Ayahs 12:1–6آیات 1 تا 6
اسرار و معارف
الر۔ توحروف مقطعات ہیں اور ان کے بارے پہلے بھی لکھاجاچکا ہے کہ ان کا مفہوم اللہ کو پتہ ہے یا اس کے رسول ﷺ کو یا پھر راسخین فی العلم جنہیں اللہ بتادے ۔ ہاں ! تلاوت سب مسلمانوں کے لئے ہے اور ان سے مرتب ہونے والے فوائد اس سے حاصل ہوجاتے ہیں ۔
یہ آیتیں ایک ایسی کتاب کی ہیں جو بات کو کھول دیتی ہے واضح طور پر بیان کردیتی ہے کہ اس میں کوئی ابہام نہیں رہتا اور اس کتاب عزیز کے پہلے پہلے مخاطب چونکہ عرب تھے اور عرب اہل زبان بھی تھے تو فرمایا کہ اللہ تو زبانوں کی قیود سے بالاتر ہے۔
زبانوں میں تقدس
مگر اس نے اپنے ارشادات کو عربی زبان میں نازل فرما کر عرب کے اہل زبان طبقہ کو جسے اپنی زبان دانی پہ بڑاناز تھا دعوت فکردی ہے کہ یہی آقائے نامدار ﷺ کی زبان تھی اور علماء تفسیر وحدیث کے مطابق یہی زبان اللہ نے اپنے ارشادات کے لئے چن لی اسی زبان میں حساب وکتاب بھی ہوگا اور یہی اہل جنت کی زبان بھی ہے مگر اس کے علاوہ کسی زبان میں نہ تو کوئی تقدس ہے اور نہ کراہت کہ زبان محض اظہار تمنا کا ذریعہ ہے اور جتنی کثرت سے زبانیں سیکھی جائیں ، اتنی زیادہ دینی تبلیغ بھی ہوسکتی ہے کہ نماز اذان اور خطبات تو عربی زبان میں ضروری ہیں لیکن تفسیر حدیث اور فقہ کو ہر زبان میں پھیلا نا اور ہر جگہ پہنچانا ضروری ہے ۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ قرآن صرف عربی متن ہی کو کہا جائے گا جو منزل من اللہ ہے ۔ اس کی شرح وتفسیرعربی میں بھی ہو تو تفسیر وشرح ہی کہلائے گی اور ترجمہ کسی بھی زبان میں ہو وہ ترجمہ ہوگا اسے پڑھنے سے آدمی مفہوم تو سمجھ سکتا ہے تلاوت کا اجر نہیں پاسکتا جیسے بعض لوگ صرف انگریزی یا اردو تراجم پڑھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ قرآن کی تلاوت لی یہ درست نہ ہوگا۔
واقعات عالم کا حسن
فرمایا ، ہم آپ کو ایک خوبصورت قصہ سناتے ہیں اور قرآن کریم یعنی اپنے ذاتی کلام میں بیان فرماتے ہیں کہ ہمیشہ یہ قصہ پڑھاپڑھا یا اور دہرایاجاتا رہے تلاوت و تفسیر میں بھی نماز و عبادت میں بھی اور وعظ وتقریر میں بھی ۔ عجیب بات ہے کہ اللہ کے دومحبوب پیغمبر حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور حضرت یوسف (علیہ السلام) مدتوں پریشان رہے ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے روروکربنیائی کھودی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کنویں میں پھینکے گئے سربازار نیلام ہو کر غلام کہلائے اور پہنتان لگا کرمدت تک قیدخانے میں ڈال دیئے گئے گھر سے دور محبت کرنے والوں کی نگاہوں سے اوجھل اور بھائی جو انسان کا فخر اور طاقت ہوتے ہیں ان کے لئے دکھ اور ایذا کا سبب بن گئے مگر اللہ فرماتا ہے آپ کو ایک خوبصورت قصہ سناتا ہوں اور قرآن میں سناتا ہوں کہ ہمیشہ شب وروز اس کی گونج مساجد سے لے کر گھروں تک اور عبادت سے لے کر تلاوت تک آتی ہی رہے ۔ تو بھلا اس میں کیا حسن ہے ؟ اس میں اللہ کے بندوں کا اللہ سے تعلق کیا ہوتا ہے ؟ اور کس درجہ کا ہوتا ہے اس کا اظہار ہے اور فرشتوں کو جو فرمایا تھا کہ انسان کس غضب کا طالب بنے گا یہ صرف میں جانتا ہوں اس کی تکمیل ہے کہ آؤدیکھو ! کتنے دکھی ہیں اور کس قدرمصائب میں گھر گئے ہیں مگر جو گھر میں تڑپتا ہے وہ بھی اپنی فریاد صرف مجھ سے کرتا ہے اور جو کنویں کی تاریکی میں گرتا ہے وہ بھی صرف میرانام لیتا ہے نہ صرف راحت بلکہ آنے والا ہر دکھ اللہ ان کے عشق کی تاریکی میں گرتا ہے وہ بھی صرف میرانام لیتا ہے نہ صرف راحت بلکہ آنے والا ہر دکھ اللہ سے ان کے عشق کی آگ کو ہوا دیتا ہے اور مزید بھڑکاتا ہے جیسے حضرت ہاجرہ ؓ کے قصہ میں گزرچکا کہ وہ بتیابیاں اللہ کو اس قدربھائیں کہ ہر حاجی پر صفاومروہ کی سعی واجب کردی تو ہر واقعہ کا حسن اس کا وہ نتیجہ ہے جو اللہ قریب کردے ۔
آپ بظاہر تو ان واقعات سے اصلا بیخبر تھے نہ کوئی کتاب پڑھی نہ کسی قصہ گو سے سنانہ کہیں ایسی مجالس میں بیٹھے لہٰذا اس بات کو اتنی وضاحت سے بیان کرنا بھی آپ ﷺ پر وحی کے نزول کی تصدیق ہے ۔
جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد بزرگوار سے خوب بیان کیا کہ میں نے دیکھا ہے گیا رہ ستارے اور چاند سورج مجھے سجدہ کر رہے ہیں ۔ خواب کیا ہوتے ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ ایک وسیع علم ہے اور خواب کی تعبیر کا علم بھی انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر من جانب اللہ نازل فرمایا گیا جس کے متعدد پہلے ہیں ۔
خواب کی حقیقت اور اس کی اقسام
خواب کی حقیقت علما کے نزدیک اتنی ہے کہ نیند کی حالت میں جب نفس انسانی ظاہر بدن کی تدبیر سے فارغ ہوتا ہے تو اس کی قوت خیالیہ اپنی اصل یعنی عالم امر کی طرف متوجہ ہوتی ہے جس کے باعث کچھ صورتیں اسے نظرآجاتی ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ظاہر ہوتا ہے اس کی صورت مثالی عالم امثال میں موجود ہوتی ہے ۔ پھر اس کی تین قسمیں ہیں اول یہ کہ اس ک قوت خیال انہی صورتوں میں الجھ جائے جو دن بھر دیکھتا یاسوچتارہا ہے یعنی اپنا ہی نفس اسے کچھ دکھا نے لگے ۔ دوم یہ کہ شیطن کچھ صورتیں متشکل کرکے اسے پیش کردے۔ یہ دونوں صورتوں میں باطل ہوتی ہیں اور تیسری صورت یہ کہ اس کی قوت خیال واقعی کسی حقیقی صورت حال کو دیکھ لے۔ یہ حق ہوتی ہے بشرطیکہ پہلی دوصورتوں کا اثر اس میں نہ پایاجائے ورنہ وہ اسے بھی گڑمڈ کردیتا ہے۔
