Hud 11:91

Hud · from ayah 91

11:91

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَاِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا ۚ— وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ ؗ— وَمَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ ۟قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّمَّا تَقُوۡلُ وَاِنَّا لَـنَرٰٮكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا‌ ۚ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ لَرَجَمۡنٰكَ‌ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ

اُنہوں نے کہا کہ شعیب تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور بھی ہو اور اگر تمہارے بھائی نہ ہوتے تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے اور تم ہم پر (کسی طرح بھی) غالب نہیں ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "O Shu'ayb, we do not understand much of what you say, and indeed, we consider you among us as weak. And if not for your family, we would have stoned you [to death]; and you are not to us one respected."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 8 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:91

انہوں نے جواب دیا "اے شعیبؑ، تیری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمارے درمیان ایک بے زور آدمی ہے، تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کر چکے ہوتے، تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اُنہوں نے کہا کہ شعیب تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور بھی ہو اور اگر تمہارے بھائی نہ ہوتے تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے اور تم ہم پر (کسی طرح بھی) غالب نہیں ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے کہا اے شعیب! تیری اکثر باتیں تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتیں اور ہم تو تجھے اپنے اندر بہت کمزور پاتے ہیں، اگر تیرے قبیلے کا خیال نہ ہوتا تو ہم تو تجھے سنگسار کر دیتے، اور ہم تجھے کوئی حیثیت والی ہستی نہیں گنتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ بولے : اے شعیب ! تمہاری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں، اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے درمیان ایک کمزور آدمی ہو، اور اگر تمہارا خاندان نہ ہوتا تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیتے۔ ہم پر تمہارا کچھ زور نہیں چلتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے اے شعیب! ہماری سمجھ میں نہیں آتیں تمہاری بہت سی باتیں اور بیشک ہم تمہیں اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں اور اگر تمہارا کنبہ نہ ہوتا تو ہم نے تمہیں پتھراؤ کردیا ہوتا اور کچھ ہماری نگاہ میں تمہیں عزت نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ بولے: اے شعیب! تمہاری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تمہیں اپنے معاشرے میں ایک کمزور شخص جانتے ہیں، اور اگر تمہارا کنبہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگ سار کر دیتے اور (ہمیں اسی کا لحاظ ہے ورنہ) تم ہماری نگاہ میں کوئی عزت والے نہیں ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا اے شعیب ! ہم اس میں سے بہت سی باتیں نہیں سمجھتے جو تو کہتا ہے اور بیشک ہم تو تجھے اپنے درمیان بہت کمزور دیکھتے ہیں اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم ضرور تجھے سنگسار کردیتے اور تو ہم پر ہرگز کسی طرح غالب نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : شعیب ! تمہاری اکثر باتوں کی تو ہمیں سمجھ ہی نہیں آتی۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے درمیان ایک کمزور سے آدمی ہو اور اگر تمہاری برادری نہ ہوتی تو ہم تمہیں سنگسار کردیتے اور تم ایسے نہیں جس کا ہم پر کوئی دباؤ ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ بولے کہ اے شعیب، جو باتیں تم کہتے ہو اس کا بہت سا حصہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور ہم تو تم کو اپنے اندر ایک کمزور وجود خیال کرتے ہیں اور اگر تمہارا خاندان نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کردیتے اور تم ہم پر کچھ بھاری نہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

انہوں نے جواب دیا اے شعیب، تمہاری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتیں، اور ہم تجھے اپنے درمیان بالکل ہی کمزور پاتے ہیں اور اگر تیرے خاندان کا پاس نہ ہوتا تو ہم نے تجھے کبھی کا سنگسار کر (کے ختم کر) دیا ہوتا، کہ تم تو ہمارے اوپر کچھ بھاری نہیں ہو

— مولانا اسحاق مدنی

وہ لوگ بولے اے شعیب ؑ تمہاری کہی ہوئی بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تم کو تو اپنے (مجمع) میں کمزور ہی دیکھتے ہیں اور اگر تمہارے کنبہ کا ہم کو (لحاظ) نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کرچکے ہوتے اور تم ہم پر کچھ غالب تو ہو نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا : اے شعیب ! تم جو کچھ کہتے ہو اس میں سے اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تو دیکھتے ہیں تمہیں اپنے درمیان ایک کمزور آدمی۔ اور اگر تمہارا خاندان نہ ہوتا تو ہم تمہیں (کبھی کا) سنگسار کرچکے ہوتے اور تم ہم پر غالب نہیں ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے کہا کہ شعیب ! تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں تم ہم میں کمزور بھی ہو، اور اگر تمہارے بھائی نہ ہوتے تو ہم تمہیں سنگسار کردیتے اور تم ہم پر کسی طرح بھی غالب نہیں ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They said: 'O Shu'ayb! We do not understand much of what you say. Indeed we see you weak in our midst. Were it not for your kinsmen, we would surely have stoned you for you have no strength to overpower us.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :O Shu'aib, we do not understand much of what you say, and, in fact, we see you are weak among us. But for your clan, we would have stoned you. And to us, you are not a man of respect.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :O Shuaib, we do not understand much of what you say, and, in fact, we see you are weak among us. But for your clan, we would have stoned you. And to us, you are not a man of respect.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "O Shu`ayb! We do not understand much of what you say, and we see you weak among us. Were it not for your family, you would have been stoned, and you are not powerful against us."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: O Shu'eyb! We understand not much of that thou tellest, and lo! we do behold thee weak among us. But for thy family, we should have stoned thee, for thou art not strong against us.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "O Shu'ayb, we do not understand much of what you say, and indeed, we consider you among us as weak. And if not for your family, we would have stoned you [to death]; and you are not to us one respected."

