10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 10:41–53

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر وہ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو فرمادیجئے کہ میرے واسطے میرا عمل ہے اور تمہارے لئے تمہارا عمل ہے تمہارا اس سے تعلق نہیں جو میں کرتا ہوں اور جو تم کرتے ہو میں اس سے بےتعلق ہوں

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور ان میں کچھ ایسے ہیں کہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں تو کیا آپ بہروں کو سنائیں گے اور اگرچہ وہ کچھ بھی نہ سمجھتے ہوں

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور بعض ان میں وہ ہیں کہ آپ کی طرف دیکھتے ہیں تو کیا آپ اندھوں کو راستہ دکھائیں گے اور اگرچہ وہ کچھ بھی نہ دیکھتے ہوں

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

یقینا اللہ لوگوں پر کچھ بھی زیادتی نہیں کرتے و لیکن لوگ اپنے آپ پر زیادتی کرتے ہیں

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس دن وہ (اللہ) ان کو جمع کرے گا تو وہ (یہ سمجھیں گے) گویا (دنیا وبرزخ میں) دن میں سے گھڑی بھر رہے ہیں۔ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔ یقینا جن لوگوں نے اللہ کے پاس جانے کو جھٹلایا سخت خسارے میں پڑگئے اور وہ ہدایت پانے والے نہ تھے

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اور اگر ہم آپ کو دکھائیں کچھ اس (عذاب) میں سے کہ جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں یا (اس سے قبل) ہم آپ کی مدت حیات دنیا پوری کردیں سو ان کو ہمارے پاس ہی پلٹنا ہے پھر جو کچھ یہ کرتے تھے اللہ اس (سب) پر گواہ ہیں

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر امت کے لئے پیغمبر ہوا ہے پس جب ان کے پیغمبر آتا ہے تو ان کا انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ زیادتی نہیں کی جاتی

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں اگر آپ سچے ہیں تو یہ وعدہ (عذاب یا آخرت کا) کب (پورا) ہوگا ؟

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ میں اپنے لئے بھی نقصان اور نفع کا اختیار نہیں رکھتا سوائے اس کے کہ جو اللہ چاہیں۔ ہر امت کے لئے ایک وقت مقرر ہے جب ان کا وقت آجاتا ہے تو ایک پل بھی دیر نہیں کرسکے اور نہ (ایک پل) جلدی کرسکتے ہیں

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

فرما دیجئے بھلا دیکھو تو اگر تم کو اس کا عذاب رات کو یا دن کو آجائے تو گنہگار اس سے (پہلے) کس بات کی جلدی کریں گے ؟

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا پھر جب وہ واقع ہوجائے گا تب تم اس پر ایمان لاؤ گے ؟ (فرمایا جائے گا) اب (مانتے ہو) اور بیشک اسی کے لئے تو تم جلدی مچاتے تھے

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر ظلم کرنے والوں سے کہا جائے گا کہ ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھو کہ جو کچھ تم کرتے تھے اسی کا بدلہ پاؤ گے

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور آپ سے خبر پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سچ ہے ؟ فرما دیجئے کہ ہاں میرے پروردگار کی قسم ! بیشک یہ سچ ہے اور تم (جان بچا کر) اسے عاجز نہ کرسکوگے

