10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 10:71–82

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور آپ ا ن کو نوح (علیہ السلام) کا قصہ بڑھ کر سنائیے جب انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم ! اگر تم کو میرا (وعظ وتبلیغ میں) رہنا اور اللہ کی آیات سے نصیحت کرنا ناگوار ہے تو میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں پس تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر جو کرنا چاہو طے کرلو پھر تمہیں اپنے کام میں شبہ نہ رہے پھر میرے ساتھ کر گزرو اور مجھے کوئی مہلت نہ دو

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

پھر اگر تم سے منہ پھیرلیا تو میں نے تو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگا میرا معاوضہ تو اللہ کے ذمے ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے رہوں

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

پس انہوں نے ان کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں (سوار) تھے بچا لیا اور انہیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا (آباد کردیا) اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو غرض کردیا۔ سو دیکھو جن لوگوں کو ڈرایا جاچکا تھا ان کا کیسا انجام ہوا

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے کتنے پیغمبر ان کی قوموں کی طرف بھیجے پس وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے اسی طرح ہم حد سے نکلنے والوں کے دلوں پر مہر کردیتے

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر اسکے بعد ہم موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو اپنی نشانیو کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف معبوث فرمایا پس انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا تو کہتے لگے بیشک یہ تو صاف صاف جادو ہے

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جب تمہارے پاس حق آیا تو کیا تم اس کے بارے یہ کہتے ہو کہ کیا یہ جادو ہے ؟ اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوا کرتے

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا اس سے ہم کو پھیر دو اور ملک میں تم دونوں کی سرداری ہوجائے ؟ اور ہم تم دونوں پر ایمان لانے والے نہیں

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون نے (اپنے سرداروں سے) کہا کہ تمام ماہر فن جادوگروں کو میرے پاس حاضر کردو

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

پس جب جادوگر آگئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا جو تم کو ڈالنا ہو ڈالو

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

پس جب انہوں نے (رسیوں اور لاٹھیوں کو) ڈالا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا جو کچھ تم بنا کر لائے ہو یہ جادو ہے بیشک اللہ اس کو عنقریب درہم برہم کردے گا یقینا اللہ شریروں کے کام سنوارا نہیں کرتے

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور اللہ اپنے حکم سے سچ کو سچ ثابت کردیں گے اور اگرچہ گنہگاروں کو برا ہی لگے