اگر یہ تیسری صورت درست بھی ہو تو بعض اوقات ایسی امثال نظر آتی ہیں جن کی تعبیر کا باقاعدہ علم ہے جو انبیاء پر نازل فرمایا گیا مگر اس کا مدار طبائع انسانی پر ہوتا ہے کہ جو کچھ من جانب اللہ خواب میں دکھایا جاتا ہے اس میں کمزورطبائع کے خیالات فاسدہ شامل ہو کر اکثراوقات تعبیر بھی مشکل بنادیتے ہیں لیکن انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام چونکہ مزاج بہت مضبوط اور قوی رکھتے ہیں اور خطا سے پاک ہوتے ہیں لہٰذا ان کا خواب بھی وحی کا درجہ رکھتا ہے اہمیشہ سچا ہوتا ہے مگر تعبیر کی ضرورت رکھتا ہے جیسے نبی اکرم ﷺ نے خواب دیکھا کہ خدام کے ہمراہ عمرہ ادا فرما رہے ہیں مگر جب تشریف لے گئے تو حدیبیہ سے لوٹنا پڑا حالانکہ اللہ نے تصدیق فرمائی کہ آپ کا خواب سچا ہے مگر ابھی وقت نہیں آیا چناچہ دوسرے سال عمرہ ادا فرمایا اور پھر مکہ فتح ہی ہوگیا ۔
اور بعض اوقات اللہ کفار کو بھی سچے خواب دکھادیتے ہیں یافاسق وفاجر بھی دیکھ سکتا ہے بہرحال کسی کا خواب بجزنبی کے حجت نہیں اور اگر براخواب آئے تو لاحول پڑھ کر اسے جھٹک دے اگر اچھا ہو تو اللہ کا شکرکرے مگر عمل ظاہری حالات کے مطابق کرے یہ صحیح صورت ہے۔
چنانچہ جب یوسف (علیہ السلام) نے خواب بیان فرمایا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے تعبیر یہ دی کہ اللہ کریم تم پر بہت بڑا احسان فرمائے گا اور اپنی نعمت تمام کرے گا کہ دینی اعتبار سے نبوت آخری منزل ہے اور دنیا کے اعتبار سے سلطنت تو اللہ کریم کو نبوت بھی دے گا جیسا کہ آپ کے آباواجداد کو عطافرمائی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو۔ اور سورج چاند ستاروں کے جھکنے سے مراد دنیا کی ریاست و غلبہ اور حکومت وسلطنت بھی ہے یہ بھی آپ کو نصیب ہو کر آل یعقوب یعنی بنی اسرائیل کے لئے سرمایہ افتخاربنے گی اور اللہ آپ کو علم تعبیر بھی عطافرمائے گا۔ یہ آپ نے غالبا اس لئے اندازہ فرمالیا کہ یہ علم حضرت ابراہیم حضرت اسحاق (علیہما السلام) اور خود آپ کے پاس بھی تھا تو جیسے شرف نبوت ان کی نسل میں نصیب ہورہا ہے وہ اس کا حامل ضرور ہوگا کہ تیرا پروردگار ہر شے کا علم رکھنے والا اور دانا تر ہے۔
نعمت کا اظہار ہر کسی سے نہ کیا جائے
لیکن ایک بات یادرکھنا اور وہ یہ کہ اس کا تذکرہ اپنے بھائیوں سے نہ کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ انھیں ابلیس بہکا کر حسد میں مبتلا کردے اور وہ تمہیں نقصان پہنچائیں ۔ یہاں دو باتیں ثابت ہیں کہ اول تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی نبی نہ تھے ۔ جیسا کہ بعض کا خیال کہ نبی معصوم ہوتے ہیں اور ایسی باتیں ان سے سرزد نہیں ہوتیں اور دوسرے یہ کہ نعمت کا اظہار ہر کسی سے نہ کیا جائے۔ یہی نصیحت سالکین کے لئے مشعل راہ ہے کہ جو منازل نصیب ہوں ان کا تذکرہ ہر کسی سے نہ کریں ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے گیارہ بھائیوں میں ایک سگا تھا اور باقی سب کی والدہ الگ تھی تو یہ بھی حسد کا ایک سبب بب جاتا ہے لہٰذا یعقوب (علیہ السلام) نے منع فرمادیا کہ اس میں آپ کی عظمت وشان کا اظہار ہے کہیں ایسانہ ہو کہ انھیں شیطان بہکائے اور وہ آپ کو نقصان پہنچانے پہ تل جائیں کہ بہرحال یہ تو انسانیت کا دشمن ہے جو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ دشمنی کرنے سے بھی باز نہیں آتا۔
تو یہ بھی ظاہر ہوا کہ کسی کے شر سے بچانے کے لئے اگر دوسرے کو اس کی عادت سے آگاہ کیا جائے تو یہ غیبت نہ ہوگی بلکہ جائز ہے۔
Ayahs 12:7–20آیات 7 تا 19
اسرار و معارف
حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ باعث نصیحت بھی ہے اور باعث عبرت بھی کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کی کیسے کیسے حفاظت فرماتا ہے اور ان سے حسد کرنے والے کس طور ناکام ثابت ہوتے ہیں ۔ نیز اس کا ایک مربوط نظام ہے جسے نہ جاننے والے اتفاقات اور حادثات کا نام دیتے ہیں مگر دراصل ایسے تمام امورطے شدہ نظام کی کڑیوں کے طور پر کام کرتے ہیں اور اس طرح تفصیل سے واقعہ کی جزئیات بھی شامل کرکے درست بیان فرمانا آپ ﷺ کا بہت بڑا معجزہ اور وحی الٰہی کی دلیل بھی ہے کہ سوال کرنے والے یہوددی تو مدینہ منورہ سے سوال بھیج رہے تھے مکہ میں تو کوئی یہودی عالم بھی اتنے وسیع مطالعہ کا مالک نہ تھا کہ اسے واقعہ کی کچھ خبرہوتی اور آپ ﷺ تو اصلا اس سے واقف نہ تھے ۔
تو اب واقعہ ارشاد ہوتا ہے کہ برادران یوسف نے بھی خواب کی سن گن پالی اور اس بات پر بہت سیخ پا ہوئے ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اہلیہ کا نام مفسرین لیابنت لیان لکھا ہے جن سے ان کے دس بیٹے تھے ان کی وفات کے بعد انھوں نے اس کی بہن راحیل بنت لیا ن سے نکاح کرلیا اس میں سے بنیامین اور یوسف (علیہ السلام) دوبیٹے ہوئے جوبن یامین کی پیدائش پہ فوت ہوگئیں تو اس لحاظ سے بھی انھیں شفقت پدری زیادہ حاصل تھی یوسف (علیہ السلام) خوبصورت بھی بہت تھے۔ حتی کہ حدیث میں وارد ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا شب معراج میں نے یوسف کو دیکھا تو آدھاحسن انہی اکیلے کو ملا ہے اور آدھا ساری دنیا کو اوکماقال علیہ السلا م۔ اور تیسرے ان کی جبین میں نور نبوت بھی تھا۔ یہ بھی ان سے باپ کی محبت کا سبب تھا کہ حدیث میں ارشاد ہے کریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراھیم علیھم السلام ۔ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ میں یہ شان ابوبکرصدیق ؓ کی ہے کہ باپ صحابی خودصحابی اولاد صحابی اور نواسے اور پوتے صحابی ؓ اجمعین۔
