11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsآسان قرآن

Ayahs 11:80–81

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

لو ط نے کہا : کاش کہ میرے پاس تمہارے مقابلے میں کوئی طاقت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے سکتا۔ (47)

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

(اب) فرشتوں نے (لوط سے) کہا : اے لوط ! ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ یہ (کافر) لوگ ہرگز تم تک رسائی حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لہذا تم رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر بستی سے روانہ ہوجاؤ، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ ہاں مگر تمہاری بیوی (تمہارے ساتھ نہیں جائے گی) اس پر بھی وہی مصیبت آنے والی ہے جو اور لوگوں پر آرہی ہے۔ یقین رکھو کہ ان (پر عذاب نازل کرنے) کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے۔ کیا صبح بالکل نزدیک نہیں آگئی۔

47: سدوم کی اس بستی میں حضرت لوط ؑ کے خاندان یا قبیلے کا کوئی آدمی نہیں تھا۔ وہ تو عراق کے باشندے تھے۔ اور اس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے۔ سدوم کے لوگوں کو ان کی قوم بھی قرآن کریم نے اس معنی میں کہا ہے کہ وہ ان کی امت تھے جن کی طرف ان کو بھیجا گیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے انتہائی بےچارگی محسوس کی کہ اگر میرے خاندان کا کوئی فرد یہاں ہوتا تو شاید میری کچھ مدد کرسکتا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں بتایا گیا ہے، اس موقع پر فرشتوں نے بات کھول دی کہ ہم فرشتے ہیں، اس لیے آپ بالکل نہ گھبرائیں، یہ آپ کا یا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، اور ہمیں ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ صبح تک ان کا قلع قمع ہونے والا ہے۔ آپ اپنے گھر والوں کو ساتھ لے کر بستی سے راتوں رات نکل جائیں، تاکہ اس عذاب سے محفوظ رہیں۔ البتہ حضرت لوط ؑ کی بیوی کافرہ تھی اور اپنی قوم کی بد اعمالیوں میں ان کا ساتھ دیا کرتی تھی، اس لیے حکم ہوا کہ وہ آپ کے ساتھ نہیں جائے گی، بلکہ دوسرے کے ساتھ وہ بھی عذاب کا شکار ہوگی۔
Ayah 11:82

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اس زمین کے اوپر والے حصے کو نیچے والے حصے میں تبدیل کردیا، (48) اور ان پر پکی مٹی کے تہہ بر تہہ پتھر برسائے۔

48: روایات میں ہے کہ یہ کل چار بستیاں تھیں جن میں یہ بد قماش لوگ بستے تھے، اس ساری بستیوں کو فرشتوں نے جوں کا توں اوپر اٹھا کر زمین پر اوندھا پٹخ دیا، اور ان کا نام ونشان مٹ گیا، بعض حضرات کا کہنا ہے کہ بحر میت (dead sea) جسے بحر مردار بھی کہا جاتا ہے ان بستیوں کے الٹنے سے پیدا ہوا ہے، ورنہ کسی بڑے سمندر سے اس کا رابطہ نہیں ہے، اس کے علاوہ جس مقام پر یہ بستیاں واقع تھیں یعنی بحر مردار کے آس پاس کا علاقہ، اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ پورے کرہ زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے، یعنی زمین کا کوئی اور حصہ سطح سمندر سے اتنا نیچا نہیں ہے جتنا نیچا یہ ہے، قرآن کریم نے جو فرمایا ہے کہ ہم نے اس زمین کے اوپر والے حصے کو نیچے والے حصے میں تبدیل کردیا، کچھ بعید نہیں کہ ان الفاظ میں اس جغرافیائی حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہو اور ان کی انتہائی نچلی حرکتوں کو یہ محسوس شکل دے دی گئی ہو۔
Ayah 11:83

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

جن پر تمہارے رب کی طرف سے نشان لگے ہوئے تھے۔ اور یہ بستی (مکہ کے ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ہے۔ (49)

49: حضرت لوط ؑ کے واقعے کے آخر میں اب روئے سخن مکہ مکرمہ کے کافروں کی طرف موڑا گیا ہے، اور ان کو توجہ دلائی گئی ہے کہ حضرت لوط ؑ کی قوم کا یہ علاقہ تم سے زیادہ دور نہیں ہے۔ جب تم تجارت کے لیے شام جاتے ہو تو یہ علاقہ تمہارے راستے میں پڑتا ہے اور اگر تم میں ذرا بھی معقولیت ہو تو تمہیں اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
Ayah 11:84