— Saheeh International

They said, "Shu'ayb, we do not understand much of what you say, but we know that you are weak among us. Had it not been for our respect of your tribe, we would have stoned you to death; you are not very dear to us".

— Muhammad Sarwar

They said: O Shu'aib! we do not understand much of what you say and most surely we see you to be weak among us, and were it not for your family we would surely stone you, and you are not mighty against us.

— Muhammad Habib Shakir

They said: O Shu'aib! we understanand not much of that which thou sayest, and verily we see thee weak among us, and were it not for thy company we had surely stoned thee, and thou art not among us mighty.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "O Shu'aib! much of what thou sayest we do not understand! In fact among us we see that thou hast no strength! Were it not for thy family, we should certainly have stoned thee! for thou hast among us no great position!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:91

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 91–92

قوم مدین کا جواب اور اللہ کا عتاب قوم مدین کے کہا کہ اے شعیب آپ کی اکثر باتیں ہماری سمجھ میں تو آتی نہیں۔ اور خود آپ بھی ہم میں بےانتہا کمزور ہیں۔ سعید وغیرہ کا قول ہے کہ آپ کی نگاہ کم تھی۔ مگر آپ بہت ہی صاف گو تھے، یہاں تک کہ آپ کو خطیب الانبیاء کا لقب حاصل تھا۔ سدی کہتے ہیں اس وجہ سے کمزور کہا گیا ہے کہ آپ اکیلے تھے۔ مراد اس سے آپ کی حقارت تھی۔ اس لیے کہ آپ کے کنبے والے بھی آپ کے دین پر نہ تھے۔ کہتے ہیں کہ اگر تیری برادری کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم تو پتھر مار مار کر تیرا قصہ ہی ختم کردیتے۔ یا یہ کہ تجھے دل کھول کر برا کہتے۔ ہم میں تیری کوئی قدر و منزلت، رفعت وعزت نہیں۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 91–97

سورة هُوْد 102 یہ سمجھ میں نہ آنا کچھ اس بنا پر نہ تھا کہ حضر شعیبؑ کسی غیر زبان میں کلام کرتے تھے، یا ان کی باتیں بہت مُغلق اور پیچیدہ ہوتی تھیں۔ باتیں تو سب صاف اور سیدھی ہی تھیں اور اُسی زبان میں کی جاتی تھیں جو یہ لوگ بولتے تھے، لیکن ان کے ذہن کا سانچا اس قدر ٹیڑھا ہو چاک تھا کہ حضرت شعیبؑ کی سیدھی باتیں کسی طرح اس میں نہ اُتر سکتی تھیں۔ قاعدے کی بات ہے کہ جو لوگ تعصبات اور خواہش نفس کی بندگی میں شدت کے ساتھ مبتلا ہوتے ہیں اور کسی خاص طرزِ خیال پر جامد ہو چکے ہوتے ہیں، وہ اوّل تو کوئی ایسی بات سن ہی نہیں سکتے جو ان کے خیالات سے مختلف ہو، اور اگر سُن بھی لیں تو ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 89–95

اس پند و نصیحت کے بعد پھر ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا، (آیت) وَيٰقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِيْٓ اَنْ يُّصِيْبَكُمْ مِّثْلُ مَآ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ ۭ وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ ، یعنی تم سوچو سمجھو، ایسا نہ ہو کہ میری مخالفت اور عداوت تم پر کوئی ایسا عذاب لا ڈالے جیسا تم سے پہلے قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح (علیہم السلام) پر آچکا ہے، او لوط ؑ کی قوم اور ان کا عبرتناک عذاب تو تم سے کچھ دور بھی نہیں، یعنی مقامی اعتبار سے بھی قوم لوط کی الٹی ہوئی بستیاں مدین کے قریب ہی ہیں اور زمانہ کے اعتبار سے بھی تم سے بہت قریب زمانہ میں ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَاِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا ۚ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ ۡ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيْزٍ۔ حضرت شعیب کو سنگسار کردینے کی دھمکی : قوم نے حضرت شعیب کی اس ساری موعظت کا جواب نہایت رعونت سے یہ دیا کہ اے شعیب ! تمہار بہت ساری باتیں کسی طرح ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ مطلب یہ کہ تمہاری یہ باتیں ہیں ہی نہایت مہمل اور دور از کار ورنہ معقول باتیں سمجھنے میں ہم سے بڑھ کر کون ہوسکتا ہے اس کے بعد دھمکی بھی دے دی کہ تمہاری کوئی جمعیت و جماعت تو ہے نہیں جس کا ہمیں اندیشہ ہو، ہم تو تمہیں اپنے اندر نہایت کمزور اور بےبس دیکھ رہے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

91۔ 1 یہ یا تو انہوں نے بطور مذاق تحقیر کہا درآنحالیکہ ان کی باتیں ان کے لئے ناقابل فہم نہیں تھیں۔ اس صورت میں یہاں فہم کی نفی مجازا ہوگی۔ یا ان کا مقصد ان باتوں کے سمجھنے سے معذوری کا اظہار ہے جن کا تعلق غیب سے ہے۔ مثلا بعث بعدالموت، حشر نشر، جنت و دوزخ وغیرہ اس لحاظ سے، فہم کی فنی حقیقتا ہوگی۔ 91۔ 2 یہ کمزوری جسمانی لحاظ سے تھی، جیسا کہ بعض کا خیال ہے کہ حضرت شعیب ؑ کی بینائی کمزور تھی یا وہ نحیف و لاغر جسم کے تھے یا اس اعتبار سے انھیں کمزور کہا کہ وہ خود بھی مخالفین سے تنہا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ 91۔ 3 حضرت شعیب ؑ کا قبیلہ کہا جاتا ہے کہ ان کا مددگار نہیں تھا، لیکن وہ قبیلہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 88–92

