11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsآسان قرآن

Ayahs 11:40–41

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور ابل پڑا، (21) تو ہم نے (نوح سے) کہا کہ : اس کشتی میں ہر قسم کے جانوروں میں سے دو دو کے جوڑے سوار کرلو (22) اور تمہارے گھر والوں میں سے جن کے بارے میں پہلے کہا جا چکا ہے (کہ وہ کفر کی وجہ سے غرق ہوں گے) ان کو چھوڑ کر باقی گھر والوں کو بھی، اور جتنے لوگ ایمان لائے ہیں ان کو بھی (ساتھ لے لو) اور تھوڑے ہی سے لوگ تھے جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے۔

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور نوح نے (ان سب سے) کہا کہ : اس کشتی میں سوار ہوجاؤ، اس کا چلنا بھی اللہ ہی کے نام سے ہے، اور لنگر ڈالنا بھی، یقین رکھو کہ میرا پروردگار بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

21: عربی زبان میں ”تنور“ سطح زمین کو بھی کہتے ہیں، اور روٹی پکانے کے چولہے کو بھی۔ بعض روایات میں ہے کہ طوفان نوح کی ابتدا اس طرح ہوئی تھی کہ ایک تنور سے پانی ابلنا شروع ہوا، اور پھر کسی طرح نہ رکا۔ اور بعض مفسرین نے تنور کو سطح زمین کے معنی میں لیا ہے اور مطلب یہ بتایا ہے کہ زمین کی سطح سے پانی ابلنا شروع ہوگیا، اور پھر ساری زمین میں پھیل گیا۔ اور اوپر سے تیز بارش شروع ہوگئی،۔ 22: چونکہ طوفان میں وہ جانور بھی ہلاک ہونے والے تھے جن کی انسانوں کو ضرورت پڑتی ہے، اس لئے حکم دیا گیا کہ کشتی میں ضرورت کے تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا سوار کرلو، تاکہ ان کی نسل باقی رہے اور طوفان کے بعد ان سے کام لیا جاسکے۔
Ayahs 11:42–43

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ کشتی پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان چلی جاتی تھی۔ اور نوح نے اپنے اس بیٹے کو جو سب سے الگ تھا، آواز دی کہ : بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ، اور کافروں کے ساتھ نہ رہو۔ (23)

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

وہ بولا : میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا، نوح نے کہا : آج اللہ کے حکم سے کوئی کسی کو بچانے والا نہیں ہے، سوائے اس کے جس پر وہ ہی رحم فرمادے۔ اس کے بعد ان کے درمیان موج حائل ہوگئی، اور ڈوبنے والوں میں وہ بھی شامل ہوا۔

23: حضرت نوح ؑ کے اور بیٹے تو کشتی میں سوار ہوگئے تھے، مگر ایک بیٹا جس کا نام کنعان بتایا جاتا ہے، کافر تھا، اور کافروں ہی کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا، وہ کشتی میں سوار نہیں ہوا تھا۔ حضرت نوح ؑ کو یا تو علم نہیں تھا کہ وہ کافر ہے، اور وہ محض یہ سمجھتے تھے کہ اس کی صحبت خراب ہے، یا کافر ہونے کا علم تھا، مگر یہ چاہتے تھے کہ وہ مسلمان ہوجائے، اس لیے پہلے اسے کشتی میں سوار ہونے کی اجازت مل جائے، یعنی اگر کافر ہے تو اسے ایمان کی توفیق ہوجائے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ حضرت نوح ؑ کے سارے گھر والے جو صاحب ایمان ہوں گے، انہیں عذاب سے نجات ملے گی، اس لیے حضرت نوح ؑ نے اس وعدے کا حوالہ بھی دیا۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ وہ کافر ہے اور اس کے مقدر میں ایمان نہیں ہے، اس لیے وہ درحقیقت تمہارے گھر والوں میں شامل ہی نہیں ہے۔ یہ بات تمہارے علم میں نہیں تھی کہ اس کے مقدر میں ایمان نہیں، اس لیے تم نے اس کی نجات یا ایمان کی دعا مانگی۔ اگلی آیت میں جو ارشاد ہے کہ : مجھ سے ایسی چیز نہ مانگو جس کی تمہیں ٰخبر نہیں۔ اس کا یہی مطلب ہے۔
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم ہوا کہ : اے زمین ! اپنا پانی نگل لے، اور اے آسمان ! تھم جا۔ چنانچہ پانی اتر گیا اور سارا قصہ چکا دیا گیا۔ (24) کشتی جودی پہاڑ پر آٹھہری (25) اور کہہ دیا گیا کہ : بربادی ہے اس قوم کی جو ظالم ہو۔

