11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 11:96–109

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے معجزات اور روشن دلیل دیکر بھیجا

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف ، پھر وہ لوگ فرعون کے حکم پر چلتے رہے اور فرعون کا حکم درست نہیں تھا

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا پھر ان کو دوزخ میں جا اتارے گا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ اتارے جائیں گے

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور اس (دنیا) میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہی اور قیامت کو بھی (پیچھے لگی رے گی) ۔ بہت برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ (پرانی) بستیوں کے حالات ہیں جو ہم آپ سے بیان فرماتے ہیں ان میں سے کچھ (کے آثار) تو باقی ہیں اور بعض کا بالکل خاتمہ ہوگیا

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے ساتھ زیادتی نہیں کی و لیکن انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا جب آپ کے پروردگار کا حکم (عذاب) آپہنچا تو ان کے وہ معبود جن کو وہ اللہ کو چھوڑ کر پوجتے تھے ان کو کچھ فائدہ نہ پہنچا سکے اور الٹا ان کو نقصان ہی پہنچایا اور آپ کے پروردگار کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

جب بستیوں کو پکڑتا ہے اور جبکہ وہ ظلم کرتے ہوں۔ بیشک اس کی گرفت بڑی دکھ دینے والی بڑی سخت ہے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

یقینا ان (واقعات) میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے اور یہی وہ دن ہوگا جب (سب لوگ اللہ کے روبرو) حاضر کیے جائیں گے

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور ہم اس کو تھوڑی مدت کے لئے ملتوی کیے ہوئے ہیں

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جب وہ دن آئے گا تو کوئی متنفس اس کی اجازت کے بغیر بات تک نہ کرسکے گا پھر ان میں بعضے بدبخت ہوں گے اور بعضے نیک بخت ہوں گے

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

سو جو بدبخت ہیں وہ تو دوزخ میں (ایسے حال میں) ہوں گے کہ وہاں ان کی چیخ و پکار پڑی ہوگی

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں سوائے اس کے کہ آپ کا پروردگار چا ہے (اگر وہی نکالنا چاہے) یقینا آپ کا پروردگار جو کچھ چاہے اس کو پورا فرماسکتا ہے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور جو نیک بخت ہوں گے سو وہ جنت میں (داخل) ہوں گے اسی میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں سوائے اس کے کہ جو آپ کا پروردگار چاہے یہ (اس کی) بخشش ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی (کاٹی نہ جائے گی)

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

تو یہ لوگ جو (غیر اللہ کی) پرستش کرتے ہیں پس آپ اس کی وجہ سے خلجان میں نہ پڑئیے یہ اسی طرح پرستش کرتے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا پرستش کرتے آئے ہیں اور یقینا ہم ان کو (عذاب سے) ان کا حصہ بلا کم وکاست پورا پورا دینے والے ہیں

