11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

سورة ہود تعارف یہ سورت بھی مکی ہے، اور اس کے مضامین پچھلی سورت کے مضامین سے ملتے جلتے ہیں، البتہ سورة یونس میں جن پیغمبروں کے واقعات اختصار کے ساتھ بیان ہوئے تھے، اس سورت میں انہیں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، خاص طور پر حضرت نوح، حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت شعیب، اور حضرت لوط (علیہم السلام) کے واقعات زیادہ تفصیل سے انتہائی بلیغ اور موثر اسلوب میں بیان فرمائے گئے ہیں۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی بڑی بڑی زور آور قوموں کو تباہ کرچکی ہے، اور جب انسان اس نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے قہر اور عذاب کا مستحق ہوجائے تو چاہے وہ کتنے بڑے پیغمبر سے قریبی رشتہ رکھتا ہو، اس کا یہ رشتہ اسے عذاب الہی سے نہیں بچا سکتا، جیسا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کو نہیں بچا سکا۔ اس سورت میں عذاب الہی کے واقعات اتنے موثر انداز میں بیان ہوئے ہیں اور دین پر استقامت کا حکم اتنی تاکید سے فرمایا گیا ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے سورة ہود اور اس جیسی سورتوں نے بوڑھا کردیا ہے، ان سورتوں میں جو تنبیہ کی گئی ہے اس کی بنا پر آپ کو اپنی امت کے بارے میں بھی یہ خوف لگا ہوا تھا کہ کہیں وہ بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے اسی طرح کے کسی عذاب کا شکار نہ ہوجائے۔

Ayahs 11:1–2

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

الر (1) یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتوں کو (دلائل سے) مضبوط کیا گیا ہے، (2) پھر ایک ایسی ذات کی طرف سے ان کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جو حکمت کی مالک اور ہر بات سے باخبر ہے۔

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

(یہ کتاب پیغمبر کو حکم دیتی ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہیں) کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، میں اس کی طرف سے تمہیں آگاہ کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔

1: جیسا کہ پچھلی سورت میں عرض کیا گیا، ان حروف کو مقطعات کہتے ہیں، اور ان کے صحیح معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہیں 2: مضبوط کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ دلائل کے لحاظ سے مکمل ہیں اور ان میں کوئی نقص نہیں ہے۔
Ayahs 11:3–4

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ (ہدایت دیتا) کہ : اپنے پروردگار سے گناہوں کی معافی مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ (3) وہ تمہیں ایک مقرر وقت تک (زندگی سے) اچھا لطف اٹھانے کا موقع دے گا، اور ہر اس شخص کو جس نے زیادہ عمل کیا ہوگا، اپنی طرف سے زیادہ اجر دے گا۔ اور اگر تم نے منہ موڑا تو مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

اللہ ہی کے پاس تمہیں لوٹ کر جانا ہے، اور وہ ہر چیز کی پوری قدرت رکھتا ہے۔

3: یہاں رجوع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ صرف معافی مانگ لینا کافی نہیں، آئندہ کے لیے گناہوں سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے کا عزم بھی ضروری ہے۔
Ayahs 11:5–6

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

دیکھو یہ (کافر) لوگ اپنے سینوں کو اس سے چھپنے کے لیے دہرا کرلیتے ہیں۔ یاد رکھو جب یہ اپنے اوپر کپڑے لپیٹتے ہیں، اللہ ان کی وہ باتیں بھی جانتا ہے جو یہ چھپاتے ہیں، اور وہ بھی جو یہ علی الاعلان کرتے ہیں، (4) یقینا اللہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کا (بھی) پورا پورا علم رکھتا ہے۔

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ نے اپنے ذمے نہ لے رکھا ہو وہ اس کے مستقل ٹھکانے کو بھی جانتا ہے، اور عارضی ٹھکانے کو بھی۔ ہر بات ایک واضح کتاب میں درج ہے۔

