11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 11:1–8

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

الٓر ۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم کی گئی ہیں پھر (اللہ) حکمت والے اور خبر رکھنے والے کی طرف سے کھول کر بیان کردی گئی ہیں

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو بیشک میں اس کی طرف سے تم کو (ایمان نہ لانے پر) ڈر سنانے والا اور (ایمان لانے پر) خوشخبری دینے والا ہوں

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنے پروردگار سے بخشش مانگو پھر اس کے سامنے توبہ کرو وہ تمہیں وقت مقررہ تک (حیات دنیا میں) اچھی اچھی نعمتیں عطا فرمائے گا اور ہر زیادہ عمل کرنے والے کو زیادہ عطا فرمائے گا۔ اور اگر روگردانی کرو گے تو بیشک مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن (قیامت) کے عذاب کا ڈر ہے

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

تم (سب) کو اللہ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہیں

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

دیکھیں ! یہ لوگ اپنے سینوں کو لپیٹے ہوئے ہیں تاکہ (اندر کی باتیں) اس (اللہ) سے چھپالیں یاد رکھو ! جب یہ اپنے کپڑے لپیٹتے ہیں تو وہ (یعنی اللہ اس حالت میں بھی) جانتے ہیں۔ جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ بیشک وہ تو دلوں کی باتوں کی خبر رکھتے ہیں

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور زمین پر جو بھی کوئی چلنے پھرنے والا ہے اس کا رزق اللہ کے ذمہ ہے اور وہ ہر ایک کی زیادہ رہنے اور کم رہنے کی جگہ کو جانتے ہیں سب کچھ کتاب روشن میں (لکھا ہوا) ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا اور (اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا (تمہارے پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے) تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں بہتر عمل کرنے والا کون ہے۔ اور اگر آپ فرمائیں کہ یقینا تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کرکے) اٹھائے جاؤ کے تو کافر لوگ ضرور کہتے ہیں یہ (بعثت کی خبر) تو صاف صاف جادو ہے

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر کچھ عرصہ کے لئے (حیات دنیا میں) ہم ان سے عذاب کو موخر رکھتے ہیں تو ضرور کہیں گے اس (عذاب) کو کس چیز نے روک رکھا ہے (آتا کیوں نہیں) ؟ دیکھو ! جسن دن وہ ان پر آجائے گا تو ان سے ٹلے گا نہیں اور جس چیز کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے اور ان کو گھیر لے گی