24: یعنی قوم کے تمام افراد طوفان میں غرق کر دئیے گئے۔ 25: یہ اس پہاڑ کا نام ہے جو شمالی عراق میں واقع ہے، اور اس پہاڑی سلسلے کا ایک حصہ ہے جو کردستان سے آرمینیا تک پھیلا ہوا ہے۔ بائبل میں اس پہاڑ کا نام ارارات مذکور ہے۔
Ayahs 11:45–47

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ : اے میرے پروردگار ! میرا بیٹا میرے گھر ہی کا ایک فرد ہے، اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے، اور تو سارے حاکموں سے بڑھ کر حاکم ہے۔ (26)

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا : اے نوح ! یقین جانو وہ تمہارے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ناپاک عمل کا پلندہ ہے۔ لہذا مجھ سے ایسی چیز نہ مانگو جس کی تمہیں خبر نہیں، میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں شامل نہ ہو۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

نوح نے کہا : میرے پروردگار میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ آئندہ آپ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں، اور اگر آپ نے میری مغفرت نہ فرمائے اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤں گا جو برباد ہوگئے ہیں۔

26: یعنی آپ کو ہر چیز پر قدرت ہے، اگر چاہیں تو اسے ایمان کی توفیق دے دیں، اور پھر ایمان والوں کے حق میں آپ کا جو وعدہ ہے وہ اس کے حق میں بھی پورا ہوجائے۔
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

فرمایا گیا کہ : اے نوح اب (کشتی سے) اتر جاؤ، ہماری طرف سے وہ سلامتی اور برکتیں لے کر جو تمہارے لیے بھی ہیں اور تمہاری جتنی قومیں ہیں، ان کے لیے بھی۔ اور کچھ قومیں ایسی ہیں جن کو ہم (دنیا میں) لطف اٹھانے کا موقع دیں گے، پھر ان کو ہماری طرف سے ایک دردناک عذاب آپکڑے گا۔ (27)

27: سلامتی اور برکتوں کا وعدہ جو حضرت نوح ؑ کے ساتھیوں کے لیے کیا گیا، اس میں ”قوموں“ کا لفظ استعمال کر کے یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ یہ لوگ اگرچہ اس وقت تھوڑے سے ہیں لیکن ان کی نسل سے بہت سی قومیں پیدا ہوں گی، اور دین حق پر قائم رہیں گی، اس لیے سلامتی اور برکتوں میں وہ بھی شریک ہوں گی۔ البتہ آخر میں یہ فرمایا گیا کہ کچھ قومیں ان کی نسل میں ایسی آئیں گی کہ جو دین برحق پر قائم نہیں رہیں گی۔ لہذا انہیں دنیا میں کچھ عرصے لطف اٹھانے کا موقع دیا جائے گا۔ لیکن ان کا آخری انجام ان کے کفر کی وجہ سے یہی ہوگا کہ وہ دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوں گے۔
Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

(اے پیغمبر) یہ غیب کی کچھ باتیں ہیں جو ہم تمہیں وحی کے ذریعے بتا رہے ہیں۔ یہ باتیں نہ تم اس سے پہلے جانتے تھے، نہ تمہاری قوم۔ لہذا صبر سے کام لو اور آخری انجام متقیوں ہی کے حق میں ہوگا۔ (28)

28: حضرت نوح ؑ کا واقعہ بیان فرمانے کے بعد آنحضرت ﷺ کے بارے میں اس آیت نے دو حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ایک یہ کہ یہ واقعہ نہ صرف آپ کو بلکہ قریش اور عرب کے غیر اہل کتاب میں سے کسی کو پہلے معلوم نہیں تھا، اور آپ کے پاس اس کو اہل کتاب سے سیکھنے کا بھی کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ لہذا یہ بات واضح ہے کہ یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کو وحی کے ذریعے معلوم ہوا ہے۔ اس سے آپ کی نبوت اور رسالت کی دلیل ملتی ہے۔ دوسرے آنحضرت ﷺ کو اپنی قوم کی طرف سے جس تکذیب اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اس واقعے کے ذریعے آپ کو اول تو صبر سے کام لینے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ اور دوسرے یہ تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح حضرت نوح ؑ کو شروع میں سخت مشکلات پیش آئیں، مگر آخر انجام انہی کے حق میں ہوا اسی طرح آنحضرت ﷺ بالآخر ان لوگوں پر غالب آئیں گے۔
Ayahs 11:50–51

