10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 10:1–10

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

الٓر یہ حکمت والی کتاب (قرآن) کی آیتیں ہیں

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص پر وحی بھیج دی کہ لوگوں کو (ان کے اعمال بد کے انجام پر) ڈرائے اور جو ایمان لے آئیں ان کو خوشخبری دے کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے ؟ کافر کہتے ہیں کہ یہ شخص تو بلا شبہ واضح طور پر جادوگر ہے

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا پھر عرش پر قائم ہوا وہی ہر کام کا انتظام فرماتا ہے کوئی (اس کے ہاں) اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کرسکتا یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے سو اسی کی عبادت کرو بھلا تم کیوں نصیحت حاصل نہیں کرتے

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

اس کے پاس تم سب کو پلٹ کر جانا ہے اللہ نے (اس کا) سچا وعدہ فرمارکھا ہے بیشک وہی مخلوق کو پہلی بار پیدا فرماتا ہے وہی دوبارہ بھی پیدا فرمائے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے ان کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی ہے اور درد دینے والا عذاب اس لئے کہ (اللہ سے) کفر کرتے تھے

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہی (اللہ) تو ہے جس نے سورج کی روشن کیا اور چاند کو نورانی (چمکنے والا) بنایا اور اس (کی چال) کے لئے منزلیں مقرر فرمائیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرسکو۔ اللہ نے ان سب کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے یہ دلائل عقل مندوں کو صاف صاف بتا رہے ہیں

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

بلاشبہ رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا فرمایا ہے اس میں ڈرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں کو ہم سے ملنے پر یقین نہیں ہے اور وہ دنیا ہی کی زندگی پر خوش اور اس پر مطمئن ہوگئے ہیں اور جو لوگ ہمارے نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ان لوگوں کے اعمال کی وجہ سے ان کے رہنے کی جگہ آگ ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

یقینا جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کا پروردگار ان کے ایمان کی وجہ سے ان کو (جنت کی طرف) راہ دکھائے گا کہ ان نعمت کے باغوں کے تابع نہریں بہہ رہی ہیں

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

اس میں وہ بےساختہ کہیں گے ، سبحان اللہ۔ (اے اللہ ! پاک ہے) اور وہاں (آپس میں) ان کی ملاقات سلام ہوگی اور ان کی آخری بات یہ ہوگی کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے

