11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 11:36–49

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی کہ آپ کی قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ہیں ان کے علاوہ ہرگز کوئی ایمان نہ لائے گا پس آپ ان کے کردار کا غم نہ کھائیں

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور ہمارے روبرو کشتی بنائیں اور ہماری وحی کے مطابق۔ اور غلط کاروں کے بارے ہم سے کچھ نہ کہیے بیشک وہ (ضرور) غرق کردیئے جائیں گے

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

اور وہ (نوح علیہ السلام) کشتی بناتے تھے اور جب ان کی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان کا مذاق اڑاتے۔ وہ فرماتے اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

پس تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور (سے بھی پانی) جوش مارنے لگا تو ہم نے فرمایا کہ ہر قسم (کے جانور میں) سے جوڑا جوڑا اس (کشتی) میں رکھ لیجئے اور اپنے گھر والوں کو (بھی) مگر اس شخص کے علاوہ جس پر بات طے ہوچکی ہے اور جو ایمان لاچکے ہیں (ان کو) اور ان کے ساتھ بہت تھوڑے لوگ ایمان لائے تھے

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور فرمایا اس میں سوار ہوجاؤ۔ اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا۔ بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ ان کو لے کر پہاڑوں جیسی موجوں میں چلنے لگی اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو آواز دی اور وہ (کشتی سے) الگ تھا کہ میرے بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ اور کافروں کے ساتھ مت رہو

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

اس نے کہا میں ابھی پہاڑ کے ساتھ جالگوں گا وہ مجھ کو پانی سے بچالے گا۔ انہوں نے فرمایا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے بچانے والا کوئی نہیں سوائے اس کے جس پر وہی رحم فرمائیں اور (اتنے میں) دونوں کے درمیان لہر حائل ہوگئی پھر وہ ڈوبنے والوں میں ہوگیا

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم دیا گیا اے زمین ! اپنا پانی نگل جا اور اسے آسمان ! تھم جا اور پانی خشک کردیا گیا اور کام تمام کردیا گیا اور وہ (کشتی) جو دی (پہاڑ) پر جاٹھہری اور کہہ دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت ہو

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کو پکارا۔ پس عرض کیا اے میرے پروردگار ! بیشک میرا بیٹا بھی میرے اہل میں سے ہے اور یقینا آپ کا وعدہ سچا ہے اور آپ سب فیصلہ کرنے والوں میں سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے ہیں

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

ارشاد ہوا اے نوح (علیہ السلام) ! بیشک وہ آپ کے اہل میں سے نہیں ہے یقینا اس کے اعمال ناشائستہ ہیں سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست نہ کریں جس کی آپ کو خبر نہیں۔ بیشک میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنیں

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

انہوں نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! یقینا میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں کہ آپ سے کسی ایسی چیز کا سوال کروں جس کی مجھ کو خبر نہیں اور اگر آپ مجھے نہ بخشیں گے اور مجھ پر رحم نہیں فرمائیں گے تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤں گا

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

ارشاد ہوا اے نوح (علیہ السلام) ! اتریں ہماری طرف سے لام اور برکتیں لے کر جو آپ پر اور ان لوگوں (جماعتوں) پر (نازل) ہوں گی جو آپ کے ساتھ ہیں اور (ایسی) امتیں (بھی) ہوں گی جن کو ہم (دنیا کے) فائدے دیں گے پھر ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جن کو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں ان کو اس سے پہلے نہ آپ جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم۔ سو صبر کیجئے یقینا انجام پرہیزگاروں ہی کا بھلا ہے