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو پیغمبر بنا کر بھیجا (50) انہوں نے (ان سے) کہا کہ : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور ناپ تول میں کمی مت کیا کرو۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ خوشحال ہو۔ (51) اور مجھے تم پر ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گا۔

50: مدین اور حضرت شعیب ؑ کے مختصر تعارف کے لیے سورة اعراف (85:7) کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے 51: مدین کا علاقہ بڑا زرخیز تھا، اور یہاں کے لوگ بحیثیت مجموعی خوش حالی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ حضرت شعیب ؑ نے ان کی خوشحالی کا دو وجہ سے خاص طور پر ذکر فرمایا۔ ایک یہ کہ اتنی خوشحالی کے بعد تمہیں دھوکا بازی کر کے کمائی کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ اور دوسرے یہ کہ اس خوشحالی کے نتیجے میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ نہ یہ کہ اس کی نافرمانی پر آمادہ ہوجاؤ۔
Ayahs 11:85–86

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو ! ناپ تول پوراپورا کیا کرو، اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دیا کرو۔ (52) اور زمین میں فساد پھیلاتے مت پھرو۔ (53)

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اگر تم میری بات مانو تو (لوگوں کا حق ان کو دینے کے بعد) جو کچھ اللہ کا دیا بچ رہے، وہ تمہارے حق میں کہیں بہتر ہے، اور (اگر نہ مانو تو) میں تم پر پہرہ دار مقرر نہیں ہوا ہوں۔

52: قرآن کریم نے یہاں جو الفاظ استعمال فرمائے ہیں وہ بڑے جامع ہیں، اور ان میں ہر قسم کے حقوق داخل ہوجاتے ہی، مطلب یہ ہے کہ جب تم پر کسی بھی شخص کا کوئی حق واجب ہو تو اس میں ڈنڈی مار کر یا تاویلا کر کے اسے کم کرنے کی کوشش نہ کرو۔ بلکہ ہر حق دار کو اس کا حق پورا پورا ادا کرو۔ 53: جیسا کہ سورة اعراف میں عرض کیا گیا تھا اس قوم کے بعض افراد راستوں پر چوکیاں لگا کر بیٹھ جاتے اور مسافروں سے زبردستی ٹیکس وصول کرتے تھے، اور بعض لوگ مسافروں پر ڈاکا ڈالا کرتے تھے۔ اس فقرے میں ان کی اسی بد عنوانی کی طرف اشارہ ہ۔
Ayah 11:87

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

وہ کہنے لگے : اے شعیب ! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہمارے باپ دادا جن کی عبادت کرتے آئے تھے، ہم انہیں بھی چھوڑ دیں اور اپنے مال و دولت کے بارے میں جو کچھ ہم چاہیں، وہ بھی نہ کریں۔ (54) ؟ واقعی تم تو بڑے عقل مند، نیک چلن آدمی ہو۔ (55)

54: یہ در حقیقت وہ سرمایہ دارانہ ذہنیت ہے کہ جو کچھ مال ہے وہ ہماری مکمل ملکیت میں ہے، اس لیے ہمیں پورا پورا اختیار حاصل ہے کہ اس میں جو چاہیں تصرف کریں، کسی کو اس میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اس کے برعکس قرآن کریم کا ارشاد یہ ہے کہ ہر مال پر اصل ملکیت اللہ تعالیٰ کی ہے۔ البتہ اس نے اپنے فضل و کرم سے انسان کو عارضی ملکیت عطا فرمائی ہے۔ دیکھئے سورة یس آیت 71 لہذا اسی کو یہ حق ہے کہ وہ اس ملکیت پر کچھ پابندیاں عائد کرے۔ دیکھئے سورة قصص آیت 77 اور جہاں مناسب سمجھے وہاں خرچ کرنے کا حکم دے۔ دیکھئے سورة نور آیت 33 اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پابندیاں اس لیے عائد کی جاتی ہیں تاکہ ہر شخص اپنی دولت کا حصول اور خرچ ایسے صحت مند طریقے پر کرے کہ معاشرے میں ہر ایک کو یکساں مواقع حاصل ہوں کوئی کسی پر ظلم نہ کرے سکے اور معاشرے میں دولت کی تقسیم منصفانہ ہوسکے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے اسلام کا نظام تقسیم دولت۔ از حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ؒ۔ 55: یہ جملہ انہوں نے طنز کے طور پر بولا تھا البہ بعض مفسرین نے اسے حقیقی معنوں میں قرار دے کر اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ تم تو ہمارے درمیان ایک عقل مند اور نیک چلن آدمی کی حیثیت سے مشہور ہو تم نے ایسی باتیں کیوں شروع کردی ہیں۔
Ayahs 11:88–92