56: اس رزق سے مراد کھانے پینے وغیرہ کا سامان بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدھے سیدھے طریقے سے مجھے رزق عطا فرمایا ہے تو میں اس کے حصول کے لیے وہ غلط طریقے کیوں اختیار کروں جو تم کرتے ہو ؟ اور رزق سے یہاں مراد نبوت بھی ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

حق بالکل واضح ہے لیکن ان کا سینہ اس کے لیے تنگ ہے ، وہ چاہتے ہی نہیں کہ حق کا ادراک کرسکیں۔ قَالُوا يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ (91 : 11) “ انہوں نے جواب دیا “ اے شعیب تیزی بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں۔ ” یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ اقدار حیات کا تعین صرف مادی مفادات کے اصولوں کے مطابق کرتے ہیں اور ہر معاملے کے ظاہری پہلو کو دیکھتے ہیں۔ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا (91 : 11) “ اور ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمارے درمیان ایک بےزور آدمی ہے۔ ” یہ لوگ مادی قوت ہی کو دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس حقیقت اور قوت کا کوئی وزن نہیں ہے جو حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 سمجھتے سب کچھ تھے لیکن عناد اور حق پوشی سے ایسا کہتے تھے کہ تیری بات کچھ نہیں سمجھتے، نہ معلوم کیا مجذوبوں کی بڑہانک رہا ہے (العیاذ باللہ) اور اگر واقعی وہ ایسی سیدھی اور صاف باتیں بےتوجہی یا غباوت کی وجہ سے سمجھتے نہ تھے تو یہ کلام اپنے ظاہر پر محمول ہوگا۔ 6 یعنی ایک کمزور اور بےحقیقت آدمی خواہ مخواہ سارے جہان کو اپنا دشمن بنا رہا ہے۔ اسے چاہیے اپنے حال پر رحم کھائے، بیٹھے بٹھائے اپنے کو موت کے منہ میں ڈالنے سے کیا فائدہ ہے (تنبیہ) بعض سلف نے " ضعیف " کے معنی " ضریرالبصر " (نابینا) کے منقول ہیں۔ شاید کسی خاص وقت میں عارضی طور پر ظاہری بینائی جاتی رہی ہو۔ جیسے یوسف (علیہ السلام) کے فراق میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 91 قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ جب ذہنوں کے سانچے بگڑ جائیں اور سوچوں کے زاویے بدل جائیں تو پھر سیدھی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی۔ وَاِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا ۚ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ ۡ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيْزٍ یہاں پر ایک اہم نکتہ یہ سمجھ لیں کہ جس زمانے میں جو سورت نازل ہوئی ہے اس میں نبی اکرم اور آپ کے صحابہ کرام کو پیش آنے والے معروضی حالات کے ساتھ تطابق پیدا کیا گیا ہے۔ یعنی گزشتہ اقوام کے واقعات جو مختلف سورتوں میں تواتر کے ساتھ بار بار آئے ہیں یہ تکرار محض نہیں ہے ‘ بلکہ حضور کی دعوت و تحریک کو جس دور میں جن مسائل کا سامنا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

103 حرام خور کو حلال کمانا بہت مشکل ہوتا ہے :۔ یعنی یہ جو تم کاروبار میں سچائی، راست بازی اور دیانتداری کی باتیں کرتے ہو اگر ہم ایسا کریں گے تو ہمارا سارا کاروبار ہی مندا پڑجائے گا۔ مارکیٹ میں مقابلہ بڑا سخت ہے اگر ہم یہ کام نہ کریں گے تو کمائیں گے کیا اور کھائیں گے کیا ؟ لہذا یہ نصیحتیں تم اپنے پاس ہی رکھو ہم اگر ایسی دیانتداری سے کام لیں جیسی تم کہتے ہو تو ہمارا تو سارا کاروبار ہی ٹھپ ہوجائے گا اور ایک دن بھی نہ چل سکے گا۔ تمہاری یہ باتیں ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ اور واقعہ ہے بھی یہی کہ جب انسان حرام ذرائع سے مال کمانے کا عادی ہوجاتا ہے تو اس کے لیے حلال ذریعہ سے مال کمانا اتنا ہی دشوار نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

135۔ جاہلی قومیں دباؤ صرف قوت کا مانتی تھیں چناچہ اب سلسلہ بحث و استدلال کو چھوڑ کر قوم شعیب (علیہ السلام) صاف صاف کہہ رہی ہے کہ تم ہم پر کچھ غالب وحاکم تو ہو نہیں قوت تو ہم ہی کو حاصل ہے ہم تو صرف تمہارے کنبہ وقبیلہ کا لحاظ کررہے ہیں جو ہمارے ہم مذہب ہیں ورنہ ہم تو اب تک تم پر سزائے سنگساری جاری کرچکے ہوتے۔ (آیت) ” رھطلک “۔ رھط یہاں مضاف الیہ ہے اس کا مضاف مقدر ہے۔ ای مراعاۃ رھطک۔ والظاھران مرادھم لولا مراعاۃ جانب رھطک (روح) پرانی جاہلی قوموں میں کنبہ اور خاندان کا پاس ولحاظ بڑی اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ (آیت) ” لرجمنک “۔ پرانی قوموں کے ضابطہ تعزیرات میں آخری اور انتہائی موقعوں کے لیے سزائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 84–95