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور قوم عاد کے پاس ہم نے ان کے بھائی ہود کو پیغمبر بنا کر بھیجا (29) انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ تم نے جھوٹی باتیں تراش رکھی ہیں۔

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے میری قوم ! میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر کسی اور نے نہیں، اس ذات نے اپنے ذمے لیا ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟

29: قوم عاد کا مختصر تعارف سورة اعراف (65:7) میں گذر چکا ہے۔
Ayah 11:52

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اے میری قوم ! اپنے پروردگار سے گناہوں کی معافی مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو، وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارشیں برسائے گا، (30) اور تمہاری موجودہ قوت میں مزید قوت کا اضافہ کرے گا، اور مجرم بن کر منہ نہ موڑو۔

30: شروع میں اللہ تعالیٰ نے انہیں قحط میں مبتلا فرمادیا تھا ؛ تاکہ وہ اپنی غفلت سے کچھ ہوش میں آئیں، اس موقع پر حضرت ہود ؑ نے انہیں یاد دلایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تازیانہ ہے اور اگر اب بھی تم بت پرستی سے باز آجاؤ تو یہ قحط تم سے دور ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہیں بارشوں سے نہال کرسکتا ہے۔
Ayah 11:53

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

انہوں نے کہا : اے ہود ! تم ہمارے پاس کوئی روشن دلیل لے کر نہیں آئے۔ (31) اور ہم اپنے خداؤں کو صرف تمہارے کہنے سے چھوڑنے والے نہیں ہیں، اور نہ ہم تمہاری بات پر ایمان لاسکتے ہیں۔

31: روشن دلیل سے ان کی مراد ان کے فرمائشی معجزات تھے۔ عقلی اور نقلی دلائل تو حضرت ہود ؑ نے ہر قسم کے پیش کردئیے تھے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ ہم جس معجزے کی فرمائش کرتے جائیں وہ ہمیں دکھاتے جاؤ۔ ظاہر ہے کہ پیغمبر کرشمے دکھانے کے لیے وقف نہیں ہوسکتا۔ اس لیے ان کی یہ فرمائشیں پوری نہ ہوئیں تو انہوں نے کہہ دیا کہ تم کوئی روشن دلیل ہی ہمارے پاس نہیں لائے۔
Ayahs 11:54–55

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو اس کے سوا کچھ اور نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے خداؤں میں سے کسی نے تمہیں بری طرح جھپیٹے میں لے لیا ہے، (32) ہود نے کہا : میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں، اور تم بھی گواہ رہو کہ تم اللہ کے سوا جس جس کو اس کی خدائی میں شریک مانتے ہو، میں اس سے بری ہوں۔

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

اب تم سب کے سب ملکر میرے خلاف چالیں چل لو، اور مجھے ذرا مہلت نہ دو۔

32: یعنی تم ہمارے جن بتوں کی خدائی کا انکار کرتے ہو ان میں سے کسی نے تم سے ناراض ہو کر تم پر آسیب مسلط کردیا ہے، جس کے نتیجے میں تم (معاذاللہ) ہوش کھو بیٹھے ہو۔
Ayahs 11:56–57

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں نے تو اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے قبضے میں نہ ہو، یقینا میرا پروردگار سیدھے راستے پر ہے۔ (33)۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

پھر بھی اگر تم منہ موڑتے ہو تو جو پیغام دے کر مجھے تمہارے پاس بھیجا گیا تھا میں نے وہ تمہیں پہنچا دیا ہے، اور (تمہارے کفر کی وجہ سے) میرا پروردگار تمہاری جگہ کسی اور قوم کو یہاں بسا دے گا، اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔ بیشک میرا پروردگار ہر چیز کی نگرانی کرتا ہے۔

33: اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے سیدھا راستہ مقرر کردیا ہے، اور اسی پر چلنے سے خدا ملتا ہے۔
Ayahs 11:58–60

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور (آخر کار) جب ہمارا حکم آگیا (34) تو ہم نے اپنی رحمت کے ذریعے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے، ان کو بچا لیا، اور انہیں ایک سخت عذاب سے نجات دے دی۔