آیات 1 تا 8 اسرار و معارف الر حروف مقطعات ہیں جن کا علم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ہے یا جیسے رب چاہے سمجھ عطاکردے مگر تلاوت سب کے لئے ہے اور فائدہ بھی سب کو پہنچتا ہے۔ یہ ایسی بےمثال کتاب ہے کہ اس کی آیات محکم یعنی ناقابل تبدیل ہیں اگرچہ پہلے بھی آسمانی کتب نازل ہوتی رہیں مگر ان کی آیات اور احکام خاص قوموں یا ملکوں کے لئے اور خاص زمانوں کے لئے تھے جو بعد میں نزول قرآن سے بھی کلی طور پر منسوخ ہوگئے مگر یہ کتاب بیک وقت ساری انسانیت کے لئے تمام ملکوں کے لئے اور سب زمانوں کے لئے ہے اور اس کے احکام ہر دور اور ہر ملک میں قابل عمل بھی ہیں لہٰذا یہ ہمیشہ کے لئے ہے اور کسی بھی امر میں کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں چھوڑتی ایک ایک بات عقائد ہوں یا اعمال سیاسیات ہوں یا اخلاقیات معیشت ہو یا معاشرت کھول کھول کر بیان کرتی ہے ۔ اور کیوں نہ ہو جبکہ اس کے نازل کرنے والی ہستی ہی صاحب حکمت بھی ہے اور ہر بات اور ہر حال سے باخبر بھی نیز اس کے تمام احکام واخبار کا ماحصل یہ ہے کہ بندے کو خالق حقیقی سے آشنا کردے اور اس کا سر اللہ کے سوا کسی بھی دوسری چوکھٹ پہ نہ جھکے یہی برکات انسانوں تک پہنچانا اللہ کے رسول ﷺ کافریضہ رسالت ہے فرمایا انھیں بتادیجئے کہ بیشک اس کتاب میں یہ تمام کمالات موجود ہیں مگر یہ میرامنصب ہے کہ جن خطرات سے قبل ازوقت یہ کتاب آگاہ فرماتی ہے ان سے انسانوں کو آگاہ کروں اور جن امور پر اللہ کی خوشنودی کی خبردیتی ہے ان کی تفصیل نبی آدم کو سمجھاؤں۔ کتاب بغیررسول کے نافع نہیں لہٰذایہ بات واضح ہوگئی کہ کتاب بغیررسول کے نافع نہیں ہے اور جو لوگ قرآن کی تعبیر اپنی پسند سے کرتے ہیں اور اہل قرآن کہلاتے ہیں وہ حق پر نہیں اور میرامنصب یہ بھی ہے کہ تمہیں اللہ سے معافی طلب کرنے کی دعوت دوں تمہارے قلوب میں وہ جذبہ پیدا کروں کہ تم اس ذات کریم سے مغفرت طلب کرو اور آئندہ نافرمانی نہ کرنے کا عہد بھی کرو کہ توبہ زبانی اقرار کے ساتھ عملی طور پر اصلاح پذیر ہونے کا نام ہے اس لئے کہ دوعالم کا آرام اللہ سے بخشش طلب کرنے اور توبہ کرنے پہ ملتا ہے انسان بہرحال انسان ہے خطاکا ہوجاناتو بعید نہیں مگر خطا کی بخشش طلب کرتا رہے اور گناہ کو پیشہ نہ بنالے تو استغفار کرنے والوں اور توبہ کرنے والوں کو اللہ دنیا کی زندگی میں بھی بہترین موقع اور رزق حسن عطافرماتے ہیں یعنی ایسے حالات عطافرماتے ہیں جن سے انھیں راحت و سکون نصیب ہو رزق حسن سے مفسرین کرام کے نزدیک وہ رزق ہے جو سکون و اطمینان بھی عطاکرے اور چونکہ یہ دنیا کی زندگی کے لئے ہے لہٰذاتاجین حیات نصیب ہوگا اور پھر موت اس سے محروم نہ کردے گی بلکہ ہر نیکی کرنے والا اپنے عمل کا بہترین اجرپائے گا یعنی استغفار اور توبہ گناہ سے بچنے اور نیکی پر عمل پیرا ہونے سے دنیا کی بہترین زندگی نصیب ہوتی ہے اور آخرت کے بہترین انعامات ۔ ساتھ یہ بھی فرمادیجئے کہ اگر تم لوگ روگردانی کروگے اور استغفار کی بجائے گناہ کا راستہ پسند کروگے تو مجھے ڈر ہے کہ تم روز قیامت جو بڑا اور اہم دن ہوگا گرفتار عذاب ہوجاؤکہ مسلسل گناہ انسان کو کفر کی طرف لے جاتا ہے اور کفرہمیشہ کے عذاب میں مبتلا کرنے کا باعث بنتا ہے اس لئے تمہیں اور تو کوئی راستہ نہیں مل سکتا لہٰذا ہر حال واپس اللہ کے حضور ہی جانا ہے اور وہ ہرچیز پہ قادر ہے کوئی شے اس کے احکام کے راستے کو روکنے کی سکت نہیں رکھتی۔ فلسفہ گناہ فرمایا سن اے حبیب ! یہ بدنصیب تیری اس بہترین خیرخواہی پر بھی تیرے دشمن ہو رہے ہیں اور جو بعض وعنادان کے سینوں میں بھرا ہے اس پر مختلف پردے ڈال کرچھپانے کی کوشش کرتے ہیں یہ نادان جانتے نہیں کہ اللہ سے کیا چھپ سکتا ہے وہ تو پوشیدہ اور ظاہرسب کو جانتا ہے اور دلوں کے بھید اس کے علم میں موجود ہیں ۔ یہاں گناہ کا فلسفہ آپ ﷺ سے محبت میں کمی کو بتایا گیا ہے اور اگر یہی کمی بڑھ کر آپ ﷺ کی عداوت تک چلی جائے توکفربن جاتی ہے ۔ ومامن دآبۃ۔ رہی امور دنیا کی مصروفیت اور طلب دنیا میں اللہ کی اطاعت سے گریز تو فرمایا ، یہ محض بدنصیبی ورنہ ہر جاندار کا رزق اللہ کریم نے اپنے ذمہ لے لیا ہے اور کوئی بھی ایسی مخلوق نہیں جسے پیداتو کیا ہو مگر اس کی روزی کا اہتمام نہ فرمایا ہو خواہ وہ زمین کے کسی بھی حصہ میں ہے ۔ پرندے ہوں یا حیوانات درندے ہوں یا آبی جانور چھوٹے ہوں یا بڑے ہر ایک کی جب تک حیات مستعار مقرر ہے تب تک کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنا ، یہ اللہ کریم نے اپنے ذمہ لے لیا ہے انسان تو ساری مخلوق میں اس کی تخلیق کا بہترین شاہکار ہے بھلا اس کے رزق کا اہتمام کیسے نہ ہوگا ؟ ہاں ! اپنی نادانی کے باعث یہ اللہ کی اطاعت چھوڑ کرنا جائزذرائع سے حصول زر میں مبتلا ہوکرتباہ ہوجاتا ہے ۔ اگر اطاعت سے باہرقدم نہ رکھتا تو بھی اپنا نصیبہ ضرورحاصل کرلیتا اور اللہ کریم نے ہرجاندارکورزق پہنچانے کا ایسا اہتمام فرمادیا ہے کہ وہ جہاں اور جس حال میں ہوتے ہیں وہ اس کی ضرورتوں اور حاجات کو بھی جانتا ہے بلکہ اس کا علم تو وسیع تر ہے اور یہ سب امور تو لوح محفوظ میں بھی درج ہیں اور ظاہر ہے کہ لوح محفوظ کے علوم کو اپنی تمام تروسعت کے باوجود علوم الٰہی سے تو کوئی نسبت نہیں ۔ بھلاوہ کیسے نہ جانے گا کہ اسی ذات قدیرنے تو ارض وسماکو چھ دنوں میں پیدا فرمایا اس لئے نہیں کہ وہ ایک آن میں بنا نہیں سکتا تھا اس لئے کہ عالم کے ہر کام میں ایک ترتیب مقرر فرمادی جو انسانی زندگی کے لئے ضروری تھی زمینوں اور آسمانوں کی تخلیق سے بھی پہلے پانی تھا جس پر اس کا تخت موجود تھا ، اس کی سلطنت جاری وساری تھی اور پھر یہ نظام اس نے اسی لئے بنایا کہ تمہیں دیکھے کہ تم میں سے کون بہترین عمل کرتا ہے یعنی عمل کا مدار محض کثرت تعداد پر نہیں بلکہ امتحان حسن عمل کا ہے کہ کون کس قدرخلوص اور محبت سے کوئی کام کرتا ہے اور یہ ایک دلی کیفیت ہے جسے احسان فرمایا گیا ہے کہ دل کی گہرائی سے اللہ کی اطاعت اور عبادت کی جائے ۔ آپ جب یہ خبردیتے ہیں کہ لوگو ! تمہیں موت کے بعد زندہ ہو کر اللہ کے حضور پیش ہونا ہے تو کفار کی جہالت دیکھیں وہ کہتے ہیں یہ جادو ہے ۔ بھلا جادوتو دنیا کا مفاد حاصل کرنے کے لئے لوگ اپنا تے ہیں اخروی زندگی اور اس کے حالاتکابروقت بیان اور وہاں کی تباہی سے بچنے کا طریقہ بتانا کی سے جادو ہوسکتا ہے ۔ اور اگر ایک خاص وقت تک انھیں مہلت دی گئی یا موت تک اگر آخرت کے عذاب سے بچے ہوئے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ اگر واقعی عذاب ہونے ہیں تو ہوتے کیوں نہیں ؟ انھیں کس نے روک رکھا ہے ؟ فرمادیجئے کہ خوب جان لو ! جب عذاب کا وقت آجائے گا تو پھر اسے واقع ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا اور وہ یقینا آئے گا اور یہ جو کفار مذاق اڑاتے ہیں انھیں اس کا مزہ چکھنا پڑے گا اور ان کا مذاق ہی ان کے گلے میں مصیبت بن کر پڑے گا۔
Ayahs 11:9–24

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور اگر ہم انسان کو اپنی مہربانی کا مزہ چکھائیں پھر اس سے وہ واپس لے لیں تو وہ یقینا ناامید (اور) ناشکرا ہوجاتا ہے