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

شعیب نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے ایک روشن دلیل پر قائم ہوں، اور اس نے خاص اپنے پاس سے مجھے اچھا رزق عطا فرمایا ہے، (56) (تو پھر میں تمہارے غلط طریقے پر کیوں چلوں ؟) اور میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ میں جس بات سے تمہیں منع کر رہا ہوں، تمہارے پیچھے جاکر وہی کام خود کرنے لگوں۔ میرا مقصد اپنی استطاعت کی حد تک اصلاح کے سوا کچھ نہیں ہے، اور مجھے جو کچھ توفیق ہوتی ہے صرف اللہ کی مدد سے ہوتی ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے اور اسی کی طرف میں (ہر معاملے میں) رجوع کرتا ہوں۔

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! میرے ساتھ ضد کا جو معاملہ تم کر رہے ہو، وہ کہیں تمہیں اس انجام تک نہ پہنچا دے کہ تم پر بھی ویسی ہی مصیبت نازل ہو جیسی نوح کی قوم پر یا ہود کی قوم پر یا صالح کی قوم پر نازل ہوچکی ہے۔ اور لوط کی قوم تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے۔

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

تم اپنے رب سے معافی مانگو، پھر اسی کی طرف رجوع کرو، یقین رکھو کہ میرا رب بڑا مہربان، بہت محبت کرنے والا ہے۔

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

وہ بولے : اے شعیب ! تمہاری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں، اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے درمیان ایک کمزور آدمی ہو، اور اگر تمہارا خاندان نہ ہوتا تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیتے۔ ہم پر تمہارا کچھ زور نہیں چلتا۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

شعیب نے کہا : اے میری قوم ! کیا تم پر میرے خاندان کا دباؤ اللہ سے زیادہ ہے ؟ اور اس کو تم نے بالکل ہی پس پشت ڈال رکھا ہے۔ یقین جانو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو، میرا پروردگار اس سب کا پورا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

56: اس رزق سے مراد کھانے پینے وغیرہ کا سامان بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدھے سیدھے طریقے سے مجھے رزق عطا فرمایا ہے تو میں اس کے حصول کے لیے وہ غلط طریقے کیوں اختیار کروں جو تم کرتے ہو ؟ اور رزق سے یہاں مراد نبوت بھی ہوسکتی ہے۔
Ayah 11:93

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! تم اپنے حال پر رہ کر (جو چاہو) عمل کیے جاؤ، میں بھی (اپنے طریقے کے مطابق) عمل کر رہا ہوں۔ (57) عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کس پر وہ عذاب نازل ہوگا جو اسے رسوا کر کے رکھ دے گا، اور کون ہے جو جھوٹا ہے ؟ اور تم بھی انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں۔

57: یعنی میری تبلیغ کے باوجود اگر تم اپنی ضد پر قائم رہتے ہو تو آخری چارہ کار یہی ہے کہ تم اپنے طریقے پر قائم رہو، اور میں اپنے طریقے پر۔ پھر دیکھو کہ کس کا انجام کیا ہوتا ہے۔
Ayahs 11:94–99

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور (آخر کار) جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے شعیب کو اور ان کے ساتھ جو ایمان لائے تھے، ان کو اپنی خاص رحمت سے بچا لیا، اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انہیں ایک چنگھاڑ نے آپکڑا، (58) اور وہ اپنے گھروں میں اس طرح اوندھے منہ گرے رہ گئے۔

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

جیسے کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے۔ یاد رکھو ! مدین کی بھی ویسی ہی بربادی ہوئی جیسی بربادی ثمود کی ہوئی تھی۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور روشن دلیل کے ساتھ پیغمبر بنا کر۔

