9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 9:1–6

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

اللہ اور اس کے پیغمبر کی طرف سے ان مشرکوں سے جن سے تم نے معاہدہ کررکھا تھا دست برداری ہے

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

تو تم (مشرکو ! ) زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور یہ کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے والے ہیں

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور اللہ اور اس کے پیغمبر کی طرف سے بڑے حج کے دن لوگوں کے لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ مشرکین سے بیزار ہیں اور اس کا پیغمبر بھی۔ پھر اگر تم توبہ کرلو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر تم نہ مانو (اسلام سے پھر جاؤ) تو جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور کافروں کو درد ناک عذاب کی خبر سنا دیجئے

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

ہاں مگر وہ مشرکین جن سے تم لوگوں نے معاہدہ کیا تھا پھر انہوں نے تمہارے ساتھ ذرا کمی نہیں کی اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی تو جس مدت کے لئے ان سے معاہدہ تھا اسے پورا کرو۔ بیشک اللہ پرہیزگاروں سے محبت رکھتے ہیں

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

پس جب حرمت کے مہینے گزر جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو اور ان کو پکڑ لو اور ان کو گھیر لو اور ہر گھات کے موقعوں پر انکی تاک میں بیٹھو۔ پھر اگر وہ (کفر سے) توبہ کرلیں اور نماز ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃدینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو ۔ بیشک اللہ بہت بخشنے والے بڑے رحم کرنے والے ہیں

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر مشرکوں میں سے کوئی آپ کی پناہ مانگے پناہ مانگے تو آپ اس کو پناہ دیجئے یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے پھر اس کو اس کی امن کی جگہ پہنچا دیں یہ (حکم) اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ پوری خبر نہیں رکھتے

سورة التوبۃ اسے سورة برات بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں کفار سے برائت کے احکام نازل ہوئے اور قبول تو بہ کی بشارت کے باعث توبہ کہلاتی ہے ۔ اس میں عجیب بات یہ ہے کہ اس کے شروعی میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھا جاتا ۔ دراصل کسی بھی سورة کی مختلف آیات جب نازل ہوتیں تو بذریعہ وحی ان کا مقام بھی بتادیا جاتا چناچہ آپ ﷺ کاتنان وحی کو انھیں وہاں درج کرنے ارشاد فرماتے اور جب کوئی نئی سورة نازل ہوتی تو اس سے پہلے بسم اللہ لکھنے کا ارشاد ہوتا ۔ یہ مدنی اور آخری سورتوں میں سے ہے مگر جب نازل ہوئی تو بسم اللہ لکھنے کا حکم نازل نہ ہوا نہ ہی کاتبان وحی کو کچھ فرمایا گیا اور یہ اسی طرح بغیر بسم اللہ کے لکھ دی گئی۔ جب حضرت عثمان ؓ کے عہد میں تدوین قرآن کا کام ہوا تو سوال پیدا ہوا کہ اسے کہاں رکھا جائے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ الگ سورت نہ ہو پہلے نازل ہونے والی سورت کا حصہ ہو تو آپ ؓ نے فرمایا کہ اسے انفال کے ساتھ ہی رکھو ، احتیاط کا تقاضایہی ہے کہ نہ اس میں بسم اللہ لکھنے کا ارشاد ہوا نہ یہ اشارہ ملتا ہے کہ واقعی یہ انفال کا حصہ ہے اگر چہ آپ ﷺ نے انفال کے متصل بعد اسے درج کروادیا ہے ۔ اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر کوئی مسلسل تلاوت کررہا ہو یا سورة انفال پڑھتا آرہا ہو تو بسم اللہ نہ پڑھے اور پڑھتا چلاجائے لیکن اگر کوئی اسی سورة سے شروع کرے یا اس کے درمیان سے شروع کرے تو وہ بسم اللہ سے ہی شروع کرے گا اور دوسرے جملے جو بعض نسخوں میں درج ہیں جیسے ، اعوذ باللہ من النارومن غضب الجبار وغیرہ تو ان کا کوئی ثبوت نہیں حضرت علی ؓ کی روایت ہے کہ چونکہ کفار سے معاہدے ختم کرنے کا حکم تھا اس لئے بسم اللہ نہ لکھی گئی تو یہ ایک نکتہ اور لطیفہ ہے کہ تکوینی طور پر ایسے اسباب پیدا کردیئے گئے بظاہر یہ وجہ ارشاد نہیں فرمائی گئی ۔ آیا ت 1 تا 6 اسرار و معارف سورۃ توبہ کے نزول سے پہلے مشرکین مکہ اور دیگر عرب قبائل سے معاہدات صلح تھے مگر ہر مرتبہ کفار نے ہی عہد شکنی کی جب تک موقع یا طاقت نہ پاتے معاہدے کا احترام کرتے مگر جیسے ہی طاقت پاتے تو عہد شکنی کے مرتکب ہوتے 6؁ھجری میں حدیلبیہ ہوئی جو دس سال کے لیے تھی جس کے شرائط وواقعات معروف ہیں 7 ھجری؁ میں آپ ﷺ نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سمیت عمرہ ادا فرمایا مگر اس کے چندماہ بعد اہل مکہ نے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور بنوخزاعہ کے خلاف بنوبکر کو قتل و غارت میں مددی بنوخذاعہ مسلمانوں کے حلیف تھے۔ اور یہ کھلم کھلا معاہدے کی خلاف ورزی تھی چناچہ آپ ﷺ نے جہاد کی تیاری کا حکم دی اگر چہ اہل مکہ نے ابوسفیان کو تجدید عہد کے لیے مدینہ بھیجا کیونکہ کفار بدرواحد اور خندق میں مسلمانوں کے ساتھ تایئدغیبی کا مشاہدہ کرچکے تھے مگر ابوسفیان کی ساری کوشش کے باوجود تجدید معاہدہ نہ ہوسکی اور آپ ﷺ نے 10 رمضان المبارک 8 ھجری؁ کو مدینہ منورہ سے کوچ فرمایا اور مکہ مکرمہ فتح ہوگیا۔ قبل ازیں یہود مدینہ نے غزوئہ احزاب میں معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی ۔ اسی سال یعنی 8 ھجری؁ میں غزوئہ حنین ہوا پھر رجب 9 ھجری؁ میں غزوئہ بتوک پیش آیا اور بالآ خرذی الحجہ 9؁ ھجری میں تمام قبائل عرب سے معاہدے ختم کردینے کا حکم نازل ہوا کہ دراصل جزیرہ تمائے عرب کو اسلامی ریاست اور اسلام کا قلعہ بنانا مقصود تھا اگر چہ کفار کی مسلسل بدعہدی بھی ایک وجہ تھی مگر اسلام کا مزاج حاکمانہ ہے اس لیے کہ یہ اللہ کا حکم ہے ، لہٰذ امحکوم ہو کر رہنا اس کے مزاج کے خلاف ہے۔ اسلامی ریاست سرزمین عرب کو اس کی اساسی ریاست قرار دیا گیا اور تمام کفار سے صلح کے معاہدے ختم کرکے انھیں اختیار دیا گیا کہ وہ اسلام قبول کرکے اسلامی ریاست کے قیام میں شریک ہوں یا پھر مکہ مکرمہ سے چلے جائیں اور کہیں اور جاکر آباد ہوں ورنہ ان کے ساتھ جنگ کی جائے گی اور اس میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی گئی بلکہ مہلت دی گئی اور سب سے پہلے حج کے عظیم اجتماع میں حضرت ابو بکرصدیق اور حضرت علی ؓ عنھما کو روانہ فرمایا گیا کہ اعلان عام ہوجائے اور تمام عرب قبائل میں بات پہنچ جائے پھر یمن میں بھی حضرت علی ؓ کو بھیجا گیا کہ اعلان کردیں ایسانہ ہو کہ کسی تک خبر نہ پہنچے لہٰذا اسلامی ریاست کے قیام اور اسلامی حکومت کے لیے بھرپور کوشش آج بھی دین کا اہم فریضہ ہے محض گوشتہ نشینی اور ملکی سیاسیات سے کنارہ کشی جائز نہیں ۔ حج اکبر حج اکبر سے مراد مفسرین کرام کے نزدیک ہر سال کا حج ہے کیونکہ عمرہ کو حج اصغر کہا گیا ہے اس لتے حج کو حج اکبر کہہ دیا گیا اور اس سے حج کے پانچوں دن مراد ہیں یہ جو مشہور ہے کہ جمعہ کے روز یوم عرفہ ہو تو حج اکبر ہوتا ہے اس کی کوئی اصل نہیں یہ ضرور ہے کہ جب آپ ﷺ نے حجۃ الوداع ادا فرمایا تو عرفہ کے روز جمعہ تھا یہ ایک سعادت ضرور ہے مگر جس روز معاہدات کے ختم کا اعلان ہوا وہ 9 ھجری؁ کا یوم عرفہ تھا جو جمعہ کا دن تھا مگر اسے یوم حج اکبر فرمایا گیا۔ ایام حج میں عمرہ کرنا جائز نہیں ہاں ! مسئلہ احکام القرآن میں مذکور ہے کہ ان پانچ دنوں کرنا درست نہ ہوگا ۔ اب آیئے اعلان برأت کی طرف تو ارشاد ہو ا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے ان مشرکوں سے معاہدات تھے دست برداری کا اعلان کیا جاتا ہے اور ظاہر ہے جب معاہدات بھی منسوخ کئے جا رہے ہیں تو جن سے کوئی معاہدہ ہی نہیں وہ بدرجہ اولیٰ یہ اعلان سن لیں کہ اول تو مشرکین مکہ جنہوں نے خود عہد کو توڑا اور یہی عمل فتح مکہ کا باعث ہوا وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں مگر اسلام ان سے بھی حسن سلوک کرتے ہوئے انھیں چار ماہ کی مہلت بخشا ہے کہ یہ حرمت والے مہینے تھے ۔ اللہ کریم نے فرمایا ان کا احترام بھی باقی رکھا جائے اور کفار کو فیصلہ کرنے کی مہلت بھی دی جائے نیز اگر وہ اسلامی ریاست سے کہیں جانا چاہیں تو انھیں فرصت دی جائے اور یہ بتادیا جائے کہ تم چار ماہ اگرچہ آرام سے چل پھر سکتے ہو مگر امن کی راہ ایک ہی ہے کہ اللہ کی اطاعت کرلو ورنہ اپنی ساری ریشہ دوانیوں سمیت تباہ ہوجاؤگے اور قدرت باری تعالیٰ کو عاجزنہ کرسکو گے ۔ نیز یہ تباہی صرف دنیا ہی کی نہ ہوگی بلکہ دنیوی ہلاکت کے بعد آخرت میں بھی تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا ۔ ایفائے عہد دوسرے وہ کفار جن سے معاہدہ تھا اور انھوں نے عہد شکنی نہیں کی نہ مسلمانوں کے مقابلہ صاحب تقویٰ لوگوں کو محبوبرکھتے ہیں یعنی کافر سے بھی ایفائے عہد میں تقویٰ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے اور محض بہانے تلاش کرکے معاہدہ ختم نہ کیا جائے یہ مسلمان کی دیانت کے خلاف ہے جو رب کریم کو ہرگز پسند نہیں ۔ اس آیہ مبارکہ کی رو سے بنی کنانہ کے دوقبیلوں بنی ضمرہ اور بنی مدبع کو مہلت مل گئی جن کے معاہدوں کی میعاد ابھی نوماہ باقی تھی نیز بروقت مطلع کردیا گیا کہ اس کے بعد میعاد بڑھائی نہ جائے گی ۔ تیسرے اور چوتھے وہ لوگ تھے جن کے ساتھ معاہدہ کی مدت مقررنہ تھی یاسرے سے کوئی معاہدہ ہی نہ تھا تو ان کے لیے بھی پہلی دوآیات کا حکم ہی نافذہوا کہ انھیں بھی چار ماہ کی مہلت مل گئی ۔ پھر ارشاد ہو ا کہ جب اشہرحرم گزرجائیں تو کفار ومشرکین میں سے جو لوگ نہ تو کفر سے توبہ کرکے ایمان قبول کریں اور نہ ہی مکہ سے باہر جائیں تو ان سے قتال کیا جائے پوری قوت کے ساتھ بغیر کسی رعایت کے کہ قتال میں نرمی دراصل بزدلی ہوتی ہے لہٰذ انھیں جہاں پاؤ قتل کردیا قید کردو ۔ ان کے راستے روک دو اور ہر جگہ ان پر تاک لگا کر بیٹھو یعنی پوری قوت سے ان سے ٹکراؤلیکن یہ بات یاد رہے کہ مومن کو کسی انسان سے دشمنی نہیں ہے ان کے کافر انہ عقائد اور اعمال سے ہے اگر وہ تو بہ کریں ایمان قبول کرلیں جس کی دلیل یہ ہے کہ نماز ادا کریں اور زکوۃ دیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو کہ بلاشک اللہ کریم بہت بڑی رحمت والا اور بخشنے والا ہے ۔ یہ بات روزوشن کی طرح واضح ہوگئی کہ ظلم کو مٹانے کے لیے ظالموں کی شوکت کو توڑا جائے گا ، اور اس میں کوئی رعایت نہ ہوگی ہاں ظلم سے باز آجائیں تو البتہ معاملہ دوسرا ہوگا ۔ اور ظلم سے بازآنا تو بہ کرنا ہے جس میں اعمال کی اصلاح بدرجہ اولیٰ ہے کہ نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں اگر ایسانہ کریں تو محض دعوائے ایمان کی وجہ سے جنگ بندنہ ہوگی بلکہ فرائض کا منکر اسی سلوک کا مستحق ہوگا۔ توبہ سے مرادا اعمال کی اصلاح ہے جب کچھ لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کیا تو سید نا ابوبکر صدیق ؓ نے اسی آیہ کریمہ سے استدلال فرما کر ان پر فوج کشی کی تھی جسے تمام صحابہ رضوان اللہ علہیم اجمعین نے قبول کیا تھا اور اگر مشرکین میں سے بھی کوئی آپ سے پناہ طلب کرلے کہ وہ اسلام کی حقانیت کے دلائل سے آگاہی حاصل کرے تو اسے نہ صرف پناہ دی جائے بلکہ جب فارغ ہو تو اسے اس کی امن کی جگہ بحفاظت پہنچادیاجائے تا کہ وہ قبول اسلام کے لتے آزادانہ رائے قائم کرسکے ۔ یہ حکم کفار کی اسلام سے عدم واقفیت کی وجہ سے ہے کہ انھیں جاننے کا موقع دیاجائے گا اور یہ صرف اس صورت میں ہوگا وہ دین کو سمجھنے کے لیے آنا چاہے ۔ اگر غرض کوئی اور ہو مثلا تجارت وغیرہ تو مسلمانوں کی صوابدیدپہ ہوگا کہ اجازت دیں یا نہ دیں ۔ کفار کے لئے اسلامی ریاست میں آنے کی صورت نیز جو غیر مسلم اجازت لے کر آتے ، اس کے حالات سے بھی باخبر رہنا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے اور جب میعا د پوری ہو یا کام ختم ہو تو اسے بحفاظت واپس پہنچا دیا جائے اور زائدازضرورت دارالاسلام میں ٹھہرنے کی اجازت نہ دی جائے نہ یہ کہ موجود ہ ریا ستوں کی طرح مشیرہی غیر ملکی کفار کو رکھا جائے اور مسلمانوں پر حکومت کفار کے مشورہ اور امداد سے کی جائے یہ بہت بڑاگنا ہے ۔ ان سات آیات میں کفار کی مختلف اقسام بلحاظ کردار اور تعلقات کے بیان فرما کر سب کے ساتھ سلوک کرنے کے اصول مقرر فرمادیئے اور یہ بات وضاحت سے ارشاد فرمادی کہ اسلامی ریاست کا قیام اور کفار کی ریشہ دوانیوں سے اس کی حفاظت ہی احیائے اسلام کا راستہ ہے اس میں ان لوگوں کے لیے بھی درس عبرت ہے کہ جو بےدین اور بدکار لوگوں کو مسلمانوں پہ مسلط کرنے میں اپنی رائے یا کوشش یا مال سے معاون بنتے ہیں کہ یہ بہت بڑاظلم ہے بلکہ ضروری ہے کہ ہر مسلمانوں پہ مسلط کرنے میں اپنی رائے یا کوشش یا مال سے معاون بنتے ہیں کہ یہ بہت بڑاظلم ہے بلکہ ضروری ہے کہ ہر مسلمان پوری محنت کے ساتھ ریاست اسلامی کے قیام اور بقا کی کوششوں میں حصہ دار بنے جس کا ایک ہی راستہ ہے کہ نہ صرف قیادت بلکہ کفا اور بدکاروں کا ہر طرح کا عمل دخل ختم کردیا جائے ۔
Ayahs 9:7–16