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد جو کہ اس پر آئی تھی ہم اسے کسی نعمت کا مزہ چکھا دیں تو ضرور کہنے لگتا ہے کہ میرے سب دکھ دور ہوگئے بیشک وہ خوشیاں منانے والا فخر کرنے والا ہے

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جو صبر کرتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے بخشش ہے اور بہت بڑا اجر ہے

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

تو شاید آپ کچھ چیزیں جو آپ پر وحی کے ذریعہ سے آتی ہیں چھوڑنا چاہیں اور آپ کا دل اس بات سے تنگ ہوتا ہے کہ وہ (کافر) کہنے لگیں گے کہ ان پر کوئی خزانہ کیوں نازل نہیں ہوا یا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا بیشک آپ تو (انجام بد سے) ڈرانے والے ہیں اور ہرچیز پر پورا اختیار رکھنے والے صرف اللہ ہیں

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

یا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے (قرآن) از خود گھڑ لیا ہے۔ فرمائیے کہ اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنالاؤ اور (اپنی مدد کے لئے) اللہ کے علاوہ جس کو بھی بلا سکتے ہو بلالو

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

پھر یہ (کفار) اگر آپ کی بات قبول نہ کریں تو (ان سے کہہ دیں) جان لو کہ یہ تو اللہ ہی کے علم سے نازل ہوا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں تو کیا تم اب اسلام قبول کرتے ہو ؟

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت کے طلبگار ہوں ہم ان کو ان کے اعمال کا بدلہ اس (دنیا) میں ہی دے دیتے ہیں اور اس میں ان کی کوئی حق تلفی نہیں کی جاتی

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور جو انہوں نے یہاں (دنیا میں) کیا تھا سب برباد ہوا اور جو کچھ وہ کرتے رہیں ہیں سب ضائع ہوا

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

بھلا (منکر قرآن ایسے شخص کے برابر ہے) جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اس کے ساتھ ایک (آسمانی) گواہ بھی اس (اللہ) کی جانب سے ہو اور اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تھی جو پیشوا اور رحمت تھی یہی لوگ تو اس پر ایمان لاتے ہیں۔ اور جو کوئی گروہوں میں سے اس کے ساتھ کفر (انکار) کرے تو اس کا ٹھکانہ آگ ہے سو (اے مخاطب ! ) تم اس (قرآن) کی طرف سے شک میں مت پڑنا۔ یقینا وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے سچ ہے و لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ جوڑ لے کر ایسے لوگ اپنے پروردگار کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور (اعمال کے) گواہ (فرشتے) کہیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ بولا تھا لو ! کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو کہ اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھا پن تلاش کرتے ہیں اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

یہ لوگ زمین میں (کہیں بھاگ کر ، اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے اور نہ اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار ہے ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا کہ یہ لوگ (کفر کی وجہ سے آپ کو) نہ سن سکتے تھے اور نہ (آپکو) دیکھ سکتے تھے

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو برباد کر بیٹھے اور جو جھوٹ انہوں نے گھڑ رکھتے تھے سب ان سے جاتے رہے

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

لازماً یہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

یقیان جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اپنے پروردگار کے سامنے عاجزی کی یہی لوگ جنت کے رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے (ایک) اندھا اور بہرہ ہو اور (دوسرا) دیکھتا اور سنتا ہو ، کیا دونوں (اپنی) حالت میں برابر ہوسکتے ہیں ؟ پھر تم سوچتے کیوں نہیں ؟