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا، تو انہوں نے فرعون ہی کی بات مانی۔ حالانکہ فرعون کی بات کوئی ٹھکانے کی بات نہیں تھی۔

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا، اور ان سب کو دوزخ میں لا اتارے گا۔ اور وہ بدترین گھاٹ ہے جس پر کوئی اترے۔

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور پھٹکار اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے لگا دی گئی ہے، اور قیامت کے دن بھی۔ یہ بدترین صلہ ہے جو کسی کو دیا جائے۔

58: اس کی تشریح کے لیے دیکھیے سورة اعراف (19:7) کا حاشیہ
Ayahs 11:100–106

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ ان بستیوں کے کچھ حالات ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ (بستیاں) وہ ہیں جو ابھی اپنی جگہ کھڑی ہیں، (59) اور کچھ کٹی ہوئی فصل (کی طرح بےنشان) بن چکی ہیں۔

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ان پر ہم نے کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب تمہارے پروردگار کا حکم آیا تو جن معبودوں کو وہ اللہ کے بجائے پکارا کرتے تھے، وہ ان کے ذرا بھی کام نہ آئے، اور انہوں نے ان کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور جو بستیاں ظالم ہوتی ہیں، تمہارا رب جب ان کو گرفت میں لیتا ہے تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے۔ واقعی اس کی پکڑ بڑی دردناک، بڑی سخت ہے۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

ان ساری باتوں میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو۔ وہ ایسا دن ہوگا جس کے لیے تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا، اور وہ ایسا دن ہوگا جسے سب کے سب کھلی آنکھوں دیکھیں گے۔

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

ہم نے اسے ملتوی کیا ہے تو بس ایک گنی چنی مدت کے لیے ملتوی کیا ہے۔

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جب وہ دن آجائے گا تو کوئی اللہ کی اجازت کے بغیر بات نہیں کرسکے گا۔ پھر ان میں کوئی بدحال ہوگا، اور کوئی خوشحال۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

چنانچہ جو بدحال ہوں گے وہ دوزخ میں ہوں گے جہاں ان کی چیخنے چلانے کی آوازیں آئیں گی۔

59: مثلاً فرعون کا ملک مصر فرعون کے غرق ہونے کے بعد بھی باقی رہا اور عاد وثمود اور قوم لوط ؑ کی بستیاں ایسی تباہ ہوئی کہ بعد آباد نہ ہو سکیں
Ayahs 11:107–113

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

یہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں۔ (60) الا یہ کہ تمہارے رب ہی کو کچھ اور منظور ہو (61) یقینا تمہارا رب جو ارادہ کرلے، اس پر اچھی طرح عمل کرتا ہے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور جو لوگ خوشحال ہوں گے وہ جنت میں ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں، الا یہ کہ تمہارے رب ہی کو کچھ اور منظور ہو۔ یہ ایک ایسی عطا ہوگی جو کبھی ختم ہونے میں نہیں آئے گی۔

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

لہذا (اے پیغمبر) یہ (مشرکین) جن (بتوں) کی عبادت کرتے ہیں، ان کے بارے میں ذرا بھی شک میں نہ رہنا۔ یہ تو اسی طرح عبادت کر رہے ہیں جیسے ان کے باپ دادے پہلے ہی عبادت کیا کرتے تھے، اور یقین رکھو کہ ہم ان سب کو ان کا حصہ پورا پورا چکا دیں گے، جس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تو اس میں بھی اختلاف کیا گیا تھا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ ہوچکی ہوتی (کہ ان کو پورا عذاب آخرت میں دیا جائے گا) تو ان کا فیصلہ (یہیں دنیا میں) ہوچکا ہوتا۔ اور یہ لوگ اس کے بارے میں (ابھی تک) سخت قسم کے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور یقین رکھو کہ سب لوگوں کا معاملہ یہی ہے کہ تمہارا پروردگار ان کے اعمال کا بدلہ پورا پورا دے گا۔ یقینا وہ ان کے تمام اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

لہذا (اے پیغمبر) جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اس کے مطابق تم بھی سیدھے راستے پر ثابت قدم رہو، اور وہ لوگ بھی جو توبہ کر کے تمہارے ساتھ ہیں، اور حد سے آگے نہ نکلو۔ یقین رکھو کہ جو عمل بھی تم کرتے ہو وہ اسے پوری طرح دیکھتا ہے۔