آیات 71 تا 82 اسرار و معارف کفر کا نتیجہ عذاب آخرت تو ہے ہی دنیا میں بھی اکثر تباہی کا باعث بنتا ہے باطنی تکلیف اور قلبی بےچینی کے علاوہ کبھی تو مادی طور پر بھی سخت تباہی لاتا ہے ۔ جلدی یابدیر کفر کا انجام بربادی کے سوا کچھ نہیں آپ انھیں حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ سنایئے کہ صایوں تبلیغ اور محنت پر بھی قوم نے مخالفت ترک نہ کی تو انھوں نے فرمایا کہ اگر تمہیں اللہ کے دین سے اس قدر دشمنی ہے اور سننا بھی گوارا نہیں بلکہ مجھے دھکیاں دیتے ہوتوجاؤ جو بن پڑتا ہے کرکے دیکھ لو اور دیکھو اپنے خود ترشیدہ اور موہوم خداؤں کو بھی آوازدے لو اور پوری قوت لگادو کبھی تمہیں افسوس نہ رہے کہ فلاں شے یاکسریاکمی رہ گئی تھی اور میرا کوئی لحاظ نہ کرونہ میں تم سے کسی رعایت کا طالب ہوں لہٰذا مجھے دین کی تبلیغ سے روکنے کے لئے یا ملک سے نکال دینے کے لئے اور کوئی سخت ترین سزادینے کے لئے جو کرسکتے ہوکرگزرو۔ اقتدار یاد دولت کے طمع میں دین کو آڑ بنانا جائز نہیں اور یہ بھی یادرکھو کہ مجھے تم سے کوئی طمع یالالچ بھی نہیں نہ میں نے دین اور دین کی تبلیغ کو کبھی ذریعہ معاش بناکر تم سے اجرت طلب کی ہے ۔ اور یہ طریقہ سب انبیاء علیہم الصلوۃ ولسلام کا ہے کہ دین بیان کرنے پر کوئی اجریامعاوضہ طلب فرماتے ہیں نہ وصول کرتے ہیں ۔ یہاں ان لوگوں کے لئے جائے فکر ہے جن کی معاش کا مدارہی دین پر ہے ایسے لوگ کبھی حق کی بات نہیں کرپاتے اور عنداللہ مجرم بھی ہیں ۔ ہاں ! دین بیان کرنے کا اجر تو وہ ذات ہی دے گی اور دے سکتی ہے ۔ جس کی اطاعت میں دین بیان کررہا ہوں ۔ اسی نے مجھے یہ کم دیا ہے کہ میں صرف اور صرف اس کا حکم بجالاؤں اور اس کے حکم کے خلاف کسی دوسرے کی بات نہ مانوں ۔ یہی اسلام ہے اور تمام انبیاء (علیہم السلام) جو دین لائے وہ سب اسلام ہی تھے کہ بنیادی عقائد مثلاتوحید رسالت آخرت عذاب وثواب نبوت و رسالت یا فرشتوں کا وجود سب میں ایک تھے ۔ اگر فرق رہا تو محض عبادات میں جو لوگوں کے مزاج اور موقع کی مناسبت سے تفویض کی جاتی رہیں ۔ آج بھی اسلام عقائد اور اعمال میں کماحقہ اطاعت کا نام ہے۔ وہ لوگ نہ مانے اور اپنے انکار پر جمے رہے ۔ چناچہ ان کی ہٹ دھرمی رنگ لائی ایک بہت بڑاطوفان آیا اور سب لوگ غرق ہوکرتباہ ہوگئے۔ روئے زمین سے کفر اور کافر کانشان تک مٹ گیا مگر اللہ نے نوح (علیہ السلام) کو محفوظ رکھا ۔ کفر کے شر سے بھی بچالیا اور طوفان کی سرکشی بھی ان کا کچھ نہ بگاڑس کی ۔ نہ صرف وہ بلکہ ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہونے والے ۔ وہ سب لوگ بچ گئے جو ایمان لاکر ان کی اطاعت اور اتباع سے سرفراز ہوئے تھے ۔ اور پھر روئے زمین کے وارث وہی لوگ قرارپائے کہ کافر تو سب کے سب غرق ہوکرتباہ ہوچکے تھے لہٰذا یہ قصہ ان لوگوں کے انجام سے باخبر کرنے کے لئے کافی ہے جو انبیاعلیہم السلام کی بات کی پرواہ نہیں کرتے اور اسے جھٹلاکر کفر اور سرکشی کا راستہ اپنا تے ہیں ۔ پھر اس کے بعد لوگ گمراہ ہوگئے یہ سب حالات جانتے ہوئے بھی کفر کی دلدل میں دھنس گئے اور ہمارا کرم دیکھو کہ پھر ان کی طرف نبی بھیجے ۔ نہ صرف یہ کہ رسول مبعوث فرمائے بلکہ انہی کی قوم سے اپنے منتخب بندوں کو رسالت سے نوازا اور اپنی بات اس قوم تک پہنچائی اور ہر رسول بہت ہی واضح اور ردشن دلائل لے کر مبعوث ہوامگر ان لوگوں نے مان کر نہ دیا جس بات کا انکار کرچکے تھے اس سے باز نہ آئے۔ گمراہی پر جمے رہنے کا سبب اس کا سبب یہ تھا کہ ان کی زیادتیوں اور گناہوں کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں پر مہر کردی جیسا کہ قانون قدرت ہے کہ گناہ دل کو متاثر کرتا ہے اور مسلسل گناہ سے آخردل اس قدرتباہ ہوجاتا ہے کہ من جانب اللہ اس میں سے قبولیت کی استعداد سلب کرلی جاتی ہے ایسے لوگوں کو کبھی ہدایت نصیب نہیں ہوتی ۔ طریقہ تبلیغ اسی طرح ان اقوام کے بعد موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف مبعوث تو ساری قوم کے لئے تھی مگر تذکرہ فرعون اور اس کے سرداروں کا فرمایا کہ لوگ ایسے ہی افراد کی پیروی کرتے ہیں ۔ لہٰذا مبلغین کو چاہیئے کہ ہمیشہ حکمرانوں اور سرداروں پر زیادہ توجہ دیں کہ یہ تبلیغ کامو ثرترین طریقہ ہے۔ ان لوگوں کو عجیب و غریب معجزات دکھائے گئے اور اللہ کا پیغام پہنچایا گیا مگر انھوں نے کہہ دیا یہ جادو ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ عجیب لوگ ہوبھلاجادوگر بھی کبھی اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے وہ تو اپنی خواہشات کی تکمیل چاہتا ہے اور لوگوں کو اپنا مطیع بناناچاہتا ہے جبکہ انبیاء (علیہما السلام) حق کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ جاد و اور کرامت ومعجزہ میں فرق معجزہ ایسا کام جس کی عقلی تو جہیہ محال مگر اس کے نتیجے میں لوگوں کو کفر سے نکال کر اللہ سے واصل کرنا نقصود ہوتا ہے کرامت اسی کی فرع ہے جو نبی کے سچے اطاعت شعار کے ہاتھ پر صادرہوتی ہے اور ہمیشہ لوگوں کو اللہ کی طرف لانے کا سبب بنتی ہے مگر جادو کے ذریعے یا شعبدہ بازی کے کمال سے لوگوں کو متاثر کرنے والے حق کی طرف نہیں بلاتے بلکہ اپنے آپ کو لوگوں پہ مسلط کرتے ہیں اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے طلبگار ہوتے ہیں ۔ لہٰذا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بھلایہ جادو ہے کہ میں تمہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا ہوں اور جادو گرتوبالآ خرخود تباہ ہوجاتے ہیں جبکہ اللہ کے داعی ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں اگر اس راہ میں شہید بھی ہوں تو بھی کامیاب ہی ہیں۔ مگربات ان کی سمجھ میں نہ آئی سب سے بڑی بات تو یہ تھی کہ وہ اپنے آباواجداد کی جاری کردہ رسومات کو چھوڑنے پہ تیارنہ تھے کہ بھلاہم اپنے باپ دادا کی بات سے کیسے پھرجائیں اور اگر انھیں چھوڑ کر آپ ﷺ کی بات مان لیں تو پھر ہم توپیروکارٹھہرے لہٰذاحکومت واقتدار بھی آپ ﷺ کے پاس چلاجائے گا اور یہ ہمیں ہرگز منظور نہیں کہ اپنے باپ دادا پر ہمیں آج تک فخررہا ہے انھیں کیسے چھوڑدیں اور حکومت واقتدار کسی کو کیوں دیں یہ نہیں ہوسکتا بلکہ ہم تمہارے جادو کا مقابلہ کریں گے لہٰذا فرعون نے حکم دے دیا کہ ملک بھر کے نامور جادوگروں کو جمع کیا جائے اور مقابلہ کی تیاری کرلی سرمیدان موسیٰ (علیہ السلام) نے جادو گروں سے فرمایا کہ بھئی ! تمہیں جو کچھ کرنا ہے ظاہر کرو اور جب انھوں نے لکڑیاں اور رسے زمین پر پھینکے اور وہ سانپ کی طرح نظرآنے لگے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ تمہارا کمال جادو ہے کہ اس کے ذریعے تم دنیا کا نفع بھی چاہتے ہو اور باطل کی تایئد بھی کرنا چاہتے ہو لہٰذا اللہ اسے تباہ کردے گا کہ اللہ کبھی بھی حق کے مقابلہ میں باطل کو برقرار نہیں رکھتا اور نہ ہی بدکاروں کے کسی عمل میں دوام یا کامیابی ہوتی ہے اور حق کو ہمیشہ قائم رکھتا ہے یعنی معجزات و کرامات کے مقابل جادوگری کی کوئی حیثیت نہیں ۔ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے ارشادات کو ثابت فرمانے کے لئے ان کے معجزات کو غالب فرماتا ہے اگرچہ یہ بات کفار کو کتنی ہی ناگوار بھی گزرے۔
Ayahs 10:83–92