آیات 1 تا 10 اسرار و معارف الٓرٰ ۔ حروف مقطعات ہیں جن کے متعلق پہلے لکھا جاچکا ہے کہ ان کا علم اللہ کو یا اس کے رسول ﷺ کو ہے یا پھر ان اللہ کے بندوں کو جو راسخین فی المعلم کے درجہ کو پالیتے ہیں کسی قدرعطا فرمایا جاتا ہے ۔ عامتہ المسلمین کے لئے تلاوت ہی کافی ہے اور معانی میں اندازے اور قیاس سے رائے قائم کرنا مناسب نہیں ۔ فرمایا ، یہ آیات ایسی عالیشان کتاب کی ہیں جو حکمت سے بھر اخزانہ ہے اور اس قدرعام فہم ہیں کسی ان پڑھ گڈریا اور چرواہاکو بھی بتانے پر انکے مفہوم کو سمجھ سکتا ہے بشرطیکہ اس کی عقل سلامت ہو کہ بات عقلمندی کی ہومگرسننے والا عقل سے محروم ہو تو سمجھ نہیں پاتا ۔ یہی دیکھ لیں کہ لوگوں کو اسی بات پہ حیرت ہے کہ ہم نے ان میں سے یعنی اولاد آدم (علیہ السلام) میں سے ایک ہستی پر وحی نازل فرمادی تاکہ وہ اولاد آدم کو پیش آنے والے خطرات سے آگاہ فرمائے اور یہ بات عین عقلی تقاضوں کے مطابق ہے اس لئے کہ اگر کسی اور جنس میں سے رسول مبعوث کئے جاتے تو غیرجنس سے استفادہ ممکن نہ ہوتا مثلا جن یا فرشتہ اگر بحیثیت رسول مبعوث ہوتا تو پہلی بات تو یہ ہے کہ انسانوں کو دکھائی ہی نہ دیتا اور اگر دکھائی دیتا تو اسے انسانی شکل اختیار کرنا پڑتی پھر اس کے فرشتہ ہونے کا کیا فائدہ دوسرے یہ کہ اس کی ضروریات اور عادات مختلف انسانی ضروریات و عادات الگ تو یہ کسی طرح مناسب نہ تھا بلکہ یہ بات خلاف عقل ہوتی اور انسانوں میں سے ہی ان کے لئے رسول کا مبعوث کیا جانا ہی عقلا بھی درست ترین بات ہے مگر انھیں یہ آسان سی بات بھی سمجھ نہیں آرہی ۔ آپ ان لوگوں کو جو ایمان لائے خوشخبری دیجئے کہ انھوں نے راستبازی پر اور نہایت مضبوط جگہ پر قدم جمائے ہیں اور یہ کوئی ایسامقام نہیں جس کے ٹوٹ جانے یاچھوٹ جانے کا اندیشہ ہو بلکہ یہ ان کے رب کی طرف سے ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے ۔ چونکہ اعمال پر اجرمرتب کرنا بھی صفت ربوبیت سے متعلق ہے لہٰذایہاں صفاتی نام رب ہی استعمال ہوا ہے ۔ مگر کفار کی عقل پر ایسے پتھرپڑے ہیں کہ وہ کہتے ہیں یہ کوئی بہت بڑاجادوگر ہے جو دور نزدیک کی خبریں دیتا ہے یاواقعات کے بارے صحیح پیشگوئی فرمادیتا ہے اور اس جادو کے سہارے اپنی بات منوانا چاہتا ہے نعوذ باللہ من ذالک الھفوات۔ یہ ان کی جہالت کا کرشمہ ہے کہ وہ ایسا اعتراض کر رہے ہیں ۔ نہیں جانتے کہ تمہارے رب کی عظمت کیا ہے ۔ وہ ایسابلند مرتبہ ہے کہ انسان کی خاطر اس نے ساری کائنات بنائی اور اس کے ایک اشارے پہ سب کچھ دجاتا ہے مگر اس نے تخلیق کائنات میں ترتیب رکھی کہ 6 چھ دنوں میں آسمان اور زمین بنادیئے ۔ نہ یہ کہ انھیں وجودبخشابل کہ ان میں تمام خصوصیات سمودیں جن میں کا بہت کم علم انسان کو ہوسکاہی اور ہنوزصرف زمین کی بیشمار خصوصیات تک عقل انسانی کی رسائی نہیں ہوسکی آسمان کی بات تو بعد کی ہے پھر عرش کو تخت سلطنت قرار دیا یعنی زمین وآسمان کے جملہ نظام کو اس سے متعلق کردیا جس پر وہ اپنی شان کے مطابق جلوہ افروز ہوا۔ معتزلہ کا خیال معتزلہ کا خیال استوی علی العرش کے بارے یہ ہے کہ اللہ ذاتی طور پر تو وہاں تشریف فرما ہے مگر اپنے علم کے ذریعے ہر جگہ موجود ہے یعنی خود توعرش پر بیٹھا ہے مگر اس کا علم ہر شے کے ساتھ ہے مگر علماء تفسیر نے بہت مدلل طریقے سے اور صحیح احادیث سے اس کا جواب دیا ہے اور رد فرمایا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو ذات بھی کسی جگہ مقید ہوگی اس کی حدود ہوں گی اور جس ذات کی حدود ہوں وہ فنا ہونے والی ہے ۔ اللہ کی ذات حدود وقیود سے بالا تر ہے لہٰذایہاں فرمانا کہ وہ عرش پر قائم ہوا کی تفسیر یدبرالامر سے ہوگئی کہ عرش پر سوائے اس کے کسی کا حکم نہ چلتا ہے نہ اختیار ۔ اور ساری کائنات کی تدبیر عرش سے ہی کی جاتی ہے ۔ سلطنت کائنات کا سیکریڑیٹ وہی ہے اور نہ صرف یہ کہ تمام فیصلے کرنے کا اختیار اس کے دست قدرت میں ہے ۔ یہ بھی یقینی ہے کہ کوئی بھی اس کے ہاں سفارش کرنے کی بھی جرأت نہیں رکھتا کہ امید کی جاسکے کہ اگر اسی نے کرنا ہے تو کسی سے کہلوالیں گے بلکہ اس کے ہاں سفارش بھی اس کی اجازت سے ہوگی ۔ جن کو اجازت دے گا کرسکیں گے اور جن کے لئے اجازت دے گا ان کے لئے کرسکیں گے تو کافر کے لئے تو اس نے سفارش سے بھی روک دیا ہے ۔ تمہارا پروردگار اتناہی عظیم اور بےنیاز ہے لہٰذا اس کی رضا کو پانے کا راستہ اس کی اطاعت اور بندگی ہے اور بس۔ اور یہ سب بات محض عقل سے سمجھ میں آنے والی ہے اس میں کوئی پیچیدہ بات نہیں کیا تم اتنی عقل بھی نہیں رکھتے ۔ تمھیں آخراسی کی بارگاہ میں لوٹ کرجانا ہے کہ انسان ایسی تخلیق نہیں جو ختم کردی جائے گی۔ اسے تو پیدا کرنے والے نے بہت سی خصوصیات عطافرماکردار دنیا میں بھی بھیجا ہے ۔ پھر سب اولاد آدم اس کے حضور پیش ہو کر اپنا حساب دے گی اور ہمیشہ کے گھروں میں منتقل ہوگی ۔ اس میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں اسلئے کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو یقینا سچا ہے اگر تم یہ سوچ رہے ہو کہ کائنات فنا ہوگئی انسان مرکھپ گئے تو بھلا کیونکہ زندہ ہوں گے تو تمہیں یہ دیکھ لیناکافی ہے کہ اس نے ساری کائنات کو عدم سے پیدا فرمایا کچھ نہ تھا تو سب کچھ بنایا لہٰذافناکے بعد دوبارہ بنالینا اس ذات کے لئے نہ مشکل ہے اور نہ ناممکن بلکہ یقینا وہ ایسا ہی کرے گا ورنہ تو بھلائی نیکی اور برائی اور ظلم میں تمیز ہی مٹ جائے گی ۔ اگر آخرت کا حساب وکتاب نہ ہو تو نیکی دبدی کا تصورہی بیکار ہے لہٰذاضرورسب اس کی بارگاہ میں جمع کئے جائیں گے تاکہ ایمان لاکر نیک عمل کرنے والوں کو پوراپورا انعام دیاجائے اور جن لوگوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا نھیں بطور سزاپینے کو کھولتا ہواپانی اور طرح طرح کے درد ناک عذاب جو ان کے کردار کا پھل ہوں گے دیئے جائیں گے۔ اس کے مظاہر قدرت میں شمس وقمر کو دیکھ تو کتنی بیشمار تخلیقات کے پیدا ہونے اور پلنے بڑھنے کے لئے سورج کی تمازت اور چاند کی روشنی کو کام پر لگا دیا اور ہر جگہ ان کے اثر پر ایک حدمقرر کردی ۔ سورج کی تیز روشنی سے سمندر کھول اٹھتا ہے مگر دوسری طرف چیونٹی بھی زندہ رہتی ہے اور اس سے اپنے انڈے سینک رہی ہوتی ہے ہاتھی کو اس کی ضرورت کے مطابق اور مچھر کو اس کی ضرورت کے مطابق گرمی مل جاتی ہے کہ حدبندی اسی ذات عظیم نے کردی ہے جو کائنات کا خالق ہے اور جو پھر سے سب کو زندہ کرے گا ۔ اس نے سورج کی روشنی اور چاند ٹھنڈک سے حیوانات نباتات اور جمادات سب پر کس قدر اثرمرتب دیئے ہیں حتی کہ ایک ادنی ترین ذرے میں بھی ایمی طاقت سمودی ہے ۔ بیچ کے اگنے سے لے کر پھلوں کے پکنے تک کہیں تمازت آفتاب کام کر رہی ہے تو دوسری جگہ چاند کی ٹھنڈی چاندنی اس میں شیرینی بھر رہی ہے اگر سورج سمندروں سے بخارات اٹھا کر ساری زمین کی حیات کا بنیا دی سبب فراہم کرتا ہے تو چاندسمندروں میں مدوجزرپیدا کرکے سمندری مخلوق کیلئے حیات مہیا کرنے کا فریضہ ادا کرتا ہے ۔ دونوں موسموں کے آنے جانے رات اور دن کے بنانے سال ماہ دن اور لمحوں تک کے حساب کو قائم رکھنے کا سبب ہیں ایک عام آدمی بھی دن تاریخ اور وقت کی تعین سے آگاہ ہوسکتا ہے ۔ ان کا اس قدرپابندی سے سفر کرنا اور مسلسل سرگرم عمل رہنا اللہ ہی کی قدرت کاملہ کا کرشمہ ہے ۔ سورج اور چانددونوں کو وقت کے شمار کا سبب بتایا گیا ہے ۔ لہٰذادونوں طرح کی تاریخ شمار کرنے میں حرج نہیں چونکہ چاند کے طلوع و غروب سے مہینہ اور دن کا شمار بہت آسان ہے لہٰذا عبادات اسلامی کا مدارقمری تاریخوں پہ رکھا گیا ہے اور عام زندگی میں بھی قمری تاریخ کا استعمال سنت ہے مگر عام کاروبار میں شمسی حساب منع نہیں ۔ یہ سارانظام کیا فضول اور بےمقصد ہوسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں ! بلکہ یہ سب ہی حق وصداقت پہ استوار ہے اور اسی مقصد کو واضح کرنے کے لئے رب جلیل واضح اور روشن دلائل بیان فرماتا ہے کہ سمجھ بوجھ سے کام لینے والے لوگ بات کو جان سکیں ۔ یہ شب وروز کی آمدوشدیہ زمانے کے انقلابات بظاہر بکھری ہوئی کائنات میں ایک ایک ذرے کا حسن ترتیب زمینوں اور آسمانوں میں ساری مخلوق اسی کی عظمت اور قدرت کاملہ پہ گواہی دے رہی ہے مگر یہ سب باتیں جاننے کے لئے بھی اسی کے ساتھ تعلق اور ایمان و اطاعت کی ضرورت ہے اگرچہ یہ عقلی دلائل بہت عام ہیں مگر کفر اور گناہ عقل کو اندھا کردیتے ہیں لہٰذایہ بھی اطاعت شعارہی سمجھ سکتے ہیں ۔ جو لوگ حیات دنیاہی کو مقصد اور منزل سمجھ بیٹھے ہیں اسی پر خوش بھی ہیں وہ بھی تو انقلابات زمانہ دیکھ رہے ہیں مگر عبرت حاصل نہیں کرتے بلکہ انھیں ہماری بارگاہ میں حاضری اور جوابدہی کی کوئی امید ہی نہیں رہی اور بےشماردلائل سے بھی انھیں کوئی اثر نہیں ہوتا نہ ہی کتاب اللہ یا اللہ کے رسول ﷺ کی دعوت ان پر اثرکوتی ہے ۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے کہ ان کرتوتوں کا نتیجہ یہی مناسب ہے اور جو خوش نصیب نور ایمان حاصل کرلیتے ہیں اور دنیا میں ان کا ایمان اور آخرت پہ یقین انھیں عمل صالح یعنی اللہ کی اطاعت پہ مجبور کرتا ہے تو آخرت میں رب کریم اسی ایمان کے ذریعے مقامات قرب کی طرف رہنمائی فرمائیں گے یعنی ایمان کا وصف دنیا میں یہ ہے کہ اعمال صالح کی طرف لے جانے اور آخرت میں اللہ کی رضا اور اس کی جنت کی طرف جہاں ہمیشہ شادابی وسرسبزی ہے اور باغ اور پھل ہیں بےمثالبھی اور ابدی اور دائمی بھی جہاں ان کی گفتگو بھی یہی ہوگی کہ اللہ کی پاکی بیان کرتے رہیں ، ہر آن اتنی نعمتیں نچھا ورہوں گی کہ ہر طرف سے سبحان اللہ ہی کی صدائیں گونجیں گی اور کبھی کسی سے رنجیدہ ہونے کا بھی کوئی موقع نہ آئے گا بلکہ ہر ایک کو پیار و محبت نصیب ہوں گے اور سلام اور سلامتی ہی کے تحفے ایک دوسرے پر نچھ اور کریں گے ۔ ان کی مجالس اور باتوں کا خاتمہ بھی اللہ ہی تعریف کرنے پہ ہوگا جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے ۔ دنیا ہو یا آخرت سب جہانوں کی ہر نعمت ولذت اسی کی عطاکردہ ہے۔
Ayahs 10:11–20

