Hud 11:90

Hud · from ayah 90

11:90

وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ ؕ— اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ ۟وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ‌ؕ اِنَّ رَبِّىۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ‏

اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بےشک میرا پروردگار رحم والا (اور) محبت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And ask forgiveness of your Lord and then repent to Him. Indeed, my Lord is Merciful and Affectionate."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 8 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:90

دیکھو! اپنے رب سے معافی مانگو اور اس کی طرف پلٹ آؤ، بے شک میرا رب رحیم ہے اور اپنی مخلوق سے محبت رکھتا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بےشک میرا پروردگار رحم والا (اور) محبت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم اپنے رب سے استغفار کرو اور اس کی طرف توبہ کرو، یقین مانو کہ میرا رب بڑی مہربانی واﻻ اور بہت محبت کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تم اپنے رب سے معافی مانگو، پھر اسی کی طرف رجوع کرو، یقین رکھو کہ میرا رب بڑا مہربان، بہت محبت کرنے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اپنے رب سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ، بیشک میرا رب مہربان محبت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم اپنے رب سے مغفرت مانگو پھر اس کے حضور (صدقِ دل سے) توبہ کرو، بیشک میرا رب نہایت مہربان محبت فرمانے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آؤ، بیشک میرا رب نہایت رحم والا، بہت محبت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اپنے پروردگار سے معافی مانگو اور اسی کے آگے توبہ کرو۔ میرا پروردگار یقینا رحم کرنے والا اور (اپنی مخلوق سے) محبت رکھنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اپنے رب سے مغفرت مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ بیشک میرا رب نہایت مہربان اور بڑی محبت کرنے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور معافی مانگو تم سب اپنے رب سے (اپنے گزشتہ کئے کرائے کی) پھر اسی کی طرف رجوع کرو (اپنے آئندہ کے لئے) بیشک میرا رب بڑا ہی مہربان نہایت ہی محبت رکھنے والا ہے (اپنی مخلوق سے،)

— مولانا اسحاق مدنی

اور اپنے پروردگار سے اپنے گناہ معاف کراؤ پھر اس کی طرف توجہ کرو بیشک میرا پروردگار بڑا رحمت والا ہے بڑا محبت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور استغفار کرو اپنے رب سے پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ یقیناً میرا رب رحیم بھی ہے محبت فرمانے والا بھی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اپنے رب سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو، بیشک میرا رب رحم والا اور محبت والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Seek the forgiveness of your Lord and turn to Him in repentance. Surely my Lord is Ever Merciful, Most Loving.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Seek forgiveness from your Lord, then turn towards Him in repentance. Surely, my Lord is very merciful, most loving.

— Muhammad Taqi Usmani

Seek forgiveness from your Lord, then turn towards Him in repentance. Surely, my Lord is very merciful, most loving.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And ask forgiveness of your Lord and turn unto Him in repentance. Verily, my Lord is Most Merciful, Most Loving."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Ask pardon of your Lord and then turn unto Him (repentant). Lo! my Lord is Merciful, Loving.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And ask forgiveness of your Lord and then repent to Him. Indeed, my Lord is Merciful and Affectionate."

— Saheeh International

Seek forgiveness from your Lord and turn to Him in repentance. My Lord is certainly All-merciful and Loving."

— Muhammad Sarwar

And ask forgiveness of your Lord, then turn to Him; surely my Lord is Merciful, Loving-kind.

— Muhammad Habib Shakir

And ask forgiveness of your Lord, and then repent unto him; verily my Lord is Merciful, Loving.