آیات 41 تا 53 اسرار و معارف ہربات کی ایک حد ہوتی ہے اور بارگاہ الوہیت سے راہنمائی فرمایا جانا تو اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور جو دلائل اس کی ذات کی طرف سے نازل ہوئے وہ نہایت مضبوط اور حقیقت کے اظہار کا سبب ہیں ۔ اگر اس پر بھی کچھ لوگ مطمئن نہیں ہوتے تو آپ انھیں فرمادیجئے کہ میں جس راہ پر چل رہا ہوں وہ میرے لئے ہے یعنی اس کا نتیجہ میرے سامنے آئے گا اور جو کردارتم نے اپنا رکھا ہے اس کا انجام تمہی کو بھگتناپڑے گا۔ لہٰذا میرے عمل کی بازپرس سے تم بری ہو اور تمہارے کردار کے انجام کی جوابدہی مجھ سے ہرگز نہ ہوگی کہ میں طمع یا خوف رکھوں دینی امور میں دلائل سے سمجھانا شرط ہے زبرستی منوانا جائز نہیں لہٰذا ثابت ہے کہ دینی کام میں دلائل سے حق کو ثابت کرنا اہم فریضہ ہے اس کے بعد کوئی اس بات پہ ایمان لاتا ہے یا نہیں ، یہ فریق ثانی یعنی سننے والوں کی ذمہ داری ہے لہٰذا مبلغ کے لئے اس بات کی قطعا ضرورت نہیں کہ زبردستی منوانے کی کوشش کرے جیسا کہ آجکل تبلیغ کے نام پر ہر جگہ فساد ہو رہے ہیں اور ہر مقرر حددرجہ جارحانہ طرزبیان اختیار کرنے کو ترجیح دے رہا ہے ۔ الا ماشاء اللہ کہ درحقیقت قبول کرنا تو قلب کا کام ہے اور جب قلب پر ظلمت چھا جاتی ہے تو انسان کی حسیں بھی مثاثرہوتی ہیں ۔ قلب کی تباہی کے اثرات اور صحیح بات سننے یا درست انداز میں دیکھنے پہ قادر نہیں ہوپاتا لہٰذا نہ ماننے والے بھی آپ ﷺ کی بات تو سننے تھے یا ان میں سے بعض تو ضرور سننے کے لئے حاضر خدمت ہوتے تھے مگر دل کا اندھیرا نہ انھیں سننے دیتا اور نہ سمجھنے ۔ لہٰذا ارشاد ہوا کہ ان میں سے بعض آپ کے ارشادات سننے آتے ہیں مگر آپ کے پاس تو اختیار نہیں کہ ان کے بہرے پن یا عقل کے اندھے پن کو دور کریں یہ اختیار تو اللہ کریم نے ہر انسان کو خود بخشا ہے کہ وہ اپنے لئے کیا پسند کرتا ہے ۔ اگر انھوں نے کفر کی راہ اپنالی تو یہ ان کا اپنا فعل ہے ایسے ہی وہ آپ کو دیکھتے ہیں مگر انھیں کمالات رسالت دکھائی نہیں دیتے کہ وہ ہیں یعنی ان رنگوں کو دیکھنے کے معاملے میں اندھے ہیں اور اس کا علاج خودان کے پاس ہے کہ وہ اپنے دل کی گہرائی سے کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ تقدیر اور اختیار اور یہ فیصلہ ان پر مسلط نہیں کیا جائے گا نہ ہی آپ ان پر مسلط کریں گے کہ اس کا اختیار خود ان کے پاس ہے ۔ یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اللہ نے انھیں ایسا کردیا ہے کہ اگر اللہ زبردستی یا حکما ایسا کردیں تو یہ ظلم ہوگا کہ کسی انسان کو کفرپہ مجبور بھی کردے اور پھر اسی جرم پر اسے سزا بھی دے اور اللہ کریم ہرگز ظلم نہیں کرتے بلکہ راستہ اختیار کرنا یہ ان کی اپنی پسند ہے اور اگر اپنی کے باعث انھیں دکھ اٹھا نے پڑیں تو یہ ظلم وہ خود اپنے ساتھ کر رہے ہیں۔ موت کافر سے بھی پہچان نہیں چھین سکتی اور اس کا علم سلامت رہتا ہے آخر ایک روز سب لوگ میدان حشر میں جمع ہوں گے تو ایک دوسرے کو خوب پہچان رہے ہوں گے بلکہ وہ طویل عرصہ جو ان کی موت کے وقت سے قیام قیامت تک گزرا ہوگا ان کے علم کو متاثر نہ کرسکے گا اور دنیا کا قیام انھیں یادہوگا اور جان رہے ہوں گے کہ حیات دنیا آخرت کے مقابلہ میں بس یوں نظر آتی ہے جیسے لمحہ بھر تھی یا کوئی ایک آدھ گھڑی تھی یعنی موت اور برزخ کے طویل اثرات بھی ان سے علم یاحافظہ نہ چھین سکیں گے اور علم کا ہونا حیات کی دلیل ہے لہٰذا کافر کو بھی ایک طرح کی حیات نصیب ہوتی ہے اور موت صورت حیات کی تبدیلی کا نام ہے فناکانام نہیں۔ بلکہ ان حقائق سے انکار کرنے والے اور موت کو فناسمجھ کر آخرت کے حساب وکتاب کے لئے تیاری نہ کرنے والے لوگ سخت نقصان میں ہیں کہ انھیں ہر حال یہ صورت تو پیش آئے گی اگر آپ ﷺ کے روبروبعض عذاب وار دہوں اور آپ بھی انھیں عذاب لٰہی میں گرفتار دیکھ یا آپ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد ایسا ہی ہوگا اور کسی حدتک مختلف عذاب دیکھ کر پھر انھیں اللہ کی بارگاہ میں بھی حاضر ہونا ہوگا ۔ جو ان کے کردار کے ہر پہلو سے باخبر ہے اور اسے دیکھ رہا ہے پھر اس کے مطابق ان کو نتائج بھی پیش آئیں گے ۔ ہر قوم کے پاس اللہ کے رسول آئے ہر طبقہ اور ہر قوم کے پاس اللہ کے رسول ضرور مبعوث ہوئے ان کی ہدایت کا سامان کیا گیا اور رسول کا مبعوث ہونا کسی بھی قوم کو کسی خاص عمل یاعقیدے پہ مجبور نہیں کرتا بلکہ پیغام رسالت کے بعد ان سے پوراپورا انصاف کیا جاتا ہے کبھی کسی قوم سے زیادتی نہیں کی جاتی یعنی بعث رسول کے بعد ایمان لانے یا کفر راہ اپنا نے کا اختیار لوگوں کے اپنے پاس ہوتا ہے اور جس طرح کا فیصلہ وہ اپنی پسند سے کرتے ہیں اس کے مطابق انھیں انجام سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ یہ فیصلے مالک کی بارگاہ سے صادرہوتے ہیں اور اللہ کے رسولوں کا کام اللہ کا پیغام پہنچانا ہوتا ہے نہ کہ ان فیصلوں کانفاذ ، مگر ان کا جاہلانہ اعتراض یہ بھی ہے کہ اگر آپ سچے رسول ہیں اور آپ کے ارشاد کے مطابق کفر پہ عذاب اور تباہی نازل ہوتی ہے یا جہنم میں داخل ہونا پڑے گا تو پھر ایسا کروا دیجئے کہ پتہ تو چلے کہ واقعی آپ سچے تھے ۔ بھلایہ بھی کوئی عقل کی بات ہے کہ جب سب کچھ ہوچکے تو اعتبار کرنے سے کیا حاصل اور یقین کا کیا فائدہ۔ نیزرسول بھی تو اللہ کا بندہ ہوتا ہے اور اس کی طرف سے پیغام لاتا ہے لہٰذا ان سے فرمادیجئے کہ جہاں تک نفع نقصان کا تعلق ہے توبندہ ہونے کے ناطے خود میرا معاملہ بھی اللہ کریم کے دست قدرت میں ہے میں خود اپنے نفع ونقصان کا مالک بھی نہیں ہوں بلکہ میرے فیصلے بھی اسی بارگاہ عالی میں سے صادرہوتے ہیں تو بھلا تمہارے لئے میں کیسے کرسکتا ہوں ۔ ہاں ! یہ بات میں تمہیں یقین سے بتاسکتا ہوں کہ ہر قوم کے لئے ایک وقت معین ہے اور سب کے پاس وقت مقررہ تک ہی مہلت ہے جب وہ گھڑی آجاتی ہے تو نہ لمحہ بھرفرصت ہی ملتی ہے اور نہ ہی وہ گھڑی وقت سے لمحہ بھر پہلے آتی ہے۔ ان سے کہیئے کہ تمہارا یہ مطالبہ ہی کس قدر جاہلیت پہ مبنی ہے کہ عذاب واقع ہوتوتم جان لوگے ۔ بھلاتم ماننے کے لئے بچ سکوگے ذراعقل سے کام لو اور سوچو کہ اگر تم رات کی تاریکی میں جب تم بیخبر پڑے ہوتے ہو عذاب وارد ہوجائے اور تمہیں اٹھنے کی فرصت بھی نہ دے یا دن کو کھلی آنکھوں بھی آجائے تو تم کیا کرلوگے ؟ کچھ بھی تو نہیں ۔ تمھارا کیا خیال ہے کہ جب واقع ہوچکے گا تو تم مانوگے اور اگر تم مانناچاہا بھی تو یہ کہہ کر تمہیں رد نہیں کردیا جائے گا کہ اب مانتے ہو جب عذاب واقع ہونا شروع ہوگیا خواہ موت کے وقت یاوی سے اور پہلے جب ماننے کا وقت تھا اس وقت ایمان لانے کی بجائے تمہیں عذاب طلب کرنے کی جلدی تھی ۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ بندے کی توبہ قبول کرتا ہی رہتا ہے حتی کہ بندہ غرغرئہ موت میں گرفتارہوجائے یعنی جب موت کا غرغرہ شروع ہوجاتا ہے تو وقت گزرچکا ہوتا ہے کہ اس وقت برزخ اور آخرت سامنے ہوتی ہے ایمان بالغیب جو مطلوب ہے نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اس وقت تو کفار کو ایک ہی جواب ملتا ہے کہ اب دائمی عذاب کے مزے چکھو ، یہ سب تمہارا اپنا ہی کیا دھرا ہے اور تمہارے عقائدواعمال ہی کا نتیجہ ہے اسی لئے ارشاد ہے کہ یہ توبہ کا قبول نہ ہونا کافر کے لئے ہے مومن کی گناہ سے توبہ غرغرئہ موت کے وقت بھی نصیب ہوجائے تو قبول ہوجاتی ہے۔ یہ بڑی جستجوں میں لگے رہتے ہیں کہ کیا واقعی ایسا ہوگا ؟ یا موت بھی ایک طرح کی زندگی ہی رہتی ہے یا پھر زندہ ہونا ہے حساب دینا ہے ۔ تو فرمائیے ! بیشک اور میرے رب کی قسم ! ایسا ہی ہوگا اور یہ حق ہے ۔ یہاں رب کی قسم ارشاد فرمائی گئی کہ نظام ربوبیت پہ نگاہ کرو تو وہ از خود یہ بتارہا ہے کہ اس سفر حیات کا ایک انجام بھی ہے اور اس نظام کا ہر کام اور ہر فعل اپنا نتیجہ پیدا کرتا ہے تو پھر حیات انسانی بغیر کسی نتیجے کے کیسے رہ سکتی ہے یہ سب کچھ نہ صرف یقینی ہوگا بلکہ تم سب اس کے ہونے کو روک بھی نہیں سکتے۔
Ayahs 10:54–60