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور اگر اللہ لوگوں کے نقصان میں جلدی فرماتا جس طرح وہ بھلائی کی طلب میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی اجل (عمر کی میعاد) پوری ہوچکی ہوتی سو جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے ہم ان کو چھوڑے رکھتے ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور جب انسان پر کوئی تکلیف آتی ہے تو لیٹا یا بیٹھا یا کھڑا (ہرحال میں) ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اس کی تکلیف کو اس سے دور کردیتے ہیں تو وہ ایسے چلا جاتا ہے جیسے اس نے کسی تکلیف کے پہنچنے پر ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کے اعمال انہیں بھلے محسوس ہوتے ہیں

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے تم سے پہلے بہت گروہوں کو ہلاک کردیا ہے جبکہ انہوں نے ظلم کیا حالانکہ ان کے پاس ان کے پیغمبر دلائل لے کر آئے اور وہ ہرگز ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگاروں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر ان لوگوں کے بعد ہم نے تم لوگوں کو ملک میں جانشین بنایا تاکہ دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں جو بالکل صاف صاف ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا قرآن لائیے یا (کم از کم) اس میں کچھ تبدیلی کردیجئے۔ فرما دیجئے کہ میرے بس میں نہیں کہ اسے اپنی طرف سے بدل دوں میں صرف اسی کا اتباع کروں گا جو میرے پاس وحی کے ذریعے پہنچا ہے اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو یقینا مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب کا اندیشہ ہے

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

فرما دیجئے اگر اللہ کو منظور ہوتا تو میں نہ تو تمہیں یہ (قرآن) پڑھ کر سناتا اور نہ ہی تمہیں اس کے بارے میں خبر دیتا۔ پس بیشک اس سے پہلے میں تم میں عمر کا ایک بڑا حصہ بسر کرچکا ہوں پھر کیا تم اتنی عقل نہیں رکھتے ؟

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

پھر اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ بیشک ایسے گنہگار چھٹکارا نہ پائیں گے

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگارہی سکتی ہیں اور نہ بھلا کرسکتی ہیں اور کہتے ہیں یہ اللہ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ فرمائیے کہ تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جس کا وجود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک سے بہت بلند ہے

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور سب لوگ ایک ہی طریقے کے تھے پھر انہوں نے اختلاف کیا اور اگر ایک بات جو آپ کے پروردگار کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے نہ ہوتی تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں ان کا فیصلہ (دنیا میں ہی) کردیا جاتا

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی معجزہ نازل کیوں نہیں ہوتا ؟ سو فرمادیجئے کہ بیشک غیب کی خبر صرف اللہ کو ہے سو تم بھی انتظار کرو بیشک میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں

آیات 11 تا 20 اسرار و معارف انسان بھی بہت عجیب سوچ رکھتا ہے بھلایہ بھی کوئی معیار ہے کہ کفار کہہ دیں جب ہم دین قبول نہیں کر رہے تو ہم پر فورا عذاب کیوں نہیں آجاتا۔ اگر اس طرح سے بات بات پر گرفت ہوتی تو انسان ختم ہوچکے ہوتے اور دوسرا اثر اس کا یہ ہوتا کہ انسانی پسنددناپسند کا موقع کون ساباقی رہتا ظاہر ہے یا فورا ایمان لے آتے یا ہلاک ہوجاتے اور اللہ تو قادر ہے جس طرح مانگے بےمانگے بےحساب نعمتیں عطافرمارہا ہے۔ زندگی طاقت دولت اقتدار ہر شے دے رہا ہے چاہے تو آن واحد میں چھین بھی سکتا ہے لیکن اگر ایسا ہونے لگے تو انسان کے لئے اختیار آزمانے کا موقع نہ رہے گا لہٰذا انسان کو پہلے سے طے شدہ وقت تک فرصت ضرور ملتی ہے لیکن کفر اور انکار پر عذاب سے بچ تو نہیں سکتا بلکہ جو لوگ آخرت کا انکار کردیتے ہیں وہ دن بدن برائی اور دوری میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں اور یہ بھی عذاب ہی کی ایک صورت ہے ۔ کبھی کافر کی دعا بھی قبول ہوتی ہے اور کافر بلا جواز انکار پر جمے ہوئے ہیں ۔ ایک لمحہ ہر انسان پہ ایسا آتا ہے جب وہ ہر طرف سے مایوس ہوجاتا ہے ۔ کبھی کسی بیماری میں مبتلا ہو کر اور کبھی کسی مصیبت کے شکنجے میں اور پھر جس حال میں ہو ، کھڑابیٹھا یا گراپڑہو۔ ایک غالب اور قادرہستی کو ضرورپکار تا ہے اسکے مزاج میں ہے کہ ایک ہستی ایسی ہے جو غائبانہ پکار بھی سن سکتی ہے میرے حال سے واقف بھی اور اسے بدلنے پر قادر بھی اور وہ تو ہم ہی ہیں پھر اکثراوقات ہم بندوں کی تکالیف دور کردیتے ہیں ۔ یعنی کافر کی دعا بھی قبول ہوجاتی ہے اور اس سے مصیبت ٹال دی جاتی ہے ۔ لیکن کفر کی مصیبت یہ ہے کہ شکر کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا بلکہ جان چھوٹی تو اس ہستی ہی کو بھول گئے اور مختلف ظاہری اسباب کا نتیجہ اور اپناکمال سمجھ بیٹھتے ہیں ۔ یہ بھی اللہ کی طرف سے بہت بڑی سزا ہے ۔ اگرچہ وہ اپنے شان کریمی سے دعاضرورقبول کرتا ہے اور جب بھی کوئی آدمی ہر طرف سے مایوس ہو کر صرف اسی کو پکارے تو اس کی شان سے بعید ہے کہ اس کی دست گیری نہ کرے خواہ ایسا کرنے والا کافر ہی کیوں نہ ہو۔ تو ثابت ہوا کہ دعا محض خانہ پری نہیں ہونی چاہیئے بلکہ دل کی گہرائی سے اس یقین کے ساتھ مانگی جائے کہ سوائے اس ذات کے کوئی دوسرا اس قابل ہی نہیں جس کے آگے دست سوال دراز کیا جائے تو ضرور قبول ہوتی ہے اور مومن کی دعاتو کبھی رد نہیں ہوتی جبکہ ہر طرف سے مایوس ہوکرمانگنے والا کافر بھی ہو تو اس کی دعا سن لی جاتی ہے ۔ مگر کافر کو دعا کے بعد بھی اللہ کا احسان یاد نہیں رہتا اور وہ شکر کرنے کی بجائے اور اکڑدکھاتا ہے اور یہ اکڑدکھانا ہی اسے بہت بھاتا ہے وہ خوش ہوتا ہے کہ میں ٹھیک کررہا ہوں ۔ یہ اس کے کفر باعث اسے سزاملتی ہے کہ غلط کام کو درست سمجھنے لگتا ہے اور بالآ خرتباہ ہوجاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کے باعث کتنی اقوام ہلاکت و بربادی کے گڑھے میں گئیں ان کے نشان تک مٹ گئے اور یہ سب کچھ فورا نہیں ہوا ان کے پاس بھی انبیا تشریف لائے اور انھیں روزروشن کی مانند واضح ثبوت اور دلا ئل پیش کئے مگر وہ نہ مانے اور ظلم و زیادتی پہ کمربستہ رہے تو آخر تباہ کردیئے گئے کہ اللہ کی طرف سے بدکاروں کو یہی سزا ملتی ہے۔ تم بھی تو اے لوگو ! یقینا انہی کے بعد زمین پر وارد ہوئے ہو اور انہی کے جانشین ہو تو تم پر بھی وہی قانون لاگوہوناعین عقل کا تقاضا ہے لہٰذا ایسا ہی ہوگا تمہارے کردار اور تمہارے اعمال کو دیکھا اور پر کھاجائے گا کہ تم کس سمت سفر کرتے ہو اور جس طرف عملی طور پر بڑھو گے اسی انجام کو پالوگے۔ قرآن اللہ کا کلام ہے انسان اس میں کمی بیشی نہیں کرسکتا اب کفار کا حال دیکھو کہ اللہ کی عظمت اور اس کے سامنے جوابدہی سے انکار نے ان کی عقلوں کو اندھا کردیا ہے اور یہ اللہ کے کلام کی حیثیت ہی کو سمجھنے میں کامیاب نہیں ہوپا رہے بلکہ کہتے ہیں اسے تبدیل کیا جائے اور یا اس کی جگہ دوسرا قرآن لایاجائے جس میں ہمارے رواجات اور ہمارے اجداد کی تردید نہ کی گئی ہو۔ بھلاصدیوں کی رسومات کو ہم کیونکر غلط ماننے لگیں جبکہ ہمارے باپ دادا بھی انہی پر عمل کرتے تھے گویا انھوں نے کتاب اللہ کو آپ ﷺ کی تصنیف سمجھ رکھا ہے ۔ انھیں بتادیجئے کہ اپنی ساری شان و شوکت اور نبوت و رسالت بلکہ جو قرآن فرماتا ہے جو حکم وحی الہی سے آتا ہے میں اپنی پوری کوشش اور پورے خلوص کے ساتھ اس کی اطاعت کرتا ہوں۔ شیعہ کا دعوے عقلابھی محال ہے یاد رہے جس طرح قرآن کے الفاظ میں تبدیل جائز نہیں اسی طرح اس کے معانی تبدیل کرنا بھی تحریف قرآن ہی کا ایک انداز ہے لہٰذا معنی وتشریح سنت اور حدیث کے مطابق جائز ہوگی اور یہ ممکن ہی نہیں بلکہ محال عقلی بھی ہے کہ جن حضرات نے یہ آیات خود نبی کریم ﷺ سے سنی تھیں ان کے سامنے قرآن کی عبارت تبدیل کردی گئی اور وہ تبدیل شدہ کتاب پر راضی ہوگئے ۔ حالا ن کہ چودہ سو سال بعد تک پھر اس میں کوئی حرف تو کیا زیر برتک تبدیل نہ ہوسکی ۔ لہٰذا قرآن میں تبدیلی جائز بھی نہیں اور الفاظ کا بدلنا ممکن بھی نہیں ہاں ! جو لوگ معنی اپنی مرضی کا پہنا کر بعض فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں انھیں بھی یوم حساب کی شدید گرفت سے ڈرنا اور توبہ کرنا ضروری ہے ۔ ورنہ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں اگر میں بھی ایسا کروں تو یہ میرے رب کی نافرمانی ہوگی جس کا نتیجہ آخرت کا اور حشر کے دن کا عذاب ہے اور میں اس سے ڈرتا ہوں ۔ اگرچہ آپ ﷺ کا ایسا کرنا ناممکن تھا مگر ایسا کرنے والوں کو یہ یقین بھی کرلینا ضروری ہے کہ کوئی بھی اس کی سزا سے نہ بچ سکے جو اللہ سے دوری دنیا میں تباہی اور آخرت میں ہلاکت ہے۔ نبوت اور وحی کی صداقت کی سب سے بڑی عقلی دلیل قبل لعثبت کی عمر شریف ہے فرمایا میرے حبیب ! ان سے فرمائیے کہ میں تم میں کہیں سے اچانک نہیں آیا ہوں بلکہ چالیس برس کا طویل عرصہ بچپن لڑکپن اور جوانی تم لوگوں میں بسر کی ہے کہا کبھی کوئی ایسی بات یا ایسا کام یا ایسا دعوی میں نے پہلے بھی کیا ہے ؟ یا اس طویل عرصے میں کبھی کسی معاملہ میں غلط بیانی ثابت کرسکتے ہو ؟ یا کسی کاہن یا راہب یا پادری سے کچھ سیکھا ہے ؟ یا کسی طرح کی دولت واقتدار کا لالچ کیا ہے ؟ جب یہ سب کچھ نہیں تو کیا معاذ اللہ اب میں اپنی عمر کے اس پختہ ترحصے میں اللہ پر جھوٹ بولوں گا ؟ ہرگز نہیں ! اگر اللہ کی طرف سے وحی نازل نہ ہوتی تمہیں آیات الٰہیہ سناناتورہا ایک طرف اس موضوع پر تم سے بات تک نہ کرتا ۔ اگر ذرا بھی عقل سے سوچوتویہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے ۔ اور اس کے بعد یہ بھی جان لو کہ اللہ کریم کے ذمہ جھوٹی بات لگانا جو اس نے فرمائی نہ ہو اور اس کے حوالے سے کہنا یا اس کی ارشاد فرمائی ہوئی بات کا انکار کرنا دونوں ہی بہت بڑے ظلم ہیں اور ان کا ارتکاب کرنے والا بہت ہی بڑاظالم اور قانون الٰہی یہ ہے کہ جرم کرنے والا کبھی فائدہ حاصل کرنے والا نہیں ہوتا ۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی بھی شخص کی اہلیت و استعداد پہ سب سے بڑا عقلی گواہ اس کا کردار ہے اور اس کی گزشتہ زندگی ہے ۔ غیر اللہ کی عبادت عقلا بھی درست نہیں ذرا ان کی عقل کا کمال دیکھئے کہ رسالت ونبوت اور وحی الٰہی کے لئے تو عقل دلیل طلب کی جارہی ہے اور دوسری طرف غیر اللہ عبادت میں مصروف ہیں ۔ بھلا یہ کون سی عقلمندی ہے کہ جو خد مخلوق ہے اپنی ذات اور اپنی صفات میں اپنے خالق کی محتاج ہے وہ کسی دوسرے کے لئے کیا سنوار سکتی ہے ؟ یا ایسی ذات کسی کا کیا بگاڑ سکتی ہے ؟ کچھ بھی تو نہیں اور یہ بات عقلا بھی محال ہے کہ اپنے لئے تو کسی اور کا محتاج ہو اور وہی وجود دوسروں کے لئے معبود قرار پائے ۔ یاد رہے کہ نفع کی امید پر یا نقصان کے خوف سے کسی کی اطاعت یا اظہارعجزہی عبادت کہلاتا ہے اور اسباب دنیا کو اللہ کے حکم کے مطابق اختیار کرنا اللہ کی عبادت ہے کہ اطاعت اسی کی ہے مگر اس کی اطاعت کے خلاف اسباب یاذوات پہ بھروسہ ان کی عبادت تصور ہوتا ہے اور جب یہ بات عقلابھی ثابت نہیں کرسکتے تو کہتے میں یہ خود تھوڑے ہی ہماری ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ یہ تو اللہ کی بارگاہ میں ہمارے سفارشی ہیں اور وہاں سے ہمیں نعمتیں دلواتے ہیں ۔ آپ ان سے فرمائے کہ تم لوگ اللہ کریم کو ایسی ہستیوں کا پتہ دیتے ہو جن کا وجود اس کے علم میں ہرگز نہیں یعنی اس کا علم دائمی اور حاضر ہے جو ہوچکا ہے جو ہورہا ہے اور جو ہوگا سب اس کے علم میں حاضر ہے اور تنکے اور ہر ذرے اور ساری کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی شے کو وہ خود جانتا ہے ۔ بھلاجس شے کا وجود عالم میں تو کیا اس کے علم میں بھی نہیں اس کی کیا حیثیت ہے کچھ بھی تو نہیں یہ محض تمہاری گمراہی ہے ۔ اس کی ذات ان تو ہمات سے بہت ہی بلند اور ہر طرح کی کمزوری سے پاک ہے کسی طرح بھی اس کی ذات یا صفات میں کوئی بھی شریک نہیں ہوسکتا اور عقلا بھی عبادت کی مستحق صرف اور اکیلی وہ ذات ہے جو دیتی سب کو ہے مگر کسی سے کچھ لینے کی احتیاج سے پاک ہے۔ انسانوں کی دوجماعتیں یافرقے یاقومیں سارے انسان ایک ہی طریقے پر تھے ایک ہی قوم تھے مگر یہ کفروشرک ہی کی مصیبت تھی جس نے انھیں تقسیم کردیا ۔ گویا انسانی تقسیم رنگ و نسل یا جغرافیائی بنیاد پر درست نہیں مومن جہاں کہیں بھی ہے وہ اسی ایک جماعت کا فرد ہے اور دوسرا فرقہ کافر ہے خواہ کیسا ہو کہیں ہو ” الکفرملۃ واجدۃ “ سارے کا سارا کفر ایک ہی فرقہ ہے ۔ لہٰذا دنیا میں صرف دوقومیں مومن اور کافر اس سے کمتردرجے پر مثلا علاقائی تقسیم انسبی اعتبار سے قوم شمار کرنا محض کسی فرد کی پہچان تو ہوسکتی ہے اس کی قوم نہیں ۔ پنجابی یا پٹھان قوم نہیں قوم مسلمان ہے اور اسی بنیادپر روئے زمین کے مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں ۔ یہ توحید باری پہ اتحادکو چھوڑ کر مختلف عقائد ونظر یات اور کفروشرک پہ جمع ہونا تو بنی آدم کو کب کا تباہ کرچکا ہوتا مگر اللہ نے پہلے سے سب انسانوں کے لئے فرصت ومہلت مقرر فرمادی ہے لہٰذا وقت معین تک ہر کسی کو مہلت دی جاتی ہے ورنہ بات تو فورا بھی طے ہوسکتی تھی اور اب جس کی مہلت تمام ہوتی ہے کم ازکم اسے تو یقینی صورتحال کا پتہ چل جاتا ہے ایک روزسب یکجا بھی دیکھ لیں گے۔ پھر یہ کہہ دیتے ہیں کہ اگر آپ سچے رسول ہیں تو ہمارے طلب کردہ معجزات ان پر کیوں ظاہر نہیں ہوتے تو فرمایئے یہ محض جہالت کی بات ہے اس میں کوئی وزن نہیں اس لئے کہ آپ کی عمر مبارک اور حالات بہت بڑا معجزہ ہیں کہ پورے معاشرے میں ایک بچہ ایک لڑکا اور صرف ایک فرد قبل نبوت بھی ایسا ہو جس کے کردار پر کہیں انگلی نہ رکھی جاسکے پھر قرآن حکیم کتنا بڑا معجزہ ہے جس نے وہ حقائق بیان فرمائے جو صرف اسی کی شان ہے دوسرا کوئی ان پر زبان کھولنے کی جرأت نہ کرتا ۔ علاوہ ازیں دیگر بیشمار معجزات تو کیا انکی وجہ سے تم لوگوں کی ہدایت نصیب ہوئی اگر نہیں ہوسکی اور تم نے ان تمام کو جادو وغیرہ کہہ کر ٹھکر ادیاتو کیا ضروری ہے کہ جو تم کہو وہی معجزہ بھی ظاہر ہوجائے ۔ بظاہرتو اس کی ضرورت نہیں اور یقینی بات کہ ایسا ہو بھی جائے جائے تو کیا خبر کہ اس بات کا تعلق تو غیب کے علوم سے ہے کہ کب کیا ہوگا ؟ اور غیب جاننا اللہ کریم کا وصف ہے لہٰذا انتظار کرو اور دیکھو پر دئہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے ۔ میں بھی تو تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔ لہٰذا خاص کرامات کی طلب شیخ سے مناسب نہیں یہ الگ بات ہے کہ بیشمار کرامات کا ظہور اللہ پاک کی طرف سے ہوتا رہے اور سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ خود بھی آپ ﷺ کی اطاعت پہ کاربند ہو اور جو ساتھ لگے اس کو بھی کاربند کرے۔
Ayahs 10:21–30