آیات 96 تا 109 اسرار و معارف جہاں تک رحمت باری کا تعلق ہے تو دیکھو اللہ کتنا کریم ہے کہ فرعون جیسے ظالم جابر اور سخت ترین کافر کو بھی محروم نہ رکھا اور اس کے پاس بھی موسٰے (علیہ السلام) کو بھیجا کہ اگر وہ بھی باز آجائے مغفرت و بخشش کا طالب ہو میری عظمت کا اقرار کرے تو میں اسے بھی معاف کردوں اور موسٰے (علیہ السلام) کو یونہی نہیں بھیج دیا اپنی نشانیاں اپنی کتاب اور اپنی بات دے کر بھیجا اور ساتھ عظیم الشان معجزات عطافرمائے جنہوں نے فرعون کے سب جادوگروں کو عاجز کردیا اور فرعون اور اس کے درباری امرا جو اس کی پوجا میں لگے تھے سب کو اپنی طرف دعوت دی مگر نہ فرعون ہی بازآیا اور نہ اس کے امرا ان بندبختوں نے بھی فرعون کا اتباع اختیار کیا حالا ن کہ فرعون کا فیصلہ بہت ہی برا تھا ۔ اب اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یوم حشر فرعون آگے ہوگا اور اس کے ماننے والے پیچھے ۔ وہ سب کو لے جہنم میں جاگھ سے گا جو بہت ہی اذیت ناک جگہ ہے اس دنیا میں بھی ان کے حصہ میں لعنت ہی آئی اور آخرت میں بھی پھٹکار ہی پڑی کس قدربرامعاوضہ ہے جو انھوں نے پسند کیا اور کتنا ہیبت ناک انجام ہے جس کو وہ پہنچے۔ پیشوا اور پیروکار کی ذمہ داری یہاں یہ واضح ہوتا ہے کہ پیشروکو خواہ وہ پیرہویا عالم یاسربراہ وحکمران پوری دیانتداری سے نبی اکرم ﷺ کا اتباع کرنا چاہیئے اور لوگوں کو اس راہ پہ چلانا چاہیئے ورنہ نہ صرف خود تباہ ہوگا اپنے پیروکاروں کو بھی تباہ کردے گا اسی طرح پیروی کرنے والوں پہ بھی لازم ہے کہ پیرہویا حاکم اس کی ذات یا ذاتی رائے کی پیروی نہ کریں بلکہ ان امور میں اس کا اتباع کریں جو شریعت کے اعتبار سے درست ہوں اور اگر پیشوابھٹک جائے تو اسے چھوڑ دیں مگر شریعت کونہ چھوڑیں ورنہ تباہی کا اندیشہ ہے اور یہ تباہی دنیا وآخرت دونوں کو برباد کردیتی ہے ۔ العیاذاباللہ۔ اے حبیب ﷺ یہ گزشتہ اقوام کے ایسے واقعات ہیں جن میں سے ہر ایک کے دامن میں ہزاروں عبرتیں ہیں ۔ یہ ان شہروں اور آبادیوں کی اصل تاریخ ہے جن میں سے بعض کے مکین تباہ ہوئے مگر بستی تاحال موجود ہے جیسے مصر اور بعض بستیوں کے نشان تک مٹ گئے لیکن اللہ نے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی نہ اس کی شان کو یہ زیب ہی دیتا ہے بلکہ یہ ان لوگوں کا اپنا انتخاب تھا انھوں نے خود تباہی کا راستہ اختیار کرکے اپنے ساتھ ظلم کیا ۔ اللہ نے تو اپنے رسول بھیج بھیج کر اپنی طرف بلایا اپنے دامان رحمت کی طرف دعوت دی مگر انھوں نے تو خود مختلف بت تراش رکھے تھے ۔ کہیں پتھروں اور درختوں کے اور کہیں خواہشات وآرزؤوں کے لیکن جب اللہ کا عذاب آیا جو ان کے کردار کامنطقی نتیجہ تھا تو ان کے بت انھیں بچانہ سکے ۔ بچاتے تو کیا وہ تو ان پر عذاب لانے کا سبب بن گئے اور انہی کے باعث تو وہ لوگ تباہ ہوئے۔ پروردگار کی گرفت جب آتی ہے تو اسی طرح پوری شدت سے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور ظالموں کا ظلم انھیں اسی طرح عذاب الٰہی میں گرفتار کرانے کا سبب بنتا ہے وہ عذاب جو بہت دردناک ہے اور بڑا سخت ہوتا ہے ۔ ان واقعات و حالات میں بہت بڑادرس عبرت موجود ہے لیکن ایمان شرط ہے آخرت کا یقین شرط ہے اس دن کی رسوائی سے بچنے کی تمنا شرط ہے جس دن اگلے پچھلے سب انسان ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے اور جو سب کی پیشی کا دن ہوگا۔ اگر وہ ابھی واقع نہیں ہوا تو اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ کبھی واقع نہ ہوگا ہاں ! یہ اللہ کی مرضی اور اس کی اپنی حکمت ہے کہ ایک خاص وقت تک اسے موخر کردیا ہے مگر وہ اپنے مقررہ وقت پہ ضرور واقع ہوگا اور یہ بڑھ بڑھ کے باتیں بنانے والے اس کی ہیبت سے لرزاں وترساں ہوں گے بغیر اجازت کسی کو لب ہلانے کی جرأت نہ ہوگی اور سب نیک وبدیا کافر ومومن اسی میدان میں جمع ہوں گے اور کفار کا فیصلہ دوزخ میں جانے کا ہوگا جہاں ہمیشہ وہ چیختے چلاتے رہیں گے اور جب تک ارض وسما ہوں گے یعنی وہ عالم قائم رہے گا وہ بوجہ کفر کے سکتا ہے نکال دے یا دوزخ ہی کو ختم کردے تو اس کی قدرت کاملہ سے تو کچھ بعید نہیں مگر اس نے طے کردیا اور تبادیا کہ وہ خود اپنے اختیار سے ایسا نہیں کرے گا۔ لہٰذا جہنم بھی ہمیشہ رہے گا اور اس میں کافر کی چیخ پکار بھی ۔ یاللہ ! سوء خاتمہ سے اپنی پناہ میں رکھ ! آمین۔ اور جو نیک ہوں گے جو ایمان لائے اور اطاعت اختیار کی اور سعاد تمند ہوئے وہ جنت میں داخل ہوں گے جہاں وہ اللہ کی مرضی اور پسند سے اور اس کے فیصلے کے مطابق ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کہ تیرے رب کی بخششوں کی بھی کوئی انتہا نہیں ۔ وہ جسے موج کراتا ہے پھر اسے موج ہی کرادیتا ہے یہ لطف باتوں میں سمجھ آنے کا نہیں چکھنے سے رکھتا ہے اور اے مخاطب ! کفار کی باتوں پہ نہ جانا نہ ان کی گھڑی ہوئی خرافات کی پرواہ کرنا کہیں تجھے عظمت باری سے متعلق شک میں مبتلا نہ کردیں کہ ان کی باتوں کی کوئی اصل نہیں محض ان کے جاہل باپ دادوں کے گھڑے ہوئے رواجات اور مشرکانہ رسومات ہیں اور عنقریب یہ سب اپنے انجام کو پہخیں گے اور انھیں اس کردار کا عذاب بغیر کسی رعایت کے بھگتنا ہوگا۔
Ayahs 11:110–123