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگر ہر نافرمان کے پاس روئے زمین کی ہر شے ہو (اور) وہ اس کے بدلے چھوٹنا چاہے (تو نہ ہوسکے گا) اور جب وہ عذاب دیکھیں گے تو پچھتائیں گے اور ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہوگا اور ان کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائے گی

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

جان لو ! بیشک سب اللہ کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ یادرکھو ! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر بہت سے لوگ (اس سے) بیخبر ہیں

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی زندگی بخشتا ہے اور (وہی) موت دیتا ہے اور تم لوگ اس کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

اے لوگو ! یقینا تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے (بہترین) نصیحت آئی ہے اور دلوں کے امراض کی شفاء (کامل) ہے اور ایمان والوں کے لئے راہنمائی اور رحمت ہے

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ (یہ کتاب) اللہ کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) سو لوگوں کو اس پر خوش ہونا چاہیے کہ جو کچھ (مال دنیا) جمع کرتے ہیں یہ اس سے بہتر ہے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

فرمائیے کہ دیکھ لو اللہ نے جو چیزیں تمہارے لئے بطور رزق نازل فرمائی ہیں پھر تم نے ان میں حرام اور حلال (اپنی طرف سے) بنالیا ہے۔ فرمائیے کیا اللہ نے تم کو اس کا حکم دیا ہے یا تم اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو ؟

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ قیامت کے دن کے بارے کیا خیال رکھتے ہیں ؟ یقینا اللہ لوگوں پر مہربان ہیں و لیکن ان کے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