آیت نمبر 84 تا 95 ترجمہ : اور ہم نے اہل مدین کی جانب ان کے بھائی شعیب کو بھیجا انہوں نے کہا میرے برادران قوم اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کو ایک سمجھو، اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں، اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو، میں تم کو خوش حالی میں دیکھ رہا ہوں جس کی وجہ سے تم کو تولنے اور کم ناپنے سے مستغنی ہو، اگر تم ایمان نہ لائے تو مجھے تمہارے بارے میں تم کو گھیرنے والے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جو تم کو ہلاک کر دے گا، اور یوم کی صفت محیط مجاز ہے عذاب کے اس میں واقع ہونے کی وجہ سے، اور اے میرے برادران قوم تم انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ پہنچاؤ، (یعنی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا یشعیب ما نفقہ کثیرا مما تقول کہنے لگے : شعیب ! ہماری سمجھ میں تو تیری بہت سی باتیں آتی نہیں۔ نہ توحید سمجھ میں آتی ہے ‘ نہ ناپ تول میں کمی کرنے کی ممانعت ‘ نہ تیری بیان کی ہوئی دلیلیں۔ چونکہ ان کی قوت فہم کمزور تھی اور سوچنے سمجھنے سے وہ عاری تھے ‘ اس لئے ایسی بات کہی یا یہ وجہ تھی کہ حضرت شعیب کے کلام کو وہ حقیر ‘ ناقابل التفات سمجھتے تھے یا یہ وجہ تھی کہ ان کو حضرت شعیب کے پیام سے انتہائی نفرت تھی ‘ اس لئے اس کو سمجھنے کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے تھے۔ میرے نزدیک حقیقت یہ تھی کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی تھی۔ انسانوں کے دل اللہ کی چٹکی میں ہیں ‘ وہ جس طرف چاہتا ہے دلوں کو موڑ دیتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(91) وہ کہنے لگے اے شعیب ! ؑ بہت سی باتیں تمہاری کہی ہوئی ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تو آپ کی بینائی میں کمی دیکھ رہے ہیں اور اگر آپ کی قوم کا پاس نہ ہوتا تو ہم آپ کو قتل کر ڈالتے اور ہماری نظر میں تمہاری کچھ وقعت اور عزت نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ۔۔ : ”فَقِہَ یَفْقَہُ“ (ع) متکلم کی بات کا مطلب سمجھنا۔ یہ بات انھوں نے استہزا اور تحقیر، یعنی شعیب ؑ اور ان کے کلام کو بےوقعت قرار دینے کے لیے کہی، یا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے کرتے ان کے ذہن اس قدر مسخ ہوچکے تھے کہ شعیب ؑ کی سیدھی باتیں بھی واقعتا ان کے ذہن میں نہیں آتی تھیں، حالانکہ شعیب ؑ نہ کسی غیر زبان میں گفتگو کرتے تھے اور نہ ان کا انداز بیان ہی پیچیدہ اور الجھا ہوا تھا، بلکہ شعیب ؑ کی گفتگو سے صاف پتا چل رہا ہے کہ وہ کتنے بڑے فصیح اللسان خطیب تھے۔ مفسر ابوالسعود کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ بات کہ ”ہم تیری بات کا مطلب ہی نہیں سمجھتے“ اس وقت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 84–95

آیت نمبر 84 تا 95 اللہ تعالیٰ کا ارشاد والیٰ مدین اخاھم شعیبا یعنی وارسلناإلی مدینہم نے مدین کی طرف بھیجا، مدین حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ ان کی وجہ تسمیہ کے متعلق دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ وہ مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ مدین کہا گیا ہے جب کہ مراد بنو مدین ہیں۔ جس طرح مضر کہا جاتا ہے اور مراد بنومضر ہوتے ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ان کے شہر کا نام ہے اس لیے اس کی طرف ان کو منسوب کردیا گیا۔ نحاس نے کہا : مدین غیر منصرف ہئ، کیونکہ یہ شہر کا نام ہے، سورة اعراف میں یہ معنی گزرچکا ہے اور کچھ اس سے زیادہ بھی۔ قال یٰقوم اعبدوا اللہ مالکم من الٰہٍ غیرہ (اس کی تفسیر) گزر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 89–97

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقوم لا یجرمنکم شقاقی “ یعنی تم کو نہ آمادہ کرے میری جدائی۔ 2:۔ ابن منذر (رح) نے مجاہد رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” شقاقی “ سے مراد ہے میری دشمنی۔ 3:۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر (رح) نے جوہر کے راستہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اے میری قوم ! یاد کروتم قوم نوح کو قوم عاد کو اور قوم ثمود کو (آیت) ” وما قوم لوط منکم ببعید “ اور لوط کی قوم ان سے زیادہ قریب تھی شعیب تک اور ان کا ہلاکت کا زمانہ ان سے زیادہ قریب تھا۔ (آیت) ” واستغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ ان ربی رحیم “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ يٰشُعَيْبُ : اے شعیب ] [ مَا نَفْقَهُ : ہم پوری طرح نہیں سمجھ پاتے ] [ كَثِيْرًا : اکثر کو ] [ مِّمَا : اس میں سے جو ] [تَقُوْلُ : آپ (علیہ السلام) کہتے ہیں ] [ وَانا : اور بیشک ] [لَنَرٰىكَ : ہم یقینا دیکھتے ہیں آپ (علیہ السلام) کو ] [فِيْنَا : ہم میں ] [ضَعِيْفًاۚ: کمزور ] [ وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتا ] [رَهْطُكَ : آپ (علیہ السلام) کا قبیلہ ] [ لَرَجَمْنٰكَ : تو ہم ضرور رجم کرتے آپ (علیہ السلام) کو ] [ وَمَآ انتَ : اور آپ (علیہ السلام) نہیں ہیں ] [عَلَيْنَا : ہم پر ] [ بِعَزِيْزٍ : کوئی بالادست ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 91–95