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر یہ بات نہ ہوتی جو آپ کے پروردگار کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور یقینا وہ تو اس سے بڑے شبہ میں پڑے ہوئے ہیں

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور بیشک سب ایسے ہی ہیں کہ آپ کا پروردگار کو ان کے اعمال کا پورا پورا حصہ ضرور دے گا اور یقینا وہ سب کے اعمال کی پوری پوری خبر رکھتا ہے

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

سو آپ اور جو لوگ توبہ کرکے آپ کے ساتھ ہیں قائم رہیے ، جیسے آپ کو ارشاد ہوا ہے اور حد سے نہ نکلیں۔ بیشک وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور ان ظالموں کی طرف مت جھکو پھر (ایسا نہ ہو کہ) تمہیں دوزخ کی آگ آلگے اور تمہارا اللہ کے سوا کوئی دوست نہیں پھر تم کو کہیں سے مدد نہ مل سکے گی

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور نماز کی پابندی رکھیں دن کے دونوں سروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں۔ بیشک نیک کام برے کاموں کو مٹا دیتے ہیں یہ بات نصیحت ماننے والوں کے لئے ایک نصیحت ہے

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کیا کیجئے پس بیشک اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں فرماتے

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

تو جو امتیں تم لوگوں سے پہلے گزر چکی ہیں ان میں ایسے باشعور لوگ کیوں نہ ہوئے جو (دوسروں کو) ملک میں فساد (کفروشرک) پھیلانے سے روکتے ؟ ہاں (ایسے) تھوڑے (تھے) جن کو ان میں سے ہم نے (عذاب سے) بچایا تھا اور جو لوگ نافرمان تھے وہ نازونعمت میں تھے اور وہ انہی باتوں کے پیچھے پڑے رہے اور وہ گناہوں کے عادی تھے