چنانچہ انھوں نے باہم مشورہ کیا کہ یوسف اور ان کے بھائی تو والدبزرگوار کو بہت پیارے ہیں ۔ شایدان کا یہ گمان بھی ہو کہ یہ خواب میں بشارت ملنے کا سبب بھی والد گرامی ہی کی توجہ کا نتیجہ ہے اور عجیب بات ہے کہ یہ دوننھے بچے کہ مفسرین کے مطابق اس وقت یوسف (علیہ السلام) کی عمرسات برس کی تھی اور بنیامین ان سے چھوٹے تھے تو انھیں اس قدرتوجہ اور شفقت حاصل ہے حالانکہ ہم دس بھائی ہیں سارے جوان ہیں گھر بار کا ساراکام ہم کرتے ہیں اور ایک مضبوط جماعت ہیں ۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ والدہم پہ زیادہ توجہ کرتے مگر اس معاملے میں وہ سخت غلطی پر ہیں ۔ ضلال مبین سے ان کی مراد اپنے معاملہ میں حضرت کارویہ نہایت نامناسب ہونے کی تھی اور یہ ان کی رائے تھی۔ چناچہ سوچنے لگے کہ کوئی ایسی صورت ہو کہ یوسف نہ رہے اور والد کے سامنے ہم ہی رہ جائیں پھر ان کی ساری شفقت صرف ہمارے لئے ہوگی تو یوسف کو کسی طرح قتل کردیا جائے یا پھر کسی دورراز ایسے ملک پہنچا دیا جائے جہاں سے اس کی کوئی سن گن نہ آسکے اور پھر عذر معذرت کرکے معاملہ درست کرلو اور توبہ کرکے اپنی اصلاح کرلو ! سب اس بات پہ متفق ہوگئے کہ صرف قتل ہی کیا جاسکتا ہے اس کی تدبیر کرنا چاہیے۔ دوسراکام تو اپنے بس کا نہیں ۔ مگر ان میں سب ایک نے کہا کہ قتل اور پھر بھائی کا قتل اور وہ بھی چھوٹے سے بچے کا ہرگز مناسب نہیں بہت بڑاجرم ہے قتل ہرگز نہ کرو ہاں ! کسی گہرے اور غیرآباد کنویں میں پھینک دو کہ ازخود ہلاک ہوجائے گا ۔ بھوک پیاس سے یا کسی زہریلے جانور کے ڈسنے سے یا پھر کوئی راستہ چلتا ہوا قافلہ ہی آکر اسے نکال لے اور کہیں دوردرازلے جائے تو تمہارا مقصدہرصورت پورا ہوجائے گا اور براہ راست قتل میں ملوث ہونے سے بھی بچ جاؤگے۔
نیکوں کی محبت کی برکا
مفسرین نے یہاں عجیب بات لکھی ہے کہ ان کے جرم کا ایک سبب باپ کی محبت بھی تھی تو اللہ نے انھیں قتل سے بچنے کی توفیق بھی دی اور انجام کار توبہ کرکے معافی حاصل کرنے کی سعادت بھی بخشی کہ والد گرامی نے بھی اور بھائی نے بھی معاف فرمادیا۔ یہ قتل سے منع کرنے کا کام ان سب میں سے بڑے بھائی نے جس کا نام یہودا تھا ، کیا ۔
چنانچہ سب اسی پر متفق ہو کر باپ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ہمارا خیال ہے کہ ہم باہر جائیں کچھ کھانا پینا بھی لے جائیں اور کھیلیں کو دیں تو کیا آپ یوسف کے معاملہ میں ہم پہ اعتبار نہیں کرتے کہ وہ بھی ہمارے ساتھ آئیں خوب کھائیں پئیں اور کھیلیں کو دیں اور ہم ان کی حفاظت ونگہداشت کے ذمہ دار ہیں ، آخرہمارابھائی ہے اور ہمیں بھی اس کی بہتری اور پرورش کا اور اسے خوش رکھنے کا خیال ہے ۔ آپ اسے ضرور ہمارے ساتھ روانہ فرمائیے۔
سیروتفریح اور کھیل کود جس میں کوئی امرخلاف شریعت نہ ہو جائز ہے
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صحت مند سیروتفریح اور کھیل کود جائز ہے بشرطیکہ کوئی بات خلاف شریعت اختیار نہ کی جائے چناچہ مسابقت یعنی دوڑنا یانشانہ بازی یاگھڑدوڑیا کھیلوں کے ایسے مقابلے جن میں شرط نہ لگائی جائے سب جائز ہیں ان کا اہتمام یا ان پر انعام دینے میں حرج نہیں ۔ ہاں ! ریس کی طرح ان پر رقم لگائی جائے تو جو اہونے کے باعث حرام ہے ورنہ صحت مندتفریح سے کوئی ممانعت نہیں احادیث مبارکہ اور سیرت طیبہ میں بھی نہ صرف جواز بلکہ ان کی فضیلت تک ثابت ہے ۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھئی ! میں انھیں جدا بھی نہیں کرنا چاہتا اور دوسری بات یہ بھی بہت فکر مندی کی ہے کہ تم تو کھیل کو دمیں لگ جاؤاور اس نواح میں تو بھیڑیئے بہت ہیں انسانی بچہ تو وہ بہت خوش ہو کر کھاتے ہیں اگر اسے نقصان پہنچائیں یا پکڑلے جائیں تو کیا ہوگا ؟ کہنے لگے ، عجیب بات ہے ہم دس جوان آدمی ایک پورالشکر بنتے ہیں اور ہمارے ہوتے ہوئے اسے بھیڑیاکھالے گا۔ آپ کیسی بات کرتے ہیں اکر ایسا ہو تو پھر ہمارا ہونا کس کام ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ چناچہ ساتھ لے کر چلے کھانے پینے کی اشیاء لے لیں خوب اہتمام کیا اور انھیں کندھے پر اٹھا کر روانہ ہوگئے۔ یعقوب (علیہ السلام) نے بھی کچھ دور تک رخصت فرمایا مگر جب نظروں سے اوجھل ہوئے تو زمین پر پٹک دیا اور لگے طعنے دینے کہ اب اس چاندسورج کو اور گیارہ ستاروں کو بلاؤ جو تمہیں سجدہ کر رہے تھے ۔ نیز جس بھائی کی طرف بڑھتے وہ جھڑک دیتایاتھیڑماردیتا اور کم سنی کے باعث زیادہ چلنا بھی دشوار تھا لہٰذا مارکھاتے چلے جا رہے تھے کہ ایک ویران کنویں پر پہنچے اور سب اسی رائے پہ متفق ہوگئے کہ آپ کو کنویں میں پھینکا جائے ۔ چناچہ ہاتھ وغیرہ باندھ کر کنویں میں لٹکا دیا اور نصف میں پہنچنے پر اوپر سے رسی کاٹ دی تو فورا وحی آئی کہ اے یوسف ! بےفکر رہیئے ایک روزآئے گا کہ تیری عظمت شان کے سامنے یہ آنکھ نہ سکیں گے اور تجھے پہچان بھی نہ پائیں گے کہ تو انھیں اس واقعہ کی یاددلائے گا۔
مفسرین کے مطابق حضرت جبریل (علیہ السلام) نے کنویں میں گرنے سے پہلے تھام کر ایک چٹان پر بٹھان دیا جو آگے کو نکلی ہوئی تھی اور اللہ کی طرف سے آئندہ کے حالات منکشف ہوگئے کہ اگر کنویں کی اتھاہ گہرائی میں گرنا پڑاتو کوئی بات نہیں کہ واقعتا تو یہ راستہ تخت سلطنت مصرکوجاتا ہے اور ایک روز وہاں جلوہ افروزہوں گے جہاں آج کے بظاہرزبردست بھائی کا سہلئے درپہ کھڑے ہوں گے اور آپ انھیں یاددلائیں گے کہ میں وہ یوسف ہوں جسے تم نے کنویں میں پھینکا تھا۔