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

پس موسیٰ (علیہ السلام) پر کوئی ایمان نہ لایا مگر ان کی قوم کے چند لڑکے وہ بھی فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے کہ وہ ان کو مصیبت میں نہ ڈال دیں اور بیشک فرعون ملک میں بہت زور آور تھا اور یقینا وہ حد سے بڑھا ہوا تھا

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم ! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم (دل سے) فرمانبردار ہو تو

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

تو انہوں نے کہا ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ظالم لوگوں (کے ہاتھ) سے آزمائش میں مبتلا نہ فرمائیے

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور اپنی رحمت سے ہمیں کافر لوگوں سے نجات بخشئے

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لئے مصر میں گھر بنائیں اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) بنائیں اور نماز قائم کریں اور ایمان والوں کو خوشخبری سنادیں

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ! یقینا آپ نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں بہت زیب وزینت اور مال وزر عطا فرما رکھا ہے۔ اے ہمارے پروردگار ! (اس وجہ سے) کہ یہ آپ کے راستے سے گمراہ کریں اے ہمارے پروردگار ! ان کے مال کو برباد کردیجئے اور ان کے دلوں کو سخت کردیجئے پس یہ ایمان نہ لائیں جب تک درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

فرمایا کہ یقینا آپ دونوں کی دعا قبول فرما لی گئی پس آپ دنوں ثابت قدم رہیں اور جاہلوں کی راہ کی پیروی نہ کریں

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر پاکر کرا دیا پھر فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی کرتے ہوئے اور حد سے بڑھتے ہوئے ان کا تعاقب کیا یہاں تک کہ جب اس کو غرض (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہنے لگا میں ایمان لایا کہ کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے سوائے اس ذات کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

(فرمایا) اب (ایمان لاتا ہے) ؟ حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا اور تو فساد کرنے والوں میں سے تھا

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

سو آج ہم تیرے بدن کو نجات (سمندر سے نکال) دیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لئے عبرت ہو اور بیشک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بیخبر ہیں