آیات 9 تا 24 اسرار و معارف عام انسان کا حال یہ ہے کہ اگر اس کے پاس اللہ کی نعمت ہو اور وہ چھن جائے یعنی مال وغیرہ میں نقصان ہوجائے یا صحت چلی جائے یا اقتدار و وقار جاتا رہے تو وہ بالکل ناامید ہوکرناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا لیکن اگر اسی کو پھر سے وہ نعمت لوٹادی جائے بیمار کو شفا ہوجائے یا پھر مالدار ہوجائے یاجلاوطنی کے بعد پھر سے اقتدار نصیب ہوجائے تو اترانے اور اکڑنے لگتا ہے اور کہتا ہے وہ دن اب لدگئے اب میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ طرح طرح کی شیخیاں بگھارتا ہے۔ معرفت باری کا اثر یہ وہ تصویر ہے جو ہراس انسان کی ہے جسے معرفت باری نصیب نہیں مگر جن کو معرفت کا کوئی ذرہ بھی نصیب ہوتا ہے وہ ہر حال میں صبر کرتے ہیں نقصان ہو تو اللہ کریم سے اس کی تلافی کے امیدوار رہتے ہیں اور نفع ہو تو مالک کا شکر ادا کرتے ہیں اور حداطاعت سے تجاوز نہیں کرتے اور ہر حال میں عمل صالح یعنی نبی کریم ﷺ کی اطاعت پہ کمربستہ رہتے ہیں ۔ انسان کی نگاہ جب تک محض اسباب پر رہتی ہے اسے کوئی لمحہ سکون کا نصیب ہی نہیں ہوتا مگر جب مسبب الا سباب کی عظمت پہ نگاہ پڑتی ہے تو راحت وکلفت دونوں مزہ دینے لگتی ہیں اور ہر حال میں صبراس کا وطیرہ بن جاتا ہے صبر سے مراد ہے اپنے آپ کو روک کر رکھنا اسی لئے صبر کے ساتھ عمل صالح ارشاد ہوا کہ پوری ہمت سے اپنے آپ کو نیکی پہ کاربند رکھتے ہیں اب اگر اس مجاہدے اور محنت میں بحیثیت انسان کوئی کمی رہ جائے تو اللہ کی بخشش اسے پورا کردے گی جو ایسے ہی لوگوں کے لئے ہے اور ایسے لوگوں کے لئے بہت بڑا اجر ہے اور بہترین بدلہ ہے۔ احقاق حق ہی تردید باطل ہے مشرکین کے یہ اعتراضات کہ آپ بعض باتیں بڑی سخت کہتے ہیں جس میں ہمارے بتوں اور باپ دادا کی رسومات کی برائی بیان ہوتی ہے آپ اپنے مذہب کا پرچار تو کریں ہمارے مذہب کی تردید کیوں کرتے ہیں ، بالکل ناروا ہیں اس لئے کہ حق کو ثابت کرنے سے باطل کی تردید توضرورہوگی ۔ بیک وقت دومخالف نظریات کو تو ٹھیک نہیں کہاجاسکتا اور اصل بات یہ ہے کہ آپ ﷺ تو ایسا نہیں کرتے یہ تو اللہ کی ذات ہے جو کفر کافرانہ رسومات اور معبودان باطل کی تردید فرماتی ہے۔ آپ پر تو اس کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے جس کے بیان کو تو آپ ہرگز ترک نہیں کرسکتے تو ثابت ہوا کہ کسی کی ناراضگی کے ڈر سے حق کو حق کہناترک نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی بیک وقت کفر اور اسلام دونوں خوش رہ سکتے ہیں ۔ یا آپ اس بات سے دل گرفتہ ہوں کہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ان پر کوئی بہت بڑاخزانہ کیوں نہیں اترا کہ بادشاہوں کی طرح دادودہش سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتے اور اپنی بات منوالیتے یا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا کہ لوگوں کو پکار پکار کربتاتا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں انھیں مانو ۔ تو یہ دونوں امرشان نبوت کے لئے ضروری نہ تھے کہ ایمان تودلی خلوص کے ساتھ اللہ کی عظمت اور رسول ﷺ کی صداقت کو قبول کرنے کا نام ہے کسی انسان کے ضمیر کو دولت سے خرید اجائے تو وہ مسلمان تھوڑی ہوگا۔ مکی زندگی میں دولت دنیا نہ تھی اور یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ ﷺ کی مکی حیات مبارکہ میں دولت دنیانہ تھی ورنہ مشرک ایسا اعتراض نہ کرتے لہٰذاشیعہ کا یہ بہتان کہ مکہ مکرمہ میں بعض لوگ دنیا کا فائدہ پانے کے لئے مسلمان ہوئے محض باطل ہے اور اگر فرشتہ بھی نازل ہوتا تو یہ نہ اسے دیکھ سکتے نہ اس کی بات سن سکتے تو کیا فائدہ یا پھر اگر وہ انسانی شکل میں آتا تو اس پر بھی یہی اعتراض ہوتا کہ تم انسان ہو تمہاری بات نہیں سنیں گے اور اگر فرشتے نظرآنے لگتے اور یہ ان کی بات سن لینے کے قابل ہوتے تو ایمان بالغیب کہاں رہا۔ پھر جب آپ کی ذات اور حیات مبارکہ اوصاف حمیدہ اور معجزات باہرہ پر یہ مان کر نہیں دے رہے تو ان سب باتوں کا کچھ بھی حاصل نہیں ۔ نیز یہ باتیں اس لحاظ سے بھی درست نہیں کہ آپ تو اللہ کے رسول ہیں اور آپ کا منصب عالی یہ ہے کہ وقت سے پیشتربرائی اور کفر پر مرتب ہونے والے نقصان سے آگاہ فرمائیں تاکہ لوگ اپنے بچاؤکاراستہ اختیار کرسکیں۔ یہ دلائل اور معجزات عطافرمانا تو اللہ کا کام ہے جو ہر بات کا ذمہ دار ہے تو انھیں چاہیئے اس ذات سے مطالبہ کرکے دیکھیں چناچہ ابوجہل نے یہ مطالبہ کیا بھی تھا کہ اگر یہ حق ہے تو ہمیں تباہ کردے اللہ نے بدر میں اس کا مطالبہ پورا فرمادیا۔ یا پھر ان کا یہ اعتراض کہ آپ ﷺ نے خودیہ کلام گھڑلیا ہے حالانکہ یہ جانتے ہیں آپ ﷺ امی ہیں کسی مدرسے میں تشریف نہیں لے گئے ۔ چالیس برس تک کوئی ایسی بات نہیں کی پھر یکایک ایسا بےنظیر کلام جو روئے زمین کے تمام مسائل کا حل بیان فرماتا ہے مالک اور بندے کو ملاتا ہے اور علمی اور ادبی لحاظ سے بھی مثال ہے آپ ﷺ کیسے بیان کرنے لگ گئے۔ فرمائیے ! اگر یہ ممکن ہے تو تم میں پڑھے لکھے بھی ہیں شاعر اور ادیب بھی ہیں سب جمع ہوجاؤ بلکہ اپنے باطل معبودوں کو بھی ساتھ ملالو اور ایسی دس آیات تولکھ کرلاؤ جو ظاہری وباطنی خوبی میں اس کے ہم پلہ ہوں اور ان میں اسی کی طرح سے دوعالم کی برکات کے خزانے سمودیئے گئے ہوں ۔ اگر تمہاری بات سچی ہے تو پھر تو تمہیں بھی یہ کام کرلینا چاہیئے ۔ اور اگر تم سب اور تمہارے معبود بھی مل کر یہ کام نہیں کرسکتے ہو تو یہی اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ یہ اللہ کے علوم کے خزانے ہیں جو اس نے اپنے حبیب ﷺ پر نازل فرمائے ۔ یہ بھی ثابت ہوگیا کہ اللہ واحدولاشریک ہی عبادت کا مستحق ہے ۔ جس طرح کسی بھی دوسرے وصف میں اس کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا وی سے ہی وہ معبود بھی اکیلاہی ہے لہٰذا تمہیں چاہیئے کہ سرتسلیم خم کردو اور اسلام کو قبول کرلو۔ اگر ایمان قبول نہ کروگے اور محض دنیا کی نعمتوں کے حصول میں لگے رہوگے تو سن رکھو جو اللہ کی بارگاہ چھوڑ کر محض حصول دنیا میں لگ جاتا ہے اس کے سارے کام صرف دنیا ہی کے لئے مخصوص کردیئے جاتے ہیں اور اگر وہ کوئی نیکی بھی کرے جیسے صدقہ و خیرات یا اور کوئی نیک کام تو اللہ کریم اس کا بدلہ بھی دنیاہی کی صورت دے دیتے ہیں اور انھیں دنیا میں اس میں کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ مفسرین نے یہاں بہت بحث فرمائی ہے کہ یہ کافر کے حق میں ہے یا مسلمان بھی اس کی لپیٹ میں آتا ہے تو دراصل یہ کافر ہی کے لئے ہے کہ دنیا کا ارادہ کرنے سے مراد دین کو ترک کرکے دنیا کو پسند کرنا ہے لیکن اگر کوئی زبان سے اسلام کا اقرار بھی کرتا ہو مگر نیکی صرف دنیا کمانے کے لئے کرے تو وہ بھی مسلمان نہیں صرف لوگوں کی نظروں میں مسلمان ہے ۔ اسی لئے ارشاد ہوا کہ اعمال کا مدار نیات پر ہے لہٰذا کوئی دین کو چھوڑ کر صرف دنیا میں لگ جاتا ہے کہ ادیان باطلہ میں بھی ایک قدر مشترک یہ ہے کہ سب میں عبادت کا بدلہ دنیا کی نعمتوں کو مقرر کیا گیا ہے یا پھر زبانی تو اسلام کا اقرار کرتا ہے مگر دل دنیا میں اس قدراٹکا ہوا ہے کہ سجدہ بھی شہرت پانے یا مال کمانے ہی کو کرتا ہے تو وہ بھی انہی لوگوں میں شمار ہوگاہاں ! اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے دنیاکماناعیب نہیں۔ ہاں ایسے لوگوں سے اگر کوئی بھلائی کا کام بھی ہوجائے تو اس کے بدلے انھیں دنیا میں دولت یاشہرت یا اقتداریاصحت وغیرہ جس کے وہ طالب ہوں دے دی جاتی ہے لیکن ایسے لوگوں کے پاس آخرت میں اور ابدی زندگی کے لئے کچھ نہیں بچتا اور سوائے دوزخ کی آگ کے انھیں کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ دنیا تو خود تباہ ہونے والی ہے لہٰذا ان کا سب کیا دھرا بھی تباہ ہوگیا اور جس قدرمنصوبے انھوں نے باندھے تھے اور جتنی محنت کی تھی سب بربادہوگئی۔ دنیا میں دوہی تو طبقے فریق اور جماعتیں ہیں یعنی کفار ومنکرین کے مقابل مومنین ۔ تو بھلا کافرو مومن کبھی ایک سے ہوسکتے ہیں ہرگز نہیں ! اس لئے کہ مومنین کے نظریات وعقائدجن کے تابع ان کا سارا کردار ہے کی بنیاد دلائل حقہ پر ہے جو انھیں رب جلیل کی طرف سے میسر ہیں اور کفار جن کا انکارکئے بیٹھے ہیں ۔ جن میں سب سے بڑی دلیل تو خود قرآن حکیم ہے جس کی وہ تلاوت کرتے ہیں اور جو ہر اعتبار سے لاثانی ہے اور حق ہے اس میں اللہ کی ذات اور صفات کا بیان ہے عالم آخرت عالم بالا فرشتے اور جنت و دوزخ یا حساب کتاب کی بات ہے اگر یہ باتیں ایسی ہیں کہ کفار انھیں پرکھ نہیں سکتے تو اس میں گزشتہ اقوام کے حالات ہیں اور انسانی زندگی کا لائحہ عمل ہے۔ سیاسیات سائنس ہے اور طب ہے آئندہ دنیا میں ہونے والی باتوں کے بارے پیشگوئیاں ہیں ۔ یہ سب کچھ تو دیکھا جاسکتا ہے نہ کوئی اس سب کی تردید کرسکا اور نہ اس کی مثل پیش کرسکا ۔ تو اپنے شماراعجازات کے ساتھ قرآن خود اپنی حقانیت کا بہت بڑاگواہ ہے پھر اس سے قبل نازل ہونے والی آسمانی کتابیں جن میں موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی تورات بھی شامل ہے جو اپنے میں بہترین راہنمائی بھی فرماتی تھی اور اول وآخر اللہ کی رحمت تھی یعنی اسے ماننا اسے پڑھنا اور اس پر عمل عین رحمت کا حصول تھا ۔ مومن تو ان سب باتوں پہ ایمان رکھتا ہے اور کفار کی وہ بڑی بڑی جماعتیں جنہوں نے قرآن کا آپ ﷺ کی رسالت کا انکار کیا وہ اپنے ظاہری رعب داب پر نہ رہیں بلکہ یہ یاد رکھیں کہ ان سب سے دوزخ کا وعدہ ہے اور دوزخ کی انکار کیا وہ اپنے ظاہری رعب داب پر نہ رہیں بلکہ یہ یاد رکھیں کہ ان سب سے دوزخ کا وعدہ ہے اور دوزخ کی آگ ہی ان کاٹھکانہ ہے اور اے مخاطب ! تو بھی اس میں رائی برابر شبہ نہ کر ! کہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے ہے اور عین حق ہے ۔ اس کی ربوبیت کا تقاضا کہ جیسے کسی کے عقائد و اعمال ہوں ویسا ان پر نتیجہ مرتب فرمائے اس لئے کفر اور کافرانہ اعمال کا یہی انجام ہے مگر اکثرلوگ اس بات پر یقین کرنے سے محروم ہیں ۔ مذاہب باطلہ ظلم عظیم ہیں اس سے بڑے ظلم کا تو کوئی تصورہی نہیں کہ کوئی اللہ پر جھوٹ باندھے یا ایسی بات اللہ کی طرف سے بتائے جو اللہ کا حکم نہ ہو چونکہ تمام مذاہب باطلہ کی بنیاد اسی بات پر ہے کہ کسی نہ کسی نام سے ایک آخری اور سب سے بڑی طاقت کو مان کر اس کی طرف سے رسومات کا اس کی پسند ہونا بیان کرتے ہیں تو ایسے لوگ ہی بہت بڑے ظالم ہیں ۔ اس وعید میں ایسے لوگ بھی آجاتے ہیں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے غلط فتوے دیتے ہیں ۔ ایک روزیہ سب لوگ اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہونگے اور ان کے اس کردار کے گواہ پکار کر کہہ رہے ہوں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ان گواہوں میں فرشتے زمین اور اشیاء اعضائے بدن اور خود وہ اعمال بھی مجسم ہوکرشامل ہوں گے۔ تو اے مخاطب ! خوب اچھی طرح جان لو کہ ظالموں پر تو اللہ کی لعنت ہوگی یعنی ہر طرح کی رحمت سے محروم ہوں گے کہ انھوں نے اللہ کی مخلوق کو اللہ کی راہ سے روکا اور غلط راستے پر ڈال دیا انھیں آخرت کا یقین ہی نہ تھا۔ یہ آخرت کا انکارہی کفر کا باعث بھی ہے اور غلط فتوے دینے والے اور دین میں رسومات ایجاد کرنے والے بھی اگرچہ زبان سے نہ کہیں ان کے دل میں بھی یہی انکار موجود ہوتا ہے لہٰذا یہ لوگ اپنے پر پکڑے جائیں گے کہ نہ زمین پر ہی بھاگ کرچھپ سکتے ہیں کہ جان بچالیں اور نہ اللہ کے مقابل کوئی ہستی ایسی ہے جو ان کی مدد کرسکے بلکہ انھیں تو کئی گنازیادہ عذاب ہوگا اپنا اور اپنے اعمال کا بھی اور جس قدر لوگوں کو انھوں نے گمراہ کیا ۔ ان سب کے ساتھ ان کا عذاب بھی ان پر پڑے گا ، اللہ نے سماعت بخشی مگر انھوں نے حق کونہ سنا۔ اللہ نے بصارت عطاکی مگر یہ حق کونہ دیکھ سکے انھوں نے تو اپنے آپ کو تباہ کرلیا اور جو مفروضے گھڑے تھے سب غلط ثابت ہوئے۔ ان کے مقابل ان لوگوں کو دیکھوجو ایمان لائے انھوں نے ان حقائق کو تسلیم کیا جو اللہ نے اور اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمائے تھے اور پوری محنت ودیانت کے ساتھ ان احکام پر عمل کرنے کی کوشش کرتے رہے جو اللہ کے فرمائے ہوئے تھے اور اپنے عاجزی کا اقرار کیا یعنی اپنی رائے منوانے کی بجائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات کو قبول کیا اور خود کو بندہ اور عاجزثابت کیا یہ لوگ جنت کے باسی ہیں جس میں یہ ہمیشہ رہیں گے ۔ ان دونوں قوموں کی مثال ایسے ہے جیسے ایک تو اندھی اور بہتری ہو اور دوسری کی آنکھ بھی روشن اور کان بھی سننے والے ہوں یاد رہے یہ اندھا اور بہراپن ظاہر نہیں ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ دل بجھ جائے اس میں نور ایمان نہ ہو تو انسان حق کے لئے اندھابہرا ہوجاتا ہے اور اگر نور ایمان نصیب ہوتوحق نظر بھی آتا ہے اور حق بات سنائی بھی دیتی ہے پھر اس کے ساتھ برکات نبوت جو صحبت صالحین میں بٹتی ہیں نصیب ہوں تو ان قوتوں کو چارچاندلگ جاتے ہیں اور یہ دونوں فریق کبھی ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ اگر انسان غورکرے تو یہ بات سمجھنامشکل نہیں ۔
Ayahs 11:25–35