انبیاء (علیہم السلام) پر قبل نبوت اور غیرنبی پر بھی الہام ثابت ہے
صاحب تفسیر مظہری (رح) فرماتے ہیں کہ یہ وحی نبوت کی نہ تھی بلکہ جیسے ام موسیٰ علیھا السلام کو کی گئی ویسی ہی تھی کہ انبیاء علیھم السلام کو نبوت کی شان کے لائق ولایت قبل نبوت بھی حاصل ہوتی ہے کہ نبوت تو چالیس برس کی عمر مبارک میں عطاہوئی جیسے ارشاد ہے فلما بلغ اشدہ اتینہ حکما و علما۔ لہٰذا ا نبی اء علیھم السلام پر قبل نبوت بھی الہام کا ہونا درست ہے اور اسی طرح اولیاء اللہ پر بھی جیسے ام موسیٰ یا حضرت مریم پر ثابت ہے نیز دونوں نے اس پر عمل بھی کیا ۔ فرق صرف یہ ہے کہ ولی اپنے الہام کا خود تو مکلف ہے دوسرے لوگ مکلف نہیں جبکہ نبی کی وحی کی ساری امت مکلف ہوتی ہے اور دوسرے یہ کہ ولی کو غلطی لگ سکتی ہے نبی کو غلطی نہیں جبکہ مگر ولی کا الہام نبی کی وحی کا محتاج ہوتا ہے اگر اس کے مطابق ہے تو ٹھیک اگر اس کے خلاف ہے تو ولی کو سمجھنے میں غلطی رہی ہے۔ نیز یہ اللہ کی حکمت ہے کہ سارا معاملہ یوسف (علیہ السلام) پر منکشف فرمادیا مگر اسی واقعہ کی یعقوب (علیہ السلام) کی نگاہ سے پوشیدہ رکھا حتی کہ وہ برسوں روتے رہے اور بعض روایات کے مطابق یوسف (علیہ السلام) کی جنگل روانگی سے یعقوب (علیہ السلام) کی ملاقات تک چالیس برس گزرچکے تھے ۔ انبیاء (علیہم السلام) کے علوم بھی اللہ کی عطا کے محتاج ہوتے ہیں ۔ چاہے تو دوعالم منکشف فرمادے اور نہ چاہے تو سامنے کی بات پہ بھی حجاب ڈال دے ۔ مولوی رومی حمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا ہے ؎
کسے پر سید آں گم کردہ فرزند اے روشن گہر ! پیرخرد مند
زمصرش بوئے پیراہن شمیدی چرادر چاہ کنعانش ندیدی
بگفت احوال مابرق جہاں است دم پیدادم دیگرنہاں است
گہے برطارم اعلیٰ نشینم گہے برپشت پائے خود نہ بینم
کہ کسی نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے پوچھا کہ آپ نے مصر سے قاصد کے روانہ ہونے پر پیراہن کی بوسونگھ لی مگر کنعان کے کنویں میں یوسف (علیہ السلام) کا پتہ نہ چلا سکے تو فرمایا ہمارا حال تو آسمانی بجلی کا سا ہے کہ کبھی عرش تک ہر ذرہ منکشف ہوجائے اور دوسرے لمحے اپنے پاؤں کی پشت بھی نظرنہ آئے ۔ یعنی جو اللہ دکھادیں وہ دیکھتے ہیں اور جس سے روک دیں وہ نظر نہیں آتا حتی کہ جیل کے بعد یوسف (علیہ السلام) کے پاس حکومت اور اختیار رات بھی تھے مگر اللہ نے والد کو اطلاع کرنے کی اجازت نہ دی تو انھوں نے مصر سے کرتہ روانہ کیا تو ہوانے خوشبو کنعان پہنچادی ۔ یہ سب اس کی قدرت کا ملہ کے کرشمے ہیں اور صرف اس کی ذات عالم الغیب والشہادہ ہے باقی ساری مخلوق اس کی بارگاہ میں محتاج ہے اور انبیاء اپنی ساری عظمت نبوت کے ساتھ دوسرے لوگوں سے کروڑوں درجہ زیادہ حق اطاعت ادا فرماتے ہیں ۔
چنانچہ یوسف (علیہ السلام) تین روز کنویں میں رہے ادھر بھائیوں نے آپ کا کرتہ اتار کر اسے بکرے کے خون میں تر کرلیا اور عشاء کے وقت روتے پیٹتے اپنے والدبزرگوار کی خدمت میں پہنچے جو بےتابی سے بیٹے کا انتظار فرما رہے تھے شورسن کر باہر تشریف لائے تو کہنے لگے کہ ہم تو مقابلہ میں دوڑلگا اور دورنکل گئے اور یوسف (علیہ السلام) سامان کے پاس بیٹھے تھے کہ انھیں بھیڑیئے نے کھالیا ۔ آپ کی یوسف (علیہ السلام) سے والہانہ محبت بھلاہماری بات پہ آپ کو کب یقین کرنے دے گی ۔ مگر اصل بات یہی ہے اور یہ دیکھئے خون آلود کرتہ جو ہم اٹھالائے ہیں ۔
بزرگوں کے آثار کی برکات
آپ نے کرتہ کو ملاخطہ فرمایا تو وہ پھٹا ہوا نہ تھا ۔ آپ نے فرمایا عجیب بھیڑیا تھا کہ کوئی ہڈی پسلی یا بچاکھچا ٹکڑابدن کا نہ چھوڑا۔ اور سب کھا گیا مگر کرتے سے یوسف کو ایسنے نکالا کہ پھٹنے نہ دیا ۔ خون سے تو بھرگیا مگر رہا سالم ہی۔ یہ سب تمہارے نفس کی گھڑی ہوئی بات ہے کہ آثار بھی اس کے خلاف گواہی دے رہے ہیں ۔
یہاں صاحب معارف القرآن نے استدلال فرمایا ہے کہ قاضی کو آثار اور حالات سے بھی جانچناچاہیئے کہ کون فریق سچا ہے ۔ نیز یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ بزرگوں کے آثار میں کس قدربرکات ہوتی ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کے کرتے نے تین مقامات پر عجیب کام کئے اول بھائیوں نے باپ کو دھوکہ دینا چاہا تو کرتے کی شہادت سے ان کا جھوٹ پکڑا گیا ۔ عزیز مصر کی بیوی نے تہمت لگائی تو آپ کے کرتہ کی شہادت سے جھوٹی ثابت ہوئی اور خوشخبری دینے والا آپ کا کرتہ لایا تو یعقوب (علیہ السلام) کی بنیائی واپس آگئی ایسے ہی سیدئہ کائنات حبیبہ حبیب کبریا حضرت عائشہ الصدیقہ ؓ کے دوپٹہ سے تین عظیم واقعات وابستہ ہیں کہ اسلام اور کفر کا اولین معرکہ جو اس کی قدرت کاملہ کے کرشمے ہیں ۔ دنیا میں کچھ بھی اتفاقا نہیں ہوتا اگرچہ ہماری نگاہ اس تک نہ پہنچ جائے چناچہ قافلے والے ادھرآنکلے کیمپ لگایا اور اپنا آدمی پانی لانے کو بھیجا وہ اسی ویران کنویں پر پہنچا مفسرین نے اس کا نام مالک بن وعبرلکھا ہے ۔ ادھر یہودا جو آپ کا بھائی تھا تین روز سے تھوڑابہت کھانا بھی کنویں پہ پہنچا دیتا اور حال کی اطلاع بھی رکھتا ادھر س نے ڈول ڈالا تو آپ اللہ کے حکم سے ڈول میں سوار ہوگئے ۔ اس نے بڑازور لگا کرکھینچا۔ حیران تھا کہ وزنی کیوں ہے ۔ ڈول اوپر آیا تو جمال یوسف سے پھر اس قدرخوبصورت بچہ تونری دولت ہے ۔ اسے تو کوئی باد شاہ ہی خرید سکے گا۔ اس نے فورا چھپالیا کہ قافلے میں بھی کسی کو پتہ نہ چلے اور نہ اس کے کوئی وارث جان سکیں ۔ مگر یہود انے بھائیوں کو خبر کی تو وہ بھی آگئے ۔ چناچہ قافلہ میں تحقیق کرکے برآمد کرلیا کہ یہ تو ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے مگر ہمیں اب اس سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ زاہد ، زہد سے مشتق ہے کہ کوئی رغیبت نہ ہو۔ چناچہ انھوں نے بہت تھوڑے سے دراہم کے بدلے بیچ دیا کہ عرب چالیس تک کنتی کرتے تھے اگر اس سے زیادہ رقم ہوتی تو اس کا وزن شمار ہوتا تھا لہٰذا انھوں نے چالیس یا اس سے کم دراہم پربیچ دیا ۔ بعض روایات ہیں ہے کہ بیس دراہم پر بیچا اور دودرہم فی کس بانٹ لئے لیکن قافلے والے ہوں یا بھائی سب کے کردار سے اللہ کریم تو بخوبی واقف تھے ۔ قافلے والے سمجھ رہے تھے کہ ہم نے بہت نفع کمایا بھائیوں کا خیال تھا ہمارا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہوگیا اور راستے کا یہ کانٹا نکل گیا ۔ مگر رب جلیل جانتے ہیں کہ اللہ کا نبی اور محبوب کس منزل کو رواں ہے کتنی روحانی بلندیاں اور کتنی دنیاوی عظمتیں اس کی راہ دیکھ رہی ہیں ۔
Ayahs 12:21–29آیات 21 تا 29
اسرار و معارف
چنانچہ قافلہ والے اس خزانے کوے کرمصرپہنچے اور فروخت کا بہت اہتمام کیا حتی کہ شاہی محل تک شہرہ پہنچا کہ ایک غلام بکنے کو ہے جس کے حسن کی چمک سورج کو ماند کرتی ہے ۔ قافلوں کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ جس شہر میں پہنچتے قیام کرتے اور مال کی خوب شہرت کرکے ایک خاص روز فروخت کے لئے مقرر کردیتے کہ لوگ زیادہ جمع ہوں اور اچھی قیمت لگے ۔ چناچہ خوب خوب بولیاں لگیں ۔ آخرعزیز مصر نے جس کا نام قطفیر تھا خرید لیا اور آپ کے وزن کے برابر سونا مشک اور اتنا ہی ریشمی کپڑاقیمت میں ادا کردیا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ وزیر تھا اور حکمران عمالقہ میں سے تھا جس کا نام ریان بن اسید تھا۔ لیکن اگر یہ دزیر بھی تھا تو حکومت کا نظام یہی چلاتا تھا اور بادشاہ نے بھی بالآخریوسف (علیہ السلام) کے ہاتھ پر بعیت کی اسلام قبول کیا اور آپ کی حیات میں انتقال کرگیا ۔ بہرحال اسے تو واقعی خوش ہونا چاہیئے تھا ۔ گھر لایا اور بیوی سے بڑے اہتمام سے رکھنے کو کہا کہ اسے عام غلاموں کی طرح نہ رکھے بلکہ اس انداز سے اس کی تربیت کرے کہ ہمارے آئندہ کے منصوبے اس کے ہاتھوں مکمل ہوں اور اس کے چہرے کے نور سے بہتری کے آثار ہویدا ہیں تو ہم آگے چل کر اسی کو اپنا متبنٰی بنالیں اور ہمارا وارث ہو کہ ان کے اولاد نہ تھی اسی خاتون کا نام زلیخا تھا اور مصر کے حسینوں کی ملکہ تھی اس نے بڑے پیار سے پرورش کی۔
حضرت ابن مسعود ؓ کا ارشاد ہے کہ قیافہ شناسی میں تین آدمیوں نے کمال دکھایا۔ اول عزیز مصر جس نے یوسف (علیہ السلام) کے کمالات کا اندازہ کرلیا تھا دوم شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے رائے قائم کی تھی اور تیسرے ابوبکرصدیق رضی عنہ جنہوں نے بارخلافت کے لئے فاروق اعظم ؓ کو منتخب فرمایا۔
نیک لوگ اور خصوصاصا جب حال امور سلطنت دوسروں سے بہت بہترچلاسکتے ہیں
اللہ کریم فرماتے ہیں ہم نے تو یوسف کو حکومت بخش دی اور روئے زمین پر سلطان بنادیا تاکہ انھیں نورنبوت کے ساتھ علم تعبیر رویا اور علم نظام سلطنت بھی عطاکریں کہ وہ زمین کو انصاف سے بھردیں اور اللہ کی مخلوق پر اللہ کا قانون نافذکریں ۔ تادیل احادیث سے مراد وحی بھی ہے علم تعبیر بھی ہے اور امور سلطنت بھی کہ ہر کام کو درست انداز میں اور پورے انصاف سے کیا جائے تو ثابت ہوا کہ نیک لوگوں کو یہ مشورہ کہ امور سلطنت آپ کے بس کی بات نہیں غلط ہے بلکہ صاحب حال لوگ دوسروں کی نسبت امور مملکت کو زیادہ بہترطریقے سے چلا سکتے ہیں کہ وہ اقتدار میں آکر اندھے حال لوگ دوسروں کی نسبت امور مملکت کو زیادہ بہتر طریقے سے چلا سکتے ہیں کہ وہ اقتدار میں آکر اندھے نہیں ہوجاتے بلکہ الٰہی کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتے ہیں ۔
اور بظاہر غلام بن کر بکنے والا یوسف اللہ کی قدرت سے سلطان بننے کے لئے محلات شاہی میں داخل ہورہا ہے اور اللہ کریم پہلے سے اطلاع دے رہے ہیں کہ اللہ اپنے کام پہ قادر ہے اور جو چاہے اور جب چاہے کہ سکتا ہے لیکن لوگ اندھے ہیں اسباب کے گورکھ دھندے میں الجھ کر مسبب الا سباب کی قدرت کاملہ کو فراموش کر بیٹھے ہیں لیکن یہاں عجیب بات یہ ہے کہ اس پیشگوئی اور اطلاع کے باوجود پھر کئی برس انھیں جیل میں رہنا پڑا پھر دربارشاہی میں پڑتال ہوکر بےگناہ ثابت ہوئے اور بادشاہ نے امور سلطنت میں انھیں داخل کیا اور بالآخر مسلمان ہو کر ان کا خادم بن گیا اور یوں مصر کی سلطنت ان تک پہنچی یہ سب باتیں درمیان میں ہیں میں کوئی اور رکاوٹ نہ آئے گی بلکہ ہر کام اپنے وقت پر انجام پاتا ہے ۔
علم لدنی