اہل مدین کا بری طرح جواب دینا اور ہلاک ہونا حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت برابر جاری رہی ‘ قوم کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ لوگ اپنے کفر و شرک پر جمے رہے انہوں نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو جو جواب دئیے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ یہ بات انہوں نے استہزاءً یا تحقیراً کہی جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہاری باتیں سمجھنے کے قابل نہیں ہیں۔ اور ممکن ہے کہ بعض باتیں نہ سمجھتے ہوں کیونکہ توجہ کے ساتھ سنتے ہی نہ تھے۔ اپنی اس بےہودہ بات کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تم ہماری جماعت کے سامنے کمزور آدمی ہو لیکن تمہارے خاندان کے لوگ جو ہمارے ہم مذہب ہیں ان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 84–95

قصہ شعیب (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ والی مدین اخاھم شعیبا .... الیٰ .... الا بعدا لمدین کما بعدت ثمود۔ (ربط) یہ چھٹا قصہ شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو خطیب الانبیاء کے لقب سے معروف ہیں اور مدین کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ لوگ بڑے سرمایہ دار تھے انکا مذہب یہ تھا کہ ہم اپنے مالوں کے تصرف میں آزاد اور مختار ہیں ( جیسا کہ آج کل کے سرمایہ دار کہتے ہیں) جس طرح چاہیں ان میں تصرف کریں حضرت شعیب (علیہ السلام) یہ فرماتے تھے کہ یہ اموال اگرچہ تمہارے مملوک ہیں مگر تمہاری ملکیت مالک حقیقی کی ملکیت اور اس کے حکم کے ماتحت ہے۔ امانت اور دیانت کے ساتھ اور صحیح کمیل اور وزن کے ساتھ تم اس میں تصرف کرسکتے ہو یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

79:۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اس حکیمانہ اور ناصحانہ تبلیغ کا قوم پر کوئی اثر نہ ہوا اور ازراہ عناد کہنے لگے اے شعیب تیری باتیں بالکل بےمعنی ہیں ہم انہیں سمجھنے سے قاصر ہیں اور یاد رکھو تم ہم میں کمزور ہو اور تنہا ہمارے مقابلے کی تاب نہیں لاسکتے ہو اگر ہمیں تمہارے قبیلے کا پاس ولحاط نہ ہوتا تو ہم تمہیں کبھی کا قتل کرچکے ہوتے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے خاندان کے لوگ مشرکین کے ہم مسلک تھے اس لیے ان کا لحاظ کیا۔ وَکَانَ رَھْطُہٗ مِن اھل املتھم فلذلک اظھروا المیل الیھم والاکرام لھم (مدارک ج 2 ص 100) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 91–95

ربط آیات گزشتہ آیات میں شعیب (علیہ السلام) نے قوم کی طرف سے کئے گئے بیہودہ اعتراض کا جواب دیا تھا۔ انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی نماز کو طعن کی بنیاد بنایا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم تمہارے کہنے سے اپنے آبائو اجدا کے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے اور نہ ہی اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے تصرف سے باز آسکتے ہیں۔ شعیب (علیہ السلام) نے اچھے طریقے سے سمجھایا کہ دیکھو ! کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت اور پاکیزہ روزی عطا فرمائی ہے۔ میں جو بات تم سے کہتا ہوں ، اس پر خود بھی عمل کرتا ہوں یعنی میرے قول و فعل میں تضاد نہیں ہے ، میں حسب استطاعت اصلاح کی کوشش کر رہا ہوں اور میرا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَہُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَاِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا۝ 0ۚ وَلَوْلَا رَہْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ۝ 0ۡوَمَآ اَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيْزٍ۝ 91 فقه الفِقْهُ : هو التّوصل إلى علم غائب بعلم شاهد، فهو أخصّ من العلم . قال تعالی: فَمالِ هؤُلاءِ الْقَوْمِ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثاً [ النساء/ 78] (ق ہ ) الفقہ کے معنی علم حاضر سے علم غائب تک پہچنچنے کے ہیں اور یہ علم سے اخص ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمالِ هؤُلاءِ الْقَوْمِ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثاً [ النساء/ 78] ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے ۔ ضعف والضَّعْفُ قد يكون في النّفس، وفي البدن،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 84–93