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

یہ تھے عاد کے لوگ جنہوں نے اپنے پروردگار کی نشانیوں کا انکار کیا، اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی، اور ہر ایسے شخص کا حکم مانا جو پرلے درجے کا جابر اور حق کا پکا دشمن تھا۔

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اور (اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ) اس دنیا میں بھی پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی، اور قیامت کے دن بھی۔ یاد رکھو کہ قوم عاد نے اپنے رب کے ساتھ کفر کا معاملہ کیا تھا۔ یا درکھو کہ بربادی عاد ہی کی ہوئی، جو ہود کی قوم تھی۔

34: حکم سے یہاں مراد اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا عذاب ہے۔ جیسا کہ سورة اعراف میں عرض کیا گیا، ان پر تیز آندھی اور ہوا کا طوفان بھیجا گیا تھا۔ یہ قد و قامت کے اعتبار سے غیر معمولی قوم تھی، لیکن اس عذاب کے نتیجے میں ان کی ساری قوت دھری رہ گئی اور پوری قوم تباہ ہوگئی۔
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور قوم ثمود کے پسا ہم نے ان کے بھائی صالح کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ (35) انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا، اور اس میں تمہیں آباد کیا۔ لہذا اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ یقین رکھو کہ میرا رب (تم سے) قریب بھی ہے، دعائیں قبول کرنے والا بھی۔

35: قوم ثمود اور اس کے واقعے کا مختصر تعارف اور تذکرہ سورة اعراف (7۔ 73) میں گزرچکا ہے۔
Ayahs 11:62–64

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

وہ کہنے لگے : اے صالح ! اس سے پہلے تو تم ہمارے درمیان اس طرح رہے ہو کہ تم سے بڑی امیدیں وابستہ تھیَ (36) جن (بتوں) کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں کیا تم ہمیں ان کی عبادت کرنے سے منع کرتے ہو ؟ جس بات کی تم دعوت دے رہے ہو، اس کے بارے میں تو ہمیں ایسا شک ہے جس نے ہمیں اضطراب میں ڈال دیا ہے۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

صالح نے کہا : اے میری قوم ! ذرا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے آئی ہوئی ایک روشن ہدایت پر قائم ہوں، اور اس نے مجھے خاص اپنے پاس سے ایک رحمت (یعنی نبوت) عطا فرمائی ہے، پھر بھی اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو کون ہے جو مجھے اللہ (کی پکڑ) سے بچا لے ؟ لہذا تم (میرے فرائض سے روک رک) بربادی میں مبتلا کرنے کے سوا مجھے اور کیا دے رہے ہو ؟

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی بن کر آئی ہے۔ لہذا اس کو آزاد چھوڑ دو کہ یہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے، اور اس کو برے ارادے سے چھونا بھی نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں عنقریب آنے والا عذاب آپکڑے۔

36: اس سے صاف واضح ہے کہ نبوت کے اعلان سے پہلے حضرت صالح ؑ کو پوری قوم بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتی تھی، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم نے انہیں اپنا سردار یا بادشاہ بنانے کا ارادہ کیا تھا۔
Ayahs 11:65–66

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

پھر ہوا یہ کہ انہوں نے اس کو مار ڈالا، چنانچہ صالح نے کہا کہ : تم اپنے گھروں میں تین دن اور مزے کرلو، (37) (اس کے بعد عذاب آئے گا اور) یہ ایسا وعدہ ہے جسے کوئی جھوٹا نہیں کرسکتا۔

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور ان کے ساتھ جو ایمان لائے تھے، ان کو اپنی خاص رحمت کے ذریعے نجات دی، اور اس دن کی رسوائی سے بچا لیا، یقینا تمہارا پروردگار بڑی قوت کا، بڑے اقتدار کا مالک ہے۔

37: عذاب سے پہلے ان کو تین دن کی مہلت دی گئی تھی
Ayahs 11:67–68

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ظلم کا راستہ اپنایا تھا، ان کو ایک چنگھاڑ نے آپکڑا، (38) جس کے نتیجے میں وہ اپنے گھروں میں اس طرح اوندھے پڑے رہ گئے۔

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

جیسے کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے۔ یاد رکھو کہ ثمود نے اپنے رب کے ساتھ کفر کا معاملہ کیا تھا، یاد رکھو کہ بربادی ثمود ہی کی ہوئی۔

