے نہیں لگتے ''۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) خدا کی محبت میں اتنا روئے تھے کہ ان کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ پھر شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ تمہیں میرے بھائی بندوں کا خیال ہے وہ کیا خدا سے بھی زیادہ تمہیں عزیز ہیں۔ ان کی عزت کا خیال کر کے مجھے چھوڑتے ہو اور خدا کو تم نے پس پشت ڈال رکھا ہے۔ جس کی عزت کے سامنے کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 89–99

[49] اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ قوم لوط کا زمانہ بھی تم سے کچھ ایسا دور نہیں۔ ابھی حال ہی کی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 91–92

(ف 1) جب قومیں جذبہ دینداری سے عاری ہوجائیں اور ان کا نصب العین دنیا کی پوجا قرار پائے ، جب ہوائے نفس کے بادل قلب و دماغ پر چھا جائیں ، اور دن رات حصول زر کا خیال دامن گیر ہو ، جب دنیا مقصود ٹھہرے اور دین دوسرے درجے کی چیز رہ جائے تو اس وقت پند ونصیحت بیکار ہے ، پھر اخلاقی وعظ ان کے دلوں میں اثر انداز نہیں ہوتے ، اور نہ طبیعتیں قبول حق کے لئے آمادہ ہوتی ہیں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم دنیا داری کے ان درجات کو طے کرچکی تھی ، زر طلبی اور ہوس رانی ، زندگی کا شعار قرار پا چکا تھا ، اس لئے صداقت وسچائی کی راہوں میں کامیابی انہیں مشکل نظر آئی انکی سمجھ میں نہیں آتا تھا ، کہ دیانتداری کو ملحوظ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

92 حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا اے میر قوم کیا میرا خاندان تمہاری نظر میں اللہ تعالیٰ سے بھی زیادہ عزت دار اور صاحب توقیر ہے اور تم نے اللہ تعالیٰ کو ب ھلا کر پس پشت ڈال دیا ہے یقینا تم جو عمل کرتے ہو وہ سب میرے رب کے احاطہ علم میں ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 91–92

ف 2۔ مطلب ان کا یہ تھا کہ تم ہم کو یہ مضامین مت سناو ورنہ تمہاری جان کا خطرہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے لوگو ! خوف الٰہی کے مقابلہ میں تم میری برادری سے ڈر گئے ۔ 117 قوم کے لوگوں کی بات سن کر شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ افسوس ہے تم پر کیا تمہارے لئے اللہ کے مقابلہ میں میرا خاندان زیادہ ڈر کا باعث بن رہا ہے حالانکہ میرا رب تمہارے تمام اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور وہ دانا و بینا ہے۔ تمہارے اعمال کو وہ دیکھ رہا ہے اور تمہاری نیتوں سے بھی وہ اچھی طرح واقف ہے تمہیں جو ڈھیل دی جا رہی ہے تو وہ محض اس کا قانون مشیت ہے اور پھر اس کے ہاں ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت آئے گا تو تم کو ایک پل بھر بھی مہلت نہیں دی جائے گی۔ ذرا غور کرو کہ شعیب (علیہ السلام) کو ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 89–111

After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said: وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you. The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 91–97

102. When Shu'ayb's people stated that they did not understand much of what Shu'ayb said, they did not say so because Shu'ayb (peace be on him) spoke in some foreign language, or because he talked in an ambiguous or complicated manner. On the contrary, Shu'ayb's teaching was quite clear and simple and was conveyed to his people in a language they fully understood - their own. The difficulty in understanding Shu'ayb's teaching arose from the fact that his people had become simply too perverse to grasp it. It is always the case that when some people become fully seized by their prejudice, are…

Read the full tafseer →