— Abdul Majid Daryabadi

"But ask forgiveness of your Lord, and turn unto Him (in repentance): For my Lord is indeed full of mercy and loving-kindness."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:90

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 89–90

میری عداوت میں اپنی بربادی مت مول لو فرماتے ہیں کہ میری عداوت اور بعض میں آکر تم اپنے کفر اور اپنے گناہوں پر جم نہ جاؤ ورنہ تمہیں وہ عذاب پہنچے گا جو تم سے پہلے ایسے کاموں کا ارتکاب کرنے والوں کو پہنچا ہے۔ خصوصاً قوم لوط جو تم سے قریب زمانے میں ہی گذری ہے اور قریب جگہ میں ہے تم اپنے گذرشتہ گناہوں کی معافی مانگو۔ آئندہ کے لیے گناہوں سے توبہ کرو۔ ایسا کرنے والوں پر میرا رب بہت ہی مہربان ہوجاتا ہے اور ان کو اپنا پیارا بنا لیتا ہے ابو لیلی کندی کہتے ہیں کہ میں اپنے مالک کا جانور تھامے کھڑا تھا۔ لوگ حضرت عثمان ؓ کے گھر کو گھیرے ہوئے تھے آپ نے اوپر سے سر بلند کیا اور یہی آیت تلاوت فرمائی۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة هُوْد 101 یعنی اللہ تعالیٰ سنگ دل اور بے رحم نہیں ہے۔ اس کو اپنی مخلوقات سے کوئی دشمنی نہیں ہے کہ خواہ مخواہ سزادینے ہی کو اس کا جی چاہے اور اپنے بندوں کو مار مار کر ہی وہ خوش ہو۔ تم لوگ اپنی سرکشیوں میں جب حد سے گزر جاتے ہو اور کسی طرح فساد پھیلانے سے باز ہی نہیں آتے تو تب وہ بادلِ ناخواستہ تمہیں سزا دیتا ہے۔ ورنہ اس کا حال تو یہ ہے کہ تم خواہ کتنے ہی قصور کر چکے ہو، جب بھی اپنے افعال پرنادم ہو کر ا سکی طرف پلٹو گے اس کے دامن رحمت کو اپنے لیے وسیع پاؤگے۔ کیونکہ اپنی پیدا کی ہوئی مخلوق سے وہ بے پایاں محبت رکھتا ہے۔ اس مضمون کو نبی ﷺ نے د و نہایت لطیف مثالوں سے واضح فرمایا ہے۔ ایک مثال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 89–95

اس پند و نصیحت کے بعد پھر ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا، (آیت) وَيٰقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِيْٓ اَنْ يُّصِيْبَكُمْ مِّثْلُ مَآ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ ۭ وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ ، یعنی تم سوچو سمجھو، ایسا نہ ہو کہ میری مخالفت اور عداوت تم پر کوئی ایسا عذاب لا ڈالے جیسا تم سے پہلے قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح (علیہم السلام) پر آچکا ہے، او لوط ؑ کی قوم اور ان کا عبرتناک عذاب تو تم سے کچھ دور بھی نہیں، یعنی مقامی اعتبار سے بھی قوم لوط کی الٹی ہوئی بستیاں مدین کے قریب ہی ہیں اور زمانہ کے اعتبار سے بھی تم سے بہت قریب زمانہ میں ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ ۭ اِنَّ رَبِّيْ رَحِيْمٌ وَّدُوْدٌ۔ یعنی خیریت چاہتے ہو تو میری بات سنو اور اپنے گناہوں کی اپنے رب سے معافی مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ رجوع سے یہ مراد ہے کہ اپنی موجودہ روش سے باز آ کر وہ راہ اختیار کرو جو خدا کی پسندیدہ راہ ہے اور جس کی طرف میں تمہیں بلا رہا ہوں۔ یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ توبہ کے دو بنیادی رکن ہیں ایک استغفار، دوسرا اصلاح یعنی آدمی اپنے رب اپنے جرائم کی معافی بھی مانگے اور صحیح راہ اختیار کر کے عملاً اپنے رویہ کی اصلاح کا ثبوت بھی دے۔ اس کے بغیر کوئی توبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں درخورِ قبول نہیں ٹھہرتی۔ اِنَّ رَبِّيْ رَحِيْمٌ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 89–90

89۔ 1 یعنی ان کی جگہ تم سے دور نہیں، یا اس سبب میں تم سے دور نہیں جو ان کے عذاب کا موجب بنا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 88–92

