11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 11:69–83

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور یقینا ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آئے تو سلام کہا انہوں نے بھی اسلام کہا پھر دیر نہیں کی کہ ایک تلا ہوا بچھڑا لے کرآئے۔

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

پس جب انہوں نے دیکھا کے ان کے ہاتھ اس (کھانے) کی طرف نہیں بڑھتے تو ان سے کھٹکے اور (ان کو اجنبی جان کر) دل میں ان سے ڈر محسوس کیا انہوں (فرشتوں) نے کہا خوف مت کیجئے بیشک ہم لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور ان کی اہلیہ (پاس) کھڑی تھیں تب ہنس پڑیں تو ہم نے ان کو اسحاق (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کے بعد یعقوب (علیہ السلام) کی خوشخبری دی

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے ہے ! کیا میرے بچہ ہوگا ؟ اور میں تو بڑھیا ہوں اور یہ میرے خاوند بھی بوڑھے ہیں ، بیشک یہ بڑی عجیب بات ہے

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

انہوں (فرشتوں) نے کہا کیا آپ اللہ کے کاموں میں تعجب کرتی ہیں اے اہل بیت (گھروالو) ! آپ پر اللہ کی رحمت اور اسکی برکتیں ہیں بیشک وہ تعریف کیا گیا بڑی شان والا ہے

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

پھر جب ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف جاتا رہا اور ان کو خوشی کی خبر بھی ملی تو ہم نے قوم لوط کے بارے بحث کرنے لگے

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بڑے تحمل والے نرم دل (اور) رجوع کرنے والے تھے

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

اے ابراہیم (علیہ السلام) ! اس بات کو جانے دیں ، بیشک آپ کے پروردگار کا حکم آپہنچا ہے اور یقینا ان لوگوں پر عذاب آنے والا ہے جو کبھی ٹلنے والا نہیں

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے تو وہ ان کی وجہ مغموم ہوئے اور ان کے آنے کی وجہ سے تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے آج کا دن بہت مشکل (کا دن) ہے

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور ان کی قوم ان کے پاس دوڑتی ہوئی آئی اور یہ لوگ پہلے ہی برے کام کرتے تھے انہوں نے فرمایا اے میری قوم ! یہ میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں یہ تمہارے لئے (جائز اور) پاک ہیں تو اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں کے بارے رسوا نہ کرو کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں ہے ؟

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ یقینا تم جانتے ہو تمہاری (قوم کی بہو) بیٹیوں کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں اور جو ہم چاہتے ہیں یقینا تم اس سے خوب واقف ہو

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا اے کاش ! میرے پاس تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط قلعے میں پناہ پکڑ سکتا

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

وہ (فرشتے) کہتے لگے اے لوط (علیہ السلام) ! یقینا ہم تو آپ کے پروردگار کے بھیجے ہوئے (فرشتے) ہیں یہ لوگ آپ تک ہرگز نہ پہنچ سکیں گے آپ کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دیں اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑر کر نہ دیکھے مگر آپ کی بیوی۔ یقینا اس پر وہی مصیبت پڑنے والی ہے جو ان پر پڑے گی۔ بیشک ان کے (عذاب کے) وعدہ کا وقت صبح ہے کیا صبح قریب نہیں ہے ؟

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

پس جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس (بستی) کو (الٹ کر) اوپر کا نیچے (اور نیچے کا اوپر) کردیا اور ان پر کھنگر کے پتھر برسائے (جو) لگاتار (گر رہے تھے)

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

جن پر آپ کے پروردگار کا خاص نشان بھی تھا اور یہ (بستی) ان ظالموں سے کچھ دور بھی نہیں