آیات 36 تا 49 اسرار و معارف لہٰذا یہ بات نوح (علیہ السلام) کے حالات سے بھی واضح ہے کہ جب انھیں اللہ کا حکم پہنچاتے صدیاں بیت گئیں کہ ان کی عمربہت لمبی تھی اور قوم کی کئی نسلیں ان کے سامنے گزر گئیں مگر ایمان نہ لائے تو انھیں اللہ کریم کی طرف سے اطلاع کردی گئی کہ اب ان لوگوں میں سے کوئی بھی ایمان نہ لائے گا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ایمان لانے کی استعدادہی ان سے کھوگئی اور ان کے دلوں پر مہرلگ چکی ہاں ! صرف وہ محدود تعداد جو پہلے سے ایمان لا چکی ہے چناچہ آپ ان کا غم چھوڑ دیں اب یہ جو بھی کرتے ہیں آپ اس سے دل گرفتہ نہ ہوں کہ ان کا انجام قریب ہے تم ہی نوح (علیہ السلام) نے بدعافرمائی جو قرآن میں مذکور ہے کہ اللہ ! روئے زمین پر کوئی کافرباقی نہ رہے کہ اب تو ان کی نسلوں میں بھی کافر ہی پیدا ہوتا ہے کسی خیر کی امید نہیں ۔ صنعت اور مسلمان چنانچہ ارشاد ہوا کہ آہمارے روبردہماری وحی کے مطابق ایک آبی جہاز بنائیے ! روبرو سے مراد ہے کہ پوری صفای اور بہترین پیمائش اور خوبصورت جو ڑلگاکربنائی جائے اور بحری جہاز کی صنعت کی یہی ابتداتھی مفسرین کرام کے مطابق دنیا بھر کی ایجادات وحی کے ذریعہ سے تعلیم فرمائی گئیں اور کسی نہ کسی نبی نے شروع فرمائیں جن میں سے متعدد ایجادات کا ذکر قرآن پاک میں ملتا ہے ہاں ! بعد میں آنے والے لوگوں نے ان میں مزید ترتی ضرور کرلی اور زمانے کی ضروریات کے مطابق انھیں ڈھالتے رہے لہٰذا مسلمانوں کو صنعتی امور پر زیادہ توجہ کرنا اور ایسے علوم کا پڑھنا سنت انبیاء ہے اور اس میں دنیا کی ترقی اور اقوام عالم پر غلبہ پانے کا راز بھی ہے ۔ نیز یہ بھی بتادیا گیا کہ جذبہ ترحم جوش میں آئے اور ان کی سفارش فرمانے لگیں ۔ پتہ چلا کہ اللہ کی نافرمانی نہ صرف دلوں کی تباہ کرتی ہے بلکہ اہل اللہ کی سفارش سے بھی محرومی کا سبب بناجاتی ہے۔ قوم کا اور قوم کے سرداروں کا ابھی تک یہی حال تھا کہ انھیں کشتی بناتے دیکھتے تو مذاق اڑاتے کہ اور سنو یہ جہاز سازی ہورہی ہے ۔ یہاں پانی کا قحط ہے پینے کو تو ملتا نہیں بڑے میاں ریت پر جہاز چلائیں گے حالانکہ اللہ بندوں کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے مگر دنیا دار اپنی نگاہ سے دیکھتا ہے تو اسے وہ کام الٹا نظر آتا ہے ۔ تو انھوں نے فرمایا کہ آج تم ہم سے مذاق کرتے ہو مگر کل تک تم خود تقدیر کے مذاق کانشانہ بننے والے ہو ہم یقینا تمہیں یہ وقت یاددلائیں گے اور خود تمہیں بھی پتہ چل جائے گا جس بات کا آج ہمیں بذریعہ وحی علم ہے کل اس کے واقع ہونے پر تمہیں بھی علم ہوجائے گا کہ کون اللہ کے گرفت میں آکر رسواہوتا ہے اور تباہی کی نذرہوکردائمی اور ابدی عذاب میں گرفتار ہوتا ہے کہ یہ ذ(رح) لت ورسوائی وقتی اور عارضی نہیں بلکہ جو لوگ عذاب الٰہی میں گرفتار ہوکرتباہ ہوتے ہیں وہ ہمیشہ عذاب ہی میں مبتلارہتے ہیں۔ چنانچہ جب اللہ کا مقرر کردہ وقت آپہنچا اور تنورتک سے پانی ابلنے لگا ۔ مفسرین نے یہاں مختلف باتیں لکھی ہیں کہ سطح زمین کو بھی تنور کہا جاتا ہے بلند ی پہ بھی بولا جاتا ہے اور روٹی پکانے کا ایک خاص چولہا بھی تنور کہلاتا ہے تو اس لحاظ سے بھی درست ہے کہ ساری زمین سے بھی اور بلند یوں سے بھی پانی ابلنے لگا اور تنور جہاں ہمیشہ آگ جلتی ہے وہ بھی چشمے بن گئے ۔ اور یہ رائے بھی ہے اور درست ہوسکتی ہے کہ نوح (علیہ السلام) کو طوفان کی نشانی کے طور پر بتایا گیا تھا کہ جب تنور ابلنے لگے اور اس میں سے پانی نکلنا شروع ہوجائے تو آپ خودبھی اپنے پیروکاروں کو بھی اور ہرچیز کا ایک ایک جوڑا بھی جہاز میں سوار کر الیجئے ۔ چناچہ جیسے ہی پانی ابلناشروع ہواتو انھوں نے اپنے گھر والوں میں سے سب مسلمانوں کو اپنے ماننے والوں کو اور ان جانوروں کو جو جوڑے سے پیدا ہوتے ہیں کشتی یا جہاز میں سوار کرلیا ایسے جانور جو پانی میں زندہ نہیں رہ سکتے اور انسانی زندگی کی ضرورت تھے ساتھ رکھ لئے اور وہ لوگ جن کے حق میں تباہی کا فیصلہ ہوچکا باقی رہ گئے اور فرمایا ان کے ساتھ سوار ہونے والے لوگوں کی تعداد بہت کم تھی حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کے مطابق سب ملا کر اسی مرد اور خواتین تھے جن میں آپ کی تین بیویاں اور تین بیٹے بھی شامل تھے ۔ چوتھا بیٹا کفار کے ساتھ غرق ہو کر تباہ ہوا اور ایک بیوی بھی ۔ لہٰذا فرمایا کہ سوارہوجاؤ کہ اس کا چلنا اور ٹھہرنا سب اللہ کے حکم سے ہے اور میرارب بہت بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ دراصل سب چیزوں کا چلنا یا کام کرنا اللہ کریم ہی کی عطا ہے کہ جس نے کائنات میں مختلف چیزیں پیدافرمائیں ، انسان کو عقل اور فراست دی چناچہ وہ مختلف دھاتوں سے طرح طرح کے کل پرزے بناکر جوڑتا ہے تو عجیب غریب ایجادات سامنے آتی ہیں اور انسانی خدمت کافریضہ انجام دیتی ہیں مگر اس سب کے باوجود قادر مطلق کے قبضہ قدرت میں رہتی ہیں اور وہ جب روک دے رک جاتی ہیں بلکہ جب الٹ دے تو الٹ جاتی ہیں اور نفع کی بجائے نقصان پہنچاتی ۔ یہ بات جدید دنیا کی بڑی بڑی ایجادات سے واضح ہے اور یہی کفر واسلام کا فرق ہے کہ کافر اسے اپنا کمال جانتا ہے اور مومن اللہ کی عطاسمجھ کر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے نیز مسلمانوں کو چاہیئے کہ جب یہ اللہ کے انعامات میں سے ہے تو اس پر بہت زیادہ توجہ دیں ۔ نبی سے رشتہ جان بچانے کو بھاگنے لگے تو آپ وہ بیٹا جسے ایمان نصیب نہ ہوا تھا اور اس وجہ سے کشتی میں سوار نہ تھا بھی بھاگنے والوں کے ساتھ تھا جبکہ نوح (علیہ السلام) نے پکارا کہ اب بھی ایمان لاکر کشتی میں سوار ہوجاؤکہ سوار ہونے کی شرط تو ایمان تھی صرف نسبی رشتہ کافی نہ تھا لہٰذا یہ قانون ہے کہ نبی سے ایمان کا رشتہ ہی معتبر ہے اگر ایمان کے ساتھ نسبی رشتہ بھی ہو تو نور علیٰ نور ورنہ بغیر ایمان کے نسبی رشتے کا کوئی اثر نہیں نہ اس کی کوئی اہمیت باقی رہتی ہے ۔ نوح (علیہ السلام) نے تو آخری لمحے بھی کافروں کا ساتھ چھوڑدینے کے لئے کہا مگر وہ بد نصیب بولا میں بھاگ کر پہاڑ پر جارہا ہوں مجھے طوفان کا غم نہیں میرا کچھ نہیں بگڑے گا۔ تو انھوں نے فرمایا جب اللہ کی گرفت آتی ہے تو ظاہری اسباب اس کا دفاع نہیں کرسکتے اور ناکام ہوجاتے ہیں۔ پہاڑ اور بلندیاں عام طوفانوں سے تو بچالیں مگر یہ تو عذاب الٰہی ہے اور اس سے بچنے کے لئے صرف اللہ کی رحمت کام آسکتی ہے ۔ فرمایا آج کوئی کام نہیں آئے گا سوائے اس کے کہ اللہ رحم فرمائے اور اس کی رحمت تو ایمان لاکرہی پاسکوگے۔ بس یہ باتیں ہورہی تھیں کہ ایک لہر اٹھی اور اسے بہا کرلے گئی بلکہ وہ پہاڑ جن کو وہ پناہ گاہ سمجھ رہے تھے بھی غرق ہوگئے اور روایات میں ہے کہ پانی اونچے سے اونچے پہاڑ سے بھی بہت بلند ہوگیا تھا۔ جب کفار غرق ہوکرتبا ہوچکے اور بجزکشتی نوح زمین پر کوئی انسان نہ بچاتو ارشاد ہوا اے زمین ! اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان ! اپنا پانی روک لے ۔ یہاں زمین وآسمان کو براہ راست حکم فرمایا جانا مذکور ہے کہ کائنات کی ہر شے اگر انسان کے برابر شعور نہ رکھتی ہو مگر اپنی استعداد کے مطابق ہر شے کو شعور حاصل ہے اور ہر ذرے کا تعلق ذات باری سے ہے اور ہر آن اللہ کی اطاعت پہ کمربستہ ہیں ۔ لہٰذا بعض اوقات اسباب ترتیب دیئے جاتے ہیں تو کام ہوجاتا ہے مگر جب اظہار قدرت منظور ہو تو کائنات کے کسی بھی ذرے کو یا آسمان و زمین کو براہ راست ارشاد ہوتا ہے اور ہر شے تعمیل ارشاد کرتی ہے بلکہ کائنات کا ہر ذرہ اللہ کا ذکر کرتا ہے ۔ جیسے ارشاد ہے وان من شییء الا یسبح بحمدہ۔ یعنی کوئی شے ایسی نہیں جو اللہ کی پاکی بیان نہ کرتی ہو۔ چناچہ زمین آسمان نے تعمیل ارشاد کی اور قصہ تمام ہوا۔ نوح (علیہ السلام) کی کشی جودی پہاڑ پر ٹھہری اور کافروں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رحمت الٰہی سے محروم کردیا گیا۔ جودی نام کا پہاڑ آج بھی عراق میں ہے جو غالبا ایک بہت بڑے کو ہستانی سلسلے کا حصہ ہے اور اسی کے ایک حصہ کا نام ارارابط ہے جس کا تذکرہ بعض دیگر کتب میں ہے مفسرین کے مطابق طوفان کے تھمنے اور پانی خشک ہونے اور کشتی کے زمین پر لگنے میں کئی ماہ صرف ہوئے۔ رشتوں اور قومیتوں کا مدار نیز دعا کے آداب جب طوفان زوروں پر تھا اور بیٹے نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت قبول نہ کی تو انھوں نے رب جلیل سے دعا فرمائی کہ اے اللہ ! تو نے میرے خاندان کو بجانے کا وعدہ فرمایا تھا اور تیرے وعدے تو برحق ہیں۔ پھر میرابیٹا جو میراخون ہے کیوں غرق ہورہا ہے ؟ یہ بھی تو میراخاندان ہے اور تو تو ہرچیز پہ قادر ہے اسے ایمان بھی عطا کرسکتا ہے اور کشتی پہ آنے کی توفیق بھی ۔ بھلاتو چاہے تو موج ہی اس کی محافظ بن سکتی ہے تو ارشاد ہوا کہ اے نوح ! وہ تیرے خاندان میں سے نہیں ہے اس لئے کہ اس کا کردار غیر صالح ہے تو یہ بات واضح ہوگئی کہ مومن وکافر میں رشتہ اخوت نہیں ہے اگرچہ کتناہی قریبی رشتہ ہو۔ دین کے معاملات میں اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ یہی بات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات مبارکہ سے ثابت ہے کہ اسلام کے ابتدائی معرکے تو اکثر بھائیوں اور باپ بیٹوں کے درمیان لڑے گئے مگر کافر کو الگ قوم شمار کیا گیا خواہ بھائی تھا اور مومن کو بھائی جانا گیا خواہ بظاہربیگانہ تھا ۔ لہٰذا وطنی یالسانی یارنگ ونسل کی تقسیم درست نہیں قبائل اور ان کا نام انسان کی پہچان تو ہے لیکن سندھی پنچابی اور پٹھان وغیرہ کی تقسیم اور آپس میں لڑائی جائز نہیں مسلمان سب مسلمان ہیں اور اس کے بعد کچھ اور۔ چونکہ راستہ اپنا نے کا فیصلہ انسان کا ذاتی ہے اگرچہ اللہ قادر ہے کہ زبردستی کرسکتا ہے مگر اس نے طے کردیا کہ یہ کام حکمانہ ہوگا ورنہ پھر سارا نظام عدل غیر ضروری ٹھہرے گا ہاں ! جو انسان صدق دل سے اس کی طلب کا فیصلہ کرلے اسے بڑھ کر تھام لینا یہ اس کی رحمت ہے اور جو منہ موڑ لے اسے زبردستی نہ پکڑاجائے گا تو ارشاد کا معنی یہ ہوا کہ اس کا کردار ایسانامناسب ہے کہ اب اس کا دل ایمان قبول کرنے کی صلاحیت ہی سے محروم ہوگیا اور یہ بات تو اللہ کریم کے علم میں ہے کہ ہر شخص کا ایک تعلق اپنے مالک سے ایسا ہے جسے صرف اللہ جانتا ہے اس میں کسی فرشتے یانبی ولی کا بھی دخل نہیں سوائے اس کے کہ اللہ کریم ہی کسی کو اطلاع کردیں تو فرمایا کہ آپ ایسے امور کے بارے دعانہ کریں جن کے بارے آپ کو علم نہیں ۔ لہٰذا جب تک کسی بات کی خبرنہ ہو ہر آدمی کے کہنے پر اور ہر کام کے لئے دعا کرنا جائز نہ رہا بلکہ اگر کسی بات کے ناجائز ہونے کا پتہ ہو یا شبہ بھی ہو تو دعانہ کی جائے کہ دعا مانگنے والا خطاکار ہوگا ۔ ایسے ہی لوگوں کی ترقی واقتدار کی دعا کیا خبر کوئی کیسا ہوگا ۔ ہاں ! خیر اور اصلاح کے لئے اور بھلائی کے لئے دعا کی جائے ۔ چناچہ فرمایا کہ آپ کی شان بہت بلند ہے آپ کو ایسی دعانہ کرنا چاہیئے ، اللہ کریم کی طرف سے نصیحت کی جاتی ہے کہ نادانی آپ کو زیب نہیں دیتی اور یہی عصمت نبوت ہے کہ ذرا بھی بھول چوک ہونے لگے تو فورا اللہ کریم کی طرف سے مطلع کردیا جاتا ہے۔ یہاں اگر فطری شفقت پدری نے سراٹھایا تو فورا متنبہ فرمادیا گیا چناچہ عرض کیا اللہ ! میں ایسے کاموں سے تیری ہی پناہ چاہتا ہوں کہ تو ہی میری حفاظت فرما اور اگر تیری بخشش اور تیرا رحم یاوری نہ کرے تو انسان بھلا کیسے بچ سکتا ہے ۔ یہاں یہ طریقہ عمل ارشاد ہوتا ہے کہ خطاکا ہوجانا بڑی بات نہیں مگر اللہ سے اس کی معافی طلب کی جائے اور آئندہ چھوڑ نے پختہ عزم کرکے اللہ سے توفیق طلب کی جائے تنہا اپنے ارادے پہ بھروسہ نہ کیا جانا چاہیئے کہ انسان کو بہت سے فطری جذبات اکثر اوقات مجبور کردیتے ہیں لہٰذا اللہ کریم سے مدد طلب کی جائے۔ چنانچہ جب زمین رہائش کے قابل ہوئی اور پانی خشک ہوچکا تو ارشاد ہوا کہ اب پہاڑ پر اتریئے اور اسی زمین پر جس پر کفر کے باعث طوفان آئے آپ کے ساتھ ہماری طرف سے سلامتی اور برکات کا مشاہدہ ہوگا۔ آفات سے حفاظت کے ساتھ مال اور اولاد میں اضافہ دیکھئے ۔ مفسرین کرام کے مطابق یہاں ثابت ہے کہ روئے زمین پر پھر سے آبا دہونے والے سارے لوگ صرف حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد سے ہوئے ہیں۔ اسی لئے انھیں آدم ثانی بھی کہا جاتا ہے لہٰذا یہاں قیامت تک آنیوالے مسلمانوں اور اطاعت شعاروں کو سلامتی اور برکت کا وعدہ دیا گیا ہے مگر یہ بات یاد رہے کہ پسرنوح کا قصہ اس کی بہترین مثال ہے یعنی اس سلامتی اور ان برکات سے مستفید ہونے کے لئے ایمان اور عمل ضروری ہیں ۔ ورنہ جو لوگ آپ کی اولاد میں پھر سے کفر وسرکشی اختیار کریں گے تو ان کا انجام پہلے سے مختلف نہ ہوگا کہ جب تک مہلت ہے موت سے یا عذاب سے تو دنیا کی سہولتوں اور نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں گے مگر آخر کار اپنے انجام کو پہنچیں گے اور اللہ کا عذاب انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا جو بہت درد ناک اور بڑا شدید ہوتا ہے۔ اے حبیب ﷺ یہ سب باتیں بہت پہلے گزرچکیں نہ آپ کے علم مبارک میں تھیں اور نہ آپ کی قوم نوح (علیہ السلام) کے قصہ کی حقیقت سے آگاہ تھی نہ آپ ﷺ کسی مکتب دمدرسہ میں تشریف لے گئے نہ کسی عالم اور اہب کے پاس سنی تو یہ سب امور غیب میں سے تھا جس پر اللہ نے آپ ﷺ کو مطلع فرمایا اور واقعات کی جزیات تک ارشاد فرمادیں ۔ لہٰذآپ ﷺ کے پاس وحی آنے کے دوسرے روشن دلائل کے ساتھ اس قدرصحت سے ان واقعات کا بیان بھی ایک زبردست دلیل ہے ۔ لیکن کچھ بدنصیب اگر پھر بھی قبول نہ کریں تو آپ صبر فرمایئے کہ پہلے انبیاء نے بھی ایسا ہی کیا تھا ۔ نوح (علیہ السلام) بھی کم وبیش ہزارسال تک برداشت فرماتے رہے ۔ آپ بھی صبر کیجئے اور یہ تو اللہ کا قانون ہے کہ انجام کار وہی لوگ کامیاب ہیں جو متقی اور پرہیزگار ہیں دار دنیا ہو یا آخرت کامیابی متقین ہی حصہ ہے۔
Ayahs 11:50–60