56: اس رزق سے مراد کھانے پینے وغیرہ کا سامان بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدھے سیدھے طریقے سے مجھے رزق عطا فرمایا ہے تو میں اس کے حصول کے لیے وہ غلط طریقے کیوں اختیار کروں جو تم کرتے ہو ؟ اور رزق سے یہاں مراد نبوت بھی ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کو وعظ و نصیحت یاد دہانی اور تخویف اور اچھے انجام کی یقین دہانی اور تمام دوسرے ذرائع سے راہ راست پر لانے کی سعی کرتے ہیں۔ ہر حربہ استعمال کرتے ہیں کہ ان کے دل نرم ہوجائیں۔ ان کے اندر خدا خوفی پیدا ہوجائے۔ لیکن ان لوگوں کے دل انتہائی درجے تک بگاڑ اور فساد میں مبتلا ہوگئے تھے۔ ان کا تصور حیات ہی غلط تھا ، اس لیے ان کی روش بھی غلط تھی۔ چناچہ وہ ان کی پرسوز گفتگو کے نتیجے میں سرکشی کی راہ میں مزید آگے بڑھ جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 کیسا ہی پرانا اور کٹر مجرم ہو جب صدق دل سے اس کی بارگاہ میں رجوع ہو کر معافی چاہے وہ اپنی مہربانی سے معاف کردیتا ہے۔ بلکہ اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 90 وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ ۭ اِنَّ رَبِّيْ رَحِيْمٌ وَّدُوْدٌ اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو اور اس کی طرف پلٹ آؤ۔ اس کی عبادت اور اطاعت شعاری اختیار کرو تو تم اس کے دامن رحمت کو اپنے لیے وسیع پاؤ گے۔ وہ انتہائی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے محبت رکھنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

102 تمہارے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ میری باتوں پر مشتعل ہونے اور چڑنے کے بجائے اللہ سے اپنے پہلے گناہوں کی معافی مانگو اور آئندہ ایسے کام نہ کرنے کا اللہ سے عہد کرو۔ پھر صرف یہی نہیں کہ اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا بلکہ تم سے خوش ہوگا اور تم سے محبت بھی کرنے لگے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

134۔ چناچہ وہ صفت رحمۃ کے تقاضہ سے گناہوں کو معاف کردے گا اور صفت ود کے تقاضہ سے طاعتوں کو قبول کرے گا۔ (آیت) ” توبوا الیہ “۔ یعنی اس کی طرح رجوع طاعت و عبادت کے ساتھ کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 84–95

آیت نمبر 84 تا 95 ترجمہ : اور ہم نے اہل مدین کی جانب ان کے بھائی شعیب کو بھیجا انہوں نے کہا میرے برادران قوم اللہ کی بندگی کرو یعنی اس کو ایک سمجھو، اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں، اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو، میں تم کو خوش حالی میں دیکھ رہا ہوں جس کی وجہ سے تم کو تولنے اور کم ناپنے سے مستغنی ہو، اگر تم ایمان نہ لائے تو مجھے تمہارے بارے میں تم کو گھیرنے والے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جو تم کو ہلاک کر دے گا، اور یوم کی صفت محیط مجاز ہے عذاب کے اس میں واقع ہونے کی وجہ سے، اور اے میرے برادران قوم تم انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ پہنچاؤ، (یعنی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واستغفروا ربکم اور اپنے رب سے (گذشتہ شرک و معاصی کی) معافی طلب کرو۔ یعنی ایمان لے آؤ اور گذشتہ گناہوں پر پشیمانی کا اظہار کرو اور معافی مانگو۔ ثم تو بوا الیہ پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ آئندہ اس کے احکام کی تعمیل کرو اور ممنوعات سے باز رہو۔ ان ربی رحیم ودود بلاشبہ میرا رب (توبہ کرنے والے مؤمنوں پر) بڑا مہربان اور (ان سے بڑی) محبت کرنے والا ہے۔ ودود بروزن فعول اسم فاعل کے معنی میں بھی آتا ہے اور اسم مفعول کے معنی میں بھی۔ اللہ مؤمنوں سے محبت کرنے والا ہے اور مؤمن اللہ سے محبت کرتے ہیں ‘ پس وہ محب بھی ہے اور محبوب بھی۔ اوّل آیات میں حضرت شعیب نے کفر و معصیت پر جمے رہنے کی صورت میں عذاب الٰہی سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(90) لہذا اپنے رب سے توحید کے ذریعے اپنے گناہوں کو معاف کراؤ اور توبہ واخلاص کے ساتھ اسی کی طرف رجوع کرو اور میرا پروردگار اپنے مومن بندوں پر بڑا ہی رحم کرنے والا اور بذریعہ مغفرت وثواب کے ان پر بڑا ہی شفقت کرنے والا ہے یا یہ کہ بڑا ہی محبت والا ہے اور طاعت کو قبول کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ رَبِّيْ رَحِيْمٌ وَّدُوْدٌ : یعنی میرا رب اپنے بندوں پر نہایت رحم کرنے والا، بہت محبت کرنے والا ہے، اسی لیے اس نے تمہیں پہلے خبردار کرنے کا انتظام فرمایا کہ تم آئندہ کے لیے باز آجاؤ اور پچھلے کی معافی مانگو اور اپنے اعمال کے انجام بد سے بچ جاؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 84–95