4: بہت سے مشرک لوگ آنحضرت ﷺ کا سامنا کرنے سے اپنے آپ کو بچاتے تھے ؛ تاکہ آپ کی کوئی بات ان کے کان میں نہ پڑے، چنانچہ کبھی آنحضرت ﷺ نظر آتے تو وہ اپنے سینوں کو دہرا کرکے اور اپنے اوپر کپڑے لپیٹ کر وہاں سے کھسک جاتے تھے، اسی طرح بعض احمق کوئی گناہ کا کام کرتے تو اس وقت بھی اپنے آپ کو چھپانے کے لئے دہرے ہوجاتے، اور اپنے اوپر کپڑے لپیٹ لیتے، اور اس طرح یہ سمجھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے چھپ گئے، یہ آیت ان دونوں قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ کررہی ہے۔
Ayah 11:7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمام آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ (5) تاکہ تمہیں آزمائے کہ عمل کے اعتبار سے تم میں کون زیادہ اچھا ہے۔ (6) اور اگر تم (لوگوں سے) یہ کہو کہ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ یہ کہیں گے کہ یہ کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں ہے۔ (7)

5: اس سے معلوم ہوا کہ عرش اور پانی کی تخلیق زمین اور آسمانوں سے پہلے ہوچکی تھی۔ اور مفسرین نے فرمایا کہ آسمانوں سے مراد عالم بالا کی تمام چیزیں ہیں۔ اور زمین سے مراد نیچے کی تمام چیزیں ہیں۔ اور سورة حم السجدہ (آیت 10، 11) میں اس تخلیق کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔ 6: اس آیت نے واضح فرما دیا ہے کہ اس کائنات کو پیدا کرنے کا اصل مقصد انسان کی آزمائش ہے۔ اور آزمائش یہ ہے کہ کون اچھا عمل کرتا ہے، یہ نہیں کہ کون زیادہ عمل کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نفلی اعمال کی گنتی سے زیادہ انسان کو اس کی فکر کرنی چاہیے کہ اس کا عمل اخلاص اور خضوع و خشوع کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہو۔ 7: یعنی یہ قرآن جو آخرت کی زندگی کی خبر دے رہا ہے، یہ (معاذ اللہ) جادو ہے۔
Ayahs 11:8–11

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر ہم ان لوگوں سے کچھ عرصے کے لیے عذاب کو موخر کردیں تو وہ یہی کہتے رہیں گے کہ : آخر کس چیز نے اس (عذاب) کو روک رکھا ہے ؟ (8) ارے جس دن وہ عذاب آگیا تو وہ ان سے ٹلائے نہیں ٹلے گا، اور جس چیز کا یہ مذاق اڑا رہے ہیں، وہ ان کو چاروں طرف سے گھیر لے گی۔

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور جب ہم انسان کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ چکھاتے دیتے ہیں، پھر وہ اس سے واپس لے لیتے ہیں تو وہ مایوس (اور) ناشکرا بن جاتا ہے۔

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اسے نعمتوں کا مزہ چکھا دیں تو وہ کہتا ہے کہ ساری برائیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ (اس وقت) وہ اترا کر شیخیاں بگھارنے لگتا ہے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

ہاں ! مگر جو لوگ صبر سے کام لیتے ہیں، اور نیک عمل کرتے ہیں وہ ایسے نہیں ہیں، ان کو مغفرت اور بڑا اجر نصیب ہوگا۔

8: یہ بات کہہ کر وہ در اصل آخرت اور عذاب الٰہی کا مذاق اڑاتے تھے۔
Ayah 11:12

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

پھر (اے پیغمبر) جو وحی تم پر نازل کی جارہی ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ تم اس کا کوئی حصہ چھوڑ بیٹھو ؟ اور اس سے تمہارا دل تنگ ہوجائے ؟ (9) کیونکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ : ان (محمد ﷺ پر کوئی خزانہ کیوں نازل نہیں ہوا، یا کوئی فرشتہ ان کے ساتھ کیوں نہیں آیا ؟ تم تو ایک آگاہ کرنے والے ہو، اور اللہ ہے جو ہر چیز کا مکمل اختیار رکھتا ہے۔