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد آرام (کا مزہ) چکھاتے ہیں تو فوراً ہی ہماری آیات کے بارے حیلے کرنے لگتے ہیں فرمادیجئے کہ اللہ سب سے جلد تدبیر کرنیوالے ہیں۔ جو حیلے تم کرتے ہو بیشک ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اسے لکھتے جاتے ہیں

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہی (اللہ) ہے جو تم کو خشکی اور سمندر میں چلنے پھرنے کی توفیق دیتا ہے یہاں تک کہ تم کشتیوں (بحری جہازوں) میں سوار ہوتے ہو اور وہ (کشتیاں) پاکیزہ ہوا کے جھونکوں سے ان کو لے کر چلتی ہیں اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں کہ (ناگہاں) مخالف تیز ہوا چل پڑتی ہے اور ان پر ہر طرف سے موجیں (اٹھ اٹھ کر) آنے لگتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ان (لہروں) میں گھر گئے ہیں اس وقت خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں کہ اگر آپ ہم کو اس سے نجات بخشیں تو ہم ضرور (آپ کے) شکرگزار ہوں گے

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

پھر جب وہ ان کو بچا لیتے ہیں تو فورا ًہی وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو ! بیشک تمہاری سرکشی تمہارے لئے ہی وبال جان ہے۔ تم دنیا کی زندگی کا فائدہ اٹھا لو پھر تمہیں پلٹ کر ہمارے ہی پاس آنا ہے اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

بیشک دنیا کی زندگی کی مثال (بارش کے) پانی کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان (بلندی) سے برسایا پھر اس کے ساتھ مل کر زمین کی نباتات نکلی جس کو انسان اور چوپائے کھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب زمین خوب خوشنما اور آراستہ ہوگئی اور زمین والوں نے سوچا کہ اب ہم اس پر پوری طرح قابو رکھتے ہیں ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے اس کو ایسا صاف کر ڈالا گویا کل یہاں کچھ بھی نہ تھا اسی طرح ہم آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو سوچتے ہیں

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں راہ راست پر چلنے کی توفیق عطا کردیتے ہیں

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے نیکی کی ان کے لئے نیکی (جنت) ہے اور زیادہ (دیدار باری) بھی اور ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت۔ وہی جنت کے رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے برے کام کیے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا اور ان (کے چہروں) پر ذلت چھا جائے گی۔ ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا گویا کہ ان کے چہروں پر اندھیری رات کے ٹکڑے اوڑھا دیئے گئے۔ یہ لوگ دوزخ (میں رہنے) والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر شرک کرنے والوں سے فرمائیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ ٹھہرو پھر ہم ان (عابد ومعبود) میں پھوٹ ڈال دیں گے اور ان کے شرکاء کہیں گے تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

سو ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ کافی ہے کہ ہم کو تمہاری عبادت کی خبر نہ تھی

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

اس جگہ ہر شخص اپنے آگے بھیجے ہوئے (اعمال) کی آزمائش کرے گا اور وہ اپنے سچے مالک اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو انہوں نے جھوٹ تراش رکھے تھے وہ سب ان سے جاتے رہیں گے