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور عاد کی طرف ان کے بھائی ھود (علیہ السلام) کو (بھیجا) انہوں نے فرمایا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو تمہارے لئے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں تم (شرک کرکے) محض بہتان باندھتے ہو

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے میری قوم ! میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں مانگتا میرا صلہ تو اس کے ذمہ ہے جس نے مجھے فرمایا پھر تم کیوں نہیں سمجھتے

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور میری قوم ! اپنے پروردگار (اللہ) سے بخشش مانگو پھر اس کی طرف متوجہ رہو وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا اور تم کو طاقت دے کر تمہاری طاقت بڑھادے گا اور گنہگاربن کر روگردانی نہ کرو

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے ھود (علیہ السلام) ! تم ہمارے سامنے کوئی واضح دلیل نہیں لائے اور صرف تمہارے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور ن ہم تم پر ایمان لانے والے ہیں

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تم کو خرابی (آسیب وغیرہ) میں مبتلا کردیا ہے انہوں نے فرمایا بیشک میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان سے بیزار ہوں جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

(جن کی تم) اس کے علاوہ (پوجا کرتے ہو) پس تم سب مل کر میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنا چاہتے ہو) کرو پھر مجھے مہلت نہ دو

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

بیشک میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے جتنے روئے زمین پر چلنے والے ہیں ان کی چوٹی اس نے پکڑ رکھی ہے۔ یقینا میرا پروردگار سیدھے راستے پر ہے

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

پھر اگر تم روگردانی کرو گے تو جو پیغام مجھ کو دے کر تمہاری طرف بھیجا گیا تھا تو یقینا وہ میں تم کو پہنچا چکا ہوں اور میرا پروردگار تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو (زمین میں) بسا دے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔ بیشک میرا پروردگار ہو چیز پر نگہبان ہے

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے ھود (علیہ السلام) کو اور جو ان کے ساتھ اہل ایمان تھے اپنی رحمت سے بچا لیا اور ہم نے ان کو ایک سخت عذاب سے نجات دی

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

اور یہ (قوم) عاد تھی جنہوں نے (جان بوجھ کر) اپنے پروردگار کی نشانیوں کا انکار کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی اور ایسے لوگوں کے کہنے پر چلتے رہے جو جابر (ظالم اور) ضدی تھے

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کے ساتھ رہی اور قیامت کے دن بھی (رہے گی) دیکھو ! بیشک عاد نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ خوب سن لو ! رحمت سے دوری ہوئی عاد کو جو ھود (علیہ السلام) کی قوم تھی