38: اس عذاب کا تفصیلی واقعہ سورة اعراف آیت نمبر 73 کے تحت حاشیہ 39 میں گزر چکا ہے۔
Ayah 11:69

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور ہمارے فرشتے (انسانی شکل میں) ابراہیم کے پاس (بیٹا پیدا ہونے کی) خوشخبری لے کر آئے۔ (39) انہوں نے سلام کہا، ابراہیم نے بھی سلام کہا، پھر ابراہیم کو کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ وہ (ان کی مہمانی کے لیے) ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔

39: اللہ تعالیٰ نے یہ فرشتے دو کاموں کے لئے بھیجے تھے، ایک یہ کہ وہ حضرت ابراہیم ؑ کو یہ خوشخبری دیں کہ ان کے یہاں ایک بیٹا ہوگا، یعنی حضرت اسحاق ؑ پیدا ہوں گے اور ان کا دوسرا کام یہ تھا کہ وہ حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کریں، چنانچہ حضرت ابراہیم ؑ کو خوشخبری دینے کے بعد وہ حضرت لوط ؑ کی بستیوں کی طرف جانے والے تھے۔
Ayah 11:70

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (بچھڑے) کی طرف نہیں بڑھ رہے، تو وہ ان سے کھٹک گئے، اور ان کی طرف سے دل میں خوف محسوس کیا۔ (40) فرشتوں نے کہا : ڈریے نہیں، ہمیں (آپ کو بیٹے کی خوشخبری سنانے اور) لوط کی قوم کے پاس بھیجا گیا ہے۔

40: چونکہ فرشتے انسانی شکل میں آئے تھے، اس لیے حضرت ابراہیم ؑ شروع میں انہیں انسان ہی سمجھتے اور ان کی مہمانی کے لیے بھنے ہوئے بچھڑے کا گوشت لے کر آئے لیکن چونکہ وہ فرشتے تھے اور کچھ کھا نہیں سکتے تھے، اس لئے انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا، اس زمانے میں رسم یہ تھی کہ اگر کوئی شخص میزبان کے یہاں کھانا پیش ہونے کے بعد نہ کھائے تو یہ اس بات کی علامت سمجھی جاتی تھی کہ وہ کوئی دشمن ہے جو کسی بری نیت سے آیا ہے، اس لئے حضرت ابرہیم ؑ نے خوف محسوس کیا، اس موقع پر فرشتوں نے واضح کردیا کہ وہ فرشتے ہیں، اور ان دو کاموں کے لئے بھیجے گئے ہیں۔
Ayahs 11:71–72

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور ابراہیم کی بیوی کھڑی ہوئی تھیں، وہ ہنس پڑیں، (41) تو ہم نے انہیں (دوبارہ) اسحاق کی، اور اسحاق کے بعد یعقوب کی پیدائش کی خوشخبری دی۔

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

وہ کہنے لگیں : ہائے ! کیا میں اس حالت میں بچہ جنوں گی کہ میں بوڑھی ہوں، اور یہ میرے شوہر ہیں جو خود بڑھاپے کی حالت میں ہیں ؟ واقعی یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

41: ہنسنے کی وجہ بعض مفسرین نے تو یہ بیان کی ہے کہ جب انہیں اطمینان ہوگیا کہ یہ فرشتے ہیں، اور خطرے کی کوئی بات نہیں ہے، تو خوشی کی وجہ سے وہ ہنس پڑیں، لیکن زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ بیٹے کی خوشخبری سن کر ہنسی تھیں۔ سورة حجر آیت 53 اور سورة ذاریات آیت 29، 30 میں بیان فرمایا گیا ہے کہ فرشتوں نے بیٹے کی خوشخبری پہلے دے دی تھی اور حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کرنے کا ذکر بعد میں کیا تھا اس پر انہیں تعجب بھی ہوا اور خوشی بھی اور ان کو ہنستا دیکھ کر فرشتوں نے دوبارہ خوشخبری دی۔
Ayah 11:73

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

فرشتوں نے کہا : کیا آپ اللہ کے حکم پر تعجب کر رہی ہیں ؟ آپ جیسے مقدس گھرانے (42) پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہی برکتیں ہیں، بیشک وہ ہر تعریف کا مستحق، بڑی شان والا ہے۔