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

ان مشرکوں کا عبداللہ اور اس کے پیغمبر کے نزدیک کیسے (قائم) رہ سکتا ہے مگر جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام (خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے سو جو قائم رہیں تمہارے ساتھ تو تم بھی قائم رہو ان کے ساتھ۔ بیشک اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتے ہیں۔

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

کیسے (ان سے عہد پورا ہوگا) بھلا ؟ اور اگر وہ تم لوگوں پر غلبہ پالیں تو نہ تمہاری قرابت کا لحاظ کریں اور نہ عہد کا یہ تو کو اپنی زبانی باتوں سے خوش کرتے ہیں اور ان کے دل (ان باتوں کو) نہیں مانتے اور ان کے اکثر لوگ نافرمان ہیں

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیات کے عوض تھوڑا سا فائدہ (مال دنیا) حاصل کرتے ہیں سو لوگوں کو اس کی راہ سے روکتے ہیں یقینا اس کا یہ کام بہت ہی برا ہے

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

یہ لوگ کسی مسلمان کے بارے میں نہ قرابت کا لحاظ کریں اور نہ کسی قول وقرار کا اور یہ لوگ بہت ہی زیادتی کرنے والے ہیں

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

سو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔ اور ہم سمجھ دار لوگوں کے لئے احکام کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر وہ لوگ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر طعن کریں تو تم لوگ ان کفر کے پیشواؤں سے خوب لڑو تاکہ یہ (اس سے) باز آجائیں بیشک ان لوگوں کی قسموں کا اعتبار نہیں ہوسکتا ہے

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر کو جلاوطن کرنے کا پکا ارادہ کرلیا اور انہوں نے تم سے پہلے (عہد شکنی کرکے) ابتداء کی۔ کیا تم لوگ ان سے ڈرتے ہو۔ سو اللہ اس بات کا زیادہ حق رکھتے ہیں کہ ان سے ڈرا جائے اگر تم ایمان رکھتے ہو تو