آیات 69 تا 83 اسرار و معارف اعمال وکردار اور ان پر مرتب ہونے والے نتائج کا یہ فرق اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اپنے فرشتے بھیجے کہ انھیں اولاد کی خوشخبری دیں وہی فرشتے جو ان کے لئے نوید مسرت لائے تھے قوم لوط پر تباہی لانے کے لئے بھی مامور تھے جو ان سے صرف دس بارہ میل آباد تھی۔ یہ فرشتے انسانی شکل میں پہنچے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے سمجھا کوئی مہمان آگئے ہیں ۔ جب انھوں نے سلام کیا اور آپ نے سلام کا جواب دیا انھیں بٹھایا اور فورا ایک بچھڑاتل کرلے آئے چونکہ آپ کے ہاں گائے بیل تھے تو ایک موٹا تازہ بچھڑاکاٹ کر پکاکر حاضر کردیا۔ سلام اور جواب یہاں ظاہر ہے کہ ہر قوم میں ملاقات کے وقت چند خوشگوار کلمات کاتبادلہ تو ہوتا ہے جیسے اسلام نے ہر دور میں سلامتی کی دعا اور جواب دعا کے طور پر مقرر کیا ہے ۔ ایسے ہی نبی اکرم ﷺ کے طفیل بھی عطا ہوا ہے کہ السلام علیکم اور جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہاجائے یہ نہ صرف دعا ہے بلکہ ملنے والے ایک دوسرے کو اپنے سے سلامتی کی ضمانت بھی دیتے ہیں کہ مجھ سے تمہیں نقصان کا اندیشہ نہ ہونا چاہیئے اور دوسرے آداب مہمان داری میں ہے کہ اپنی حیثیت کے مطابق مہمان کی تواضع کرنا سنت انبیاء ہے بغیر کسی تکلیف میں پڑے جو کچھ ممکن ہو اچھی طرح سے حاضر کردے ۔ اطلاع من الغیب اور عقدہ بھی کھلا کہ انبیاء اپنے علم کی وسعت کے باوجود ہر آن اللہ کے دربار میں ہی امیدوار کرم رہتے ہیں اور وہی جانتے ہیں جو وہ بتاتا ہے کہ فرشتے تھے انھوں نے کھانا تو نہ کھانا تھا مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پہچان نہ سکے اور انسان سمجھ کر تو اضع کی لیکن جب انھوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا تو آپ گھبراگئے کہ عرب اور فلسطین کا دستور تھا کہ دشمن کا کھانا نہ کھاتے تھے آپ نے سمجھا کہ شاید کوئی دشمن ہوں مگر فرشتوں نے عرض کیا کہ ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور اللہ نے قوم لوط کو تباہ کرنے کے لئے بھیجا ہے تو ان کی بیوی ہنس دیں۔ غالیا اسی بات سے کہ کس قدر جلدی فرمائی بچھڑا ذبح کیا مجھ سے پکوایا اور اب پتہ چلا کہ یہ تو فرشتے ہیں انھیں کھانے پینے سے غرض نہیں ۔ تو انھوں نے اس نیک بخت خاتون کو اسحاق (علیہ السلام) اور پھر ان کی اولا دمیں یعقوب (علیہ السلام) کے ہونے کی خوشخبری دی ، یعنی علوم غیبیہ بر اللہ کی طرف سے مطلع فرمادیا تو وہ بہت حیران ہوئیں کہ عمر رسیدہ تھیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی بوڑھے ہوچکے تھے تو فرمانے لگیں اب میری اولاد ہوگی ؟ اس عمر میں جس میں تو عادتا بھی خواتین اولاد کے قابل نہیں رہتیں اور پھر یہ میرے شوہر یہ بھی تو بوڑھے ہوچکے ہیں اور اب ہم لوگ اولاد کے قابل کہاں یہ تو بہت ہی عجیب بات ہے تو فرشتوں نے عرض کیا اللہ کے کاموں میں کیا تعجب ؟ وہ تو اسباب کا محتاج نہیں بلکہ خود اسباب بھی اس کی ذات کے محتاج ہیں اور پھر آپ کی عمر تو خاندان نبوت میں بسرہوئی کس قدرعجائبات آپ نے زندگی بھردیکھے اور کتنے انقلاب آپ کی نگاہوں کے سامنے گزرگئے کہ اسباب خلاف تھے مگر نتیجہ حق میں نکلا۔ آگ گلزار بن گئی حکمرانوں کو منہ کھاناپڑی اور بےگھر ہوکرنکلے تو گھر نصیب ہوگیا بلکہ ساری انسانیت کے لئے اللہ کا گھر بنائیں گے لہٰذا آپ کو حیرت کرنے کی ضرورت نہیں کہ اللہ جو چاہے اور جب چاہے اپنی رحمت کے اظہار کا سبب بنادے وہ سب کچھ کرسکتا ہے ۔ تو جب ابرا ہیم (علیہ السلام) سے یہ خطرہ دور ہوا کہ دشمن نہیں بلکہ اللہ کے فرشتے ہیں اور بڑھا پے میں اولاد اور اپنے بچوں کے نبی ہونے کی خبرسنی تو بہت مسرور ہوئے مگر آپ بہت ہی حلیم الطبع اور نرم دل تھے اب قوم لوط کی سفارش فرمانے لگے کہ اگر ہوسکے تو یہ تباہی سے بچ جائیں اور اس پر اس قدر اصرار فرمایا کہ اللہ کریم فرماتے ہیں یجادلنا فی قوم لوط کہ ابراہیم تو لوط کے حق میں ہم سے جھگڑنے لگے ۔ سبحان اللہ ! کس طرح اپنے بندوں کے نازاٹھاتا ہے بات ہی میں کس قدرلطف ہے۔ فرمایا اے میرے خلیل ! اے ابراہیم ! اب یہ بات بعد ازوقت ہے ۔ اب ان کے تائب ہونے کی امید نہ رکھیں کہ ان کی بدکاری کے باعث ان پر اللہ کا فیصلہ نافذ ہوچکا اور اب ان پر ایسا عذاب آئے گا جسے کوئی لوٹا نہیں سکتا تباہی ان کا مقدربن چکی ہے ۔ قوم لوط ہی وہ پہلی قوم تھی نے ہم جنسی کی عادت بدجاری کی اور اس فعل شنیع کا نام ہی لواطت پڑگیا ، اس میں اس قدر بےحیا ہوچکے تھے کہ بستی میں آنے والے مسافر بھی ان کی آوارگی سے محفوظ نہ رہتے ۔ اللہ کریم نے فرشتوں کو خوبصورت نوعمر لڑکوں کی شکل میں وہاں بھیجا جب وہ لوط (علیہ السلام) کے گھر گئے تو انھوں نے بھی مہمان ہی سمجھا اور بہت گھبرائے کہ یہ لوگ تو انھیں معاف نہ کریں گے اور یہ بہت بری بات ہے کہ مہان میرے گھر آئے اور اس کی یوں توہین ہو۔ ساتھ مصیبت یہ تھی کہ ان کی بیوی بھی غیرمسلموں سے رابطہ رکھتی تھی اور آپ کی نبوت پر ایمان نہ لائی تھی ۔ چناچہ اس نے لوگوں کو خبر کردی کہ آج ہمارے ہاں بہت خوبصورت لڑکے مہمان ہیں تو لوگ چڑھ دوڑے کہ وہ تو اس بےحیائی کے عادی ہوچکے تھے اور یہ ان کے قومی کردار کا حصہ بن چکی تھی اور جو بھی بدعادت پوری قوم کا وطیرہ بن جائے پھر اس پر لوگ جھجک محسوس نہیں کرتے ۔ چناچہ وہ آکر آپ سے مطالبہ کرنے لگے کہ یہ لڑکے ہمارے سپردکریں ۔ خواتین بھی تماشادکھنے جمع ہوگئیں تو آپ نے فرمایا کہ قوم کی یہ لڑکیاں جو میری بیٹیاں ہیں اور تمہاری منکوحہ جب اللہ نے تم پر انھیں حلال کردیا اور تمہارے لئے ان کو جائز قرار دیا تو پھر ایسا کیوں کرتے ہو ؟ کچھ خوف خدا کرو اور مجھے میرے مہمانوں کے سامنے شرمندہ نہ کرد اور میری توہین کرکے یرے مہمانوں کو پریشان کرکے مجھے دکھ نہ دو ۔ وہ کہنے لگے ہمیں تو عورت میں کوئی دلچپسی ہی نہیں اور آپ کو بھی اس کا بخوبی علم ہے اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں تو آپ ہمارا رارستہ نہ روکیں ورنہ ہم زبردستی کریں گے۔ انھیں بہت دکھ پہنچا فرمانے لگے کاش میں تمہارے ساتھ لڑسکتا کاش ! آج میرے ساتھ بھی میری قوم یا متبعین کی جماعت ہوتی تو میں ظلم کو روکنے اور مٹانے کے لئے میدان میں تمہیں جواب دیتا تو آپ کا یہ اضطراب دیکھ کر فرشتوں نے عرض کیا اللہ اپنے بندوں کو رسوا نہیں ہونے دیتا ہم ہی آپ کی جماعت ہیں اور آپ بےفکر ہوکردرمیان سے ہٹ جائیں اب یہ آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑسکیں گے بلکہ تیاری کریں اور اپنے سارے متبعین کو لے کر رات کو آبادی سے نکل جائیں سوائے آپ کی اہلیہ کے جو بیوی ہونے کے باوجود ایمان نہیں رکھتی لہٰذاجو قوم جیسا عقیدہ رکھتی ہے انہی کے ساتھ نتائج بھی بھگتے گی اور ذرارات ڈھلتی دیکھیں کہ ان پر صبح کیسے اور کس حال میں طلوع ہوتی ہے کیا صبح قریب نہیں ؟ یعنی رات بھر آخرکتنا وقت ہوتا ہے اور صبح تو ہونے والی ہے۔ چنانچہ ان پر عذاب وارد ہوا اور اوپر کی طرف کو پلٹ کرنیچے کردیا گیا یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ان کی بستیاں جو چار بڑے بڑے شہروں پہ مشتمل تھیں زمین سمیت اکھیڑلیں اٹھا کر آسمان کے قریب لے گئے اور وہاں سے الٹ دیا اور ان پر خاص قسم کے پتھر برسائے گئے جس نے ساری زمین سمیت ہر شے کو کچل دیا ایسے پتھر جو انہی کے نام پر نشان کردہ تھے جن کے خطاجانے کا بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور یہ قانون الٰہی ہے کہ کفار اور ظالموں سے عذاب الٰہی کبھی دور نہیں ہوتا ۔ جیسا کسی کا عمل ہوتا ہے ویسی ہی اس پر عذاب کی صورت مرتب ہوجاتی ہے لہٰذا اب بھی کفر اور ظلم اختیار کرنے والوں کو خود کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھنا چاہیئے۔
Ayahs 11:84–95