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا (انہوں نے فرمایا) بیشک میں تمہارے لئے (انجام بد سے) صاف صاف ڈرانے والا ہوں

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو بیشک مجھے تمہاری نسبت درد دینے والے دن کے عذاب کا خوف ہے

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے سرداروں نے جو کافر تھے کہا کہ تم کو اپنے ہی جیسا ایک آدمی سمجھتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تمہاری پیروی بھی ان ہی لوگوں نے کی جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں (اور وہ بھی) ظاہر رائے سے (یعنی غور وخوض سے نہیں کی) اور ہم تمہاری اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ ہم تم کو جھوٹا خیال کرتے ہیں

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا اے میری قوم ! بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار (اللہ) کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت (نبوت) بخشی ہو پھر (اس کی حقیقت) تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہو تو کیا ہم اس کے لئے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں اور تم اس سے ناخوش ہو رہے ہو

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! اس کے بدلے میں نے تم سے مال وزر نہیں مانگا میرا صلہ تو اللہ کے ذمہ ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انہیں نکالنے والا نہیں۔ بیشک وہ تو اپنے پروردگار سے (خوش وخرم) ملنے والے ہیں اور لیکن میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت کر رہے ہو

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! اگر میں ان کو نکال دوں تو اللہ کے مقابلے میں کون میری مدد کرسکتا ہے پس تم غور کیوں نہیں کرتے ہو ؟

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ یقینا میں فرشتہ ہوں اور نہ ان لوگوں کے بارے جو تمہاری نگاہوں کی حقیر ہیں کہتا ہوں کہ اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتے ہیں جو ان کے دلوں میں ہے (اگر میں ایسا کہوں) تو یقینا میں بےانصافوں میں سے ہوں

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

کہنے لگے اے نوح (علیہ السلام) ! یقینا تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت زیادہ جھگڑا کیا اگر تم سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ لے آؤ

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

فرمایا اگر اللہ چاہیں گے تو یقینا اسکو تمہارے سامنے لے آئیں گے اور تم (اس کو) عاجز نہیں کرسکتے

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور میری خیر خواہی تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی اگر میں چاہوں بھی کہ تمہیں نصیحت کروں ، اگر اللہ تمہیں گمراہ کرنا چاہے تو وہ تمہارا پروردگار ہے اور تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ (حضرت محمد ﷺ نے یہ (قرآن اپنے پاس سے) بنالیا ہے۔ فرمائیے اگر میں نے اسے بنا لیا ہے تو میرے جرم کا وبال مجھ پر (ہوگا) اور جو گناہ تم کرتے ہو میں اس سے بری الذمہ ہوں

