11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsآسان قرآن

Ayahs 11:119–123

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

البتہ جن پر تمہارا پروردگار رحم فرمائے گا، ان کی بات اور ہے (کہ اللہ انہیں حق پر قائم رکھے گا) اور اسی (امتحان) کے لیے اس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ (64) اور تمہارے رب کی وہ بات پوری ہوگی جو اس نے کہی تھی کہ : میں جہنم کو جنات اور انسانوں دونوں سے بھر دوں گا۔

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) گذشتہ پیغمبروں کے واقعات میں سے وہ سارے واقعات ہم تمہیں سنا رہے ہیں جن سے ہم تمہارے دل کو تقویت پہنچائیں۔ اور ان واقعات کے ضمن میں تمہارے پاس جو بات آئی ہے وہ خود بھی حق ہے اور تمام مومنوں کے لیے نصیحت اور یاددہانی بھی ہے۔

وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ Open ayah 11:121 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان نہیں لارہے ہیں، ان سے کہو کہ : تم اپنی موجودہ حالت پر عمل کیے جاؤ، ہم بھی (اپنے طریقے پر) عمل کر رہے ہیں۔

وَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 11:122 in the Quran reader

اور تم بھی (اللہ کے فیصلے کا) انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 11:123 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں جتنے پوشیدہ بھید ہیں، وہ سب اللہ کے علم میں ہیں، اور اسی کی طرف سارے معاملات لوٹائے جائیں گے۔ لہذا (اے پیغمبر) اس کی عبادت کرو، اور اس پر بھروسہ رکھو۔ اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو، تمہارا پروردگار اس سے بیخبر نہیں ہے۔

64: یہ بات قرآن کریم نے بار بار واضح فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمام انسانوں کو زبردستی ایک ہی دین کا پابند بنا دیتا ، لیکن اس کائنات کی تخلیق اور انسان کو اس میں بھیجنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان کو اچھے برے کی تمیز سکھا کر اسے یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنے اختیار اور اپنی مرضی سے جو راستہ چاہے اختیار کرے اسی میں اس کا امتحان ہے کہ وہ اپنی مرضی اور اختیار کو ٹھیک استعمال کرتا ہے، اور اس کے نتیجے میں جنت کماتا ہے یا اس کا غلط استعمال کرکے دوزخ کا مستحق بن جاتا ہے، اس امتحان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کسی کو اس کے اختیار کے بغیر زبردستی کسی ایک راستے پر نہیں رکھا۔