آیات 54 تا 60 اسرار و معارف آج تو تم دنیا کی دولت پہ بہت خوش ہو بلکہ تمہیں ایمان اور اطاعت گراں گزرتے ہیں مگر جب یہ سب کچھ واقع ہوگا تو اگر ہر ایک ظالم کے پاس اتنی دولت بھی ہوجتنی سب روئے زمین پر ہے اور وہ یہ سب دے کر جان چھڑاناچا ہے تو ایسانہ ہوسکے گا بلکہ عذاب کی ذلت کے باعث مارے شرم کے منہ چھپا تے پھر تے ہوں گے نیزوہ بارگاہ تو ایسی عالی ہے کہ ان ظالموں سے بھی کوئی زیادتی نہ کی جائے گی بلکہ عین انصاف کے ساتھ معاملہ ہوگا اور انھیں دہی سزاملے گی جس کے یہ مستحق ہوں گے۔ اور یہ خوب اچھی طرح سے جان لو کہ زمینوں اور آسمانوں میں سب کچھ حقیقتا اللہ کریم کا ہے انسان کو عارضی طور پر اگر کچھ عطا ہوتا ہے تو اس پر اکڑنے کا کیا فائدہ کہ آخر ہر کوئی چھوڑہی کے چل دیتا ہے اور یہ بھی یادرکھو اللہ کے وعدے بھی برحق اور سچے ہیں مگر تم اس کی عظمت ہی سے نا آشنا اور بیگانہ ہو ۔ بھلادیکھوتومال کی حقیقت ہی کیا ہے ؟ خود وہی زندگی دیتا ہے اور ہی موت سے دوچار کرتا ہے اور پھر اسی کی بارگاہ میں سب کو حاضر بھی ہونا ہے۔ لوگو ! تمہارا مزاج ہے کہ کسی حادثے کے منتظر رہتے ہو اور جب کوئی بہت بڑاحادثہ ہوتا ہے تو انسانی معاشرے میں کئی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں ، لوگ سوچ تک بدل لیتے ہیں مگر یادرکھو ! یہ حادثہ ہوچکا اور اللہ کریم کی طرف سے تمہارے پاس اس کا پیغام آچکا ۔ نئی رحمت ﷺ کی بعثت ہی اتنابڑاحادثہ ہے کہ کبھی ایسا ہوا نہ ہوگا ساری انسانیت کے لئے اور ہمیشہ کے لئے اللہ کی رحمت اور بخشش کے خزانوں کے منہ کھل گئے اور ذراسوچو کہ تمہیں تمہارا پروردگار نصیحت فرماتا ہے تم سے کلام فرماتا ہے باتیں کرتا ہے وہ ہستی جو نہ صرف تمہاری خالق ومالک ہے بلکہ رب بھی ہے جس کی شان ہے کہ تمہاری تربیت کرے وہ تم سے بات کرتا ہے اور اس کا رسول ﷺ تمہیں اس کا پیغام سناتا ہے ۔ اب اللہ کی بات کا تو اپنا اثر ہے اور یہی امراض قلب کے لئے اکسیر ہے یعنی تلاوت قرآن اور قرآن کا معنی سمجھنا پھر اس پر عمل یہ سب دل کی دنیا بسانے کے لئے ضروری ہے اور اگر دل میں خرابی ہو تو اس کا علاج بھی یہی ہے یعنی اللہ کے کلام کا اصل کام دلوں کی شفا ہے۔ قرآن سے جسمانی امراض کا علاج اگرچہ جسمانی بیماری بھی اس سے شفاپاتی ہے مگر وہ ایک جزوی فائدہ اور برکت ہے جو بہرحال اصل کے تابع ہی اچھی لگتی ہے یعنی امراض قلب کا علاج قرآن سے کیا جائے اور ضمنا ضرورت پیش آتے تو جسمانی علاج بھی درست ہے اور بزرگوں سے بیشمار تجربات ثابت ہیں جن کا انکار ممکن نہیں لیکن قرآن کو محض جسمانی بیماریوں کے لئے تعویذ گنڈھے کی کتاب ہی سمجھ لینا بھی ہرگز درست نہیں بلکہ اس کا اصل کام دلوں کی شفا ہے نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ دین دل میں آتا ہے اور کیفیات قلبی کا نام ہے۔ نیز یہ قرآن ہدایت بھی ہے۔ ہدایت سے مراد ہے کہ نہ صرف کیفیات قلبی عطافرماتا ہے بلکہ پوری انسانی زندگی میں بہترین طرز عمل کی راہنمائی بھی فرماتا ہے ہدایت سے مراد کسی بھی کام کو کرنے کا درست طریقہ ہے تو گویا اسلام قرآن کے مطابق زندگی بسر کرنے کا نام ہے زندگی سے فرار کا نام نہیں ۔ ذاتی معاملات ہوں یا خانگی بات قبیلے کی ہو یا قوم کی معاملہ ملکی ہو یا بین الا قوامی اپنی استعداد کے مطابق اور قرآنی تعلیمات کے مطابق اس میں بھر پورحصہ لینا ہی اسلام ہے اور یہی آقائے نامدار ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس ذوات کے طرز عمل سے ثابت ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے یہی قرآنی نظام حیات ہی اللہ کی بےبہارحمت کا خزانہ بھی ہے یعنی دل کی کیفیات اللہ کے نام سے روشن ہوں اور عملی زندگی قرآنی تعلیمات سے منورہو تویہی کمال رحمت کا حصول ہے یہ سارا انعام اللہ کریم کے پیارے نبی ﷺ سے تعلق اور آپ کی غلامی میں ہے۔ اور انھیں فرمادیجئے کہ اگر یہ نعمت نصیب ہوجائے تو دوجہانوں سے بڑی دولت ہے اور اللہ کے اس فضل ومہربانی اور رحمت و شفقت پہ جس قدرخوشی کرو کم ہے کہ دار دنیا کی سب نعمتوں دولتوں اور اقتدار سے یہ کروڑوں گنا قیمتی اور اعلیٰ ہے ۔ جہاں دنیا کے اقتدار اور دنیا کی دولت پہ خوشی منانے سے اکڑ پیدا ہوتی ہے وہاں انعامات باری پہ خوشی منانے سے جذبہ تشکر پیدا ہوتا ہے لہٰذا اس نعمت پہ خوشیاں مناؤ ۔ اور لوگویادر کھو ! کائنات کا مالک اللہ ہے نظام بھی اسی کا چلے گا اور یہ اس کا حق ہے ۔ لہٰذا کیا حلال ہے اور کیا حرام یہ مقرر کرنا اللہ کا کام ہے اور اللہ کے رسول ﷺ کے ذمے بتانے کا کام ہے ۔ اللہ نے تمہیں جو نعمتیں بخشی ہیں ان کو تم اپنی پسند سے حرام یا حلال سمجھنے کا حق نہیں رکھتے جب تک اللہ کی طرف سے حکم نہ ملے جیسے کسی کو پسند ہو حلال و حرام مقرر کرلے تو یہ اللہ کی عظیم ذات پر بہتان باندھنے کے مترادف ہے اور جو لوگ ان امور میں دخل دیتے ہیں اور اپنی مرضی سے چندرسومات گھڑکر اسے مذہب کا نام دے لیتے ہیں جس میں کچھ امور حلال اور کچھ حرام یعنی منع کردیتے ہیں ذرا ان سے پوچھئے کہ ان کے پاس یوم حشر کے لئے کیا جواب ہے مذہب مقرر کرنا اور حدود بنانا یہ انسان کا نہیں مالک کا کام ہے اور وہ تو اپنی مخلوق سے بہت زیادہ مہربانی کرنے والا ہے ۔ بھلا جو نرمی اور شفقت وہ دے سکتا ہے انسان کے ایجاد کردہ مذاہب ودساتیر میں کہاں ممکن ہے مگر لوگ اکثر ناشکری کرتے ہیں اور اللہ کی اطاعت کی بجائے لوگوں کی باتوں کے اسیررہتے ہیں ۔
Ayahs 10:61–70