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

ان سے لڑو ، اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں عذابدیں گے اور ان کو ذلیل کریں گے اور تم کو ان پر غلبہ دیں گے اور ایمان والوں کے قلوب کو شفا دیں گے

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور ان کے دلوں کا غصہ نکال دیں گے اور جس پر منظورہوگا اللہ توجہ فرمائیں گے۔ اور اللہ جاننے والے حکمت والے ہیں

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم یونہی چھوڑ دیئے جاؤ گے اور حالانکہ ابھی اللہ نے ایسے لوگوں کو الگ کیا ہی نہیں جن لوگوں نے تم میں سے جہاد کیا اور اللہ اور اس کے پیغمبر اور ایمان والوں کے سوا کسی کو دوست نہ بنایا اور اللہ کو تمہارے تمام کاموں کی خبر ہے

آیات 7 تا 16 اسرار و معارف مشرکین کے وعدوں کا کیا بھر وسہ اور وہ بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک کہ جب انھیں عظمت باری کا احساس ہے نہ عظمت رسالت کا پاس مزاج میں کفر وشرک رچابسا ہوا ہے تو ایسے لوگوں سے خیر کی کیا تو قع کی جاسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے خود بد عہدی کی اور نقصان بھی اٹھایا مسلمانوں نے عہد نبھایا تو فتح دکامرانی سے سرفراز ہوئے سوائے اس جماعت یا ان لوگوں کے جنہوں نے حرم کے نزدیک معاہدہ کیا تھا اگرچہ وہ بھی ابھی تک اسلام کی برکات سے محروم تھے مگر ان سے بھلے تھے کہ انھوں نے عہد نبھایا۔ اچھی بات کی تعریف گویا اچھے عمل کی تعریف کی جانی چاہیئے خواہ وہ کافر سے ظاہر ہوبھلائی بہرحال بھلائی ہوتی ہے اور مومن کے لئے مثالی بن جاتی ہے کہ یہ اچھائی تو کافر نے بھی نہیں چھوڑی بھلامومن کیوں ہاتھ سے جانے دے ۔ یہ دوسری جماعت کے بارے ارشاد ہورہا ہے کہ جب تک وہ خود معاہدہ نہ توڑیں مسلمان بھی اپنا عہد نبھائیں کہ رب جلیل احتیاط کرنے والوں کی پسند فرماتے ہیں ۔ لہٰذا دشمن اور کفار کے معاملہ میں بھی احتیاط کو ملحوظ رکھناہی مومن کو زیبا ہے ۔ کردار کا مدار کیفیات قلب پر ہوتا ہے رہے بد عہدی کرنے والے تو ان سے بھلائی کی امید ہی نہ رکھنی چاہیئے کہ اگر یہ تم لوگوں پر قابوپالیں تو ظلم کے پہاڑ تو ڑیں گے اور نہ کسی قرابت اور رشتے کا لحاظ کریں نہ کسی عہد کا پاس ۔ اس لئے کہ یہ صرف زبانی باتیں کرکے تھیں خوش رکھنے کی سعی کرتے ہیں ۔ ان کے دلوں نے تمہاری حیثیت کو قبول ہی نہیں کیا اور اعمال وکردار کا مدار تو دل کی کیفیات پر ہوتا ہے جب تک قلب درست نہ بڑے بڑے خوش گفتار بھی عملا بد کردارہوتے ہیں ، جیسے ان مشرکین کی اکثریت ہے یہ لوگ محض دنیا کے طالب ہیں اور دنیوی مفاد پر احکام الٰہی کو بچ کھاتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں مصروف رہتے ہیں ۔ دین کو دنیا پر ترجیح دی جائے لہٰذ امومن کو چاہیئے کہ وہ دین کو دنیا پر ترجیح دے اور احکام الٰہیہ کی پابندی کرے جس میں وفائے عہد بھی شامل ہے ورنہ دنیا کی لذات کے لئے دین چھوڑدینا بہت ہی برا فیصلہ ہے اور اسی غلط روش کی وجہ سے نہ انھیں کسی رشتے کا پاس ہے نہ اپنے وعدے کا اور بہت زیادتی کر گزرتے ہیں مگر بحیثیت انسان ان کے بھی انسانی حقوق ہیں ان کا یہ کردار قابل نفرین ہے پر انھیں ملامت نہ کریں کہ قبول اسلام قبل اسلام کے سب گناہوں کو معاف کرادیتا ہے لہٰذ اتم بھی ان کے زمانہ کفر کے اعمال کو معاف کرد و اور بھلا دو اب یہ تمہارے دینی بھائی ہیں لہٰذا ان کے برادرانہ حقوق کا پاس رکھیں ۔ دعوائے ایمان کا ثبوت یہاں اسلامی برادری کے ارکان کی ظاہر کی نشانیاں ارشاد فرمادی گئیں کہ اقرار ایمان کے ساتھ ادائے صلوۃ اور زکوۃ دینے کا اہتمام ہو یعنی عبادات میں بھی کوشاں ہو اور مال کی محبت بھی اللہ کی اطاعت سے نہ روکے تو مسلمان برادری کافرد ہوگا اور وہی حقوق پائے گا ورنہ ان سے محروم رہے گا جیسے منکرین زکوۃ سے جہاد کیا گیا ۔ اللہ کریم جاننے والوں تو بات کھول کر ارشاد فرمادیتے ہیں ۔ اور اگر یہ عہد شکنی کریں اور بد ستور کفر پر قائم رہیں بلکہ اسلام پر طعن وتشنیع کریں تو یہ کسی رعایت کے مستحق نہیں بلکہ یہ لوگ کفر کے پیشوا ہیں اور ان کے ساتھ پوری شدت سے جہاد کرو۔ دین پر طعن اور لفظ امام عہد شکنی کے ساتھ کفار کی عادت بدکا ذکر ہے کہ دین پر طعن کرنے کی اجازت نہ دی جائے اگر کوئی اسلام اور ایمان کا دعویٰ رکھنے والا برائے نام مسلمان بھی یہ جرم کرے گا تو نہ صرف کفر کا مرتکب ہوگا بلکہ مسلمانوں پہ فرض ہے کہ اس کے خلاف جہاد کریں مثلا جیسے آج کے دانشور اور سیاستدان اسلامی حدود کو جو کتاب اللہ میں ارشاد ہوئی ہیں وحشیانہ سزائیں کہہ کرمذاق اڑاتے ہیں ایسا کرنے والے نہ صرف کا فر ہیں بلکہ کفر کے پیشوا ہیں ۔ اور یہاں لفظ امام کی تحقیق بھی سامنے آگئی کہ امامت کوئی منصب شرعی نہیں ہے بلکہ محض پیشوا اور لیڈر کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اگر نیک لوگوں کا پیشواہوگا تو اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوگا جیسے انبیاء کو امام کہا گیا ہے اور اگر بدکاروں یا کفار کا پیشواہوگا تو انہی معنوں میں استعمال ہوگا جیسے ائمۃ الکفر یعنی کفر کے پیشوا یہ نبوت کی طرح کوئی منصب شرعی نہیں جیسا کہ شیعہ عقیدہ ہے اور مذہب شیعہ کی ساری عمارت کا مدار منصب امامت پر ہے جواز روئے قرآن ثابت ہی نہیں ہو پاتی ۔ جنگ اور جہاد میں فرق جنگ مخالفت کو کچلنے اور برباد کرنے کے لئے لڑی جاتی ہے تاکہ پھر وہ کبھی سرنہ اٹھا سکے اسلام چونکہ انسانیت کی بھلائی کا طالب ہے لہٰذا اسلام نے جنگ ارشاد ہوالعلھم ینتھون کہ وہ اعمال بد سے باز آجائیں محض ہوس ملک گیری کے لئے اسی لئے یہاں ارشاد ہو العلھم ینتھوب۔ کہ وہ اعمال بد سے باز آجائیں محض ہوس ملک گیری کے لئے یا دشمن کو تباہ کرنے کے لئے لڑنے کی اجازت نہیں ہاں ! اس حدتک مقابلہ ضرور ہوگا کہ وہ برائی سے رک جائیں اور ظلم و زیادتی کی روش تبدیل کرلیں اس میں یقینا دشمن کی بہتری اور خیر خواہی بھی مطلوب ہے۔ ا (رح) خراج الرسول ﷺ پھر ارشاد ہوا کہ بھلا ایسے لوگوں کے خلاف جہاد نہ کرنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے جنہوں نے نبی کریم ﷺ کو نکال دینے کا منصوبہ بنایا جیسے یہود مدینہ کہ انھوں نے کہا تھا ہم ان لوگوں کو جو معاذ اللہ ذلیل ہیں ، اپنے شہر سے نکال دیں گے مگر اللہ کریم نے ان سے جہاد کا حکم دی اور وہ خود ذلیل ہو کر شہر سے نکالے گئے اسی طرح جو شخص بھی اسلامی ریاست میں نفاذ اسلام کی راہ روکتا ہے یا اسلام کے نظام کے ریاست کی جگہ کسی اور ازم کو لانا چاہتا ہے وہ اخراج الرسول ﷺ کا مرتکب ہے اور اس کے خلاف جہاد کیا جانا ضروری ہے اور فرمایا کہ فساد میں پہل بھی یہی لوگ کرتے ہیں یعنی اتنابڑا جرم کرکے پھر خود ہی فساد کی ابتدا بھی کرتے ہیں اس بھی ان کے خلاف تلوار نہ اٹھائی جائے تو اس کی وجہ صرف ایک رہ جاتی ہے کہ تم ان سے دیتے اور ڈرتے ہو اور یاد رکھو مومن تو صرف اللہ سے ڈرتا ہے اور اللہ ہی کو زیبا ہے کہ اس سے ڈراجائے اللہ کے سوا کسی اور سے یا کفار کی مادی طاقت سے مرعوب ہونا ایمان کے خلاف ہے اور مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا۔ کفار پر عذاب کا طریقہ کفار سے لڑو کہ اللہ کریم ان کو تمہارے ہاتھوں عذاب دیں گے ۔ اب وہ زمانہ نہ رہا کہ ابابیل پتھر بھینکیں اس لئے کہ بعثت محمد یہ (ﷺ ) ! اب خلق خدا کو برائی سے روکنا اور نیکی پہ چلانا یہ تمہاری ذمہ داری ہے جو لوگ ظلم کرتے ہیں اور اللہ کے نبی ﷺ اور اس کے دین کو مٹا نے کی کوشش کرتے ہیں ان کے لئے تمہارے ہاتھ عذاب نازل کرنے کا سبب بنیں گے اب ان پر اور احقاق حق کے لئے باطل کو مٹانے کے لئے میدان جہاد میں اترو اللہ کریم انھیں تمہارے ہاتھوں سزادیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے اور یہ رب جلیل کا وعدہ ہے کہ تمہیں دشمنان دین پر فتح دیں گے تا کہ تمہارے دل ٹھنڈے ہوں اور تمہارے دلوں کا وہ غبار جو ان کی طرف سے مسلسل عہد شکنی کرنے اور دین کی توہین کرنے سے پیدا ہوا تھا دور ہوگا اور تمہیں عزت عظمت اور راحت نصیب ہوگی ۔ لیکن یہ بات یادرکھو جب تک انسان زندہ ہے اس کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا ہے ان سب برائیوں کے بعد بھی اگر کوئی توبہ کرلے تو اسے نہیں روکوگے کہ اللہ کریم جس کی چاہے تو بہ قبول فرمالے وہ خود جاننے والا ہے کہ کس نے کیا جرم کیا اور بہت بڑاحکیم ہے اس کا کرم وسیع ہے لہٰذ جہاد تو یہ سے مانع نہ ہوگا جب بھی کوئی بڑے سے بڑا کافرتوبہ کرے اس کے لئے اسلام درواز ہ کھلاہوگا۔ اور یہ بھی سن لو کہ تم لوگ محض دعوائے ایمان پر ہی نجات نہ پاسکوگے بلکہ یہ دیکھاجائے گا کہ کس نے پوری محنت سے جہاد کیا اور اپنی دلی دوستی صرف اللہ سے اللہ کے رسول ﷺ سے اور ایمانداربندوں سے رکھی ۔ اعزہ و اقارب کی محبت یا دنیا داروں کی دوستی اسے جہاد سے نہ روک سکی تب وہ اللہ کے قرب کا مستحق قرار پائے گا جہاد سے پہلوتہی اور عملی زندگی سے فرار کرنے والوں کا محاسبہ بہت سخت ہوگا کہ اللہ کریم کو تمہارے ہر ہر کام کی خبر ہے کہ کونسا کام کتنی محنت اور خلوص سے کیا جارہا ہے ۔ نیز ایسی دوستی جو دلی بھیدوں کو آشکاراکردے وہ کافر کے ساتھ جائز نہیں اور نہ ہی کوئی مخلص مومن ایسے فعل کا مرتکب ہوسکتا ہے ۔
Ayahs 9:17–24