آیات 25 تا 35 اسرار و معارف بلکہ ان امور کے نتائج کا فرق دنیا میں بھی سامنے ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے جیسے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا گیا اور انھوں نے اعلان فرمایا کہ لوگو ! کافرانہ عقائد اور برے اعمال کے نتائج قدر ہولناک ہوں گے یہ مجھ سے سنو کہ یہی میرافریضہ نبوت ہے اور تمہارے کردار کا انجام دیکھ کر تو بدن کانپ اٹھتا ہے کہ روزحشرکا عذاب بہت دردناک ہوگا اور تمہارے غلط نظریات تمہیں اس سے دوچار کردیں گے۔ بشریت ونبوت مگرقوم میں صاحب اقتدار لوگ بھڑک اٹھے جو کفر کی وجہ سے ہی برسراقتدار تھے یا کفار کی رسومات میں ان کو مرکزی مقام حاصل تھا۔ انھوں نے جب اس پر زدپڑتے دیکھی تو فورا اعتراض کرنے لگے کہ بھلا آپ نبی کیونکہ ہوسکتے ہیں ؟ آپ تو ہماری طرح بشر ہیں ، ہماری طرح کھانا پینا سونا جاگنا سب تو آپ میں ہے پھر آپ کو یہ امتیازی شان کیسے نصیب ہوگئی ۔ ان کا خیال تھا کہ نبی بشر نہیں ہونا چاہیئے حالانکہ ساری مخلوق میں سے نبوت کا تاج بشریت کو نصیب ہواہاں نبی مثالی بشر اور انسان ہوتا ہے اور لوگ اپنے اور پر قیاس کریں تو بات نہیں بنتی نیزنبی کی بشریت کا انکاررداصل نبوت کا انکار ہے کہ انسانوں ہی کو برکات پہنچانے انہی کی جنس میں سے انبیاء چنے گئے اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو ماننے والے توغریب اور نادارلوگ ہیں جن کی رائے بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ ارذل کمینے آدمی کو کہا جاتا ہے تو گویا کفار کے نزدیک معیارشرافت و دانائی دولت دنیا تھی حالانکہ شرافت کا معیاران کا کردارہوتا ہے جس کی بنیاد اس کے عقائد بنتے ہیں تو اس اعتبار سے رذیل یاکمینہ وہ ہوگا جس کے عقائدخراب ہوں جیسے امام مالک (رح) سے کسی نے پوچھا کہ سب کمینہ کون ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا کہے کہ وہ پوری انسانیت کے محسن ہیں جن کے ذریعہ سے وین حق پہنچا۔ دنیا کی دولت تو کبھی معیار نہیں بن سکتی کہ اکثر کافر یاعملا رذیل انسان بھی حاصل کرسکتے ہیں مگر نور ایمان کسی میں رذالت یاکمینہ پن نہیں رہنے دیتا اگرچہ آج کے بگڑے ہوئے معاشرے میں پھر یہی رواج ہے کہ دولتمند ہی دست آدمی ہے اور اسی کی رائے صائب ہے مگر یہ معیار کفار کا ہے ۔ اسلامی معیاردین ہے خواہ امیر کے پاس ہو یا غریب کے سینے میں جو جس قدردیندار ہے اسی قدرعزت واحترام کا مستحق ہے ۔ مگر کفار کو یہ بات بھی ایمان سے مانع تھی کہ وہ غریب آدمیوں کے ساتھ مل کربیٹھیں یا ان جیسے عقائداختیار کرکے ان کے ساتھ مل کر عبادت کریں ۔ مگر دیکھایہ گیا ہے کہ دولت کانشہ عموما انسانی رائے میں بگاڑ پیدا کرتا ہے اور غریب اکثر درست فیصلے کرپاتا ہے اسی لئے انبیاء کے پیروکار ابتدائی ایام میں غریب ہی ہوتے تھے کہ امراء اکثر دنیا کے منافع پر جمع ہوتے ہیں۔ ہرقل روم کو جب آپ ﷺ کا نامہ مبارک پہنچا اور اس نے تحقیق کرنا چاہی تو ایک سوال یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ کے ماننے والے امیرلوگ ہیں یاغربائ ؟ جب پتہ چلا کہ غرباء ہیں تو کہنے لگا یہ تاریخی حقیقت ہے کہ انبیاء کو اول اول غریبوں نے ہی مانا ہے۔ تیسرے اعتراض انھیں یہ تھا کہ ایمان لانے کے باعث بظاہرتو تم لوگوں کو ہمارے مقابلے میں کوئی کامیابی نصیب ہوتی نظر نہیں کہ آتی تمہیں دولت یا اقتدار یا کوئی دنیا کی بڑی نعمت مل گئی ہو تو پھر ہم آخرکیوں ایمان لائیں ؟ بلکہ ہماری رائے تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ جو آپ کہتے ہیں جھوٹ ہے۔ جیسے آج بھی بہت سے لوگوں کی سوچ یہی ہے کہ بماز روزہ اور عبادت کرنے سے آدمی شاید روزمرہ کی ضروریات سے بالاترہوجاتا ہے اور اسے کوئی تکلیف نہ ہونی چاہیئے ۔ حالانکہ یہ ایک الگ نظام ہے اور ایمان وعمل ایک الگ کیفیت دیکھنا یہی ہے کہ اس نظام کائنات میں رہتے ہوئے کوئی ایمان لاتا ہے یا کفر کرتا ہے اگر ایمان لانے سے ایسا ہونے لگے جیسے عام لوگ توقع کرتے ہیں تو بھلا کافر کون رہے گا مگر پھر اس ایمان کی کیا قیمت جو اللہ کے لئے نہ تھا صرف دنیا کی غرض سے تھا۔ لہٰذا انھوں نے فرمایا ہیں جو کہتا ہوں وہ دلیل سے کہتا ہوں اور اس کی حقانیت میرے معجزات سے بھی ظاہر ہے اس پر نقلی دلائل بھی موجود اور عقلی دلائل بھی بیشمار ہیں اور اللہ نے مجھے اپنی رحمت سے نوازا ہے نورنبوت رحمت الٰہی کا خزانہ ہے جسے ایمان نصیب ہوتا ہے اس کے دل پر رحمت کی گھٹاچھاجاتی ہے اور جو لطف جو مزے اسے نصیب ہیں بھلا تم کو ان کی خبرکہاں ؟ اگر تم نے خود ہی آنکھ بند کرلی یا تمہارے کرتوتوں کے باعث اللہ نے تمہیں یہ سب دیکھنے کی توفیق نہ دی تو کوئی زبردستی نہیں ہوسکتی کہ جن نظریات کو تم ناپسند کرتے ہو وہ تم پر مسلط کئے جائیں۔ اگر خدانخواستہ میں یہ سب ڈھونگ رچاتا تو اس کا بھی کوئی تو مقصد ہوتا اور ظاہر ہے جب اللہ کے لئے نہ ہوتا تو اس کا مقصد دولت دنیا تو ہوناقدرتی بات تھی تو کیا میں نے تم سے دولت کا سوال کیا ہے ؟ یا چندے مانگتے شروع کریئے ہیں ؟ ہرگز نہیں ! بلکہ میرا اجرتو اس ذات کریم کے پاس ہے جس کا میں کام کررہا ہوں اور وہی سب کو دینے والا بھی ہے اگر اس نے تمہیں زیادہ مال دیا ہے مگر تم کفر کرتے ہو اور جنہیں مال کم دیا ہے وہ ایمان کی دولت سے مالا مال ہوگئے تو اب کیا انھیں بھگادوں ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ معیار دولت دنیا نہیں بلکہ معیار انسانیت وآدمیت کو اللہ کے ہاں قبولیت ہے اور یہ خوش نصیب نور ایمان کی بدولت فردائے قیامت شاداں وفرحاں اس کی بارگاہ میں پہنچیں گے جب کہ تم اپنی جہالت کے باعث یہ سعادت ضائع کر رہے ہو۔ اللہ کے خزانے میں نے نبوت کا دعوے کیا ہے جس پر میں دلائل دے رہا ہوں ۔ کوئی اللہ کا شریک اس کی ذات یا صفات میں نہیں بن رہا کہ میں کہدوں اللہ کے خزانے میرے ہاتھ میں ہیں اب میں جو چاہوں کروں ۔ ہرگز نہیں ! میں تو اس کا بندہ اور نبی ہوں ، وہ اپنے نظام کا خود مالک ہے۔ یہاں ان لوگوں کے وہم کی تردید بھی ہوگئی جو اولیاء اللہ کو سب خزانوں کا مالک سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اہل اللہ جو چاہیں کریں بلکہ معاملہ الٹ ہے ۔ اولیاء اللہ وہ کرتے ہیں اور اس پر راضی رہتے ہیں جو اللہ کو منظور ہو ۔ ہاں ! اس سے دعا کرنا یا دعا کا قبول فرمانا الگ بات ہے۔ علم غیب اور نہ میرایہ دعوی ہے کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں ۔ علم غیب سے مرادیہ ہے وہ سب ذرائع سے غائب ہو یعنی کسی بھی ذریعے سے حاصل نہ کیا جائے اور یہ صرف اللہ کا خاصہ ہے انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ کی طرف سے اطلاع دی جاتی ہے ۔ وحی الہام یا القا ان کے جاننے کا سبب بنتا ہے لہٰذا اسے علم غیب کہنا ہی درست نہیں یہ اطلاع من الغیب کہلاتا ہے اور ولی تو نبی کی اطاعت سے پاتا ہے اور نبی ورسول کو عالم الغیب ہونا ضروری بھی نہیں کہ اس نے تو مالک کا حکم پہنچانا ہے اور مالک خود غیب دان کافی ہے۔ اولیاء بھی انسان ہوتے ہیں نہ میرا یہ دعوی ہے کہ میں فرشتہ ہوں کہ نہ کھاؤں نہ پئوں نہ رنج ہو اور نہ راحت کا سوال بھئی ! میں تو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ یہاں ان توہمات کی بھی تردید ہوگئی جو اولیاء اللہ کے بارے جہلا میں مشہور ہیں کہ وہ کوئی اور طرح کی مخلوق ہوتے ہیں نہ گھرگھاٹ ہوتا ہے نہ کھاتے پیتے ہیں بلکہ جنگلوں میں پائے جاتے ہیں ۔ یہ سب خرافات ہیں بلکہ اولیاء اللہ سب سے زیادہ مناسب وموزوں زندگی بسر کرنے والے ہوتے ہیں کبھی مافوق الفطرت نہیں ہوتے اور نہ میں اس بات پہ متفق ہوسکتا ہوں کہ جن لوگوں کو تم کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں انھیں اللہ بھی کچھ نہیں دے گا وہ تو دلوں کے بھید جانتا ہے اور اجر کا معیار تو دلی کیفیات ہیں کہ کون اپنے دل کے حال سے اس کے کس قدر قریب ہے جب انھیں نور ایمان نصیب ہے تو دل کا تعلق تو ثابت ہے اب کس کا کتنا ہے یہ اللہ خود جانتا ہے اگر میں بھی تمہاری ہاں میں ہاں ملانے کو کہہ دوں کہ انھیں کچھ نہیں ملے گا تو یہ بہت بڑی زیادتی ہوگی جس کی توقع تمہیں میری ذات سے نہ رکھنا چاہیئے۔ تو ہر طرح سے لاجواب ہو کر کہنے لگے کہ بہت بحث ہوچکی اور صدیاں بیت گئیں آپ کہنے سے باز نہیں آئے اور ہم نے مان کر نہیں دیا اب فیصلہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ آپ جس عذاب سے ڈراتے ہیں اگر یہ سچ ہے تو وہ عذاب لے آیئے انھوں نے فرمایا میراکام عذاب لانا نہیں بلکہ اعمال کے کھرے کھوٹے ہونے اور اس پر مرتب ہونے والے نتائج سے آگاہ کرنا ہے لیکن اگر تمہارا خیال ایسا ہی ہے اور تم نے یہی فیصلہ کرلیا تو پھر اللہ نے چاہا تو ایسا بھی ہو کر رہے گا اور تم اسے روک نہیں سکوگے ۔ چناچہ انھوں نے بددعافرمائی اور قوم پر غرق کا عذاب نازل ہوا۔ فرمایا اگر میں کوشش بھی کرتا رہوں تو میری نصیحت تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی جبکہ اللہ کی نافرمانی تم اس حدتک کرچکے ہو کہ اب اسنے تمہیں اپنے در پر آنے روک دیا ہے اور وہی تمہارا رب ہے تقاضائے ربوبیت ہے کہ ہر درخت پر اس کا مخصوص پھل لگے پھر تمہیں اسی کی بارگاہ میں جوابدہ بھی ہونا ہے تو گویا ہر فردکا ایک ذاتی رابطہ بھی اپنے رب سے ہے اگر وہی ٹوٹ گیا تو پھر اصلاح کیسی۔ رہی یہ بات کہ تمہارا خیال ہے یہ سب میں نے اپنی طرف سے گھڑلیا ہے جبکہ یہی بات مشرکین مکہ بھی دہراتے تھے اور اکثرکفار کے منہ سے وہی کافرانہ جملے ادا ہوتے ہیں جو ان سے پہلے کافروں کے منہ نکلے ہوں شایدیہ دلوں کی مشابہت کا اثرہو تو فرمایا آپ بھی انھیں وہی جواب ارشاد فرمائیے کہ اگر میں نے یہ سب اپنی طرف سے گھڑا ہے تو اس میں تمہارا تو کچھ نہیں بگڑے گا کہ تم تو قبول ہی نہیں کر رہے لہٰذا اپنی بات کا ذمہ تو میں خود لیتا ہوں مگر یادرکھو ! جو کرتوت تمہارے ہیں وہ بھی تمہی کو بھگتناہوں گے ۔ میراتم سے یا تمہارے اعمال سے کوئی سروکارنہ ہوگا۔ بدعات ورواجات تو یہ بھی ثابت ہوا کہ جو رسامات وبدعات جہلا میں پھیلی ہوئی ہیں اور جن کی شریعت میں کوئی اصل نہیں نبی رحمت ﷺ کا ان سے کوئی تعلق نہیں نہ آپ ﷺ ان کے بارے سفارش فرمائیں گے بلکہ بنانے اور عمل کرنے والے بھگتیں گے۔