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو (بھیجا) انہوں نے فرمایا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور ماپ اور تول میں کمی نہ کیا کرو بیشک میں تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور یقینا مجھے تم پر ایسے دن کے عذاب کا ڈر ہے جو (تم کو) گھیر کر رہے گا

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے نہ دیا کرو اور زمین میں فساد کرتے ہوئے حد سے نہ نکلو

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اگر تم (میرے کہنے کا) یقی کرو تو اللہ کا دیا ہوا نفع ہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ اور میں تم پر نگہبان نہیں ہوں

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے شعیب (علیہ السلام) ! کیا تمہاری نماز تم کو یہ سکھاتی ہے کہ ہمارے باپ دادا جن کو پوجتے آئے ہیں ہم ان کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں جو چاہیں تصرف نہ کریں یقینا تم تو بڑے نرم دل (اور) راست باز ہو

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا اے میری قوم ! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں اور اس نے اپنے ہاں سے مجھے عمدہ دولت (نبوت) بخشی ہو (تو کیسے تبلیغ نہ کروں) اور میں نہیں چاہتا کہ جس کام سے تم کو منع کروں تمہارے برخلاف وہ خود کرنے لگوں میں تو جس قدر مجھ سے ہوسکے اصلاح چاہتا ہوں اور مجھ کو جو توفیق ہوجاتی ہے صرف اللہ ہی (کی طرف) سے ہے۔ میں اس پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے کہ جو مصیبت نوح (علیہ السلام) کی قوم پر یا ھود (علیہ السلام) کی قوم پر یا صالح (علیہ السلام) کی قوم پر واقع ہوئی تھی وہی تم پر واقع ہو اور لوط (علیہ السلام) کی قوم (کا زمانہ) تم سے کچھ دور نہیں

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو پھر اس کے آگے توبہ کرو بیشک میرا پروردگار (اللہ) بڑا مہربان محبت والا ہے

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے شعیب (علیہ السلام) ! تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور بیشک ہم دیکھتے ہیں کہ تم میں کمزور بھی ہو اور اگر تمہارے بھائی بند نہ ہوتے تو ہم ضرور تم کو سنگسار کردیتے اور ہماری نظروں میں تمہاری کوئی توقیر نہیں