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور آپ خواہ کسی حال میں ہوں اور قرآن میں سے کچھ پڑھتے ہوں اور ایسے ہی تم لوگ جو بھی کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو تو ہم بھی تمہارے سامنے ہوتے ہیں اور آپ کے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ کوئی اس سے چھوٹی چیز اور نہ (اس سے) بڑی مگر یہ کہ روشن کتاب (لوح محفوظ) میں (لکھی ہوئی) ہے

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

جان لو ! بیشک جو اللہ کے دوست ہیں انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ افسوس کریں گے

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

وہ لوگ جو ایمان لائے اور پرہیز گاری کرتے تھے

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کی باتیں بدلتی نہیں یہی تو بڑی کامیابی ہے

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور آپ کو ان کی باتیں آزروہ نہ کریں یقینا ساری عزت اللہ ہی کے لئے ہے (اور) وہ سننے والے جاننے والے ہیں

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

یاد رکھو ! یقینا جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے (فرشتے ، اس ان) سب اللہ ہی کا ہے اور جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے شریکوں کی عبادت کر رہے ہیں وہ صرف اپنے خیال (باطل) کی پیروی کرتے ہیں اور وہ محض اٹکل دوڑا رہے ہیں

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرسکو اور دن روشن بنایا (کہ کام کرسکو) ۔ جو لوگ سماعت رکھتے ہیں بیشک اس میں ان کے لئے نشانیاں ہیں

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ اللہ اولادرکھتا ہے (نعوذ باللہ) وہ (اولاد سے) پاک ہے اس کی ذات بےنیاز ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب اسی کا ہے تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں کیا تم اللہ پر ایسی باتیں کہتے ہو جو تم نہیں جانتے

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

فرمادیجئے یقینا جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ (کبھی) کامیاب نہ ہوں گے

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

(ان کے لئے) دنیا میں تھوڑے فائدے ہیں پھر ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر ہم ان کو شدید عذاب (کا مزہ) چکھائیں گے کیونکہ وہ کفر کیا کرتے تھے