آیات 21 تا 30 اسرار و معارف کفر اور نافرمانی سے دل تباہ ہو کر ان کی سوچ الٹ جاتی ہے لہٰذا ایسے لوگوں کو سفر حیات میں جب کبھی تنگی اور تکلیف سے آرام ملتا ہے مشکلات کے بعد جب کسی میدان سے گزرنے کے لمحے آتے ہیں جو سراسر رحمت الٰہی کا مظہرہوتا ہے تو بجائے شکر کرنے کے الٹا اللہ کے دین اور اس کے احکام کو ناکام بنانے کے حیلے سوچنے لگتے ہیں ۔ ان نادانوں کو بتادیجئے کہ تم آخرمخلوق ہو عاجز ہو جس طرح تمہاری ذات محدود ہے ۔ صفات بھی محدود ہیں ۔ سوچ اور فکر تک مخلوق ہے۔ بھلاجس خلاق عالم نے تمام جہانوں کی تدبیر فرمادی ۔ اس کی تدبیر کو تم کیا ردکرسکوگے کہ تم توچندے دنیا میں ہو نہ تھے نہ رہوگے اور اس کی قدرت کاملہ تو ہمیشہ سے تدبیرجہاں کرچکی ہے ہاں ! ایک یہ نتیجہ ہے اور صرف اتناہی اثر ہے کہ جو کچھ تم حیلے حوالے کرتے ہو ، اعمال کے لکھنے والے فرشتے انھیں لکھتے رہتے ہیں اور روز محشروہ خود تمہارے لئے ہی مصیبت کا سبب بنیں گے۔ تمھیں اگر کوئی بھی نقش حیات اس کا پتہ نہیں دے سکتا حالا ن کہ ہر ذرہ اور ہر تنکا اس کی عظمت پہ گواہ ہے توآو ! تمہیں اس سے واقف کرادیں کسی ایسے لمحے کو یاد کرو جب آرام و آسائش میں اچانک موت کا دہشتناک سناٹا تمہارے گرد چھائے اور اس سے بچنے کا کوئی ظاہری سبب نظرنہ آرہا ہو تو تمہیں کسی ایسی ہستی کا خیال آتا ہے جو تمہارے حال سے واقف بھی ہے اور جو بچانے پہ قادر بھی ۔ یقینا تم دل سے کہہ اٹھتے ہو کہ آج بچالے تو زندگی بھر شکر گزار رہیں گے۔ مثلا جیسے تم اپنے کاروباری سفروں میں سمندروں میں سفر کرتے ہو اور موافق ہوا میں مزے لے رہے ہوتے ہو کہ اچانک ہوارخ پھیرلیتی ہے اور اس میں تیزی آنے لگتی ہے حتی کہ سمندر بپھر کرتہہ وبالا ہونے لگتا ہے اور پہاڑوں جیسی موجیں کشتیوں اور جہازوں کو تنکوں کی طرح اٹھا اٹھا کرپٹکنے لگتی ہیں اور تمہیں کسی طرف کوئی ا مید کی کرن نظر نہیں آتی تو تم ایک غائبانہ طاقت کو بےاختیار پکار اٹھتے ہو تمہارے اندر سے آوازآتی ہے کہ اے میرے مالک ! مجھے بچالے ۔ وہی مالک ہی تو اللہ ہے کہ تم کہہ رہے ہوتے ہو آج اس مصیبت سے بچالے کہ یہاں تو قبر بھی نہ بنے گی اور اہل و عیال سے دورمال و دولت سمیت غرق ہوجائیں گے ۔ اگر یہاں سے بچالے تو ہمیشہ تیرا شکر ادا کرتے رہیں گے مگر جب طوفان تھم جاتے ہیں اور اللہ کی قدرت کاملہ تمہیں سلامتی سے کنارے لگا دیتی ہے ۔ گھر اور بچوں میں پہنچتے ہو تو پھر وہ بات بھول کر اللہ کی زمین پر ظلم اور فساد مچاتے ہو ۔ ایمان سے اتکار اور اتباع شریعت سے محرومی کا ہر قدم فسادفی الا رض ہے خواہ وہ کسی صورت میں ہو۔ لیکن اے اولاد آدم علیہ اسلام اچھی طرح جان لو تمہاری کسی برائی سے نہ اللہ کی ذات کا کوئی نقصان ہوتا ہے نہ اس کے نظام میں کوئی رکاوٹ پڑتی ہے بلکہ تمہارے گناہ اور تمہاری نافرمانی کے نتیجے میں خود تم پر ہی تباہی آتی ہے ۔ یہ چندروزہ حیات بھی مختلف مشکلات سے متاثر ہوکردشوار تر ہوجاتی ہے اور یہ تو ہے ہی بہت تھوڑی سی ۔ پھر تم سب کو اللہ ہی کی بارگاہ میں پلٹنا ہے ، لوٹ کر وہیں حاضر ہونا ہے اور وہاں تمہاری ہر چھوٹی بڑی خطا تمہارے سامنے رکھ دی جائے گی کہ یہ تمہارا وہ عمل ہے جو تم نے وارعمل میں کیا ۔ اب یہاں دار جزا ہے لہٰذا اس کا نتیجہ بھگتو۔ دنیا کی زندگی کا نقشہ تو تمہارے روبرو ہے ۔ دیکھتے ہو جب باریش برستی ہیں بہارآتی ہے تو زمین ایک گلستاں بن جاتی ہے اور طرح طرح کے سبزے چارے پھول اور پھل روئے زمین کو ایک وسیع دسترخوان بنا دیتے ہیں اور انسان حیوان سب عیش کرتے ہیں طرح طرح کی نعمتیں کھاتے ہیں اور بیچارے یہ سوچنے لگتے ہیں کہ اب تو موج ہی موج ہے بڑے عیش بن گئے کہ اچانک اللہ کی تقدیر اس پہ جاری ہوتی ہے اور اکثر اوقات فصلیں پکنے سے پہلے درخت پھل لانے سے بیشتر اور سبزہ عمر طبعی کو پانے سے قبل بھی طوفانوں کی نذر ہوجاتے ہیں۔ کسی شب ظلمتوں میں یا کسی دن کے اداس لمحوں میں جب طوفان تھمتا ہے تو ہر چیز تباہ ہوچکی ہوتی ہے ، جیسے کل یہاں کچھ بھی تو نہ تھا یا جیسے کبھی یہ زمین آبادہی نہ تھی۔ انسانی کردار میں تبدیلیاں یہ زندگی کی مثال انسانی کردار کی عکاس بھی ہے کہ اگر دل میں نقص پیدا ہوجائے یعنی اس کا خلوص مجروح ہوجائے تو بڑے سے بڑاصوفی اور صاحب حال بھی یوں تباہ ہو سکتا ہے جیسے اس نے کبھی ایمان بھی قبول نہ کیا ہو۔ لہٰذا بلندی منازل پہ تفاخر کی بجائے تشکر لازم ہے ۔ جن لوگوں کو غور وفکر کی عارت ہو ، جو ہر انسان کو ہونی چاہیئے تو ان کے لئے تو بات بہت واضح انداز میں بیان کردی جاتی ہے ۔ ہاں ! جو بدنصیب فکر فرداہی سے غافل ہوں انھیں کیا فائدہ ہوگا ؟ اللہ کریم نے انسان کو پسند کا اختیار دے کر چھوڑ نہیں دیا حالانکہ اگر ایسا ہوتا تو بھی بالکل درست ہوتا کہ وہ اپنی پسند سے اپنا راستہ بنالیتا اور دنیا میں انقلابات سے سبق حاصل کرکے تخلیقات سے اس کی عظمت کو بھانپ کر اطاعت کا راستہ اختیار کرتا اور اللہ کے عذاب میں گرفتار ہونے سے خود کو بچاتا ۔ اس کے باوجود وہ اتنا کریم ہے کہ انسانوں کو سلامتی کے گھر کی طرف یعنی جنت کی طرف جہاں ہر طرح کی سلامتی ہے بےحدوحساب نعمتیں ہیں ہمیشہ ہے انبیاء مبعوث فرما کر اپنی کتب نازل فرما کر اور آپ ﷺ کی بعثت سے ساری انسانیت کو دعوت عام کردی ۔ اپنی کتاب کو ہمیشہ کے لئے دنیا میں محفوظ رکھنے کا ذمہ لے لیا اور ہمیشہ ایسے لوگ بھی رکھے گا جو محض اللہ کی خاطر اللہ ہی کی طرف دعوت دیتے رہیں گے اور جسے چاہے اسے اس راہ پرچلنے کی توفیق بھی عطا کردیتا ہے اور یہ اللہ کریم کی پسند انسان کے قلبی فیصلے پہ ہوتی ہے جیسا کہ اس نے خود فرمادیا ہے یھدی الیہ ینیب ۔ کہ خلوص دل سے جو ہدایت طلب کرے جس کے اندریہ فیصلہ ہوجائے کہ مجھے اپنے مالک کو پانا ہے تو ان کی پوری پوری رہنمائی بھی فرماتا ہے اور راستے پر چلاتا بھی ہے ۔ یادرکھو نیکی کا بدلہ ہر حال میں تمہارے اعمال سے کئی گنابڑھا کردے گا اور پھر اسے بدلہ اور اجری شمار فرما کر اپنی طرف سے اس پر زیادہ دے گا جس کا تم اندازہ نہیں کرسکتے کہ تمہارے عمل کے بدلے کو بڑھا کر کئی گناکر اعداد و شمار کی گرفت سے بہت بالا ہے اور ان کے چہرے خوشی سے دمک رہے ہوں گے کوئی غم کا سایہ ہوگا نہ پر یشانی کا اثر ۔ ایسے ہی لوگ جنت کے باسی ہیں جو وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہ تو بدکاروں سے بھی کرم کا سلوک کرتا ہے کہ نافرمانوں کو اتنی ہی سزادے گا جس قدران کی نافرمانی پہ بنتی ہوگی لیکن یہ یادرکھو نافرمانی کس کی ہے اس لئے چھوٹا گناہ بھی اس نسبت سے بہت بڑا ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی تو ہے لہٰذاذلت ورسوائی کا اثر کہ کافروں کے چہرے سیاہ کردے گا اور پتہ چل جائے گا کہ اللہ کے سوا اس مصیبت میں کوئی کام نہ آسکے گا نہ کوئی اس عذاب سے بچاسکے گا ۔ ان کا حال یہ ہوجائے گا جیسے انسانی چہرہ تاریک رات کے پردوں سے ڈھانپ دیا گیا ہو یہ روسیاہ دوزخ میں رہیں گے اور ہمیشہ رہیں گے۔ روز محشرتو مشرکین بھی جمع کئے جائیں گے اور ان کے بت بھی اور ارشاد ہوگا اپنی جگہ پر رہو کہ عرصہ محشر میں دنیا کے رشتے تو ختم ہوچکے ہوں گے۔ یقاتو صرف اس ناطے کو ہوگی جو اللہ کے نام پر بنے گا لہٰذا اب نہ تم پجاری رہے نہ یہ تمہارے دیوتا اپنی اپنی جگہ جو ابدہی کے کے لئے رک جاؤگے توبت بھی چلا اٹھیں گے کہ نادانو ! ہمیں تمہاری پوجا اور عبادت سے کیا غرض ؟ ہم تو محض پتھر تھے ہمیں تو یہ شعور بھی نہ تھا کہ دعوت دنیا تو کجاجو تم ہماری پوجا کرتے تھے اس کا پتہ تو چلتا کوئی رنج و راحت کا اثرہوتا مگر کچھ بھی تو نہ تھا ہمارا اللہ خود گواہ ہے کہ ہمیں تمہاری اس حرکت کی خبرتک نہ تھی مالک جانتا ہے جس ہمیں عقل وشعورہی سے بیگانہ رکھا۔ بتوں کے پاس یہ عذرتوہوگا اس کے باوجود دوزخ میں جلنے کا حکم ہوگا کہ مشرکین پر آگ جلانے کا ایندھن بنیں گے ۔ اللہ کے حکم کے خلاف اپنی بات منوانا مگر جو انسان اللہ کے حکم کے خلاف اپنی بات منواتے اور اپنی اطاعت کر واتے ہوں ۔ حکمران ہوں یا سیاستدان پیر ہوں یامولوی اساتذہ ہوں یا والدین کسی کے پاس کوئی معقول عذر بھی نہ ہوگا لہٰذا سب کی ذمہ داری ہے کہ اللہ کی اطاعت پہ چلائیں اور اللہ کی طرف دعوت بھی دیں اور رہنمائی بھی کریں ۔ کہ اس میدان میں ہر کوئی اپنے اعمال کو پالے گا اور ان کی اصلیت سے باخبر ہوجائے گا۔ جو لوگ یہاں کفر اور برائی کو بڑالذیذسمجھ رہے ہیں یا اسے بہت مفید سمجھتے ہیں ، وہاں اچھی طرح جان سکیں گے کہ ان کی حقیقت کیا تھی ۔ کہ اللہ کی گرفت سے تو کوئی بھاگ نہیں سکے گا۔ سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہوگا اور تمام وہ آسرے وہ امیدیں جو اس کی ذات اور احکام کے برخلاف انسانوں نے اپنارکھے ہوں گے ختم ہوجائیں گے۔
Ayahs 10:31–40