اب مزید عطاکی باری آئی اور یوں ناز ونعم میں پل کر جب جوان ہوئے تو نبوت سے سرفراز فرمایا اور انھیں علوم سے نواز ایعنی دین ودنیا کے علوم عطافرمائے اور یہی علم لدنی ہے جو بغیر ظاہری استاد کے محض اللہ کی طرف سے عطا ہوتا ہے کہ حصول علم کا معروف ذریعہ تعلیم وتعلیم ہے مگر انبیاء کسی انسان سے علم نہیں پاتے ۔ لہٰذاہر نبی کو اللہ کی طرف سے علم عطا ہوتا ہے اور بعض کا ملین کو باتباع نبی یہ دولت نصیب ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں میں یہ کمال ہوتا ہے کہ وہ علماء ظواہر کی نسبت بہت زیادہ نکتہ رس ہوتے ہیں بات کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں اور دینی علم کے ساتھ امور دنیا اور رموذ سلطنت سے بھی بہت اچھی طرح آگاہ ہوتے ہیں نبوت کس عمر میں عطاہوئی ؟ اس پہ روایات مختلف ہیں کسی نے تیس بعض نے تینتیس اور بعض نے چالیس سال لکھے ہیں مگر قرآن حکیم نے صرف یہ فرمایا ہے کہ عنفوان شباب میں انھیں یہ نعمتیں نصیب ہوئیں اور جو بھی خلوص دل سے ہماری طلب رکھتے ہیں اور پورے خلوص سے اطاعت کرتے ہیں انھیں اسی طرح سے نوازا جاتا ہے کہ علوم ظاہری باطنی کے ساتھ عزت ووقار اور دولت سلطنت بھی نصیب ہوتی ہے ۔
احسان کا درجہ نصیب ہو تو علوم باطنی کے ساتھ اقتدارظاہری کا سبب بھی ہے
نبوت تو وہبی ہے اور نبی ازل سے منتخب قرار پائے مگر ولایت اور علوم باطنی کے ساتھ حکومت واقتدار اللہ کے انعام کے طور پر نصیب ہوسکتا ہے اور بدکاروں کو جو اقتدار ملتا ہے وہ ان کے لئے بھی مصیبت بنتا ہے اور جن لوگوں پر وہ مسلط کئے جاتے ہیں انھیں بھی سزادینا ہی مقصود ہوتا ہے ۔
زلیخا پھسل گئی
پہلے ہی یوسف تھے پھر اٹھتی جوانی اور اس پر نور نبوت کی چمک اس سب نے مل کر زلیخاکا قرار چھین لیا اور اسے نہ عمر کا خیال رہانہ اپنے مقام ومرتبے کا لحاظ بلکہ یوسف (علیہ السلام) کے پانے کی آرزو میں اندھی ہوگئی ورنہ تو حضرت اس کے زرخرید تھے پھر عمر کے اعتبار سے اس کے لئے بچوں جیسے تھے مگر یہ سب کسے یاد رہا تھا وہاں تو بس ایک آرزوتھی اور وہ یوسف کو پانے کی تھی چناچہ اس نے انھیں دعوت گناہ دے ڈالی اور بہت کوشش کی ۔
مفسرین نے لکھا ہے کہ آپ سے بہت پیار پیار کی باتیں کرتی ۔ آپ کے بالوں آنکھوں اور چہرے کے حسن کی تعریف کرتی اور اپنی محبت کا اظہار کرتی تھی نیز در وازے بند کردیئے ۔ جو مفسرین کے مطابق سات تھے اور اندر کا کمرہ خوب سجایا اور بہترین بستر لگاکرکہا کہ آؤ ! میری آغوش میں آجاؤ کہ آج کا وقت تمہارا ہے ، میں نے تمہاری خاطر سب سنگھار اور اہتمام کیا ہے انھوں نے فرمایا اللہ کی پناہ ! کیسے ہوسکتا ہے تمہارا خاوند تو میرامحسن ہے اس نے تو مجھے بچپن سے لے کر اب تک میری پرورش کی ہے اور بہت ہی پیار اور عزت واحترام سے کی ہے تو کیا اس کا بدلہ میں یہ دوں کہ اس کی آبرو سے کھیلوں اور دوسرے یہ کہ اللہ نے مجھے نبوت عطافرمائی ہے اور حدو د شرعی کا علم بخشا ہے جس کی رو سے زناء بہت بڑاظلم ہے اور ظلم کا ارتکاب کرنے والے کبھی فلاح نہیں پاتے۔
زلیخاکا ارادہ اور یوسف (علیہ السلام) کا پیغمبرانہ کردار
اللہ کریم فرماتے ہیں کہ زلیخا نے تو یوسف کو پانے کا پکا ارادہ کرلیا اور یوسف بھی کرتے اگر اللہ کی برہان نہ دیکھ رہے ہوتے ۔ اور حضرت ابن عباس ؓ کے مطابق اللہ کی یہ برہان نبوت ہے جو نبی کو معصوم عن الخطابنا دیتی ہے اور لولا ان رابرھان ربہ کی جزا ہے۔ ھمابھا یعنی ان میں بھی طبعی طور پر میلان پیدا ہوسکتا تھا وہ بھی انسان تھے اور بطور انسان بھی اس مزاج کے کہ فطری میلان جو غیراختیاری ہے اس کا ہونا ممکن تھا۔ اگرچہ ایسا ہوتا تو بھی گناہ نہ ہوتا کہ فرشتے اور انسان میں یہی فرق ہے کہ فرشتے کو گناہ کی طرف رغبت ہی نہیں ہوسکتی مگر انسان کو فطری رغبت ہوتی ہے مگر ضبط کرتا ہے اور اللہ کی نافرمانی نہیں کرتا مگر یہاں تو وہ بھی نہ ہوسکا کہ آپ اللہ کے نبی تھے اور یہ یاد رہے کہ اس واقعہ سے قبل نبوت عطافرمائے جانے کا تذکرہ موجود ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ فرماتے ہیں اس طرح ہم نے انھیں گناہ سے بھی اور ارادہ گناہ یا گناہ کی مبادیات کہ وہ ارادہ کرتے یا زلیخا سے زبانی ایسی بات کرتے جو حیاء کے خلاف ہوتی یا چھیڑچھاڑ کرتے ۔ فرمایا ہم نے نور نبوت اور عصمت نبوت عطاکرکے معمولی سے گناہ سے بھی ان کو بچالیا بلکہ گناہ اور بےحیائی کو ان سے دور کردیا یعنی وہ عصمت نبوت کی اس بلندی پہ فائز کردیئے گئے کہ گناہ کا خیال وہاں تک پہنچنے سے قاصر تھا اور تیسری بات یہ کہ وہ میرے مخلص بندوں میں سے تھے اور یہ تو شیطان نے بھی اقرار کیا تھا کہ میں لوگوں کو بہکالوں گا الا عبادک منھم المخلصین کہ تیرے مخلص بندوں کو میں بھی بہکانہ سکوں گا۔ چوتھی دلیل یہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی بھول کا تذکرہ ہے تو توبہ کا ذکر بھی ہے ۔ یونس (علیہ السلام) کا تذکرہ ہے تو توبہ یا مغفرت کا ذکر بھی ہے اگر یہاں بھی ذرہ برابر خطا کا صدور ہوتا تو توبہ اور رجوع الی اللہ کا تذکرہ ہوتا ۔ ہر لغزش سے بچالینے اور عباد مخلصین میں سے ہونے کا ارشاد فرمایا جارہا ہے۔
پتہ نہیں کیوں علماء نے یہ بحث فرمائی ہے اور ھم کے مختلف درجے مقرر کرتے رہے ہیں ۔ میرے خیال کے مطابق اس سارے اہتمام کی یہاں ضرورت ہی پیش نہیں آتی اس لئے کہ رائے کی خطا اور شے ہے اور اخلاقیات یا کردار میں زناء جیسے گھناؤنے فعل کا خیال بھی نبی کی ذات کی طرف منسوب کرنا ممکن نہیں کہ انھوں نے پہلا جملہ ہی یہ ارشاد فرمایا معاذ اللہ یعنی اللہ کی پناہ گویا سن کر بھی تاب نہ لائے ۔ جب انھوں نے زلیخا کی حد سے بڑھتی ہوئی بےتابی دیکھی اور دیکھا کہ میری نصیحت کا بھی کوئی اثر نہیں ہورہا تو دروازے کی طرف بھاگے جو سات تھے اور سات مقفل تھے مگر قدرت باری سے کھلتے چلے گئے ۔
توکل