9: مشرکین آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ ہمارے بتوں کو برا کہنا چھوڑ دیں تو ہمارا آپ سے کوئی جھگڑا نہیں رہے گا۔ اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ کے لیے یہ تو ممکن نہیں ہے کہ جو وحی آپ پر نازل کی جا رہی ہے، اس کا کوئی حصہ آپ ان لوگوں کو راضی کرنے کے لیے چھوڑ بیٹھیں۔ لہذا ان کی ایسی باتوں سے آپ زیادہ رنجیدہ نہ ہوں، کیونکہ آپ کا کام تو یہ ہے کہ انہیں حقیقت سے آگاہ فرما دیں اس کے بعد یہ لوگ مانیں، یا نہ مانیں، یہ آپ کی نہیں، خود ان کی ذمہ داری ہے۔ اور یہ لوگ جو فرمائشیں کر رہے ہیں کہ آپ پر کوئی خزانہ نازل ہو، تو بھلا نبوت کا خزانے سے کیا تعلق ہے ؟ تمام تر اختیار اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ وہ اپنی حکمت کے تحت فیصلہ فرماتا ہے کہ کونسی فرمائش پوری کرنی چاہیے اور کونسی نہیں۔ واضح رہے کہ یہ ترجمہ بعض مفسرین کے اس قول پر مبنی ہے۔ قیل : ان لعل ھنا لیست للترجی بل للتعبید۔ وقیل انھا للاستفہام الانکار۔ (روح المعانی ج :12 ص : 307، 706)
Ayahs 11:13–14

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

بھلا کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ وحی اس (پیغمبر) نے اپنی طرف سے گھڑ لی ہے ؟ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ : پھر تو تم بھی اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں بنا لاؤ، (10) اور (اس کام میں مدد کے لیے) اللہ کے سوا جس کسی کو بلا سکو بلا لو، اگر تم سچے ہو۔

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

اس کے بعد اگر یہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو (اے لوگو) یقین کرلو کہ یہ وحی صرف اللہ کے علم سے اتری ہے، اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ تو کیا اب تم فرمانبردار بنو گے ؟

10: شروع میں ان کو دس سورتیں قرآن جیسی بنا کر لانے کا چیلنج دیا گیا تھا۔ بعد میں اس چیلنج کو مزید آسان کردیا گیا۔ اور سورة بقرہ (23:2) اور سورة یونس (38:10) میں صرف ایک سورت بنا کر لانے کو کہا گیا۔ مگر مشرکین عرب جو اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز کرتے تھے، ان میں سے کوئی بھی چیلنج کو قبول نہ کرسکا۔
Ayahs 11:15–16

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو لوگ (صرف) دنیوی زندگی اور اس کی سج دھج چاہتے ہیں، ہم ان کے اعمال کا پورا پورا صلہ اسی دنیا میں بھگتا دیں گے، اور یہاں ان کے حق میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (11)

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں دوزخ کے سوا کچھ نہیں ہے، اور جو کچھ کارگزاری انہوں نے کی تھی، وہ آخرت میں بیکار ہوجائے گی، اور جو عمل وہ کر رہے ہیں، (آخرت کے لحاظ سے) کالعدم ہیں۔

11: کافر لوگ جو آخرت پر تو ایمان نہیں رکھتے، اور جو کچھ کرتے ہیں، دنیا ہی کی خاطر کرتے ہیں، ان کی نیکیوں، مثلا صدقہ خیرات وغیرہ کا صلہ دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے، آخرت میں ان کا کوئی ثواب نہیں ملتا، کیونکہ ایمان کے بغیر آخرت میں کوئی نیکی معتبر نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان کوئی نیک کام صرف دنیوی شہرت یا دولت وغیرہ حاصل کرنے کے لیے کرے تو اسے دنیا میں تو وہ شہرت یا دولت مل سکتی ہے۔ لیکن اس نیکی کا ثواب آخرت میں نہیں ملتا۔ بلکہ واجب عبادتوں میں اخلاص کے فقدان کی وجہ سے الٹا گناہ ہوتا ہے۔ آخرت میں وہی نیکی معتبر ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے کی گئی ہو۔
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