آیت نمبر 84 تا 95 اللہ تعالیٰ کا ارشاد والیٰ مدین اخاھم شعیبا یعنی وارسلناإلی مدینہم نے مدین کی طرف بھیجا، مدین حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ ان کی وجہ تسمیہ کے متعلق دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ وہ مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ مدین کہا گیا ہے جب کہ مراد بنو مدین ہیں۔ جس طرح مضر کہا جاتا ہے اور مراد بنومضر ہوتے ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ان کے شہر کا نام ہے اس لیے اس کی طرف ان کو منسوب کردیا گیا۔ نحاس نے کہا : مدین غیر منصرف ہئ، کیونکہ یہ شہر کا نام ہے، سورة اعراف میں یہ معنی گزرچکا ہے اور کچھ اس سے زیادہ بھی۔ قال یٰقوم اعبدوا اللہ مالکم من الٰہٍ غیرہ (اس کی تفسیر) گزر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 89–97

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقوم لا یجرمنکم شقاقی “ یعنی تم کو نہ آمادہ کرے میری جدائی۔ 2:۔ ابن منذر (رح) نے مجاہد رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” شقاقی “ سے مراد ہے میری دشمنی۔ 3:۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر (رح) نے جوہر کے راستہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اے میری قوم ! یاد کروتم قوم نوح کو قوم عاد کو اور قوم ثمود کو (آیت) ” وما قوم لوط منکم ببعید “ اور لوط کی قوم ان سے زیادہ قریب تھی شعیب تک اور ان کا ہلاکت کا زمانہ ان سے زیادہ قریب تھا۔ (آیت) ” واستغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ ان ربی رحیم “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاسْتَغْفِرُوْا : اور تم لوگ مغفرت مانگو ] [رَبَّكُمْ : اپنے رب سے ] [ ثُمَّ : پھر ] [ تُوْبُوْٓا : تم لوگ پلٹو ] [ اِلَيْهِ : اس کی طرف ] ان : بیشک ] [رَبِيْ : میرا رب ] [رَحِيْمٌ: ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ] [ وَّدُوْدٌ: بےانتہا محبت کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 88–90

حضرت شعیب کا قوم سے فرمانا کہ جہاں تک ہو سکے میں اصلاح چاہتا ہوں اور میری مخالفت تم پر عذاب آنے کا سبب نہ بن جائے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جب مدین والوں کو حق کی طرف بلایاتوحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ زمین میں فساد مت مچاؤ تو ان لوگوں نے ان کا مذاق بنایا اور بےت کے جواب دئیے اور توحید قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے اس پر حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم ہی بتاؤ اگر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل پر ہوں حق بات کہتا ہوں اور حق کی طرف بلاتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت بڑی رحمت یعنی نبوت سے نوازا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں تبلیغ کرنا اور حق کی دعوت دینا چھوڑ دوں اور پھر یہ بھی سمجھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 84–95