42: یہ ترجمہ اہل البیت کو عربی گرامر کے قاعدے سے منصوب علی سبیل المدح قرار دینے پر مبنی ہے۔ ترجمے میں مقدس کا لفظ بھی اسی لیے بڑھایا گیا ہے۔ اس کا دوسرا ترجمہ اس طرح بھی ممکن ہے کہ : اے اہل بیت تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں۔
Ayah 11:74

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

پھر جب ابراہیم سے گھبراہٹ دور ہوئی، اور ان کو خوشخبری مل گئی تو انہوں نے ہم سے لوط کی قوم کے بارے میں (ناز کے ط ور پر) جھگڑنا شروع کردیا۔ (43)

43: جیسا کہ سورة اعراف آیت 80 کے حاشیہ میں بیان کیا جا چکا ہے حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے جو عراق میں ہی ان پر ایمان لا کر ان کے ساتھ وطن سے ہجرت میں ان کے ساتھ شریک تھے۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی پیغمبر بنا کر سدوم کے شہر میں بھیجا۔ اس شہر کے لوگ شرک کے علاوہ ہم جنس پرستی کی خباثت میں مبتلا تھے۔ جب انہوں نے حضرت لوط ؑ کی بات نہیں مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے ان فرشتوں کو بھیجا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کو یہ امید تھی کہ شاید یہ لوگ سنبھل جائیں اس لیے وہ اللہ تعالیٰ سے فرمائش کرتے رہے کہ ابھی ان پر عذاب نازل نہ کیا جائے۔ حضرت ابراہیم ؑ چونکہ اللہ تعالیٰ کے لاڈلے پیغمبر تھے، اس لیے انہوں نے ناز کے انداز میں بار بار جس طرح عذاب کو موخر کرنے کی فرمائش کی، اسے اس آیت میں پیار بھرے اسلوب میں جھگڑنے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 11:75–76

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑے بردبار، (اللہ کی یاد میں) بڑی آہیں بھرنے والے (اور) ہر وقت ہم سے لو لگائے ہوئے تھے۔ (44)

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

(ہم نے ان سے کہا) ابراہیم ! اس بات کو جانے دو۔ یقین کرلو کہ تمہارے رب کا حکم آچکا ہے، اور ان لوگوں پر ایسا عذاب آکر رہے گا جس کو کوئی پیچھے نہیں لوٹا سکتا۔

44: حضرت ابراہیم ؑ کی یہ فرمائش تو منظور نہیں فرمائی گئی کہ قوم لوط سے عذاب کو موخر کردیا جائے، لیکن جس جذبے اور جس انداز سے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے رجوع فرمایا تھا، اس فقرے میں اس کی بڑے بلیغ انداز میں تعریف فرمائی گئی ہے۔
Ayah 11:77

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وہ ان کی وجہ سے گھبرائے، ان کا دل پریشان ہوا اور وہ کہنے لگے کہ : آج کا یہ دن بہت کٹھن ہے۔ (45)

45: حضرت لوط ؑ کے پاس یہ فرشتے خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے۔ اور انہیں ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ دوسری طرف وہ اپنی قوم کی بد فطرت بےحیائی سے واقف تھے۔ اس لیے ان کی پریشانی کی وجہ یہ تھی کہ ان کی قوم ان مہمانوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کرے گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں یہ بیان فرمایا گیا ہے، وہ لوگ ان نوجوانوں کی آمد کی خبر سنتے ہی اس مقصد سے دورتے ہوئے آئے، اور حضرت لوط ؑ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مہمانوں کو ان کے حوالے کردیں۔
Ayahs 11:78–79

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس دوڑتے ہوئے آئے، اور اس سے پہلے وہ برے کام کیا ہی کرتے تھے۔ لوط نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! یہ میری بیٹیاں موجود ہیں، یہ تمہارے لیے کہیں زیادہ پاکیزہ ہیں (46) اس لیے اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے معاملے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی ایک بھی بھلا آدمی نہیں ہے ؟

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

کہنے لگے : تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری بیٹیوں سے ہمیں کچھ مطلب نہیں، اور تم خوب جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں ؟

46: نبی کی امت میں جتنی عورتیں ہوتی ہیں، وہ اس نبی کی روحانی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ حضرت لوط ؑ نے ان بد قماش لوگوں کو نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ تمہاری عورتیں جو میری روحانی بیٹیاں ہیں۔ تمہارے گھروں میں موجود ہیں۔ تم اپنی نفسانی خواہشات ان سے پوری کرسکتے ہو۔ اور یہی فطرت کا پاکیزہ طریقہ ہے۔