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو جبکہ وہاں کے لوگ نیکو کار ہوں تو زیادتی کے سبب تباہ کردے

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا اور وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

مگر جن پر آپ کے پروردگار کی رحمت ہو۔ اور سی لئے ان کو پیدا فرمایا ہے اور آپ کے پروردگار کا ارشاد پورا ہوا کہ میں ضرور دوزخ کو اکٹھے جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

اور پیغمبروں کے قصوں میں سے سارے قصے ہم آپ سے بیان فرماتے ہیں کہ ہم اس سے آپ کے دل کو تقویت دیتے ہیں اور ان (قصوں) میں آپ تک حق پہنچ گیا اور یہ ایمان والوں کے لئے نصیحت اور عبرت ہے

وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ Open ayah 11:121 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان سے فرمادیجئے کہ تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو بیشک ہم بھی عمل کر رہے ہیں

وَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 11:122 in the Quran reader

اور تم منتظر رہو یقینا ہم بھی منتظر ہیں

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 11:123 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی غیب کی باتوں کا علم اللہ ہی کو ہے اور تمام امور کا رجوع اسی کی طرف ہے سو اسی کی عبادت کیجئے اور اسی پر بھروسہ کیجئے اور جو کچھ آپ کر رہے ہیں آپ کا پروردگار اس سے بیخبر نہیں