آیات 83 تا 92 اسرار و معارف فرعون کے مظالم سے خوفزدہ چندنوجوان ایمان سے مشرف ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی اطاعت اختیار کی کہ فرعون روئے زمین پر بیحد ظالم انسان تھا اور حد سے بڑھ کر زیادتیاں کرتا تھا لہٰذا اس کا اور اس کے امرا کے مظالم کا خوف فطری بات تھی مگر نور ایمان کی تڑپ ان سب باتوں کے باوجود اپنا اثررکھتی ہے ۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ایمان تو اعتبارہی کا نام ہے جب اللہ سے ایمان نصیب ہواتو اسی پر بھروسہ رکھو ، جس کو بچاناچا ہے بھلافرعون اس کا کیا بگاڑلے گا۔ کام کا بیڑہ اٹھانے کے لئے مل کردعا کی جائے چنانچہ سب نے کہا کہ ہم اللہ ہی پہ بھروسہ کرتے ہیں اور سب نے مل کردعا کی کہ اے اللہ ! ہمیں ان ظالموں کے قابو میں آنے کی آزمائش سے محفوظ رکھ ! اور اپنی خاص رحمت سے نواز کہ یہ کافرقوم کبھی ہمیں ایذانہ دے سکے ان سے ہمیشہ کے لئے ہمارا پیچھا چھڑادے۔ معابد عبادت کرتی تھیں یہ نبی کریم علیہ التحیتہ والتسلیم ہی کی خصوصیت ہے کہ روئے زمین کو مسجد قرار دے دیا گیا ورنہ تمام امتوں کی عبادت صرف عبادت خانوں میں ہوتی تھی ۔ فرعون کہ یہ سوجھی کہ عبادت خانے منہدم کرادیئے جائیں تو اللہ کریم نے موسیٰ وہارون (علیہما السلام) پر وحی بھیجی کہ کچھ گھر ایسے بنالئے جائیں جو قبلہ رخ ہوں اور مسجدکاکام دے سکیں اور ان مخصوص گھروں میں عبادت کی جائے ۔ یہی حال آجکل یورپ اور دوسرے کافرممالک کا ہے کہ وہاں خاص طرز کی مسجد بنانا ممکن نہیں تو کوئی گھر اگر اس غرض کے لئے مقررکردیاجائے جس میں عبادت قبلہ رخ ہوتودرست ہوگا۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ پہلی امتوں میں بھی نماز میں قبلہ رخ ہونا ضروری تھا ۔ ایسے ہی وضو اور سترعورت غیرہ ثابت ہیں آپ ﷺ کے لئے اگرچہ ساری زمین کو مسجد قراردیا گیا مگر فرائض کو مسجد میں باجماعت ادا کرنے کا بہت بڑاثواب ہے اگرچہ سنت اور نفل آپ ﷺ بھی گھر ادا فرماتے تھے ۔ لہٰذاحکم ہوا کہ ایمان والوں کو خوشخبری دیجئے کہ دنیا میں اگر کوئی رکاوٹ ہو اور عبادت ایک خاص جگہ نہ کرسکیں تو جہاں کریں گے قبول ہوگی کوئی انھیں اللہ کی عبادت سے محروم نہیں کرسکتا اور آخرت میں کامیابی کی یہی ضمانت بھی ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا فرعون کی ہٹ دھرمی سے ناامید ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) نے بددعا فرمائی کہ اللہ ! تو نے انھیں بیشمار نعمتیں دیں دولت دنیا بخشی مگر یہ بدبخت شکر کرنے کی بجائے اسی مال و دولت کے بل بوتے پر آپ کی مخلوق کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اے اللہ ! فرعون اور اس کے امرا کے مال تباہ تباہ کردے اور ان کے دلوں کو مزیدسخت کردے کہ جب تک عذاب سامنے نہ دیکھ لیں ، انھیں ایمان لانے کی توفیق ہی نہ ہو۔ یہ دراصل اس حال کا بیان ہے جو ان کے اعمال اور کردار کا یقینی نتیجہ تھا ، لہٰذا اگر اہل اللہ کی اطاعت نصیب نہ ہو تو ان کی مخالفت سے بچناضروری ہے ورنہ دل سخت ہو کر ایمان کی سعادت سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ لہٰذا ارشاد ہوا کہ آپ دونوں کی دعاقبول ہوئی ۔ اگر ا ن بدبختوں نے میرے انبیاء ورسل اور میرے بندوں کو ٹھکرایا ہے تو میں انھیں اپنی بارگاہ سے ٹھکرا کر محروم کردیتا ہوں مگر آپ دونوں ثابت قدم رہیئے اور کسی طرح بھی اللہ کی اطاعت میں کمی یاتبدیلی نہ آنے پائے نہان جاہلوں کی کوئی رسم آپ کو متاثر کرسکے ۔ کفار سے مشابہت ممنوع ہے یہ انبیاء کو مخاطب کرکے امت کو سبق دیا جارہا ہے کہ فرعون تب ہی غرق ہوگا جب تم نے اسلام کی شناخت جداگانہ قائم رکھی اور اگر تم لوگوں نے بھی ان سے مرعوب ہو کر مسلمانی کے باوجود کفار کی بعض عادات اپنا نا شروع کردیں تو پھر وہ بھی تباہ نہ ہوں گے کہ آخرکن لوگوں کے مقابلے میں وہ تباہ ہون جو ان ہی جیسے بن رہے ہیں ۔ جیسے آج کا مسلمان لباس وضع قطع اور سومات تک میں انگریزوں ہندوؤں یہودیوں تک سے مشابہت رکھتا ہے تو اس کے مقابلے میں وہ بھی تباہ نہیں ہوتے ۔ یہی قانون ہے۔ چنانچہ نبی اسرائیل کو سمندر سے پارپہنچادیا اور فرعون اور اس کا لشکر جو بڑے غرور اور غضب سے پچھاکررہا تھا ۔ اسی سمندر میں غرق ہوگیا بلکہ موت سامنے دیکھ کر فرعون کی ساری اکڑفوں نکل گئی اور غوطے لگے اور موت کے فرشتے نظرآئے تو پکار اٹھا اسی الٰہ کو مانتا ہوں جس کو بنی اسرائیل نے مانا ہے میں اقرار کرتا ہوں کہ اس کے بغیر کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور میں مسلمان ہوتا ہوں تو ارشاد ہوا اب مانتا ہے جب وقت نکل گیا اور جب ماننے کا وقت تھا تب نافرمانی کرتارہا ا ب جب موت سامنے ہے برزخ نظرآنے لگا عذاب روبرو ہیں تو ماننے کا کیا حاصل کہ جب موت کا عمل شروع ہوجائے تو دنیا کی حیات ختم ہوچکی نہ صرف ایمان معتبر ہے بلکہ کسی مومن کے منہ سے کوئی کلمہ کفر بھی نکل جائے تو معتبرنہ ہوگا اور اسے مومن ہی سمجھاجائے گا یہی بات ارشادات نبوی سے ثابت ہے کہ اللہ توبہ قبول فرماتے رہتے ہیں حتی کہ موت کا غرغرہ شروع ہوجائے چناچہ ارشاد ہوا کہ آج تیرے بدن کو سمندر سے نکال کر باہررکھیں گے کہ ثو اپنے سے آنے کے لئے بھی باعث عبرت بن جائے کہ اکثرلوگ اللہ کی قدرت اور اس کی نشانیوں سے غافل رہتے ہیں چناچہ اسی وقت سمندرنے اس کی لاش باہر پھینک دی کہ بنی اسرائیل بھی اس کی تباہی کا نظارہ کریں اور بعد میں وادی شاہاں سے اس کا بدن محفوظ صورت میں برآمدہواجو آج تک قاہرہ کے عجائب گھر میں درس عبرت بنا ہوا رکھا ہے جب فرعون کی لاش برآمدہوئی تو تحقیق کرنے والے سائنسدان بھی اگرچہ عیسائی تھے اور عیسائی پادریوں نے ان سے زور لگایا کہ یہ نہ کہاجائے کہ یہ وہ فرعون ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں غرق ہوا مگر انھوں نے کہا یہ ہماری مجبوری ہے ورنہ جو کوئی دوسرا تحقیق کرے گا کہہ دے گا کہ صرف اس فرعون کی کھال اور بدن میں سمندری نمکیات کا اثر ہے باقی کسی لاش میں پچھلے آنے والوں کے لئے عبرت کانشان بنی ہوئی ہے ۔
Ayahs 10:93–103