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا اے میری قوم ! کیا میرا خاندان تمہارے نزدیک اللہ سے زیادہ باتوقیر ہے اور اس کو تم نے پس پشت ڈال دیا بیشک میرا پروردگار تمہارے سب اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ یقینا میں بھی (اپنے طور پر) عمل کررہا ہوں تم کو جلد ہی معلوم ہوا جاتا ہے کہ کس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کردے اور کون جھوٹا ہے۔ اور تم بھی منتظر رہو بیشک میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے شعیب (علیہ السلام) کو اور جو اہل ایمان ان کے ہمراہی تھے اپنی رحمت سے بچا لیا اور ان ظالموں کو سخت چنگھاڑ نے آپکڑا پھر وہ صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے گویا کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

جان لو ! کہ مدین کو ایسی ہی پھٹکار (رحمت سے دوری) ہوئی جیسی ثمود کو پھٹکار (رحمت سے دوری) ہوئی تھی

آیات 84 تا 95 اسرار و معارف شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا حال بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ مدین جو ملک شام کا مشہور شہر تھا اس کے رہنے والوں کی طرف ان ہی میں سے شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ شجرپرستی میں مبتلا تھے اور مختلف درختوں کی پوجا کرتے تھے جیسے ہندومت میں آج بھی یہ بات پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ان کا لین دین بھی ہندؤوں جیسا تھا ڈنڈی مارنے سے نہ چوکتے ناپ تول میں کمی کردیتے ۔ سونے کے سکوں میں سے تھوڑابہت سونا کاٹ لیتے اور سکہ پوری قیمت پر چلتا کردیتے۔ ناپ تول میں کمی چنانچہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی اور فرمایا اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ لہٰذا صرف اور صرف اللہ کی عبادت کرو اور ناپ تول میں کمی کرنا چھوڑ دو کہ دیکھوتم کس قدرخوشحال ہو اللہ کی دی ہوئی نعمتیں مال و دولت تمہارے پاس بہت ہیں اور یہ ناپ تول میں کمی یا دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا ایسا جرم ہے جس سے نعمتوں کو زوال آجاتا ہے اور کفر وشرک تباہی لاتا ہے تو خطرہ اس بات کا ہے کہ تم دنیا وآخرت کے تباہ کن عذاب میں پھنس کر تباہ ہوجاؤگے ۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ ناپ تول میں کمی کرنے والوں پر قحط اور گرانی کا عذاب مسلط کردیا جاتا ہے اور علماء کے نزدیک کسی دوسرے کا حق روکنا یا جو حق اپنے ذمہ ہوادانہ کرنا بھی ایسا ہی جرم ہے جیسے تنخواہ پاکرڈیوٹی پوری نہ کرنا یا دفتر کے لوگ ڈاکٹر اور کاروباری ادارے اپنے فرائض میں کوتاہی کرنے لگیں تو یہ سب ناپ تول میں کمی ہے اور اس پر گرانی کا عذاب نازل ہوتا ہے ۔ لہٰذا گرانی کے عفریت سے نجات کا راستہ دیانتداری سے فرائض منصبی کی ادائیگی اور ناپ تول میں کمی نہ کرنا ہے ۔ جبکہ لوگ اس میں تو مبتلا ہیں اور گرانی سے نجات کے دوسرے طریقے تلاش کرتے پھر رہے ہیں ۔ فرمایا کہ ناپ تول پورا کرو اور کسی کا حق نہ مارو کہ یہ اتنا بڑاجرم ہے جس سے پوری دنیا میں فساد پھیلتا ہے جیسے بدن انسانی میں دوران خون دل سے جاری ہوکرہرذرئہ بدن تک اس کے حق کے مطابق پہنچتا ہے لیکن اگر کسی جگہ رک جائے یا روک دیا جائے تو اس سے آگے کا حصہ تباہ ہونے لگتا ہے اور وہ چونکہ بدن ہی کا حصہ ہوتا ہے لہٰذاسارے بدن کو تکلیف ہوتی ہے اور جب خود دل ہی کی کوئی نس بندہوجاتی ہے تو فورا موت واقع ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح اگر کسی بھی انسان سے اس کا حق روک دیا جائے ، خواہ ناپ تول اور لین دین میں کمی کرکے یافرائض منصبی کی ادائیگی میں کوتاہی کے تو پوری قوم مبتلائے عذاب ہوجاتی ہے جس کا مشاہدہ ہم لوگ کر رہے ہیں مگر وائے ہے ایسے دانشوروں پر جو پھر بھی کبھی مغربی جمہوریت میں پناہ کے طالب ہیں اور کبھی سوشلزم میں جبکہ ایک حسین دھوکا ہے تو دوسرانظام جبرواستبداد کی آخری اور بھیانک شکل اے کاش ! انھیں اسلام کے یہ سنہرے اور آفاتی اصول نظرآتے۔ فرمایا کہ اس کفروشرک اور بددیانتی کے باوجود تم خود کو ایماندار جانتے ہو اور حق پر سمجھتے ہو۔ اور ایمان کا تقاضاتو یہ ہے کہ اپنے حق پہ اکتفا کی جائے اور اللہ کی طرف سے جو نصیب ہو حلال اور جائز ذرائع سے اس پہ قناعت کی جائے کہ وہی بہترین نعمت ہے جب اس میں دوسروں کے حقوق ملنا شروع ہوتے ہیں تو وہ عذاب بن جاتی ہے ۔ اور اگر تم بازنہ آئے تو میں بھی تمہاری کوی مددنہ کرسکوں گا۔ نہ تم سے زبردستی منواسکتا ہوں اور نہ پھر تمہیں بچاسکوں گا ۔ تو انھوں نے آپ کی پرہیزگاری اور نماز کا طعنہ دیا جیسے آج بھی بعض بدبخت یہی طعنہ دیتے ہیں کہ کیا آپ کی عبادت آپ کو یہی سکھاتی ہے کہ ہم باپ داداکامذہب بھی چھوڑدیں اور اپنے مال میں آپ سے پوجھ کر تصرف کریں اس پر اپنی مرضی لاگو نہیں کرسکتے ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) چونکہ بہت زیادہ عبادت کیا کرتے تھے تو انہیں اسی کا طعنہ دیا نیز ان کا خیال تھا کہ عبادت الگ چیز ہے اور معاملات الگ جیسے آج بھی کہا جاتا ہے کہ آپ نمازیں پڑھیں آپ کو سیاسیات اور کاروبار حیات سے کیا واسطہ مگر یاد رہے ایمان کے بعد سب سے اہم بات معاملات کی ہے پھر ذاتی عبادت کی ۔ ذاتی کردار مگر وہ کہنے لگے کہ آپ کس قدرشریف بردبار اور نیکوکار انسان ہیں بھلا آپ کو دوسروں کی خرابیوں میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے ۔ چونکہ انبیاء (علیہم السلام) کا بچپن جوانی ہر دور خوبصورت اور معاشرے سے الگ اور نتھرا ہوا ہوتا ہے لہٰذاکفار بھی ان کی ذاتی شرافت کے معترف ہوتے ہیں لہٰذا مصلحین اور مشائخ کو چاہیئے کہ ذاتی کردار کو مثالی بنائیں کہ تبلیغ میں اس کا بہت اثر ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ لوگو ! میں جس کام سے تمہیں روک رہا ہوں خودبھی تو اس کے قریب نہیں جاتا ایسی تو کوئی بات نہیں کہ تمہیں روک کر خود اس طریقے سے دولت جمع کرنا چاہتا ہوں اور یہ بھی تمہارے سامنے ہے کہ اللہ نے مجھے بہترین رزق دیا ہے مال ومنال بھی عقل و دانش بھی علم بھی اور نور نبوت بھی ۔ اور میرے پاس معجزات کی روشن دلیل بھی ہے اور میری تمنا صرف تم لوگوں کی اصلاح ہے کہ تمہیں دنیا میں بھی عزت ووقار نصیب ہو اور آخرت میں بھی راحت و سکون ملے ۔ تو تمہارے بھلے کا دوعالم میں طلب گار ہوں ہاں ! جو میری استطاعت میں ہے وہ تو میں ضرور کروں گا تم منت سے بھی اور زبردستی بھی مجھے روک نہیں سکتے ہاں ! میراذاتی کچھ بھی تو نہیں بس اللہ رب العزت ہی کی عطاکروہ طاقت وقوت ہے جو میں اس کی اطاعت پہ صرف کرتا رہوں گا۔ اسی کی ذات پر مجھے بھروسہ بھی ہے اور اسی کی طرف میرے قلب کا رجوع بھی ۔ انابت دل کا وہ خفیہ ترین فیصلہ ہے جو وہ کسی کے ساتھ رہنے کا کرتا ہے تو پوری عملی زندگی اس حال میں ڈھل جاتی ہے ۔ انبیاء وصالحین کی دشمنی عذاب الٰہی کا سبب بنتی ہے فرمایا لوگو ! محض میری مخالفت کرنے کے لئے الٹے کاموں پہ نہ جم جانا۔ ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی ویسے ہی عذاب نازل ہوں جیسے نوح (علیہ السلام) یا صالح (علیہ السلام) کی قوم پر نازل ہوئے اور لوط وعلیہ السلام کی قوم تو تم سے زیادہ پہلے نہیں گزری ۔ ان کی حالت ہی دیکھ کر عبرت حاصل کرو اور برائی سے باز آجاؤ ۔ نیز صلحاء کی مخالفت میں برائی پہ جمے رہنامحض انھیں ناکام کرنے کے لئے یاتنگ کرنے کے لئے تو یہ عذاب الٰہی کو دعوت دینے والی بات ہے ۔ اور اللہ سے بخشش طلب کرو خلوص دل سے استغفار کرو ۔ نیز آئندہ یہ جرم نہ کرنے کا پکاپکاعہد کرو تو اللہ بہت بڑارحم کرنے والا ہے اور اپنے کی توفیق بھی عطاکردے گا۔ ذرامانگ کر تو دیکھو ، اس کے در پر آکرتو دیکھو لیکن بات وہی ہے جو بارہا لکھی جاچکی کہ گناہ دل سے سمجھ چھین لیتے ہیں اور دل گونگا بہرا اور اندھا کردیتے ہیں بات پلے ہی نہیں پڑتی ۔ چناچہ وہ بھی کہنے لگے آپ کی بات ہمارے پلے نہیں پڑتی اور ہمیں تو آپ کے پاس کوئی قوت و طاقت بھی نظر نہیں آتی محض ایک کمزور سے انسان دکھائی پڑتے ہو۔ بس ذرا تمہارے قبیلے کا لحاظ ہے کہ جب ایک شہر میں رہنا ہے تو مل جل کر رہنا مناسب ہے اور ناراضگی پیدانہ کریں اگر یہ بات نہ ہوتی تو تمہیں سرعام سنگسار کردیتے کہ ہمارے نزدیک تمہاری کوئی حیثیت نہیں ۔ انھوں نے فرمایا بدنصیبو ! تمہیں اللہ کی عظمت کا خیال نہیں آتا میں جس کافر ستادہ اور نبی ہوں اور میرے قبیلے کا لحاظ وپ اس ہے اور یادرکھو کہ میرا پروردگار تمہارے کرتوتوں سے پوری طرح باخبر بھی ہے اور ان سب پر قدرت کاملہ بھی رکھتا ہے جب چاہے تھیں اپنی گرفت میں لے سکتا ہے اگر تمہارا یہی فیصلہ ہے تو جو کر رہے ہو کرتے رہو اور انتظار کرو کہ عنقریب بات واضح ہوجائے گی کہ کون عذاب الٰہی کی گرفت میں آتا ہے اور ذلیل ہوکرتباہ ہوتا ہے اور یہی بات ثابت کردے گی کہ کون جھوٹا ہے تم بھی اس وقت کا انتظارکرو اور میں بھی اسی کا انتظار کرتا ہوں۔ چنانچہ عذاب الٰہی ان پر نازل ہوا اور وہی کچھ ہوا کہ ظالموں پر عذاب نازل ہورہا تھا تو اللہ کے نبی اور اس کے ماننے والوں پہ رحمت نچھاور ہورہی تھی چناچہ شعیب (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کو اللہ نے اپنی خاص رحمت سے بچالیا اور باقی سب پر ایک سخت چنگھاڑ پڑی کہ کوئی روح بچ سکانہ کسی کا ٹھکانہ ۔ ہر شے تہ وبالا ہوگئی اور یوں تباہ ہوئے کہ آبادی ویرانہ نظر آتی تھی جیسے یہاں کبھی کوئی رہاہی نہ ہو تو لوگو ! سن لو کہ مدین پر بھی ایسے پھٹکار پڑی جیسے ثمود پر پڑچکی تھی۔