تفسیر : اس کے بعد پانچواں واقعہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بیان فرماتا ہے جو اہل مدین کی طرف رسول بنا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں بھیجے گئے تھے۔ اس قوم کی عادت بت پرستی اور بدکاری کے علاوہ کم تولنا ‘ خیانت ‘ دغابازی کرنے کی بھی تھی جس کو وہ اپنے مال میں تصرف جائز سمجھ کر طعن کی راہ سے کہتے تھے کہ ایک آپ ہی تو بڑے اچھے شخص ہیں اور ان کی نماز پر طعن کرکے کہتے تھے کہ کیا آپ کی نماز ہم کو بت پرستی سے منع کرتی ہے ؟ باقی قصہ صاف ہے۔ یہ مدین وہی جگہ ہے کہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے بھاگ کر آئے تھے اور یہ وہی شعیب (علیہ السلام) ہیں کہ جن کی ایک صاحبزادی سے آپ کی شادی ہوئی تھی۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَہُ کَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَاِنَّا لَنَرٰکَ فِیْنَا ضَعِیْفًا ج وَلَوْلاَ رَھْطُکَ لَرَجَمْنٰکَ ز وَمَآ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٌ۔ (سورۃ ہود : 91) (وہ بولے اے شعیب ! ہم نہیں سمجھتے بہت سی باتیں جو تو کہتا ہے، بلاشبہ ہم تجھے دیکھتے ہیں کہ تو ہم میں بہت کمزور ہے۔ اگر تیرے خاندان کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم نے تمہیں سنگسار کردیا ہوتا۔ اور تم ہم پر کوئی بھاری نہیں۔ ) بات نہ سمجھنے کا مفہوم حضرت شعیب (علیہ السلام) کی تمام تر خیرخواہی اور ہمدردی کے باوجود معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم کے رویئے میں کوئی تبدیلی نہیں آتی بلکہ ان کی دشمنی میں اضافہ ہوتاچلا جاتا ہے۔ آپ جس قدر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 91–92

فہم القرآن ربط کلام : قوم اور حضرت شعیب کے آپس میں سوال و جواب۔ توبہ استغفار کرنے کی بجائے قوم کے نمائندے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہنے لگے۔ اے شعیب تیری اکثر باتیں ہماری سمجھ سے بالا تر ہیں۔ آپ ہر روز ہمیں روکتے ٹوکتے ہیں۔ ہم آپ سے نمٹ لیتے اگر آپ کی برادری مضبوط نہ ہوتی ورنہ تیری تو ہم میں کوئی حیثیت نہیں۔ ہم تجھے اپنے میں نہایت کمزور سمجھتے ہیں۔ تو کسی طرح بھی ہم پر غالب نہیں آسکتا۔ حضرت نے اپنی قوم کو جواب دیتے ہوئے فرمایا۔ کیا تمہارے لیے میری برادری اللہ سے زیادہ طاقتور ہے ؟ جس اللہ کو تم نے میری برادری کے مقابلے میں پس پشت ڈال رکھا ہے۔ اگر تم باز نہیں آئے تو تم اپنا کام کرو اور مجھے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قوم کا آخری جواب : 91: قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَانَفْقَہُ کَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ (کہنے لگے اے شعیب ہماری سمجھ میں تیری بہت باتیں نہیں آتیں) ہم تیرے اقوال کی صحت کو نہیں سمجھتے ذراغور تو کرو کس طرح وہ ان کے کلام کو نہ سمجھتے ہونگے حالانکہ وہ تو خطیب الانبیاء تھے ؟ وَاِنَّا لَنَرٰکَ فِیْنَا ضَعِیْفًا (اور بیشک ہم تمہیں اپنے میں کمزور پاتے ہیں) ہمارے درمیان نہ تمہاری عزت ہے اور نہ قوت اور اگر ہم تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تو اس کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ وَلَوْ لَارَھْطُکَ لَرَجَمْنٰـکَ (اگرتیرا گروہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کردیتے) اگر تیرا خاندان نہ ہو تو ہم سنگساری سے تمہیں ہلاک کردیتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

91” قالو ایا شعیب مانفقہ “ ہم نہیں سمجھتے ” کثیرا مما تقول وانا لنراک فینا ضیعفا “ کیونکہ ان کا نگاہ کمزور تھی تو اس ضعیف سے ان کی مراد کمزور نگاہ والا ہے۔” ولولا رھطک “ آپ (علیہ السلام) کا قبیلہ ، وہ اپنی قوم کی حمایت میں تھے ” لرجمناک “ ہم آپ کو قتل کردیتے ۔ رجم قتل کی قبیح ترین صورت ہے۔ ” وما انت علینا ہمارے نزدیک بعزیز “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 91–92

91۔ 92۔ جب شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کو سمجھاتے ہی گئے تو ان کی قوم کے لوگوں نے کہا کہ شعیب (علیہ السلام) تم جس قدر ہم لوگوں کو سمجھاتے ہو ہماری سمجھ میں ایک نہیں آتا اور تم ہم لوگوں سے بہت کمزور ہو ہمیں تمہارے بھائی بندوں کا خیال ہے نہیں تو مارے پتھروں کے تم کو سنگ سار کردیتے تم ان باتوں سے اب ہم کو اچھے نہیں لگتے بعضے مفسروں نے بیان کیا ہے کہ ضعیف کے معنے یہاں نابینا کے ہیں کیوں کہ شعیب (علیہ السلام) خدا کی محبت میں اتنا روئے تھے کہ ان کی آنکھیں جاتی رہی تھیں پھر شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ تمہیں میرے بھائی بندوں کا خیال ہے وہ کیا خدا سے بھی زیادہ تمہیں عزیز ہیں ان کی عزت کا خیال کر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) ” انہوں نے کہا، اے شعیب ! تیری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ “ یعنی وہ شعیب (علیہ السلام) کے وعظ و نصیحت سے بہت زچ ہوئے اور ان سے کہنے لگے ہم نہیں سمجھتے بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے “ یہ بات محض اس لئے کہتے تھے، کیونکہ انہیں شعییب (علیہ السلام) کی دعوت سے بغض اور ان سے نفرت تھی۔ (آیت) ” اور ہم تجھے اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں “ یعنی تو اپنی حیثیت میں بہت کمزور آدمی ہے، تیرا شمار اشراف اور رؤسا میں نہیں ہوتا بلکہ تیرا شمار مستضعفین میں ہوتا ہے۔ (آیت) یعنی اگر تیری جماعت اور تیرا قبیلہ نہ ہوتا (آیت) ” تو ہم تجھے سنگسار کردیتے اور ہماری نگاہ میں تیری کوئی عزت نہیں “ یعنی ہمارے دل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 87–112

حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

185 ۔ منکروں کے تکبر کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا کہ تمہاری بہت سی باتیں ہمیں سمجھ نہیں آرہی۔ سو اس سے ان منکر لوگوں کے تکبر اور ان کی ہٹ دھرمی کا ایک مظہر اور نمونہ سامنے آتا ہے۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ دل کی دنیا اور نیت اگر درست نہ ہو تو پیغمبر کی صاف وصریح بات بھی انسان کو سمجھ نہیں آتی۔ جیسا کہ قوم شعیب کے کفار کے اس جواب سے ظاہر اور واضح ہے۔ آج بھی اس حقیقت کا مشاہدہ جگہ جگہ اور طرح طرح سے ہوتا رہتا ہے کہ اہل بدعت اور دوسرے اہل زیغ و ضلال اور اصحاب کبر و غرور کے سامنے عقل و نقل اور قرآن و سنت کے کتنے ہی ٹھوس اور واضح دلائل پیش کئے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 84–95

سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی گمراہی اور عذاب تشریح : یہاں قوم مدین کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ قوم مدین اور اس کے نواحی علاقوں میں آباد تھی۔ بحر احمر کا وہ مقام جہاں جزیرہ نمائے عرب کی دو تجارتی شاہراہیں آکر ملتی تھیں یمن و شام اور عراق و مصر کے قافلے یہیں سے گزرتے تھے، یعنی مدین بہت بڑی تجارتی منڈی تھی اسی لیے وہاں کے لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ مگر ان میں بت پرستی، عیش پرستی اور ناپ تول میں بددیانتی کی عادت حد سے بڑھ چکی تھی اور اس حرام خوری کی وجہ سے ان میں تمام اخلاقی برائیاں، اللہ سے دوری اور حرص و لالچ پیدا ہوچکا تھا دیکھا جائے تو مال کی حرص بہت سی اخلاقی برائیوں کی جڑ ہے یہی حال ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 84–95

آیات 84 تا 95 اسرار و معارف شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا حال بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ مدین جو ملک شام کا مشہور شہر تھا اس کے رہنے والوں کی طرف ان ہی میں سے شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ شجرپرستی میں مبتلا تھے اور مختلف درختوں کی پوجا کرتے تھے جیسے ہندومت میں آج بھی یہ بات پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ان کا لین دین بھی ہندؤوں جیسا تھا ڈنڈی مارنے سے نہ چوکتے ناپ تول میں کمی کردیتے ۔ سونے کے سکوں میں سے تھوڑابہت سونا کاٹ لیتے اور سکہ پوری قیمت پر چلتا کردیتے۔ ناپ تول میں کمی چنانچہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی اور فرمایا اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ لہٰذا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ۔ یہ بات انہوں نے یا استہزا اور تحقیر کے انداز میں کہی یا خدا کی نافرمانی کرتے کرتے ان کے ذہن اس قدر مسخ ہوچکے تھے کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی سیدھی باتیں بھی واقعی ان کے ذہن میں نہ آتی تھیں حالانکہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) نہ کسی غیر زبان میں گفتگو کرتے تھے اور نہ ان کا انداز بیان ہی پیچیدہ اور الجھا ہوا تھا بلکہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) اپنی فصیح البیانی کی وجہ سے ” خطیب الانبیاء ( علیہ السلام) “ کے لقب سے پکارے جاتے ہیں۔ (ابن کثیر) ۔ 4 ۔ نہ تیرے پاس فوج ہے، نہ حکومت اور نہ کرو فر۔ 5 ۔ جو ہمارے دین پر ہیں لیکن تیری پشت پناہی کر رہے ہیں۔ 6 ۔ جس زمانہ میں یہ آیات نازل ہوئیں، بالکل وہی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:91) مانفقۃ۔ مضارع منفی جمع متکلم ۔ ہم نہیں سمجھتے۔ فقہ۔ مصدر۔ فقہ یفقہ (سمع) فقہ۔ الثقۃ کے معنی علم حاضر سے علم غائب تک پہنچنے کے ہیں اور یہ علم سے اخص ہے۔ قرآن میں ہے فمال ھؤلاء القوم لایکادون یفقھون حدیثا (4:78) ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات ہی نہیں سمجھ سکتے۔ علم الفقہ احکام شریعت کے جاننے کا نام ہے۔ فقہ سمجھ۔ دانش علم ۔ فقیۃ۔ عقل مند۔ دانشور۔ عالم دین۔ سمجھ دار۔ رھطک۔ مضاف مضاف الیہ۔ تیری برادری۔ تیرے بھائی بند۔ رھط بمعنی نفر۔ شخص قبیلہ۔ برادری۔ بھائی بند۔ نفر اور شخص کے معنوں میں آیا ہے۔ تسعۃ رھط یفسدون (27:48) تو آدمی تھے جو ملک میں فساد کرتے تھے۔ برادری۔ قطیلہ۔ بھائی بند کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 89–95