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور یقینا بنی اسرائیل کو ہم نے رہنے کی عمدہ جگہ دی اور نہیں کھانے کو پاکیزہ چیزیں عطا کیں پھر وہ باوجود علم آجانے کے اختلاف کرتے رہے بیشک آپ کا پروردگار ان میں قیامت کے دن فیصلہ فرما دے گا جس چیز میں وہ اختلاف کرتے تھے

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

پھر اگر (بالفرض) آپ کو اس (کتاب) میں کوئی شبہ ہو جس کو ہم نے آپ کے پاس بھیجا ہے تو آپ ان لوگوں سے پوچھ لیجئے جو آپ سے پہلے (کی) کتاب کو پڑھتے ہی۔ بیشک آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ کے پاس حق آچکا سو آپ کو ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا چاہیے

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ورنہ آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں کے بارے آپ کے پروردگار کا حکم (کہ ایمان نہ لائیں گے) آچکا وہ ایمان نہیں لائیں گے

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

اور اگرچہ ان کے پاس ہر طرح کی نشانی آجائے یہاں تک کہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

چناچہ کیوں کوئی بستی (ہلاک شدگان میں سے) ایمان نہ لائی کہ اس کا ایمان لانا اسے نفع دیتا ہاں مگر یونس (علیہ السلام) کی قوم جب وہ ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوائی کے عذاب کو ٹال دیا اور ایک خاص وقت (مدت العمر) تک ان کو فوائد (دنیا) سے بہرہ مند رکھا

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے (جب یہ بات ہے) تو کیا آپ لوگوں پر زبردستی کرسکتے ہیں یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

اور کسی شخص کا اللہ کے حکم کے بغیر ایمان لانا ممکن نہیں اور بےعقل لوگوں پر وہ (کفر کی) گندگی ڈالتے ہیں

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

(ان سے) فرمائیے دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ ہے اور جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ان کو نشانیاں اور ڈرانے والے کام نہیں آتے

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

سو کیا وہ (ایسے برے دنوں کا) انتظار کر رہے ہیں جیسے (برے) دن ان سے پہلے لوگوں پر گزر چکے فرمائیے پس انتظار کرو بیشک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

پھر ہم اپنے پیغمبروں اور ایمان والوں کو بچا لیتے ہیں اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو نجات دیں