آیات 61 تا 70 اسرار و معارف اور آپ جس میں ہوں جس جگہ جو عمل کریں ۔ آپ قرآن میں سے تلاوت کریں یا کسی بھی دوسرے عمل میں مصروف ہوں اور صرف آپ ہی کیا سارے لوگ بھی جو کچھ کرتے ہیں ۔ سب ہمارے روبرو ہے ۔ آپ کی محنت ومشقت اور عبادت و مجاہدہ بھی اور کفار کی عداوت ودشمنی بھی بلکہ ہر نیک و بد پہ ہم ذاتی طور پر شاہد ہیں ۔ نہ صرف انسان اعمال وکرداربل کہ زمین وآسمان کا کوئی ذرہ یا اس سے بھی کوئی چھوٹی بڑی شے آپ کے رب کریم سے کسی لمحے پوشیدہ نہیں اللہ کا علم تو بہت عظیم اور اس کی شان کے مطابق ہے ۔ یہ سب کچھ تو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور کوئی ذرہ یا اس کی حرکت اس باہر نہیں لہٰذا آپ اپنا کام جاری رکھیں اور دوسروں کو ان کا اپنا کام کرنے دیں ۔ ان کی دشمنی اور ایذا کی فکر ہرگز نہ کریں ۔ نہ صرف آپ بلکہ آپ کے خدام اور اتباع کرنیوالے جو اللہ کے ولی ہیں انھیں کبھی آئندہ کا ڈرہوگا نہ گذشتہ کا افسوس بلکہ ہمیشہ اور ہر آن کی شادمانی ہی ان کا مقدر ہے مگر صرف محبت کا دعوی رکھنے والے ہی نہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو آپ کی محبت کے مدعی بھی ہوں مقدر ہے مگر صرف محبت کا دعوی رکھنے والے ہی نہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو آپ کی محبت کے مدعی بھی ہوں اور آپ کے نقش قدم پر عمر بھی قربان کردیں یعنی ان میں ایمان بھی ہو اور عملی اطاعت بھی ۔ ولایت کیا ہے ؟ یہاں اولیاء اللہ کے لئے اللہ کریم کے بہت بڑے انعام اور ایک بےمثال نعمت کا تذکرہ بھی ہے اور ایک چھوٹے سے خوبصورت جملے میں دلایت کی تعریف بھی سمودی گئی ہے کہ وہ ایمان رکھتے ہوں یعنی عقائددرست ہوں اور قلبی کیفیات اس درجے کی نصیب ہوں کہ وہ اطاعت کا حق ادا کردیں اور ممکن حدتک اطاعت سے قدم باہر نہ رکھیں ۔ لہٰذ بدعات میں مبتلا اور عملی زندگی سے بیگانہ لوگوں کی دلایت کا اعتبار درست نہیں ۔ رہی یہ بات کہ دنیا میں مشاہدہ تو یہ ہے کہ اہل اللہ پہ میصیبتیں زیادہ آتی ہیں اور دوسروں کی نسبت ان میں اللہ کا خوف اور اس کے عذاب سے ڈرنے کی کیفیت بھی زیادہ آتی ہے تو اس کا بڑا آسان اور صحیح جواب یہ ہے کہ اہل اللہ کے قلوب دنیاوی دکھوں سے بہت بالاترہوتے ہیں اور جس طرح دنیادار ایک ایک شے کے لئے تڑپتے ہیں اہل اللہ کو کبھی ایسا دکھ نہیں ہوتا بلکہ ہر آن اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ، مال ، جان ، اولاد قربان کرتے بھی راحت پاتے ہیں ۔ ہاں ! انھیں اگر فکر ہوتی ہے تو صرف یہ کہ رب جلیل خفانہ ہو۔ اس لئے کہ سوائے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے کوئی بھی معصوم نہیں کسی لمحے ایسا قصورہوسکتا ہے جو اللہ کی ناراضگی کا سبب بن جائے لہٰذا اس کی محبت میں اس سے توفیق اطاعت طلب کرتے رہتے ہیں۔ ولایت چیز کیا ہے ؟ یہ تو ایک بےکیف تعلق ہے جس کی کوئی توجہیہ ممکن نہیں مگر اس کا اثریہ ہے کہ بندے کی اپنی رائے اور پسند تک بلکہ اس کی ذات تک فناہوکر اطاعت باری کے سانچے میں ڈھل جاتی ہے ۔ یوں تو اللہ کی سب مخلوق کو اس کی ذات سے ایک تعلق نصیب ہے مگر انسان کو اس کی شعوری معرفت کے باعث اس بےکیف رابطے کا جو درجہ نصیب ہوتا ہے وہ صرف اسی کا حصہ ہے ۔ اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی مرحوم نے اپنی مایہ ناز تفسیر میں اسی موضوع پہ ارشاد فرمایا ہے کہ معرفت کا بلند ترین مقام اور تعلق مع اللہ کا اعلی ترین درجہ نبی اکرم ﷺ کا حصہ ہے پھر جن خوش نصیب حضرات کو ایمان کے ساتھ آپ ﷺ کی صحبت عالی نصیب ہوئی تو قلب اطہر سے ان کے قلوب کو جو جلاملی وہ انھیں روئے زمین پر آنے والے انسانوں میں انبساء علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد بلندتردرجے پرلے گئی یعنی تعلیمات نبوت کے ساتھ برکات نبوت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے تابعین ان کی صحبت سے تبع تابعین نے یہ نعمت پائی ۔ مگر جوں افراد اور زمانہ بدلتا گیا ، زنگ بھی بدلتے گئے یعنی واسطے بڑھتے گئے تو قوت کم ہوتی چلی گئی اور یہ واسطہ صرف وہ لوگ ہی بن سکتے ہیں جو پہلے خود یہ نعمت حاصل بھی کریں پھر اللہ انھیں تقسیم کرنے کی استعداد بھی عطافرمائے ۔ ایسے ہی لوگ مشائخ کہلاتے ہیں ۔ لہٰذا یہ دولت جسے ولایت کہا گیا ہے مشائخ کی صحبت میں نصیب ہوتی ہے جس میں دو چیزیں حاصل ہوتی ہیں اول عقائد کی اصلاح اور دوم دل کی وہ کیفیت جو اطاعت الٰہی اور اتباع سنت پہ قائم کردے اس کے حصول کے تین اجزاء ہیں صحبت شیخ اس کی اطاعت اور کثرت ذکر اللہ نیزیہ سب امور مسنون طریقہ پر ہوں بلکہ شیخ ہو ہی وہی سکتا ہے جو سب کام سنت کے مطابق کرے اور طالب میں سنت کی پیروی کی استعداوپیدا کردے ۔ یہ مختلف قسم کے کشف و کرامات اور عجائبات کا مشاہدہ ولایت کی شرط نہیں ۔ ہاں ! اگر مذکورہ شرائط کے ساتھ ہو تو اللہ کا انعام ہے اور اگر خلاف سنت امور پر کوئی کمال حاصل ہوسکے تو وہ استداراج کہلاتا ہے ، جو شیطن کی طرف سے ہے فرمایا ایسے لوگوں کے لئے دنیا میں بھی خوشی ہے کہ وہ اللہ کریم سے اپنے اس تعلق پہ شاداں وفرحاں رہتے ہیں اور دنیا کے دکھ انھیں غم کھانے پہ مجبور نہیں کرسکتے اور آخرت بھی ان کے لئے اللہ کے انعامات کے ظاہر ہونے کا مقام ہے اور اس کی خبرتو اللہ دے رہے ہیں جن کی بات کبھی بدل نہیں سکتی جو فرماتا ہے یقینا ویسا ہی ہوتا ہے اور یہ بہت بڑی کا میابی ہے اور یہی سب بڑی جمعیت ہے۔ اے حبیب ! آپ ان کی باتوں کو اہمیت نہ دیں جو لوگ آپ کی مخالفت اور ایذارسانی کے منصوبے بناتے ہیں ۔ اس لئے یہ بھی تو عاجز مخلوق ہی ہیں ۔ اللہ کو مانیں یا نہ مانیں مگر ہیں تو اس کی مخلوق اور ایک حد کے اندررہناان کی مجبوری ہے جہاں تک طاقت اور غلبہ کی بات ہے تو وہ صرف اللہ کے لئے ہے نہ تو یہ اپنی پسند سے کچھ کرسکنے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی حرکت یاسوچ اس ذات سے پوشیدہ ہے وہ سنت ابھی ہے اور جانتا بھی ہے ارض وسما کی ساری مخلوق کو اس ایک خالق نے پیدا فرمایا اور انھیں مختلف اوصاف عادات بخشے زمینوں اور آسمانوں میں جو کوئی بھی ہے وہ اسی کا بندہ ہے مگر ان میں یہ عقل بھی نہیں کہ اللہ کو چھوڑکر اس کی مخلوق میں سے کسی کو پکارتے ہیں اور اسے اپنے زعم باطل میں اللہ کا شریک اور برابر سمجھتے ہیں بلکہ اکثر تو ایسی ہستیوں کو پکارتے ہیں جن کا کوئی وجود ہی نہیں ، محض ان لوگوں کا وہم ہے بلکہ محض خیالی باتوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اگر کوئی ہستی وجودرکھتی بھی ہے تو وہ اللہ کی مخلوق ہے عاجز بےبس اور محتاج ہے بھلاذات باری کا مقابلہ تو نہیں کرسکتی اور اکثریہ جن ہستیوں کو معبودبنائے پھرتے ہیں ان کا کوئی وجود بھی نہیں محض خیالی باتوں میں لگے رہتے ہیں۔ اللہ تو ایساقادر ہے کہ وہ رات اور دن کا خالق ہے مگر تمہاری یہ مجبوری ہے کہ اگر وہرات نہ بناتا تمہیں آرام اور سکون کا موقع نہ ملتا تو تم خود زندہ نہ رہ سکتے اس نے رات تمہارے آرام کے لئے اور دن کام کے لئے روشن کردیا بھلا جو مخلوق اپنے وجود کی بقا کے لئے آرام کی محتاج ہے اور تھک ہار کر ڈھیر ہوجاتی ہے پھر دوسرے دن اٹھ کر کام پہ لگتی ہے وہ کب اس قابل ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس سے امیدرکھی جائے کہ یہ میرے کام کردے گی ۔ سمجھدار لوگوں کے لئے تو یہ ہی بہت بڑی دلیل ہے اور شب وروز میں اتنی حکمتیں ہیں کہ عظمت باری کا احساس دلانے کے لئے بہت کافی ہیں۔ یہ تو کہتے ہیں کہ اللہ کا بیٹا بھی ہے حالانکہ اللہ ان امور سے پاک ہے اور وہ بےنیاز ہے ۔ جو کچھ کائنات میں ہے سب کی مخلوق اور مملوک ہے اور وہ مالک ہے لہٰذا کوئی بھی اس کا ہم جنس نہیں اور غیرجنس سے اولاہ نہیں ہوتی ۔ تو یہ بات دونوں طرح سے باطل ہے اس کی ایک ذات کے علاوہ جس قدر وجود ہیں وہ اپنے بننے تک سب اس کے محتاج ہیں جبکہ وہ بےنیاز ہے تو یہ کیسے ممکن ہے ؟ ہرگز نہیں ہاں ! ان سے کہیئے کہ اگر ان کے پاس کوئی دلیل ہے تولائیں یاوی سے بغیردلیل کے اللہ پر ایسے بہتان تراشتے ہو جن کی خودتم کو بھی خبر نہیں اور یہ کتناسخت جرم ہے تم یہ بھی نہیں سمجھ پا رہے تو انھیں بتادیجئے کہ اللہ کریمپر جھوٹے ہتان باندھنے والے کبھی نہیں بچ سکتے اور کبھی بہتری کو نہیں پاسکتے کیا ہوا کہ چندروزہ زندگی میں انھیں دنیا کی دولت یا اقتدار بھی مل جائے یا نہ بھی ملے تو دنیا کی زندگی بظاہر جہنم کے باہر تو ہے اگرچہ اندرتو دوزخ کی گرمی جھلسارہی ہوتی ہے لیکن اس کے بعد تو اور بھی بہت ہی برا ہوگا انھیں رب جلیل کی بارگاہ میں پیش ہونا ہوگا جو انھیں بہت سخت عذاب دے گا اور یہ شدید عذاب ان کے کفر کا بدلہ ہوگا۔ کہ کفر اور شرک اپنی اصل میں اتنابڑاظلم ہے کہ اس پر بہت بڑا عذاب مرتب ہوگا اور ہمیشہ رہے گا ۔ ابدی اور دائمی زندگی جہنم کی ہولنا کیوں کی نذرہوجائے گی۔