قصہ شعیب (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ والی مدین اخاھم شعیبا .... الیٰ .... الا بعدا لمدین کما بعدت ثمود۔ (ربط) یہ چھٹا قصہ شعیب (علیہ السلام) کا ہے جو خطیب الانبیاء کے لقب سے معروف ہیں اور مدین کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ لوگ بڑے سرمایہ دار تھے انکا مذہب یہ تھا کہ ہم اپنے مالوں کے تصرف میں آزاد اور مختار ہیں ( جیسا کہ آج کل کے سرمایہ دار کہتے ہیں) جس طرح چاہیں ان میں تصرف کریں حضرت شعیب (علیہ السلام) یہ فرماتے تھے کہ یہ اموال اگرچہ تمہارے مملوک ہیں مگر تمہاری ملکیت مالک حقیقی کی ملکیت اور اس کے حکم کے ماتحت ہے۔ امانت اور دیانت کے ساتھ اور صحیح کمیل اور وزن کے ساتھ تم اس میں تصرف کرسکتے ہو یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 89–90

78:۔ میری قوم تم میری مخالفت میں اس قدر سرگرمی نہ دکھاؤ۔ میری مخالفت تمہیں قوم نوح، قوم ہود، قوم صالح اور قوم لوط کی طرح اللہ کے عذاب اور اس کے قہر و غضب کا مستحق نہ بنا ڈالے۔ وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُممْ الخ شرکشی نہ کرو اپنے سابقہ گناہوں کی اللہ سے معافی مانگو اور اللہ کی توحید کو قبول کرلو وہ تمہارے تمام گناہ معاف فرما دے گا کیونکہ وہ بڑا مہربان اور توبہ کرنے والوں سے محبت کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 87–90

ربط آیات حضرت شعیب (علیہ السلام) کے واقعہ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے ان کی تبلیغ کا ذکر کیا کہ انہوں نے قوم کو غیر اللہ کی عبادت سے منع کیا اور ماپ تول میں کمی کے ذریعے لوگوں کی حق تلفی کرنے سے ڈرایا۔ یہ دونوں قبیح چیزیں ہیں شرک اور کفر اعتقادی نجاست ہے جب کہ حقوق کا ضیاع اخلاقی گندگی ہے۔ شعیب (علیہ السلام) نے لوگوں کو سمجھایا کہ اپنے مال میں تمام حقوق ادا کرنے کے بعد جو کچھ بچ رہے گا اسی میں تمہارے لئے بہتری ہے اور اسی کا نتیجہ تمہارے حق میں اچھا ہوگا مگر آپ کی قوم نے آپ کی اس پاکیزہ نصیحت کا نہایت ہی قبیح جواب دیا ۔ آج کے درس میں قوم کا جواب ہے اور پھر حضرت شعیب (علیہ السلام) کی مزید…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْہِ۝ 0ۭ اِنَّ رَبِّيْ رَحِيْمٌ وَّدُوْدٌ۝ 90 استغفار الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، والاسْتِغْفَارُ : طلب ذلک بالمقال والفعال، وقوله : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] ( غر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اور استغفار کے معنی قول اور عمل سے مغفرت طلب کرنے کے ہیں لہذا آیت کریمہ : ۔ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ بڑا معاف کر نیوالا ہے ۔ توب التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 84–93

تفسیر : اس کے بعد پانچواں واقعہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بیان فرماتا ہے جو اہل مدین کی طرف رسول بنا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں بھیجے گئے تھے۔ اس قوم کی عادت بت پرستی اور بدکاری کے علاوہ کم تولنا ‘ خیانت ‘ دغابازی کرنے کی بھی تھی جس کو وہ اپنے مال میں تصرف جائز سمجھ کر طعن کی راہ سے کہتے تھے کہ ایک آپ ہی تو بڑے اچھے شخص ہیں اور ان کی نماز پر طعن کرکے کہتے تھے کہ کیا آپ کی نماز ہم کو بت پرستی سے منع کرتی ہے ؟ باقی قصہ صاف ہے۔ یہ مدین وہی جگہ ہے کہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون سے بھاگ کر آئے تھے اور یہ وہی شعیب (علیہ السلام) ہیں کہ جن کی ایک صاحبزادی سے آپ کی شادی ہوئی تھی۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْ ٓا اِلَیْہِ ط اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ۔ (سورۃ ہود : 90) (اور اپنے رب سے مغفرت طلب کرو، پھر اسی کی طرف رجوع کرو۔ بیشک میرا رب بڑا مہربان اور بہت پیار کرنے والا ہے۔ ) استغفار و توبہ کی ترغیب ایک ایسی قوم جو اللہ کے رسول کی دعوت سے دشمنی کا رشتہ استوار کرچکی ہے۔ وہ رسول کی جان کے درپے ہے اور اس کی دعوت کی ہر بات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ایسی قوم کے بارے میں انتہائی غیرجانبدار شخص کو بھی اگر فیصلہ کرنے کے لیے بھی کہا جائے تو وہ بھی یقینا یہی کہے گا کہ ایسی قوم کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ لیکن اللہ کے رسولوں کی صداقت اور ان کے من جانب اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 89–90