بھلا بتاؤ کہ وہ شخص (ان کے برابر کیسے ہوسکتا ہے) جو اپنے رب کی طرف سے آئی ہوئی روشن ہدایت (یعنی قرآن) پر قائم ہو، جس کے پیچھے اس کی حقانیت کا ایک ثبوت تو خود اسی میں آیا ہے، (12) اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی (اس کی حقانیت کا ثبوت ہے) جو لوگوں کے لیے قابل اتباع اور باعث رحمت تھی۔ ایسے لوگ اس (قرآن پر) ایمان رکھتے ہیں۔ اور ان گروہوں میں سے جو شخص اس کا انکار کرے، تو دوزخ ہی اس کی طے شدہ جگہ ہے۔ لہذا اس (قرآن) کے بارے میں شک میں نہ پڑو۔ یقین رکھو کہ یہ حق ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لارہے۔

12: یعنی قرآن کریم کی حقانیت کا ایک ثبوت تو خود قرآن کریم کا اعجاز ہے، جس کا مظاہرہ پیچھے آیت نمبر 13 میں ہوچکا ہے کہ ساری دنیا کو اس جیسا کلام بنا لانے کا چیلنج دیا گیا، مگر کوئی آگے نہ بڑھا۔ اور دوسرا ثبوت حضرت موسیٰ علیہ السلا پر نازل ہونے والی تورات ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علی ہو سلم کی تشریف آوری کی خبر اور آپ کی علامتیں واضح طور پر بتائی گئی تھیں۔
Ayah 11:18

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے ؟ ایسے لوگوں کی ان کے رب کے پاس پیشی ہوگی، اور گواہی دینے والے کہیں گے کہ : یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹی باتیں لگائی تھیں۔ (13) سب لوگ سن لیں کہ اللہ کی لعنت ہے ان ظالموں پر۔

13: گواہی دینے والوں میں وہ فرشتے بھی شامل ہیں جو انسانوں کے اعمال پر لکھنے پر مقرر ہیں، اور وہ انبیائے کرام (علیہم السلام) بھی جو اپنی اپنی امتوں کے بارے میں گواہی دیں گے۔
Ayah 11:19

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو اللہ کے راستے سے دوسروں کو روکتے تھے، اور اس میں کجی تلاش کرتے تھے (14) اور آخرت کے تو وہ بالکل ہی منکر تھے۔

14: یعنی دین حق کے بارے میں طرح طرح کے اعتراضات نکال کر اس کو ٹیڑھا ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
Ayahs 11:20–30

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

ایسے لوگ روئے زمین پر کہیں بھی اللہ سے بچ کر نہیں نکل سکتے، اور اللہ کے سوا انہیں کوئی یارومددگار میسر نہیں آسکتے۔ ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا۔ (15) یہ (حق بات کو نفرت کی وجہ سے) نہ سن سکتے تھے، اور ان کو (حق) سجھائی دیتا تھا۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کے لیے گھاٹے کا سودا کرلیا تھا، اور جو معبود انہوں نے گھڑ رکھے تھے، انہیں ان کا کوئی سراغ نہیں ملے گا۔

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

لامحالہ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

(دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں اور وہ اپنے پروردگار کے آگے جھک کر مطمئن ہوگئے ہیں، تو وہ جنت کے بسنے والے ہیں، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

ان دو گروہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا ہو، اور دوسرا دیکھتا بھی ہو، سنتا بھی ہو۔ کیا یہ دونوں اپنے حالات میں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے ؟

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ : میں تمہیں اس بات سے صاف صاف آگاہ کرنے والا پیغمبر ہوں۔

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو۔ یقین جانو مجھے تم پر ایک دکھ دینے والے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

اس پر ان کی قوم کے وہ سردار لوگ جنہوں نے کفر اختیار کرلیا تھا، کہنے لگے کہ : ہمیں تو اس سے زیادہ (تم میں) کوئی بات نظر نہیں آرہی کہ تم ہم جیسے ہی ایک انسان ہو، اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ صرف وہ لوگ تمہارے پیچھے لگے ہیں جو ہم میں سب سے زیادہ بےحیثیت ہیں، اور وہ بھی سطحی طور پر رائے قائم کرکے۔ اور ہمیں تم میں کوئی ایسی بات بھی دکھائی نہیں دیتی جس کی وجہ سے ہم پر تمہیں کوئی فضیلت حاصل ہو، بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ تم سب جھوٹے ہو۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