آیات 93 تا 103 اسرار و معارف پھر ان نعمتوں کا تذکرہ جو بنی اسرائیل کو عطاہوئیں کہ بظاہرفرعون اور اس کی ساری حکومت انھیں رسوا کرنے پہ کمرباندھے ہوئے تھی کوئی ظاہری سبب ان کی نجات کا نہ تھا کہ انھوں نے اللہ پر بھر وسہ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی میں نکل کھڑے ہوئے تو فرعون اور اس کا لشکرتباہ ہوگئے اور نبی اسرائیل کو وہ خوبصورت اور سرسبز و شاداب وادی جو انبیائے سابقین کا مسکن بھی تھی اور دنیاوی ودینی اعتبار سے ان کی پسنددیدہ بھی تھی یعنی اردن و فلسطین کی ارض مقدسہ عطاہوئی اور سلطنت مصر بھی انہی کو مل گئی اور بہترین نعمتیں بھی بطور رزق نصیب ہوئیں۔ آباد گھر تنومنداولاداچھی بیویاں شاداب کھیتیاں پررونق شہر اور بازار اللہ کا دین اور اس کا علم مسلسل نورنبوت اور یکے بعد دیگرے انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت اور بارعب اقتدار غرض دنیا وآخرت کی نعمتوں سے مالامال کردیا۔ لیکن ان بےنصیبوں نے بھی تب اختلاف کیا جب ان کے پاس آپ ﷺ کی بعثت کے سبب اور نزول قرآن کے باعث یقینی خبرآپہنچی جو پیشگوئی ان کی کتب میں تھی اور جس پر ایمان رکھتے تھے جس کے طفیل دعائیں مانگتے تھے جب وہ ہستی مجسم مبعوث ہوکرسامنے آئی تو اختلاف میں پڑگئے انعامات الٰہیہ کی قدرنہ کی مگر اللہ کی گرفت سے بچ تو نہ سکیں گے کہ اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے کہ ہر عمل پر اس کا پھل لگایا جائے چناچہ روزحساب ان کے اختلاف کا فیصلہ بھی کردیا جائے گا جس کے اثرات انھوں نے دنیا میں ذلیل اور تباہ ہوکربھگت لئے اور بھگت رہے ہیں ۔ شبہات کو پوچھ کر صاف کرنا چاہیئے لہٰذا اے مخاطب اے اللہ کی کتاب کو پڑھنے سننے والے تجھے بھی اس میں ہرگز کوئی شبہ نہ ہونا چاہیئے اور اگر ایسا ہے تو اہل علم سے جاکرتحقیق کر اور اپنے شبہات دور کرلے۔ یعنی اگر کوئی بھی شخص قرآن کی خبر یا حکم کے بارے کسی مخمصے کا شکارہوتو چھپاکرنہ رکھے بلکہ اہل علم سے جاکر تحقیق کرکے صحیح صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کرے اور علماء کافریضہ ہے کہ ایسے افراد کی مدد کریں اور انھیں شبہات کی دلدل سے نکالیں ۔ اور اے مخاطب ! یقینا اللہ کا کلام جو تجھے پہنچا ، یہ حق ہے اور تیرے پروردگار کی طرف سے ہے یہ اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے کہ انسانوں کی راہنمائی فرمائے لہٰذا اس میں کسی ادنی ترین شبہ کی بھی گنجائش نہیں ۔ اور کبھی بھول کر بھی اللہ کی آیات کا انکار کرنے والوں میں شامل نہ ہونا ورنہ دوعالم کا خسارہ تیرے حصے میں ہوگا۔ ہاں ! ان لوگوں کی بات الگ ہے جنہوں نے اس قدرنافرمانی کی کہ بطور سزا اور بطور ان گناہوں کے ثمر کے ان کو ہدایت کی استعداد سے محروم کردیا گیا اور جہنم ان کا مقدرٹھہرا۔ یقینا ایسے لوگ ایمان نہ لائیں گے انھیں لاکھوں دلائل دیئے جائیں یا وہ روشن ترین معجزات کا مشاہدہ کریں انھیں ایمان نصیب ہی نہ ہوگا کہ وہ درد ناک عذاب کو دیکھیں موت کے وقت یابرزخ میں تب مانیں گے جب ماننا کوئی نفع نہ دے گا اور سوائے یونس (علیہ السلام) کی بستی والوں کے کسی قوم کو ایمان نصیب نہ ہوا جو انھیں عذاب کے اس قدر قریب آجانے پر کام آجاتا اور بچالیتا ہاں وہ عذاب کے آثار دیکھ کر ایمان لے آئے تو اللہ نے ان سے عذاب ہٹالیا جو دنیا میں بھی انھیں ذلیل اور تباہ کردیتا اور انھیں پھر ایک مدت تک مہلت عطافرمادی گئی۔ قوم یونس (علیہ السلام) کا واقعہ اور مفسرین کرام یونس (علیہ السلام) کی قوم کا مسکن عراق اور موصل کی سرزمین میں نینوی کی مشہور بستی تھی اور ایک لاکھ کے لگ بھگ لوگ تھے انھوں نے ایمان قبول نہ کیا حتی کہ یونس (علیہ السلام) کو خبردی گئی کہ ان پر عذاب نازل ہوگا۔ چناچہ انھوں نے یہ اعلان فرمادیا کہ تین روز کے اندرتم لوگ تباہ ہوجاؤگے اور خودرات کو وہاں سے نکل گئے ۔ لوگوں کو یہ بات سن کر فکر ہوئی ۔ انھوں نے مشورہ کیا کہ دیکھاجائے کیا یونس (علیہ السلام) خود بستی میں رہتے ہیں یابستی چھوڑ دیتے ہیں کہ انھوں نے زندگی بھر جھوٹ نہیں بولا ۔ چناچہ دوسرے روزانھیں نہ پایا اور آسمان پر تاریکی پھیلتی دیکھی تو سب ایمان لے آئے۔ پہلے انھیں تلاش کیا نہ ملے تو بستی سے باہر میدان میں مرد عورتیں بچے بوڑھے سب جمع ہوکرتوبہ اور آہ فریاد کرنے لگے چناچہ اللہ کریم نے عذاب ہٹادیا اور ان کی توبہ قبول ہوئی اور یہ منفرد واقعہ عین قانون فطرت کے مطابق تھا کہ موت یا عذاب کے شروع ہونے سے پیشترتوبہ کرلی اگر عذاب کا وقوع شروع ہوجاتا جیسا کہ فرعون پر ہوچکا تھا تو توبہ قبول نہ ہوتی کہ وہ بعدازوقت ہوتی ۔ مفسرین کرام کے مطابق یہ واقعہ فرعون کے قصہ کے متصل بیان کرنے سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اللہ کتناکریم ہے اور کن آخری لمحات تک کافر کی توبہ بھی قبول فرمالیتا ہے۔ ادھر یونس (علیہ السلام) باہر ان کی تباہی کے منتظر تھے جب انھوں نے دیکھا ، تاریکی کے بادل چھٹ گئے اور عذاب واقع نہیں ہواتو انھیں اس بات کا سخت ملال ہوا کہ لوگ مجھے جھوٹا کہیں گے اور عذاب واقع نہ ہونے کو بطور ثبوت اچھالیں گے تو وہ بحیرہ روم میں ایک کشتی میں سوار ہوگئے کہ کہیں دورنکل جاؤں مگر اللہ کو یہ بات پسندنہ آئی چناچہ درمیان میں کشتی رک گئی ۔ لوگوں نے کہا کہ کوئی بھاگا ہوا غلام اس میں سوار ہے ۔ تو آپ کو احساس ہوا۔ فرمایا میں ہوں مجھے دریا میں ڈال دو ۔ پھر بھی لوگوں نے قرعہ ڈال کر دیکھا جو آپ ہی کے نام پہ نکلا تو دریا میں ڈال دیئے گئے جہاں ایک بہت بڑی مچھلی نے اللہ کے حکم سے نگل لیا اور اللہ نے وہاں ان کا ٹھکانہ بنادیا جہاں وہ مختلف روایات کے اعتبار سے چالیس روز یا سات روز یا پانچ روزیا چندگھنٹے ہی رہے اور اللہ سے دعا کی جو قرآن میں مذکور ہے لا ا لہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین “ چناچہ اللہ نے دعاقبول فرمائی مچھلی نے کنارے پہ اگل دیا جہاں اللہ نے بیلیں اگادیں اور جنگلی بکری مقرر کردی جس کادودھ پی لیتے اور آخر قوم نے انھیں ڈھونڈ نکالا تو اس سارے واقعہ میں ان کی فطری شرم جو اپنے غلط ثابت ہونے پر انھیں لاحق ہوئی شان نبوت یہ تھی کہ وہ اللہ کے حکم کا انتظار فرماتے مگر فطری حیانے جلدی پہ مجبور کردیا تو یہ بات بھی قابل گرفت ٹھہری اللہ نے معجزاتی طور پر راستہ روک دیا اور اس میں مزید عظمت پیدا کردی اور ان کے وجود سے بہت سے معجزات ظاہر فرمادیئے ۔ نیزانھیں اس لغزش سے آگاہ فرمادیا اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی شان یہی ہوتی ہے کہ انھیں معمولی لغزش پر بھی متنبہ کردیا جاتا ہے یہی ان کی عصمت کا تقاضا ہے اور یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے۔ یہ مفہوم جو عرض کیا گیا اکثرتفاسیر کا خلاصہ ہے روح المعانی زمحشری مظہری قرطبی بجرمحیط طبری اور ابن کثیروغیرہم سب نے الفاظ کے اختلاف سے واقعہ کی اصل اسی قدر بیان فرمائی ہے بخلاف مولانا مودودی صاحب کی تفہیم القرآن کے جس میں انھوں نے دوسری جلد کے صفحہ 312 پر لکھا ہے کہ صحیفہ یونس کی تفصیلات پر غور کرنے سے اتنی بات صاف معلوم ہوجاتی ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) سے فریضہ رسالت ادا کرنے میں کچھ کوتاہیاں ہوگئی تھیں ۔ اھ۔ “ انھوں نے یہ بات چندسطورآگے تک لکھی ہے مگر یہ محض ان کی ذاتی رائے ہے جو اجماعی عقیدے کے خلاف اور صریح کفر ہے کہ نبی کے بارے یہ ایمان رکھاجائے کہ اس نے ادائے رسالت میں کوتاہی کی تو پھر عصمت کس بات کی اور نبوت کا کیا مقام ، العیاذابا للہ۔ حق یہ ہے کہ انھوں نے سب مفروضے تراشے ہیں اول تو صحیفہ یونس کا اعتبارہی نہیں دوسرے عذاب کا ٹل جاناخلاف دستور فرض کرلیا حالانکہ یہ عین دستورالٰہی کے مطابق تھا ۔ پھر یہ فرض کرلیا کہ نبی نے اللہ کا قانون توڑا تھا اور فریضہ دعوت کو چھوڑ کر بھاگ گئے تو یہ سب غلط اور ناجائز ہے اور ایسا ایمان رکھنا قطعی کفر ہے میں نہیں کہہ سکتا کہ اس پر علماء نے گرفت نہ کی ہو اور یہ فتوی نہ دیا ہو۔ بلکہ یہاں تو بطورمثال یہ واقعہ بھی نقل فرمادیا کہ کہ توبہ کی قبولیت کب تک ہوتی ہے اور کب توبہ قبول نہیں ہوتی ۔ جیسے فرعون نے بھی توبہ کی اور قوم یونس نے بھی نیزان کا واپس نہ جانا اپنی رائے کے غلبہ سے تھا جو شان نبوت کے شایان نہ تھا نیزان کا گمان تھا کہ اس پر گرفت نہ ہوگی مگر اللہ نے اس پر تنبیہہ فرمادی مچھلی کر پیٹ میں رہناپڑایہ بھی اگرچہ ان کے لئے تنبیہہ تھی مگر لوگوں پر ان کی عظمت کے اظہارکاسبب تھی تحقیق کرنے والوں کو مقام نبوت کا پاس ضروری ہے شایدیہ بات کہ دین بیان کرنے میں انھوں نے کوتاہی کی خودمولانامودودی صاحب کے بارے کہی جائے تو نہ انھیں گوارہونہ ان کے متبعین کو۔ تو پھر ایک نبی کیلئے یہ الفاظ وہ کس جرأت سے کہتے ہیں ۔ اللہ کریم اس فتنے سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے ۔ اگر آپ کے پروردگار چاہتے توروئے زمین پر کوئی کافرنہ رہتا اور سب لوگ ایمان لے آتے مگر انھیں یہ زبردستی پسند نہیں لہٰذایہ کام انسان کی اپنی صوابدیدپر چھوڑدیا کہ چاہے تو ایمان لائے یا پھر نہ لاکر بھی دیکھ لے۔ لہٰذا آپ ﷺ بھی شدید خواہش و تمنا کے باوجود لوگوں کو زبردستی نور ایمان نہیں دے سکتے اور کوئی بھی انسان اللہ کے مقررکردہ اصول کے خلاف ایمان قبول نہیں کرسکتا کہ وہ اس کی آیات دیکھ کر اپنے دل کی گہرائی سے یہ فیصلہ کرے تو ایمان نصیب ہوگا ورنہ نہیں بلکہ قانون قدرت یہ ہے کہ جو لوگ اس بارہ میں سوچنا ہی گوارا نہیں کرتے اور عقل کو کام میں نہیں لاتے ان کے حصہ میں کفر کی غلاظت ہی آتی ہے ۔ آپ ان سے فرمادیجئے کہ ذرا ارض وسما میں غورکریں ایک ایک ذرہ ایک ایک پتہ آسمان کا ایک ایک ستارہ گردش لیل ونہار نظام کائنات کیا یہ اس کی عظمت کے کم گواہ ہیں ؟ لیکن بدنصیبوں کے گناہ اسقدربڑھ چکے کہ انھیں ایمان لانے کی استعدادہی سے محروم کرگئے انھیں نہ یہ دلائل فاعدہ دے سکتے ہیں اور نہ نزول عذاب یا اخرت کے عذاب کی دھکیاں ۔ اب تو ان کا یہ عملا حال ہے کہ پہلے تباہ ہونے والی اقوام کی طرح یہ بھی اپنے انجام کے منتظر ہیں ۔ آپ فرمادیجئے کہ میں بھی فیصلے کی گھڑی کا منتظر ہوں اس لئے کہ وقت آنے پر ہم ہمیشہ اپنے رسولوں کو اور ان کا اتباع کرنے والوں کو بچالیا کرتے ہیں ۔ یہی ہماری شان کے مناسب ہے کہ ہم اپنے چاہنے والوں کو ہمیشہ محفوظ رکھیں ۔
Ayahs 10:104–109