آیات 110 تا 123 اسراومعارف موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطافرمائی جو اللہ کا ذاتی کلام تھا اور کلام میں متکلم کی برکات کا بھرپورعکس ہوتا ہے ۔ چاہیئے یہ تھا کہ لوگ اس پہ جان نچھ اور کردیتے اور دلوں کو اس سے روشن اور سینوں کو آباد کرلیتے مگر لوگوں نے اپنے مزاج کے مطابق اس میں اختلاف کیا کسی نے اسے قبول تو کسی نے انکار کردیا کہ رب جلیل نے انسان کو شعور عطافرماکر فیصلے کا اختیار اسے بخش دیا ہے لہٰذایہ اس کی پسند ہے اگرچہ یہ بہت بڑاظلم ہے کہ اللہ کا پیغام آئے اور عاجز انسان جو اس کی مخلوق ہے اسی کا کھاتا ہے اسی کے پیغام کو ٹھکرادے لیکن اللہ نے فیصلے کی گھڑی مقرر کردی ہے کہ یوم حشرسب کا حساب چکا یا جائے گ اور نہ اس جرم پر تو فورا گرفت میں آجاتے اور فیصلہ کردیا جاتا ۔ یہ ایسے بدنصیب ہیں کہ انھیں قیامت کے واقع ہونے میں ہی شبہ ہے اور یہی شبہ تمام گمراہیوں کی اصل ہے ۔ مگر یہ وقت تو آنے والا ہے اور جب آئے گا تو تیرا پروردگار ان سب کو ان کے اعمال کا پوراپورا بدلہ دے گا جنہوں نے پہلے کفر کیا ان کو بھی اور جو آپ کو آپ کی تعلیمات کو اور قرآن کو جھٹلا رہے ہیں ان کو بھی کہ وہ ان سب کے کردار سے بخوبی واقف ہے ۔ فاستقم کما امرت۔۔۔۔۔۔ آپ بالکل سید ہے چلتے رہیئے جیسا آپ کو اللہ کا حکم ہے اور وہ لوگ بھی جنہیں آپ ﷺ کے ساتھ توبہ نصیب ہوئی کہ آپ سب بھی عمل کرتے ہیں اللہ کریم ذاتی طور پر سب دیکھ رہے ہیں ۔ یہی وہ آیہ کریمہ ہے جس کے بارے آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ سورة ہود نے مجھے بوڑھا کردیا حضرت ابن عباس ؓ کے مطابق یہی حکم استقامت تھا جس کے باعث آپ ﷺ نے یہ فرمایا۔ استقامت استقامت کا مفہوم سیدھا کھڑا ہونے کا ہے کہ کسی طرف بھی معمولی ساجھکاؤبھی نہ ہو نہ صرف عمل کے اعتبار سے بلکہ حقیقی استقامت میلان قلبی کے اعتبار سے ہے اور اس سے مراد ہے کہ اللہ اور اس کے معین کردہ راستے پر اس خلوص اور محبت دل کی گہرائی اور پیار کی شدت سے چلے کہ اس کے خلاف چلنا گواراہی نہ رہے ۔ اس کے خلاف کی طلب مٹ جائے۔ اسی کو فنافی الرسول اور فنافی اللہ بھی حسب مراتب کہاجاتا ہے اور ان مراقبات کا حاصل بھی عملی زندگی کی یہ کیفیت ہے عالم میں تمام خرابی کی جڑ بھی استقامت سے ہٹنے سے ہی شروع ہوتی ہے خواہ افراط سے ہو یعنی اللہ کے فرمائے امور میں کچھ بڑھایا جائے یا تفریط سے کہ ان میں کچھ کمی کی جائے ۔ یہ کمی بیشی اللہ کی توحید اس کی ذات یا اس کی صفات میں کی جائے یا اس کی مقررکردہ حدود اور احکام میں کرنے والے گستاخانہ اعتبار سے کریں یا بڑے پیار اور نیک بنتی سے کریں دونوں طرح گمراہ قرار پائیں گے۔ اسی طرح انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے مدارج ان کی عظمت و محبت کی حدود اللہ کی طرف سے ارشاد فرمادی گئیں اب کوئی ان میں کمی کرے یا اضافہ کرکے اللہ کی صفات میں انھیں شریک ٹھہرانے لگے گمراہ ہوجائے گا۔ اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے بدعات سے بچنے کی بہت زیادہ تاکید فرمائی کہ انسان سمجھتا ہے یہ دین ہے اور اس عمل کرکے اللہ کو راضی کررہا ہوں مگر نتیجہ برعکس ہوتا ہے لہٰذاعقیدہ وعمل دونوں میں پوری تحقیق کرے کہ اگر رسول اللہ ﷺ نے ایسا فرمایا یا کیا ہے تو درست ورنہ کبھی اس کے قریب نہ پھٹکے ۔ یہ استقامت عقائد سے لے کرمعاملات اخلاقیات معاشیات اور سیاسیات تک ہر جگہ ضروری ہے جہاں بھی کوئی اس سے ادھر ادھر ہوگا نتائج خراب ہونا شروع ہوجائیں گے ۔ مختلف مفسرین کرام نے یہاں متعددواقعات بھی نقل فرمائے ہیں مگر ہمارا مقصد مفہوم عرض کرنا ہے لہٰذایہاں درج نہیں کئے جا رہے۔ اور فرمایا ولا تطغوا یعنی استقامت کیا ہے ؟ اللہ کی مقررکردہ حدود سے نہ بڑھنا تمام امور میں اور ساتھ حکم دیا کہ اے لوگو ! ان کی طرف مت جھکوجو ظالم ہیں یعنی ان حدود کر توڑ رہے ہیں اگر ایسا کروگے تو تم بھی ان کے ساتھ دوزخ میں جھونک دیئے جاؤگے اور اللہ کو چھوڑ کر ظالموں سے دوستی تمہیں ہر طرح کی مدد سے بھی محروم کردے گی کہ جسے اللہ چھوڑ دے اس کا کوئی بھی نہیں ہوتا۔ ظالموں کی طرف جھکاؤسے کیا مراد ہے ؟ ایسے لوگ جو اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں یا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایمان نہیں رکھتے ان کی طرف ادنی سامیلان یا ان سے محبت یا ان سے مرعوب ہو کر ان کے پیچھے چلنا یا ان پر اعتماد یہ سب انسان کی تباہی کا باعث ہے بلکہ قاضی بیضاوی کا ارشاد تو یہ ہے کہ کفار جیسی شکل بنانا مثلا مونچھ ڈاڑھی کٹا کر ان جیسا بننا اور ان جیسا لباس پہننا فیشن اور رہن سہن کے اطواراپنانایہ سب پوری شدت سے منع ہیں اسی طرح ظالم حکمرانوں کے درپہ حببہ سائی دنیا کے فائدے کے لئے آخرت سے محرومی کا سبب ہے خصو صا علماء کے لئے تو تفسیر مظہری میں ہے کہ اس عالم سے بڑھ کر کوئی مبغوض نہیں جو دنیا کی خاطر کسی ظالم سے ملاقات کو جائے ۔ اہل کفرہی نہیں اہل بدعت سے بھی دلی میلان کو اس آیت میں پوری طرح ممنوع فرمادیا ہے اور سارے کا سارادین یہی ہے کہ حدود الٰہی کے اندر رہے اور توڑنے والوں سے کوئی دلی تعلق نہ رکھے۔ نیک عمل برائی کا اثرزائل کردیتا ہے بلکہ آپ دن کے ہر ہر پہلوپہ اللہ کو سجدے کریں نمازیں ادا کریں اور اپنا تعلق اس ذات کریم سے بڑھاتے چلے جائیں ۔ بھلاکسی دوسرے کی ضرورت کیا ہے جو اس کی راہ سے دورہو۔ اور قانون یہ ہے نیکی نہ صرف اللہ کا قرب عطا کرتی ہے بلکہ برائیوں کی بھی مٹا دیتی ہے ۔ یہی نیک عمل کی خصو صیت ہے کہ برائی کے زنگ اور سیاہی کو جو قلب پہ آجائے دورکرکے دل میں محبت الٰہی کے چراغ روشن کرتا ہے اور یہ ان لوگوں کے لئے جو نصیحت حاصل کرنا چاہیں بہت بڑی بات ہے اور نیکی کے ساتھ صبرضروری ہے ۔ یہ غلط فہمی نہ رہے کہ نیک عمل کرنے سے دنیا کی کوئی پریشانی نہ آئے گی ۔ اگر ایسا ہوتاتو بھلا کون نیکی کو ترک کرتا ۔ نظام دنیا میں تو نیک بھی انہی حالات سے گزرتے ہیں جن سے دوسری مخلوق تنگی وفراخی صحت وبیماری اور دوستی ودشمنی سب گرم وسرد سے گزرنا پڑتا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے دل پریشان نہیں ہوتے لہٰذا صبرضروری ہے کہ نیکی اور احسان کا بدلہ کبھی ضائع نہیں اور آخرکارنی کی ہی کامیابی کا زینہ بنتی ہے ۔ نیکی سے مراد نیک عمل کرنا اور فساد سے روکنا بھی ہے جو قومیں ہلاکت و بربادی سے دوچار ہوئیں ان میں بھی اگر کچھ لوگ ایسے نیک اور صالح ہوتے جو ان لوگوں کو برائی اور فساد سے روکتے تو وہ بھی تباہی سے بچ سکتے تھے ۔ تو ثابت ہوا کہ نیکی محض عبادت یاذکراذکارکانام نہیں بلکہ ان سب کے ساتھ خودنیک عمل کرنا اور دوسروں کو نیکی کی طرف یلانا اور ہر ممکن طریقے سے برائی سے روکنا ہے تاکہ اللہ کی مخلوق عذاب الٰہی سے بچ کر اس کی رحمت کو پاسکے۔ لیکن نیک لوگ بہت تھوڑی تعداد میں تھے وہ بدکاروں کو مقابلہ کرکے نہ روک سکے اور دعوت انھوں نے قبول نہ کی لہٰذا اپنی عیش و عشرت میں لگے رہے اور انجام کار تباہ ہوئے جبکہ وہ نیک لوگ جو قلیل تعداد میں تھے اللہ نے انھیں بچالیا اور محفوظ رہے کہ رب جلیل نیک اور صالح لوگوں کی بستی تباہ نہیں کرتے یہ تو انسانی مظالم ہیں تباہی کا سبب بنتے ہیں ۔ اللہ نے سب کو نیک کیوں نہ بنادیا ؟ رہی یہ بات کہ اللہ نے سب کو نیک کیوں نہ بنادیا ؟ تو اس میں شک نہیں کہ اللہ چاہتا تو ایسا بھی کرسکتا تھا اور یقینا ایسا ہی ہوتا مگر پھر انسان کے انسان ہونے کا کیا حاصل پھر تو وہ بھی فرشتے ہی کی ایک قسم بن جاتا اور فرشتہ اگرچہ ساری عمر اطاعت کرتا ہے مگر اس کے لئے ترقی نہیں کہ اسے فطرتا وہی کچھ کرنا ہے مگر انسان کو فہم وشعوربخشا پھر ایک طرف اپنا حسن و جمال اور قرب رکھا اور دوسری طرف عیش و عشرت کہ انسان خود فیصلہ کرے وہ کیا چاہتا ہے تو لوگوں نے اختلاف کیا کچھ نے اس کے جمال اور قرب پر ساری لذتیں قربان کردیں جبکہ دوسروں نے عیش و عشرت کو چنا اور اس کے جمال کو ٹھکرادیا۔ صرف وہ لوگ اس کے قرب کے انتخاب پر قائم رہ سکے جن پر اس نے رحم فرمایا کہ جب کوئی اس کے قرب کو پانے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کی رحمت بڑھ کر اسے تھام لیتی ہے اور انسانیت کی تخلیق کا تو مقصد ہی یہی تھا کہ کوئی اپنی پسند سے مجھے چاہنے والابھی ہو اور میرے لئے جہان کو ٹھکرانے کی جرأت رکھتا ہو۔ ورنہ تو اللہ کو پہلے علم تھا اور اس نے بتادیا تھا کہ بہت سے جن اور بہت سے انسان اس عظیم مقصد میں ناکام ہوکر جہنم کا ایندھن بنیں گے اور میں دوزخ کو بھی جنوں اور انسانوں سے بھردوں گا کہ ان کی اپنی پسند کا انجام یہی ہوگا۔ یہ انبیاء اور امتوں کے احوال تو اے حبیب ! آپ کو اس لئے سنائے جاتے ہیں کہ آپ کو تسلی رہے کہ قانون فطرت یہی ہے اور اللہ نے انسانوں کو اختیار بخشا ہے لہٰذا جب فیصلہ انسان کی پسند کا ہوگا تو یقینا اختلاف بھی ہوگا ۔ بھلاسب لوگ ایک فیصلے پہ جمع ہوسکتے ہیں ۔ اور یوں آپ کو تشفی ہو اور نافرمانوں کیلئے بھی آپ کا دل جو دکھ محسوس کرتا ہے اس میں کمی ہو اور ساتھ میں یہ فائدہ بھی ہے کہ محض حکایات کی بجائے لوگوں کے پاس حقائق پہنچیں جو ان کے لئے نصیحت کا باعث بنیں اور ایمان والے لوگ عبرت حاصل کریں نیز جو لوگ نہیں مان رہے انھیں کہہ دیجئے کہ تم جو چاہتے ہو کرتے رہوہم اپنا عمل اللہ کے حکم کے مطابق جاری رکھیں گے اور فیصلے کا انتظار کروہم بھی کر رہے ہیں انجام کارسب بات آجائے گی۔ کہ ارض وسماکے سارے بھید اللہ خوب جانتا ہے اور سب راز اس پہ عیاں ہیں اور سب امور بھی اسی کے دست قدرت میں ہیں یعنی جانتابھی ہے اور کر بھی سکتا ہے لہٰذا آپ صرف اسی کی عبادت کرتے رہیئے زندگی کا ہر کام عبادت ہے نافرمانی لہٰذا تقاضائے ایمان یہ ہے کہ ہر حال میں عبادت کئے جاؤ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب اس پہ بھروسہ ہو کہ اطاعت اور بندگی کا راز توکل میں ہے اگر امید اسی سے وابستہ ہوبھروسہ اسی پر ہو تو عبادت بھی اسی کی ہوگی اور آپ کا پروردگار آپ کے اعمال سے ہرگز غافل نہیں یعنی ذاتی طور پر مشاہدہ فرما رہا ہے۔