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

فرمائیے تم کو آسمان اور زمین سے کون رزق دیتا ہے یا کون مالک ہے (تمہارے) سننے اور دیکھنے کا اور کون ہے جو جاندار چیز کو بےجان سے نکالتا ہے اور بےجان کو جان دار شے سے نکالتا ہے اور کون ہے جو (سب) کاموں کی تدبیر (انتظام) کرتا ہے ؟ پس وہ کہیں گے کہ اللہ۔ سو فرمائیے کیا تم (اس سے) ڈرتے نہیں

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

پس یہی اللہ تو تمہارا برحق پروردگار ہے تو حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے تو کہاں پھرے جاتے ہو

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اسی طرح آپ کے پروردگار کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں سچا ثابت ہوا کو وہ ایمان نہ لائیں گے

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

فرمائیے کیا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو مخلوق کو ابتداء پیدا کرے پھر دوبارہ اسے (قیامت) کو پیدا کردے۔ فرما دیجئے اللہ ہی پہلی بار پیدا فرماتے ہیں پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا فرمائیں گے پھر تم کہاں (حق سے) پھرے جاتے ہو

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

فرمائیے کیا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو حق کی طرف راہنمائی کرے۔ فرمادیجئے اللہ حق کی طرف راہنمائی فرماتے ہیں تو بھلا جو حق کا راستہ دکھاتا ہے وہ زیادہ حق دار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جس کو بغیر بتائے راستے کا پتہ ہی نہ چلے پس تم کو کیا ہوگیا تم کیسے فیصلے کرتے ہو

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور ان میں اکثر لوگ صرف (اپنے) خیالات کی پیروی کرتے ہیں بیشک بےاصل خیالات حق سے کچھ بھی بےنیاز نہیں کرسکتے جو کچھ یہ کر رہے ہیں بیشک اللہ کو سب خبر ہے

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور یہ قرآن اللہ کے سوا کسی کا بنایا ہوا نہیں و لیکن اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتا ہے اور (تم پر) لکھی گئی چیزوں کی تفصیل ہے (اور) اس میں (ذرہ برابر) شبہ نہیں کہ (یہ) پروردگار عالمین کی طرف سے ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ آپ (پیغمبر ﷺ نے اس کو (اپنی طرف سے) بنا لیا ہے فرما دیجئے کہ تم بھی اس طرح کی ایک ہی سورت بنالاؤ اور اللہ کے سوا جن کو بھی بلا سکتے ہو بلا لو اگر تم سچے ہو تو

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

بلکہ جس چیز کے علم پر یہ قابو نہیں پاسکے اس کا انکار کردیا اور ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی نہیں۔ ان سے پہلے لوگوں نے بھی اسی طرح (امور حقہ کو) جھٹلایا تھا سو دیکھو تو ظالموں کا کیسا انجام ہوا

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور ان میں کچھ ایسے ہیں کہ اس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور آپ پروردگار فساد کرنے والوں کو خوب جانتا ہے