مفسرین نے برہان رب کے تحت لکھا ہے کہ انھیں یعقوب (علیہ السلام) نظر آئے ۔ بعض نے فرمایا کہ آیات لکھی ہوئی نظرآئیں یا اور اس طرح کی روایات سب ممکن ہیں اور ایسا ہوسکتا ہے مگر اصل بات عصمت نبوت تھی اور اللہ پر توکل کہ بھاگ تو گھڑے ہوتے اور یہی توکل ہے کہ نتائج سے بےپرواہ ہو کر اسباب سے قطع نظرجو کچھ بس میں ہوکرگزرے پھر جو اللہ کو منظور ہو وہ ظاہر ہوجائے گا اس کی فکر نہ کرے جیسے یوسف (علیہ السلام) نے مقفل دروازوں کی پرواہ نہ کی اور بھاگ کھڑے ہوئے ۔ قفل کھل کر گرتے گئے زلیخا بھی لپکی ۔ پیچھے سے کرتہ امگر آپ نے پرواہ نہ کی اور کرتہ پیچھے سے پھٹ گیا ۔ اور جیسے ہی باہر کے دروازے سے نکلے تو سامنے اس کا شوہر یعنی عزیز مصر کھڑا تھا اور دونوں اسی حال میں اس کے روبرو تھے ۔
زلیخا کا حال
زلیخافورا بدل گئی اور کہنے لگی کہ ایسے آدمی کی سزاجیل کی سختی یا سخت ترین عذاب ہونا چاہیئے جو تیرے گھر میں اور تیری ہی بیوی پہ دست درازی کرے۔ تو یہاں یہ ثابت ہوا کہ زلیخاصرف اپنے نفس کی خواہش کی تکمیل میں دیوانی ہورہی تھی اسے یوسف (علیہ السلام) سے محبت نہ تھی برادران یوسف نے یوسف (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا پھر کنویں میں پھینکا بیچ کھایا مگر ایک سبب باپ کی محبت بھی تھی جسے حاصل کرنے کا طریقہ بہت بڑا گناہ تھا مگر نبی کی محبت نے انھیں توبہ کی توفیق بھی دی قتل سے بھی بچایا اور معافی بھی دلوادی کاش ! زلیخا کو بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) سے محبت ہوتی تو کبھی محروم نہ رہتی ۔ مگر یہاں تو محض خواہش کی تکمیل کی طلب تھی جب مشکل پڑی تو یوسف (علیہ السلام) پہ اچھال دی بھلا کوئی اپنے محبوب سے یہ سلوک کرتا ہے ؟ اسی لئے علماء نے لکھا ہے کہ زلیخا یوسف (علیہ السلام) کو نہ پاس کی اور نہ ان کی بیوی بنی بلکہ ان کی اہلیہ کا نام آسناتھ تھا کہ نبی کی بیوی کافر تو ہوسکتی ہے اخلاقی گناہ میں ملوث نہیں ہوسکتی۔
اپنی برأت ثابت کرنا سنت انبیا ہے
اس کے الزام کی پوری سختی سے تردید فرماتے ہوئے اصل بات بیان فرمادی کہ یہ سارا کارنامہ تو اس کا تھا ۔ اس نے مجھے دعوت گناہ دی جس سے میں بھاگ رہا تھا۔ تو اللہ نے ان کا معجزہ ظاہر فرمایا اور اسی گھر میں ایک بچہ جو گہوارہ میں پڑا تھا غالبا کسی خادمہ کا ہوگا یا ان کے کسی خاندان کے فرد کا بہرحال ان میں کا تھا اللہ نے اسے گویا کردیا ۔ اب وہ صرف اتنا بھی کہہ دیتا کہ قصور زلیخا کا ہے تو بھی بہت کافی تھا مگر اس نے پھر حیکمانہ بات کی کہ اے عزیز مصر ! کرتے کو دیکھ اگر سامنے سے پھٹا ہے تو قصور یوسف کا ہے اور زلیخانے وفاع کرتے ہوئے پھاڑا ہوگا لیکن اگر پیچھے سے پھٹا ہے تو قصور ذلیخا کا ہے کہ یہ بھاگ رہے تھے اور وہ پکڑناچاہتی تھی۔
یقینا جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں رب جلیل انھیں کبھی رسوا نہیں ہونے دیتے جیسے حضرت مریم کے لئے ننھے عیسیٰ (علیہ السلام) کو گویا کردیا ۔ یا نبی اسرائیل کے ایک ولی حضرت جریح پر تہمت لگی تو نوزائیدہ بچے نے برأت بیان کی یا فرعون کے سامنے ماشطہ نامی چھوٹ بچی نے بات کرکے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے بازرکھا یہاں یوسف (علیہ السلام) کی شہادت ایک ننھے بچے نے معجزانہ طورپردی ۔ مظہری میں ہے کہ ان چار بچوں نے معجزانہ طورپرکلام کیا اور جب آقائے نامدار ﷺ کی زوجہ محترمہ پہ بہتان لگا یا کیا تو اللہ کریم نے کسی بچے سے شہادت دلوانے کی بجائے خود شہادت دی اور برأت بیان کی اور سورة نور میں مسلسل آیات نازل فرمائیں ۔ چناچہ عزیز مصرنے دیکھا کہ قمیض تو پیچھے سے پھٹ رہی ہے اگرچہ بچے کا معجزانہ کلام ہی کافی تھا مگر شہادت میں قرائن کا اپنا اثرہوتا ہے اور اپنی ایک حیثیت رکھتے ہیں تو کہنے لگا کہ زلیخا یہ تو تیرے مکر کی دلیل ہے اور یقینا جب عورت مکر کرتی ہے تو پھر وہ بہت بڑامکر کرتی ہے کہ شیطان کے مکر کو اللہ نے کمزورکہا ہے مگر یہاں عورت کا مکر کیدعظیم کہا گیا ہے نہ ہر عورت بلکہ مکار عورت بڑا ہی مکر کرسکتی ہے ۔ لہٰذا یوسف (علیہ السلام) سے درگزر کرنے کو کہا کہ آخربات پھیلے گی تو رسوائی ہوگی اسے اپنی عزت کا احساس بھی تو تھا نیزان کی دل آزاری کا پاس بھی تھا تو کہنے لگا آپ میری خاطر سے سہی درگزرفرمائے اور اے زلیخا ! تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے تمہیں توہرطرح سے معافی طلب کرنا چاہیئے یہ تمہاری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اب مجھ سے بھی یعنی شوہر سے بھی معافی چاہو اور یوسف (علیہ السلام) سے بھی جن کی بہت دل آزاری کرچکی ہومعافی طلب کرو۔
Ayahs 12:30–35آیات 30 تا 35
اسرار و معارف
جب کوئی بات وقوع پذیر ہوتی ہے ترکب چھپتی ہے ۔ آخر اس کی سن گن تو نکل ہی جاتی ہے چناچہ یہ بات بھی درباری امراء کی بیویوں تک پہنچی تو انھیں بہت حیرت ہوئی کہ عجیب بات ہے کہ ایک امیر کی بیوی اور خادم پہ عاشق ہوجائے یا ایک زرخرید غلام کی محبت کی اسیر ہوجائے یہ تو بہت ہی نامناسب بات ہے۔ عزیز مصر کی بیوی اور یہ کردار تو بہت ہی غلط کام ہے ۔ لیکن ایک حدتک اندر سے وہ بھی بیقرار تھیں کہ دیکھیں کہ دیکھیں تو سہی وہ حسین ہے کیساجس پر عزیز مصر کی بیوی فدہ ہوگئی ۔ لہٰذا انھوں نے اس طرح کی باتیں بنائیں کہ زلیخا سن کر خود ہی یہ چاہے گی کہ ہم بھی دیکھ سکیں تاکہ اسے طعنہ دینے سے با زرہیں ۔ اسی لئے یہاں ان کی غیبت کو مکرکہا گیا ہے کہ یہ غیبت بھی دراصل جمال یوسف کو دیکھنے کی خفیہ تدبیر تھی اور اپنا کام کرگئی کہ جب یہ بات زلیخا کو پہنچی تو اس نے ان خواتین کی دعوت کی اور گھر کو خوب سجایا نیز طرح طرح کے کھانے اور میوہ جات جمع کئے اور صرف عورتوں عورتوں کو کھا نے پہ بلایاکھا نے کی میزپر چاقوچھریاں یاچھری کانٹے بھی تھے کہ گوشت کو چھری سے کاٹ کر کھاتے تھے نیز فروٹ بھی چھری سے کاٹ کر کھاتے تھے ۔ لہٰذا جب وہ دعوت میں مصروف ہوگئیں گوشت کاٹ کاٹ کر کھانے لگیں تو زلیخا نے یوسف (علیہ السلام) کو کھانے کے کمرے میں بلوالیا جو غالب پہلے کسی نے بھی ان میں دیکھ نہ پائے تھے اور زلیخا انہیں سب کی نگاہوں سے بچاکررکھتی تھی ۔ صاحب مظہری (رح) لکھتے ہیں کہ جس سورج کی دھوپ دیواروں پہ چمکتی ہے جمال یوسف (علیہ السلام) سے اس طرح دیواریں تک چمک اٹھتی تھیں لہٰذا جب اس کمرے میں داخل ہوئے تو سب کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں اور بوکھلا کر گوشت کی بجائے اپنے ہاتھ زخمی کرلئے اور پکار اٹھیں کہ اللہ قسم ! یہ ہرگز بشر نہیں ہوسکتا اور نہ اتنی روشنی کسی انسانی چہرے کی ہوسکتی ہے ہاں ! یہ کوئی بہت ہی خوبصورت فرشتہ ہے کہ وہ لوگ اللہ اور فرشتوں کے وجود کے قائل تھے مگر اپنے انداز سے مانتے تھے۔
عصمت کا تذکرہ
اب زلیخابولی کہ اسی شخص کا طعنہ مجھے دے رہی ہو حالانکہ تم سے تو اس کی ایک جھلک بھی برداشت نہ ہوسکی تو سنو ! میں نے اسے دعوت گناہ دینے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی تھی مگر یہ صاف بچ گیا ۔ یہاں بھی قرآن حکیم نے فاستعصم فرمایا عصمت نبوت کے انداز بیان فرمائے کہ بالکل پاک صاف رہا خود زلیخا تک یہ نہیں کہتی کہ انھیں بھی خیال تو تھا مگر جرأت نہ کرسکے ۔ بلکہ وہ جو مدعی ہے وہ تو اپنے جرم کا اقرار کرتی ہے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برأت بیان کرتی ہے ۔
زلیخاکا حال
حیرت ہے ان پر جو آپ پر بھی ایسا خیال رکھنے کا گمان کرتے ہیں بلکہ زلیخا تو اپنی بات پر ہنوز قائم ہے اور اب تو سب عورتوں کے روبروکہہ رہی ہے کہ اسے اب بھی میری بات مانے بغیر چارہ نہ ہوگا بلکہ اگر مانے گا نہیں تو میں اسے تباہ کردوں گی اسے جیل میں سڑنا ہوگا اور ذلت ورسوائی سے عمر بسر کرنا پڑے گی۔ علماء نے زلیخا کے اسی کردار پر اعتراض فرمایا ہے کہ اسے کے نبی سے محبت نہ تھی وہ تو اپنے نفس کی غلام تھی۔ اگر خواہش پوری ہوتی نظرنہ آئے تو انھیں نقصان پہنچا نے کے درپے ہے جو بعد میں وہ کر بھی گزری تو اس اخلاق کی مالک عورت اس قابل نہیں کہ وہ کسی بھی نبی کی زوجیت کا شرف پائے حضرت نوح (علیہ السلام) یا لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کے کفر کا تذکرہ ہے کہ کفرطاری ہونے والا گنا ہ ہے ۔ عقیدے کا فساد ہے مگر عمل وکردار کا فساد نبی کے وجود سے ملحق نہیں رہ سکتا ۔ لہٰذا زلیخا کی شادی بھی یوسف (علیہ السلام) سے نہ ہوسکی اور یوں بھی جب آپ جیل سے رہا ہوئے تو وہ شادی کی عمر سے گزرچکی تھی ۔
اک زلیخا کیا کم فتنہ تھی کہ اب ساری کی ساری عورتیں جو اس مجلس میں تھیں فدا ہوگئیں اور لکیں آپ کو درغلانے خواہ زلیخا ہی کے بہانے سہی کہ اسی کی بات مان لو اس نے آپ پر کتنے احسان کتے ہیں کس نازونعمت سے پرورش کی ہے اور آپ سے کتنی محبت رکھتی ہے ورنہ مصر کی جیل شاید آپ نہ جانتے ہوں بڑی تکلیف دہ جگہ ہے کم ہی لوگ سلامت نکل پاتے ہیں کم ازکم اپنے اوپرہی رحم کھاؤانھیں بھی خیال تھا کہ جب کوئی برائی میں ملوث ہوتا ہے تو پھر زیادہ بھی کرسکتا ہے مگر عصمت نبوت کی عظمتوں کا اندازہ نہ تھا ۔
جہالت
آپ نے التجا کی اے میرے رب ! اے میرے پالنے اور سنبھالنے والے پروردگار ! تیری نافرمانی سے جیل بھی محبوب ہے ۔ تیری نافرمانی مصر کی جیل سے زیادہ سخت کام ہے اور اگر تو میری حفاظت نہ فرمائے تو میں بھی آخرانسان ہوں اور یہ ملک بھر کی جیل سے زیادہ سخت کام ہے اور اگر تو میری حفاظت نہ فرمائے تو میں بھی آخرانسان ہوں اور یہ ملک بھر کی حسین عورتیں مجھے ورغلانے پہ تل گئی ہیں تیری حفاظت یعنی عصمت نبوت کے بغیر بھلا کوئی صورت بچ جانے کی ہے مجھے تو نظر نہیں آرہی اور اگر ان کی طرف میلان بھی کرتا ہوں تو یہ بہت بڑی جہالت ہوگی ۔ علماء فرماتے ہیں کہ یہاں ثابت ہے کہ مومن کا گناہ جہالت ہے ۔ اور یوسف (علیہ السلام) کو جیل جانے کا شوق نہ تھا بلکہ اللہ کی نافرمانی کے مقابلے میں دنیا کی بڑی سے بڑی مصیبت کو ہیچ سمجھا ۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ میرے بھائی یوسف پہ رحم فرمائے انھوں نے جیل کیوں طلب فرمائی اللہ سے عافیت طلب فرماتے ۔ اوکمال قال۔ لہٰذا اللہ سے کسی بھی بڑی مصیبت کے بدلے چھوٹی بھی طلب نہ کی جائے بلکہ عافیت طلب کی جانی چاہیئے جیسے حضرت عباس ؓ نے آپ ﷺ سے پوچھا اللہ سے کس چیز کا سوال کروں ؟ فرمایا عافیت مانگیں کچھ روز بعد پھر عرض کیا اللہ سے کیا مانگوں ؟ فرمایا عافیت ! اور ایک شخص صبر کی دعامانگ رہا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اپنے لئے مصیبت لا رہے ہو جس پر صبر کروگے اللہ سے عافیت طلب کرو۔
چنانچہ رب جلیل نے انھیں ان عورتوں کے شر سے بالکل ہی دور کردیا اور ان کے ورغلانے سے پوری طرح محفوظ فرمادیا کہ عزیز مصر کو خیال گزرا جو اگرچہ آپ کے مزاج کی پاکیزگی کا معترف بھی تھا ۔ پھر بچے کے بولنے اور دلیل سے بھی تسلی ہوگئی مگر بےقصور ہونے کے باوجود آپ کا سزانہ پانا اس کی بیوی کو بدنام کردے گا آخرجب باہر چرچاہوگا تو لوگ کیا کہیں گے لہٰذا بہتریہی ہے کہ انھیں قید کردیا جائے اور لوگ انھیں بھول جائیں اگر کوئی بات کرے تو یہ خیال کرے کہ ان سے غلطی ہوئی ہزا پار ہے ہیں ۔