لغات القرآن آیت نمبر 89 تا 95 لایجرمن (مجرم نہ بنا دے) شقاق (ضد، ہٹ دھرمی) ان یصیب (یہ کہ پہنچے گی) ودود (محبت کرنے والا) مانفقہ (ہم نہیں سمجھتے ) ضعیف (کمزور) رھط (خاندان، قبیلہ) رجمنا (ہم رجم کرتے (پتھر مار مار کر ہلاک کرنا) عزیز (زبردست، قوت و طاقت والا) اعز (زیادہ طاقتور، زیادہ قوت والا) اعز (زیادہ، طاقتور، زیادہ قوت والا) ظھری (پشت، پیٹھ) محیط (گھیرنے والا) عامل (کام کرنے والا) مکان (جگہ) یخزی (رسوا کر دے گا) کاذب (جھوٹ بولنے والا) ارتقبوا (نگرانی کرو، انتظار کرو) رقیب نگران الصیحۃ (چنگھاڑ تیز آواز) اصبحوا (وہ رہ گئے) جثمین (اوندھے پڑے رہنے والے) لم یغنوا (آباد نہ تھے) بعدت (دور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 91–92

جب حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کو سمجھاتے ہی گئے تو ان کی قوم کے لوگوں نے کہا کہ شعیب (علیہ السلام) ! تم جس قدر ہم لوگوں کو سمجھاتے ہو ہماری سمجھ میں ایک نہیں آتا اور تم ہم لوگوں سے بہت کمزور ہو، ہمیں تمہارے بھائی بندوں کا خیال ہے نہیں تو تم کو سنگسار کردیتے تم ان باتوں سے اب ہم کو اچھے نہیں لگتے ''۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) خدا کی محبت میں اتنا روئے تھے کہ ان کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ پھر شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ تمہیں میرے بھائی بندوں کا خیال ہے وہ کیا خدا سے بھی زیادہ تمہیں عزیز ہیں۔ ان کی عزت کا خیال کر کے مجھے چھوڑتے ہو اور خدا کو تم نے پس پشت ڈال رکھا ہے۔ جس کی عزت کے سامنے کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 89–99

[49] اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ قوم لوط کا زمانہ بھی تم سے کچھ ایسا دور نہیں۔ ابھی حال ہی کی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 91–92

(ف 1) جب قومیں جذبہ دینداری سے عاری ہوجائیں اور ان کا نصب العین دنیا کی پوجا قرار پائے ، جب ہوائے نفس کے بادل قلب و دماغ پر چھا جائیں ، اور دن رات حصول زر کا خیال دامن گیر ہو ، جب دنیا مقصود ٹھہرے اور دین دوسرے درجے کی چیز رہ جائے تو اس وقت پند ونصیحت بیکار ہے ، پھر اخلاقی وعظ ان کے دلوں میں اثر انداز نہیں ہوتے ، اور نہ طبیعتیں قبول حق کے لئے آمادہ ہوتی ہیں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم دنیا داری کے ان درجات کو طے کرچکی تھی ، زر طلبی اور ہوس رانی ، زندگی کا شعار قرار پا چکا تھا ، اس لئے صداقت وسچائی کی راہوں میں کامیابی انہیں مشکل نظر آئی انکی سمجھ میں نہیں آتا تھا ، کہ دیانتداری کو ملحوظ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

91 قوم کے لوگوں نے کہا اے شعیب (علیہ السلام) تو جو کچھ کہتا ہے تیری کہی ہوئی بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتی اور ہم تجھ کو اپنی قوم میں بہت کمزور پاتے ہیں اور اگر تیرے خاندان والوں کا لحاظ اور پاس نہ ہوتا تو ہم تجھ کو کبھی کا سنگسار کرچکے ہوتے اور تو ہم پر کسی طرح بھی غالب اور ذی اقتدار نہیں ہے یعنی تمہاری باتیں جب سمجھ میں نہیں آتیں اس لئے قابل توجہ نہیں تیرے خاندان کا خیال ہے ورنہ اب تک تجھ کو ہم قتل کر ڈالتے اور تیرا سر پتھروں سے کچل دیتے کیونکہ تیری توقیر اور کچھ عزت تو قوم میں ہے نہیں نہ تیرے پاس کوئی حکومت اور اقتدار ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 91–92

ف 2۔ مطلب ان کا یہ تھا کہ تم ہم کو یہ مضامین مت سناو ورنہ تمہاری جان کا خطرہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قوم کے لوگوں نے جواب دیا کہ اے شعیب ! تیری اکثر باتیں تو ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ۔ 116 قوم کے لوگوں اور خصوصاً سرداروں نے شعیب (علیہ السلام) کی یہ آخری نصیحت کو بھی سن کر جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ ” اے شعیب ! ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ تو کیا کہتا ہے ؟ اور ہماری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ تو آخر ہے کیا ؟ تو ہم سب میں آخر ایک کمزور اور نادار ہی تو ہے اگر تیری یہ باتیں سچی ہوتیں تو تیری زندگی ہم سے زیادہ اچھی ہوتی اور ہم کو صرف تیرے خاندان کا خوف نہ ہوتا تو آج سے بہت پہلے ہی تجھ کو سنگسار کردیا ہوتا اور تو ہم پر کبھی غلبہ نہ حاصل کرسکتا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے مقابلہ میں آخر تیری حیثیت ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 89–111

After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said: وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you. The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 91–97

102. When Shu'ayb's people stated that they did not understand much of what Shu'ayb said, they did not say so because Shu'ayb (peace be on him) spoke in some foreign language, or because he talked in an ambiguous or complicated manner. On the contrary, Shu'ayb's teaching was quite clear and simple and was conveyed to his people in a language they fully understood - their own. The difficulty in understanding Shu'ayb's teaching arose from the fact that his people had become simply too perverse to grasp it. It is always the case that when some people become fully seized by their prejudice, are…

Read the full tafseer →