آیات 31 تا 40 اسرار و معارف اگر انھیں اب بھی اس بات کی سمجھ نہ آئی ہو تو آپ ان سے پوچھتے کہ ذرایہ بتاؤ ! آسمانوں سے پانی برسا کر کھیتیاں اور پھل کون اگاتا ہے اور ارض وسما کی نعمتوں کو کون پیدا کرتا ہے اور تمہاری خدمت پہ لگا دیتا ہے ۔ یہ ہوا ، یہ فضا ، یہ طرح طرح کے پھل چشمے جانور دورھ گھی اور گوشت یہ تمہاری زندگی کے سامان کون پیدا کرتا ہے ؟ ارے یہ تو خارجی چیزیں ہیں خود تمہارے وجود کے اندر جو نعمتیں رکھی ہیں مثلا حواس ہی کو لے لوتویہ آنکھ کان وغیرہ تمہارے وجود کا حصہ ہونے کے باوجود کس کے قبضہ قدرت میں ہیں کہ جب چاہتا ہے میں روشن کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے یہ کام چھوڑ بیٹھتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر بےجان قطرے سے تمہیں زندہ انسان کس نے بنادیا اور کون ہے جو زندوں کو اس نعمت سے محروم کرکے موت کی اتھا ہ گہرائیوں میں جانے پہ مجبور کردیتا ہے اور یہ سب کچھ محض اچانک نہیں ایک مسلسل پروگرام کے تحت ہورہا ہے۔ زندگی اور موت کا یہ تسلسل انسانی شمار سے باہر ہے ۔ کوئی نہیں جانتا ایک لمحے میں کتنے انسان حیوان پرندے درخت گھاس کے تنکے جڑی بوٹیاں چشمے دریا بادل اور ذرات ریگز ار موت کی آغوش میں چلے گئے صفحہ ہستی سے نابودہوگئے ۔ اور اسی لمحے میں کس قدرنئے تخلیق ہوگئے ۔ توکون ہے جو اس تمام نظام کی تدبیر کرتا ہے چونکہ یہ سب کچھ نہ تو کسی بت سے ہوسکتا ہے کہ وہ تو اپنے حال سے بھی بیخبر ہے اور نہ کسی انسان فرشتے یا جن وغیرہ کے بس کی بات ہے تولا محالہ یہی جواب ہوگا کہ یہ سب تو اللہ ہی کرتا ہے تو فرمائیے تمہیں اس سے حیا نہیں آتی کہ عاجر مخلوق کو اس کے برابر درجہ دیتے ہو اور خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی پوجا کرتے ہو۔ ہاں ! یہی تمہارا پروردگار ہے یعنی پیدا کرنے والا بھی پالنے والا بھی ہر وقت ہر ضرورت پوری کرنے والا بھی اور پھر اپنی نعمتوں کا حساب لینے والا بھی اطاعت پہ انعام اور نافرمانی پہ سزادینے والا بھی کہ یہ امورربیت کا خاصہ ہیں اور یہی حق ہے اور یادرکھو حق کے علاوہ جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ باطل ہوتا ہے اور ناحق یعنی گمراہی کا سامان ہوتا ہے ۔ ایسا کوئی درجہ نہیں کہ آدمی اسلام پہ عمل نہ کرے مگر وہ گمراہی کی طرف بھی نہ جائے اور درمیان میں لٹکتا رہے بلکہ ہر کام اور ہر بات یا تو حق ہوگی اور یا پھر ناحق اور گمراہی ۔ تو اے لوگو ! تم حق کو چھوڑکرکیوں پریشانی کے صحرا میں تباہی کو آوازیں دے رہے ہو۔ لیکن اللہ کے ارشادات کس قدرکھرے اور ثابت ہیں کہ گناہ کا اثر کس قدرشدید ہوتا ہے کہ اتنی واضح اور صاف بات کے باوجود بدکاروں کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ اللہ کریم نے بتا دیا تھا کہ گناہوں کی بھی ایک حد ہے جو اس سے گزرجائے اس کا دل تباہ اور سیاہ ہوکرہدایت کی استعداد ہی کھو بیٹھتا ہے لہٰذا ایسے لوگ ایمان سے مشرف نہ ہوں گے۔ ذرا ان سے پوچھئے ! جن ہستیوں کو تم اللہ کے برابر پکار تے ہو یا اپنی ضرورتیں پورا کرنے والا جانتے ہو کیا ان میں سے کسی نے عدم سے کوئی وجود پیدا کیا یا ان میں یہ قوت ہے کہ فناکے بعد مخلوق کو دوبارہ زندہ کریں ؟ ہرگز نہیں ! کہ وہ تو خود کسی کے پیدا کردہ اور موت کا شکار ہیں اور پھر اٹھ کر اس کی بارگاہ میں جواب دہی کے لئے حاضر ہونے والے ہیں ہاں ! یہ سن لو کہ اللہ نے مخلوق کو عدم سے پیدا بھی فرمایا ہے انھیں موت بھی دیتا ہے اور سب کو پھر سے زندہ بھی کرے گا تم بھلا کہاں خاک چھانتے پھر تے ہو۔ کیا تمہارے باطل خیال کے مطابق جو مفروضہ الٰہ ہیں وہ کسی کی صحیح رہنمائی کرسکتے ہیں کہ راہ حیات میں اس کی دستگیری فرما کر اسے بہتر انجام پر پہنچنے کی راہ تباسکیں ۔ ہرگز نہیں بلکہ یہ صرف اللہ کی ذات ہے جو آنے والے امور غبیہ پر بھی انسانوں کو آگاہ فرما کر مصیبت سے بچنے اور راحت کو پانے کا طریقہ بتاتا ہے اور صحیح صحیح راہنمائی فرماتا ہے تو ذرا غورکرو ! کیا اس کی اطاعت کی جائے گی جو رہنمائی فرماتا ہے یا ان بتوں کے پیچھے چلنا چاہیئے جو راہنمائی تو کیا کریں گے خودانھیں بھی اٹھا کرلے جانا پڑے ؟ یوں تو بڑے دانا بنتے ہویہاں تمہاری عقلیں کیا ہو میں اور تم کیسے عجیب فیصلے کرتے ہو کہ اللہ کو چھوڑکرتبوں کی پر ستش میں لگے ہو۔ حق یہ ہے کہ مشرکین محض اوہام کی زنجیر میں بندھے ہوئے ہیں اور محض گمان کے پیچھے چلتے ہیں ۔ لیکن وہم اور گمان انسان کو حق سے بےنیاز تو نہیں کرسکتے وہ نتائج تو پیدا نہیں کرتے جو حق سے پیدا ہوتے ہیں ۔ اور اللہ کریم تو ان کے سب اعمال سے ذاتی طور پر واقف ہیں اور سب جانتے ہیں ۔ اعجاز القرآن یہ کتاب ایسی کتاب نہیں کہ اللہ کے علاوہ کسی اور نے تصنیف کردی ہو اور اللہ کے نام پر لگادی ہو۔ یہ عقلا محال ہے ، اس لئے کہ اس نے تاریخ کے اس دور کو بھی موضوع بحث بنایا ہے جس کے حالات کا آج کے انسان تک صحیح حالت میں پہنچنا ممکن ہی نہ تھا نہ کوئی ایسا تحریری تسلسل موجود تھا اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ اللہ کی ذات اس کی صفات اور آخرت حساب وکتاب نیز فرشتوں کے وجود اور اس طرح کے تمام امور غیبیہ میں جو عقائدو نظریات پہلے انبیاء اور پہلی کتابوں میں بیان ہوئے ۔ سرموان سے انحراف نہیں کرتا بلکہ ان تمام حقائق کی تصدیق کرتا ہے حالا ن کہ ماننے والے لوگ اٹھ چکے اور کتابیں مرور زمانہ کی نذرہوکر تبدیل ہوچکیں ۔ حقائق انسانوں کی دسترس دورچلے گئے مگر قرآن حکیم نے بھی ان تمام امور میں اسی ناقابل تبدیل حقیقت کی طرف دعوت دے کر پہلی کتب کی تصدیق بھی کردی ۔ پھر اس نے بہت سے عقلی مضامین پر بحث فرمائی ہے اور کھل کر فرمائی ہے مثلا انسانی تخلیق اور تعمیربدن کے امرحل کو کس خوش اسلوبی سے بیان کیا ۔ اگر عقل سے کام لیا جائے تو اس دور میں یہ سب کچھ بتاناانسان کے بس میں کب تھا ۔ بارشوں کے نظام کی بات کرلوپھلوں کے پکنے کی بحث ہو یا سبزے کے اگنے کی معاشرتی اقدار ہوں یا اخلاقی حدود تعلقات کا پہلوذاتی خاندانی اور گھریلوہویا قومی اور ملکی ہر بات کو کھل کر بیان فرمایا۔ حتٰے کہ بندے اور اس کے خالق کے تعلقات کیسے بنیں گے اور ان میں بگاڑکب اور کہاں شروع ہوتا ہے کیوں شروع ہوتا ہے ؟ اگر ان سب امور کو غوروفکر سے جانچاجائے تو ایسی ناقابل تردید حقیقتیں جن میں کبھی ترمیم واصلاح کی ضرورت بھی پیش نہ آئی ہو۔ یہ صرف اسی ہستی کی شان ہے کہ وہ بیان فرمائے جو تمام جہانوں کے بنانے اور چلانے والی ہے ۔ عقلا بھی ثابت ہے کہ اس میں رائی برابر شبہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ” صدق اللہ العظیم “۔ اور اگر تمہیں ابھی تک شبہ ہو تو ذرا ایک ہی بات اتنی یقینی اتنی کھری اور اتنی خوبصورت کہہ دو ۔ نہ صرف اکیلے بلکہ اللہ کے سوا جس قدرمعبودان باطل تم نے اپنا رکھے ہیں سب کو ساتھ ملاتم پوری کتاب نہ سہی کسی موضوع پہ ایسی بات کہہ دوجوحسن ادب اور معیارصداقت میں کتاب اللہ کے ہم پلہ ہو تو پتہ چل سکے گا کہ یہ بات انسان کے بس میں ہے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ یہ کتاب بھی انسانی کوشش ہو۔ لیکن ایسا ہرگز ممکن نہیں جو پھر ایک بہت بڑی عقلی دلیل ہے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ مگر ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان میں اتنی عقل بھی نہیں اللہ نے تو استعداد بخشی تھی مگر انھوں نے گناہ کرکے اس کو ضائع کردیا یا کمزور کردیا ۔ اب بات ان کی سمجھ سے بالا تر ہے بات تو صحیح بھی ہے اور صحیح مقام پر بھی ہے مگر یہ خود پستیوں میں گرچکے ہیں ۔ لہٰذا انکار کر بیٹھے ہیں یا تو اپنی کمزوری کا اقرار کرتے تو بہ کرتے اور واپس اپنے مقام پر آتے مگر یہ دوسرے راستے پر چل پڑے کہ ہم تو درست ہیں معاذ اللہ یہ کتاب درست نہیں ہے۔ اور یہ بہت خطرناک راستہ ہے کہ اے مخاطب ! ذرا آنکھ اٹھا کر پردئہ تاریخ میں دیکھ کہ ان سے پہلے جن اقوام نے اسی طرح کا انکار کیا اور اس ظلم کے مرتکب ہوئے وہ کس قدربھیانک انجام سے دوچار ہوئے لہٰذا یہ بھی اگر باز نہ آئے تو اسی انجام سے دوچار ہوں گے۔ اللہ کریم جانتا ہے کہ بعض خوش نصیب جو غورکریں گے یقینا نور ایمان سے مشرف ہوں گے اور بعض بدبخت کفر پر ہی قائم رہیں گے اور ایسے فسادی جو کفر پہ رہتے ہیں وہ اللہ کی گرفت سے بچ نہ سکیں گے کہ ان کے حال سے اچھی طرح واقف ہے۔