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکوں کو زیبا نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہوں۔ ان لوگوں کے سب اعمال ضائع گئے اور وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

یقینا اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا اسی کا کام ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور نماز کی پابندی کی اور زکوٰۃ دیتا رہا اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرا سو امید ہے کہ یہ لوگ ہدایت پانے والوں میں ہوں گے

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے کو اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص (کے عمل) کے برابر قرار دے لیا ہے جو کہ اللہ پر ایمان لایا اور آخکرت کے دن پر اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہ لوگ اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہیں اور ظالم (بےانصاف) لوگوں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتے

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کیا اللہ کے نزدیک (ان کے) بہت بڑے درجات ہیں اور وہی لوگ پورے کامیاب ہیں

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور رضامندی کی اور (جنت کے) باغوں میں خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کی نعمت ہوگی

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے بیشک اللہ ہی کے پاس بڑا اجر ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تمہارے (ماں) باپ اور (بہن) بھائی ایمان کے مقابلے میں کفر کو عزیز رکھیں تو ان کو دوست نہ بناؤ اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی رکھے گا تو ایسے ہی لوگ ظالم (نافرمان) ہیں

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے خاندان کے لوگ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس میں مندی ہونے سے تم ڈرتے ہو اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو تمہیں اللہ اور اس کے پیغمبر اور اس (اللہ) کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم بھیج دیں۔ اور اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں فرماتے