فہم القرآن ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قوم کو دوسرا جواب اور خدشہ کا اظہار۔ اس سے پہلے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یہ سمجھایا تھا کہ میں مخالفت برائے مخالفت کی بنیاد پر تمہیں برائی سے نہیں منع کرتا۔ میرا مقصد تو تمہاری اصلاح کرنا ہے۔ مگر قوم ان کی بات سمجھنے کی بجائے تعصب اور ضد کی بنیاد پر مخالفت برائے مخالفت میں آگے ہی بڑھتی گئی۔ اس صورت حال پر جناب شعیب (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا کہ اے میری قوم تمہاری مخالفت اور ہٹ دھرمی تمہیں اس مقام پر لاکر کھڑا نہ کردے جس جگہ پر پہنچ کر حضرت نوح، حضرت ھود، حضرت صالح اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم تباہ ہوئی تھی۔ جہاں تک قوم لوط…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

90: وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْا اِلَـیْہِ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ (تم اپنے رب سے شرک و معاصی کی معافی مانگو پھر اسکی طرف رجوع کرو بیشک میرا رب مہربان ہے) رحیم ہے کہ اہل جفاء کو ایمان والوں میں سے بخش دیتا ہے وَّدُوْدٌ (محبت کرنے والا ہے) اہل وفاء صالحین سے محبت کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 90” واستغفروا ربکم ثم توبوا الیہ ان ربی رحیم ودود “ ودود کے دو معنی ہیں ۔ ایک یہ کہ مؤمنین سے محبت کرنے والا ہے اور دوسرا یہ کہ مؤمنوں کا محبوب ہے اور حدیث میں آیا ہے کہ شعیب (علیہ السلام) خطیب الانبیاء (علیہم السلام) تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 89–90

89۔ 90۔ پھر حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ میری ضد میں آکر کبھی تم اپنی بات پر نہ اڑے رہنا میرے کہنے پر عمل کرو نہیں تو جس طرح نوح (علیہ السلام) اور ہود (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب آیا اور ہلاک ہوگئے اسی طرح تم پر بھی عذاب آجائے گا اور پھر کچھ نہ بن آئے گا ابھی کچھ زیادہ دن نہیں ہوئے کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم ہلاک ہوچکی ہے کل کی بات ہے وہ سرزمین بھی کچھ زیادہ دور نہیں قریب ہی ہے تم کو واجب ہے توبہ استغفار کرو خدا مہربان ہے اپنے بندوں سے اس کو محبت ہے وہ تمہاری توبہ قبول کرے گا اور گناہ بخش دے گا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) ” اور اپنے رب سے بخشش مانگو۔ “ یعنی تم سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوا ہے ان پر بخشش طلب کرو۔ (آیت) ” پھر اس کے حضور توبہ کرو۔ “ تمام عمر میں آئندہ گناہوں پر خالص توبہ کرو اور اس کی اطاعت اور ترک مخالفت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو (آیت) ” بیشک میرا رب رحم والا، محبت والا ہے۔ “ یعنی جو کوئی توبہ کرکے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے، اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے اسماء حسنی میں (الودود) کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے ہیں۔ (ودود) (فعول) کے وزن پر ” فاعل “…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 87–112