آیات 50 تا 60 اسرار و معارف تمام انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت ایک تھی اسی طرح قوم عاد میں حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو اسی قوم کے ایک معزز فرد تھے اور یہی دعوت ان تک پہنچائی گئی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو کہ کسی کو یہ حق پہنچتا سب مخلوق ہیں اور خود اللہ کی عبادت کرنے والے اور اس کے محتاج ہیں اور اللہ کی عبادت کرو کہ وہ اس کا مستحق ہے اس کے علاوہ جو رسومات مذہب کے نام پر تم نے بنارکھی ہیں کہ فلاں کو پکاروتو اولاد ملتی ہے اور فلاں کو یاد کرو تو مال یا صحت یا یہ رسم اداکرو تو اس طرح فائدہ ہوتا ہے تو یہ سب محض خرافات ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ۔ دین کی تبلیغ اور اجرت اب رہا میرا معاملہ ! تو دیکھو میں جو اپنی پوری توانائی اس بات پر صرف کررہا ہوں اور تم سے جو ڈیل ڈول اور جسمانی طاقت کے اعتبار سے مثالی قوم ہو۔ بغیر کسی خوف اور جھجک رکھتا ہوں ؟ ہرگز نہیں ! کہ انبیاء دین کی تبلیغ پر کبھی اجرت کے طالب نہیں ہوتے اور یہ تو عام عقل کی بات ہے کہ کوئی بھی شخص کسی نفع کی امید کے بغیر محنت نہیں کرتا پھر یہ جان جوکھوں کا کام کہ کفر کے مقابلہ میں حق بات کہنا اگرچہ کفار کتنے طاقت ورہوں بھلا بغیر کسی امید کے ہوسکتا ہے ہرگز نہیں ! تو مجھے یہ نفع کہاں سے حاصل ہوگا۔ جبکہ انسانوں سے تو میں کسی انعام کا طالب ہی نہیں ۔ یقینا میراخالق جس نے مجھے پیدا کیا نبوت سے سرفراز فرمایا اور جس کے ارشاد کی تعمیل میں یہ سب کام کررہا ہوں مجھے اس کا بدلہ دے گا۔ عزت ووقار کے لئے توبہ و استغفار ضروری ہے اور اے قوم ! گزشتہ گناہوں پر معافی مانگو اور آئندہ نہ کرنے کا عہد کرو۔ یہ استغفار اور توبہ ہی وہ راستہ ہے جس پر مزید انعامات نصیب ہوتے ہیں اور آخرت کے ساتھ حیات دنیا بھی سدھرجاتی ہے اگر تم ایسا کروتو آسمان سے رحمت کی گھٹائیں برسین اور تمہارے مال اور تمہاری اولادیں بھی خوب پھلیں پھولیں اور تمہاری طاقت میں زبردست اضافہ ہو اور اللہ سے روگردانی چھوڑ دو کہ یہ آخرتباہی کا سبب بنتی ہے آج بھی اگر مسلمان قرآن کے اس ارشاد کو اپنالیں تو کفار کی عارضی اور وقتی شوکت پر غلبہ حاصل کرسکتے ہیں کہ عزت ووقار کیلئے توبہ و استغفار شرط ہے مگر یہاں بھی عقل الٹ گئی ہے اور کافروں کی دیکھادیکھی ان جیسا بننے میں ترقی تلاش کی جارہی ہے ۔ العیاذابا للہ۔ انھوں نے تمام دلائل سننے کے بعد بھی ایک ہی جواب دیا کہ آپ کوئی ایسی دلیل نہیں لائے جو قابل توجہ ہو اور ہم محض آپ کے کہنے پر اپنے معبودوں کو چھوڑ نہیں سکتے نہ ہی آپ کی بات قبول کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں بلکہ آپ کی یہ باتیں ہمیں الٹی سیدھی لگتی ہیں تو ہمارا خیال یہ ہے کہ آپ ہمارے بتوں کو جھوٹا اور غلط کہتے ہیں تو انھوں نے آپ پر کوئی مصیبت ڈال دی ہے یا جن مسلط کردیئے ہیں جس کی وجہ سے آپ اس طرح کی بات کرتے ہیں اور یہ گناہ اثرہوتا ہے کہ حق بات الٹی نظرآتی ہے اور باطل خرافات دل کو پسند آنے لگتی ہیں ۔ چناچہ ہود (علیہ السلام) ان کی اس بات سے بہت بیزار ہوئے اور فرمایا کہ میرا اللہ بھی گواہ ہے اور تم بھی کان کھول کر سن لوگواہ رہنا کہ میں تمہارے ان مشرکانہ اعتقادات سے بالکل الگ ہوں مجھے تمہارے بتوں کی کوئی پرواہ نہیں ۔ معرفت باری کا اثر نیز میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں کہ تم بھی جو اپنے کو بہت طاقتور سمجھتے ہو اور تمہارے یہ بت بھی جن کو تم اپنے سے بھی بہت طاقتور مانتے ہو مل کر سب زورلگاؤاور میرے ساتھ کوئی رعایت نہ برتو بلکہ جو بگاڑسکتے ہوبگاڑلو۔ یہ معرفت باری کا کمال ہوتا ہے کہ غیر اللہ سے امید بھی منقطع ہوجاتی ہے اور غیر اللہ کا خوف بھی دل میں نہیں رہتا انبیاء کی معرفت مثالی ہوتی ہے لہٰذا عمل بھی مثالی ۔ اور جو لوگ انسانوں سے ڈرکریا کسی نفع کی امید پہ ظلط بات کو درست کہنے لگتے ہیں وہ معرفت الٰہیہ سے محروم ہوتے ہیں خواہ بظاہرکتنے بڑے پیربنے ہوئے ہوں۔ فرمایا میں تو اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں جو میرا بھی رب ہے یعنی پیدا کرنے اور باقی رکھنے والا ہے اور تمہارا رب بھی وہی ہے اسی نے سب قوتیں دے رکھی ہیں اور ایسا بھی نہیں کہ دے کر فارغ ہوگیا اب جو جی میں آئے کرو بلکہ جاندار کی چوٹی اس کے دست قدرت میں ہے یعنی ہر ایک پہ قادر ہے جو چاہے کرنے دے اور جو چاہے نہ کرنے دے ۔ اور یہ بھی طے ہے کہ میرارب سیدھے راستے پر ہے یعنی اس کی رضامندی حق بات اور نیک کام کے ساتھ ہے یعنی اللہ کی مدد نیکی پر نصیب ہوتی ہے تم جیسے لوگوں کو نہیں جنہوں نے برائی اختیار کررکھی ہو۔ اب بھی اگر تم بازنہ آؤتو میں بری الذمہ ہوں کہ بات پہنچا نے کا حق داد کردیا جو کچھ میرے رب نے مجھے فرمایا میں نے سب کا سب تم تک پہنچادیا اب میری حفاظت بھی میرارب ہی کرے گا کہ اتنی بڑی جابرقوم کے مقابلے میں بغیر دنیاوی اسباب کے حق بات کرنا صرف اسی کے بھروسے پہ ممکن ہے۔ عقائدواعمال کا اثر بالآ خرجب نہ مانے تو اللہ کے عذاب نے انھیں آلیا اور حضرت ہود اور ان کے متبعین کو اللہ کی رحمت نصیب ہوئی ۔ یعنی عقائد و اعمال اشیاء کے اثرکو بدل دیتے ہیں کہ وہی فضاجو کافر پر عذاب نازل کررہی ہے مومنیں پر رحمت برسارہی ہے ۔ ایک ہی وقت میں دوطبقوں کے لئے حالات کا ظہور ہورہا ہے چناچہ اسی لمحے جب بہت ہی شدید عذاب قوم عاد کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا انہی میں سے مومنیں کو اللہ کی رحمت نے ڈھانپ رکھا تھا اور عذاب کے مقابل ڈھال بن گئی تھی مفسرین کے مطابق ان پر سخت قسم کی آندھی چلی جو انسانوں اور جانوروں کو اڑاکر آسمان کی وسعتوں میں لے جاتی تھی اور فضا بھی انسانی چیخوں سے بھرگئی تھی ۔ ظالموں کا اتباع اور انکی تکریم عذاب الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے فرمایا یہی عاد تھے جنہوں نے اللہ کی آیات اور احکام کے مقابل انکار کا راستہ اختیار کیا اور اللہ کے رسولوں کو نہ مانا بلکہ ظالم و جابر کی عزت کرتے اور ان کے پیچھے چلنا فخر سمجھتے تھے ۔ گویا یہ بات ثابت ہوئی کہ ظالموں کی اطاعت اختیار کرنا اور بدکاروں کی عزت و تکریم انبیاء کے فیض سے ہی محروم نہیں کرتی یہ عذاب الہی کو دعوت دینے کے برابر ہے ۔ ایسے ہی جرم کے نتیجے میں عاد کو دنیا کی بربادی کا سامنا بھی کرنا پڑا اور ان پر لعنت برسی اور قیامت کے روز بھی لعنت ہی ان کا نصیب ٹھہری ۔ لہٰذا اے نوع انسانی ! کان کھول کر سن لو کہ عاد نے اللہ سے کفر کیا اور اپنے رب کونہ مانا ، سو ان پر ہمیشہ کے لئے پھٹکار پڑی اگرچہ عاد ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی مگر کفر کی مصیبت نے انھیں ان کی برکات سے محروم کرکے ہمیشہ کے عذاب میں دھکیل دیا۔
Ayahs 11:61–68