آیات 17 تا 24 اسرار و معارف فتح مکہ کے بعد اگر چہ بیت اللہ کو بتوں سے پاک کردیا گیا تھا مگر مشرکین اپنی رسومات تو اپنے ہی طور پر ادا کرتے تھے اور یہ ضروری تھا کہ بیت اللہ کو ان خرافات سے بھی پاک کیا جاتا مگر اس میں رکاوٹ یہ تھی کہ بعض قبائل کے ساتھ مسلمانوں کے معادہ صلح کی مدت باقی تھی اور انھوں نے عہد شکنی بھی نہ کی تھی لہٰذا ایک سال تک مہلت دی گئی اس میں وہ مدت بھی گزرگئی اور کوئی نیا معاہدہ نہ کیا گیا بلکہ 9 ھجری؁ کے حج میں آپ ﷺ نے اعلان کرادیا کہ آئندہ کوئی مشرک بیت اللہ کی حدود میں داخل نہ ہوگا اور نہ کافر انہ رسوم ادا کرسکے گا۔ مشرکین اپنے زعم باطل میں بتوں کی پوجا اور عمارت کی تعمیر یاد دیکھ بھال کو بیت اللہ کی آبادی اور رونق سے تعبیر کرکے اس پر فخر کرتے تھے حتی کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ ہی کی روایت ہے کہ جب حضرت عباس ؓ بدر میں اسیر ہوئے تو انھیں شرک پر قائم رہنے پر عاردلائی گئی تو انھوں نے جواب دیا کہ تم لوگ ہماری برائیاں شمار کرتے ہو مگر یہ نہیں دیکھتے کہ ہم بیت اللہ کو آباد رکھنے کے لئے کتنا اہتمام کیا اور وہاں آنے والوں کی کس قدر خدمت اور دیکھ بھال کرتے ہیں ۔ تو ارشاد ہوا کہ مساجد کی آبادی کا کفار ومشرکین کو کوئی حق نہیں اور جو افعال محض رسومات کے طور پر کئے جاتے ہیں وہ آبادی میں شمار بھی نہیں ہوسکتے کہ اللہ نے ان کے کرنے کا حکم نہیں دیا نہ اللہ کے رسول ﷺ کی سنت ہیں رہی درد دیوار کی تعمیر اور حفاظت وغیرہ تو یہ کام اگر چہ بجائے خود نیک ہے لیکن کافر ومشرک کو تو اس کا بھی کوئی اجرنہ ملے گا کہ نیکی کی بنیاد بھی ایمان ہے اور اللہ کا حکم جان کر کسی کام کو کرنا آخرت میں اجر کا سبب بنتا ہے جو ان کے ہاں مقصود ہے لہٰذا ان کے یہ اعمال بھی ضائع گئے ” یعمروا “ سے مراد ہر طرح کی آبادی اور عبادت کے لئے حاضری ہے اسی لئے ایسی حاضری کو عمرہ کہا جاتا ہے لہٰذا جس شخص کے عقائدواعمال کافرانہ ہوں وہ تو ہمیشہ کے لئے آگ میں جھونکاجائے گا ۔ مساجد عبادت کے لئے ہیں رسومات کے لئے نہیں یہاں یہ بات بھی ثابت ہے کہ ایسے اعمال جن کا ثبوت سنت میں نہیں اور محض رسومات کا درجہ رکھتے ہیں مساجد میں ان کا کرنا سخت منع ہے بلکہ کافروں کی مشابہت ہے آجکل ہر مسجد میں کوئی نہ کوئی نئی رسم دیکھنے میں آتی ہے اس سے احتیاط ضروری ہے ۔ پھر مساجد کی آبادی کا مثبت پہلوارشاد فرمایا کہ مساجد کو آباد کرنا ایماندار لوگوں کا کام ہے جن کا اللہ پر یوم آخرت پر ایمان ہو اور ان کے اعمال ان کے مومن ہونے کی گواہی دیں مثلا وہ نماز قائم کرنے والے ہوں اور زکٰوۃ ادا کرنے والے یعنی اپنا وقت اپنی طاقت اور اپنا مال اللہ کے حکم کے مطابق صرف کرنے والے ہون نیز صرف اللہ سے ڈرنے والے ہوں محض دنیا کے نقصان کے اندیشوں میں مبتلا ہو کر اللہ کی عبادت چھوڑ دینے والے نہ ہو تو ایسے لوگوں سے امید کی جاسکتی ہے کہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے ۔ کافر کو متولی مسجد بنانایا اس کا چندہ یہاں یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ کافر کو مسجد کا متولی بنانا جائز نہیں نہ ہی کفار ومشرکین کا چندہ تعمیر مسجد میں لگانا جائز ہے ۔ ہاں ! اگر کسی کافر ومشرک نے مسجد بنادی یا چندہ دیا تو اس کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ اس کے باعث کوئی نقصان نہ ہو اور وہ مسلمانوں پر احسان نہ حبتلائے یا امور مسجد میں دخل اندازی نہ کرے اور اس کے باو جو دبھی کافر کو ثواب نہ ہوگا ۔ واللہ اعلم ۔ عمارت مسجد عمارت مسجد میں تعمیر ، صفائی حفاظت اور ضروریات کے اہتمام کے ساتھ دینی پڑھنے ، یا تلاوت کرنے عبادت کرنے یا ذکر اللہ کے لئے مساجد میں حاضری جملہ امور شامل ہیں اور تفسیر مظہری کے مطابق ایسے امور جو مسجد میں جائز نہیں ان کاروکنا بھی عمارت مسجد میں شامل ہے مثلا مال دنیا کے لئے لوگوں سے سوال کرنا یا گمشدہ چیزوں کی تلاش کے اعلانات یا خریدو فروخت یا جھگڑا اور شوروشغب اور اسی طرح فضول قسم کے اشعار گانا وغیرہ ذالک من الخرافات ارشاد ہوا کیا تم نے حاجیوں کی خدمت اور مسجد حرام کو آبادرکھنے کی کوششوں کو ایمان باللہ اور آخرت پہ یقین نیز اللہ کی راہ میں جہاد کے ہم پلہ سمجھ لیا ہے ؟ ہرگز نہیں ! جو لوگ مسجدیں آباد کریں بیشک مسجد حرام کی آبادی کا اہتمام کریں اور حاجیوں کو پانی پلانے کا اہتمام کریں وہ ہر گزان لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتے جو عملا جہاد میں شریک ہوتے ہیں۔ عبادات اور جہاد مفسرین کرام کے مطابق مشرکین کی بات کا جواب تو پہلے بھی ارشاد ہوچکا ہے اور اس اگر ایمان نصیب نہ ہو تو اس کی کوئی قدروقیمت نہیں کہ ایمان ہی اعمال کی روح ہے جسے اللہ کریم اور آخرت پر ایمان نصیب ہی نہیں وہ بھلا اللہ کی خوشنودی اور آخرت کے اجر کی امید پر کام کیسے کرسکتا ہے اور جب کسی کام میں یہ دونوں باتیں نہ پائی جائیں تو وہ نیکی نہیں کہلائے گا یعنی ایساعمل جو ابدی اور اخروی زندگی میں نفع پہنچائے ۔ اس کے باوجود بھی قرآن حکیم سے ثابت ہے کہ کافر نیکی بھی بالکل بےاثر نہیں رہتی اسے اس کا بدلہ دنیا کی زندگی میں مل جاتا ہے اور ان مسلمانوں کو تنبیہ فرمادی گئی ہے جو محض عبادات ہی پہ سارا زور صرف کردیتے ہیں اور غلبہ اسلامی کے لئے کوشش نہیں کرتے اگرچہ عبادات بہت فضیلت رکھتی ہیں مگر عبادات ہی کے قیام کے لئے مساجدہی کی آبادی کے لئے جہاد کی ضرورت ہے تا کہ اسلام غالب اور حاکم ہو کر رہے اگر ان کوششوں میں کوئی شریک نہیں تو بیشک وہ عمر عزیز کو مسجد الحرام میں عبادت کرنے اور حاجیوں کی خدمت کرنے میں بسر کردے ہرگز ان لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتا جو میدان جہاد میں دادشجاعت دیتے ہیں یا میدان عمل میں غلبہ اسلام کے لئے کوشش کرتے ہیں ۔ ذکر اللہ اور جہاد حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) نے تفسیر مظہری میں بحث فرمائی ہے کہ عمارت مسجد سے مسجد کے ظاہری انتظامات مراد ہوں تو جہاد کی فضیلت مسلم ہے لیکن عمارت مسجد یا مسجد کی آبادی سے مراد اگر ذکر اللہ ہو تو آپ ﷺ کے ارشاد کے مطابق ذکر اللہ جہاد سے افضل ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھیں ایسا عمل بتلادوں جو تمام اعمال سے بہتر سب سے افضل اور درجات کو بلند کرنے والا اور اللہ کی راہ میں سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہو اور اس سے بھی افضل ہو کہ تم جہاد میں دشمن سے مقابلہ کرو ، اور مارو اور مارے جاؤ ۔ تو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ ضرور فرمائیے تو ارشاد ہوا وہ عمل ذکر اللہ ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ذکر اللہ جہاد سے افضل ہے ۔ یہ جس حدیث کا مفہوم بیان ہوا ہے ۔ یہ مسنداحمد ترمذی اور ابن ماجہ میں مذکور ہے لہٰذا فرماتے ہیں کہ مشرکین کا فخر مسجد میں ذکر اللہ کرنے پر نہ تھا ، ظاہری آبادی مراد تھی لہٰذ جہاد کو افضل قرار دیا گیا ۔ مگر حق یہ ہے کہ ذکر اللہ جس طرح مسجد میں ضروری ہے ویسے ہی جہاد میں کسی کافر طاقت سے مقابلہ ہو تو جم کر لڑو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے رہو۔ قلب سلیم دراصل ذکر کثیر ذکر قلبی ہی ہے اور جب یہ نصیب ہوتا ہے تو دل ہر دھڑکن میں کئی بار اللہ اس کی فضیلت میں کلام نہیں ۔ ذکر لسانی یا عملی عبادات تو فوت بھی ہوسکتی ہیں جیسے غزوہ خندق میں حضور نبی کریم ﷺ کی چار نمازیں فوت ہوئیں مگر قلب اطہر اور وجود عالی کا ذکر تو کسی حال میں منقطع نہ ہوا نیز حالات اور ضرورت کے اعتبار سے اعمال کی فضیلت تبدیل ہوسکتی ہے جیسے اشدضرورت میں سب کچھ چھوڑ کر حتی کہ نماز قضا ہوسکتی ہے مگر جہاد میں سستی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ لیکن ذکر خفی یاقلبی عمل ہی عظیم الشان ہے کہ کوئی بھی مصرو فیت اسے روک نہیں سکتی لہٰذ ایہ سب سے افضل ہے کہ خلوص فی العبادات بھی اسی کا پھل ہے اور خلوص فی الجہاد بھی اسی کا ثمر ۔ اور یہ سب باتیں روز روشن کی طرح واضح ہیں مگر بدکاریا نور ایمان سے محروم لوگوں کو اللہ کریم سمجھنے کی استعداد سے بھی محروم فرمادیتے ہیں اور گناہ سے عقل بھی زنگ آلو د ہوجاتی ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن کے مثالی انسان اور ان کے درجات کا تذکرہ بلاشبہ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا ایمان سے محروم رہنے والوں سے تو ان کا درجہ بہت بلند ہو ہی گیا مگر جن لوگوں نے ایمان قبول کرکے عمارت مسجد اور حاجیوں کی خدمت کافریضہ پورے خلوص سے نبھایا یہ گھروں کو قربان کرکے ہجرت کرنے والے اور اپنے مال اور اپنی جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ان سے بھی بڑھ گئے اور ان مہاجرین ومجاہد ین کا درجہ اللہ کریم کے حضور بہت بڑا ہے اور پورے طور پر کامیابی انہی کو نصیب ہوئی ۔ اللہ کریم انھیں اپنی رحمت کی نوید سناتے ہیں کہ انھوں نے ایمان و عبادات کے ساتھ میدان عمل میں اپنی جان لڑادی اگر تبقا ضائے بشریت کوئی لغزش بھی ہوجائے یا کسی طرح کی کمی رہ جائے تو اللہ کی رحمت اس کا مداواکردے گی نیز انھیں اپنی رضا کی بشارت دیتا ہے اور اپنی جنت ان پر نچھ اور کرتا ہے جس میں بیحد و حساب نعمتیں ہوں گی اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے نہ نعمتوں میں کمی آئے گی اور نہ ان کی مدت قیام کبھی ختم ہوگی ۔ یاد رہے ! قرآن حکیم کے مثالی مسلمان جن کے درجات کا ذکر فرمایا جارہا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں اور وہی لوگ ہمیشہ کے لئے معیار قرار دیئے گئے ہیں ۔ تعلقات کی نوعیت اے ایمان والو ! تمہیں ایسے لوگوں سے کوئی واسطہ نہ رکھنا ہوگا جو اسلام کے مقابلہ میں کفر سے محبت رکھتے ہوں خواہ وہ تمہارے والدین ہوں یا بھائی کہ جسم کا رشتہ محض بقائے نسل اور دنیا کی ضرورت پوری کرنے کا باعث ہے اور ایمان کا رشتہ ہی حقیقی رشتہ ہے جس پر دائمی اور اخروی زندگی کی کامیابی کا مدار ہے ۔ بیشک والدین کے ساتھ محبت حسن سلوک اور ان کی خدمت بہت بڑا کام ہے اسی طرح بھائیوں کے حقوق ہیں لیکن اگر اسلام کی محبت اور ان کی محبت میں ٹکراؤ آجائے یا وہ کفر پر مصر ہوں تو پھر دین کا رشتہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت قائم رہے گی اور ان کا تعلق ختم ہوگا اگر کوئی ا اس کے باوجود بھی ان سے تعلق رکھے گا توبہت بڑا نافرمان شمار ہوگا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عملی طور پر یہ ثابت کردیا کہ جنہوں نے اسلام قبول کیا وہ انھیں محبوب ہوگئے اور جو کبھی محبوب تھے عزیز رشتہ دار بھائی اور بیٹے تھے مگر جب اسلام کے مقابل بدرو احد میں آئے تو ان کی تلواروں کو اپنی تلواروں پہ روکا اور رہتی دنیا تک تعلقات کی نوعیت کی مثال قائم کردی ۔ اللہ کریم ہمیں ان کے مبارک نقوش پاپہ چلنے کی سعادت بخشے ! آمین۔ ایک فیصلہ کن انداز میں ارشاد ہوا کہ سب لوگوں کو بتادیجئے کہ اگر والدین بیٹے بھائی یا بیبیاں یا تمہارے اقارب اور مال و دولت یا وہ کاروبار جس کے بند ہونے کا ڈر ہو یا پسندیدہ مکان تمہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے زیادہ محبوب ہوں یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے میں رکاوٹ بنتے ہوں تو عذاب الٰہی کا انتظار کرو کہ ایسے بدکار لوگ کبھی منزل کو نہیں پاسکتے اپنے نزول کے اعتبار سے آیہ کریمہ کا خطاب ان لوگوں سے ہے ۔ محبت الٰہیہ تمام محبتوں پہ غالب ہونی چاہیے جو باو جود قدرت رکھنے کے محض تعلقات یا مالی نقصان سے ڈرکر ہجرت نہ کریں مگر اس کے عموم میں ہمیشہ کے لئے سب لوگ شامل ہیں اور اس دور میں باوجود طاقت کے اگر کوئی ہجرت نہ کرتا تو مسلمان شمارہی نہ ہوتا تھا آج بھی ایسی سرزمین جہاں فسق وفجور کا غلبہ ہو چھوڑ دینے کا حکم ہے سوائے اس کے کہ آدمی میں ترک وطن کی یا اس سرزمین سے نکلنے کی طاقت ہی نہ ہو۔ طلب زر میں مغرب کا سفر جو لوگ محض دولت کمانے کے لئے مسلمان معاشرہ چھوڑ کرمغرب کے کافر انہ اور انتہائی فحش معاشرے میں جانا پسند کرتے ہیں وہ بہت بڑا گناہ کرتے ہیں اور اکثر عذاب الٰہی کو دنیا میں بھی دیکھ کر ہی مرتے ہیں اور آخرت بھی تباہ کربیٹھتے ہیں ۔ حق یہ ہے کہ بدکاروں سے تعلق ختم کرکے اور ایسے معاشرے کو ترک کرکے نیک لوگوں میں جابسنا آج بھی فرض ہے اور ہمیشہ رہے گا سوائے ان لوگوں کے جو وہاں دینی کام کی غرض سے یاسر کاری فرائض کی ادائیگی کے لئے جائیں وہ بھی ایسے لوگ ہونے چاہیں جو وہاں جاکر اپنا رنگ قائم رکھیں ان کے رنگ میں نہ رنگ جائیں ۔ بلکہ حکم یہ ہے کہ ایسے معاشرے میں پیدا ہونے والا اگر نور ایمان پالے تو ہر طرح کی فطری محبت کو قرآن کرکے عقلی اور شعوری محبت جو وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے قائم کرتا ہے کا دم بھرے اور ایسے لوگوں میں جاب سے جو دین دار ہوں نیز عملی زندگی میں نفاذ اسلام اور ردکفر کے لئے جہاد کرے ورنہ ایمان بچانا مشکل ہوجائیگا ۔ اثرمحبت جس طرح بدکاروں کے ساتھ رہنے سے ایمان خطرے میں پڑجاتا ہے اسی طرح نیکوکاروں اور مشائخ کی صحبت میں اللہ کی محبت نصیب ہوتی ہے امام بیضاوی (رح) اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بہت کم لوگ اس وعید سے مستثنی ہوں گے ورنہ بڑے بڑے عابد وزاہد مال و دولت یا عزیز و اقارب کی محبت میں اسیر جہاد سے بیگانہ ہوچکے ہیں ۔ اگر چہ یہاں محبت عقلی مراد ہے اور فطری جذبات اگرچہ اپنا اثررکھتے ہوں ، مگر ان محبتوں کو اللہ کے راستے میں حائل نہ ہونے دے تو بھی نہ صرف اس وعید سے بچ جائے گا بلکہ لائق ستائش ہے مگر اس محبت کا حقیقی مقام یہ ہے کہ یہی الفت طبیعت اور مزاج پر بھی غالب آجائے اور باقی سب محبتیں ضرور ہوں مگر اس کے تابع ہو کر ۔ شیخ اور صحبت شیخ کی ضرورت صاحب تفسیر مظہری کے مطابق اللہ اور اس کے رسول ﷺ محبت کا یہ درجہ ایک نعمت کبری ہے مگر اس کا حصول انعکاسی طور پر صحبت مشائخ سے ہی ممکن ہے جیسے صحبت رسالت نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یہ نعمت بخشی ان کی صحبت نے تابعین کو عطاکی اور آج تک یہ ثابت ہے جو جذبہ دل صحبت شیخ میں انعکا سی طور پر نصیب ہوتا ہے وہ اس کے بغیر ممکن نہیں ۔ اگر بدکار کی صحبت سے منع فرمایا کہ ایمان اور ہدایت کے لئے خطرہ ہے تو یہی مشائخ کی صحبت اختیار کرنے کی دلیل بھی ہے کہ اس میں ایمان کی لذت وحلاوت نصیب ہوتی ہے اور عقلی وشعوری محبت ترقی کرکے مرتبہ عشق پہ فائزہوتی ہے ۔ اکثرمفسرین نے یہاں یہی مسلک اپنایا ہے اور فرمایا کہ مقام خلہ تک رسائی کے لئے خلیل آسا سب کچھ لٹانا پڑے ۔ نیز فرمایا کہ شریعت وسنت کی حفاظت اس میں رکاوٹ ڈالنے والوں سے مقابلہ اور جہاد ہی اس محبت وسرفروشی کانشان ہیں ۔
Ayahs 9:25–29