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور (مسلمانو) ان ظالم لوگوں کی طرف ذرا بھی نہ جھکنا، کبھی دوزخ کی آگ تمہیں بھی آپکڑے اور تمہیں اللہ کو چھوڑ کر کسی قسم کے دوست میسر نہ آئیں، پھر تمہاری کوئی مدد بھی نہ کرے۔

60: اس سے موجودہ زمین اور آسمان مراد نہیں ہیں، کیونکہ یہ تو قیامت کے ساتھ ختم ہوجائیں گے، البتہ قرآن کریم ہی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخرت میں وہاں کے حالات کے مطابق دوسرے زمین و آسمان پیدا کئے جائیں گے (دیکھئے سورة ابراہیم 14۔ 48، سورة زمر 24۔ 74) اور چونکہ وہ زمین و آسمان ہمیشہ رہیں گے اس لئے آیت کا مطلب یہ ہوا کہ وہ لوگ بھی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ 61: رَبُّکَ : اسی قسم کا استثناء سورة انعام (6۔ 128) میں بھی گزرا ہے جیسا کہ وہاں ہم نے عرض کیا تھا، اس کی ٹھیک ٹھیک مراد تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، لیکن اس سے بظاہر ایک تو یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ کسی کے عذاب وثواب کا تمام ترفیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے، کسی کی فرمائش یا سفارش کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے، دوسرے یہ کہ کافروں کو عذاب دینا اللہ تعالیٰ کی کوئی مجبوری نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے، وہ اگر کسی کو کفر کے باوجود عذاب سے نکالنا چاہے تو کوئی اسکا ہاتھ پکڑ نے والا نہیں ہے، یہ اور بات ہے کہ اسکی مشیت کافروں کو ہمیشہ عذاب ہی میں رکھے، جیسا کہ قرآن کریم کی اکثر آیات سے معلوم ہوتا ہے۔
Ayahs 11:114–118

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) دن کے دونوں سروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کرو۔ (62) یقینا نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں، (63) یہ ایک نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو نصیحت مانیں۔

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر سے کام لو، اس لیے کہ اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں، بھلا ان میں ایسے لوگ کیوں نہ ہوئے جن کے پاس اتنی بچی کھچی سمجھ تو ہوتی کہ وہ لوگوں کو زمین میں فساد مچانے سے روکتے ؟ ہاں تھوڑے سے لوگ تھے جن کو ہم نے (عذاب سے) نجات دی تھی۔ اور جو لوگ ظالم تھے، وہ جس عیش و عشرت میں تھے، اسی کے پیچھے لگے رہے، اور جرائم کا ارتکاب کرتے رہے۔

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں پر ظلم کر کے انہیں تباہ کر دے جبکہ ان کے باشندے صحیح روشن پر چل رہے ہوں۔

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی طریقے کا پیرو بنا دیتا، (مگر کسی کو زبردستی کسی دین پر مجبور کرنا حکمت کا تقاضا نہیں ہے، اس لیے انہیں اپنے اختیار سے مختلف طریقے اپنانے کا موقع دیا گیا ہے) اور وہ اب ہمیشہ مختلف راستوں پر ہی رہیں گے۔

62: دن کے دونوں سروں سے مراد فجر اور عصر کی نمازیں ہیں اور بعض مفسرین نے ان سے فجر اور مغرب کی نمازیں مراد لی ہیں، اور رات کے حصوں کی نماز سے مراد مغرب، عشاء اور تہجد کی نمازیں ہیں۔ 63: برائیوں سے یہاں مراد صغیرہ گناہ ہیں، قرآن وسنت کے بہت سے دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ انسان سے جو صغیرہ گناہ سرزد ہوتے ہیں ان کا کفارہ ان نیک کاموں سے ہوتا رہتا ہے جو انسان ان کے بعد کرتا ہے، چنانچہ وضو نماز اور دوسرے تمام کاموں کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انسان کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو مٹاتے رہتے ہیں، سورة نساء (4۔ 31) میں یہ مضمون گزرچکا ہے کہ : اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو تمہاری چھوٹی برائیوں کا ہم خود کفارہ کردیں گے۔