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

فرما دیجئے اے لوگو ! اگر تم کو میرے دین میں شک ہو تو جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا و لیکن میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری جان قبض کرتا ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور یہ کہ آپ یکسو ہو کر دین حنیف کی پیروی کریں اور ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہوئیے گا

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور یہ کہ اللہ کے سوا کسی کو مت پکارئیے جو نہ آپ کا کچھ سنوار سکے اور نہ بگاڑ سکے پھر اگر آپ نے ایسا کیا تو یقینا غلط کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ آپ کو کوئی تکلیف پہنچا دیں تو کوئی اسے دور کرنے والا نہیں سوائے اس کے اور اگر وہ آپ کو راحت پہنچانا چاہیں تو کوئی اس کے فضل کو ہٹانے والا نہیں وہ اسے (اپنے فضل کو) اپنے بندوں میں جسے چاہیں پہنچائیں۔ اور وہ بخشنے والے مہربان ہیں

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

فرما دیجئے اے لوگو ! بیشک تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق آچکا سو جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے پس بیشک وہ تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلائی کرتا ہے اور جو کوئی گمراہ رہتا تو یقینا وہ گمراہی سے اپناہی نقصان کرتا ہے اور میں تم پر داروغہ نہیں ہوں

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور آپ کو جو حکم بھیجا جاتا ہے اس کی پیروی کریں اور (تکلیفوں پر) صبر کریں یہاں تک کہ اللہ فیصلہ فرمادیں اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں میں سے اچھے فیصلہ کرنے والے ہیں

آیات 104 تا 109 اسرار و معارف آپ عالم انسانیت کو مطلع فرمادیجئے کہ اے لوگو ! اگر تمہیں میرے دین میں کوئی شک ہو تو غور سے سنو کہ اللہ کے علاوہ تم جس قدر معبود مقررکررکھے ہیں میرے دین میں ان کی کوئی حیثیت نہیں اور میں انھیں پرکاہ وقعت نہیں دیتانہ میں ان کی اطاعت کرتا ہوں میراسرنیاز صرف اور صرف اس ذات واحد کے سامنے جھکتا ہے جو تمہارا بھی رب ہے جو تمہیں موت دیتا ہے اور تم بھی اسی کے دربار کی طرف کھنچے چلے جاتے ہو تمہارے مفروضہ معبود تمہیں ہرگز نہیں بچاسکتے اور اسی نے مجھے ایسا ایمان رکھنے کا حکم دیا میرادین میرے رب کا ارشاد کردہ ہے عقل انسانی کی ایجاد نہیں جیسے تمہارے مذاہب ہیں ۔ اس نے اپنے ماننے والوں کو فرمادیا ہے کہ بالکل سیدھے سیدھے چلیں اور اس کی ذات کے ساتھ رائی برابر بھی ٹیڑھاپن نہ رکھیں کہ اسے بھی مانیں اور کسی اور کو بھی کسی بھی امر میں اس کا ہم پلہ جانیں ہرگز ایسے مشرکانہ عقیدہ کے قریب نہ جائیں ۔ یہ بھی فرمادیا ہے کہ اس کی ذات واحد کے علاوہ کسی کونہ پکار جائے بطور مددگار ومعاون کہ سوائے اس کے کوئی بھی دوسرانہ نفع پہنچاسکتا ہے اور نہ ہی کچھ بگاڑ سکتا ہے ۔ اگر کسی نے اللہ کے علاوہ کسی دوسرے سے یہ امیدرکھی یا اس کے خوف سے اس کی اطاعت اللہ کے مقابلہ میں اختیار کی تو اس نے بہت بڑاظلم کیا۔ اس لئے کہ اے مخاطب ! اگر اس کا عذاب تجھے پکڑلے تو کوئی چھڑا نہیں سکتا جب تک وہ خود اس سے نجات نہ دے اور اگر وہ انعام کرنا چا ہے تو کوئی بھی نہیں جو روک سکے اور نہ کوئی اسے کسی کو دینے پہ مجبور کرسکتا ہے کہ وہ اپنی پسند سے اپنے بندوں کو انعامات عطافرماتا ہے وہ بہت بڑامہربان اور بخشنے والا ہے۔ مراقبات ومقامات یہی حال تصوف میں مراقبات ومقامات کا ہے کہ شیخ تو شاید کسی کی ظاہری باتوں سے زیادہ متاثر ہو مگر اللہ ترقی اسے دیتا ہے جس کے دل میں زیادہ خلوص ہو۔ حضرت فرمایا کرتے تھے کہ بعض لوگوں کے لئے میں کوشش کرتا ہوں مگر انھیں وہ مقامات حاصل نہیں ہوتے جبکہ بعض کو بغیر میری خاص توجہ کے نصیب ہوجاتے ہیں ۔ اس لئے کہ یہ اللہ کی جانب سے تقسیم ہوتے ہیں۔ لہٰذافرمادیجئے کہ لوگو ! تمہارے رب کی شان ربوبیت کا تقاضا تھا لہٰذا اس نے حق تمھاپ اس پہنچادیا۔ اب اگر کوئی حق کو قبول کرتا ہے تو یقینا اپنے ذاتی نفع کے لئے کرتا ہے اور جو کوئی گمراہی اختیار کرتا ہے اس کا وبال بھی اس کی ذات پہ ہوگا میرامنصب رسالت ہے اللہ کا حکم پہنچانا ہے میں تم پر داروغہ مقرر نہیں کیا گیا کہ تمہیں زبردستی ہانک کر اسلام میں داخل کروں ۔ اور اے حبیب ! جو اللہ کا ارشاد بذریعہ وحی آتا ہے وہی آپ کالائحئہ عمل ہے اگر اس راہ میں مشکلات و تکالیف بھی ہوں تو صبر کے ساتھ جمارہناہی ضروری ہے تا وقتیکم اللہ کا حکم آجائے ۔ یعنی حق و باطل میں فرق ظاہر ہوجائے یا زندگی اس راہ میں صرف ہوجائے کہ اللہ ہی بہترفیصلہ کرنے والے ہیں ۔