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

یقینا اللہ نے بہت مواقع (جگہوں) پر تمہاری مدد فرمائی اور حنین کے دن جب تم کو اپنی کثرت پہ ناز ہوگیا تھا پھر وہ (کثرت) تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین تم پر اپنی فراخی کے باوجود تنگ ہونے لگی پھر تم پیٹھ پھیر کر پھرگئے

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے اپنے پیغمبر اور ایمان والوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور ایسے لشکر اتارے جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے اور کافر لوگوں کو عذاب دیا اور یہی کافروں کی سزا ہے

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر اس کے بعد اللہ جس پر چاہیں مہربانی سے توجہ فرمائیں (توبہ نصیب کریں) اور اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بیشک مشرک ناپاک ہیں سو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں اور اگر تم کو افلاس کا ڈر ہو تو اللہ چاہیں گے تو جلدی ہی تک کو اپنے فضل سے غنی کردیں گے (محتاج نہ رکھیں گے) بیشک اللہ جاننے والے حکمت والے ہیں

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

اہل کتاب سے جو نہ اللہ پر (پورا) ایمان رکھتے ہیں اور نہ آخرت کے دن پر اور نہ اس چیز کو حرام جانتے ہیں جس کو اللہ نے اور اس کے پیغمبر نے حرام کیا ہے اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ، خوب لڑائی کرو یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں

آیات 25 تا 29 اسرار و معارف رہی بات نتائج کی تو اے مسلمانو ! اللہ نے تمہاری بیشمار مواقع پر مدد فرمائی ہے کہ قلت تعداد اور اسباب کی کمی کے باوجود تم فاتح اور غالب رہے یوم حنین ہی کو دیکھ لو ! واقعہ حنین غزوہ حنین بھی 8 ھجری؁ میں فتح مکہ کے بعد وقوع پذیر ہوا اس کا سبب بنوہوازن کا حملہ آور ہونا بنا مقام حنین مکہ مکرمہ سے تقریبا دس میل کے فاصلہ پر طائف کی جانب ہے مکہ مکرمہ کے نواح میں طائف تک بنوہوازن کے مختلف قبائل بکھرے ہوئے تھے اور یہ لوگ جنگجو اور بہادر بھی تھے فتح مکہ کی خبرسن کر ان کے سردار جمع ہوئے اور یہ مشورہ کیا کہ قریش نے ہتھیارڈال دئیے اب مسلمان فوج کا رخ ہماری طرف ہوگا لہٰذ اپیشتر اس کے کہ وہ حملہ آور ہوں ہمیں مسلمانوں پہ حملہ کرکے انھیں کچل دینا چاہیے اس کے لئے انھوں نے اپنے تمام قبائل کو جو مکہ سے طائف تک پھیلے ہوئے تھے جمع کرلیا ۔ طائف بنوثقیف بھی انہی کا ایک قبیلہ تھا مالک بن عوف سردار چنے گئے جو بعد میں بہت مشہور مسلمان جرنیل ثابت ہوئے اس وقت اتنی ہی شدت سے اس طرف لگے ہوئے تھے بنوکعب اور بنوکلاب جو اسی قبیلہ کی شاخیں تھیں اس میں شامل نہ ہوئے ان کا قول تھا کہ اگر مشرق ومغرب بھی آپ ﷺ کے خلاف جمع ہوجائیں تو وہ آپ ﷺ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے بلکہ شکست کھائیں گے کہ ان کے ساتھ خدائی طاقت ہے ۔ مالک بن عوف نے اس جنگ میں نئی تدبیریہ اختیار کی کہ سب لوگوں کے بیوی بچے اور مال مویشی تک ساتھ رکھے اور میدان جنگ میں صفوں کے پیچھے رکھے تا کہ کوئی بھی چھوڑ کر بھاگ نہ سکے لشکر کی تعداد کے بارے مختلف آراء ہیں مگر زیادہ دورست بات مظہری کے مطابق بھی یہی نظر آتی ہے کہ چھبیس 26000 ہزار بچے بوڑھے ، خواتین اور چار ہزار جنگی جوان تھے یوں کل تعداتیس 300000 ہزار بنتی ہے۔ نبی رحمت ﷺ کو ان کے منصوبہ کا علم ہواتو آپ ﷺ نے آگے بڑھ کر مقابلہ کرنے فیصلہ فرمایا بارہ ہزار کا لشکر فتح مکہ کے لئے ہمرکاب تھا ۔ دوہزار مجاہد مکہ اور نواح کے نو مسلموں سے مقا طعہ کا معاہدہ لکھا تھا ۔ گزشتہ مصیبت کو اقتدار میں یادرکھنا شکر ہے اقتدار اور فراوانی کے وقت گزشتہ مصیبت اور تنگی کے دنوں کو یاد رکھنا شکر ادا کرنے کا سبب بنتا ہے لہٰذا آپ ﷺ نے وہیں قیام کا ارشاد فرمایا ۔ اس لشکر کے ساتھ اہل مکہ بحیثیت تماشائی بھی تھے مرد بھی خواتین بھی کہ مسلمانوں کو شکست ہو تو وہ بھی اپنا جوش انتقام سرد کریں اور اگر فتح ہو تو انھیں کوئی نقصان نہ ہوگا ایسے لوگوں میں حضرت شیبہ بن عثمان ؓ بھی تھے جو خو دبیان فرماتے ہیں کہ میرا باپ اور چچا بدر میں مارے گئے تھے لہٰذ ا میں اس تا ک میں تھا کہ دوران جنگ موقع پاؤں تو رسول اللہ ﷺ کو قتل کردوں۔ توجہ کا اثر جب گھمسان کارن پڑا اور لوگ بکھر نے لگے تو میں آگے بڑھا مگر دائیں بائیں حضرت عباس ؓ اور حضرت ابوسفیان ابن حارث ؓ بطور محافظ موجود تھے میں پیچھے چلا گیا اور حملے کا ارادہ کررہا تھا کہ آپ ﷺ نے مجھے آواز دی شیبہ ! یہاں آؤ جب قریب گیا تو وست مبارک میرے سینے پر رکھا اور فرمایا اے اللہ ! شیطان کو اس سے دورکردے یکایک میری حالت بدل گئی اور ہر رگ جان میں آپ ﷺ کی محبت لہریں یارنے لگی فرمایا جاؤ کفار سے لڑو اور میں کفار پر ٹوٹ پڑا ایسے وقعات متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہیں ۔ درخت کے نیچے آرام کرنے کا واقعہ بھی اسی سفر مبارک کا ہے کہ جب آپ ﷺ آرام فرما تھے تو کسی کافر نے تلوارلے لی اور بیدار کرکے پوچھا اب میرے ہاتھ سے آپ کو کون بچا سکتا ہے ؟ فرمایا اللہ اس کے ہاتھ سے تلوار گرگئی آپ ﷺ نے تلوار لے لی اور معاف فرمادیا ۔ الغرض مسلمانوں نے مقام حنین پر پہنچ کر پڑاؤ کیا اور مخالف لشکر میں مخبر بھیجے جو ان کی تعداد اور ان کے طریق جنگ کی خبر لائے کہ دشمن صف بندی ہی اس طرح کررہا ہے کہ ہر ایک کے پیچھے اس کے بیوی بچے اور مال ہے کہ میدان سے بھاگ نہ سکے ۔ غلطی کی پاداش میں دنیا کا نقصان ضرور ہوتا ہے خواہ اخروی اعتبار سے معاف بھی ہوجائے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بدرواحد کا تجربہ بھی تھا فتح مکہ بھی ان کی نظر میں تھی تو بعض حضرات سے یہ کلمہ صادر ہوا کہ یہ لشکر تو ہمارے مقابل کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور یہی بات اللہ کی بارگاہ میں ناپسند ٹھہری عجیب بات ہے کہ جس قدر بلند ی منازل نصیب ہو معاملہ اسی قدرنازک ہوجاتا ہے ۔ اگر چہ یہ بات عام سی تھی مگر ان کے مقام کے شایان نہ تھی کہنا یہ چاہیئے تھا کہ آج بھی اللہ فتح دینگے ! اس پر گرفت ہوئی اور دنیا کے اعتبار سے پریشان ہونا پڑا۔ بنوہوازن یکبار گی ٹوٹ پڑے اور اس قدرگھمسان کارن پڑا کہ دن غبار کے باعث رات نظرآتا تھا ْ ۔ نیز اونٹوں پر عورتیں اور بچے جو پیچھے تھے سب لشکر کا حصہ نظر آتے تھے کچھ سوار جو اطراف کی گھا ٹیوں میں پوشیدہ تھے وہ بھی ٹوٹ پڑے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بہت مشکل بنی اور لشکر اسلام تتربترہونے لگا۔ اسی وقت کا تذکرہ اس آیہ کریمہ میں ہے کہ زمین اپنی وسعتوں سمیت تم پر تنگ ہوگئی اس عالم میں بھی رسول کریم ﷺ اور آپ کے ساتھ جاں نثاروں کا ایک گروہ مسلسل آگے بڑھتے رہے ۔ صاحب مظہری نے حضرت انس ؓ کی روایت سے خلفاء اربعہ ؓ کے نام بطور خاص ذکر کئے ہیں علاوہ ازیں ہمرکاب رہ جانے والوں کی تعداد تین 300 سو بیان کی گئی ہے اسی حال میں نبی اکرم ﷺ نے یہ رجز پڑھا۔ انا النبی لا کذب انا ابن عبد المطلب حضرت عباس ؓ کو ارشاد ہوا کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بآواز بلند پکاریں کہ درخت کے نیچے بیعت کرنے والے کہاں ہیں ؟ اور کہاں ہیں سورة بقرہ والے ؟ انصار ؓ کے جانباز کیا ہوئے ؟ سب جمع ہوجاؤکہ رسول اللہ ﷺ یہاں ہیں پس اس آوازنے دلوں کی کا یا پلٹ دی اور سب نے لوٹ کر حملہ کردیا ۔ یہ سب پریشانی اس ایک جملہ کی وجہ سے تھی جو نہ جانے کس کی زبان سے نکلا کہ ارشاد ہوا اذاعجبتکم کثرتکم ۔ کہ اپنی کثرت پہ ناز تھا۔ کیفیا ت کا نزول جب پلٹے تو اللہ کریم نے سکینہ نازل فرمائی اپنے رسول ﷺ پر اور مومنین پر ایک کیفیت جس سے قلوب جم گئے جو پہلے جمے ہوئے تھے وہ مزید جم گئے اور جن کے پاؤں اکھڑ رہے تھے وہ بھی جم گئے یہی کیفیات ہوتی ہیں جو اللہ کے راستے پر اور نیکی پر قدم جمانے کا باعث بن جاتی ہیں ۔ چناچہ جو دشمن کی قوت سے گھبرا رہے تھے ۔ انھیں فتح سامنے دکھائی دینے لگی اور ساتھ فرشتوں کے لشکر نازل فرمادیئے جنودالم تروھا سے مراد عام طور پر ہر کسی کا دیکھنا ہے ورنہ خاص لوگوں کا فرشتوں کے لشکر نازل فرمادیئے جنودالم ترو ھا سے مراد عام طور پر ہر کسی کا دیکھنا ہے ورنہ خاص لوگوں کا فرشتوں کو دیکھنا روایات میں موجود ہے ۔ مسلمانوں کو ثبات عطا فرما کر نیز ملام کہ کے لشکر اتارکفار کو سزادی اور وہ بال بچے اور مال بھی چھوڑ کر بھاگ نکلے حتی کہ خود مالک بن عوف اپنے بیوی بچے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا یہ ذ(رح) لت آمیزشکست ان کے کفر کی سزا کے طور پر تھی ۔ دین داری دنیا کے مفادکا سبب بھی ہے اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر کفر اور گناہ دنیا میں ناکامی کا باعث بنتے ہیں تو دین داری اور خلوص دنیا کی کامیابی و کامرانی کا سبب بھی ہے چناچہ مسلمانوں کو چھ ہزار قیدی چوبیس ہزار کے قریب اونٹ اور چالیس ہزار سے زائد بکریاں اور تقریبا چار من چاندی غنیمت میں ہاتھ آئی ۔ بنوہواز ن نے شکست کے بعد کئی لڑنا چاہا مگر مسلسل شکست پہ شکست کھاتے طائف جا پہنچے اور قلعہ بند ہوگئے رسول اللہ ﷺ نے بیس روز قلعہ کا محاصرہ رکھا اندر سے تیراندازی کرتے رہے مگر باہر نکل کر لڑنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ جہاد کا مقصد اس مقام پر بھی آپ ﷺ نے بنوہوازن کی ہدایت کے لئے دعا فرمائی جس سے جہاد کا مقصد متعین ہوگیا کہ برائی کو مٹا کر انصاف کا قیام اور نیکی کا قیام مقصود ہے لوگوں کو تہہ تیغ کرنا رقبہ چھیننا یا مال و دولت حاصل کرنا جہاد کے مقاصد نہیں جبکہ جنگ میں یہی سب مقصود ہوتا ہے چناچہ جب واپسی ہوئی اور مقام جعرانہ پر پہنچ کر غنیمت تقسیم ہونے لگی تو ہوازن کے سرداروں کا ایک دفد پہنچ گیا جنہوں نے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان بھی کیا اور یہ درخواست بھی کی کہ یا رسول اللہ ! ہم بسلسلہ رضاعت آپ کے خویش بھی ہیں بلکہ آپ ﷺ کے رضاعی چچا بھی انکے ساتھ تھے چناچہ آپ ہمارے حال پر رحم فرمائیں ۔ حقوق کی اہمیت آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر سب میرے قبضے میں ہوتا تو فورا لوٹا دیتا مگر غنیمت پر تو مجاہدین کا حق ہے لہٰذا آپ قیدیوں اور مال میں سے ایک کا انتخاب کرلیں تو میں اس کے لئے لوگوں سے بات کروں انھوں نے عرض کیا ہمیں قیدی عطا ہوں ۔ آپ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور سب لوگوں سے فرمایا کہ یہ تمہارے بھائی اسلام قبول کرتے ہیں جو صاحب خوشدلی سے اپنا حصہ چھوڑدیں وہ احسان کریں اور جو نہ کرنا چاہیں انھیں فے سے حصہ دے دیا جائے گا لہٰذا ان کے قیدی لوٹا دیئے جائیں ۔ سب نے عرض کیا درست ہے ۔ مگر آپ ﷺ نے پھر سے سرداروں کو حکم دیا کہ ایک ایک سے الگ الگ پوچھیں یہ نہ ہو کہ کوئی محض روادار ی میں ما اجائے اور دل سے ایسانہ کرنا چاہتا ہو چناچہ ہر ایک کے حق کی اس سے اچازت لی گئی ۔ اور فرمایا اس کے بعد جسے چاہے ہدایت دے دے اور اس کی توبہ قبول فرمالے کہ اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ یہ وہ لوگ تھے جو مخلص تھے اور اسلام کی حقانیت اور نبی رحمت ﷺ کے اخلاق کریمانہ سے واقف نہ تھے تو مخالف تھے ۔ جب بات واضح ہوئی تو تائب ہو کر حلقہ خدام میں داخل ہوگئے کہ اسلام کسی کو مٹانے کے لئے نہیں بلکہ خلق خدا کو راہ راست دکھانے کے لئے جہاد کا حکم دیتا ہے۔ گستا خ کو توفیق توبہ بھی نہیں ملتی لہٰذا وہ نتیجہ بھی حاصل ہوگیا مگر جن لوگوں نے گستاخی کی اور توہین کرکے خوش ہوتے تھے انھیں تو بہ کی توفیق بھی نہ ملی اور کفر ہی پہ خاتمہ ہوا ۔ یہی حال اہل اللہ سے برتا ؤکا ہے اگر ان سے استفادہ نہ کرے تو بھی ان کی توہین نہ کرے ورنہ دو طرح کے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں اول تو یہ یقینی ہے کہ پھر ان سے فائدہ نصیب نہیں ہوتا دوم سو خاتمہ کا اندیشہ بھی ہے ۔ اگلاحکم یہ ارشاد ہے کہ اب جبکہ مسجد حرام اللہ نے مسلمانوں کو عطا کردی ہے اور انھوں نے اس کو بتوں کی نجاست سے پاک کرکے محض اللہ کی عبادت کے لئے مختص کردیا ہے تو اب مشرکین کو اس میں داخلہ کی اجازت ہرگز نہ دی جائے اور اس کی وجہ ان کی نجاست کو قراردیا ۔ اگر چہ نجاست کی مختلف اقسام ہیں مثلا ظاہری جیسے غسل جنابت وغیرہ نہ کیا ہو یا باطنی جیسے کفر اور عقائد فاسدہ یاقلبی جیسے اخلاق رذیلہ تو کافر میں یہ سب اقسام بیک وقت موجود ہوتی ہیں اگر صرف ظاہر ی مراد ہو تو مومن کو بھی حدث اکبر یعنی جنابت کی حالت میں یا عورت کو حیض وغیرہ کی حالت میں مسجد میں داخلے کی اجازت نہیں ۔ لہٰذا یہاں مراد عقائد کی نجاست اور کافر انہ رسومات ہیں کہ 9 ھجری؁ میں یہ اعلان فرمایا گیا اور 10؁ھ تک حد حرم سے نکل جانے کی اجازت تھی اس کے بعد قیامت تک کسی کافر کو حد حرم میں داخلے کی اجازت نہیں ۔ کافر کا مساجد میں داخلہ حد حرم میں خاص طور پر طور اور دنیا کی مساجد میں عموما کھار کے داخلے کی اجازت نہیں مگر حرم کے علاوہ مساجد میں خاص کام سے کافر داخل ہوسکتا ہے ، جیسے ثقیف کا دفد جو فتح مکہ کے بعد حاضر خدمت ہوا تھا اسے حضور ا کرم ﷺ نے مسجد میں ٹھہرایا تھا ۔ یہاں سے علما نے دلیل حاصل کی ہے کہ خاص امور کے لئے اور خاص مواقع پر مساجد میں داخل ہوسکتے ہیں مگر اپنی کافر انہ رسومات کے لئے کسی بھی مسجد کو استعمال نہیں کرسکتے ۔ کافر ممبراسمبلی امام شافعی (رح) کے مطابق یہ حکم مشرکین اور کفار ائل کتاب سب کے لئے عام ہے نیز مساجد ہی اہم امور کی مشادرت کے لئے بھی سب بہتر مقام ہیں لہٰذ اکفار کا داخلہ سیاسی طور پر بھی ممنوع ہے ایسے ہی کفار کو مشاورت میں شریک کرنا یا فوجی عہدے دنیا جائزنہ ہوگا اور نہ انھیں اسمبلیوں کے ممبربنانا جائز ہوگا بلکہ ان کے حقوق کی نگہداشت مسلم مشیروں کے فرائض میں داخل ہے ۔ حصول رزق اور دینی مصالح چونکہ کفار کا مکہ مکرمہ میں آنا جانا ایک ملکی تجارتی منڈی کے بنا نے کا باعث بھی تھا اور عربوں کے حصول رزق کا بہت بڑا ذریعہ تجارت تھا اب اگر ان کا آنا جانا روک دیا گیا تو ظاہر ہے حصول رزق کا بہت بڑاسبب بھی تو ہاتھ سے نکل جائے گا تو یہاں ایک قانون ارشاد فرمادیا کہ اگر حصول رزق کا سبب دینی امور میں خطرہ کا باعث بنتا ہوتودینی مصالح پر اسے قربان کردیا جائے گا اور رزق کو اللہ پہ بھروسہ کرکے دوسرے ذرائع سے جن میں یہ خطرہ نہ ہو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ اللہ قادر ہے وہ اسباب کا محتاج نہیں بلکہ اسباب اور ان میں اثرات کو پیدا کرنے والا ہے ۔ لہٰذ وہ اپنے کرم سے رزق عطا کردے گا ۔ بلکہ چاہے تو ان اسباب ہی سے مستغنی کردے گا اور اپنے کرم سے رزق میں فراوانی عطافرمائے گا کہ سب کچھ جاننے والا بھی ہے اور حکیم ودانا تربھی ہے ۔ یہاں ان لوگوں کے لئے درس عبرت ہے جو محض چند ٹکوں کے لئے مغرب کو بھاگتے ہیں جہاں سارادین گنوابیٹھتے ہیں۔ اہمیت حدیث دوستی کہاں کی وہ کفار جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ آخرت پہ یقین اور نہ ہی دین حق کو قبول کرتے ہیں پھر جو چیزیں اللہ نے حرام کی ہیں اور جن چیزوں کو رسول اللہ ﷺ نے حرام قراردیا ہے ۔ انھیں حرام نہیں جانتے یہاں وہ حرمت جو کتاب اللہ میں بیان ہوئی اور وہ حرمت جو حدیث پاک میں ارشاد ہوئی دونوں کا درجہ ایک سا ارشاد فرمایا اس لئے کہ حدیث پاک کا حکم بھی اللہ ہی کا حکم ہے اور اس کے منکر سے بھی جہاد ہوگا ۔ اس میں اہل کتاب بھی بعض امور کے منکر ہو کر اسی صف میں شامل ہوگئے جن سے جہاد کیا جائے گا تا آنکہ وہ مسلم ریاست کے ماتحت رہنا قبول کریں اور جزیہ یعنی ریاست کو ٹیکس ادا کریں اور ان کی شوکت اسلام کے مقابلہ میں ٹوٹ جائے ۔ جہاد کے اسباب یہاں چاراسباب مذکور ہیں ، ایمان باللہ ایمان بالآ خرت حرام کو حرام اور حلال کو حلال جاننا اور دین حق کو بحیثیت دین قبول کرنا جہاں ان چاروں میں سے کوئی صفت نہ پائی جائے گی ۔ تو ایسے لوگ صرف ذمی بن کر اور ٹکیس ادا کرکے ماتحت ہو کر مسلم ریاست میں رہیں گے ورنہ ان سے جہاد کیا جائے گا اور ریاست کو ان فتنوں سے پاک کیا جائے گا۔