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو (بھیجا) انہوں نے فرمایا اے میری قوم ! (صرف) اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں اس نے تم کو زمین سے پیدا فرمایا اور اس میں تم کو آباد فرمایا پس اس سے بخشش طلب کرو (ایمان لاؤ) پھر اس کی طرف متوجہ رہو ، بیشک میرا پروردگار قریب ہے قبول کرنے والا ہے

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے صالح (علیہ السلام) ! یقینا اس سے پہلے ہم تم سے کئی امیدیں رکھتے تھے کیا تم ہمیں ان کی عبادت سے منع کرتے ہو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں اور تم ہمیں جس بات کی طرف بلا رہے ہو یقینا اس میں ہمیں شبہ ہے اس کی طرف دل نہیں مانتا

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا اے میری قوم ! بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت (نبوت) عطا فرمائی ہو تو اگر میں اس کی نافرمانی کروں پھر مجھے اللہ سے کون بچائے گا سو تم تو (کفر کی باتوں سے) میرا نقصان ہی بڑھاتے ہو

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لئے معجزہ ہے پس اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں چرتی پھرے اور اس کو تم بری نیت کے ساتھ چھونا بھی مت پھر تم کو فوری عذاب آپکڑے گا

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

سو انہوں نے اس کے پاؤں کاٹ ڈالے تو (صالح علیہ السلام) نے فرمایا تم اپنے گھروں میں تین دن اور سو یہ ایسا وعدہ ہے جس میں ذرا جھوٹ نہیں

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

پس جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے صالح (علیہ السلام) اور جو اہل ایمان ان کے ساتھ تھے (سب کو) اپنی عنایت سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا) بیشک آپ کا پروردگار بڑی قوت والا غلبے والا ہے

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور ظلم کرنے والوں کو چنگھاڑنے آپکڑا پس وہ صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

جیسے ان میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ خوب سن لو ! یقینا ثمود نے اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کیا۔ سن لو ! ثمود کو پھٹکار (رحمت سے دوری) ہوئی