نوح نے کہا : اے میری قوم ! ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے آئی ہوئی ایک روشن ہدایت پر قائم ہوں، اور اس نے مجھے خاص اپنے پاس سے ایک رحمت (یعنی نبوت) عطا فرمائی ہے، پھر بھی وہ تمہیں سجھائی نہیں دے رہی، تو کیا ہم اس کو تم پر زبردستی مسلط کردیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو ؟

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! میں اس (تبلیغ) پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر اللہ کے سوا کسی اور نے ذمے نہیں لیا، اور جو لوگ ایمان لاچکے ہیں، میں ان کو دھتکارنے والا نہیں ہوں، ان سب کو اپنے رب سے جا ملنا ہے۔ لیکن میں تو یہ دیکھ رہا ہوں کہ تم ایسے لوگ ہو جو نادانی کی باتیں کر رہے ہو۔

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! اگر میں ان لوگوں کو دھتکاردوں تو کون مجھے اللہ (کی پکڑ) سے بچائے گا ؟ کیا تم پھر بھی دھیان نہیں دو گے ؟

15: ایک عاب خود ان کے کفر کا، اور دوسرا اس بات کا کہ وہ دوسروں کو حق کے راستے سے روکتے تھے۔
Ayahs 11:31–34

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

اور میں تم سے یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ میرے قبضے میں اللہ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب کی ساری باتیں جانتا ہوں، اور نہ میں تم سے یہ کہہ رہا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں۔ (16) اور جن لوگوں کو تمہاری نگاہیں حقیر سمجھتی ہیں، ان کے بارے میں بھی میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ انہیں کبھی کوئی بھلائی عطا نہیں کرے گا۔ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے اسے اللہ سب سے زیادہ جانتا ہے۔ اگر میں ان کے بارے میں ایسی باتیں کہوں تو میرا شمار یقینا ظالموں میں ہوگا۔

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ : اے نوح ! تم ہم سے بحث کرچکے، اور بہت بحث کرچکے۔ اب اگر تم سچے ہو تو لے آؤ وہ (عذاب) جس کی دھکمی ہمیں دے رہے ہو۔

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ : اسے تو اللہ ہی تمہارے پاس لے آئے گا، اگر چاہے گا، اور تم اسے بےبس نہیں کرسکتے۔

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اگر میں تمہاری خیر خواہی کرنا چاہوں تو میری خیر خواہی اس صورت میں تمہارے کوئی کام نہیں آسکتی جب اللہ ہی نے (تمہاری ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے) تمہیں گمراہی کرنے کا ارادہ کرلیا ہو۔ وہی تمہارا پروردگار ہے، اور اسی کے پاس تمہیں واپس لے جایا جائے گا۔

16: یہ اس جاہلانہ خیال کی تردید ہے کہ اللہ کے کسی پیغمبر یا مقرب بندے کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہونے چاہئیں، اور اسے غیب کی ساری باتوں کا علم ہونا چاہیے۔ حضرت نوح ؑ نے واضح فرما دیا کہ کسی نبی یا اللہ کے کسی ولی کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ دنیا کے خزانے لوگوں میں تقسیم کرے، یا غیب کی ہر بات بتائے۔ اس کا مقصد تو لوگوں کے عقائد اور اعمال و اخلاق کی اصلاح ہوتا ہے۔ اس کی ساری تعلیمات اسی مقصد کے گرد گھومتی ہیں۔ لہذا اس سے اس قسم کی توقعات رکھنا نری جہالت ہے۔ اس طرح اس آیت میں ان لوگوں کی ہدایت کا بڑا سامان ہے جو بزرگوں کے پاس اپنے دنیوی مقاصد کے لیے جاتے ہیں۔ اور انہیں دنیوی اور تکوینی امور میں اپنا مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں۔ اور یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ انہیں مستقبل کی ہر بات بتادیا کریں گے۔ جب اللہ تعالیٰ کا اتنا برگزیدہ پیغمبر ان باتوں کو اپنے اختیار سے باہر قرار دے رہا ہے تو کون ہے جو ان اختیارات کا دعوی کرسکے۔ اور حضرت نوح ؑ کے ساتھیوں کے بارے میں کافروں نے جو کہا تھا کہ یہ حقیر لوگ ہیں، اور دل سے ایمان نہیں لائے، اس کا آگے یہ جواب دیا ہے کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ دل سے ایمان نہیں لائے اور اللہ تعالیٰ انہیں کوئی بھلائی یعنی ثواب نہیں دے گا۔
Ayahs 11:35–36