حقیقی نمازی مشرک نہیں ہوسکتا قول باری ہے اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباء نا او ان فعل فی اموالنا ما تشاء کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی حیثیت نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے کی طرح ہے چناچہ ارشاد باری ہے ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

184 ۔ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت و محبت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ بیشک میرا رب بڑا ہی مہربان، نہایت ہی محبت کرنے والا ہے۔ ایسا مہربان اور اتنی محبت کرنے والا رحیم ودود کہ عمر بھر کا گنہگار اور گناہوں میں سراپا ڈوبا ہوا انسان بھی اگر اس کے حضور سچے دل سے توبہ کرکے رجوع کرلے تو جل جلالہ اس کو بھی معاف فرما دیتا ہے اور اس کو سب گناہوں کی میل سے بالکل پاک و صاف کردیتا ہے اور جب وہ انسان کا خالق اور موجد ہے تو اس کی اس رحمت و مہربانی اور محبت و مودت کا جو اس کو اپنے بندوں سے ہے اندازہ ہی کون کرسکتا ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ فایاہ نسال ان یغفرلنا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 84–95

سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی گمراہی اور عذاب تشریح : یہاں قوم مدین کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ قوم مدین اور اس کے نواحی علاقوں میں آباد تھی۔ بحر احمر کا وہ مقام جہاں جزیرہ نمائے عرب کی دو تجارتی شاہراہیں آکر ملتی تھیں یمن و شام اور عراق و مصر کے قافلے یہیں سے گزرتے تھے، یعنی مدین بہت بڑی تجارتی منڈی تھی اسی لیے وہاں کے لوگ بڑے آسودہ حال تھے۔ مگر ان میں بت پرستی، عیش پرستی اور ناپ تول میں بددیانتی کی عادت حد سے بڑھ چکی تھی اور اس حرام خوری کی وجہ سے ان میں تمام اخلاقی برائیاں، اللہ سے دوری اور حرص و لالچ پیدا ہوچکا تھا دیکھا جائے تو مال کی حرص بہت سی اخلاقی برائیوں کی جڑ ہے یہی حال ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 84–95

آیات 84 تا 95 اسرار و معارف شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا حال بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ مدین جو ملک شام کا مشہور شہر تھا اس کے رہنے والوں کی طرف ان ہی میں سے شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ شجرپرستی میں مبتلا تھے اور مختلف درختوں کی پوجا کرتے تھے جیسے ہندومت میں آج بھی یہ بات پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ان کا لین دین بھی ہندؤوں جیسا تھا ڈنڈی مارنے سے نہ چوکتے ناپ تول میں کمی کردیتے ۔ سونے کے سکوں میں سے تھوڑابہت سونا کاٹ لیتے اور سکہ پوری قیمت پر چلتا کردیتے۔ ناپ تول میں کمی چنانچہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی اور فرمایا اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ لہٰذا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:90) ودود۔ صیغہ مبالغہ، محبت کرنے والا۔ ثواب دینے والا۔ الود۔ کے معنی ہیں کسی چیز سے محبت کرنا اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا۔ ودیود (سمع) ود و مودۃ مصدر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 89–95

لغات القرآن آیت نمبر 89 تا 95 لایجرمن (مجرم نہ بنا دے) شقاق (ضد، ہٹ دھرمی) ان یصیب (یہ کہ پہنچے گی) ودود (محبت کرنے والا) مانفقہ (ہم نہیں سمجھتے ) ضعیف (کمزور) رھط (خاندان، قبیلہ) رجمنا (ہم رجم کرتے (پتھر مار مار کر ہلاک کرنا) عزیز (زبردست، قوت و طاقت والا) اعز (زیادہ طاقتور، زیادہ قوت والا) اعز (زیادہ، طاقتور، زیادہ قوت والا) ظھری (پشت، پیٹھ) محیط (گھیرنے والا) عامل (کام کرنے والا) مکان (جگہ) یخزی (رسوا کر دے گا) کاذب (جھوٹ بولنے والا) ارتقبوا (نگرانی کرو، انتظار کرو) رقیب نگران الصیحۃ (چنگھاڑ تیز آواز) اصبحوا (وہ رہ گئے) جثمین (اوندھے پڑے رہنے والے) لم یغنوا (آباد نہ تھے) بعدت (دور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 89–90

حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ میری ضد میں آکر کبھی تم اپنی بات پر نہ اڑے رہنا۔ میرے کہنے پر عمل کرو نہیں تو جس طرح نوح (علیہ السلام) اور ہود (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب آیا اور ہلاک ہوگئے۔ اسی طرح تم پر بھی عذاب آجائے گا اور پھر کچھ بن نہ آئے گا۔ ابھی کچھ زیادہ دن نہیں ہوئے کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم ہلاک ہوچکی ہے۔ کل کی بات ہے وہ سرزمین بھی کچھ زیادہ دور نہیں قریب ہی ہے۔ تم کو واجب ہے توبہ استغفار کرو، خدا مہربان ہے اپنے بندوں سے اس کو محبت ہے وہ تمہاری توبہ قبول کرلے گا اور گناہ بخش دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 89–99

[49] اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ قوم لوط کا زمانہ بھی تم سے کچھ ایسا دور نہیں۔ ابھی حال ہی کی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 88–90

(ف 2) قوم کے اعتراضات کے جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں ، درست ہے ، دلائل کی بنا پر کہہ رہا ہوں ، وہ تجارت یا لین دین کامیاب ہے جو صداقت اور دیانتداری پر مبنی ہو ، میری نیکی سے تم یہ توقع نہ رکھو ، کہ میں ان برائیوں کو نہیں سمجھتا ، اور تمہارا ان میں ساتھ دوں گا میں تو اصلاح چاہتا ہوں ، مجھے تمہاری مخالفت کی پروا نہیں ، کیونکہ میرا تعلق خدائے برتر سے ہے ۔ حل لغات : شقاقی ، میری عداوت ۔ شق سے مشتق ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

90 اور تم اپنے رب سے انے گناہ بخشوائو اور کفرو شرک سے توبہ کرو پھر آئندہ بھی عبادت کے ساتھ اسی کی طرف متوجہ ہو بلاشبہ میرا رب نہایت مہربان بڑی محبت کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 87–90

ف 4۔ یعنی جن باتوں سے ہم کو منع کرتے ہو ان میں کوئی برائی نہیں حلیم ورشد تمسخر سے کہا جیسے بددینوں کی عادت ہوتی ہے دین داروں کے ساتھ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ لوگو ! اللہ سے معافی مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو ۔ 115 اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے شعیب (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو مزید نصیحت فرمائی اور فرمایا کہ ” اللہ کی طرف لوٹ جائو اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو ، میرا پروردگار بڑا ہی رحمت والا ، بڑا ہی محبت والا ہے۔ ‘ ‘ شعب (علیہ السلام) کی اپنی قوم کے نام یہ آخری نصیحت ہے جو آپ نے نہایت ہی دل گداز انداز سے فرمائی اور فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اچھی طرح سن لو کہ اللہ تعالیٰ سنگ دل اور بےرحم نہیں ہے اور نہ ہی اس کو اپنی مخلوق سے کوئی دشمنی ہے کہ وہ خواہ مخواہ سزائیں سنا کر ہی خوش ہوتا ہو اور اپنے بندوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 89–111

After having given this good counsel to them, he warned them of the punishment of Allah Ta` ala. He said: وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ And 0 my people, let not your hostility towards me cause you to suffer what was suffered by the people of Nuh, or the people of Hud, or the people of Salih. And the people of Lut are not far from you. The sense of the last sentence is that the overturned habitations of the people of Sayyidna Lut (علیہ السلام) were close to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

101. God is neither callous nor merciless. He has no enmity towards His own creatures. It cannot even be conceived that God would want to punish people just for the fun of it. It is only when people exceed all reasonable limits and exercise no restraint in their wickedness that God punishes them, and then only reluctantly. He is so prone to forgiveness that no matter how sinful a person may have become, God's mercy encompasses him if only he sincerely repents and turns to God. For God's love and compassion for His creatures is simply immense. The Prophet (peace be on him) fully illustrated…

Read the full tafseer →