آیات 61 تا 68 اسرار و معارف اسی قانون فطرت اور ضابطہ الٰہیہ کی تائید حضرت صالح (علیہ السلام) کے واقعہ بھی ہوتی ہے جو مذکورہ قوم کی دوسری شاخ یعنی ثمود کی طرف مبعوث ہوئے اور وہ خود بھی اسی قوم کے ایک معززفرد تھے ان کی دعوت بھی وہی تھی جو سب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ہوتی تھی اور جو خاتم الانبیاء ﷺ کی بھی تھی اور ہے کہ لوگو ! اللہ کی اور صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں ۔ عبادت کی اصل صرف یہ نہیں کہ اللہ کو سب سے بڑامان لیا اور بات ختم بلکہ عبادت کی اصل یہ ہے کہ ساری امیدیں اس ایک ذات سے وابستہ کردی جائیں اور اس کے علاوہ اسباب کو ان کی حیثیت کے مطابق اختیار کیا جائے یہ نہ ہو کہ اس کی نافرمانی کرکے اسباب یا ذوات یعنی اللہ کے سوا کسی ذات کو اختیار کیا جائے اگر ایسا ہواتو یہ غیر اللہ کی عبادت ہوگی ۔ اور تمام انبیاء نے یہی دعوت بھی دی اور یہی کام سب سے دشمنی کا سب بھی بن اور نہ صرف اللہ کو سب سے بڑا ماننا تو مشکل بات نہ تھی کہ ہر مذہب میں کسی نہ کسی طرح یہ تصور موجود ہے ۔ اپنی دعوت کی تائید میں انھوں نے فرمایا اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا یعنی تمہارے وجود اور تمہاری ذات میں جس قدرکمالات ہیں اسی کے عطاکردہ ہیں اور تم کو آباد بھی اسی نے کیا یعنی جس قدرنعمتیں اور احتیں حاصل ہیں یہ سب بھی اسی کی دین ہے اور تم اصل بات کو فراموش کرکے اللہ کے سوا دوسروں سے ان نعمتوں کے امیدوار بنے بیٹھے ہو۔ یہ بہت بڑاجرم ہے اس سے استغفار کرو اور آئندہ ایسانہ کرنے کا عہد کرو کہ میرا پروردگار ہر لحظہ ہر ایک کے قریب تر ہے اور وہ کسی کی فریاد رد نہیں فرماتا بشرطیکہ صحیح طریقے پرخلوص کے ساتھ اسی سے کی جائے۔ یہاں بات ان سے کرتے ہوئے فرمایا ، میرارب میرارب ! حالانکہ رب تو وہ سب کا ہے مگر ان لوگوں کو ابھی اس کی اپنا ئیت نصیب نہ تھی اور شیخ کا کمال یہی ہے کہ انسان پکار اٹھے میرارب۔ دل اور دماغ کافرق وہ کہنے لگے ، اے صالح ! تیرابچپن لڑکپن اور جوانی بےمثال تھے اور ہمیں آپ سے بیشمار تو قعات تھیں ۔ چونکہ انبیاء کی تربیت خاص انداز میں فرمائی جاتی ہے لہٰذاقوم میں بعثت سے قبل بھی ان کا ایک مقام ہوتا ہے اور اب آپ ہمیں ان بتوں کی پوجا سے روکتے ہیں ہیں جن کی پرستش تو ہمارے آباواجداد بھی کرتے تھے بھلا وہ سب غلط تھے ان میں کوئی اتنا سمجھدار نہ تھا جبکہ ان میں بڑے بڑے نامورلوگ تھے۔ اور کفار کو عموما اور آجکل کے دانشوروں کو خصوصا یہی بات دین سے دور رکھے ہوئے ہے حالانکہ اصل فرق دل اور دماغ کا ہے کہ دنیا بھر کے نامور لوگ ساری شہرت دماغی اور جسمانی امور میں حاصل کرسکتے ہیں مگر وہ علوم جن کا تعلق اللہ کی معرفت سے ہے دلوں پہ نازل ہوتے ہیں جن کو انبیاء حاصل کرکے ان لوگوں کو تقسیم فرماتے ہیں جو ان پہ ایمان لاکر اپنے دل کا تعلق ان سے جوڑتے ہیں لیکن اس بات کونہ پاسکے تو کہنے لگے ہمیں تو آپ پر آپ کی دعوت پر آپ کی دماغی صحت تک پر شک سا ہورہا ہے آپ کی یہ بات قبول کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ انھوں نے فرمایا کہ رواج کی بات نہ کرو کہ ایساکب سے آرہا ہے دلائل کی بات کرو اگر میرے پروردگار نے مجھے روشن اور مضبوط دلائل دیئے ہیں اور میراسینہ روشن کردیا ہے تو یہ بھی سوچو کہ جس اللہ نے پر اتنی بڑی رحمت کی ہے کہ میں تم سب کو بھی اس کی طرف دعوت دے رہا ہوں اور تم سب پر اس کی رحمت کے خزانے لٹاناچاہتا ہوں تو بھلائیں اسکی نافرمانی کرسکتا ہوں کہ اس کی بات تم سے نہ ہوں ؟ ہرگز نہیں ! اور اگر خدا نخواستہ میں ایسا کروں تو پھر اس کی گرفت سے مجھے کوئی نہیں بچاسکتا لہٰذا تمہاری بات میں سوائے خسارے اور نقصان کے کچھ بھی تو نہیں ۔ تو وہ کہنے لگے کہ بھئی ! ایسے دلائل سے کام نہ چلے گا۔ آپ اگر اللہ کی طرف سے مبعوث ہوئے ہیں وہ سب کچھ کرسکتا ہے تو اسے کہیں ، اس پتھر سے اونٹنی پیدا ہوجوحاملہ ہو اور پھر بچہ جنے ۔ آپ نے فرمایا ، بیشک اللہ تو ہرچیز پہ قادر ہے لیکن اگر منہ مانگا معجزہ ظاہر ہو اور مانگنے والے پھر بھی نہ مانیں تو تباہ ہوجاتے ہیں ۔ لہٰذا سوچ لو۔ کہنے لگے ہم مانیں گے آپ جان بچانے کی تدبیریں نہ کریں اللہ سے کہیں ایسا کردے۔ بعض وجود باعث برکت ہوتے ہیں چنانچہ انھوں نے دعا فرمائی پتھر پھٹا اور مطلوبہ اوصاف کی اونٹنی اس میں سے نکل کر سامنے آگئی مگر قوم تو تھی بدکار چناچہ ماننے سے انکار کردیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ یہ اللہ کی خاص اونٹنی ہے اب اسے کوئی نقصان نہ پہنچانا کہ اس کا وجود بھی عذاب الٰہی کو روکنے کا سبب ہے اگر یہ نہ رہی تو تم پر عذاب آجائے گا اور تباہ ہوجاؤگے ۔ تو ثابت ہوا کہ اگر اللہ کی اونٹنی کا وجود عذاب الٰہی کو روکنے کا سبب ہے تو اللہ کے بندوں کے وجود یقینا اس سے بہت زیادہ برکات کے حامل ہوتے ہیں مگر انھوں نے نہ مانا اس کی کونچیں کاٹ دیں اور اسے ہلاک کردیا چناچہ آپ نے انھیں اللہ کے حکم سے بتادیا کہ اب تمہارے پاس صرف تین روز مہلت ہے اس کے بعد تم تباہ ہوجاؤگے اور یہ ایسا وعدہ ہے جو ہرگز غلط ثابت نہ ہوگا۔ چنانچہ عذاب الٰہی آپہنچا اور حضرت صالح (علیہ السلام) اور جو لوگ ان پر ایمان لائے تھے اس سے بچا لئے گئے کہ انبیاء وصلحاء کی معیت ہی عذاب سے حفاظت کا ذریعہ بنائی گئی ہے ۔ چناچہ ساری قوم ذلیل ورسوا ہوکرتباہ ہورہی تھی ان پر اللہ کی رحمت برس رہی تھی کہ اللہ کریم قادر ہے ایک ہی فضاکو کافروں کے لئے عذاب کا اور اپنے بندوں کے لئے نویدرحمت کا سبب بنادیتا ہے ۔ یقینا وہ بہت بڑی طاقت والا اور بہت زبردست ہے۔ اور ظالموں کو تو ایک ہیبت ناک چیخ نے پکڑا کہ ان کے دل پھٹ گئے اور اگلے روز سب گھروں میں کفار اوندھے منہ پڑے تھے کوئی نہیں بچا تھا جو ان کی لاشیں ہی سیدھی کرتا ۔ ان کی آبادی یوں تباہ ہوئی جیسے کبھی آبادہی نہ تھی ۔ اے مخاطب ! خوب اچھی طرح سن لو کہ ثمود نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی اور کفر اختیار کیا تو ہمیشہ کے لئے برباد کردیئے گئے اور لعنت کا شکار ہوئے۔