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

بھلا کیا (عرب کے یہ کافر) لوگ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ؟ (اے پیغمبر) کہہ دو کہ : اگر میں نے اسے گھڑا ہوگا تو میرے جرم کا وبال مجھی پر ہوگا، اور جو جرم تم کر رہے ہو، میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ (17)

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور نوح کے پاس وحی بھیجی گئی کہ : تمہاری قوم میں سے جو لوگ اب تک ایمان لاچکے ہیں، ان کے سوا اب کوئی اور ایمان نہیں لائے گا۔ لہذا جو حرکتیں یہ لوگ کرتے رہے ہیں، تم ان پر صدمہ نہ کرو۔

17: حضرت نوح ؑ کے واقعے کے درمیان یہ آیت جملہ معترضہ کے طور پر آئی ہے۔ توجہ اس طرف دلائی گئی ہے کہ حضرت نوح ؑ کا یہ واقعہ جس تفصیل کے ساتھ آنحضرت ﷺ بیان فرما رہے ہیں، اسے معلوم کرنے کا آپ کے پاس کوئی ذریعہ وحی کے سوا نہیں ہے، اور جس انداز و اسلوب میں وہ بیان ہورہا ہے، وہ من گھڑت نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس کے باوجود کفار عرب کا انکار کرنا محض ہٹ دھرمی پر مبنی ہے۔
Ayah 11:37

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کی مدد سے کشتی بناؤ، (18) اور جو لوگ ظالم بن چکے ہیں ان کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرنا۔ یہ اب غرق ہو کر رہیں گے۔

18: حضرت نوح ؑ نے تقریباً ایک ہزار سال عمر پائی اور صدیوں تک اپنی قوم کو نہایت دردمندی سے تبلیغ فرماتے رہے اور اس کے بدلے سخت اذیتیں برداشت کیں، مگر بہت تھوڑے لوگوں کے سوا باقی سب لوگ اپنے کفر اور بداعمالیوں پر قائم رہے، آخر میں اللہ تعالیٰ نے انہیں بتادیا کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں، اور اب ان پر طوفان کا عذاب آئے گا، اس لئے آپ کو کشتی بنانے کا حکم دیا تاکہ آپ اور آپ کے ساتھ ایمان لانے والے اس میں سوار ہو کر طوفان کی تباہی سے بچ سکیں، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ کشتی سازی کی صنعت سب سے پہلے حضرت نوح ؑ نے وحی کے ذریعے شروع فرمائی تھی اور پہلی بار تین منزلہ جہاز تیار کیا تھا۔
Ayahs 11:38–39

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

چنانچہ وہ کشتی بنانے لگے۔ اور جب بھی ان کی قوم کے کچھ سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ (19) نوح نے کہا کہ : اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو جیسے تم ہنس رہے ہو، اسی طرح ہم بھی تم پر ہنستے ہیں۔ (20)

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آرہا ہے جو اسے رسوا کر کے رکھ دے گا، اور کس پر وہ قہر نازل ہونے والا ہے جو کبھی ٹل نہیں سکے گا۔

19: وہ مذاق اس بات کا اڑاتے تھے کہ انہوں نے دوسرے کام چھوڑ کر کشتی بنانی شروع کردی ہے ؛ حالانکہ پانی کا کہیں دور دور پتہ نہیں، 20:: یعنی ہمیں اس بات پر ہنسی آتی ہے کہ عذاب تمہارے سر پر آچکا ہے اور تمہیں دل لگی سوجھی ہے۔